Lams E Hararat by Rameen Khan readelle50030 Episode 08
Rate this Novel
Episode 08
رات اچانک مورے جان کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی ۔۔۔ انہیں ایمرجنسی میں ہاسپٹل لے جانا پڑا تھا ۔۔
پوری رات اس نے انتظار میں گزاری تھی
وہ مسلسل دراب کے فون پر کالز کررہی تھی
مگر اسکا نمبر آف جا رہا تھا ۔۔۔
تھک کر وہ لائونج میں پڑے صوفے پر ہی نیم دراز ہوگئی ۔۔صبح چھ بجے کے قریب کہیں جا کر مورے کی کنڈیشن اسٹیبل ہوئی تو وہ گھر آیا تھا ۔۔۔
زرشالہ کو لائونج میں سمٹ کر سوتا دیکھ کر اس پر گھڑوں پانی بھر گیا ۔۔۔
وہ کتنی پریشان ہوگی اس نے فون بھی آف کر دیا تھا ۔۔
وہ صوفے پر ہاتھ پھیلا کر اسکے بلکل قریب نیم دراز ہوگیا اور اسکی پلکوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگا
اسکے کلون کی مہک سے زرش کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔
وہ ایکدم سیدھی ہوئی تھی مگر دراب نے کھینچ کر اسے قریب کرلیا ۔۔
” بہت ظالم ہو نیند میں بھی اپنے قریب نہیں آنے دیتی ہو”
وہ ایک لمبی سانس کے زریعے اسکی خوشبو سینے میں اتارتے ہوئے تھکے تھکے لہجے میں بولا
” مورے جان کیسی ہیں ؟ “
وہ بمشکل خود کو سنبھالتی ہوئی پوچھنے لگی ۔۔۔
دراب کی قربت میں اسکا سانس لینا محال تھا ۔۔۔
” ٹھیک ہیں “
وہ بغور اسکے چہرے کو نظروں کے حصار میں لئے بولا ۔۔ زرشالہ کے لئے اسکی بولتی نگاہوں کا مقابلہ کرنا ناممکن تھا
” آپ تھک گئے ہوں گے میں آپ کے لئے ۔۔۔”
” کب تک بھاگو گی اور مجھے اپنے پیچھے بھگائو گی ؟ “
وہ اسکی بات کاٹتے ہوئے بولا اور اسکا بازو کھینچ کر اپنے قریب بٹھا لیا ۔۔
” میں کیوں ایسا کروں گی “
وہ کنفیوژ سی ہونے لگی
” قربان جائوں تمہاری معصومیت پر زرش۔۔ “
وہ تنزیہ مسکرایا ۔۔
زرش نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔
اسے لگا اس نے اپنی زندگی میں اتنا خوبصورت مرد نہیں دیکھا ہوگا ۔۔۔
گوری بے داغ رنگت ، چمکدار آنکھیں ، گھنے سیاہ ریشمی بال ، ہلکی بڑھی ہوئی شیو ،
وہ مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا ۔۔۔۔
اس میں کوئی کمی نہیں تھی ۔۔
پڑھا لکھا بھی تھا ، اسکی عزت ،محبت بھی کرتا تھا
پھر وہ دل لگا نہیں پا رہی تھی ۔۔
دراب نے اسے قریب کھینچ کر کان میں کہنے لگا
” تم میرے ضبط کو آزما رہی ہو زرش ۔۔ جس دن میرا ضبط جواب دے گیا اس دن میں دوسری شادی کرلوں گا ، محبت گئی بھاڑ میں ۔۔ پھر رہنا تم اپنی انا میں خوش”
زرش ساکت بیٹھی رہ گئی۔۔۔
دراب اسکی پرواہ کیئے بغیر بے رخی سے اٹھا اور فریش ہونے کے بعد کھانا کھانے بغیر دوبارہ ہاسپٹل چلا گیا
جبکہ وہ کھانا ڈائننگ ٹیبل پر لگائے اسکا انتظار کرتی رہی مگر دراب سخت خفا ہو چکا تھا ۔۔
زرش بمشکل آنسو پیتی وہیں بیٹھ گئی ۔۔۔
مورے جان کی طبیعت پل بھر ٹھیک رہتی تو
اگلے ہی لمحے بگڑ جاتی
وہ مسلسل اسفند کو یاد کررہی تھی ۔۔۔۔
دراب اور بابا جان اپنی انا میں اسفند کو کال نہیں کررہے تھے ۔۔ اس بات کی خبر زرشالہ کو ہوئی تو اسے دکھ پہنچا تھا اس نے اسفند یار کو کال کرکے مورے کی کنڈیشن کے متعلق بتا دیا تھا ۔۔
اسفند کے تو چھکے چھوٹ گئے اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ۔۔
وہ جیسے تیسے کرکے ہاسپٹل پہنچا تھا ۔۔
بابا جان اسے دیکھتے ہوئے بہت غصے سے بڑبڑاتے ہاسپٹل سے نکل گئے تھے مگر دراب نے ایسا نہیں کیا تھا ۔۔۔
اسے انا سے زیادہ ماں عزیز تھی ۔۔
۔اسفند مورے جان سے ملا تو ان کی حالت میں کچھ بہتری آئی تھی مگر وہ مسلسل ایک ہی ضد لگائے بیٹھی تھی ۔۔۔
‘ ضوفشاں سے شادی کرلو ‘
‘ گھر واپس آجائو’
اور اسفند یار کو باتیں ہی نہیں مان سکتا تھا ۔۔
مورے جان نہیں چاہتی تھی کہ بابا جان اسے جائیداد سے عاق کردیں ۔۔
مگر اسفند یہ بات نہیں جانتا تھا کہ مورے جان اتنا دبائو کیوں ڈال رہی ہیں ۔۔۔
جب اسے پتا چلا وہ ایک دم آئوٹ ہوگیا ۔۔
” میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی دولت اور جائیداد پر مورے جان ۔۔۔اگر بابا جان مجھے عاق کرنا چاہتے ہیں تو کرنے دیں ۔۔ آپ ٹیشن مت لیں ۔۔میرے زور بازو میں ابھی اتنا دم ہے کہ خود محنت کرکے اپنے اخراجات اٹھا سکوں “
” نہیں اسفی نہیں ۔۔ تم نہیں جانتے بیٹا ۔۔۔میرا گھر بکھر جائے گا ۔۔ اک بیٹا تو پہلے ہی کھو چکی ہوں ۔۔ تمہیں کیسے کھو دوں۔ ۔ اس گھر کو بکھرنے سے بچا لو بیٹا ۔۔ اک ماں تم سے فریاد کررہی ہے ۔۔ “
وہ دوپٹہ پھیلاتے ہوئے رو پڑیں ۔۔
اسفندیار خان کا دل چاہا زمین میں گڑھ جائے ۔۔
” ٹھیک ہے آپ جیسا چاہتی ہیں ویسا ہی ہوگا مورے “
اس نے خود کو کہتے سنا تھا ۔۔
مورے نے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم لی
اور وہ شکستہ قدموں میں سے وہیں کرسی پر ڈھے گیا ۔۔ اس نے نہیں سوچا تھا یہ سب ہوجائے گا ۔۔
زرگل کو کیسے سنبھالے گا ؟ کیا جواب دے گا؟ اسکا زہن مائوف ہونے لگا تھا ۔۔
مورے کی طبیعت اب بہتر تھی ۔۔
بابا جان نے اسے زبردستی گھر بھیج دیا تھا ۔۔۔
وہ فریش ہوئے بغیر ہی سو گیا تھا ۔۔
نہ ہی اس نے زرشالہ سے ملنا ،اسے دیکھنا ضروری سمجھا ۔۔ جبکہ وہ ہمیشہ گھر آنے کے بعد اسکے پاس آتا تھا ۔۔
اسکے دل میں ہونک سی اٹھی تھی ۔۔
وہ اپنے ہاتھوں سے اسکی محبت گنوا رہی تھی ۔۔۔
شاید وہ غلط کررہی تھی ۔۔
وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی اس میں کچھ غلط نہیں تھا مگر وہ اپنی ازدواجی زندگی بھی تو شروع کرسکتی تھی
اسے بگاڑ نہیں سکتی تھی ۔۔
مگر یہ سب وہ دراب سے کیسے کہتی ۔۔
اسکے آگے تو اسکی بولتی بند ہوجاتی تھی ۔۔۔
پتا نہیں وہ کیسا ری ایکٹ کرے گا ۔۔
اسے آگے پڑھنے کی اجازت دے گا بھی یا نہیں ۔۔
یہ سوچتے سوچتے کب وہ اسکے پاس بیٹھی اسے پتا نہیں چلا ۔۔
وہ سو رہا تھا ۔۔
زرشالہ نے اسکے ریشمی بالوں میں سے انگلیاں گزاریں تو اسکی آنکھ کھل گئی ۔۔
بہت غصے سے سرخ سرخ آنکھوں سے گھورتے ہوئے اسکی کلائی بھنچ لی۔۔
اک تو وہ اس سے ناراض تھا ۔۔دوسرا نیند کھل جانے کا غصہ ۔۔
” آئندہ مجھے ہاتھ مت لگانا ۔۔ دور رہا کرو مجھ سے “
وہ غصے سے غرایا اور اسکا ہاتھ بے دردی سے جھٹک کر رخ موڑ گیا ۔۔۔
زرش کی آنکھیں اسکے سنگدلانہ انداز پر آنسوئوں سے بھر گئیں ۔۔ و
ہ کبھی اتنے غصے سے مخاطب نہیں ہوا تھا خاص طور اس سے ۔۔
” جائو یہاں سے “
وہ اتنی زور سے چیخا کہ زرش کانپ اٹھی ۔۔۔
وہ تیزی سے اٹھی اور باہر نکل گئی ۔۔
” بیوقوف لڑکی۔سوتے دیکھ کر اسکی محبت جاگ جاتی ہے ” دراب بڑبڑاتے ہوئے آنکھوں پر تکیہ رکھ کر لیٹ گیا ۔۔
وہ تھکا تھکا سا شکستہ اعصاب کے ساتھ گھر پہنچا تھا ۔۔ڈائننگ ٹیبل پر بھی وہ گم سم سا تھا ۔۔
زرگل نے اسے دو تین بار متوجہ کیا
مگر اس نے ہوں ہاں میں جواب دیا ۔۔
وہ اسکی غائب دماغی نوٹ کرتے ہوئے بولی تھی
” کسی بات کی پریشانی ہے آپ کو ؟ آپکا چہرہ اترا ہوا ہے “
” نہیں کوئی بات نہیں ہے “
وہ ٹال گیا
” آپ کے چہرے سے صاف ظاہر ہے نہ بتائیں تو وہ الگ بات ہے”
وہ ابرو آچکا کر کہتی کھانے میں طرف متوجہ ہوئی
” اب تم میرا چہرہ بھی پڑھنے لگی ہو “
وہ اسکا دھیان بھٹکانا چاہتا تھا۔۔
اسے یہ تو نہیں کہ سکتا تھا کہ مورے جان کو اس گھر میں لوٹ جانے کا وعدہ دے آیا ہے ۔۔
جبکے بابا جان نے یہ شرط رکھی تھی کہ اسفند یار اسی صورت اس گھر میں واپس آسکتا تھا کہ جب وہ ضوفشاں سے نکاع کرلیتا ۔۔
وہ جانا نہیں چاہتا مگر مورے کی کنڈیشن نے اسے مجبور کردیا تھا ۔۔اب وہ مرتا کیا نہ کرتا اسے سب کچھ کرنا پڑا ۔۔آخر جو کچھ بھی اسکی ماں کی زندگی سے زیادہ امپورٹنٹ نہیں تھا ۔۔چاہے اسکی اپنی زندگی اور محبت بکھر جاتی ۔۔
” جی آپ کے ساتھ رہتے رہتے اتنا تو سیکھ ہی چکی ہوں ” وہ مان سے بولی تھی
” چلیں اب بتائیں کیا بات ہے “
” مورے جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ ایمرجنسی میں ایڈمٹ ہیں اور ایک ہی ضد کررہی ہیں کہ میں گھر واپس آجائوں “
اس نے آدھا ادھورا سچ بتایا
” تو آپ کو جانا چائیے کیا آپ کی انا آپ کی ماں سے زیادہ امپورٹنٹ ہے “
” نہیں مگر “
” مگر کیا ؟ “
وہ کہتے کہتے رک گیا ۔۔ اسے کیسے بتاتا کہ وہ دوسری شادی کروانا چاہتی تھی اسکی ۔۔
وہ زرگل کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا اس سے محبت کرنے لگا تھا ۔۔
” بتائیں بھی ؟ “
اس نے ضد کی
” کچھ نہیں بس ۔۔تم بچوں کا خیال رکھنا میں مورے جان کے پاس ہاسپٹل جائوں گا شاید رات لیٹ آئوں “
وہ بات ٹال گیا ۔۔
زرگل کو اسکا لہجہ بدلا بدلا سا لگ رہا تھا مگر وہ نظرانداز کرگئی ۔۔۔
ضوفشاں سمیت چچی جان اور بابا جان اور مورے جان کے مذاکرات چل رہے تھے ہاسپٹل کے روم میں۔۔۔
بابا جان کی شرط تھی کہ اسفندیار خان نہ صرف اس گھر میں واپس آئے بلکے ضوفشاں سے شادی بھی کرے
تو اسے جائیداد سے عاق نہیں کیا جائے گا
مگر اسفندیار خان یہ ماننے کو تیار نہیں تھا ۔۔
وہ مورے جان کی وجہ سے اس گھر میں آنے کے لئے تیار ہوا تھا ۔۔ مگر ضوفشاں سے شادی کرنا اسکے بس میں نہیں تھا پھر چاہے اسے جائیداد سے سو بار عاق کیا جاتا اسے فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔
مگر بابا اسکا گھر آنا اسی صورت قبول کررہے تھے جب وہ ضوفشاں سے شادی کرتا ۔۔۔
ضوفشاں کے تو پیر زمین پر میں نہیں پڑ رہے تھے ۔۔
حالات یوں اسفندیار خان کو ڈھیر کردیں گے اس نے سوچا نہیں تھا وہ تو ہوائوں میں اڑ رہی تھی ۔۔۔
” اس گھر تو ٹوٹنے سے بچا لو اسفی ۔۔اپنی ماں کی بات مان لو میرے بچے ۔۔ اللہ تمہیں ڈھیریوں خوشیوں اور سکون سے نوازے گا میرے بچے ۔۔ تمہارے باپ تو ساری عمر کسی کے سامنے نہیں جھکا ۔۔چلو تم ہی جھک جائو ۔۔رشتوں میں اتنا تو چلتا ہی ہے ۔۔”
اگر وہ میرا باپ ہے تو میں بھی انہی کی اولاد ہوں مورے جان۔۔ آخر میرا قصور کیا ہے بتائیں ! جو وہ اس طرح سے مجھے خوار کررہے ہیں ایسی شرطیں رکھ رہے جو میں نہیں مان سکتا وہ مجھے جھکانا چاہتے ہیں ۔۔شکست دینا چاہتے ہیں اور ایسا نہیں ہوگا “
وہ گرج کر بولا ۔۔
” تو نکل جائو میرے گھر سے “
بابا جان کی گرجدار آواز بتا رہی تھی کہ وہ سب کچھ سن چکے ہیں
” میں اپنی مرضی سے نہیں آیا یہاں “
وہ چلا جاتا مگر مورے جان نے اسکا بازو سختی سے بھنچ رکھا تھا ۔۔
” ہونہہ ۔۔دولت کی چمک دمک اور اس گھر کا عیش و آرام تمہیں یہاں کھینچ لایا صاحبزادے “
بابا جان رعب سے بولے تو وہ تنزیہ ہنسا
” آپ مجھے بچہ سمجھتے ہیں ۔۔ میں اس قابل ہوں کہ اپنے لئے مال و دولت خود کما سکوں ۔۔ میں آپ کی دولت پر ۔۔۔”
” اسفی نہیں ۔۔۔ “
مورے جان نے سختی سے اسے کہنے سے روکا تھا ۔۔
بابا جان بہت غصے میں تھے ۔۔۔
” اسفی شادی کرنے کے لئے تیار ہے “
مورے جان نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔
اسفندیار بے یقینی سے ماں کا چہرہ دیکھنے لگا ۔۔
” میں ضوفی سے شادی نہیں کروں گا “
” تم چپ کرو اگر اک لفظ بھی اور کہا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے “
اسفندیار بے بسی سے ان کے چہرے پر چھائی سختی دیکھتا رہ گیا ۔۔
اک پل میں اسکی زندگی کی کایا پلٹ چکی تھی ۔۔ وہ افسوس کے سوا اور کچھ نہ کر سکا ۔۔
۔
۔
