Lams E Hararat by Rameen Khan readelle50030 Episode 14
Rate this Novel
Episode 14
اسے ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لئے جانا تھا ۔۔ اس نے اسفی کو کال کی تھی ۔۔ بچوں کو اس نے ملازمہ کے حوالے کرتے ہوئے خاص تاکید کی تھی کہ انہیں سردی میں باہر نہ نکلنے دیں ۔۔ مورے جان کو بھی اس نے انفارم کردیا تھا ۔۔ ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کے بعد اسفی کا پلین تھا کہ باہر ڈنر کیا جائے مگر اسکا دل نہیں مان رہا تھا پھر بھی وہ اسفی کے بے حد اسرار پر مان گئی تھی ۔۔ ابھی وہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ اسفی کا سیل رنگ کرنے لگا ۔۔
“گھر سے کال ہے ” اس نے چونکتے ہوئے اسے بتایا ۔۔
زرگل کا دل یکبارگی سے دھڑکا تھا ۔۔
” ہیلو ! “
اسفی کا رنگ فق ہوا تھا اور زرگل کا دل ڈوبنے لگا ۔۔
” کیا ہوا؟ ” اس نے بے چینی سے پوچھا ۔۔
اسفی نے ٹینشن کے مارے اسکی اتری صورت دیکھی ۔۔
” یوسف ۔۔۔۔”
” کیا ہوا یوسف کو ؟ ” اسکی آنکھوں کے سامنے زمین آسمان گھومنے لگے ۔۔
‘ یوسف سیڑھیوں سے گر گیا ہے”
” کیسے ؟ ” وہ اتنی زور سے چیخی کہ آس پاس کے ٹیبلوں پر لوگ مڑ مڑ کر اسے دیکھنے لگے ۔۔۔
” حوصلہ رکھو کچھ نہیں ہوا ہوگا”
” آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں ” وہ چلاتے ہوئے رودی تھی ۔۔ سارے رستے وہ دعائیں مانگتی ہوئی آئی تھی ۔۔ہاسپٹل پہنچتے تک اس کا صبر جواب دے چکا تھا ۔۔
” میں تمہارے حوالے کرکے گئی تھی اسے ۔۔ تم سے میں نے کہا بھی تھا اسے اک لمحے بھی اکیلا نہیں چھوڑنا ” اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ ملازمہ کے بال نوچ لیتی ۔۔ وہ تو اسفی نے اسکے گرد مضبوط بازوئوں کا گھیرا بناتے ہوئے اسے روکا ہوا تھا ۔۔
” وہ بی بی جی ۔۔ ضوفی ۔۔بی بی کے پاس چھوڑ کر میں تو ۔۔۔” ملازمہ نے ڈرتے ڈرتے کہنا چاہا ۔۔
” کیا مطلب؟ ” اس نے تیزی سے بات کاٹی
” اس عورت پر میں اک منٹ کے لئے بھی بھروسہ نہیں کرسکتی تم نے کیسے کر لیا ” وہ چیخ اٹھی ۔۔اسے اس وقت کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی ۔۔ حالانکہ ضوفی بھی وہیں موجود تھی ایک کونے میں لگ کر کھڑی تھی ۔۔
” گل پلیز ہوش میں آئو ۔۔ہم ہاسپٹل میں کھڑے ہیں ” اسفی نے اسے سینے میں سمیٹتے ہوئے نرمی سے کہا ۔۔
” ہونہہ فضول کے ڈرامے “
ضوفشاں ابرو اچکاتے ہوئے بڑبڑائی ۔۔ان دونوں کو اتنی قریب دیکھ کر اسکا خون کھول رہا تھا ۔۔
” اس عورت کو یہاں سے لے جائو ورنہ میں اسکا گلہ دبا دوں گی ” اگر اسفی نے اسے نہ پکڑا ہوتا تو یقینا وہ اسکا گلہ ہی دبا دیتی ۔۔۔ جان فرسا انتظار کے بعد ڈاکٹر نے آکر اطلاع دی کہ زخم پر دو اسٹیچز آئے ہیں ۔۔ آج اسے انڈر ابزروویشن رکھا جائے گا ۔۔زرگل بمشکل آنسو دباتے ہوئے چہرہ موڑ لیا۔۔۔ اسکا دل چاہ رہا تھا ضوفی کا گلا دبا دے ۔۔ خدا جانے سچ کیا تھا اور کیا جھوٹ ! بحرحال اسے بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چائیے تھا ۔۔۔
” زری ۔۔؟ زری اٹھو ۔۔۔؟ “
اس نے اک دو بار اسے پکارا مگر کوئی جواب نہیں ملا ۔۔
وہ کچھ پریشان ہوا تھا مگر ظاہر نہیں ہونے دیا ۔۔
آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چھوئی تو وہ بخار میں تپ رہی تھی ۔۔
” اففففف یہ تمہاری نازک مزاجی زرش “
وہ بڑبڑاتے ہوئے کمرے سے نکل گیا ۔۔
جاتے جاتے ملازمہ کو ہدایت دینا نہیں بھولا تھا ۔۔۔
ملازمہ اسکے کمرے میں آئی تو وہ خالی خالی نظروں سے چھت کو گھور رہی تھی ۔۔
” بی بی چھوٹے خان نے سختی سے کہا ہے کہ آپ کو ناشتہ کروا کے دوا کھلا دوں “
” چھوٹے خان سے کہو مجھے زہر لادے “
” خدانخواستہ بی بی جی “
ملازمہ دہل کر بولی
” جائو یہاں سے مجھے کچھ نہیں کھانا “
” مگر بی بی جی ! “
” جائوووو “
اسکا لہجہ تلخ تھا ملازمہ چاہ کر بھی کچھ نہ کہہ سکی ۔۔۔پورا دن اس نے کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔
بخار کے باعث اس پر غنودگی طاری ہو چکی تھی ۔۔۔
رات گئے دراب لوٹا تو اسے کمرے میں ہنوز حالت میں پاکر ملازمہ پر برس پڑا ۔۔
” چھوٹے خان بی بی جی نے کچھ بھی کھانے سے منع کردیا تھا “
اکسے غصے کے ڈر سے ملازمہ جلدی سے بولی
” تو تمہیں مجھے بتانا تو چاہئیے تھا” وہ چلایا
” میرے پاس فون کہاں ہے ! چھوٹے خان آپ کو پتا ہے” ملازمہ گھبرا گئی ۔۔
” زری ۔۔۔؟”
” زرش آنکھیں کھولو”
ذرش نے کوئی ردعمل نہیں دیا تو
وہ سخت پریشانی میں گھر گیا ۔۔۔
اسے بانہوں میں سمیٹ کر گاڑی میں ڈالنے لگا ۔۔۔
یوسف کو ڈسچارج کردیا گیا تھا ۔۔۔
ملازمہ کا کہنا تھا کہ وہ ضوفشاں کے پاس یوسف کو چھوڑ کر فیڈر تیار کرنے گئی تھی ۔۔
اور ضوفشاں نے بھی اپنی صفائی میں پہاڑ کھڑے کر دیئے تھے ۔۔
اب خدا بہتر جانے کون سچ بول رہا تھا اور کون جھوٹ ۔۔! وہ سمجھ نہیں پائی ۔۔
اس دن کے بعد سے اس نے ضوفشاں سے دوری اختیار کرلی تھی وہ بچوں کو بھی ضوفی سے دور ہی رکھتی تھی کیونکہ اسکی حاسدانہ نگاہوں سے بہت خوف کھاتی تھی ۔۔۔ مورے کی طبیعت بھی اب پہلے سے بہتر تھی ۔۔
بابا جان کا غم کچھ ہلکا ہوچکا تھا ۔۔
زندگی دھیرے دھیرے روٹین پر آرہی تھی
مگر ضوفشاں کی بدتمیزیاں اور گستاخیاں بڑھتی ہی جارہی تھی
وہ کبھی اپنی آوارہ دوستوں کو گھر بلا کر ہاہا کار مچائے رکھتی کبھی خود رات گئے تک ان کے ساتھ باہر رہتی۔۔۔کلبنگ کرتی ،
گھر والوں کے لئے اسکی حرکتیں برادشت سے باہر ہوتے جارہی تھی ۔۔
اسفی تو اسکی شکل بھی دیکھنا گنوارہ نہیں کرتا تھا ۔۔
اگر مورے جان کا خیال نہ ہوتا تو وہ کب کا اسے اس بندھن سے آزاد کر چکا ہوتا ۔۔۔
یہ بات وہ مورے جان کے سامنے بھی بارہا جتا چکا تھا ۔۔
اسکی حرکتیں دیکھ کر مورے جان بھی پچھتانے لگی تھی ۔۔ زرگل کے سامنے تو وہ کچھ بھی نہیں تھی ۔۔
زرگل اتنے اخلاق اور رکھ رکھائو والی تھی ۔۔
وہ کبھی کبھی سوچتی تو بہت دکھ ہوتا کہ وہ اسفی کے معاملے میں زیادتی کرگئی تھی ۔۔مگر اب کیا ہوسکتا تھا!
اسکی آنکھ کھلی تو دراب کے کلون کی مہک نتھنوں سے ٹکرائی ۔۔۔
وہ اسکے قریب بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھا چھت کو گھور رہا تھا ۔۔۔
اسکا ہاتھ زرش بالوں میں مسلسل حرکت کررہا تھا ۔۔۔
رات بھر اس نے اسکی جان کو ہلکان کیئے رکھا تھا ۔۔
کبھی اسکا لمس بے حد نرمی اختیار کر لیتا کبھی شدت ! اور اب کیسے اس کی جھوٹی پرواہ دکھا رہا تھا ۔۔
وہ بے حد غصے سے اسکا ہاتھ جھٹک کر اٹھی ۔۔
” تم ۔۔ تم ٹھیک ہو ؟ “
وہ اسکی جانب متوجہ ہوا
” آپ کو جو چائیے تھا وہ حاصل کر چکے ۔۔ اب مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے “
” کیا بکواس کررہی ہو تم ! “
اگلے ہی لمحے وہ اسکی سخت گرفت میں تھی ۔۔۔
” سچ ہی تو کہہ رہی ہوں”
اسکی آنکھیں بھرا گئیں
” دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا ۔۔ اور میں اسے ٹھیک کرنا بھی جانتا ہوں”
دراب نے اسے بے دردی سے جھٹک دیا
” میں ملازمہ کو کھانا دے کر بھیج رہا ہوں ۔۔ کھا لینا ۔۔پھر تم نے دوا بھی کھانی ہے “
” ذہر کھلا دیں “
” زرش بس کرو بہت ہوگیا ۔۔۔ اب تم میرے صبر کا امتحان لے رہی ہو”
” آپ نے بھی میرے بہت سے امتحان لیئے ہیں ۔۔ جب خود پر بات آئی تو ضبط جواب دینے لگا آپ کا “
چہرے پر بکھری سیاہ لٹھوں اور بخار کی سرخی نے اسکے حسن کو نکھار بخشا تھا یا اسکی نظر کا کمال تھا ۔۔
وہ اک لمحے کے لئے اسکے حسن میں محو ہوگیا ۔۔
زرش جانے لگی کہ دراب نے اسکا بازو کھینچا وہ سیدھا اسکے سینے سے ٹکرا ۔۔
” محبت کرتا ہوں تم سے ۔۔تمہاری ذات کے متعلق سارے حق رکھتا ہوں ۔۔جب چاہوں یہ حق استعمال بھی کر سکتا ہوں “
وہ والہانہ محبت سے اسکے چہرے کو چھوتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
” اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اس حق کا غلط استعمال کریں”
زرش نے نفرت سے چہرہ موڑ لیا اور خود کو چھڑاتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئی ۔۔۔۔۔
وہ فریش ہوکر کمرے سے نکلی تو دراب خود اسکے لئے کھانے کی ٹرے بنا کر لایا تھا۔۔۔
” کھانا کھالو “
” مجھے نہیں کھانا “
اس نے بے رحمی سے اسے نظرانداز کیا اور بیڈ پر آبیٹھی ۔۔
وہ ٹرے اُٹھائے بیڈ پر لے آیا ۔۔
اس نے نوالہ بناتے ہوئے اسکی طرف بڑھایا کہ اس نے نفرت سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔
” ذرش زرش ! ” اس نے غصہ دباتے ہوئے اسے دیکھا ۔۔۔
” میں زبردستی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ بہتر ہوگا مجھے مجبور مت کرو”
زرش اس سے بری طرح بد ظن ہوچکی تھی ۔۔
اس رات کے بعد تو اسکی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔
” کھائو ! “
وہ اتنی تیز چیخا کہ زرش سہم گئی ۔۔
اسکی آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے ۔۔۔
اس نے چند نوالے زہر مار کیئے اور اسکی ہتھیلی سے گولیاں اٹھا کر نگل لیں ۔۔
سر تک کمفرٹر کھینچ کر خود کو چھپا لیا ۔۔۔
دراب اک دو لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔
مورے جان کو اچانک کھانسی کا دودہ پڑ رہا تھا ۔۔
ضوفشاں لائونج میں مزے سے ہینڈ فری کانوں میں ٹھونس کر فلم دیکھنے میں مشغول تھی ۔۔
گل نیچے بچوں کے لئے فیڈر تیار کرنے آئی تھی ۔۔
مورے جان کی چیخیں سن کر ان کے کمرے کی جانب دوڑی تھی ۔۔
وہ بری طرح کھانس کھانس کر بے حال ہوچکی تھی ۔۔
وہ ملازموں پر غصہ کرتے ہوئے ڈاکٹر کو بلانے کی ہدایت دینے لگی ۔۔
کچھ وقت بعد ڈاکٹر آچکا تو وہ لائونج میں بیٹھی ضوفشاں کی جانب بڑھی ۔۔۔
اس نے ہینڈ فری کھینچ کر دوری پھینکی تھی ۔۔
” تمہی ہوش بھی ہے کیا قیامت آکر گزری ہے یہاں ! “
وہ بہت غصے میں تھی ۔۔
ضوفشاں اسکی جسارت پر کھولنے لگی
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اس طرح بات کرنے کی “
” مورے جان کب سے تمہیں آوازیں لگا رہی تھی اور تم نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا ۔۔ اگر انہیں کچھ ہوجاتا “
” تو ہوجائے ۔۔ کچھ ہوتا ہے تووو جائے ۔۔۔کیا سارے بزرگ میرے ہی زمہ داری ہیں اس گھر میں “
وہ انتہائی بدتمیزی سے چلائی ۔۔۔
” تم جیسا بے شرم میں نے آج تک زندگی میں نہیں دیکھا”
” ہائوس ڈیر یو “
ضوفی نے اسکی بات کر تڑخ کر اسکے گال پر چماٹ رسید کردیا ۔۔۔
اسفی جو کب سے خاموش کھڑا یہ تماشا برداشت کر رہا تھا۔۔۔ اس بار چپ نہیں رہ سکا ۔۔
اس سے پہلے زرگل غصے میں اس پر جھپٹ پڑتی وہ آگے بڑھا
” اپنا بوریا بستر سمیٹو اور میرے گھر سے دفع ہو جائو ضوفی ورنہ مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہوگا “
وہ اپنی ماں کے خلاف اک لفظ بھی نہیں برادشت کر سکتا تھا ۔۔۔
ضوفی کو امید نہیں تھی کہ وہ سن لے گا ۔۔۔
اسکا رنگ فق ہوچکا تھا ۔۔
” گل ! “
اسفی نے اسکا رخ اپنی جانب موڑنا چاہا
مگر وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر غم و غصے دھم دھم سیڑھیاں چڑھتی اوپر والے پورشن میں چلی گئی۔۔۔
وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا ۔۔۔
فی الوقت وہ مورے جان کے کمرے کی طرف بڑھا
جنکا ڈاکٹر چیک اپ کررہا تھا ۔۔
زرگل کو تو وہ بعد میں بھی منا سکتا تھا ۔۔۔
جاری ہے ۔
