64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

” کس کی اجازت سے گئی تھی تم ؟ “

اس نے غصے پر قابو پاتے ہوئے پوچھا تھا

” وہ ۔۔۔ضوفی ۔۔۔”

وہ ہکلائی

” بھاڑ میں گئی ضوفی ۔۔۔میں تم سے پوچھ رہا ہوں تم کس کی اجازت سے گئی تھی زرش ۔۔اور تم میرا فون بھی نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔ چیک کرو میں نے پاگلوں کی طرح تمہیں کتنی کالز کی۔۔میں پریشان ہوگیا تھا “

وہ غصے سے چلایا ۔۔

” سوری ۔۔میں فون گھر بھول گئی تھی “

دراب مٹھیاں بھینچتے ہوئے اسکے قریب آیا

” جب سے ضوفی آئی ہے تم زیادہ ہی چیزیں بھولنے لگی ہو”

اسکی سانسوں کی تپش سے زرش کا چہرے جھلسنے لگا

اس نے سختی سے آنکھیں میچ لیں ۔۔

” ہیئر کٹنگ کروانا چاہتی تھی تم ۔۔سلون جانا چاہتی تھی؟ “

اس نے گھبرا کر اسے دیکھا ۔۔

” وہ ۔۔۔۔ضوفی ۔۔۔ذبردستی ۔۔مجھے ۔۔ساتھ”

” چپ ۔۔۔ایکدم چپ”

اس نے مٹھی میں اسکے بال دبوچ کر اسکے چہرہ قریب کیا تھا ۔۔

” اپنی اس بدتمیز اور بددماغ بہن کا نام میرے سامنے مت لینا آئندہ”

اسکی آواز دھیمی مگر لہجہ سخت تھا ۔۔۔

” خدا کی قسم اگر تم خود مجھ سے سلون جانے کی خواہش ظاہر کرتی تو میں خود تمہیں لے کر جاتا ۔۔۔ذری مگر تمہاری اس حرکت نے بہت ہرٹ کیا ہے مجھے ۔۔۔تمہیں مورے جان سے میری شکایت نہیں لگانی چائیے تھی۔۔”

اس نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا

وہ اک انا پرست شخص تھا ۔۔۔

اسکی انا کو ٹھیس پہنچی تھی ۔۔جس سے وہ اتنی محبت کرتا تھا ۔۔ وہ اسکی ماں کے کان بھرے گی اسے یقین نہیں آرہا تھا ۔۔۔زرش تو شاک رہ گئی

” مگر میں نے آپ کی شکایت نہیں لگائی مورے جان سے ” ذرش نے اسکا رخ اپنی جانب موڑنا چاہا

” زرش اب جھوٹ مت بولو بائے گاڈ میں بہت غصے میں ہوں ۔۔تمہارا گلا دبا دوں گا “

وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر بہت غصے میں بولا ۔۔۔

” میرا یقین کریں ..ضوفی مورے جان سے اجازت لینے گئی تھی مجھے نہیں معلوم اس نے کیا کہا تھا “

وہ سسک پڑی ۔۔

“ضوفی کون ہوتی ہے کہ ہمارے درمیان غلط فہمی پیدا کرسکے ۔۔۔ضرور تم نے کہا ہوگا ۔۔تمہیں ویسے بھی میں اچھا ہی کب لگتا ہوں ۔۔نہ ہی میری محبت کی قدر ہے تمہاری نظر میں ۔۔۔”

وہ جواب میں بلند آواز رودی تھی اسکے بے بنیاد الزامات پر۔۔ اسے دراب کی باتیں ہرٹ کررہی تھی ۔۔۔

” زرش دور ہو جائو میری نظروں سے یہ نہ ہو میں کچھ کر بیٹھوں “

زرش کے آنسوئوں میں مزید روانی اور تیزی آگئی

وہ غصے سے خود ہی اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔

_______________________________________

دو دن گزرے ہی تھے اسے گئے ہوئے کہ بچوں کی طبیعت بگڑنے لگی ۔۔

علیزے اور یوسف دونوں ہی اس سے اداس ہوگئے تھے ۔۔اسفی بہت مجبور ہوکر پھر سے اسکے پاس آیا تھا

اسے منانے کے لئے مگر وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی ۔۔۔

اسفی کو اس پر جی بھر کر پیار آیا تھا ۔۔

” اچھا ۔۔میں تم سے معافی مانگتا ہوں ایک بار پھر سے ۔۔ پلیز زرگل میری وجہ سے خود کو سزا مت دو نہ بچوں کو ۔۔میں جانتا ہوں میں جذباتی بلیک میلنگ میں آگیا تھا مگر کیا کرتا ۔۔وہ میری ماں ہیں زرگل ۔۔میں انکا کہا نہیں ٹال سکتا “

وہ اٹھ کر اسکے پاس بیٹھ گیا ۔۔

اور دونوں ہاتھوں سے جیسے ہی اسکے ہاتھ تھامے ۔۔

اسے تیز سخت بخار تھا ۔۔

” تمہیں تو بخار ہو رہا ہے “

اس نے تشویش سے کہا

اسے خود بھی جسم میں حرارت محسوس ہورہی تھی مگر اس نے دھیان نہیں دیا ۔۔۔

” تمہیں کیا فرق پڑتا ہے اسفند۔۔تمہاری بلا سے مرجائوں میں ۔۔تم تو اب بھی صرف بچوں کی وجہ سے آئے ہو میں جانتی ہوں۔۔کیونکہ تمہیں مطلب ہے مجھ سے “

ان دونوں کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی ہوچکی تھی وہ چاہتا بھی اس دیوار کو پاٹ نہیں سکتا تھا

” میں تم سے محبت کرتا ہوں زرگل ۔۔ ضوفشاں سے نہیں “

” مگر شادی تو تم اسی سے کی ہے ۔۔بلکے تمہارے گھر والوں کی بھی مرضی شامل ہے اس میں ۔۔۔ اور تم نے مجھے آج تک اپنے گھر والوں سے نہیں ملوایا ۔۔نہ ہی ان کے بارے میں کبھی بات کی ۔۔۔سچ تو یہ ہے تمہیں ان بچوں کے لئے اک میرے جیسی مجبور لڑکی کی تلاش تھی جو تمہیں مل گئی”

وہ بولی تو بولتی چلی گئی ۔۔۔

یہ جانے بغیر کہ اسکی باتیں اسفی کو کتنا ہرٹ کررہی تھی ۔۔

پھر غم و غصے سے آنسو پونچھتے ہوئے اٹھی اور کمرے سے نکل گئی ۔۔۔

اسفی شکست خوردہ قدم گھسیٹتے ہوئے خود کو گاڑی تک لایا تھا ۔۔۔

_______________________________________

” اسفند کہاں غائب ہے دو دنوں سے ۔۔ کیا سمجھتا ہے وہ ۔۔ شادی کرکے ہمیں ضوفشاں کے ذریعے مجبور کردے گا تو یہ وہم ہے اسکا “

” آپ اسفی کو ہلکا لے رہے ہیں بابا جان۔۔ضوفی بھی کم نہیں ہے “

دراب نے پہلی بار بھائی کی طرف داری کی تھی ۔۔۔

” اسے فون کرو ۔۔یہاں بلائو اسے کہو دفتر سے سیدھا گھر آیا کرے “

بابا جان حکم صادر کرکے چلے گئے ۔۔

دراب نے بھی خود فون نہیں کیا تھا ۔۔۔ اس نے ملازم کے ذریعے کہلوا دیا تھا ۔۔

اسفند کو بہت غصہ آیا تھا کہ اسکی اوقات صرف اتنی سی رہ گئی تھی کہ اسے ملازموں کے ذریعے پیغام بھجوایا جارہا تھا ۔۔۔وہ بھی ٹیڑھے لوگوں کے ساتھ ٹیڑھا چلنا جانتا تھا ۔۔ بابا جان کے پاس جانے کے بجائے وہ مورے جان کے کمرے میں آیا تھا ۔۔

ان سے ملنے کے بعد وہ سیدھا کچن میں گیا تھا ۔۔

” ضوفی کمرے میں آنا زرا “

ضوفشاں نے بہت حیران ہوکر سینے پر انگلی رکھی۔ ۔

” کون ؟ میں ؟ “

” ہاں تم زرا آنا تم سے بات کرنی ہے”

” آتی ہوں “

لگتی ہے دماغ ٹھکانے آگیا ہے اسکا ‘

وہ خوش ہوتی ہوئی کمرے میں آئی تھی ۔۔

اسفند نے اسکے کمرے میں آتے ہیں کمرہ لاک کردیا تھا ۔۔

اور اسکی جانب بڑھا اور بازو موڑ کر کمر سے لگادی ۔۔

” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی سے الجھنے کی ۔۔ میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ زرگل سے اور میرے بچوں سے دور رہنا تھا”

” اسفی تم غلط کررہے ہو ” اسکی آواز کپکپائی

” بکواس بند کرو”

وہ چیخا اور ایک جھٹکا دے کر اسے بیڈ پر پھینک دیا

” آئندہ اگر تم نے زرگل سے بات کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔جو تم چاہتی ہو وہ کبھی نہیں ہوگا ضوفی ۔۔میں صرف گل سے محبت کرتا ہوں اور تم ایسی گھٹیا حرکتیں کرکے کبھی بھی میرے دل میں

جگہ نہیں بنا سکو گی ہاں مگر دل سے اتر ضرور جائو گی ۔۔۔اسلئے تمہیں وارن کیا رہا ہوں ۔۔۔آئندہ خیال رکھنا “

وہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا ۔۔

” ڈرتی نہیں ہوں میں تم سے،میرا جو دل چاہے گا کروں گی “

وہ روتے روتے اسکے پیچھے سے چلائی تھی ۔۔

______________________________________

ڈاکٹر اسکا چیک اپ کرنے کے بعد اسے کچھ ضروری دوائیاں دے کر گیا تھا ۔۔۔

وہ بھی بچوں کو بہت یاد کررہی تھی

کچھ اس نے اسفند یار کی بے وفائی کو دل سے لگالیا تھا ۔۔اماں کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسے کیا ہوا ہے ۔۔

ملازمہ کا کل سے مسلسل فون آرہا تھا ۔۔

وہ جانتی تھی بچوں کے بارے میں ضرور کوئی نہ کوئی بات کرنی ہوگی ۔

وہ جان بوجھ کر غصے سے کال نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔

مگر آج وہ بچوں کو بہت مس کررہی تھی ۔۔

اسے بھی ان سے انسیت ہوگئی تھی ۔۔

” گل بی بی خدارا بچوں کو کس بات کی سزا دے رہی ہیں آپ سے اداس ہوگئے ہیں ۔۔اب تو آجائیں ۔۔مجھ سے نہیں سنبھل رہے بی بی جی آپ آجائیں”

اس نے بمشکل خود کو سنبھالا اور کچھ بھی کہے بغیر فون کاٹ دیا ۔۔۔

شام تک اسکی طبیعت کچھ سنبھل گئی تھی ۔۔

اسے رہا نہیں گیا اس نے بیگ پیک کیا اور واپس چلی گئی ۔۔۔

ملازمین اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے

وہیں اسفند کی اسے دیکھ کر آدھی ٹینشن دور ہوگئی تھی ۔۔۔

وہ دل ہی دل میں اسکا مشکور تھا ۔۔۔

بے شک بچوں کی خاطر سہی مگر وہ آئی تھی ۔۔

” تھینک یو زرگل “

” آپ کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں صرف اور بچوں کا خیال کرنے واپس آئی ہوں اور مجھے سے کوئی امید مت لگانا “

وہ کہہ کر کمرے میں بند ہوچکی تھی ۔۔۔

اس نے ملازم کے ہاتھ خاص طور تاکید کرکے کھانا بھجوایا تھا مگر زرگل نے کھانے سے انکار کردیا تھا ۔۔۔

وہ جانتا اسے بخار ہورہا تھا ۔۔اسے فجر ہورہی تھی

اسی لئے وہ خود ٹرے بنوا کر لایا تھا ۔۔۔

” میں کچھ میڈیسن اور کھانا لایا ہوں ۔۔۔جانتا ہوں تمہیں میری ہر بات جھوٹی کے رہی ہوگی مگر مجھے تمہاری پرواہ ہے زرگل ۔۔۔ پلیز کچھ کھالو اور دوا لے لینا “

وہ ٹرے رکھ کر چلا گیا ۔۔۔

” ہونہہ ۔۔جیسے بہت پرواہ ہے میری ۔۔ پلیز کچھ کھالو, جھوٹا انسان “

زرگل نے منہ چڑاتے ہوئے اسکی نقل اتاری تھی ۔۔۔

کچھ دیر بعد اسے بھوک جا احساس ہوا تو اس نے خود ہی کھانا کھا لیا تھا ۔۔۔

______________________________________

” تم نے کیا کہا تھا مورے جان سے اجازت لیتے وقت “

” چلی جائو یہاں سے زری ۔۔میرا موڈ پہلے ہی بہت خراب ہے آج ” ضوفی ابھی تک اسفند سے ہونے والی تازہ تازہ بے عزتی بھولی نہیں تھی ۔۔

” میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں ضوفی ” اس نے گرج کر کہا

” جائو یہاں میرے سر میں درد مت کرو ” ضوفی نے اسکی بازو پکڑ کر کمرے سے باہر نکالا اور دروازہ بند کردیا ۔۔۔

” تمہیں معاف نہیں کروں گی ضوفی ” اس نے چیخ کر کہا اور کمرے میں بند ہوگئی ۔۔۔

” بی بی جی کھانا تو کھالیں ۔۔کھانے سے کیا جھگڑا آپ کا “

وہ رو رو کر خود کو ہلکان کررہی تھی ۔۔

” مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔لے جائو کھانا واپس “

دراب بہت غصے والا تھا مگر اس نے آج تک اسکے خلاف جاکر کوئی کام نہیں کیا تھا ۔۔۔ صرف ضوفی کی من مانی کی وجہ سے نہ صرف اس کر جھوٹا الزام لگا تھا اسے ڈانٹ بھی پڑی تھی ۔۔

وہ ڈرائنگ میں صوفے پر نیم دراز بیٹھے بیٹھے وہیں سو گئی تھی ۔۔۔ دراب صبح سے گیا رات کو لیٹ گھر آیا تھا ۔۔اسے وہاں سوتا ہوا دیکھ کر اس کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔۔۔

وہ اسکے سامنے رکھے ٹیبل پر بیٹھ گیا ۔۔

اسکی دودھیا رنگت رونے کے باعث سرخ پڑی ہوئی تھی ۔۔۔ سردی کے باعث وہ اسکا انتظار کرتے کرتے سکڑ سمٹ کر لیٹی ہوئی تھی ۔۔

ہیئر کٹنگ کی وجہ سے اسکے بال چوٹی سے نکل کر چہرے کے گرد جھول رہے تھے ۔۔ جو بھی تھا اس پر یہ کٹنگ سوٹ کررہی تھی ۔۔۔ دراب نے اسے بانہوں میں اٹھایا اور کمرے میں بیڈ پر لٹا دیا اور اسکے قریب بیٹھ گیا ۔۔

” آپ کے لئے کھانا لگائوں چھوٹے خان”

” نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔میں فریش ہونے جارہا ہوں ایسے بعد کافی پیئوں گا “

ملازمہ سر ہلا کر چلی گئی ۔۔۔اسکی بھاری آواز سے زرش کی آنکھ کھل گئی تھی ۔۔۔

وہ فوراً اٹھ بیٹھی ۔۔۔

” میں آپ سے اک بات ۔۔۔۔” اسکی بات منہ میں ہی رہ گئی اور دراب خفگی سے اٹھ کر واشروم میں بند ہوگیا ۔۔

وہ اسکا انتظار کرتی رہی تھی مگر واشروم سے نکلنے کے بعد اس نے آرام دہ لباس پہنا اور فون اٹھا کر کمرے سے باہر لان میں چلاگیا ۔۔ زرش بھیگی ہوئی آنکھوں سے اسکی جاتا دیکھتی رہی ۔۔ اب وہ دوبارہ کمرے میں آنے والا نہیں تھا ۔۔ جب تک زرش سو نہ جاتی ۔۔ وہ آنسو پیتی ہوئی آکر دوبارہ لیٹ گئی ۔۔۔

______________________________________

” میں سوچ رہا ہوں اسفند یار کی بیوی کو اور بچوں کو یہیں بلالوں “

ڈائننگ ٹیبل پر بابا جان نے سب کے سر پر دھماکہ کیا تھا ۔۔۔

شاید انہیں بھی اندازہ ہوچکا تھا کہ

اسفند یار خاں کو اس نکاح کے ذریعے باندھ نہیں سکتے ۔۔

وہ اپنی مرضی کا مالک تھا ۔۔

شادی کو آج اک ہفتہ ہونے کو آیا تھا

مگر اسفند یار اس دن کے بعد سے گھر واپس نہیں آیا تھا ۔۔۔ضوفشان اسے کالز کر کر کے تھک گئی تھی ۔۔۔

مگر اس نے فون اٹھانا تو دور اسکی کالز کو اگنور کرنا شروع کردیا تھا ۔۔

اس نے اب گھر والوں کو بھی اگنور کرنا شروع کردیا تھا ۔۔۔وہ آجکل بہت ڈسٹرب تھا ۔۔

اس نے کثرت سے اسموکنگ شروع کردی تھی ۔۔۔

آج ملازمہ کو صفائی کے دوران اسکے کمرے سے ایش ٹرے لے جاتے دیکھ کر زرگل کو شدید حیرانی ہوئی تھی ۔۔

” سگریٹ نوشی شروع کردی ہے آپ نے لگتا ہے شادی سے خوش نہیں ہیں “

اس نے کھانا لگاتے ہوئے تنز کیا تھا ۔۔۔

” تم جانتی ہو سچ کیا ہے ۔۔ کیوں میرا اور اپنا دل جلا رہی ہو “

اس نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا

” صرف دل نہیں جسم و جاں جل کر راکھ ہوگئے ہیں ۔۔۔آپ کے فریب کی وجہ سے “

اس نے چبا چبا کر کہا ۔۔

” تم حد سے بڑھ رہی ہو گل “

اسے غصے آگیا

” تم بھی ہر حد سے گزر گئے ہو اسفند “

” بس کرو زرگل “

وہ چیخ اٹھا ۔۔پہلے ہی ڈسٹرب تھا ۔۔

اسکی باتوں نے اسے اندر تک زخمی کردیا تھا ۔۔

” تکلیف ہورہی ہے نا ۔۔برداشت نہیں ہو پارہا اپنا اصل چہرہ ” اس نے بہت زور سے اسکے دونوں بازو سخت گرفت میں دبوچ لئے ۔۔۔

زرگل کے لبوں سے درد کے مارے سسکی برآمد ہوئی تھی

“مجھے مجبور مت کرو کہ وہ کر جائوں جو میں نہیں کرنا چاہتا”

وہ اسے دور دھکیل کر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔

جاری ہے ۔۔۔