64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

” زرشالہ سے میری شادی کروا کے آپ نے ٹھیک نہیں کیا مورے”
جگ میں پانی ڈالتے ہوئے زرشالہ کے ہاتھ بے ساختہ کانپے تھے ۔۔
دراب خان نے گہری نگاہوں سے نوٹس لیا تھا ۔۔
” کیا فضول بول رہے ہو اتنی اچھی اور تابعداری بیوی تمہیں پورے خاندان میں نہیں ملے گی”
” اچھا ۔۔ خاندان کے باہر کیا خیال ہے پھر ؟ “
وہ بغور زرش کی اڑی اڑی رنگت دیکھتے ہوئے انجوائے کررہا تھا ۔۔۔
” کیا بکواس کررہے ہو! “
مورے نے سنجیدگی سے اسکی صورت دیکھی ۔۔۔
” میں زرش سے خوش نہیں ہوں میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں”
وہ اتنی بے باکی کا مظاہرہ کرے گا زرش کو اندازہ نہیں تھا
اسکے ہاتھ سے پانی کا گلاس چھلک گیا ۔۔
دراب نے بے ساختہ لب دبائے تھے ۔۔
” تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا دراب ۔۔ اگر تمہارے بابا نے سن لیا تو سوچا ہے کیا انجام ہوگا “
مورے نے سنجیدگی سے اسکو جھاڑ پلائی
” آپ فکر نہ کریں بابا کو میں منا لوں گا “
اس نے یکدم سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ لیا ۔۔
“دراب خدا کا نام لو کیوں بچاری بچی کے سر پر سوتن لانے کو تل گئے ہو ۔۔ کتنی سمجھدار اور تابعداری ہے میری زرش ۔۔ مجھے آج تک گھر کے کسی فرد کو شکایت کا موقع نہیں دیا اس نے “
” مگر مجھے تو یہ بی بی صاحبہ ہر روز شکایتوں کے موقع دیتی رہتی ہیں ۔۔ مجھ پر یہ خاص عنایت کیوں ؟ “
زرشالہ کا جھکا کر مزید جھک گیا ۔۔۔
” کیوں زرش ؟ کیا کہہ رہا ہے یہ؟ “
اب وہ مورے کی سخت نگاہوں کی زد میں آچکی تھی
وہ بیچاری کیا جواب دیتی دراب نے اسے برا پھنسا دیا تھا ۔۔۔
” بتائو مورے کو ساری بات ۔۔ ڈیٹیل میں ۔۔ جو میں تمہارے ساتھ کرنا چاہتا ہوں اور وہ بھی جو تم میرے ساتھ کررہی ہو”
وہ اسکے کان کے قریب مدھم سرگوشی کرکے جا چکا تھا ۔۔۔
” زرش میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں ۔۔جواب دو؟ مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی جیسے تم میری فرمانبردار سمجھدار بیٹی ہو ویسے ہی دراب میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔۔ وہ کبھی بے وجہ بات نہیں کرتا ۔۔ کچھ تو ضرور ہوا ہے تم دونوں کے درمیان ؟ کیا بات ہے بتائو؟ “
زرشالہ بس رو دینے کو تھی ۔۔
نہ وہ کہہ سکتی تھی نہ چپ رہ سکتی تھی ۔۔
” زرش ۔۔ میری بچی ادھر آئو میرے پاس “
اسے آنسو بہاتے دیکھ کر مورے لہجے میں نرمی پیدا کرتے ہوئے اسے پاس بلایا
” دیکھو بیٹا یہ میاں بیوی کا رشتہ ہوتا ہے بڑا نازک رشتہ ہوتا ہے ۔۔ غلطی چاہے جس کی بھی ہو۔۔۔ بھگتنی عورت کو ہی پڑتی ۔۔ اسلئے زرا سی انا قربان کرنے میں کوئی قباحت تو نہیں ۔۔ اتنا تو تم کرسکتی ہو ۔۔آخر کو دراب سے محبت کرتی ہو ۔۔ وہ بھی تمہیں چاہتا ہے اتنا حق تو بنتا ہے اسکا بھی “
” جی مورے۔ “
اس نے جھکے سر کے ساتھ بولا ۔۔ اور اٹھ کمرے میں آگئی۔۔۔ دل چاہ رہا تھا دھاڑیں مار مار کر روئے ۔۔
اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بنے بنائے رشتے کو بگاڑ رہی تھی۔۔ وہ ایسا نہیں چاہتی جو ہورہا تھا ۔۔۔!
وہ تو بس پڑھنا چاہتی تھی اور تب تک
وہ اپنی ازدواجی زندگی شروع کرنا نہیں چاہتی تھی
مگر دراب خان کے غصے سے ڈرتی تھی ۔۔
میٹرک کے فورا بعد ہی تو اسکی شادی ہوگئی تھی ۔۔
شادی کو دو سال ہوچکے تھے وہ اب تک دراب سے اپنی پڑھائی کے بارے میں بات نہیں کرسکی تھی ۔۔
اسے خود سے کبھی نفرت سی ہونے لگتی ۔۔
وہ کیوں تھی اتنی دبو اور ڈرپوک ۔۔
وہ ضوفشاں جیسی بیباک اور بے خوف کیوں نہیں تھی ۔۔ جو بے دھڑک ہوکر بس کچھ سب کے سامنے منہ پر کہہ دیتی ۔۔
وہ گھٹ گھٹ کر جی رہی تھی ۔۔
۔ہزاروں خواہشیں سینے دم توڑ جاتی ۔۔
وہ پل پل مر رہی تھی ۔۔
اور دراب نے بھی تو اپنی سافٹ سائیڈ کبھی شو نہیں کی تھی جو وہ اپنے دل کی ساری باتیں اس سے کہہ سکتی ۔۔۔
اوپر سے دوسری شادی کے انکشاف نے اسکو بری طرح توڑ دیا تھا ۔۔۔
” بی بی جی کھانا لگادوں “
” نہیں میں ان کے کھانے کے بعد کھائوں گی”
وہ آنسو پونچھ کر بولی
” مگر بی بی جی چھوٹے خان تو بڑے خان کے ساتھ باہر گئے ہیں کل تک واپسی ہوگی”
” اچھا “
وہ اک لحظہ لمبی سانس بھر کر بولی ۔۔
چلو اسے اکیلے میں بہت سا رونے کا موقع مل جائے گا ۔۔۔


رات کافی ہوچکی تھی ۔۔ راستے میں اسکی گاڑی خراب ہوگئی ۔۔
وہ پریشان حال سا کھڑا تھا ۔۔
فون پر کوئی نمبر پریس کرکے کان سے لگاتے ہوئے بولا
” میری گاڑی خراب ہوگئی ہے بیچ راستے میں ۔۔۔ میں تو پیدل چلا جائوں گا کوئی مسلہ نہیں ہے مگر تم گاڑی ٹھیک کروا کے آفس لے آنا صبح میں تمہیں لوکیشن بھیجتا ہوں” لوکیشن بھیج کر وہ پیدل چلنے لگا ۔۔
کچھ چوٹیں اسے آج ایمرجنسی آپریشن کے درمیان آئی تھی ۔۔
کچھ راستے میں نوکیلے اور خاردار راستوں نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔۔
وہ گھر پہنچ کر ہلکان سا صوفے پر ڈھے گیا ۔۔
کتنی دیر ایسے ہی بے سدھ پڑا رہا تھا ۔۔
گل کسی کام سے باہر نکلی تو
اسے یوں دیکھ پہلے تو اگنور کردیا پھر کافی دیر تک اسکے وجود میں ہلچل نہ ہوئی تو وہ پریشان سی آگے آئی تھی ۔۔ کچھ جھجک کر اسکی پیشانی چھوئی جو بخار سے دہک رہی تھی ۔۔
جہاں اسے تشویش ہوئی وہیں اسفندیار خان نے بھی آنکھیں کھول دی ۔۔
اسکے چہرے پر جگہ جگہ کھروچ اور ہلکی ہلکی چوٹوں کے نشان تھے
وہ لاکھ چاہنے کے باوجود پوچھ نہیں سکی انا آڑے آگئی اور کچھ ناراضگی ۔۔
” کچھ کھانے کے لئے چائیے ؟ “
اس نے بیگانگی سے رخ موڑ کر پوچھا
” نہیں چائیے ۔۔مہربانی آپ کی”
وہ بھی اسی کے لہجے میں جواب دے غصے سے اٹھ کر چلا گیا ۔۔
” حد ہے بھئی ۔۔ انسلٹ بھی میری کی ۔۔۔ناراض بھی میں ہوں ۔۔ اور تیور یہ صاحب دکھا رہے ہیں ۔۔ کیسا وقت آگیا ہے زرگل تم پر”
وہ کچن میں گئی اور دودھ گرم کرنے لگی ۔۔۔
کچھ بھی تھا وہ اتنی سخت دل نہیں تھی جان بوجھ کر اگنور بھی نہیں کرسکتی تھی ۔۔
” دودھ اور ٹیبلٹ رکھ کر جا رہی ہوں پی لینا “
وہ احسان کرنے کے انداز میں کہہ کر سائیڈ ٹیبل پر دودھ رکھ کر چلی گئی ۔۔
اسفندیار نے اسکے جانے کے بعد آنکھوں سے بازو ہٹا کر دیکھا تھا ۔۔
اکڑ تو اس میں بھی بہت تھی
جب زرگل اپنے ہاتھوں سے اسے ٹیبلٹ نہ کھلا دیتی وہ کھانے والا نہیں تھا۔۔ وہ دوبارہ لیٹ گیا ۔۔
زرگل نے چند منٹوں بعد کمرے میں جھانکا تو اسکا پارہ ہائی ہونے لگا
” آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں میں ملازم ہوں آپ کی ۔۔ اک تو میں آپ سے ناراض ہوں اسکے باجود میری دریا دلی دیکھیں دودھ گرم کرکے لائی ہوں آپ کے لئے ۔۔آپ نواب کے نخرے میں ختم نہیں ہورہے “
اسفندیار خان مسکرائے بغیر نہ رہ سکا مگر اس نے ظاہر نہیں کیا
” احسان کرنے کی ضرورت نہیں ہے مجھ پر لے جائو دودھ کا گلاس”
وہ جان بوجھ کر آہستگی سے بولا ۔۔
زرگل کا دل پگھل گیا ۔۔
ایسی حالت میں اسکو اسفند کے ساتھ جھگڑا نہیں کرنا چائیے تھا ۔۔
” میں کوئی احسان نہیں کررہی ۔۔ بس فکر ہورہی تھی اسی لئے ۔۔۔”
وہ ہولے سے بولی
اسفند نے آنکھوں سے بازو ہٹا کر دیکھا ۔۔
رعب سے اسکے آگے ہاتھ پھیلایا ۔۔
زرگل تو اسکے تیور ہی دیکھتی رہ گئی ۔۔
اس نے خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ہوئے اسکے ہاتھ پر ٹیبلٹ رکھ دی ۔۔۔
” جائو یہاں سے جھگڑا کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں سر میں درد ہورہا ہے میرے “
” ہونہہ بلا وجہ کے ڈرامے “
وہ منہ چڑاتے ہوئے بولی اور اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔
” واقعی اسکے سر میں درد ہورہا ہوگا ؟ بے چارہ “
وہ بے چین ہوئی تھی ۔۔۔
” سر دبا دوں آپ کا ؟ “
وہ دوبارہ کمرے میں آئی تھی
اسفندیار نے بے ساختہ مسکراہٹ چھپانے کے لئے رخ موڑ لیا ۔۔
” آپ کی تشریف آوری کا مقصد ؟ “
انتہائی سنجیدگی سے پوچھنے لگا
” وہ ۔۔۔سر ۔۔۔دبا دوں اگر زیادہ درد ہو رہا ہے تو “
زرگل کنفیوژ سی ہوکر بولی
” ہوں ” وہ مخصوص لہجے ہنکار کر اسے جگہ دی تھی ۔۔
دل ہی دل وہ حیرت زدہ اور خوش بھی تھا ۔۔
اسے اندازہ نہیں تھا زرگل اندر سے اتنی نرم دل اور احساس کرنے والی ہوگی ۔۔
وہ آہستگی سے اسکا سر دبانے لگی ۔۔
اسفند کو اسکی موجودگی میں نیند نہیں آسکی
مگر زرگل اسکا سر دباتے دباتے وہیں سو چکی تھی ۔۔
” پاگل لڑکی”
اسفند نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا تھا ۔۔
اسکے سر کے نیچے تکیہ رکھتے ہوئے کمفرٹر اوڑھا دیا ۔۔


وہ اگلے دن شام کو تھکا ہوا واپس آیا تھا ۔۔۔
زرش اسے حویلی میں کہیں بھی نظر نہیں آئی تھی ۔۔
اسکے پوچھنے پر ملازمہ کہنے لگی
” وہ جی چھوٹی بی بی کو تو کل رات سے بخار ہے آج صبح ڈاکٹر صاحبہ آئی تھی چیک اپ کرنے ۔۔بی بی جی اب بہتر ہیں سورہی ہیں “
وہ پریشان سا ملازمہ کی بات سن کر اندر آیا تھا ۔۔
وہ بس زرا سا مزہ چکھانا چاہتا تھا اپنی محبت کی قدر کروانا چاہتا تھا
نہیں جانتا تھا وہ جذباتی لڑکی اتنا سیرئس لے گی اسکی باتوں کو ۔۔
وہ بیڈ پر اسکے نزدیک بیٹھ گیا ۔۔
پیشانی چھو کر دیکھی تو بخار کم تھا ۔۔
” بیوقوف لڑکی ۔۔ اگر اتنا ہی اثر رکھتا ہوں میں تمہارے دل پر تو میری محبت کیسے نہیں اثر کرتی تم پر “
وہ ہاتھ کی پشت اسکے گال پر رگڑتے ہوئے جذب سے کہہ رہا تھا
اس بات سے بے خبر کہ وہ جاگ گئی تھی
اب اسکے لئے مشکل تھا نہ تو وہ اس کھیل کو جاری رکھ سکتی تھی نہ ہی آنکھیں کھول سکتی تھی
دراب خان نے جھک کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔
اسکے کلون سے اٹھتی مہک اور اسکے قرب و جوار کے لمس کی حرارت سے بے قابو ہوکر اس نے ایکدم آنکھیں کھول دیں اور پیچھے ہوتی ہوئی بیڈ کروائوں سے لگ گئی ۔۔
دوپٹہ پتا نہیں کہاں تھا ۔۔
سانسیں تیز تیز چل رہی تھی ۔۔۔
وہ نظریں نہیں ملا پارہی تھی اس سے
” جاگ رہی تھی تم؟ “
اسکا سر پہلے ہاں اور پھر ناں میں ہلا ۔۔
دراب خان کے عنابی لبوں پر مسکراہٹ بکھری ۔۔
” بخار چڑھنے کی کوئی خاص وجہ ؟ “
اسکے چہرے کی لٹھ کو انگلی پر لپیٹتے ہوئے پوچھنے لگا
” م۔۔۔موسمی ۔۔ بخار ہے “
” کونسا موسم ۔۔؟ دل کا یا پھر “
اس نے جان بوجھ کر اس پر جھکتے ہوئے معنی خیز سرگوشی کی ۔۔
زرش کے لئے اسکی اتنی قربت سہنا بس میں نہیں تھا ۔۔اسکی بولتی بند ہوچکی تھی ۔۔
جواب نہ پا کر اسے ایکدم غصہ آگیا۔۔
” ڈرتی کیوں ہوں مجھ سے ؟ “
اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر نزدیک کرتے ہوئے ہرگز بھی نرم لہجہ نہیں تھا اسکا
زرش کی آنکھیں بھرا گئیں ۔۔۔
” خبردار “
اس نے گرفت تنگ کرتے ہوئے جھٹکا دیا
“اگر تم روئی نا ۔۔ باخدا آج وہ کروں گا تمہارے ساتھ جو تم نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا ہوگا زرش “
اسکی دھمکی کا اثر تھا کہ اس نے دونوں ہاتھ لبوں پر سختی سے جما لئے ۔۔
” گڈ گرل “
اس نے جھک کر اسکے ہاتھوں پر بوسہ دیا تھا ۔۔
” کپڑے نکالو میرے ،فریش ہونے کے بعد کھانا کھائو گا میں ” وہ اسکا موڈ خراب کر چکی تھی ۔۔
جس کی سزا یہ تھی کہ اب اسے بخار میں بھی اسے سارے کام اپنے ہاتھوں سے سر انجام دینے تھے ۔۔
۔
To be continued .