64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

صبح اسکی آنکھ پانی کی بوندوں سے کھلی ۔۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو اسفندیار خان گیلے بالوں کو جھٹکتے ہوئے برش کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔
اسے دیکھ کر ہولے سے مسکرا دیا ۔۔۔
وہ ایکدم اٹھ بیٹھی
” میں یہاں کیسے آئی؟ “
وہ خود ساختہ بڑبڑانے لگی تو اسفندیار خان کے لبوں پر معنی خیز سی مسکراہٹ بکھری تھی ۔۔۔
” میں لایا تھا “
” آپ کیوں لائے تھے ! “
وہ تنک کر پوچھنے لگی
“احسان مانو میرا ۔۔۔ باہر سردی میں ٹھٹھر رہتی ورنہ”
وہ گھڑی پہنتے ہوئے جتا کر کہنے لگا
تو اس نے تیوری چڑھا لئے ۔۔
کمفرٹر دور پھینک تیزی سی اٹھی ۔۔
اسفند نے لپک کر اسکی کلائی تھام لی ۔۔
” آئم سوری “
وہ حقیقتاً پیشماں تھا
” ہاتھ چھوڑیں میرا ۔۔ آپ کی سوری میرے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی “
وہ منہ پھیر کر کہنے لگی
” اتنی اکڑ کس بات کی ہے تم میں ؟ “
وہ کلائی جھٹک کر بولا لہجہ سخت تھا
زرگل اسے گھور کر رہ گئی ۔۔
اسفندیار خان نے اسکی کلائی کو جھٹکا دیا تو وہ کھنچی چلی آئی۔۔۔
” بات سنو ۔۔ اگر خان تم سے معافی مانگ رہا ہے تو اسکا مطلب ہے تمہیں امپورٹنٹس دے رہا ہے ۔۔تمہاری کوئی ویلیو ہے اسکی نظر میں “
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جذب سے استحقاق جتاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔
زرگل نظریں چرا گئی
اسفند یار ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرہ قید کرتے ہوئے اسکی پیشانی چومی تھی ۔۔۔
” بی بی جی خان جی ناشتہ تیار ہے “
ملازمہ کی آواز سن کر وہ فوراً اس سے دور ہوئی تھی ۔۔
اسفند ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھا تو
وہ بھی فریش ہونے کے بعد بچوں کے کمرے کی طرف بڑھی ۔۔
اسے اتنی کیئر کرتا دیکھ کر اسفندیار خان اندر تک سرشار ہونے لگا ۔۔
اسکا انتخاب غلط نہیں تھا بس اس نے زرگل کو پرکھے بغیر جج کرنے کی غلطی کی تھی
جو اسے اب سدھارنی تھی ۔۔۔
وہ سوچتے ہوئے کیپ اٹھا کر بچوں سے ملنے کے بعد ڈیوٹی پر چلا گیا ۔۔۔


بابا جان تک اڑتی اڑتی یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ اسفندیار خان نے یوسف کی بیوہ سے شادی کرلی ہے ۔۔
دراصل یہ ساری غلط فہمی ضوفشاں کی وجہ سے ہوئی تھی ہاسپٹل کے باہر اس نے اسفندیار خان کو “گل”
کو پکارتے دیکھا تو اس نے سمجھا یہ گل وہی “گل مینا” ہے جو یوسف کی بیوی ہے۔۔
اسی لئے اس نے پورے خاندان میں یہ افواہ پھیلا دی کہ اسفندیار خان نے گل مینا سے شادی کرلی ہے جبکے گل مینا تو یوسف کے ساتھ ہی ایکسیڈنٹ میں وفات پا گئی تھی ۔۔۔
” یہ سچ ہے یا نہیں کہ تمہارے صاحبزادے نے یوسف کی بیوہ سے بیاہ رچا لیا ہے ؟ “
بابا جان نے بہت غصے سے بی بی جان کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا ۔۔
” ہاں یہ سچ ہے “
وہ آہستگی سے بولی کیونکہ وہ اب انہیں بہلا نہیں سکتی تھی
” بے شرم ۔۔ بے حیا انسان ۔۔ زرا غیرت باقی نہیں رہی اس لڑکے میں ۔۔ اپنی منگیتر کو چھوڑ کر اس ۔۔۔ “
انہوں نے بہت مشکل سے اپنی زبان کو کچھ غلط کہنے سے روکا
” آپ سے بھی تو کہا تھا کہ یوسف کے بچوں کو قبول کرلیں ۔۔وہ ہمارے یوسف کی نشانی ہیں مگر آپ نے میری اک نہ مانی ۔۔ اب نتیجہ آپ کے سامنے ہے آپ تو جانتے ہیں کہ یوسف سے اسفی کو کتنی محبت تھی اسکے ہوتے ہوئے یوسف کے بچے اور بیوی دربدر کیسے ہونے دیتا وہ ۔۔ میرے بچے نے اپنی قربانی پیش کردی “
مورے رو دی ۔۔
” ہونہہ ۔۔کون جانے اس قربانی کے پیچھے اسکا اصل مقصد”
بابا جان نے مغرور سا ہنکارا بھرا
” اگر آپ کہیں تو میں اسفی سے بات کروں “
” کوئی ضرورت نہیں ہے اسے یہاں بلوانے کی۔۔ اس گھر کے دروازے بہت پہلے ہی اسکے لئے بند ہوچکے ہیں اور اب تو ۔۔”
” اب تو کیا ؟ “
مورے نے دہل کے بابا جان کو دیکھا
” میں اسفندیار خان کو جائیداد سے بے دخل کرنے کا سوچ رہا ہوں “
” ایسا ظلم نہ کریں میرے بچے کے ساتھ خان “
انہوں نے منت کی
” تمہارے بچے نے پورے خاندان میں ہماری ناک کٹوادی ہے ” بابا جان بہت غصے میں غرائے تھے اور مزید کوئی بھی بات سنے بغیر وہاں سے واک آؤٹ کرگئے ۔۔۔


” سنبھالیں خود کو مورے جان ۔۔ ایسے تو آپ اپنی طبیعت خراب کرلیں گی “
زرشالہ نے انہیں حوصلہ دیا
گوکہ وہ خود بھی بہت ڈسٹرب تھی دراب کے دوسری شادی کے فیصلے سے مگر مورے جان کی پریشانی دیکھ کر وہ اپنا دکھ بھول گئی تھی ۔۔
” دوا لے لیں مورے جان “
” میرا دل نہیں چاہ رہا زرش ۔۔ کچھ کرو دراب سے بات کرو ایسا نہ ہونے دو زرش “
” مورے جان آپ سنبھالیں خود کو ۔۔دراب ایسا نہیں ہونے دیں گے آپ جانتی تو ہیں انہیں “
اس نے بہلا پھسلا کر دوا کھلا کر سلا دیا تھا ۔۔
جب تک وہ سوئی نہیں وہ وہیں بیٹھی رہی تھی ۔۔
وہ کمفرٹر درست کررہی تھی جب دراب واپس آیا ۔۔۔
” کیا ہوا تم اتنی رات گئے تک یہاں ہو ؟ اپنے کمرے میں نہیں گئی؟ “
وہ تشویش سے آگے بڑھا
” بابا جان کو پتا چل گیا ہے کہ اسفی بھائی نے شادی کرلی ہے بابا جان بہت غصے میں تھے کہ انہیں جائیداد سے بے دخل کردیں گے”
” ہاں تو اسکے کام ہی ایسے ہیں اسے مورے جان ،بابا جان کا زرا بھی خیال ہوتا تو یہ حرکت نہ کرتا “
وہ بہت سخت لہجے میں بولا
اتنا کہ زرشالہ اسکی صورت دیکھتی رہ گئی ۔۔
دونوں بھائیوں میں کتنی دوریاں آچکی تھی ۔۔
” ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ غلط کہہ رہا ہوں میں ۔۔ کتنی بار اسے کالز کیں ، میسیجز کیئے کہ مورے کی طبیعت خراب ہے وہ پتھر دل انسان اک بار بھی ملنے نہیں آیا ۔۔ اور جس شخص کی وجہ سے میری ماں کی آنکھ میں آنسو آئے اسے میں ہرگز بھی کوئی تعلق رکھنا پسند نہیں کروں گا “
وہ بہت بے رخی سے کہہ کر چلا گیا ۔۔
زرشالہ بس دیکھتی رہ گئی ۔۔


” کھانا کھائیں گے آپ ؟ “
” زہر لادو “
وہ بہت ڈسٹرب لگ رہا تھا ۔۔
مورے کی طبیعت خرابی کا سن کر وہ پریشان ہوگیا تھا
” آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں”
وہ خائف ہوئی
” تو کیسے کہوں ۔۔ جائو یہاں سے تم بھی اکیلا چھوڑ دو مجھے “
وہ بہت اپ سیٹ تھا ۔۔اس وقت اسکی موجودگی بھی برداشت نہیں ہورہی تھی
” آپ مجھ پر کس بات کا غصہ نکال رہے ہیں”
اسے اچھا نہیں لگا تھا ۔۔
دراب نے ایکدم سے اسے دیکھا اس نے پہلی بار اسکے رویے کا شکوہ کیا تھا
” کس بات کا غصہ نکال رہا ہوں ؟ تمہیں نہیں پتا ۔۔ تم نے بھی کم دل نہیں جلایا میرا “
وہ کہہ کر سگریٹ کا کش لینے لگا ۔۔
مگر زرشالہ ابھی بھی وہیں کھڑی تھی
” کیوں کھڑی ہوں زرش ؟ جائونا یار مجھے اکیلا چھوڑ دو” وہ واقعی میں بہت ڈسٹرب تھا
زرش سر ہلا کر کمرے میں چلی گئی۔۔۔


وہ کافی دیر کروٹ بدلتی رہی مگر کمرے میں اکیلے اسے نیند نہیں آرہی تھی یا شاید دراب کے خراب موڈ اور پریشانی کی وجہ سے سوچ سوچ کر اسکے اعصاب شل ہوچکے تھے۔۔
آدھی رات ہورہی تھی وہ ابھی تک کمرے میں نہیں آیا تھا اتنی ٹھنڈ میں باہر لان میں بیٹھا تھا ۔۔
وہ اسکی شال لیکر ابھی دروزے تک پہنچی ہی تھی کہ وہ ناب گھما کر اندر آیا ۔۔
” کیا ہوا؟ اور تم ابھی تک جاگ رہی ہو؟ “
اسے یوں کھڑا دیکھ کر اس نے پوچھا
” آپ کے بغیر نیند نہیں آرہی تھی کمرے میں “
اسکے لبوں سے پھسلا ۔۔
دراب کے پریشان اور تھکے تھکے سے چہرے پر مسکراہٹ بکھری گئی ۔۔
” کیوں ؟ تمہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا میرے ہونے یا نہ ہونے سے پھر یہ دکھاوا کیوں؟ “
وہ سنجیدگی سے بولا
” آپ ۔۔ میری فکر ۔۔اور خدمتوں کو دکھاوا کیوں سمجھتے ہیں”
اسے دکھ ہوا تھا
” کیونکہ یہ دکھاوا ہی ہے۔۔جو تم سب کے سامنے میری فرمانبردار بنتی ہو اور بند کمرے میں میرا قریب آنا ، میرا چھونا ، میری قربت تمہیں ناگوار گزرتی ہے”
زرلش نے بے ساختہ لاجواب ہوکر نظریں چرا لیں ۔۔
” کیا پوچھا ہے میں نے کیوں کھڑی ہو یہاں؟ “
وہ بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ پوچھنے لگا
” وہ ۔۔ آپ سردی میں بیٹھے تھے تو میں نے سوچا یہ شال دے دوں “
وہ اسکے رعب سے سہم سی گئی
” سو جائو ۔۔یہ جھوٹی فکر اور دکھاوا کرکے میرا دل مت جلایا کرو”
دراب نے غصے سے شال اسکے ہاتھ سے چھین کر صوفے پر پھینک دی اور واشروم میں گھس گیا ۔۔
فریش ہونے کے بعد باہر نکلا تو زرش ہنوز وہیں کھڑی تھی ۔۔
” زرش ۔۔زرش ۔۔۔”
اس نے غصے پر قابو پانا چاہا
” کیوں کھڑی ہو ؟ کہا نا سو جائو “
وہ غرایا
” آپ بھی یہاں سو جائیں “
وہ اسے پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی
” آفر کررہی ہو ؟ “
اس نے شرات سے پوچھا
” جی ۔۔! “
وہ بوکھلا کر سہمی
” ساتھ سونے کی آفر کررہی ہو؟”
اس کا سر بہت تیزی سے نہ میں ہلا
” مگر ابھی تو تم کہہ رہی تھی .. اتنی کنفیوژ کیوں ہو”
وہ گیلا ٹاول پھینک کر اسکے قریب آیا ۔۔۔
زرش کے چہرے پر گھبراہٹ صاف ظاہر تھی
“میرا مطلب تھا کہ آپ باہر مت جائیں ۔۔۔اب تو بہت رات ہوگئی ہے ۔۔آرام کرلیں “
اس نے ہمت کرکے زرا کی زرا اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔۔
اگلے ہی لمحے دراب اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے کھینچ کر سینے سے لگالیا ۔۔۔
” اگر تم اپنی بانہوں میں سلائو گی تو ضرور “
وہ اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔۔
اسکے وجود کی خوشبو سے زرش کی سانسیں تھمنے لگی ۔۔
” آ۔۔آپ کیسی باتیں کررہے ہیں “
اسکے ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑنے لگے
” میں تو ایسی ہی باتیں کرتا ہوں بیگم “
وہ بولا ۔۔۔اسکے لب زرش کی گردن سے مس ہورہے تھے
” دراب پلیز مجھے چھوڑیں “
اس نے تیز تیز چلتی سانسوں کے بیچ کہا تھا ۔۔
” پچھتا رہی ہو ؟ پاس بلا کے؟ “
” دراب پلیز “
اسکے چوڑے چکلے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے خود دھکیلنا چاہا مگر دراب نے ضد سے اسے اور سختی سے سینے میں بھنچ لیا ۔۔
” دراب پلیز چھوڑیں ۔۔ مجھے سانس نہیں آرہی “
وہ تڑپی
” آئندہ میرے جذباتوں سے کھیلنے کی جسارت مت کرنا زرش ۔۔ جب تمہیں لگے تم میری بیوی بننے کے قابل ہو ۔۔۔میری محبت کو ،میری شدتوں کو سہہ سکتی ہو تب ہی میرے قریب آنا”
وہ بہت زور سے اسے دور دھکیل کر کمرے سے چلا ۔۔
زرش تو برا پھنسی تھی اسکی پرواہ کرکے اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری تھی۔۔
اب وہ پھبرے شیر کی مانند تھا جو قابو میں نہیں آنے والا تھا ۔۔
اس بار سخت ناراض تھا اور زرش کو تو منانے کے ڈھنگ بھی نہیں آتے تھے ۔۔
وہ بیڈ کی چادر کو مٹھیوں میں بھنچے سانسیں لے رہی تھی ۔۔۔


ڈیوٹی سے واپس آتے وقت اس نے زرگل کے لئے ایک تحفہ خریدا اور پھولوں کی شاپ سے فریش پھولوں والا بکے بنوا تھا ۔۔
یہ سب سامان لے کر وہ گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا کہ
کسی کی بری طرح ٹکرا گیا ۔۔۔
اسکے ہاتھ سے بکے زمین پر گر گیا ۔۔
وہ جھکا ہی تھا کہ سامنے والے نے جھک کر بکے اٹھایا ۔۔
وہ دراب خان تھا ۔۔
اسفندیار خان اسے دیکھ کر کچھ دیر ہے لئے ساکت رہا ۔۔پھر مسکرا دیا
مگر دراب کے چہرے پر سخت تاثرات تھے جو
اسکی مسکراہٹ دیکھ کر سخت ترین ہوتے چلے گئے ۔۔
” کیسے ہو ؟ “
اسفند نے پوچھا
” ہم جیئیں یا مریں اس سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے اسفند صاحب تم رہو اپنی زندگی میں خوش ۔۔
مورے جان، بابا جان ، میں ، ہم جائیں جہنم میں تمہاری بلا سے تم نے یوسف کے ساتھ ہمیں بھی دفن کردیا مٹی میں “
اسنے پھولوں کا بکے گاڑی کی بونٹ پر پھینکتے ہوئے کہا
” ایسی بات نہیں ہے ۔۔ میری ناراضگی بابا جان سے ہے ۔۔تمہیں اور مورے جان کو تو میں بہت مس کرتا ہوں “
” کیوں ۔۔؟ بابا جان نے تمہاری کیا ناراضگی ہے؟ کیا بگاڑا ہے انہوں نے تمہارا ؟ “
دراب نے بمشکل غصہ کنٹرول کیا تھا
” تم سے کچھ ڈھکا چھپا نہیں ہے دراب ۔۔تم اچھے سے جانتے ہو انہوں نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ہے “
اسفند نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں
” یوسف نے جس کچھ بھی کیا اپنے ساتھ خود کیا ہے ۔۔ بابا جان کا اس میں کوئی قصور نہیں “
دراب نے جتا کر کہا تو اسفند اسکی صورت دیکھتا رہ گیا۔۔۔بلاشبہ دراب بابا جان کا لاڈلا تھا ۔۔
دونوں ایک دوسرے سے بے تحاشا محبت کرتے تھے
اسلئے دراب بابا جان کی کوئی کوتاہی ماننے کو تیار ہی نہ تھا ۔۔
اس نے بھی فضول کی بحث کرنا مناسب نہ سمجھا اور گاڑی کی طرف بڑھا
” کہاں جارہے ہو تم ۔۔میں بات کررہا ہوں تم سے؟ “
دراب کو اپنی انسلٹ فیل ہوئی تھی
” میں فضول بحث میں نہیں پڑنا چاہتا دراب جس سے کچھ بھی حاصل نہ ہو “
دراب کا خون کھولنے لگا
” اب میری باتیں تمہیں فضول لگنے لگیں ہیں “
اسکا پارہ ایک دم چڑھا گیا ۔۔
زور سے اسکی گاڑی کو لات مارتے ہوئے وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھا اور بہت غصے سے گاڑی نکال کر لے گیا ۔۔۔
اسفند لب بھینچ کر رہ گیا ۔۔۔
گھر پہنچ کر بچوں سے ملا تو آج کا ناخوشگوار واقعہ وہ بھلا چکا تھا ۔۔
زرگل جانے کہاں مصروف تھی ۔۔
اس نے ملازمہ سے پوچھا تو کہنے لگی کہ اسکے حرارت محسوس ہورہی تھی اسلئے دوا کھا کر سوئی ہے ۔۔
وہ بھی کھانا کھانے کے بعد کمرے میں آگیا ۔۔
گفٹ اور بکے اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا ۔۔۔
دراب کی باتوں کو یاد کرتے کرتے وہ کب ماضی میں کھو گیا کہ اسے زرگل کی کمرے میں آمد کا احساس نہیں ہوا۔۔۔
” یہ آپ لائے ہیں ؟ “
ہوں ۔۔۔ہاں میں لایا تھا تمہارے لئے “
وہ چونکا اور پھر کہنے لگا
” کیوں ؟ کس لہجے میں ؟ “
وہ تیکھے لہجے میں پوچھنے لگی
” کیوں مطلب؟ اپنی بیوی کے لئے لایا ہوں کس خبیس کو اعتراض ہو سکتا ہے “
” مجھے ہے اعتراض ! “
وہ تنک کر بولی
” کیوں ؟ “
وہ اٹھ کر اس کے نزدیک آگیا
” آپکی نظروں میں تو میری کوئی ویلیو نہیں تھی پھر اس سب کا کیا مطلب ہے “
” اسکا مطلب ہے کہ تم دل کو اچھی لگنے لگی ہو “
اس نے بے باکی سے کہتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا ۔۔ زرگل کا دل زور سے دھڑکنے لگا
” دیکھو زرگل ۔۔ میں نے تمہیں جج کیا ۔۔ میں غلط تھا سوری بھی کر چکا ہوں ۔۔ اور کتنی سزا دو گی “
وہ ایکدم آئوٹ ہوا تھا ۔۔
” ٹھیک ہے آئندہ میرے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے سوچ لیجئے گا ۔۔میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں”
زرگل کو چار و ناچار کہنا پڑا
” تو کیسی لڑکی ہو ؟ “
وہ معنی خیزی سے پوچھنے لگا
” چھوڑیں مجھے “
زرگل اسکے حصار میں مچلی
” ابھی تو میرے حصار میں آئی ہو ایسے کیسے چھوڑ دوں “
” پلیززز اسفند”
وہ منمنائی مگر اسفند اپنی من مانی کرنے کے موڈ میں تھا ۔۔۔
وہ بہکا بہکا سا اسکے لبوں پر جھکا تو زرگل نے دونوں ہاتھ لبوں پر جما لئے ۔۔
وہ بے ساختہ اسکے ہاتھوں کو چوم گیا ۔۔۔
” چھوڑیں مجھے بچوں کے پاس جانا ہے “
” آج رات بچوں کو آیا دیکھ لے گی تم میرے پاس رہو گی ” اس نے خمار آلود لہجے میں کہتے ہوئے اسے زور سے سینے میں بھنچ لیا ۔۔۔۔