64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

رات وہ غصے سے بچوں کے کمرے میں ہی سو گئی تھی ۔۔ اسفندیار خان صبح تپی تپی سی صورت لئے اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا وہ اسکی صورت انجوائے کرتے ہوئے خاموشی سے ناشتہ کررہی تھی ۔۔۔
” مجھے لگتا ہے رات میری بات تمہیں سمجھ نہیں آئی تھی”
” کونسی بات؟ “
وہ سکون سے بولی ۔..
اسفندیار خان کی بھنویں تن گئی ۔۔
” میں نے تمہیں کمرے میں آنے کا کہا تھا “
اس نے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا
” نہیں آپ نے مجھے بچوں کا خیال رکھنے کا کہا تھا ۔۔ اور ویسے بھی میں تو بچوں کی آیا ہوں نا اس گھر میں ۔۔نہ آپ مجھے بیوی سمجھتے ہیں نہ میں آپ کو اپنا شوہر”
اسفند نے بہت غصے اسکی کلائی کھینچی ۔۔
” تم مجھے غصہ دلا رہی ہو”
” اسکے سوا اور آتا ہی کیا ہے آپ کو”
زرگل کا انداز چڑا دینے والا تھا ۔۔۔
” تم ۔۔۔”
وہ جبڑے بھینچ کر رہ گیا ۔۔
پھر اسکا ہاتھ جھٹکا اور کیپ اٹھانے لگا ۔۔
” اللہ حافظ کمانڈر صاحب۔۔جلدی آئیے گا آپ نے بیٹے کو چیک اپ کے لئے لیکر جانا ہے “
اس نے جان بوجھ بلند آواز میں کہا تھا ۔۔۔
اسفند یار خان نےخود کو صبر کی تلقین کی تھی ۔۔
اور کیپ پہنتے ہوئے جیب کی جانب بڑھا


گل ڈاکٹر کی کیبن میں ضروری انفارمیشن لے کر باہر نکلی تو اسفند یار وہاں سے غائب تھا ۔۔
یہ کہاں گئے ؟
وہ سوچتی ہوئی ہاسپٹل سے باہر نکلی تو اسفندیار کسی عورت سے گفتگو کررہا تھا ۔۔
” تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔۔ میں تمہاری منگیتر ہوں اسفند یار خان ۔۔۔تم نے مجھ سے شادی کا وعدہ کیا تھا ہم محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے ۔۔۔تم یہ شادی کیسے کرسکتے ہو”
وہ ایکدم رکی ..
اسکے سینے میں کوئی تیز تیر آلگا ۔۔
آنکھوں میں مرچیاں سی بھر گئی
” میں نے یہ شادی بچوں کی خاطر کی ہے ضوفی “
اسفندیار کے جواب نے اسکے رہے سہے اوسان بھی خطا کر دیئے
وہ ڈگمگاتے قدموں سے خود کو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھی
اور ان کے سامنے سے گزر کر گاڑی کے قریب چلی گئی ۔۔
وہ دونوں ہی بری طرح چونکے تھے اسے دیکھ کر ۔۔
“بچے اسکی ماں کے حوالے کردینے تھے نا ۔۔۔شرم آنی چاہیے تمہیں چھپ کر شادی کرتے ہوئے۔۔بچوں کا تو بہانہ ہے دراصل گل مینا کی خوبصورتی پر تم دونوں بھائی “
” ضوفشاں “
وہ دھاڑا تھا ۔۔۔اب وہ اسے کیا بتاتا اس ایکسیڈنٹ میں نہ صرف اسکا بھائی بلکے اسکی بیوی بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی ۔۔
خان بابا تو بچوں کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے تھے تو اسفندیار انہیں سچ کیسے بتاتا
ضوفشاں پھر بھی باز نہ رہی
“چچی جان کی طبیعت خراب ہے وہ ہاسپٹل میں ہیں “
ضوفشاں نے پریشانی میں ڈال دیا تھا مگر اسفندیار نے ظاہر نہیں ہونے دیا
” میں خان بابا کو تمہاری حرکت کے بارے میں ضرور آگاہ کروں گی ۔۔ بلکے خان بابا کیا پورے خاندان میں تمہاری حرکت بتائوں گی”
” تمہیں جو کرنا ہے تم کرو ۔۔اسفندیار خان کسی کے باپ سے بھی نہیں ڈرتا”
اس نے سخت لہجے میں کہا تھا
” گاڑی میں بیٹھو گل “
اس نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے حکم دیا ۔۔۔
اک پل کو اسکا دل مچلا ۔۔ اسکی جنگ خان بابا سے تھی ۔۔۔مورے تو بے چاری بے قصور تھی انہیں کس بات کی سزا مل رہی تھی مگر وہ سختی کا لبادہ اوڑھے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا یہ جانے بغیر کے برابر والی سیٹ پر براجمان زرگل نے اپنے آنسو کس طرح کنٹرول کیئے ہوئے تھے ۔۔۔
” گل ” وہ چونک گئی
تو گل مینا ہے یہ ۔۔۔ گل مینا پر دل آگیا تو بچوں کا بہانہ لگا دیا ۔۔ چھوڑوں گی نہیں تمہیں اسفندیار خان ۔۔ میرا نام بھی ضوفشاں ہے “
وہ جبڑے بھنچتے ہوئے بڑبڑانے لگی


پوری رات اسے نیند نہیں آ سکی تھی ۔۔
اگر اتنی ہی محبت تھی دونوں کے درمیان تو اسفندیار نے شادی کیوں کی؟
وہ بھی سب سے چھپ کر ؟
ضوفی تو ان کے خاندان کی لڑکی تھی
کزن بھی تھی
وہ تو اسکے بھائی کی اولاد کو اچھے سے سنبھال سکتی تھی !!
سو سوال تھے جسکا جواب صرف اسفندیار خان کے پاس تھا ۔۔جب تک ان سوالات کے جوابات نہ مل جاتے اسے چین نہیں آسکتس تھا
وہ دوپٹہ سینے پر پھیلا کر کمرے میں آئی
” آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی؟ “
اسفندیار خان خود بہت ڈسٹرب تھا رات کے اس پہر بھی کثرت سے سگریٹ نوشی سے باز نہیں آرہا تھا ۔۔
اسکا سوال سن کر رگیں تن گئیں
” یہ سوال میں بھی تم سے بھی کر سکتا ہوں ؟ تم نے مجھ سے شادی کیوں کی ؟ تمہارے پاس تو آپشن تھا انکار کردیتی “
” آپ میرے سوال کا جواب دیں ۔۔۔آپ کے پاس بھی آپشن تھا شادی نہ کرنے کا آپ نے کیوں نہیں کی”
اسکی آواز بلند تھی ۔۔۔
وہ چلتی ہوئے اسکے نزدیک آگئی
اسفند یار خان نے کوئی جواب نہیں دیا
” تم پہلے میرے سوال کا جواب دو”
وہ تحکمانہ گویا ہوا ۔۔
سگریٹ مسلسل اسکے ہاتھ میں سلگ رہی تھی ۔۔
” آپ میرے سوال کا جواب دیں”
اسے بھی غصہ آگیا ۔۔اس نے سگریٹ چھینی
” حد میں رہو اپنی “
اسفندیار خان نے طیش میں آکر سگریٹ چھین کر اسکی ہتھیلی میں پیوست کردی ۔۔
وہ تڑپ اٹھی
” تمہیں کس نے اجازت دی کہ تم مجھے سے سوال کر سکو ۔۔ اگر تم اتنی ہی اعلی شخصیت اور اصول پرست ہوتی تو کیوں کرتی مجھ سے شادی ۔۔ میں بتاتا ہوں تم نے مجھ سے شادی ۔۔میری آسائشیں ، دھن و دولت کو دیکھ کر کی ہے ۔۔ اسی لئے تو دو بچوں پر بھی کمپرومائز کرلیا “
وہ غصے میں زہر اگل رہا تھا ۔۔
زرگل اسکے دیئے گئے زخم اور لفظوں کی چوٹ سے مسلسل برستی آنکھوں سے اس ستم گر کو دیکھتی رہی ۔۔
” بہت گھٹیا انسان ہو آپ “
وہ جانے کے لئے پلٹی تھی مگر اسفندیار خان لفظ گھٹیا پر بے قابو ہوکر اسکی بازو مرڑو کر کمر سے لگا چکا تھا۔۔۔
” تمہارا مزاجی خدا ہوں ۔۔اگر آئندہ زبان درازی کی تو گلا دبا کر یہیں پہاڑوں میں گاڑھ دوں گا “
وہ اسے جھٹکے سے بیڈ پر دھکیل کر کمرے سے نکل گیا ۔۔


” آپ کے بیٹے نے اپنی جوان خوبصورت منگیتر کو چھوڑ کر بھائی کی بیوہ سے شادی کرلی ہے چچی جان ۔۔ دونوں اپنی زندگی میں خوش ہیں ۔۔ کوئی پتا نہیں یوسف کو بھی اسفندیار نے ہی گل مینا کے ساتھ مل کر قتل کرایا ہو”
” نہیں ضوفشاں نہیں “
نوری بی بی تڑپ کر بولی
” میرا اسفند ایسا مر کر بھی نہیں کرسکتا “
وہ تو پہلے ہی اک بیٹے ہے غم سے نڈھال بستر سے لگ چکی تھی ۔۔
ضوفشاں نے شادی کی خبر دے کر انہیں پریشان کردیا تھا ۔۔
اب مسلسل آنسو بہا کر اپنی باتوں سے انہیں ازیت پہنچا رہی تھی
” میں بتا رہی ہو چچی اس گل مینا نے میرا اک کزن تو چھین لیا ہے مجھ سے مگر اب میں اپنا منگیتر چھیننے نہیں دوں گی اسے ۔۔۔آپ کچھ کریں یا نہ کریں میں خان چچا کو بتا کر رہوں گی “
” نہیں ضوفی رکو میری بچی ۔۔۔تم اس وقت صدمے میں ہو ۔۔جائو شاباش آرام کرو اپنے کمرے میں ۔۔۔اور یہ بات کسی سے نہ کہنا میں خود خان آئیں گے تو ان سے بات کروں گی “
” جی چچی جان “
وہ سکون سے آنسو پوچھتی ہوئی بولی
” جاتے ہوئے زرشالہ کو میرے کمرے میں بھیج دینا “
نور بی بی بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوئے آنکھیں موند لیں ۔۔
ضوفشاں کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی
اب آئے گا اونٹ پہاڑ ہے نیچے ۔