64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

صبح وہ جاگنگ کے لئے اٹھا تو گل بے خبر سو رہی تھی۔۔۔اس نے بے ساختہ اسکے وجود سے نظریں چرائیں اور ٹریک سوٹ پہن کر باہر نکل گیا ۔۔۔
” کیسی پھیکی سی شادی ہے میری ۔۔۔ نہ کوئی ولیمہ ، نہ ویلکم ، نہ منہ دکھائی ،نہ ہنی مون ، اک سونے کے پنجرے میں لاکر قید کردیا ہے “
وہ گہرے دکھ اور تاسف سے بڑبڑا رہی تھی
اس بات سے بے خبر کہ اسفندیار خان دروازے کی چوکھٹ پر کھڑا سب کچھ سن چکا تھا ۔۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل پر سر رکھے بڑبڑا رہی تھی ۔۔۔
” بڑی اونچی اونچی خواہشات ہیں آپ کی”
اسکی آواز سن کر وہ ایکدم پلٹی تو وہ عین پیچھے ہی کھڑا تھا ۔۔
اسکی سفید گوری رنگت کسرت کے باعث ہلکی گلابی پڑ گئی تھی ۔۔
” اور حسرت بھی ہے دل میں تو وہ بھی بتادو ؟ ہنی مون ،منہ دکھائی، ولیمے ،ویلکم کے علاوہ؟”
وہ جھک کر اسکے کان کے قریب لے جاکر بولا۔۔
گل لاجواب ہوگئی
” بتائو ! ” اسفند نے آگے بڑھتے ہوئے پوچھا
وہ ایکدم قدم پیچھے اٹھانے لگی ۔۔۔
” بولو چپ کیوں ہو؟ “
وہ جھک کر اسکے گال سے گال مس کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
” صاحب جی ! بی بی جی ” ایکدم دروازہ بجنے لگا
” کون ہے ؟ ” وہ اتنی زور سے دھاڑا کہ زرگل نے دہل کر اسکی شرٹ مٹھیوں میں بھینچ لی ۔۔۔
وہ بہت بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ پلٹ کر باہر چلا گیا ۔۔۔
” بی بی جی ناشتہ لگ گیا ہے “
ملازمہ ڈری ڈری سی بتا کر چلی گئی ۔۔
وہ بھی شال اوڑھ کر اسکے پیچھے ہوئی ۔۔۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
یوسف اور علیزے کو سارا دن اس نے سنبھالا تھا ۔۔۔
وہ بہت معصوم اور بہت پیارے بچے تھے ۔۔۔
اسے ان سے انسیت سی ہوگئی تھی ۔۔
وہ لاشعوری طور پر ان کے سارے کام خود ہی کرنے لگی تھی ۔۔۔حتی کہ ان دونوں کو کمرے میں سلا کر پھر اس نے کھانا کھایا تھا ۔۔۔
” ایک بات تو بتائیں جمیلہ بی۔۔ اسفند کے بھائی اور بھابھی کی موت کیسے ہوئی؟ “
اس نے دھواں اڑاتی گرم گرم چائے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
” رہنے دیں بی بی اک حادثہ تھا ۔۔ ہونا تھا ہوگیا ۔۔ اللہ درجات بلند فرمائیں مرحومین کے۔۔ اچھا میں چلتی ہوں بی بی جی ۔۔آپ بھی سو جائیں جا کر”
وہ کہہ کر چلتی بنی ۔۔۔
یوں لگا جیسے وہ کچھ چھپا رہی ہو ان سے ۔۔
اس نے چائے ختم کرنے کے بعد کافی دیر اسفند کا انتظار کیا تھا مگر وہ نہیں آیا ۔۔
صوفے پر بیٹھے بیٹھے ہی اسکی آنکھ لگ گئی ۔۔۔
ایکدم بہت سی خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکرائی تو اسکی آنکھ کھل گئی ۔۔
وہ اسفندیار خان کی بانہوں میں تھی ۔۔۔
وہ اسے کمرے میں لے جارہا تھا ۔۔
” یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔آپ کیا کررہے ہیں چھوڑیں مجھے؟ “
وہ مچلی
” باہر سوئوگی تو صبح تک سردی سے انتقال فرما جائو گی” وہ لاپرواہی سے بولا مگر زرگل کو اسکی بات بہت بری لگی
” انتقال فرمائیں میرے دشمن ۔۔ کم بخت ، حاسد کہیں کے” اسفند نے یوں اسے دیکھ جیسے وہ یہ سب اسے کہہ رہی ہو ۔۔
اسے بیڈ پر لٹا کر وہ اسکے قریب بیٹھ گیا ۔۔۔
وہ بے ساختہ اسکی والہانہ نگاہوں سے گھبرا کر بلینکٹ اوپر تک اوڑھ گئی ۔۔
اسفند لب دباتے ہوئے اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔
اسکے بعد اس نے کھانا کھایا تھا ۔۔۔
دوبارہ واپس آیا تو زرگل سو چکی تھی ۔۔۔
وہ کسی بچے کی مانند تکیہ سینے میں بنچے سو رہی تھی۔۔۔ اسفند نے بے ساختہ اسکی پیشانی چوم لی ۔۔
اسکے پہلو میں لیٹ کر بیڈ کروائون سے ٹیک لگالی ۔۔
وہ آج کی روٹین کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔
پھر دھیان کی رو بھٹک کر یوسف(بھائی) اور مینا(بھابھی)کی موت کی جانب چلی گئی ۔۔
یہ کوئی حادثہ تھا ۔۔۔یا پھر کوئی سوچی سمجھی سازش
اگر سازش تھی تو کس کی ؟؟
بابا جان کی یا پھر مینا بھابھی کے والد کی
کیونکہ یوسف اور مینا کی شادی میں دونوں خاندان ہی غیر رضامند تھے ۔۔ دونوں نے چھپ کر لو میرج کی تھی ۔۔
جسکا انجام بہت بھیانک ہوا تھا ۔۔
دو سار گزر چکے تھے اس حادثے کو
اسکے زخم ابھی بھی ہرے تھے
اس نے کرب سے سگریٹ کا لمبا سا کش لے کر دھواں چھوڑا ۔۔۔
اسکا فون پھر سے گھوں گھوں کرنے لگا
مگر اس نے دھیان نہیں دیا۔۔
جانتا تھا بابا جان کی کال ہے ۔۔
کل سے مسلسل خان بابا ہی اسے کالز کررہے تھے اور اس نے یوسف کی موت کے بعد قسم کھائی تھی حویلی نہیں جائے گا ۔۔۔
مورے کی بہت یاد آتی تھی مگر اس نے خود پر جبر کرلیا تھا ۔۔۔
وہ سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر لیٹ گیا۔۔۔
اچانک نیند میں وہ اسکے بیحد قریب آگئی اور اسکے کندھے پر سر رکھ لیا ۔۔
اسفند نے یونہی انگوٹھے سے اسکے پنکھوری جیسے ہونٹوں کو چھوا ۔۔۔
وہ نیند میں کسمسائی تو اسفند نے آہستگی سے اسکا ہاتھ سینے پر رکھ کر آنکھیں موند لی ۔۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
موسم بے حد سرد تھا
بہت کوششوں کے باوجود جانے کیسے یوسف کو سردی لگ گئی تھی ۔۔
زرگل کے تو ہاتھ پیر پھول گئے
کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے ۔۔۔
آیا بھی رات بچوں کے پاس نہیں تھی ۔۔
وہ نیند لینے اپنے کوارٹر میں جاچکی تھی ۔۔
اس نے جمیلہ بی سے کہلوا کر اسفند کو فون کروادیا تھا ۔۔ وہ آن ڈیوٹی تھا ایمرجنسی میں فوراً چلا آیا ۔۔۔
” بیوقوف لڑکی ۔۔جب بچے سنھبال نہیں سکتی تھی تو ان کے قریب گئی ہی کیوں!”
اسفند نے بے نقط سنائی تھی ۔۔
وہ بچوں کو لے کر بہت پوزیسو تھا
جبکے زرگل کے اس عزت افزائی پر آنسو نکل پڑے
” مگر میں نے کیا کیا ہے میرا کیا قصور ہے ۔۔ یہ سب تو موسمی ۔۔”
” شٹ اپ ۔۔سب قصور تمہارا ہے ۔۔پتا ہوتا تو یہ مصیبت گلے میں ڈالتا ہی نہ “
اسفند کی بات اسکے دل میں تیر کی طرح چبھی تھی ۔۔
” اچھا تو میں مصیبت ہوں تو سنبھالو اپنے بچوں کو خود ۔۔۔ میں تمہارے بچوں کی یا تمہاری ملازمہ نہیں ہوں “
وہ بھی غصے کی تیز اور منہ پھٹ تھی ۔۔
اسفند کو اسکا لب و لہجہ طیش دلا گیا ۔۔
پٹھان خوں تھا
مجال تھی کوئی اس سے اس طرح بات کرے
خاص طور عورت زات ۔۔۔
اس نے اک الٹے ہاتھ کا طمانچہ جڑ دیا
اسکی نرم و ملائم گال پر ۔۔۔
زرگل کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔۔۔
تھپڑ کی شدت سے اسکا گال دہک رہا تھا ۔۔۔
وہ بے یقینی کے عالم میں اسفندیار خان کی صورت دیکھ رہی تھی جو غصے سے لال پڑ گئی تھی ۔۔۔
” خبردار آئندہ میرے سامنے زبان چلائی تو دیکھا میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں “
اس نے انگلی اٹھا کر تنبیہ کی
زرگل سسک اٹھی ۔۔
وہ بلکل نہیں سہہ سکتی تھی یہ رویہ ۔۔
ماں نے تو اسے ہتھیلی جا چھالا بنا کر رکھا ہوا تھا ۔۔
اور یہ سلوک وہ سہہ نہیں سکی اور سسکیاں دباتے ہوئے کمرے میں بھاگ گئی
” جمیلہ بی ۔۔” اس نے بہت غصے میں ملازمہ کو آواز دی
” آپ چلیں میرے ساتھ یوسف کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے”
” مگر بی بی جی ۔۔”
” بھاڑ میں گئی بی بی جی”
وہ بولا اور تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا۔۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
زرگل نے نہ کھانا کھایا تھا
نہ ہی کمرے سے باہر قدم رکھا تھا ۔۔
رات اور اگلا پورا دن گزر چکا تھا
ملازمہ اسے کئی بار بلانے آئی تھی
مگر وہ اس نے کچھ بھی کھانے پینے اور
حتی کہ یوسف کو بھی سنبھالنے سے انکار کردیا تھا ۔۔
وہ چند ہی دنوں میں اس سے کافی اٹیچ ہوگیا تھا ۔۔ اسفندیار خان ڈیوٹی سے واپس آیا تو کمرہ صاف ستھرا تھا ۔۔جسکا مطلب تھا کہ زرگل بی بی ناراض تھی ۔۔۔
” کہاں پھنس گیا ہوں میں “
وہ لمبی سانس کھینچ کر یونیفارم تبدیل کیئے بغیر اٹھا اور اس کے کمرے میں جانب بڑھا ۔۔۔
مگر چوکھٹ پر اسکے قدم رک گئے
” ہاں تو اماں تھپڑ مارنے کا مقصد بے عزتی ہی ہوتی ہے ۔۔ اور اپنی اس بے عزتی کا بدلہ میں لے کر رہوں گی ۔۔
دیکھنا ناک سے لکیر نہ کھنچوائی تو میرا نام بھی زرگل نہیں “
وہ اپنی ماں سے فون پر گفتگو کررہی تھی ۔۔
اسفندیار خان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری گئی ۔۔
اک دھان پان سی لڑکی اس پہاڑ جیسے مرد کو اپنے سامنے جھکانے کے دعوے کررہی تھی ۔۔
” مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ آخر؟ “
وہ درواز دھکیل کر اندر آیا
زرگل نے کوئی جواب نہیں دیا بلکے اسے دیکھنا تک گنوارا نہیں کیا ۔۔۔
” میں تم سے بات کررہا ہوں “
اس نے تب بھی کوئی جواب نہ دیا ۔۔
اسفند نے کھینچ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا تھا ۔۔
” کیا کہہ رہی تھی تم کہ ناک سے لکیر کھنچوائو گی”
اس نے معنیٰ خیز نظروں سے اسے سر تا پا دیکھا ۔۔
زرگل سٹپٹا گئی
” بتائو کہاں لکیر کھینچنی ہے میں تیار ہوں”
اسفند نے انگلی اسکے سینے پر گھمائی تو وہ لرز گئی ۔۔
” بتائو بھی ! ” وہ بضد ہوا اور اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اپنے قریب کیا ۔۔
زرگل کے چھکے چھوٹ گئے ۔۔
” آئندہ بڑی بڑی باتیں کرنے سے پہلے اپنی صحت دیکھ لینا ” اسکے کانوں کی لوئیں لبوں سے چھوتے ہوئے بولا ۔۔
زرگل نے سینے سے دوپٹہ مٹھیوں میں بھینچ لیا ۔۔
” آئندہ رات کے اس وقت نہ تم کسی سے فون پر بات کروگی کیونکہ یہ غیر اخلاقی حرکت ہے لوگوں کے سونے کا وقت ہوتا ہے۔۔دوسری بات بچوں کا خیال رکھنا تمہاری اولین ترجیح ہے اگر تم نے کوئی کوتاہی برتی تو یاد رکھنا بہت برا پیش آئوں گا “
وہ ایکدم ظالم مردوں کی طرح پیش آیا تھا ۔۔
زرگل کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔
کیا اسکی کوئی حیثیت نہیں تھی،
وہ ناراض بھی نہیں ہو سکتی ،
نہ ہی شوہر پر کوئی حق جتا سکتی تھی
بلکے وہ شوہر تھا ہی کب ۔۔۔
اسے تو بیوی کا درجہ دینا دور بچوں کی آیا ہی سمجھتا تھا ۔۔
” اب یہ بے دکھ کا ماتم کرنا بند کرو اور جاکر بچوں کو سلائو ۔۔ کھانا کھائو ۔۔۔اسکے بعد کمرے میں آجانا “
اسفندیار خان حکم صادر کرکے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
زرگل مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی ۔۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••