64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

” بابا جان آپ یہ کیسے ہونے دے سکتے ہیں ؟ ضوفی خدانخواستہ کوئی گونگی بہری نہیں ہے اور نہ ہی ہم اتنے مجبور ہوئے ہیں کہ اک شادی شدہ شخص سے اسکی شادی کردیی “
دراب بہت غصے میں تھا
” وہ شادی شدہ شخص تمہارا بھائی ہے دراب “
بابا جان گرج کر بولے تھے
” تو ضوفی بھی آپ کے مرحوم بھائی کی بیٹی ہے جو اب آپ کی زمہ داری ہے آپ ایسی زیادتی برداشت کرلیں گے اسکے ساتھ”
وہ چٹخ کر بولا
” اسکے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہورہی اس نے خود رضامندی دی ہے اس نکاح کی “
بابا جان بھی ضوفی کی اس ضد سے کچھ خاص رضامند نہیں لگ رہے تھے
دراب سن کر بہت غصے سے اٹھ کر چلا گیا اور سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا
” یہ تمہاری بہن کا دماغ درست ہے؟ “
” ک۔۔۔کیا ہوا ؟ “
اسکا لال بھبھوکا چہرہ اور جلالی انداز دیکھ کر زرش کی زبان لڑکھڑا گئی
” تم ابھی اور اسی وقت اسے فون کرو اور کہو کہ اسفندیار سے شادی سے انکار کردے “
زرش کو اسکی بات کے پیچھے مقصد سمجھ نہیں آ سکا ۔۔
” مگر ۔۔۔ ضوفی ایسا نہیں کرے گی آپ جانتے ہیں وہ اسفی کے لئے کس حد تک دیوانی ہے ۔۔ بچپن کے منگیتر ہیں دونوں ۔۔اور پھر یہ اسکا اپنا فیصلہ ہے میں کیسے ۔۔۔۔”
” میں کچھ نہیں جانتا “
وہ اتنی زور سے دھاڑا کہ زرش کانپ اٹھی ۔۔۔
” آپ ۔۔۔اتنے غصے میں کیوں ہیں ۔۔ یہ ضوفی اور اسفی کی زندگی ہے آپ کیوں۔۔۔”
اس نے ڈرتے ڈرتے کہا
” تم ۔۔۔۔ تم ۔۔ چپ کرو “
وہ انگشت شہادت دکھاتے ہوئے دبہ دبہ غرایا اور راستے میں آئی ہر شے کو ٹھوکر مار کر باہر چلا گیا ۔۔
زرش نے اسکے جاتے ہی سانس بحال کیا تھا ۔۔


دراب بابا جان کے اس فیصلے سے خوش نہیں تھا ۔۔
وہ اسفی کو اچھے سے جانتا تھا اگر اسفی اس گھر میں واپس آجاتا تو کل کو وہ یوسف کی بیوہ کو بھی گھر میں لانے کی ڈیمانڈ رکھتا ۔۔
ایسا وہ ہونے نہیں دے سکتا تھا ۔۔۔
اسے سخت نفرت تھی اس عورت سے
جس نے ان سے انکا چہتا لاڈلا بھائی چھین لیا تھا ۔۔
اور اب اسفی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی تھی ۔۔
بابا جان نے کل نکاح کی ساری زمہ داریاں اسے سونپی تھی وہ دوستوں کی بھری محفل میں بیٹھا گم سم سا تھا ۔۔
پھر اٹھ کر گھر آگیا ۔۔
کمرے میں جانے کے بجائے وہ لان ہی میں رکھی کرسیوں میں سے ایک پر براجمان ہوگیا ۔۔
جلی ہوئی سگریٹ جوتے تلے مسلتے ہوئے آنکھیں رگڑنے لگا جب ملازمہ اس سے کھانے کا پوچھنے آئی تھی
” مجھے بھوک نہیں ہے “
اس نے بے دلی سے کہا تھا
” بی بی چھوٹے خان کہہ رہے ہیں کہ انہیں بھوک نہیں ہے”
ملازمہ نے رٹا رٹایا جواب اسے سنایا اور مصروف ہوگئی ۔۔ آج وہ جتنے غصے میں تھا زرش کی تو بلکل بھی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ اس سے خود بات کرتی ۔۔
اور پھر وہ اس سے ناراض بھی تھا ۔۔
یہ دوریاں بھی کیا شے تھی ۔۔
نہ تو وہ اسکی دوریاں سہہ سکتی تھی ۔۔
نہ ہی نزدیکیاں
وہ خود بھی اپنے آپ کو اب تک سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ کیا چاہتی ہے ۔۔۔ایک طرف اسے دراب کی پرواہ بھی تھی
دوسری طرف وہ اس سے محبت سے بھی انکاری تھی !
بہت ہمت کرکے اس نے کافی کا کپ بنایا اور لان کی طرف بڑھی تھی ۔۔
” میں ۔۔۔ کافی لائی تھی آپ کے لئے “
اسکی آواز اتنی دھیمی تھی کہ وہ بمشکل سن سکا ۔۔
اور فون کی سکرین سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا ۔۔
” کیوں لائی ہو؟ “
” آپ کو عادت ہے نا ۔۔ رات کے کھانے کے بعد کافی پینے کی تو۔۔۔۔میں نے سوچا ۔۔”
اسے اٹھ کر اپنی طرف آتا دیکھ کر اسکے الفاظ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگے
” حیرت ہے تم سوچتی ہو میرے بارے میں “
اسکا لہجہ چبھتا ہوا تھا
زرش نے زرا کہ زرا پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ مگر اسکی سرخ سرخ نگاہوں سے گھبرا کر ایکدم سے نظریں جھکا لیں ۔۔
یہ منظر اس قدر خوبصورت تھا کہ دراب چند لمحے ساکت سا رہا
پھر اٹھ اسکے نزدیک گیا
” تمہاری سو کالڈ توجہ اور پرواہ کی ضرورت نہیں ہے مجھے ۔۔ اور اپنی عادتیں میں بدل چکا ہوں”
اس نے جیسے ہی کپ چھینا گرم گرم کافی دونوں کے ہاتھوں کو جھلسا گئی ۔۔۔
اس نے کپ لان کی گھاس پر پھینک دیا ۔۔
اسے تو کوئی فرق نہیں پڑا
مگر زرش کے لبوں سے درد ناک سسکی برآمد ہوئی ۔۔۔
جاتے جاتے اسکے قدم اک لمحے کے لئے رکے تھے
مگر پھر وہ نظرانداز کرکے تیزی سے کمرے میں چلا گیا
” بی بی جی آپ بھی نا کمال کرتی ہیں جب آپ کو پتا ہے چھوٹے خان آپ سے خفا ہیں تو کیوں گئی آپ ان کے پاس ۔۔مجھے کہہ دیتی”
ملازمہ اسے کچھ ڈپٹنے کے سے انداز میں کہتی اسکی سرخ پڑی کلائی کا معائنہ کررہی تھی ۔۔
” تمہاری چھوٹے خان سمجھتے کیا ہیں اپنے آپ کو ۔۔ ایک تو میں انکی پرواہ کروں ۔۔۔ان کے سارے کام کروں اوپر سے مجھے ہی نخرے دکھاتے ہیں “
وہ بچوں کی طرح شکوہ کرتی آنسو بہا رہی تھی ۔۔
” بی بی جی آپ سمجھی نہیں چھوٹے خان کے مزاج کو ۔۔ خیر چھوڑیں میرے بابا لاہور سے بہت اچھی مرہم لائے تھے یہ لگانے سے تھوڑی سی جلن ہوگی مگر دیکھنا بہت جلدی زخم سے آرام آجائے گا “
” محبت اور توجہ کے ساتھ جو مرہم لگایا جائے وہ اثر نہیں کرتا ان پر ۔۔بہتر ہے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے “
وہ تلخ لہجے بولا
تو دونوں بے ساختہ اسکی طرف متوجہ ہوئیں تھی۔۔۔
زرش کا رنگ فق ہوگیا ۔۔
پتا نہیں وہ کب سے کھڑا تھا یہاں
” پانی کا جگ بھر کر کمرے میں رکھوا دو “
وہ حکم دے کر خالی جگ سلب پر پٹخ کر چلا گیا ۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں ۔۔۔


آج سادگی سے ان کا نکاع پڑھوا دیا گیا تھا۔۔۔
وہ تب سے گم سم سا تھا جبکے ضوفشاں کے پیر خوشی سے زمین پر نہیں پڑ رہے تھے ۔۔
اس نے خاص طور پر اپنی سہیلیوں کو اپنے سسرال بھیجا تھا تاکہ وہ ضروری انتظامات کر سکیں
کیونکہ زرشالہ تو مورے جان کی طبیعت خرابی کی وجہ سے ان کے پاس تھی ۔۔
اس بات پر وہ زرش پر بہت بگڑی تھی
اسکی شادی پر اسکی اپنی ہی بہن کوئی انٹرسٹ نہیں شو کررہی تھی ۔۔
زرشالہ کا دل نہیں مان رہا تھا
وہ بھی رضا مند نہیں تھی اس شادی سے ۔۔
بھلے ہی اسفندیار خان بہت اچھا تھا
ضوفشاں کی پسند تھا
مگر وہ اب شادی شدہ مرد تھا اور اس نے یوسف کے بچوں کی کفالت کا زمہ بھی لے لیا تھا ۔۔
ایسے میں ضوفی کا اسکی دلہن بننا اسے گوارہ نہیں تھا۔۔ضوفی خوبصورت تھی اسکے لئے ہزاروں اچھے رشتے موجود تھے مگر وہ اسفی کے لئے مری جارہی تھی ۔۔
” تم نہ خوشی سے مسکرا دینا زرا ۔۔ اپنے شوہر کی طرح منہ پھلائے گھوم رہی ہو “
چچی جان نے اسے گھرکا
” کیا ہوگیا ہے امی آپ کو ۔۔ مورے جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔ اسفند کا موڈ دیکھا ہے آپ نے ۔۔اور دراب کا تو پوچھیں مت کتنا غصہ کررہے تھے وہ خوش نہیں ہیں ضوفی کے فیصلے سے ۔۔ایسے میں کیسے خوش ہوسکتی ہوں”
” اچھا اچھا بس ۔۔ تم تو پتا نہیں کس پر گئی ہو ..بہن کی خوشی کا ہی خیال کرلو “
” میری خوشیاں میرے شوہر سے جڑی ہیں امی “
اسکی بات زرا دوری پر کھڑے دراب نے بخوبی سنی تھی ۔۔ اسکے لب خود بخود مسکرا اٹھے ۔۔
پیچھے مڑ کر کن اکھیوں سے اپنی شریک حیات کو دیکھنے لگا ۔۔
جو روایتی پٹھانوں والے لباس میں ملبوس میک اپ سے عاری چہرے کے ساتھ بہت نمایاں اور خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
“رہی بات ضوفی کی تو اللہ اسکی ازدواجی زندگی میں ڈھیروں خوشیاں اور محبتیں عطا کرے”
اس نے کہا اور وہاں سے گزر رہی تھی کہ دراب پر نظر پڑ گئی ۔۔
” ہائے ۔۔! “
ضوفی کی اک دوست ولوگ بناتے ہوئے کیمرہ ہاتھ میں لئے دراب کے پاس آئی ۔۔
” مجھے تصویریں کھنچوانا پسند نہیں “
اس نے سخت لہجے میں کہتے ہوئے کیمرے پر ہاتھ رکھا ۔۔
” مگر یہ تو ولوگ ہے اور ضوفشاں نے اسپیشلی کہا ہے کہ میرے سسرال والے سب کور ہونے چائیے اس ولوگ میں “
” اچھا ۔۔مگر مجھے۔…”
وہ کہتے کہتے رکا
کیونکہ اسکی نظر بیچ راہ میں رکی زرش پر پڑی تھی ۔۔
” اپنے سیل فون میں تصویر بنوانا چاہو تو بنوا لو “
دراب مسکراتے ہوئے معنی خیزی سے کہنے لگا ۔۔
اریبہ جو کہ ضوفشاں کا اتنا خوبصورت دیور دیکھ کر لٹو ہورہی تھی ۔۔
فوراً سیل فون نکال لیا ۔۔
دراب اسکے ہاتھ سے فون لے کر قریب ہوا تھا ۔۔۔
زرش کی آگ برساتی نگاہیں اسکے وجود سے چپکی ہوئی تھی ۔۔
اس نے بمشکل ہنسی روکی ۔۔
” آپ کا نمبر مل سکتا ہے “
” وائی ناٹ۔۔۔یو کین کال میں اینی ٹائم”
وہ آنکھ دباتے ہوئے نمبر سیو کرنے لگا زرشالہ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے ہٹی ۔۔


وہ نکاح کے بعد سیدھا گھر آگیا تھا ۔۔
زرگل کو وہ اداس اداس،تھکا تھکا سا لگا تھا ۔۔
اس نے کھانا بھی کھانے سے منع کردیا تھا اور جاکر
کمرے میں لیٹ گیا ۔۔۔
زرگل کے لاکھ پوچھنے کے باوجود اس نے وجہ نہیں بتائی تھی ۔۔۔
یوسف کے رونے کی آوازیں آنے لگیں
تو وہ کمرے سے چلی گئی ۔۔
اسفندیار خان نے سر پکڑ لیا تھا
وہ زرگل کو جان بوجھتے اگنور کررہا تھا ۔۔
وہ اس سے ریلیشن خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔
مگر سچ کہہ کر اسکا دل بھی نہیں توڑنا چاہتا تھا ۔۔
مورے جان کی کب سے کال آرہی تھی
وہ جانتا تھا مورے جان کیا کہنے والی تھی ۔۔
اس نے نا چاہتے ہوئے بھی کال اٹھائی
” کیوں ماں کو پریشان کرتے ہو ۔۔ سارے مہمان گھر میں موجود ہیں ۔۔لڑکیاں کچھ رسمیں پوری کرنا چاہتی ہیں اور تم غائب ہو ” وہ روہانسی ہوگئی
” مورے جان میں نہیں آئوں گا “
” ایسا نہ کرو میرے بچے ۔۔ چاہے دنیا داری کے لئے ہی سہی مگر آئو ضرور بیٹا ۔۔ تمہاری ماں تم سے فریاد کررہی ہے ۔۔ اسکے بعد جو تمہارا دل چاہے کرنا بس آج بار اور بات مان لو اپنی ماں “
اس نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے سرخ پڑی آنکھیں رگڑی تھی ۔۔
” ٹھیک ہے مورے جان “
وہ ماں کی محبت میں مجبور ہوکر چلا آیا ۔۔
آنے سے پہلے وہ کئی لمحے زرگل کے کمرے کے دروازے پر کھڑا رہا مگر اندر جانے کی ہمت نہ ہوئی تھی ۔۔
پھر الٹے قدموں واپس پلٹ گیا ۔۔۔


تقریبا رات دس بجے کے قریب رسومات سے فارغ ہوکر ضوفی کی دوستیں اسے کمرے میں چھوڑ گئیں تھی ۔۔ اسفندیار خان تب سے غائب تھا ۔۔
وہ کمرے میں انتظار کر کر کے تھک گئی تھی ۔۔
پھر ہار کر صوفے پر نیم دراز ہوگئی ۔۔
رات کے ہونے دو ہورہے تھے
جب وہ لوٹ کر کمرے میں داخل ہوا ۔۔
کھٹکے کی آواز سے ضوفشاں کی آنکھ کھل گئی ۔۔
ٹائم دیکھ کر مارے غصے سے اسکا برا حال ہونے لگا
” کہاں تھے تم ؟ “
اسکے لہجے میں عجیب سا رعب اور استحقاق تھا ۔۔
” تم سے مطلب ۔۔ تم ہوتی کون ہو مجھ سے یہ سوال کرنے والی؟ “
وہ چٹخ کر بولا
” میں اب تمہاری بیوی ہوں اور تم سے ہر قسم کے سوال کرنے کا حق رکھتی ہوں سمجھے تم ! “
وہ کچھ نرم پڑتے ہوئے بولی
” انسان تعریف ہی کردیتا ہے اسفی۔۔تم ایسے تو نہیں تھے ! ” اس نے دوپٹہ درست ہوئے اک ادا سے کہا ۔۔
مگر سامنے بھی اسفندیار خان تھا ۔۔
ان ادائوں کا اس پر خاک برابر اثر نہیں ہوا وہ اسے اگنور کرکے واشروم میں گھس گیا ۔۔۔
وہاں سے نکلا تو اسے لفٹ کروائے بغیر ہی کمفرٹر کھینچ کر لیٹ گیا ۔۔
ضوفی غصے سے پاگل ہونے لگی ۔۔
” تمہارا دماغ ٹھیک ہے اسفی ۔۔میں نے اتنے سال اس دن کا انتظار کیا ہے صرف اسلئے نہیں کیا تھا کہ تم اپنے تیور دکھا سکو مجھے ۔۔۔ یاد رکھنا ضوفشاں نام ہے میرا ۔۔ ایسے لہجے ہرگز برداشت نہیں کروں گی میں۔۔۔بابا جان سے تمہاری شکایت لگادوں گی “
اسکیے لہجے میں صاف صاف دھمکی تھی ۔۔۔
” تمہیں جو کرنا ہے کرو میں ڈرتا نہیں ہوں کسی سے “
وہ بھی اسفی تھی ۔۔
” تمہاری اس ۔۔۔ بیوی کو پتا ہے کہ تم نے دوسری شادی کرلی ہے “
اسکے لہجے میں زرگل کے لئے نفرت ہی نفرت تھی ۔۔۔
اسفی چونک کر سیدھا ہوا تھا
” اگر اسے اس نکاح کے بارے میں پتا چلا تو تمہارا انجام بہت برا ہوگا ضوفی “
وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا اور کمفرٹر کھینچ کر لیٹ گیا ۔۔۔
ضوفشاں کے بدن میں غصے شرارے پھوٹنے لگے ۔۔
” سمجھتے کیا ہو خود کو تم “
وہ مٹھیاں بھینچتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔
بیٹھے بیٹھے کب اسکی آنکھ لگ گئی اسے پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔
صبح صبح اچانک اسکی آنکھ کھلی
تو صبح کے چھ بج رہے تھے ۔۔۔
وہ اپنی ناکام محبت پر افسوس کرتی ہوئی اٹھی
اور چینج کرکے شاور لیا تھا ۔۔
اسفی سکون سے سو رہا تھا ۔۔۔
اس کے دماغ میں جانے کیا سوجھی اس نے فون اٹھا کر اپنی اور اسفی کی کئی تصاویر اتار لیں ۔۔۔
پھر اسفی کے فون سے زرگل کا نمبر نوٹ ڈائون کرکے اس پر ساری تصاویر بھیج دیں ۔۔
” اگر میں خوش نہیں ہوں نا ۔۔تو تمہیں بھی خوش نہیں رہنے دوں گی اسفی “
اس نے گردن مارتے ہوئے کمینگی سے سوچا اور فون واپس رکھ کر ہیئر برش اٹھا لیا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
۔
۔