64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

مورے جان کی حالت سن کا دراب سے بھی رہا نہیں گیا تھا ۔۔ وہ اسفی سے جتنا بھی ناراض سہی
مگر بابا جان کے جانے کے بعد رشتوں کے معاملے میں بہت حساس ہوگیا تھا ۔۔
اسی لئے جیسے ہی اس نے ملازموں سے خبر سنی اسلام آباد والے آفس سے سیدھا حویلی کے لئے نکل گیا ۔۔
راستے میں اس نے بہت بار لینڈ لائن پر زرش سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر رابطہ ممکن نہ ہوسکا ۔۔۔
وہ سیدھا ہاسپٹل ہی پہنچا تھا ۔۔
اسے دیکھ کر مورے جان کی آنکھیں بھر آئیں ۔۔
کتنی ہی دیر انہوں نے اسے سینے سے لگائے رکھا تھا ۔۔۔
اسفی اسے گلے لگانے کے لئے آگے بڑھا تو
وہ بری طرح سے اگنور کرکے کمرے سے نکل گیا ۔۔۔
مورے جان کو شام تک ڈسچارج کردیا گیا تھا ۔۔
مگر رات بہت ہوچکی تھی ۔۔
مورے جان کے بے حد اسرار پر رات حویلی میں ہی رک گیا ۔۔
وہ زرش کو مسلسل فون ٹرائے کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔۔ مگر اس نے فون پک کرکے ملازمہ کے حوالے کردیا تھا ۔۔
اسے سخت طیش آنے لگا تھا اس پر۔۔
اسی اثنا میں وہ کمرے سے نکل کر لان میں آگیا اور سگریٹ سلگا لی۔۔۔
” ذرش کہاں ہے اسے فون دو”
اس نے چھوٹتے ہی حکم صادر کیا ۔۔۔
” چھوٹے خان بی بی جی تو سو رہی ہیں “
” ٹھیک ہے “
اس نے غصے سے اپنی غیر موجودگی کی اطلاع دیئے بغیر ہی فون بند کردیا ۔۔
” تمہارا دماغ تو میں آکر ٹھیک کرتا ہوں “
اس نے طیش میں آکر سوچتے ہوئے سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑا۔۔۔
اسفند چلتے ہوئے اسکے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھ گیا ۔۔
دراب اسے اگنور کرکے جانے لگا تو وہ بولا
” بیٹھو مجھے تم سے بات کرنی ہے”
” مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی “
” بیٹھ جائو دراب ۔۔۔ یہ میرا حکم ہے “
اسفندیار خان سخت لہجے میں گویا ہوا۔۔
وہ اسکی بہت عزت کرتا تھا ۔۔ اسی لئے خاموشی سے بیٹھ گیا ۔۔
” تم حویلی کب آرہے ہو واپس “
“کبھی نہیں۔۔ آپکی حویلی آپ کو مبارک ہو”
وہ تلخی سے بولا ۔۔
” میرا حویلی پر کوئی دعویٰ نہیں ہے ۔۔ تم نے زیادہ وقت بابا جان کے ساتھ یہاں گزارا ہے اسلیئے یہاں کے اصول و قوانین سے بھی تم بخوبی واقف ہو اور ہینڈل کرنا جانتے ہو “
” اس بات سے تمہارا کیا مطلب ہے ؟ “
” وہی جو تم سمجھ رہے ہو ۔۔ میں واپس جانا چاہتا ہوں ۔۔ اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ حویلی کا انتظام تم سنبھالو دراب۔۔ یہاں ہماری روایات ہیں ۔۔ ہماری پہچان ہے ۔۔ ہمارے خاندان کا نام ہے ۔۔ہمارے پرکھوں نے سالوں سے جو عزت اور نام کمایا ہے میں چاہتا ہوں تم اسے برقرار رکھو۔۔میرا کیا ہے میں تو نوعمری سے سرکاری نوکری میں دھکے کھا رہا ہوں اب عادی ہوگیا ہوں ۔۔ یہ جاب میرا پیشن بن چکی ہے ۔۔میں اسے نہیں چھوڑ سکتا “
اسکی جذباتی گفتگو سن کر دراب کا اعصاب پر جمی برف پگھلنے لگی ۔۔
” میں تمہارے فیصلے کے حق میں نہیں ہوں.. لوگ کیا سوچیں گے اگر تم حویلی سے جدا ہوجائو گے ۔۔اور ویسے بھی تم بڑے بیٹے ہو اس حویلی کے ۔۔ سرداری پر تمہارا حق ہے “
” تم بے فکر رہو کوئی ہمارے اس فیصلے پر سوال نہیں اٹھا سکے گا ۔ ۔۔ میں اپنی خوشی سے یہ سرداری تمہیں سونپتا ہوں میرے بھائی”
اسفی نے حتمی انداز میں کہا ۔۔
“اور پلیز آئی ریکویسٹ ۔۔ مورے جان آجکل بہت اسٹریس لینے لگی ہیں ۔۔۔ وہ تمہیں اور زرش کو بہت یاد کرتی ہیں جتنی جلدی ہوسکے حویلی واپس آجائو “
دراب نے نیم رضامندی سے سر ہلایا تھا ۔۔
وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اٹھ تھا اور جاتے جاتے کچھ یاد آنے پر رکا ۔۔۔
” میں ضوفشاں کو چھوڑنے کا فیصلہ کر چکا ہوں “
” مگر ۔۔کیوں ۔۔! “
دراب اک لمحے کے لئے شاک ہوا تھا ۔۔
” اس نے میرے سامنے میری ماں کی بے ادبی کی ہے دراب ۔۔ جو میرے سامنے ایسی حرکت کر سکتی ہے وہ میری پیٹھ پیچھے نہ جانے کیا کرتی ہوگی ۔۔ اور ویسے بھی یہ بابا جان کا فیصلہ تھا ۔۔ میری رضامندی نہیں تھی اس فیصلے میں ۔۔ ضوفی چاہتی تو انکار کر سکتی تھی اس نے خود اپنے لئے یہ کانٹے چنے ہیں “
وہ کہہ کر جا چکا تھا ۔۔
دراب کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں ابھرنے لگی ۔۔
پہلے کیا اس کے اور ذرش کے درمیان کم مسائل تھے
جو ضوفشاں کی وجہ سے ان کے رشتے میں جانے کیا طوفان برپا ہوگا ۔۔۔
زرش کو دکھ ہوگا اسفی کے فیصلے سے ۔۔
اور وہ سارا غصہ اس پر نکالے گی
آج کل اسکا دماغ آئوٹ ہوچکا تھا ۔۔۔
اس نے سوچتے سوچتے کچھ دیر بعد دوسری سگریٹ سلگا لی تھی ۔۔۔


وہ اسفی کے ساتھ بچوں کی کچھ چیزیں لینے مارکیٹ گئی ہوئی تھی ۔۔ اس بار اس نے بچے ملازمہ کے حوالے کرنے کی غلطی نہیں کی تھی
بلکے مورے جان نے انہیں اپنی زمہ داری پر اپنے پاس ہی رکھ لیا تھا ۔۔
وہ لوگ واپس آئے تو حویلی میں اک دم سناٹا س چھایا ہوا تھا ۔۔
اسکے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔
اس نے آگے بڑھ کر مورے جان کے کمرے میں جھانکا تو بچے وہاں سے نہیں تھے ۔۔
” کیا ہوا مورے جان ؟ “
اسکا دل تیز رفتار میں دھڑک رہا تھا
” تم اسفی کو بھیجو مجھے اس سے بات کرنی ہے “
” مگر مورے جان یوسف اور ۔۔۔”
” جائو “
انکا لہجہ کچھ سخت تھا ۔۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے سے نکل گئی ۔۔
تم نے ضوفی سے کچھ کہا تھا ! “
مورے جان کا لہجہ سپاٹ تھا
“جی ۔۔ میں نے اسے خلع کا نوٹس بھجوایا تھا “
اس نے جھوٹ بولنا مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔
“یوسف کی بیوی کے بھائی آئے تھے ! “
مورے جان کا لہجہ سپاٹ تھا
انکا کہنا تھا انہیں کسی عورت نے بتایا ہے کہ ان کی بہن کے دونوں وارث اس حویلی میں “
مورے جان نے اسکے سر پر دھماکہ کیا وہ ایکدم ٹیشن میں آگیا تھا
” یہ ضرور صوفشاں کی حرکت ہے اسکے علاوہ اور کون کرسکتا ہے ۔۔۔ میں اسے چھوڑوں گا نہیں”
” درگزر سے کام لو میرے بچے “
” کہاں تک درگزر کروں مورے جان ۔۔اب بات میرے بچوں پر آچکی ہے ان معصوموں کا کیا قصور ہے بھلا “
” اس وقت بچے کہاں ہیں کہیں آپ نے انکے حوالے تو نہیں کردیے؟ “
اسکا دل نے اک ہارٹ بیٹ مس کی تھی خوف سے
” میں نے ان لوگوں کے آتے ہی ڈرائیور کے ہاتھ ملازمہ کے ساتھ دونوں بچوں کو تمہارے گھر بھجوا دیا تھا “
” یااللہ تیرا شکر ۔۔۔میں کال کرکے پوچھتا ہوں “
” تمہارے پاس لیگل کسٹڈی ہے نا بچوں کی ؟ “
وہ جاتے جاتے رکا
” جی مورے جان ۔۔ میرے پاس گل بانو کی باقاعدہ اسٹیمنٹ موجود ہے جس میں اس نے خود بیان دیا ہے کہ اسے خطرہ ہے کہ اسکے بھائی بچوں کو نقصان پہنچا دیں گے اسلئے وہ بچوں کو میرے حوالے کررہی ہیں ۔۔۔آپ فکر نہ کریں اس کے بھائی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔۔اور میں انکی بھی خبر لیتا انکی ہمت کیسے ہوئی اک آرمی آفیسر کے گھر آکر غنڈہ گردی کرنے کی “
” ٹھیک ہے ۔۔ زرگل کو لے جائو ۔۔ خیر سے جانا “
” تھینک یو سو مچ مورے جان ۔۔میرے اور دراب کے درمیان چیزیں نارمل ہوچکی ہیں ۔۔اب آپ کو اپنا لاڈلا بیٹا بہت جلد واپس مل جائے گا ۔۔جسے آپ ہر وقت مس کرتی رہتی ہیں”
اس نے مزاحیہ انداز میں کہا تو مورے جان ہنس دیں ۔۔
” تم دونوں ہی مجھے بہت عزیز ہوں بیٹا “
” جانتا ہوں “
وہ انکی پیشانی چوم کر کمرے سے نکل گیا۔۔
اسے زرگل کو بھی اپنے طریقے سے ہینڈل کرنا تھا تاکہ وہ ٹینشن نہ لے ۔۔۔


تین چار دنوں سے اسے طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔ کچھ بھی کھاتی جی متلانے لگتا ۔۔
آج بھی اسکی کنڈیشن کچھ مختلف نہ تھی ۔۔۔
اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔
طبیعت مضمحل سی تھی صبح سے وہ بستر سے ہی نہیں نکلی تھی ۔۔
ملازمہ مختلف کاموں میں مصروف تھی کہ اسی لمحے کریڈل بجنے لگا اور مسلسل بجتا ہی جارہا تھا ۔۔
بلآخر اسے ہی اٹھنا پڑا ۔۔۔
جیسے ہی اسے قدم زمین پر رکھا اسکا سر بری طرح سے چکرایا اور وہ غش کھا کر گر پڑی ۔۔۔
ملازمہ کریڈل لیئے اسکے پاس آئی تو اسے کارپٹ پر گرا دیکھ کر چیختے ہوئے آگے بڑھی تھی
ملازم دوڑتا ہوا لیڈی ڈاکٹر کو بلا لایا تھا ۔۔
” کب سے ہے آپ کی یہ کنڈیشن ؟ “
ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد اسٹیتھو اسکوپ گلے میں ڈالتے ہوئے پوچھا ۔۔
” کافی دنوں سے “
اس نے نحیف سی آواز میں کہا ۔۔
” مبارک ہو آپ امید سے ہیں ۔۔۔اب سے آپ کو اپنی ڈائٹ کا خاص خیال رکھنا ہے “
” جی ۔۔! “
وہ شاکڈ تھی ۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ پلٹ کر ملازمہ سے جانے کیا کہہ رہی تھی اسے بس اسکے لب ہلتے دکھائی دے رہے تھے ۔۔


وہ جلے پیر کی بلی کی طرح کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی کہ اسفی اندر آیا ۔۔
“کیا ہوا ؟ مورے جان نے کیوں بلایا تھا “
” یونہی بلایا تھا ۔۔”
اسکی پریشان صورت دیکھ کر وہ چھپا گیا ۔۔
” جھوٹ مت بولیں ۔۔اب کیا کیا ہے آپ کی اس چہیتی نے ۔۔بتائیں مجھ۔۔ ؟ “
” سب سے پہلے تو وہ میری چہیتی نہیں تھی اور اب تم اسکا نام بھی نہیں لو گی ہمارے درمیان اور دوسری بات کہ اک پریشانی تھی مگر حل ہوچکی ہے ۔۔اب تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے “
” نہیں ایک منٹ کیا مطلب ہے آپکا ؟ “
” میں نے کہا تھا کہ میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔ اور ثابت کرکے دکھائوں گا “
اس نے محبت سے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے
” میں سمجھی نہیں ؟ ” اسکا چہرہ فق ہوا
” میں نے ضوفشاں کو خلع کا نوٹس بھجوا دیا ہے ۔۔۔اب میرا اس سے کوئی تعلق نہیں “
” آپ ۔۔ آپ ۔۔۔”
اسے جانے کیوں دکھ ہوا تھا ۔۔
” کیا ہوا تم خوش نہیں ہوئی ! “
اسفند اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا
” پتا نہیں ” وہ کنفیوز سی تھی
“ادھر دیکھو!”
اسفی نے اسکا چہرہ اپنی جانب موڑا ۔۔۔
اس نے آنکھیں اٹھا کر اس دراز قدامت شخص کو دیکھا وہ بمشکل کندھے تک آتی تھی
” اب صرف تم ہوگی اور ہمارے بہت سے بچے ہوں گے “
” بہت سے ۔۔! خدا کا خوف کریں اسفی “
” وہ ہنس پڑا
” کیوں اس میں برائی کیا ہے ؟ “
اسنے معصوم بنتے ہوئے پوچھا
” برائی ہی برائی ہے ۔۔جب تک ہم یوسف اور علیزے کی اچھی تربیت نہیں کرتے تب تک آپ سوچیئے گا بھی مت”
اس نے اسفی کے دور دھکیلتے ہوئے کہا ۔۔۔
” ارے مگر سنو تو سہی۔۔ تب تک تو بہت دیر ہو جائے گی “
اسفی نے اسے اپنی طرف کھینچا اور بالوں میں منہ چھپاتے ہوئے کہا ۔۔
” کوئی دیر نہیں ہوگی “
اسکا موڈ بدلتے دیکھ کر زرگل نے خود چھڑاتے ہوئے بولی ۔۔
” مگر ۔۔ زرگل ۔یار ..”
اسفی نے معصوم سی صورت بنائی تو وہ ہنس دی ۔۔
” میں نے کہہ دیا بس ۔۔اب ہم گھر واپس جارہے ہیں ۔۔”
اس نے جاتے ہوئے کہا
” تم کہا جارہی ہو ؟ “
وہ بسورا
” میں پیکنگ کرنے جارہی ہوں ۔۔اور صرف اپنی اور بچوں کی پیکنگ کروں گی آپ اپنی پیکنگ خود کریں “
وہ جاتے جاتے کہہ گئی ۔۔
” فوجیوں کی بھی کیا زندگی ہے ۔۔گھر ہو یا باہر ایک سا ماحول ہے “
وہ منہ بناتے ہوئے اٹھا اور الماری کی جانب بڑھا ۔۔۔


وہ اس مہینے اک ہی بار اسلام آباد کا چکر لگا پایا تھا ۔۔ مورے جان اسے بار بار فورس کررہی تھی کہ ذرش کو حویلی واپس لے آئے
مگر وہ زرش کو سبق سکھانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔
دیکھنا چاہتا تھا وہ ناراضگی پر قائم رہ کر کتنے دن اس سے دور رہ سکتی ہے ۔۔۔
اس دوران کاروباری مسائل اور حویلی کے اندر باہر کام اتنا تھا کہ اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا بلکل بھی وقت نہیں ملتا تھا ۔۔
رات کو وہ تھکا ہوا بستر پر سونے کے لئے لیٹا تھا کہ اسکا فون بجنے لگا ۔۔
اسلام آباد والے گھر کا نمبر دیکھ کر وہ پریشان سا ہو اٹھا ۔۔ اس نے صبح ہی کال کی تھی
مگر اچانک کال کٹ گئی تھی اور بات نہیں ہو سکتی تھی وہ اس وقت پریشان ہوگیا تھا ۔۔
” صاحب جی آپ کو اسی وقت یہاں آنا پڑے گا “
” خدا خیر کرے ہوا کیا ہے ؟ “
اسکا دل زور سے دھڑکا
” بی بی جی صبح سے روئے جارہی ہیں چھوٹے خان”
“کیا ؟ مگر کیوں ؟ “
وہ بے چین ہو اٹھا ۔۔
” وہ تو آپ بی بی جی سے بات کرکے ہی پتا چلے گا چھوٹے خان ۔۔ لیں بات کریں “
” آپ کہاں ہیں ؟ “
اسکی سسکتی آواز سن کر دراب دل لمحے کے ہزارویں حصے میں کئی بار دھڑکا تھا ۔۔
” ذرش ۔۔ کیا ہوا ؟ “
وہ ساری ناراضگی بھول بھال کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
” آپ یہاں میرے پاس آجائیں بس “
وہ روتے روتے کہنے لگی
” مگر ۔۔ ! اس وقت ؟ زرش وقت دیکھو یار”
ا سنے گھڑی دیکھی جو رات کے بارہ بجا رہی تھی ۔۔
” مجھے نہیں پتا ۔۔ مجھے کچھ نہیں سننا بس آپ جلدی آجائیں”
وہ کسی بچے کی مانند بضد تھی۔۔
” مگر ہوا کیا ہے کچھ پتا تو چلے !”
مارے ٹینشن کے اسکی حالت پتلی ہورہی تھی
” آپ نے آنا ہے یا نہیں ۔۔ ویسے تو محبت کے بہت بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں ۔۔بیوی نے اگر بلایا ہے تو
گھڑی کا وقت بتا رہے ہیں ۔۔۔کیوں؟
رات کو سفر کرنے سے اگر ڈر لگتا ہے تو پھر محبت کے جھوٹے دعوے بھی مت کیا کریں “
وہ جذباتی پن روتی ہوئی بولی اور غصے سے فون بند کردیا ۔۔۔
دراب ہکا بکا رہ گیا۔۔۔
پھر ہنس دیا ۔۔
” اب تو کانٹوں پر بھی سفر کرنا پڑے تو تمہارے پاس آنے سے کوئی نہیں روک سکتا ذرش بیگم “
وہ حویلی میں کسی کو بھی خبر کیئے بغیر وہاں سے سفر کے لئے نکل گیا ۔۔۔


کل انہیں یہاں سے جانا تھا ۔۔
وہ اداس سی تھی ۔۔
وہ حویلی کو بہت مس کرنے والی تھی ۔۔
مورے جان نے تو کہا تھا کہ ہر ہفتے چکر لگایا کرے ۔۔
وہ بچوں سے اداس ہوجاتی تھی ۔۔۔
اسفی کی ڈیوٹی کا مسلہ نہ ہوتا تو وہ انہیں کبھی بھی حویلی سے جانے نہ دیتی ۔۔
آج صبح ضوفشاں آکر اچھا خاصا تماشہ کرکے گئی تھی ۔۔غالبا اسے خلع کا نوٹس مل گیا تھا۔۔۔
” دیکھو ضوفی تمہارا جو بھی معاملہ ہے وہ اسفی سے طے کرنا ۔۔مجھے اور میرے بچوں کو انوالو کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
اس نے جان چھڑاتے ہوئے کہا تھا
مگر ضوفشاں پھبری شیرنی کی طرح اس پر دھاڑی تھی ۔۔۔اسے زرگل کے ہاتھوں شکستگی قبول نہیں تھی ۔۔۔
اسے ابھی بھی یہی لگ رہا تھا کہ زرگل نے اسفی اسے طلاق دینے پر مجبور کیا ہے
مگر اس میں زرگل کا کوئی عمل دخل نہیں تھا
وہ تو اسفی کے فیصلے سے واقف بھی نہ تھی
اسے سن کر افسوس ضرور ہوا تھا ۔۔
ضوفی بجائے اپنا رویہ سدھارنے کے اس پر الزام تراشی کررہی تھی ۔۔۔
مورے جان نے اسے غصے میں آکر حویلی سے نکلوا دیا تھا اور آج نے بعد اسکے حویلی آنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی ۔۔وہ خوش نہیں تھی تو دکھی بھی نہیں بحرحال اسکی زندگی میں اپنی بہت سی مصروفیات تھی ۔۔۔
گھر واپس آنے کے بعد اس نے اسفی سے کہلوا کر داخلہ فارم منگوائے اس نے آگے پڑھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔
اسفی اسکے فیصلے سے بہت خوش تھا ۔۔۔
وہ تو دعائیں مانگتی نہیں تھکتی تھی اسفی جیسے سمجھدار اور سپورٹ کرنے والے شخص کا ساتھ قسمت والوں کو ملتا ہے ۔۔
شروع شروع میں پریشانیاں ہر رشتے میں آتی ہیں مگر انسان ان پریشانیوں کا مل کر خندہ پیشانی سے سامنا کرے کہ لائف پارٹنر کی مشکل ہی اسکی مشکل ہے ۔۔
یہی اس نے بھی کیا تھا ۔۔
اور اللہ پاک نے انہیں کتنے روشن اور خوشحال دن دکھائے تھے ۔۔بے شک اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے ۔۔
انسان کو سمجھنے میں دیر لگتی ہے ۔۔


وہ پہنچا تو زرش بیگم خواب خروش کے مزے لوٹ رہی تھی ۔۔۔
اسے ایکدم غصہ آگیا ۔۔۔
کچھ گھنٹے پہلے تو اسے کال کرکے یوں رویا جا رہا تھا جیسے سولی پر لٹکایا جارہا ہو اور اب !
” کیا طریقہ ہے ۔۔ تم نے کیا مجھے سوپر مین سمجھا ہوا ہے جو اڑ کر تمہارے پاس پہنچ جائوں گا ! “
ذرش کی ابھی ابھی آنکھ لگی تھی ۔۔۔
اسکی آواز سن کر وہ جاگ گئی
“یوں رونا دھونا مچا رکھا تھا تم نے !جیسے خدانخواستہ قیامت آگئی ہو “
بس اتنا کہنا تھا کہ وہ پھر سے روپڑی ۔۔۔
اور روتے روتے اسکے گلے لگ گئی اور یوں سینے میں بھنچ لیا جیسے وہ صدیوں بعد مل رہے ہو ۔۔
” جان لو گی کیا زرش بیگم! “
دراب کے ہاتھ ہوا میں معلک رہ گئے ۔۔
اسکے یوں گلے لگنا عام بات تو نہ تھی ۔۔
کیا وہ کوئی خواب دیکھ رہا تھا !
وہ خوش ہونا شروع ہی ہوا تھا کہ ذرش کی سسکیوں نے اسکی خوشی رخصت کردی
” ذرش کیا ہوا ؟ کچھ بتائوں گی بھی ! “
دراب نے نرمی سے اسکی کمر سہلاتے ہوئے الگ کیا اور اسے بیڈ پر بٹھاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
” وہ ۔۔ آج ڈاکٹر گھر آئی تھی “
” پھر ؟ “
” انہوں نے کہا کہ ۔۔۔”
” ہاں ؟؟؟ “
وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
” انہوں کہا کہ میں ..پریگننٹ ہوں”
وہ بات مکمل کرتے ہوئے پھر سے آنسو بہانے لگی ۔۔
دراب کے لئے اک دو لمحے یقین کرنا مشکل لگا ۔۔
وہ ایکدم سے کھل کر مسکرا دیا ۔۔۔
” اس میں رونے والی تو کوئی بات نہیں پاگل ۔۔تم پھر بھی رورہی ہو”
دراب کا دل چاہا سر پیٹ لے ۔۔
اتنی خوشی کی خبر وہ اسے دو دھو کر سنا رہی تھی ۔۔
” پتا نہیں کیوں مجھے بس رونا آرہا یے ! “
دراب نے خوشی سے کس کر گلے لگایا تھا ۔۔
اور جابجا اسکے چہرے پر محبت کے نشانات چھوڑنے لگا ۔۔۔وہ اسکے لبوں پر جھکا تو زرش نے ناراضگی سے رخ پھیر لیا
” میں آپ سے ناراض ہوں آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے “
” اب آگیا ہوں نا ۔۔ ساری ناراضگی دور کردوں گا ۔۔ بولو تو ابھی کردوں”
وہ والہانہ پن اسکی طرف جھکا کہ ذرش نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے روکا ۔۔۔
” تھینک یو سو مچ میری جان … تم نے بہت بڑی خوشخبری دی ہے “
دراب نے اسکی پیشانی چومتے ہوئے اسے خود میں بھنچ لیا ۔۔۔
اسکے لمس کی حرارت محسوس کرکے زرش نے آنکھیں موند لیں ۔۔۔
دیر سے ہی سہی اسے بھی احساس ہوگیا تھا کہ
وہ دراب بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔
رشتوں میں انا نہیں ہوتی ۔۔
اگر وہ انا کچل کر دراب کو بہت پہلے کال کرلیتی تو اسکی محبت کا مان بڑھ جاتا مگر دیر آئے درست آئے ۔
رشتوں میں محبت قائم رکھنے کے لئے بہت سی غلطیوں کو بھلا کر آگے بڑھنا پڑتا ہے کہ ماضی کی راکھ اڑانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔۔۔
ختم شد