Lams E Hararat by Rameen Khan readelle50030 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
وہ صبح صبح ہی اٹھ گئی تھی نماز پڑھنے کے بعد
اس نے اپنے لئے چائے کا کپ بنایا اور
لے کر باغیچے میں آگئی گوکہ بہت ٹھنڈ تھی
مگر اسے اچھی لگ رہی تھی ۔۔۔
اسی لمحے اسکے فون کی بپ بجی۔۔
میسیج غیر شناسا نمبر سے تھا ۔۔
وہ چونک گئی ۔۔
مگر دوسرے ہی لمحے اسفندیار خان کی تصاویر کو دیکھ کر اسکا دماغ گھوم گیا ۔۔۔
اس نے بے یقینی سے کپ ٹیبل پر رکھ کر تصویر کو زوم کرکے دیکھا تھا ۔۔۔
یہ وہی لڑکی تھی اسفندیار کی منگیتر
جسے اس نے ہاسپٹل کے باہر اسفند کے ساتھ دیکھ تھا ۔۔ مگر ۔۔۔
ایسی بیہودہ تصاویر ۔۔۔
اسفندیار سو رہا تھا اور ضوفشاں اس پر جھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔
اسکے تن بدن میں غصے کی لہریں دوڑ گئیں ۔۔۔
” شادی کی مبارک نہیں دو گی!”
پیغام دیکھ کر تو اسکا دماغ ایکدم سے آئوٹ ہوا تھا ۔۔۔
اس نے فون مٹھی میں بھنچ کر ٹیبل پر پھینک دیا ۔۔۔
دل کررہا تھا چیخ چیخ کر سر آسمان پر اٹھا لے ۔۔۔
آنسو مسلسل آنکھوں سے بہہ رہے تھے ۔۔۔
” اسفند رات گھر آئے تھے؟ “
اس نے کنفرم کرنے کے لئے ملازم سے پوچھا تھا
” جی بی بی وہ کہہ کر گئے تھے کہ اگر آپ پوچھیں تو میں آپ کو بتا دوں کہ انہیں ایمرجنسی میں طلب کیا گیا تھا وہ میس جارہے ہیں “
” ایسا کہا اس نے “
اسنے غصے سے بے قابو ہوکر گرم گرم چائے کا کپ اٹھا کر دیوار میں دے مارا ۔۔
اسفندیار خان اتنا بڑا دھوکا دے گا اسے یقین نہیں آرہا تھا ۔۔
وہ آنسو پیتی ہوئی اپنے کمرے میں بند ہوگئی ۔۔۔
اس نے پورا دن نہ بچوں کی شکل دیکھی تھی
نہ خود کھانا کھایا
نہ ہی ان کی کوئی خبر لی ۔۔
پورا دن انتظار کرنے کے بعد جب اسفندیار نہیں آیا تو
بہت غصے میں اس نے بیگ پیک کیا
اور اماں کے گھر چلی گئی ۔۔۔
جب اسکی اوقات اس گھر میں کسی آیا
اور نوکرانی کی سی تھی
تو وہ کیوں وہاں رہ کر اسکی خدمتیں کرتی ۔۔
صلہ تو ملنے سے رہا ۔۔
الٹا اسکے شوہر نے دوسری شادی رچا لی تھی ۔۔
پہلے ہی اس نے دو بچوں کو بمشکل قبول کیا تھا
کہ معصوم بچوں کا کوئی قصور نہیں تھا ۔۔۔
جنہوں نے پیدا ہوتے ہی ماں باپ کو کھو دیا تھا ۔۔۔
اس نے مشکل سے اس بات پر خود کو راضی کیا تھا ۔۔
پورے دل سے ان کی دیکھ بھال کررہی تھی
مگر اسفندیار خان نے اسکی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھایا تھا ۔۔۔
اسے استعمال کرنا چاہا تھا ۔۔
اسکے جذباتوں سے کھلواڑ کیا تھا ۔۔۔
غصے میں وہ بھی سارے لحاظ بھلا کر
اس گھر سے چلی گئی ۔۔
اس نے بچوں کا بھی خیال نہ کیا ۔۔۔
وہ شادی کے انتظامات سمیٹ کر بہت لیٹ گھر پہنچا تھا تب تک سب اپنے اپنے کمروں میں دبک کر سو چکے تھے ۔۔ گھڑی رات کے دو بجا رہی تھی۔۔۔
اس نے مصروفیت کے باعث کچھ کھایا بھی نہیں تھا ۔۔
زرشالہ صوفے پر نیم دراز تھی
یا شاید اسکا انتظار کرتے کرتے سو گئی تھی ۔۔
آج اسکا ری ایکشن دیکھ کر دراب کی ساری ناراضگی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
“ذرش ۔۔۔ذرش۔۔! “
اس نے آہستگی سے اسے پکارا ۔۔
وہ نہیں اٹھی تو دراب کو شرارت سوجھی ۔۔۔
اس نے جھک کر لبوں کے کونے پر لب رکھ دیئے ۔۔۔
اسکے لمس کی حرارت سے اس نے ایکدم آنکھیں کھول دیں ۔۔۔
” آپ کب آئے “
” بہت پہلے سے ۔۔ دو گھنٹے ہونے والے ہیں “
اس نے شرارت سے کہا
” کیا کررہے تھے آپ ! “
اس نے اسکے جھوٹ کو سچ مانتے ہوئے گھبرا کر پوچھا
” وہی جو تم سوچ رہی ہو “
اس نے شرات سے کہا تو زرش کا رنگ اڑ گیا ۔۔۔
” مزاق کررہا ہوں ۔۔ بہت بھوک لگی ہے ۔۔تم کھانا گرم کرو میں فریش ہوکر آتا ہوں “
وہ اسکی بسورتی صورت دیکھ کر اسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرکے اسکی گال پر بوسہ دیتے ہوئے اٹھ گیا ۔۔۔
زرش گھانا گرم کرکے ڈائننگ پر لگا چکی تھی
اسے کمرے میں بلانے آئی تو واشروم سے نکل رہا تھا ۔۔۔
اسی وقت لمحے اسکا فون بجنے لگا ۔۔۔
غیر سناشا نمبر تھا
مگر رات کے اس وقت کوئی ضروری کال بھی ہوسکتی ہے اس نے سوچ کر فون اٹھالیا ۔۔
دوسری طرف ضوفشاں کی دوست عالیہ تھی ۔۔
اس نے زرش کو جلانے کے لئے فون نمبر تو دے دیا
مگر وہ ان کاموں میں بلکل بھی دلچسپی نہیں رکھتا تھا ۔اس نے کال اگنور کردی اور
ڈائننگ ہال کی طرف بڑھا ۔۔
کھانا کھاتے وقت مسلسل اسکی کالز آرہی تھی ۔۔
دراب کو اب غصہ آرہا تھا
اور اس سے زیادہ غصہ زرشالہ کو آرہا تھا ۔۔
اسے فون سائیلنٹ پر لگا دینا چائیے تھا ۔۔
زرشالہ کی تپی تپی صورت دیکھ کر اس نے تنگ کرنے کے ارادے سے فون پک کرلیا تھا۔۔
” آپ نے جھوٹ بولا ہے ۔۔دل توڑا ہے آپ نے میرا “
وہ چھوٹتے ہی بولی
” کیوں بھئی ” وہ خوش مزاجی سے گویا ہوا
” آپ شادی شدہ ہیں آپ نے بتایا کیوں نہیں مجھے “
وہ شکوہ کررہی تھی
” تمہیں خوشی نہیں ہوئی یہ بات سن کر “
” بلکل نہیں ” فوراً جواب آیا تھا
” سچ بتائوں تو میں بھی خوش نہیں ہوں شادی کرکے ۔۔ سوچ رہا ہوں کیوں یہ جھنجھٹ سر لیا ۔۔سنگل ہی اچھا تھا ۔۔۔تم کیا کہتی ہو “
اس نے زرش کی صورت بغور دیکھتے ہوئے مزے سے کہا جو کچھ دور کافی بناتے بناتے رک گئی تھی
“کاش آپ مجھے پہلے مل جاتے تو میں آپ کو غلطی کرنے ہی نہ دیتی “
عالیہ کی حسرت بھری آواز آئی ۔۔
” میں بھی یہ غلطی کرکے پچھتا رہا ہوں “
اسنے بمشکل لب دباتے ہوئے کہا
” آپ کی کافی “
زرش نے زور سے کافی ٹیبل پر پٹختے ہوئے اسکی توجہ دلائی ۔۔اسکی صورت دیکھنے لائق تھی ۔۔
دراب نے بنا دیکھے کال بیچ میں کاٹتے ہوئے اسے دیکھا
” تمہیں کیا ہوا ! “
” آپ سے مطلب ! ” وہ جل کر راکھ ہوگئی
“ہاہاہا ۔۔ مجھ سے ہی تو مطلب ہیں سارے “
اس نے ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
” مگر مجھے آپ سے کوئی مطلب نہیں ہے”
اس نے ہاتھ چھڑایا
” تم ناراض بھی ہوتی ہو ؟ “
دراب کو اس پر پیار آنے لگا ۔۔
اس نے کھینچ کر اسکے بانہوں میں بھنچ لیا ۔۔
” چھوڑیں کوئی دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا “
زرش کے اوسان خطا ہونے لگے
” یہی سوچے گا کہ میاں بیوی رومینس کررہے ہیں ڈسٹرب نہ کیا جائے “
” کیسی باتیں کررہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے “
وہ اسکی بانہوں میں مچلی
مگر دراب نے اسکی مزاحمت کو اگنور کرتے ہوئے اسکی کمر کے گرد کس کر بازو کا حصار باندھ لیا ۔۔
صبح ہوتے ہی وہ گھر کے لئے نکل گیا تھا ۔۔
صوفشاں نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں تھی
لیکن اندر ہی اندر وہ جاننے کے لئے بے تاب تھی
کہ زرگل نے ابھی تک اسفندیار کو کال کیوں نہیں کی ۔۔
یا شاید اسکی آنکھوں نے ہی غلط دیکھا تھا
ان دونوں کے درمیان تعلق اتنا بھی مظبوط نہیں تھا کہ ضوفشاں ان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے اپنی جگہ نہ بنا سکتی ۔۔
ڈائننگ ٹیبل پر سب لوگ ناشتہ کے لئے جمع تھے
علاوہ دراب کے وہ دیر سے لوٹا تھا
اس لئے سورہا تھا ۔۔
“ہممم۔۔ اسفند کہاں ہے ۔۔ “
بابا نے گلا کھنگارتے ہوئے پوچھا تو ضوفی نے منہ لٹکا لیا
” وہ یہیں ہے بابا جان “
اس نے جان بوجھ کر بات گھمائی
” یہیں ہے تو اسے بلائو کھانے پر “
انہوں نے حکم دیا تو ضوفشاں نے سر جھکالیا ۔۔
بابا جان چونک گئے
” کیا ہوا بیٹا ؟ کوئی بات ہوئی ہے تم لوگوں کے درمیان ؟ “
” وہ بابا جان ساری رات ان کی بیوی کے فون آتے رہے ۔۔ اور صبح ہوتے ہی وہ نکل گئے “
اس نے آہستگی سے کہا ۔۔
بابا جان ایک دم اشتعال میں آگئے ۔۔
ڈائننگ ٹیبل پر غصے سے مکہ رسید کرتے ہوئے اٹھے اور مورے جان کے کمرے میں جاکر اسفندیار کی حرکت پر ان پر گرم ہوتے رہے اور غصے میں یہ جا وہ جا ۔۔
زرشالہ مورے جان کو دوا دے کر بہت مشکلوں سے سلا کر اسکے پاس آئی تھی
” تمہیں شرم نہیں آتی ضوفی ۔۔بلکل ہی بے شرم ہوگئی ہو کیا ضرورت تھی بابا جان کو یہ بات بتانے کی کہ رات تمہارے درمیان کیا ہوا ۔۔ تمہیں مورے جان کی طبیعت کی زرا بھی پرواہ نہیں ہے کچھ تو خیال کرو ۔۔وہ بھی تمہاری ماں کی طرح ہیں”
” میں صبح صبح لیکچر سننے کے موڈ نہیں ہوں زرش ۔۔جائو ملازمہ سے کہو میرے لئے اچھا سا ناشتہ بنائے اور کمرے میں بھیج دے “
” زرش تمہاری نوکر نہیں ہے”
دراب سب کچھ سن چکا تھا ۔۔۔
اسے بھی یہ بات پسند نہیں آئی تھی ۔۔
مورے جان کی طبیعت پہلے ہی ناساز تھی
وہ نہیں چاہتا تھا اسفی اور ضوفی کی وجہ سے اور خراب ہو ۔۔
” زرش تم میرے لئے ناشتہ بنائو اور کمرے میں لے آئو”
وہ زرش کو حکم دے کر فریش ہونے کمرے میں چلا گیا
” مجھے ضوفی سے امید نہیں تھی کہ وہ مورے ساتھ ایسا کرے گی ۔۔۔وہ تو اپنی ہے ہماری۔۔ کم از کم وہی خیال کرلیتی”
زرش ناشتہ لگا رہی تھی
جب دراب نے ڈریسنگ سے برش اٹھا کر بالوں میں گھماتے ہوئے اس سے شکوہ ظاہر کیا ۔۔
” ضوفی تھوڑی سی سخت دل ہے اسے باتوں کا دیر احساس ہوتا ہے “
اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی بہن کی سائیڈ لی
” ایسے احساس کا کیا فائدہ جو وقت گزرنے کے بعد ہو ” دراب معنی خیزی سے بولا
وہ خاموش رہ گئی
” مجھے لگتا ہے ضوفی ہی نہیں تمہیں بھی دیر سے باتیں سمجھ آتی ہیں ۔۔دھیان رکھنا ۔۔کہیں زیادہ دیر نہ ہو جائے زرش ۔۔ کیونکہ وقت گزرنے کے بعد احساس بے معنی ہو جاتے ہیں “
وہ کہہ کر ناشتے کی طرف متوجہ ہوگیا
اور زرش کا دل پر بہت گہری طور پر اثر انداز ہوئی تھی دراب کی بات ۔۔
صبح جب بچوں کے کمرے میں آیا تو
زرگل وہاں سے جا چکی گئی ۔۔
اسکی غیر موجودگی محسوس ہوئی تھی
مگر پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی ۔۔
اسکے بعد وہ اسے پورا دن نظر نہیں آئی تھی ۔۔۔
“زرگل بی بی کہاں ہیں ؟ “
اس نے پوچھ ہی لیا آخر
” جی وہ تو اپنا سامان وغیرہ پیک کرکے صبح ہی بہت غصے میں یہاں سے چلی گئی “
اسفند کے اوسان خطا ہونے لگے
“تم نے مجھے اس وقت کال کیوں نہیں “
وہ غصے سے چیخا
” آپ کو بہت بار کال کی آپ نے اٹینڈ ہی نہیں کی صاحب”
وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا گاڑی کی چابی اٹھا کر عجلت میں وہاں سے نکلا ۔۔۔
” میں پوچھتی ہوں کیا ہوا ایسے منہ بنا کر کیوں بیٹھی ہے ۔۔جب سے آئی ہے ۔۔نہ کوئی بات کررہی ہے ۔۔نہ کوئی فرمائش کی ہے “
اماں نے اسکے بالوں میں ہاتھ گھماتے ہوئے پیار سے استفسار کیا تو اسکے کب سے رکے آنسو نکل پڑے ۔۔۔
” کوئی بات نہیں ہے اماں ۔۔کیا اب آپ سے ملنے بھی نہیں آسکتی میں ۔۔بس اداس ہوگئی تھی تو ملنے چلی آئی “
چلو اچھا کیا یہ تو ۔۔تم آرام کرو میں اچھا سا کھانا بناتی ہیں اپنی بیٹی کے لئے “
اماں بہت سادہ مزاج تھی اسکے جھوٹ پر یقین کرلیا ۔۔
ابھی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا ہی تھا کہ چھوٹے بھائی نے اسے آکر پیغام دیا
” آپا اسفی بھائی آئے ہیں “
اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا
” تو کیا سر پر بٹھا لوں”
اس نے نفرت سے کہا
” کیا ہوگیا آپا میں تو یونہی اطلاع دے رہا تھا کہ آپ کہیں مس تو نہیں کررہی ان کو “
” ہونہہ مس کرتی ہے میری جوتی”
اس نے سر مارا اور اٹھ کر چھت پر چلی گئی ۔۔
اسفند یار اماں سے ملنے کے بعد سیدھا اسکے پاس اوپر آیا تھا ۔۔
لاکھ لاکھ شکر تھا کہ اس نے گھر میں کچھ نہیں بتایا تھا وہ زرگل سے اس سمجھداری کی توقع نہیں کرتا تھا۔۔۔
مگر وہ بہت صبر والی ثابت ہوئی تھی ۔۔
اسکے دماغ میں بہت دیر سے یہ سوال گردش کررہا تھا کہ زرگل کو آخر خبر کس نے دی !
: ضوفشاں کو سلون جانا تھا وہ جب سے اپنی دوست عالیہ کا انتظار کررہی تھی ۔۔۔
جب بہت انتظار کے بعد وہ نہیں آئی تو وہ اسکے پاس آئی تھی ۔۔
” یہ کیا تم سارا دن گھر کے کاموں میں الجھی رہتی ہو۔۔۔کبھی یہ تو کبھی وہ .. چھوڑو سب ادھر آئو میرے ساتھ چلو”
ضوفشاں نے ذبردستی اسے کھینچ کر اپنے ساتھ کمرے سے نکالا ۔۔۔
” مگر کہاں لے جارہی ہو بتائو تو سہی “
ذرش بوکھلا گئی
” سلون جارہے ہیں ہم “
” مورے جان سے پوچھا تم نے “
اففف ذری بہت معصوم ہو تم ۔۔ کیا ہم قیدی ہیں ان کے جو ہر بات ان سے پوچھ کر کریں ” وہ اکتائی
” بات وہ نہیں ہے ضوفی وہ بڑی ہیں اس گھر کی “
“اچھا ٹھیک ہے ۔۔چچی جان سے پوچھ کر جلدی آئو ۔۔میں ڈرائیور کے ساتھ نیچے انتظار کررہی ہوں”
” مگر تم مجھے اپنے ساتھ لے جارہی ہو ضوفی اجازت بھی تم لو مورے جان سے “
” اففففف اوہ یار ۔۔۔اچھا جب تک میں پوچھتی ہوں ان سے ۔۔تم ریڈی ہوکر آئو”
ذرش سر ہلاتی ہوئی کمرے میں گئی ۔۔۔
” تم نے مورے جان سے کیا کہا تھا ؟ “
وہ لوگ سلون تقریباً پہنچنے ہی والے تھے جب زرش کو یاد آیا تو اسنے پوچھا
” کچھ نہیں میں نے کیا کہنا تھا ۔۔ چچی جان کہہ رہی تھی دراب غصہ کرے گا زرش سے کہو اس سے اجازت لے لے مجھے کوئی اعتراض نہیں “
” ک۔۔۔کیا ؟ تو تمہیں مجھے بتانا چائیے تھا ضوفی “
اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا ۔۔
وہ دراب کے غصے سے بہت ڈرتی تھی ۔۔
وہ کیا پورا گھر ہی اس کے غصے سے غائف تھا
” کم آن ضوفی بچی مت بنا کرو ۔۔۔ تم سب سمجھتی ہو ۔۔دراب کو زیادہ ہی سر چڑھا رکھا ہے تم ۔۔اپنے فیصلوں میں خود مختار ہو جائو دیکھنا وہ خود لائن پر آجائیے گا “
” ضوفی تم حد کرتی ہو”
اسے ٹینشن ہونے لگی تھی ۔۔
وہ اپنا سیل فون بھی گھر چھوڑ آئی تھی ۔۔
” تم دراب کو فون کرو اور اسے آگاہ کرو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں”
” بس بھی کرو یار ۔۔اغوا کرکے تھوڑی لے جارہی ہو تمہیں ۔۔۔ویسے بھی آدھے گھنٹے کا کام ہے پھر واپس چلیں گے ۔۔۔پریشان مت ہو “
ضوفی نے اسے ریلیکس کردیا ۔۔
تب جاکر اسکے چہرے ٹینشن کچھ کم ہوئی تھی ۔۔
” پھر بھی تم کال کردیتی تو اچھا ہوتا “
اس نے کہا مگر ضوفی فون میں مصروف ہوگئی اس نے دھیان نہیں دیا
” تم یوں اچانک آگئی گھر چھوڑ کر گل کم از کم میرے آنے تک کا انتظار کرلیتی ۔۔ بچوں کو اکیلا چھوڑ کر نہ آتی “
” آپ نے میرا خیال کیا تھا ۔۔ آپ نے دوسری شادی کرنے سے پہلے سوچا تھا کہ آپ ایسا کرکے مجھے اکیلا کر رہے ہیں “
نہ چاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھوں میں آنسو لگے ۔۔
” زرگل سمجھنے کی کوشش کرو میں تمہیں ۔۔”
” بس ” اس نے ہاتھ اٹھا کر روکا
” آپ مجھ سے جھوٹ بول کر جاتے رہے کہ آپ کی ماں بیمار ہیں اور حقیقت میں آپ یہ سب کررہے تھے “
” زرگل مورے جان سچ میں بیمار ہیں “
” تو آپ نے ماں کی بیماری کی خوشی میں شادی کی ہے ” وہ چیخ اٹھی ۔۔۔اسفند لب بھینچ کر رہ گیا
” پلیززز میری پوزیشن کو سمجھو گل میں خود بھی یہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔مورے جان نے مجبور کیا تھا مجھے “
وہ آگے بڑھا اور دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھام لیا ۔۔ زرگل نے نفرت سے اسکے ہاتھ جھٹک دیئے
” میری اوقات تو آپ کی نظر میں اک آیا کی طرح ہے اور یہ آپ نے ثابت کردیا ہے ۔۔ آپ کی منگیتر اور محبت تو ضوفشاں تھی جس سے آپ شادی کر چکے ہیں “
” نہیں زرگل ۔۔۔”
” جائیں اب آپ یہاں سے ۔۔مجھے آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنی ۔۔اور اپنے بچوں کو خود سنبھالئے گا کیونکہ میں اب واپس نہیں آئوں گی “
اس نے رخ موڑ کر کہا ۔۔
” زرگل مجھے مورے جان نے مجبور کردیا تھا “
وہ بے بس ہوا
” مگر میں مجبور نہیں ہوں اسفندیار خان ۔۔ میں ہرگز اک دوری عورت کو برداشت نہیں کروں گی ۔۔ اب کوئی فیصلہ ہوکر رہے گا ۔۔ یہ تم ڈیسائڈ کرو ۔۔ یا تو میں ۔۔یا پھر ضوفشںاں”
اس نے کہا اور اسے اکیلا چھوڑ کر نیچے چلی گئی ۔۔۔
اسفند یار کافی دیر وہاں کھڑا سوچتا رہا تھا ۔۔
” ارے جارہے ہو اسفی بیٹا کھانا تو کھا کر جائو “
اماں نے اسے جاتے دیکھا تو زرگل کو گھورتے ہوئے خود اسے روکا
” نہیں آنٹی میں بس زرگل سے کچھ ضروری کاغذات کا معلوم کرنے آیا تھا ۔۔ ابھی جلدی میں ہوں ۔۔معذرت چاہتا ہوں آنٹی “
اس نے زات کا بھرم رکھنے کی خاطر جھوٹ کو طول دی اور سر جھکا کر واپس آگیا۔۔
” سب بدل گئے مگر تمہاری عادتیں نہیں بدلی زرگل ۔۔ شرم کرو ۔۔داماد پہلی دفع گھر آیا تھا اور تم نے اک بار بھی کھانے کا نہیں پوچھا “
” فکر مت کریں اماں ۔۔یہ پہلی اور آخری مرتبہ آئے تھے “
” ہیں کیا مطلب ۔۔۔! “
وہ نا سمجھی سے پوچھنے لگیں ۔۔
” کچھ نہیں آپ جلدی سے کھانا تو لگادیں ۔۔بہت بھوک لگی ہے “
وہ بات کو ٹال گئی ۔۔۔
سلون میں انہیں اچھی خاصی دیر ہوچکی تھی ۔۔
ضوفی کی دوست عالیہ بھی آچکی تھی ۔۔
ان دونوں کا میک اوور کرتے کرتے انہیں اچھی خاصی دیر ہوچکی تھی ۔۔۔
پھر ضوفی نے اسے زبردستی کھینچ کر چیئر کی طرف دھکیلا ۔۔
اسکے ناں ناں کرنے کے باوجود اسکی
ہیئر کٹنگ ، مینی کیور ، پیڈی کیور کروایا تھا ۔۔
” دراب کو میرا بال کٹوانا پسند نہیں کے ضوفی “
اس نے یہ بات کوئی سو مرتبہ دہرائی تھی ۔۔
ہر بار کی طرح ضوفی نے اس بار بھی گھور کر اسے دیکھا تھا ۔۔
” دراب نہ ہوگیا ۔۔کیا ہوگیا زرش ۔۔ تم نے تو سر چڑھا لیا اس شخص کو ۔۔۔مردوں کو اتنا سر نہیں چڑھاتے۔۔۔ورنہ یہ جینا حرام کردیتے ہیں “
اسکی پھوٹی قسمت دراب اسی وقت بہت غصے کے عالم میں داخل ہوا تھا وہ سب کچھ سن چکا تھا ۔۔
بہت غصے میں آگے بڑھا تھا ۔۔
زرش کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔۔۔
” تمہاری خبر تو میں گھر جاکر لیتا ہوں “
اس نے غصے دانت کچکچاتے ہوئے
اپنی شال اتار کر زرش کے منہ پر پھینکی
جو چیئر پر براجمان تھی ۔۔
تازہ تازہ ہیئر کٹنگ کو آئرن کروایا تھا۔۔۔
اسکے ریشمی بال آزاد کندھوں کر جھول رہے تھے جو ہمیشہ چوٹی میں قید رہتے تھے ۔۔
زرش نے کپکپاتے ہاتھوں سے شال کو گرد لپیٹ لیا ۔۔۔
دراب نے سخت گرفت میں اسکی نازک کلائی دبوچی اور کھینچتے ہوئے گاڑی تک لے گیا ۔۔۔
پورے راستے وہ غصے سے تھر تھر کانپتے رہی تھی ۔۔
اس کی آنکھوں کی تپش سے اس سے نگاہ تک نہ اٹھائی گئی ۔۔
جاری ہے ۔
