64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

اونچی آواز میں بات نہ کرنا اپنے شوہر سے ، اور بچوں کا خیال رکھنا ۔۔ بن ماں کے بچے ہیں “
” میں خود بچی ہوں ابھی اماں”
اماں کی نصیحتوں سے جھنجھلا کر ناک چڑھاتے ہوئے کہا اور پلٹ پھر سے آئینے میں اپنے خوبرو نقوش کو ہر ہر زاویے سے دیکھنے لگی
” مالک نے حسن تو بہت دیا ہے “
اس نے اتراتے ہوئے کہا ۔۔
” بس تھوڑی سی عقل بھی دے دیتا تو کیا بات تھی “
یہ زارون تھا اسکا چھوٹا بھائی ۔۔
جسے اس نے خون آشام نظروں سے گھورا تھا
” سارا دن خود کو آئینے میں ہی نہ دیکھتی رہنا آپا۔۔۔اپنے شوہر کا بھی خیال رکھ لینا ۔۔اب تو خیر سے دو بچے آپ کو تحفے میں مل رہے ہیں”
زاروں بے تکلفی سے بیڈ پر گرتے ہوئے بولا
” خدارا تو چپ ہوجا ۔۔۔پہلے ہی اماں کی نصیحتیں سن سن کر پک چکی ہوں “
اس نے اب کی بار باقاعدہ ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
” ٹھیک ہے آپا ۔۔۔میں تو آپ کے فائدے کے لئے ہی کہہ رہا تھا” زارون نے کندھے اچکا کر کہا ۔۔
” جائو دیکھو میرے شوہر آئے یا نہیں “
اس نے اک ادا سے زلفیں سنوارتے ہوئے زارون پر حکم صادر کیا تھا ۔۔
زارون کی نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی نکل گئی ۔۔
” کیا ہے ؟ “
وہ گھورنے لگی
“آپا مجھے لگتا ہے انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے “
وہ کہہ کر جلدی سے باہر بھاگا
کیونکہ جانتا تھا اب گل کی چپل اسکی کمر کا پیچھے کرتے ہوئے باہر تک آئی تھی ۔۔
دو دن پہلے اسکا نکاح سادگی گھر میں ہی کردیا گیا تھا ۔۔۔رشتہ دادی کی اک پرانی سہیلی شریفان کے توسط سے ہوا تھا ۔۔ اماں بے چاری بیوہ تھیں ۔۔
دن رات پریشان ہوتی رہتی کہ اسے رخصت کیسے کریں گی ۔۔۔ جیہز کیسے بنے گا ۔۔ اللہ نے ان کی سن لی تھی ۔۔
انکی ساری پریشانیاں ایک ہی بار میں ختم ہوچکی تھیں ۔۔جب شریفان خالہ نے رشتے کے متعلق انہیں بتایا ۔۔
” کیا ؟ دس سال بڑا ؟ اور پھر دو بچے بھی ؟ پھر تو شادی شدہ بھی ہوگا ۔۔”
اسے تقریباً ہارٹ آہی چکا تھا
” تیری مجھ سے کوئی دشمنی ہے خالہ “
وہ لڑنے پر اتر آئی تھی
” ری کم بخت سن تو لے ۔۔ بچے
تو اسکے مرحوم بھائی کے ہیں دونوں حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اب بھائی کے بچے یتیم خانے میں تھوڑی دے گا “
” تو ایسے بول ۔۔ کیوں اتنی سی عمر میں مجھے ہارٹ اٹیک دیتی ہے خالہ”
“اور عمر کا کیا ہے ۔۔لڑکا عمر میں بڑا ہی ہوتا پھر جہیز کی بھی کوئی فکر نہیں لڑکے نے اک پائی لینے سے بھی انکار کردیا ہے ۔۔بتا بھلا اور کیا چائیے “
اماں ماموں سے صلاح مشورے کے بعد مانتی ہیں بنی ۔۔یوں انکا نکاح ہوگیا اور
اماں کی ساری پریشانیاں ختم ہوگئیں ۔۔
دو دن بعد آج رخصتی تھی ۔۔۔
وہ ٹشو کے آف وائٹ سوٹ میں ہلکا پھلکا میک اپ کیئے حسین لگ رہی تھی ۔۔
اماں صدقے واری جارہی تھی ۔۔
آج ان کا آنگن سونا ہونے والا تھا ۔۔
ان کی آنکھیں بات بات پر بھیگ جاتیں جو بھی تھا
وہ اماں کی لاڈلی تھی ۔۔
ابا تو اسے یاد بھی نہ تھے اماں نے ہی سلائی کرکے اسے پڑھایا لکھایا تھا اور ساری خواہشیں پوری کرتی آئی تھیں ۔۔ یوں وہ اماں سے بہت سی نصیحتیں اور دعائیں لیکر رخصت ہوگئی ۔۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
پہاڑ چڑھتے ہوئے اچانک اس کا پیر بری طرح سے مڑا
اور وہ یقیناً گر جاتی
اگر اسفندیار خان کا بھاری مرادنہ ہاتھ اسے نہ تھام لیتا۔۔
” چوٹ تو نہیں لگی ؟ “
وہ متوحش سی ہوکر اسے دیکھنے لگی ۔۔
” چوٹ لگی ہے؟ “
اس نے ابرو اچکا کر اسکی سمت دیکھتے ہوئے سوال دہرایا ۔۔لہجہ سپاٹ اور جامد تھا ۔۔
ساتھ ساتھ بغور اسکا چہرہ جانچ رہا تھا۔۔تکلیف سے اسکے چہرے کے نقوش بگڑ لگے تھے ۔۔۔
” وہاں تک چل سکتی ہو؟ “
اس نے سر اٹھا کر پہاڑی پر بنے اونچے گھر کو دیکھا اور پھر بے چارگی سے اسفندیار کو دیکھا ۔۔
اسفند نے سگریٹ لبوں میں دبائی اور جھک کر اسے مضبوط بازوئوں میں اٹھا لیا ۔۔
وہ ایکدم سٹپٹا گئی ۔۔
سینے میں کوئی بہت تیزی سے شور مچانے لگی ۔۔۔
وہ اسکے بے حد قریب تھی ۔۔۔ سگریٹ کے ساتھ ساتھ اسکے کلون کی تیز مہک اسکے نتھنوں میں گھس رہی تھی ۔۔۔
اس نے بے ساختہ گردن موڑ لی ۔۔۔
اوپر پہنچتے تک اسکا سانس حلق میں ہی اٹکا رہا تھا۔۔
” رئوف بابا ۔۔جمیلہ بی ، سمندر خان سب کہاں ہیں ؟ “
اسے اتارتے ہوئے اس نے ملازموں کو طلب کیا تھا ۔۔
” آپ اسے دیکھیں شاید اسکے پائوں میں موچ آگئی ہے ، سمندر تم گاڑی گیراج میں کھڑی کردو ، رئوف بابا آپ میرا یونیفارم نکال دیں مجھے میس جانا ہے”
سب پر حکم چلا کر وہ منظر عام سے غائب ہوگیا تھا ۔۔
زرگل نے ساری کاروائی خاموشی سے دیکھی تھی ۔۔۔
اسنے جمیلہ بی کو فرسٹ ایڈ باکس لاتے دیکھ کر کہا ۔۔
” بس ہلکی سی موچ آئی ہے چوٹ نہیں لگی “
” بی بی جی دیکھنے تو دیں “
وہ سست روی سے چلتے ہوئے صوفے پر براجمان ہوئی تو جمیلہ بی نے اسکے پائوں کو ہلا جلا کر دیکھا اور مطمئن سی کہنے لگی ۔۔
” ہلکی سی سوجن ہے بی بی “
وہ کہنے لگی ۔۔
” آپ اپنے کمرے میں آرام کریں جب تک خانساماں کھانا بنا دے گا تو پھر آپ کو بلالیں گے ۔۔ باہر بہت سردی ہے”
سردی واقعی بہت تھی ۔۔۔
اس نے کندھوں پر شال درست کی اور ملازمہ کے ساتھ ساتھ چلنے لگی ۔۔
” یہ آپ کا کمرہ ہے بی بی جی ۔۔ آپ آرام کریں شام میں آپ کو گھر وغیرہ دکھا دوں گی “
اس نے سر اثبات میں ہلا کر رضامندی ظاہر کی تو ملازمہ چلی گئی ۔۔۔
کمرے میں مدھم سی روشنی تھی ۔۔
اسے تو وحشت ہوتی تھی اندھیرے سے ۔۔
اسنے ہاتھ مار کر ساری لائٹیں آن کردیں اور دوپٹہ اتار کر بیڈ کی پائنتی کر بیٹھ گئی ۔۔
بلاشبہ اس شخص کے کمرے سے اسی کی مہک آرہی تھی ۔۔ وہ سائیڈ ٹیبل پر پڑی اسفند کی یونیفارم میں ملبوس تصویر دیکھنے لگی ۔۔۔
اسے انجانی سی خوشی اور فخر محسوس ہوا تھا جب شریفاں خالہ نے اسے اسفند کے آرمی میں کمانڈر ہونے کی خبر سنائی تھی ۔۔
” بیگم صاحبہ ؟ ” دروازہ ناک ہوا تھا ۔۔
” آجائیں “
اس نے دوپٹہ کندھوں پر پھیلایا تھا ۔۔
” بیگم صاحبہ آپ کے لئے کھانے میں کیا بنائوں ؟ “
وہ ایکدم لاجواب ہوچکی تھی ۔۔
اماں سے وہ کتنی فرمائشیں کیا کرتی تھی ۔۔
اب جب کے اسکے اختیار میں تھا
تو اسکا دل کچھ بھی کھانے کو نہ چاہا ۔۔
اسے اچانک اماں کی یاد آنے لگی ۔۔
” جو آپ کا دل کرے بنالیں ۔۔میں کھا لوں گی “
ملازمہ کچھ دیر رکی اور پھر سر ہلا کر چلی گئی ۔۔
گھر یاد آتے ہی اسکی آنکھیں بھرا گئیں ۔۔
سارا جوش اور ولولہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔۔
ہر شے سے دل اُچاٹ ہوگیا ۔۔
اس نے بیڈ کی پائنتی پر بیٹھے بیٹھے کشن کھینچا اور سر رکھ کر لیٹ گئی ۔۔
اسکے آنسو تکیہ بھگونے لگے ۔۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اک تیس سال کا مرد ، اسکے دو جڑواں بچے ، اتنی بڑی کوٹھی اور یہ نوکر چاکر سب اسکے دسترس میں تھے
جو کل تک اک لابالی اور شوخ سی لڑکی تھی آج
” بیگم صاحبہ ” بن چکی تھی ۔۔
” بیگم صاحبہ ؟ “
” ہوں۔۔۔ہاں ۔۔۔جی؟”
ملازمہ کی آواز نے اسے خیالوں کی دنیا سے حقیقت میں لا پٹخا ۔۔
” بیگم صاحبہ آپ کے لئے کھانا لگائوں “
ملازمہ نے اپنا سوال دہرایا ۔۔۔
” وہ ۔۔۔۔”
وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی ۔۔
اماں نے کبھی یہ تو بتایا ہی نہیں کہ
شوہر اگر دس سال بڑا ہو تو اسے کیا کہہ کر پکارنا ہے ؟
نام لے کر ؟ ۔۔۔
نہیں عمر میں اتنے بڑے ہیں نام لیتی اچھی لگوں گی ..
خود ہی اپنی سوچ کی نفی کی ۔۔
” سائیں ! “
“سرکار “
اونہوں۔۔۔!
ان میں سے کوئی بھی نہیں۔۔۔
” بیگم جی “
ملازمہ نے جانے کیا سوچ کر بڑے پیار سے اسے پھر سے پکارا تھا ۔۔
” وہ ۔۔۔انہوں ۔۔۔نے کھانا ۔۔۔۔کھالیا ؟ “
اس نے انگلیاں مرڑوتے ہوئے جھجک کر پوچھا
” کون صاب جی ؟ وہ تو چلے گئے جی ؟ “
” کہاں گئے ؟ “
وہ حیران ہوئی
” وہ تو آپ کو پتا ہوگا نا جی “
ملازمہ کا معصومیت بھرا جواب سن کر وہ دانت دکھاتے ہوئے زیر لب بڑبڑائی۔۔
” ہاں ۔۔میں بیگم صاحبہ ہوں ۔۔مجھے معلوم ہونا چاہیے وہ کہاں گئے ہیں “
اس نے جیسے خود کو یاد دلایا تھا ۔۔
” کیا کہا جی ؟ “
ملازمہ اسکی صورت دیکھنے لگی
“کچھ نہیں۔۔۔ آپ ۔۔نے کھانا کھا لیا ؟ “
” کیوں جی ؟ “
” کیونکہ تم اور میں ہی ہیں اس بڑے سے گھر میں تو۔۔۔۔ ساتھ ہی کھا لیتے ہیں “
اس نے بات مکمل کرکے آنکھیں پٹپٹائیں ۔۔
کیونکہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔
“جی بی بی جی “
ملازمہ خوش ہوکر کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔۔
تو اس لمبی سانس لے کر حسب عادت دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور گھر کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔
اسے کوفت ہونے لگی تھی بڑے سے چادر نما دوپٹے سے
۔