64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

وہ تقریباً رات کے دس بجے واپس لوٹا تو کمرے میں نئی نویلی دلہن کو بے ترتیب اپنے بستر پر نیند اڑاتے دیکھ کر اسکا دماغ بھک سے اڑا تھا ۔۔۔
” گل ؟ “
اس نے قریب جاکر پکارا ۔۔
اسے کون بتاتا کہ وہ نیند کی کتنی پکی تھی ۔۔!
” گل ۔۔۔۔! “
اس بار اس نے زرا زور سے پکارا تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔۔اور آنکھیں ٹمٹما کر اسے اس قدر معصومیت سے اسے دیکھا کہ اسفند کا دل پسیج گیا ۔۔
“منال اور یوسف سے ملی تم ؟ “
وہ کچی نیند سے جگائی گئی تھی ۔۔
اسلئے اندازہ نہ کر سکی
” کون ؟ “
” بچوں سے نہیں ملی تم؟ “
اسفندیار خان کا پارہ چڑھ گیا
” وہ ۔۔۔ مجھے پتا ہی نہیں تھا “
اسے شاید یہ نہیں کہنا چائیے تھا ۔۔
چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے کی ہمت کی تو وہ لب بھنچے ضبط سے اسے گھور رہا تھا ۔۔
” دیکھو گل ۔۔ یہاں اس گھر میں تمہاری ہر خواہش پوری کی جائے گی۔۔کسی چیز کی روک ٹوک نہیں ہوگی مگر تمہیں میرے بچوں کا بہت خیال رکھنا ہے”
میرے بچوں پر زور دیتے ہوئے اس نے یہی جتانے کی کوشش کی تھی کہ وہ اب اسکے بھی بچے تھے ۔۔
وہ اس گھر میں بیوی کی حیثیت سے بیاہ کر لائی گئی تھی یا بچوں کی آیا کی حیثیت سے؟
اسکے دل میں یہ کھب سی گئی
” سمجھ رہی ہو میری بات؟ “
بارعب لہجے میں دریافت کیا ۔۔
اس نے آہستگی سے سر ہلایا تھا ۔۔
” تم نے کھانا کھایا؟ “
” نہیں “
اسکی آواز بھرا گئی ۔۔۔جانے کیوں ۔۔
” کیوں ؟ “
” میں سو گئی تھی “
اس نے سوں سوں کرتے ہوئے کہا تو اسفندیار نے بے تحاشا حیرانی سے اسکی سرخ سرخ آنکھیں دیکھیں تھی ۔۔
” یا اللہ صبر! ” بے ساختہ بیزار کن سانس کھینچتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
” تمہیں میری کوئی بات بری لگی ؟ “
کمانڈر اسفند یار خان اپنی حیات میں پہلی بار اک
ایسی ہستی سے اپنا گناہ دریافت کررہے تھے جس سے چند گھنٹے پہلے ہی ملے تھے ۔۔
اس نے نفی میں سرہلایا تھا
البتہ نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھیں ۔۔
سیاہ چمکدار شفاف آنکھوں میں ناراضگی کا تاثر صاف ظاہر تھا ۔۔۔
گندمی مائل سنہری رنگت ، تیکھی ناک میں اک باریک سی تار پہن رکھی تھی ۔۔
گھنگھریالے بالوں کی چند لٹھیں چوٹی سی نکل کر اسکے رخساروں پر اٹھکیلیاں کررہی تھی ۔۔
اس میں حسن و کشش کے سارے ہی انداز رچے ہوئے تھے ۔۔
بس اک نظر تھی جو لاپرواہی کے عالم اٹھی تھی
وہ اسی نظر کے قیدی بن گیا تھا ۔۔
ان خوبصورت لبوں کی کپکپاہٹ اسفندیار خان کا چین لوٹ کر لے گئی ۔۔۔
اک لمحے لب بستگی کے عالم میں بیٹھا اسے تکتے رہا پھر آہستگی سے بولا ۔۔
” جائو تم بچوں کو دیکھ آئو۔۔اور میں چینج کرلوں پھر کھانا کھاتے ہیں”
اس نے حتی الواسع لہجہ نرم رکھا تھا۔۔
اندر ہی اندر اسکے لاابالی پن امییچورٹی پر جھلا رہا تھا ۔۔اسے اندازہ نہیں تھا یہ لڑکی اتنی امیچور ہوگی ۔۔
وہ اسکی ریزرو نیچر نیچر اور میچور طبیعیت کے بلکل برعکس تھی ۔۔
پتا اسکے ساتھ چل سکے گی بھی یا نہیں ۔۔
پہلے دو بچے کم تھے جو اک اور کی زمہ داری بھی اسکے کندھوں پر آپڑی ۔۔
اس نے شاور لیکر لباس تبدیل کرکے ہلکے نیلے رنگ کا شلوار سوٹ زیب تن کیا اور کفوں کو کہنیوں تک موڑتے ہوئے آئینے کے سامنے رکا ۔۔
نم بالوں میں برش گھماتے ہوئے اسکی نظر ڈریسنگ پر پڑے جھمکوں پر پڑی ۔۔
مڑ کر بیڈ کی طرف دیکھا تو گرم شال وہاں پڑی تھی ۔۔ کشن بے ترتیب تھے ۔۔
اسے بے ترتیبی سے سخت نفرت تھی ۔۔
اک اور وجہ مل گئی تھی زرگل کو نا پسند کرنے کی ۔۔
سر جھٹک کر ڈائننگ ہال کا رخ کیا ۔۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
” چپ ہو جائو یار تمہیں خدا کا واسطہ ہے “
اس نے جھنجھلا کر یوسف کے آگے ہاتھ جوڑے تو وہ معصوم اسکی بلند آواز سے ڈر اور تیز تیز چیخنے لگا ۔۔۔
” چپ کر جائو ورنہ ایک تھپڑ لگا دوں گی ۔۔سر میں درد کردیا ہے تم نے میرے “
اس بات سے بے خبر کے اسفندیار خان دروازے میں کھڑا خون آشام نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔
وہ ایکدم اندر آیا اور بازو تھام کر سفاکی سے کمر کے ساتھ لگادیا ۔۔۔
” اگر آئندہ تم نے بچوں سے اس طرح کا سلوک کیا تو بخدا بہت برا پیش آئوں گا ۔۔۔سجھی تم؟ “
وہ یکدم بدحواس سی ہوکر اسکے سفاک اور رحم سے عاری چہرے کو ٹکر ٹکر دیکھنے لگی ۔۔
” سمجھی تم ؟ “
اسفند نے زور سے جھٹکا دے کر اسے دور دھکیلا ۔۔۔
وہ درد سے بے ساختہ سسک اٹھی ۔۔
وہ آگے بڑھا اور یوسف کو بازوئوں میں بھر کر وہاں سے چلا گیا ۔۔
” کمینہ ۔۔۔بد تمیز ۔۔ “
اس نے آنسو پونچھتے ہوئے اسے برے برے القابات سے نوازا یہ اسکی پرانی عادت تھی ۔۔
پھر سوں سوں کرتے ہوئے ٹھک سے اماں کو فون ملا دیا ۔۔
” یہ کیسا ظلم کیا آپ نے میرے ساتھ اماں؟ آپ تو کہتی تھی کہ میرا شوہر بڑاااا ہی خاندانی اور سلجھا ہوا ہے ۔۔کیا خاک سلجھا ہوا ہے ۔۔ زرا خیال نہیں آیا اسے میری بازو مروڑتے ہوئے ۔۔ بد بخت کہیں کا ۔۔ خدا نخواستہ نازک بازو ٹوٹ جاتی تو۔۔۔”
اس نے اپنی کلائی سہلائی تھی
دوسری جانب اماں نے سر پکڑ لیا تھا ۔۔
اسے رخصت ہوئے ابھی آدھا دن ہی گزرا تھا
” ایسا بھی کیا کردیا تو نے ؟ “
” اسکی اولاد کو ڈانٹ دیا زرا سا ۔۔ وہ شخص تو غصے کے پہاڑ چڑھ گیا “
” کم بخت تو نے اس معصوم کو ڈانٹا ہی کیوں ۔۔۔ ! “
اماں کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ اسکا سر پھاڑ دیتی
” اماں چیخ چیخ کر اسنے میرے کان کے پردے پھاڑ دیئے تھے اور میں ڈانٹی بھی نہ ۔۔حد کرتی ہو تم اماں”
وہ بڑھ کر بولی
” اچھا چلو رکھتی ہوں”
کچھ بھی سنے بولی اور فون رکھ دیا ۔۔
اب اسکی ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ وہ باہر جا کر اس شخص کا سامنا کرتی
اسکی عزت نفس کو یہ گنوارا نہیں تھا ۔۔
وہ بچوں کے کمرے میں تکیہ درست کرکے لیٹ گئی ۔۔
کافی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد اسے نیند نہیں آئی ۔۔
بھوک بھی لگ رہی تھی ۔۔۔
“میں کیوں اپنی بھوک قربان کروں جب میری کوئی غلطی ہی نہیں “
وہ ایکدم سے اٹھ بیٹھی
” اور میں کیوں اپنا کمرہ چھوڑوں ۔۔ وہ کمرہ میرا بھی تو ہے آخر کو بیاہ کر خود تو نہیں آئی لائی گئی ہوں”
اس نے شال اٹھا کر کندھوں پر لپیٹی اور باہر نکلی ۔۔
ہر طرف خاموشی اور اندھیرا تھا ۔۔
گو کہ سب سو چکے تھے مگر صحن کی لائٹ جل رہی تھی ۔۔
وہ دبے قدموں کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آئی تو اسفندیار خان اپنے ڈبل بیڈ پر خواب خروش کے مزے لوٹ رہا تھا اسے بے حد غصہ آیا
وہ آگے بڑھی تکیہ کیھنچ کر لیٹ گئی ۔۔
اور کمفرٹر اتنی زور سے کھینچا کہ اسفند کی آنکھ کھل گئی وہ اٹھ بیٹھا اور
اپنے پہلو میں لیٹے نازک وجود کو کھانے جانے والی نظروں سے گھورنے لگا ۔۔۔
مگر زرگل کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔۔۔
” اٹھو یہاں سے ” اسے نیند کھل جانے کا غصہ تھا
” کیوں ؟ کیوں اٹھوں ؟ “
وہ نہ صرف پلٹی بلکے گھٹنوں کے بل اونچا ہوتے ہوئے جنگ کا اعلان کیا
” تمہیں تمیز نہیں ہے ۔۔ میں سویا ہوا تھا اور تم۔۔”
وہ لب بینچ کر رہ گیا
” آپ کو تمیز نہیں ہے ۔۔کتنی زور سے آپ نے میرا بازو مروڑا ۔۔۔ کم بخت آج تک اک ناخن سے کھوچ بھی نہیں لگی کسی کی اور آپ نے ۔۔۔”
وہ غصے سے بھری ہوئی تھی
” آپ نے جرات کیسے کی ۔۔۔بتائیں ؟ “
” بتائوں ؟ ” وہ بے حد سنجیدہ تھا ۔۔
اگلے ہی لمحے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے نزدیک کیا
اور اسکا نچلا لب اپنے سرخ ہونٹوں کے درمیان سفاکی سے بھینچ لیا ۔۔
وہ تڑپ اٹھی ۔۔
دونوں ہاتھ اسکے چوڑے چکلے سینے پر رکھتے ہوئے خود کو چھڑانا چاہا مگر ناکام رہی ۔۔۔
وہ سانس لینے کو بری طرح سے مچل رہی تھی ۔۔۔
اسفند اسکے لبوں کو ہولے سے آزار کیا تو اسکا سانس بری طرح سے اکھڑا ہوا تھا ۔۔۔
” آئندہ مجھ سے میری جرات و جسارت کے بارے میں نہ پوچھنا زرگل ورنہ بہت پچھتانا پڑے گا”
وہ اسے دور دھکیل کر بے حال چھوڑ کر کمفرٹر کھینچ کر پلٹ کر لیٹ گیا ۔۔۔
اور زرگل سینے پر ہاتھ رکھے سانسیں اعتدال پر لانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔