Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mawi (Episode 12)

Mawi by Malaika Rafi

غزل کی ہنسی۔۔پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔۔ جبکہ احرم ہونق بنا اس کی ہنسی سن رہا تھا۔۔۔

” تم بےوقوف ہو احرم ۔۔۔ بہت بڑے بےوقوف۔۔ “

غزل ہنستے ہنستے کہنے لگی ۔۔۔

” کیا مطلب ؟؟ ایسا کیا کہہ دیا میں نے۔۔۔ سم ٹائمز لگتا کہ عجیب سی ہوتی جا رہی ہو تم ۔۔۔ “

احرم کو برا لگا تھا۔۔

” میں تمہیں ابرام کے بیٹے کا بتا رہا اور تم ہنس رہی ہو ۔۔۔ “

” وہی بیٹا جو ماوی کو مما کہتا ہے ۔۔۔ “

غزل کے لہجے میں طنز کا عنصر نمایاں تھا۔۔۔

” تو ؟؟”

احرم نے ابرو اچکائے تھے ۔۔ جبکہ غزل اس کے قریب جا کے بیٹھ گئی ۔۔۔

” علی ابرام اور ماوی کا بیٹا ہے احرم ۔۔۔ اتنے بھی بےوقوف مت بنو ۔۔۔ “

غزل مسکراتی آنکھوں سے ۔۔ اسے دیکھتی کہہ رہی تھی ۔۔ جبکہ احرم کو لگا تھا ۔۔۔ کہ وہ اب سانس نہیں لے پائے گا ۔۔ ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ۔۔۔ ایک تو یہ غزل کچھ بھی کہتی رہتی ہے ۔۔۔

” ایک بچہ اپنی مما کے علاوہ۔۔ کسی اور عورت کو کیوں مما بلائے گا۔۔ وہ بھی چھوٹا سا بچہ ۔۔۔ “

” ت ۔۔۔ تم جھوٹ بول رہی ہو ۔۔۔ “

اس کی آواز کانپ رہی تھی اور دل سوکھے پتے کی طرح کانپا تھا۔۔ جبکہ غزل اپنا دوسرا پتہ پھینکنے کے لئے ۔۔ کرسی کی پشت سے آرام دہ انداز میں۔۔۔ ٹیک لگا کے بیٹھ گئی ۔۔۔جیسے احرم کی حالت اسے سکون دے رہی ہو ۔۔

” ابرام کے بیڈ پہ ۔۔۔ ماوی کی خوشبو بکھری پڑی ہے احرم ۔۔۔ اور علی انہی لمحوں کی محبت کا نتیجہ ہے ۔۔۔ محسوس کرنے کی کوشش کرو ۔۔۔ محسوس کرو گے تو ہی کلیو ملے گا تمہیں ۔۔۔ کہ وہ دونوں کیا کر رہے ہیں۔۔۔ تمہارے اندھے پن کا فائدہ اٹھا کے۔۔۔ “

احرم اپنا سینہ مسلنے لگا ۔۔۔ دل جیسے باہر آنے کو بیتاب ہو رہا تھا۔۔۔

” آنکھیں بند کر کے ۔۔۔ ایک اجنبی لڑکی پہ اعتبار کرنا ۔۔۔ اپنا بینک بیلنس اس کے نام کرنا ۔۔۔ احرم اتنی بڑی بیوقوفی کون کرتا ہے ۔۔”

غزل آگے پیچھے اپنے پتے پھینک رہی تھی ۔۔۔

” آج بھی وہ اور ابرام ساتھ ہیں۔۔۔ “

اس کے مزید قریب ہوئی تھی۔۔۔۔

” اور تم ماوی ماوی کرتے ہو ۔۔۔ اس کے ساتھ فئیر ہو ۔۔۔ اور میں آج تک تم میں کہیں نہیں ہوں احرم ۔۔۔ “

” ماوی ایسی نہیں ہے ۔۔ وہ مجھ سے محبت۔۔۔ “

وہ کہہ رہا تھا لیکن دل اندر سے ڈوب رہا تھا ۔۔۔ وہ ماوی کو بنا دیکھے محبت کرنے لگا تھا۔۔۔ بنا دیکھے چاہنے لگا تھا۔۔۔ کیسے اس کا رب ۔۔ اس سے ساری خوشیاں چھین سکتا ہے ۔۔۔ یہی تو اس کی سب سے بڑی خوشی رہی ہے ہمیشہ۔۔۔ اور وہی لمحہ تھا جب غزل نے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔

” ہششش احرم ۔۔۔ مجھے محسوس کرو ۔۔۔ تمہاری بیوی چیٹ کر رہی ہے تمہیں ۔۔ لیکن میں ہوں ناں احرم ۔۔۔ میں سالوں سے یہیں ہوں۔۔۔ “

آنکھیں موند کے ۔۔۔ احرم کے چہرے سے ۔۔ اسکی گردن ۔۔۔ کندھے ۔۔۔ سینے تک وہ اپنا ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔

اور مزید اسکے قریب ہوئی۔۔۔

” میں سکون ہوں احرم ۔۔۔ تمہارا سکون ۔۔۔ میں وہی محبت ہوں۔۔ جو تمہارے لئے ہیں۔۔ جس کے تم حقدار ہو ۔۔۔ “

اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے ۔۔۔ وہ احرم کو اپنے وجود کے خم و پیچ محسوس کروا رہی تھی۔۔

” فیل می احرم ۔۔۔ میں سکون ہوں تمہارا۔۔۔ “

وہ جھکی سرگوشی کر رہی تھی۔۔۔ احرم کے لبوں پہ اپنے لب دوبارہ سے رکھتی ۔۔۔ غزل اسے اپنی دسترس میں کر رہی تھی ۔۔۔

اور پھر لمحہ لگا تھا ۔۔۔ اور ان دونوں کی سانسیں ایکدوسرے میں الجھی تھی۔۔۔ وہ جو برسوں سے پیاسی تھی۔۔۔ ان لبوں کی ۔۔۔ ان بانہوں کی ۔۔۔ اس وجود کی۔۔۔

اب وہ لمحہ ملتے ہی ۔۔۔ غزل اپنی ہر بےچینی سمیت ۔۔۔ اس کے وجود میں اترنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔

احرم کی بانہوں میں پگھلتی۔۔۔ وہ بہک رہی تھی۔۔ احرم بہک رہا تھا ۔۔ وہ جو ماوی کا شوہر ہونے کا دعویدار تھا ۔۔۔

جو ماوی کی محبت کا دعویدار تھا۔۔ وہ بہک رہا تھا۔۔۔ غزل نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے چاہے تھے ۔۔۔ جب احرم جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔

” پ۔۔۔۔ پیچھے ہٹو غزل ۔۔۔ “

اپنی ناہموار سانسیں۔۔۔ نارمل کرنے کی کوشش کرتا ۔۔ وہ رخ پھیر چکا تھا ۔۔۔ جب غزل اس کی پشت سے لگی۔۔۔ خود کو اس کی دسترس میں دینے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

” احرم ۔۔۔ تم بس یہ سوچو کہ یہ سب ہو جانا چاہیے ۔۔۔ میں۔۔۔ تم ۔۔۔اور یہ حسین لمحے ۔۔۔ جو ہماری گرفت میں ہے ۔۔۔ بہک جاو احرم میرے ساتھ ۔۔۔ بہکتے ہیں اس لمحے میں۔۔۔ “

احرم جو اسے سن رہا تھا۔۔ وہ جو ایک شوہر کو بہکا رہی تھی۔۔۔ اور اسے بہکنے میں دیر بھی نہیں لگا تھا۔۔۔

لیکن اچانک کسی خیال کے تحت اپنی جگہ سے ۔۔ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ غزل لب بھینچے اسے گھور رہی تھی ۔۔۔ ماوی کا وجود ۔۔۔ اس کا احساس۔۔۔ اسے اپنے حصار میں لے رہا تھا ۔۔ وہ رک گیا تھا ۔۔۔ وہ اب رک چکا تھا۔۔۔

اور اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔۔

” احرم ۔۔۔ “

غزل اس کے قریب آنے لگی پھر سے ۔۔ جب احرم مزید دور ہوا تھا۔۔

” اسٹاپ اٹ غزل ۔۔ جسٹ اسٹاپ اٹ ۔۔۔ وہیں رکو۔۔۔ ماوی میری بیوی ہے۔۔ تمہارے بہکاوے میں آ کے ۔۔ میں اپنی بیوی کو چیٹ نہیں کر سکتا ۔۔۔ گیٹ آوٹ آف ہیئر ۔ “

اس کے لہجے میں غصے کی جھلک تھی۔۔۔ جبکہ غزل دانت پیستی اسے گھور رہی تھی۔۔

جو اپنی سی کوشش کرتا ۔۔۔ ادھر ادھر ہاتھ رکھتا پیچھے ہٹ رہا تھا ۔۔۔

” احرم پلیز۔۔۔ “

وہ پھر سے اپنی کوشش کرنے لگی جب احرم اس بار چلایا تھا۔۔

” گیٹ لاسٹ۔۔۔ “

لب بھینچے وہ اپنے غصے کو کنٹرول کرنے لگا ۔۔۔ جبکہ غزل غصے سے پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔ جبکہ احرم اپنے کچھ دیر پہلے کی حالت پہ شرمندہ ہوتا ۔۔۔ اپنی کنپٹی سہلانے لگا ۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” تو تم شین ہو ۔۔۔ “

غزل ابرو اچکا کے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جبکہ وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی۔۔۔ غزل کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

” جی میم صاب ۔۔ “

” ہمممم ۔۔۔ ابرام نے ایڈریس دیا ہے تمہارا۔۔۔ سنا ہے ماوی تمہاری بستی کی ہے ؟”

اپنے بالوں جھٹکا دیتی ۔۔۔ وہ پوچھنے لگی ۔ ۔۔ شین لب بھینچے سر اثبات میں ہلا گئی ۔۔۔ ۔

” سنا ہے ماوی کو پوری بستی میں بدنام کرنے والی تم ہو ۔۔۔ “

غزل طنزیہ انداز میں اسے دیکھتی کہہ رہی تھی ۔۔۔

” کیوں ملنا چاہ رہی اپن سے ؟”

شین اس کی باتوں کو نظرانداز کرتی پوچھنے لگی ۔۔

” ہمممم ۔۔۔ ماوی کو قتل کرو ۔۔یہ چاہتی ہوں میں تم سے ۔۔ “

شین کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھی۔۔

” ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔ کیا تم نہیں چاہتی کہ ماوی برباد ہو ۔۔ ماوی ختم ہو جائے۔۔۔ “

غزل بیگ سے پیسے نکال کے۔۔اس کے سامنے رکھ چکی تھی۔۔۔

” بس اتنا کرنا ہے کہ ماوی کو قتل کرنا ہے اور نام ابرام نوفل شاہ کا لینا ہے ۔۔ کیونکہ یہ آرڈر ابرام کی طرف سے ہے۔۔۔ وہ خود نہیں آنا چاہ رہا تھا ۔۔تو مجھے بھیج دیا تمہارے پاس ۔۔ “

” کیوں مارنا چاہتی ماوی کو تم ؟؟”

شین پیسوں کو اپنے ہاتھ میں دیکھتی ۔۔ پوچھنے لگی ۔ ۔۔

” یہ تمہارا میٹر نہیں ہے ۔۔ بس ماوی کو قتل کردو ۔۔۔اب جاو ۔۔ “

غزل اپنی بات کہہ کے ۔۔۔ گلاسز آنکھوں پہ چڑھائے۔۔۔ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی۔۔۔

جبکہ شین ایک نظر اس پہ ڈال کے ۔۔۔ باہر نکلی تھی ۔۔۔

” ماوی کی موت ۔۔۔ احرم کو میرا کر دے گی ۔۔۔ “

اس کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ تھی ۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

ماوی ابھی ابھی آفس سے گھر آئی تھی۔۔۔ اپنا ڈریس چینج کر کے ۔۔ وہ جیسے ہی ڈریسنگ روم سے باہر آئی۔۔۔ جب احرم کو بےچینی سے ۔۔۔ کمرے میں آتے دیکھ وہ ٹھٹھکی تھی ۔۔۔

” ارے احرم تم کہاں تھے؟؟”

ماوی نے اس کے قریب آتے۔۔۔ اس کا بازو تھاما تھا ۔۔۔

” طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟؟ “

اس کے چہرے کو ۔۔۔ ہاتھ کے پشت سے چھوتی وہ پوچھ رہی تھی۔۔۔ جب احرم نے جھٹکے سے خود کو اس سے دور کر کے۔۔۔ پیچھے ہوا تھا۔۔۔

” ایم فائن۔۔ “

ماوی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

” کیا ہوا ہے احرم ۔۔ ایسے کیوں بی ہیو کر رہے ہو ؟؟ “

جبکہ وہ ۔۔۔ ماوی کو نہ دیکھتے ہوئے بھی نظریں چرا گیا تھا۔۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا اسے ۔۔۔ جیسے وہ گنہگار ہے اپنی بیوی کا۔۔۔

” مجھے شاور لینا ہے ۔۔ “

وہ تیزی سے ہاتھ بڑھا کے ۔۔۔ واشروم کی طرف جانے لگا ۔ جب ماوی نے آگے بڑھ کے ۔۔ اس کا بازو تھاما تھا۔۔

” میں ہیلپ کر دیتی ہوں۔۔۔ “

” نہیں ۔۔ “

وہ پھر سے ماوی کا ہاتھ جھٹک چکا تھا ۔۔۔ جبکہ ماوی حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” میں تمہارے کپڑے تیار کر کے رکھتی ہوں ۔۔ ایک آفیشل فنکشن میں جانا ہے ۔۔ “

” کیوں؟؟؟ ابرام کے ساتھ نہیں گئی ۔۔ “

احرم واشروم کے پاس رکا تھا۔۔۔

” میرے ہزبینڈ تم ہو ۔۔۔ “

ماوی اس کے چہرے پہ پھیلے بےچینی کو دیکھتی ۔۔۔ نرمی سے بولی تھی۔۔ جبکہ وہ واشروم میں جا کے ۔۔۔ دروازہ بند کر کے ۔۔ اس سے ٹیک لگا کے کھڑا ہو گیا ۔۔۔

گھٹن کا احساس جیسے بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔۔ وہ لمحے پھر سے ۔۔۔ اسے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔۔ جب وہ اس بہکاوے میں بہکنے لگا تھا ۔۔۔

بےچینی بڑھتی گئی ۔۔۔ آنکھیں نم ہونے لگی تھی۔۔۔ آگے بڑھ کے اس نے شاور آن کیا تھا۔۔۔

اور وہیں شاور کے نیچے کھڑا وہ رو رہا تھا۔۔۔ اپنے ہاتھ سے مسل مسل کے ۔۔ وہ اپنے لبوں کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔ بار بار اپنے چہرے اور گردن کو رگڑنے لگا ۔۔۔۔

” میں گنہگار ہوں۔۔ میں اپنی بیوی کا گنہگار ہوں ۔۔ “

اپنے گیلے ہوتے بال۔۔ مٹھیوں میں جکڑ کے ۔۔۔ وہ اپنے بالوں کو کھینچ رہا تھا ۔۔۔ بار بار اپنا ماتھا پیٹتا ۔۔۔ روتے ہوئے ۔۔ وہ پھر سے اپنے لب رگڑنے لگا۔۔۔

” مجھے پاک کر دیں میرے رب ۔۔۔ مجھے گنہگار ہونے سے بچا لیں اے اللہ ۔۔۔ میں گنہگار ہوں اپنی بیوی کا ۔۔۔ اے اللہ ۔۔۔۔ “

بلک بلک کے روتا ۔۔ وہ وہیں شاور کے نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا ۔۔۔ بار بار ماوی کو خود سے دور کرتا ۔۔۔ اس کا دل رو رہا تھا اب۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

کمرے میں کوئی نہیں تھا ۔۔ جب انس کمرے میں گول چکر لگا کے ۔۔۔۔ چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

اپنی زیرک آنکھوں سے ۔۔ وہ ایک ایک چیز کو غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

اور پھر جھک کے ۔۔۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے درا، چیک کرنے لگا ۔۔۔ جب ایک دراز میں اسے جیولری باکس رکھے نظر آئے تھے ۔۔اور ساتھ میں کچھ پیسے بھی رکھے ہوئے تھے ۔۔۔

وہ جلدی جلدی جیولری بکس چیک کرنے لگا۔۔۔ جو مکمل خالی تھے ۔۔

” کدھر رکھے ہیں۔۔۔ “

لب بھینچے بڑبڑاتا وہ پیسے اپنی جیب میں رکھتا۔۔۔ دوسرے دراز چیک کرنے لگا۔۔۔ لیکن وہاں اسے ایسا کچھ نہیں ملا کہ جس سے۔۔۔ اسے کوئی فائدہ پہنچے ۔۔۔

اب اس کی نظریں وارڈ روب پہ تھی ۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھ کے ۔۔ دروازہ کھول کے ۔۔۔ ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔ ہینگ ہوئے کپڑوں کے بیچ۔۔۔ اسے سیف نظر آیا تھا۔۔۔

ہینڈل کھنچنے پہ ۔۔ انس اسے کھولنے میں ناکام ہی ہوا تھا ۔۔۔

” یہ کیا ہے اب ۔۔۔ پاسورڈ ؟؟”

وہ ان بٹنز کو غور سے دیکھتا۔۔۔ کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔ جب آہٹ پہ وہ تیزی سے ۔۔۔ وارڈ روب بند کر کے مڑا تھا۔۔۔

دروازہ کھول کے اندر آتی سمیرا ٹھٹھک کے مسکرائی تھی۔۔

” ارے انس ۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔ “

” میں تم کو ڈھونڈ رہا تھا ۔ “

وہ سر کھجاتا ۔ ادھر ادھر دیکھتا کہنے لگا ۔

جبکہ سمیرا نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا۔۔۔

” کیا کام تھا مجھ سے انس ؟؟ کیوں ڈھونڈ رہے تھے بیٹا ؟”

” ہاں میرے کو بھوک لگی تھی۔۔ مجھے کھانا چاہئے “

وہ جلدی سے کہتا۔۔۔ ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔۔

” ارے کیا کھائے گا میرا انس ؟؟”

سمیرا مسکراتی وارڈ روب کی طرف بڑھی تھی۔۔۔

” میں یہ پیسے رکھ دوں۔۔ پھر چلتے ہیں۔۔۔ “

انس کی جیسی انکھیں ہی چمکنے لگی تھی۔۔ وہ اپنی ماں کی گردش کرتی انگلیوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو پاسورڈ انٹر کر رہی تھی ۔۔۔

سیف کھلنے پہ ۔۔۔ اس کے انکھوں کی چمک میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔

اتنے سارے پیسے اور جیولری دیکھ کے ۔۔ اس کے منہ میں پانی آیا تھا۔۔۔

جب تک سمیرا وارڈ روب بند کر کے مڑی۔۔۔ وہ سنبھل چکا تھا۔۔۔

” چلو ۔۔ کچھ کھاتے ہیں۔۔۔ ماں بیٹا مل کے ۔۔۔”

اسے بازو کے گھیرے میں لے کے۔۔۔ سمیرا اسکے ساتھ آگے بڑھی تھی۔۔۔ جبکہ انس بھی مسکراتا ان کے ساتھ آگے بڑھا تھا ۔۔۔ اور پھر اپنے ہی دماغ میں پلان بنا رہا تھا کہ کس طرح سے ۔۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا۔۔۔

🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤
🖤

” ماوی ۔۔۔ “

اس نے حیرت سے موبائل کو اپنے کان سے الگ کر کے دیکھا تھا۔۔۔ وہ جو کب سے تیار بیٹھی۔۔۔ احرم کے شاور لینے کی منتظر تھی ۔۔۔ جب شین کی کال آئی تھی اسے ۔۔

” شین ۔۔۔ یہ تم ہو ؟؟ “

وہ اب بھی حیران تھی کہ شین تو ناراض تھی اس سے ۔۔ یوں اچانک سے کال ۔۔

” ہاں ۔۔ شین ہی ہے اپن ۔۔ بات سن تو میری دھیان سے ۔۔ ویسے تو مجھے تیرے پاس آنا چاہئے تھا پر کیا ہے کہ یہ خطرہ مہنگا پڑ سکتا اپن کو ۔۔ “

شین ادھر ادھر دیکھتی ۔۔۔ بےحد دھیمے لہجے میں کہہ رہی تھی۔۔۔ جبکہ دوسری طرف ماوی حیرانی سے اسے سننے لگی ۔۔

” کیا ہوا ہے شین؟؟ کوئی پرابلم ہے ؟؟”

” تو بات سن میری غور سے ۔۔۔ وہ ہیرو ہیں ناں۔۔۔ وہ تو ہیرو کم ولن زیادہ لگتا اپن کو ۔۔۔ ابرام کمینے کی بات کر رہی اپن۔۔۔۔ وہ میرے کو روکڑا دئیے ہیں تیرے کو اوپر پہنچانے کے لئے ۔۔۔ “

شین کی بات پہ ۔۔۔ حیران ہونے کے بجائے اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔ بیڈ کی پشت پہ ٹیک لگا کے ۔۔۔ اس نے ہنکارا بھرا تھا ۔۔۔

” ہممممم ۔۔۔ “

” تیرے کو حیرانی نہیں ہوئی ؟؟ اپن کا دل نہیں مان رہا تیرے کو مارنے کا ۔۔ تبھی تجھے فون کیا ۔۔۔۔ تو اپنی لائف میں خوش ہے ماوی ۔۔۔ مست بندہ تیرا نصیب بنا ہے ۔۔۔ ایک دم ہیرو ٹائپ۔۔۔ ٹپ ٹاپ ۔۔۔۔ بس تو دھیان رکھ اس کمینے ابرام سے ۔۔۔ “

وہ ادھر ادھر دیکھتی ۔۔۔ دانت پیستی کہہ رہی تھی۔۔۔ جبکہ ماوی اپنی کنپٹی سہلانے لگی ۔۔۔

” تم بھی اپنا دھیان رکھو شین ۔۔۔ اینڈ تھینک یو سو مچ ۔۔۔ اور شین۔۔۔۔۔ “

وہ کچھ کہتے کہتے رکی تھی۔۔۔

” ہاں بول جلدی ؟؟”

شین نے پھر سے ادھر ادھر نظریں دوڑائی تھی۔۔۔

” ایم سوری ۔۔۔ ایم رئیلی سوری ۔۔۔ وہ سب جو بھی ہوا ۔۔۔ “

شین کی آنکھیں بھیگی تھی۔۔۔ چہرے کے آدھے حصے پہ موجود اس داغ کو اس نے ۔۔۔ اپنے ہاتھ سے چھوا تھا۔۔۔ اور پھر سر جھٹک گئی تھی ۔۔۔

” دھیان رکھی اپنا تو۔۔۔۔ “

کال ڈسکنیکٹ ہو گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ ماوی موبائل سائیڈ پہ رکھ کے ۔۔۔ سامنے دیوار کو گھور رہی تھی اب ۔۔ اس کے چہرے پہ ۔۔۔ ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ تھی ۔۔۔

” مجھے مارنے کے لئے ۔۔۔ میرے ہی علاقے سے ۔۔۔ میری ہی دوست کو چنو گیں۔۔۔ نائس ویری نائس۔۔۔ اپنے بھائی سے دور رکھنے کے لئے ۔۔۔ تم نے میرے لئے موت کو چنا۔۔۔۔ بازی پلٹے گی اور بہت دلفریب انداز میں پلٹے گی ابرام نوفل شاہ ۔۔۔ “

زیر لب بڑبڑاتی وہ اب مسکرا رہی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *