64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

” میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی بیوی اور یوسف کے دونوں بچوں کو حویلی لے آئو ۔۔۔وہ بھی سب کے ساتھ یہاں رہیں گے”
” آپ ایسا کیوں چاہتے ہیں؟ اچانک آپ کا دل کیسے نرم پڑ گیا ۔۔آپ تو شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے ان کی “
اسفی کا لہجہ تیز تھا ۔۔
بابا جان اسکے گستاخ لہجے پر اسے گھورنے لگے ۔۔
” میں بتاتا ہوں کیوں ۔۔کیونکہ آپ مجھے ان کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتے تھے ۔۔اور جب آپ یہ کام نہیں ہوا تو اب آپ انکو بھی یہیں بلانا چاہتے ہیں تاکہ میں یہیں رہوں ” اسفندیار نے ان کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا
” لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا بابا جان ۔۔۔جب تک آپ ان کے حق اور تحفظ کی زمہ داری خود نہیں اٹھائیں گے ۔۔جب تک آپ زرگل اور بچوں کو وہی حق نہیں دیتے جو اس حویلی کے مکینوں کو حاصل ہے تب وہ یہاں نہیں آئیں گے “
“ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔وہ لڑکی ہمارے یوسف کی قاتل ہے ” بابا جان نے گرج کر کہا
” یوسف کی قاتل وہ نہیں آپ ہیں بابا جان “
وہ چیخ اٹھا ۔۔
دونوں باپ بیٹا آمنے سامنے آ چکے تھے ۔۔
مورے جان اسی دن سے ڈرتی تھی ۔۔
وہ تھر تھر کانپنے لگی تھی ۔۔۔انکا بی پی ہائی ہورہا تھا
زرش نے بمشکل انہیں سنبھالا تھا ۔۔
” جائو تم دراب کو فون کرو “
مورے جان نے گھبرائے ہوئے انداز میں اس سے کہا تھا ۔۔
” آپ خود کو سنبھالیں کیوں ٹینشن لے رہی ہیں کچھ نہیں ہوگا”
” تم نہیں سمجھو گی زرش ۔۔تم جائو دراب کو بلائو کال کرکے”
“جی مورے جان “
وہ دراب کو کال کرنے لگی ۔۔
دراب شاید مصروف تھا یا پھر اس سے اتنا ناراض تھا کہ اسکا فون تک نہیں اٹھا رہا تھا ۔۔۔
” کیا کہا تم نے ۔۔میں قاتل ہوں یوسف کا؟ “
بابا جان نے بے یقینی سے دہرایا
” جی ہاں ۔۔۔ آپ اپنے بیٹے کے قاتل ہیں ۔۔۔پسند کی شادی ہی کی تھا نا یوسف نے کونسا بڑا گناہ کردیا تھا ۔۔۔ وہ آپ سے ملنے کے لئے ، مورے جان سے ملنے کے تڑپتا رہا مگر آپ نے زرا سی نرمی نہیں دکھائی بابا جان اور دشمنوں نے فائدہ اٹھا کر آپ کے شیر جیسے بہادر بیٹے کو بے دردی سے شہید کردیا”
اسکی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے ۔۔
بابا جان شاک تھے ۔۔
” اور ہاں جس لڑکی کو آپ اسکی موت کا زمہ دار ٹھہرا رہے ہیں وہ میری بیوی زرگل ہے ۔۔۔یوسف کی بیوی گل اسی دن ایکسیڈنٹ میں اسکے ساتھ ہی مر گئی تھی۔۔ اور اسکے دو معصوم بچے یتیم و مسکین ہوگئے ۔۔۔آپ کی نفرت اتنی بڑی ہوگئی کہ آپ نے انکا چہرہ دیکھنا ، انکے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا بھی گوارہ نہیں کیا ۔۔۔ جیت گئی آپ کی نفرت ۔۔ آپکی انا۔۔۔آپ رہیں اب اپنی انا میں خوش “
وہ کہہ کر جانے لگا ۔۔
” اور ہاں ۔۔۔”
وہ رکا
” میں نے ضوفشاں سے شادی صرف اور صرف مورے جان کی وجہ سے کی تھی ۔۔۔ مجھے جائیداد کی ہوس نہیں ہے ۔۔۔ اور آپ کیا مجھے بے دخل کریں گے میں خود آپ کی اس جائیداد کو ٹھوکر مارتا ہوں ۔۔۔اور کبھی لوٹ کر نہیں آئوں گا “
ایسا ہی کچھ یوسف نے بھی جانے سے پہلے کہا تھا ۔۔۔
پھر وہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا ۔۔
بابا جان کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔
یہ پچھتاوا اتنا شدید تھا کہ ان کا دم گھٹنے لگا ۔۔
ان کے دل میں شدید درد کی لہریں اٹھنے لگی۔۔۔
وہ دل کو تھامے درد سے کراہتے ہوئے ایک طرف گر گئے ۔۔
” بابا جان “
سب چیختے ہوئے ان کی طرف دوڑے ۔۔۔


بابا جان کو ایمرجنسی میں ہاسپٹل لے جایا گیا تھا ۔۔
انہیں ہارٹ اٹیک آیا تھا ۔۔
ڈاکٹرز بہت کوششوں کے باوجود انہیں نہیں بچا سکے تھے ۔۔ دراب کی دنیا ہی الٹ گئی تھی ۔۔۔
پہلے لاڈ و نخرے اٹھانے والا بھائی یوسف
اور پھر محبت کرنے والا باپ دونوں کو یکے بعد دیگرے کھو دیا تھا ۔۔
اسکا دماغ مائوف ہوچکا تھا ۔۔
اسے چکھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔
تدفین کا سارا کام اسفندیار نے سنبھالا تھا ۔۔
دراب گم سم سا لوگوں کے درمیان بیٹھا تھا ۔۔
وہ سفید کفن میں لپٹے باپ کے شفیق چہرے کو دیکھتے جارہا تھا ۔۔
جس باپ کو وہ بلکل صحت مند اپنی آنکھوں کے سامنے چلتا پھرتا چھوڑ کر گیا تھا ۔۔وہ بے جان وجود لئے ہمیشہ کی نیند سو چکا تھا
پل بھر میں کیا سے کیا ہوگیا تھا ۔۔
مورے جان کو غشی کے دورے پڑ رہے تھے ۔۔
زرش انکے پاس ہاسپٹل میں تھی ۔۔
ضوفشاں اور زرگل گھر میں آئے مہمانوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
بابا جان کی اچانک وفات نے سبھی کو غمزدہ کردیا تھا ۔۔


” دراب ۔۔۔؟ اٹھو گھر چلو “
اس نے آنسوئوں سے بھری آنکھیں اٹھا کر دیکھا اور اسفندیار کا چہرہ دیکھ کر اسکا ہاتھ بری طرح سے اپنے کندھے سے جھٹک دیا ۔۔
” تمہاری وجہ سے ہوا ہے یہ سب ۔۔تم جب بھی آتے تھے بابا جان کو اچھی بھلی باتیں سنا کر جاتے تھے ۔۔ تمہاری باتیں ،تمہارےطعنے کس طرح سے انہیں ہرٹ کرتے تھے تمہیں اندازہ ہے”
تدفین کے بعد قبرستان میں اکا دکا لوگ تھے ۔۔
دراب کی بلند ترین غصیلی آواز سن کر متوجہ ہونے لگے تھے
” دراب آہستہ بولو کیوں چار لوگوں میں تماشہ بنا رہے ہو ۔۔ گھر چلو “
اسفندیار نے دھیمی آواز میں تنبہی کی
مگر دراب اس وقت صدمے سے گزر رہا تھا ۔۔۔
اسکی بات پر اکھڑ کر بولا
” تمہیں مبارک ہو وہ گھر ۔۔۔میں جارہا ہوں”
وہ غصے سے کہہ کر گاڑی لے کر چلا گیا ۔۔
اسفندیار نے اسے جانے دیا ۔۔اس وقت دراب بہت اپ سیٹ تھا ۔۔ اسے اس دکھ سے نکلنے میں وقت درکار تھا ۔۔


زرگل جانتی تھی وہ ضوفشاں کی قہر بھری نگاہوں کی زد میں ہے ۔۔۔۔
وہ جب سے آئی تھی ضوفشاں مسلسل اسے آتے جاتے تنزیہ کھا جانے والی نگاہوں سے گھور رہی تھی
حالانکہ غصہ تو زرگل کو اس پر کرنا چائیے تھا ۔۔۔
اسکے شوہر کی دوسری بیوی تھی وہ مگر !
زرگل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس نگاہوں سے دور ہو جائے ۔۔ وہ خود بھی یہاں رہنا نہیں چاہتی تھی مگر مجبور تھی ۔۔
جیسے ہی اسفندیار آیا وہ اسے کہنے لگی
” مجھے گھر جانا ہے ۔۔ تم ڈرائیور سے کہو مجھے چھوڑ آئے “
” تم کچھ دن یہیں رہو گی ۔۔میں ڈرائیور سے کہہ دیتا ہوں ضروری سامان اور بچوں کو لے آئے اور اوپر والا پورشن سیٹ کروا دیتا ہوں تمہارے لئے “
” مجھے یہاں نہیں رہنا اسفند ۔۔ سمجھنے کی کوشش کرو” اس نے کانپتے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔
وہ اسے فورس نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ بھی مشکل دور سے گزر رہا تھا
” میں تمہیں دور نہیں بھیج سکتا گل ۔۔ تم میری نظروں کے سامنے رہوں گی تو مجھے تسلی رہے گی “
” مگر مجھے یہاں رہ کر تسلی نہیں ہوگی مجھے گھر جانا ہے”
” بس کچھ دن گل ۔۔ جب تک میں یہاں ہوں”
وہ آگے بڑھا اور اسکی پیشانی چوم کر کہتے ہوئے سارے اعتراضات مٹی میں ملا دیئے ۔۔
” تم جانتی ہو نا ۔۔مورے جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ ہاسپٹل میں ہیں ۔۔دراب بھی اپنے حواسوں میں نہیں ہے۔۔ حویلی کو ، اسکے انتظامات کو سنبھالنا ہے مجھے ۔۔بس کچھ دن کی بات ہے ۔۔پھر سب نارمل ہو جائے گا”
وہ رسان سے سمجھانے لگا تو زرگل کو اسکی پوزیشن کا احساس ہوا
” ٹھیک ہے “
اس نے ہولے سے کہا اور وہاں سے چلی گئے ۔۔
ضوفشاں دور سے ان دونوں کو کھانا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی
مگر اسفندیار نے اسے سیریس نہ لیا ۔۔


مورے جان کو ڈاکٹرز نے ٹرائنکولیزر کے ذریعے سلا دیا تھا ۔۔زرش بھی کل رات سے یہی تھی ۔
اسے مورے جان کے لئے بہت برا لگ رہا تھا
جس شخص کے ساتھ انہوں نے پوری زندگی بتائی ،
ان کا محرم تھا مورے جان انکا آخری دیدار بھی نہ کر سکی تھی ۔۔
اسے اچانک دراب کا خیال آیا تو بیگ سے سیل فون کا نکال کر روم سے باہر آگئی ۔۔
دراب فون نہیں اٹھا رہا تھا
اسے سخت پریشانی ہورہی تھی ۔۔
اس نے اسفندیار کو کال کی تھی ۔۔
اس نے بتایا وہ بابا جان کی تدفین کے بعد قبرستان سے سیدھا گاڑی لے کر پتا نہیں کہاں چلا گیا ہے ۔۔
اسکا فون بھی نہیں اٹھا رہا ہے ۔۔
اسکے سن کر پریشانی سے حواس باختہ ہوگئے ۔۔
وہ بابا جان سے بہت اٹیچڈ تھا ۔۔
یہ بات سب لوگ ہی جانتے تھے ۔۔
انکی اچانک موت اسکے لئے کسی صدمے سے کم نہیں تھی ۔۔ اسکی دعائیں رنگ لے آئیں اور دراب نے بہت سی مسڈ کالز کے بعد فون اٹھا لیا تھا ۔۔
” دراب آپ کہاں ہیں میں کتنی پریشان ہورہی ہوں آپ کے لئے آپ کو اندازہ بھی ہے “
” کہاں ہو تم ؟ “
اسکی کرب میں ڈوبی ہوئی دھیمی آواز سنائی دی ۔۔
” میں تو ہاسپٹل میں ہوں مورے جان کے پاس۔۔۔آپ کہاں ہیں؟ “
اس نے فکرمندی سے پوچھا
” میں ٹھیک ہوں تم فکر مت کرو۔۔مورے جان کا خیال رکھنا تم”
اس نے اچانک فون بند کردیا ۔۔
” ہیلو ۔۔۔ دراب ۔۔؟ ہیلو؟ “
اس نے دوبارہ فون ٹرائے کیا تو فون سوئچڈ آف آرہا تھا ۔۔اس نے تھک کر فون رکھا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگالی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔