64K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

رات کے جانے کسی پہر اسکی آنکھ کھلی تو دراب اسکے کندھے پر سر رکھے نیم دراز تھا ۔۔
وہ سیدھی ہوئی تو اسکی آنکھ کھل گئی ۔۔
” آپ ہاسپٹل کیوں چلے آئے گھر چلے جاتے؟ “
اسنے آہستگی سے پوچھا
” اگر تمہیں بھی میری موجودگی اچھی نہیں لگ رہی تو یہاں سے بھی چلا جاتا ہوں”
وہ ہر کسی سے ناراض لگ رہا تھا
” نہیں میں نے ایسا تو نہیں کہا”
اسکی بکھری بکھری سی حالت دیکھ کر زرش کو بے حد ہمدردی محسوس ہوئی تھی ۔۔
اسے اندازہ تھا دراب کس تکلیف سے گزر رہا تھا ۔۔
اس نے باپ جیسی نعمت جو کھویا تھا ۔۔
” کہاں جا رہے ہیں ؟ “
وہ اٹھ کر جانے ہی لگا تھا کہ زرش نے اسکا بازو تھاما
” تمہیں اس سے کیا ۔۔”
اس نے بے رخی سے ہاتھ چھڑایا ۔۔
شاید یاد آگیا تھا کہ وہ اس سے ناراض تھا
” آپ کم از کم اس وقت تو ناراضگی نہ دکھائیں”
دراب نے بہت غصے سے مڑ کر دیکھا ۔۔
بلیک دوپٹے کے ہالے میں اسکا رویا رویا سا سرخ چہرہ بہت غضب لگ رہا تھا ۔۔۔
دراب نے بے اختیار اسکے رخساروں پر بوسہ دیا ۔۔۔
” د۔۔۔۔دراب۔۔ ہم ہاسپٹل میں کھڑے ہیں “
دراب کی سماعتوں میں اسکی دھیمی آواز رس گھولنے لگی ۔۔
وہ مدہوش سا اسکے لبوں پر جھکا تو زرش نے رخ موڑ لیا ۔۔
” ہم ہاسپٹل میں کھڑے ہیں آپ کو اپنی عزت کا خیال نہیں ہے مگر مجھے ہے “
دراب نے سخت گرفت میں اسکا چہرہ موڑ کر اپنی جانب کیا تھا ۔۔
” چھوڑیں مجھے پاگل واگل تو نہیں ہوگئے آپ”
اس نے مزاحمت کرتے ہوئے خود کو چھڑایا ۔۔
” ہاں ایسا ہی سمجھو “
دراب کو اسکی غصیلی آنکھوں پر بے انتہا پیار آنے لگا ۔۔۔
اس نے تھوڑی کو دبوچتے ہوئے اسکا منہ چوما تھا ۔۔
اسی لمحے دروازہ کھول کر نرس اندر آئی تھی چیک اپ کے لئے ۔۔
دراب نے پیچھے سے اسکا کلائی مضبوطی سے تھامے ہوئی تھی ۔۔
” ہاتھ چھوڑیں میرا ۔۔شرم کریں ۔۔ اس وقت آپ کو رومینس سوجھ رہا ہے”
اس نے دبہ دبہ غراتے ہوئے کلائی چھڑانا چاہی
” مجھے تو ہر وقت پی سوجھتا ہے بس تم ہی نہیں کرنے دیتی “
دراب نے کہتے ہوئے اسکی گردن سے لب مس کیئے ۔۔
اس نے سر تا پا لرز کر اسے تنبہی نگاہوں سے گھورا تھا
” ان کی کنڈیشن اسٹیبل ہے آپ انہیں صبح تک گھر لے جا سکتے ہیں ۔۔مگر میک شیور کہ انہیں کسی بھی قسم کی ٹینشن اور اسٹریس سے دور رکھیں “
نرس ہدایت دے کر جا چکی تھی ۔۔
” آپ نے کھانا کھایا؟ “
” مجھے بھوک نہیں ہے”
وہ ایکدم سنجیدہ ہوا تھا ۔۔۔
” دیکھیں دراب ۔۔ بابا جان کی وفات ایک حادثہ تھا۔۔ آپ اسفند بھائی کو بلیم مت کریں ۔۔ وہ بھی مشکل وقت سے گزر رہے ہیں “
وہ اسکی بات سن کر ایکدم سے آئوٹ ہوا تھا اور کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔
زرش کو لگا اس نے غلط وقت پر بات کہہ دی ہو ۔۔
وہ تیزی سے اسکے پیچھے گیا
” دراب رکیئے”
” تم دیکھ نہیں سکتی ناں مجھے پرسکون۔۔دو منٹ کے لئے تمہارے ساتھ وقت گزارنے آیا تھا کہ اپنا غم بھول جائوں مگر تم۔۔۔۔”
اسکی آنکھیں آتفشان کی مانند دہک رہی تھی
” نہیں ۔۔دراب آپ غلط سمجھ رہے ہیں میں تو بس آپ کو سمجھا رہی تھی “
” سمجھا رہی تھی ؟ تم مجھے بیوقوف سمجھتی ہو زرش ” وہ گرجا ۔۔
زرش نے سہم کر اسے دیکھا ۔۔
اسکے جانے کے بعد اس نے اپنا رکا سانس بحال کیا تھا۔۔
وہ اتنا ٹائم اس کے ساتھ گزارنے کے بعد بھی اسکے مزاج کو سمجھ نہیں پائی تھی کہ اسے کس بات پر غصہ آسکتا تھا ۔۔کس بات پر اسکا موڈ خراب ہوتا تھا ۔۔۔
وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پائی تھی ۔۔
دراب خان بہت مشکل مزاج رکھتا تھا ۔۔


مورے جان کو اگلی صبح ڈسچارج کردیا گیا تھا ۔۔۔
دراب کو پچھلے دو دنوں سے سخت بخار تھا ۔۔
نہ وہ خود خیال رکھ رہا تھا نہ ہی اسے اپنے قریب آنے دے رہا تھا ۔۔
اس سے ناراض تھا بلکے وہ تو پوری دنیا سے ہی ناراض تھا ۔۔بلاوجہ ملازموں سے الجھ پڑتا۔۔
عجیب چڑچڑا سا مزاج ہوگیا تھا ۔۔
زرش تو اسکے موڈ سے ہی خائف رہتی تھی ۔۔
” دراب کہاں جارہے ہو ۔۔ ناشتہ کرکے جانا “
اسفند یار اسے جاتے دیکھ کر روکا تھا ۔۔
” تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے ۔۔ کس نے حق دیا تمہیں ؟ “
وہ اکھڑ کر بولا ۔۔
” تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کرو دراب ۔۔۔میں تمہارا لحاظ کررہا ہوں “
اسفندیار کو اسکا گستاخ لہجہ بہت برا لگا تھا ۔۔
” تو مت کرو کس نے کہا تم میرا لحاظ کرو ۔۔ خیر اب تو تمہیں کسی کا بھی لحاظ نہیں ہوگا ۔۔اس گھر کے سرپرست اعلیٰ جو بن بیٹھے ہو تم ۔۔۔یہیں چاہتے تھے نا تم ۔۔بابا جان کے بعد انکی کل جائیداد پر قبضہ کرنا “
” دراب۔۔۔۔! “
اسفندیار نے غصے سے بے قابو ہوکر اک تھپڑ جڑ دیا ۔۔ حویلی کے حقیر ملازموں اور مکینوں کے سامنے اسے بہت سبکی محسوس ہوئی تھی ۔۔
” تم دکھی ہو میں سمجھتا ہوں مگر اسکا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اپنی فرسٹریشن مجھ پر نکالو “
” بس کریں آپ لوگ ۔۔۔ چھوٹے بچے تو نہیں جو آپ لوگوں کو سمجھانا پڑے ۔۔مورے جان کو ڈاکٹرز نے ٹیشن اور اسٹریس سے دور رکھنے کی تاکید کی ہے ورنہ نتیجہ کے زمہ دار آپ لوگ خود ہوں گے ۔۔۔بہتر ہوگا لڑائی جھگڑے کے بجائے آپسی صلح صفائی سے بات چیت کرکے معاملے اور غلط فہمیاں دور کرلی جائیں “
زرگل نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں کو ٹوکا ۔۔۔
” صلح صفائی مائی فٹ !!! تم نے یہ اچھا نہیں کیا اسفند” وہ بے یقینی اور غصے سے راستے میں آئی ہر شے کو ٹھوکر مارتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
جب تک ملازمہ نے زرش کو خبر دی ۔۔
دراب وہاں سے جا چکا تھا ۔۔
” دراب جذباتی ہیں غصے میں آجاتے ہیں جلدی ۔۔
مگر آپ تو سمجھدار ہیں آپ کو ان پر ہاتھ نہیں اٹھانا چائیے اسفی بھائی”
زرش کو یقین نہیں آرہا تھا ۔۔
اس نے اک نظر زرگل پر ڈالی اور کمرے میں چلی گئی ۔۔


اسے کئی دن گزر چکے تھے حویلی آئے ہوئے۔۔
ملازموں کا رویہ اس سے بہت بہتر تھا ۔۔۔
اب تو مورے جان بھی اس سے اور بچوں سے انس ہونے لگی تھی ۔۔وہ اکثر یوسف کو ان کے پاس لے جاتی ۔۔
ادھر ادھر کی باتوں سے ان کا دل بہلانے کی کوشش کرتی تاکے وہ جلد ریکور ہوجائیں۔۔۔
ضوفشاں کو اسکا مورے جان سے
ہنس کر بات چیت کرنا ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا ۔۔
وہ دور دور سے اسے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورتی رہتی ۔۔
” مجھے نہیں پتا تھا تم اتنی اخلاق والی ہو ۔۔ مجھے معاف کر دو بیٹا ۔۔ ہم نے تمہیں جانے اور پرکھے بغیر بہت برا بھلا کہا”
” کوئی بات نہیں مورے جان ۔۔ آپ میری ماں جیسی ہیں مجھے آپ کی سخت بات بھی بری نہیں لگتی “
اس نے یہ کہہ کر انکا مان بڑھایا تھا ۔۔
وہ خوش ہونے لگیں ۔۔
وہ بلکل زرش کی طرح ان چند دنوں میں انکا خیال رکھ رہی تھی ۔۔
” یوسف کو میرے پاس چھوڑ جائو تم کھانا کھا لو”
اس نے بخوشی یوسف کو ان کے پاس بٹھا دیا تھا ۔۔۔
اور کھانا گرم کچن میں چلی آئی ۔۔ ملازم اپنے کوائٹر میں جا چکے تھے ۔۔
اسکے پیچھے ضوفشاں بھی چلی آئی تھی ۔۔
” اگر چائے بنا رہی ہو تو میرے لئے بھی بنالینا اک کپ”
” مجھے لگا تم میرے ہاتھ کی چائے پینا پسند نہیں کرو گی ” زرگل کو حیرت ہوئی تھی
” خیر ایسی بھی بات نہیں “
ضوفی نے کہا ۔۔
اس نے چائے کپ میں ڈال کر اسکی جانب بڑھائی تھی ۔۔ ضوفی کے ہاتھ سے گرم گرم چائے کا کپ پھسل کر اسکے پائوں کر گر گیا ۔۔۔
اسکی چیخوں سے حویلی کہ دیواریں کانپ اٹھیں۔۔۔
” او مائی گاڈ ۔۔۔آئم سو سوری میرے ہاتھ سے پھسل گیا کپ”
وہ جلدی سے کہنے لگی ۔۔۔
جلن اور تکلیف سے زرگل کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔۔
” زری کیا ہوا؟ یہ چائے کیسے گری؟ “
اسفند اسکی آواز سن کر دوڑا چلا آیا تھا ۔۔۔
اسے زرگل کی فکر میں ہلکان ہوتا دیکھ کر ضوفشاں نے برداشت نہ ہوسکا وہ تن فن کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔


وہ پوری رات دراب کا انتظار کرتی رہی تھی ۔۔
پریشان تھی ۔۔
فکر مند تھی ۔۔
اسکا فون بھی بہت بار ٹرائی کر چکی تھی
مگر فون مسلسل آف آرہا تھا ۔۔
اسی وقت ملازم اسکا بیگ اور ضروری اشیاء لینے آیا تو ملازمہ نے آکر اسے اطلاع کی ۔۔۔
اسکے پیروں تلے زمین نکل گئی ۔۔۔
” کیا مطلب اسلام آباد چلے گئے ؟ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔ایسے کیسے اسلام آباد چلے گئے ؟ “
وہ بے یقینی تھی ۔۔
ملازمہ نے مورے جان کو اطلاع دی تھی ۔۔
” تم جانتی ہو نا وہ تمہارے بابا جان سے کتنا اٹیچ تھا ۔۔۔ اسلئے ڈسٹرب ہوگا اسے کچھ دن اکیلے رہنے دو “
مورے جان نے کہا مگر اسکا دل نہیں مان رہا تھا
” اگر آپ اجازت دیں تو میں چلی جائوں ان کے پاس ؟ “
” یہ تو اور بھی اچھی بات ہے زری ۔۔۔ ایسے میں بھی مطمئن رہوں گی کہ تم اسکا بہتر خیال رکھ سکتی ہو “
” بہت شکریہ مورے جان “
اسکی جان میں جان آئی تھی
اس نے اپنی چند ضروری اشیاء پیک کی تھی مگر دراب کے لئے الگ سے اک بیگ تیار کیا تھا اور اسی شام وہ ڈرائیور کے ساتھ اسلام آباد نکل چکی تھی ۔۔


“رکو تو سہی یار مجھے دیکھنے دو”
اسفند نے قدرے غصے سے اسے ڈانٹا ۔۔۔
” آپ کے جسم کا کوئی حصہ جلے تو میں آپ سے پوچھوں کتنی تکلیف ہوتی ہے “
وہ آنسوئوں بھری آنکھوں سے بولی
” یقین کرو اس وقت تمہیں ایسی حالت میں دیکھ کر مجھے زیادہ تکلیف ہورہی ہے گل “
وہ اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھیمے سے بولا
” مل گیا نا آپ کو سکون ؟ آپ تو یہی چاہتے تھے ۔۔ اسی لئے مجھے یہاں روکا تھا آپ نے “
” زرگل تم خوامخواہ میں مجھ سے الجھ رہی ہو ۔۔۔میرا بھلا کیا قصور اس میں ؟ “
وہ زچ ہوا تھا
” نہیں تمہارا کوئی قصور نہیں ۔۔سب قصور میرا ہی ہے “
وہ اٹھی اور غصے سے چلی گئی ۔۔
” گل؟ “
اسفند لمبی سانس کھینچ کر غصہ دبایا اور اسے کھینچ کر دوبارہ بٹھایا تھا ۔۔۔۔
” چھوڑیں مجھے ۔۔ مجھ سے جھوٹی ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں ہے “
” ششش ۔۔۔ خاموشی سے بیٹھو “
اسفی نے اسکے لبوں پر انگلی رکھتے ہوئے سخت تنبیہ کی تو مرعوب سی ہوکر رہ گئی ۔۔
” ایک تو تم عورتوں کو کوئی بھی بات سمجھانا بہت مشکل ہے “
وہ بڑبڑایا تھا
” کیا کہا آپ نے ؟ “
” کچھ نہیں گل ۔۔ چپ بیٹھو “
” نہیں ایک منٹ؟ آپ نے مجھے عورت کہا؟ “
وہ سب درد بھول بھال کر پوچھنے لگی
اسفی کا دل چاہا سر پیٹ لے
” غلطی سے نکل گیا میرے منہ سے ۔۔ ٹھیک ہے ؟ معاف کردو۔۔ اب چپ بیٹھو اور مجھے آئمنٹ لگانے دو”
اسنے حکم صادر کیا تو وہ ناراض ناراض نگاہوں سے گھور کر رہ گئی ۔۔
Chaudhary Abdulrehman:
چودہویں قسط۔
اسلام آباد پہنچتے انہیں کافی دیر ہوچکی تھی ۔۔۔
” دراب کیسے ہیں ؟ کہاں ہیں وہ ٹھیک تو ہیں نا؟ “
اس نے ملازمہ سے پوچھا تھا ۔۔
” جی وہ تو شام سے کمرے سے نہیں نکلے .. میں دوپہر بھی کھانا دینے گئی تو انہوں نے منع کردیا انکو ڈسٹرب نہ کیا جائے “
” آپ نے دوبارہ چیک نہیں کیا! “
وہ شال اتار کر ملازمہ کے حوالے کرتے ہوئے اسکے کمرے کی جانب بڑھی تھی ۔۔۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔
اسنے لائٹ آن کی اور دھیمی سے پکارتی ہوئی بستر کی بڑھی
” دراب ۔۔ ؟ “
دراب نے بہت حیرت زدہ ہوتے ہوئے بازو آنکھوں سے ہٹا کر اسے دیکھا تھا ۔۔
بخار نے شاید نہیں یقیناَ اسکے دماغ پر اثر کیا تھا ۔۔ ورنہ زرش اور یہاں ؟ یہ ممکن نہیں ہو سکتا تھا ۔۔
اس نے دوبارہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔
زرش نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے سخت ٹینشن سے کہا ۔۔
” آپ کو تو بہت تیز بخار ہے”
اسکے سرد ہاتھوں کے لمس پر دراب ایکدم چونک کر اٹھا ۔۔
” زری ۔۔۔؟ تم ؟ “
وہ اسکے چہرے کو چھوتے ہوئے کہا ۔۔
جیسے ابھی بھی یقین نہ آرہا ہو ۔۔
” آپ کو ایسے ناراض ہوکر نہیں آنا چاہیے تھا دراب ۔۔مورے بہت پریشان ہورہی تھی”
” اور تم ؟ “
” میں بھی “
” لگ تو نہیں رہا “
اسنے غصے سے ہاتھ چھڑا لیا
” کیسی باتیں کررہے ہیں آپ ۔۔میں اتنی دور سے صرف آپ کے لئے آئی ہوں اور آپ۔۔۔”
ذرش کو دکھ ہوا تھا ۔۔ پتا نہیں کیوں وہ آج کل اسکی ہر بات کا بھتنگڑ بنانے پر تلا ہوا تھا
” تو گھر والوں کی باتیں کرکے میرا موڈ خراب مت کرو “
” آپ کو کیا ہوتا جارہا ہے دراب ۔۔آپ کیو ں ۔۔۔”
” جائو یہاں سے “
وہ چیخ کر بولا تو زرش نے ایکدم سہم کر اسکو دیکھا تھا ۔۔۔
اسکی زرد رنگت دیکھ کر وہ ایکدم نرم پڑگیا
” مجھے اس وقت تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔ صرف تمہاری۔۔
تم میرے پاس آگئی ہو تو مجھے اور کچھ نہیں چائیے ۔۔ اس وقت کسی دوسرے کی بات مت کرو پلیززز۔۔ میں بہت ڈسٹرب ہوں کچھ سننا نہیں چاہتا “
وہ اسکا ہاتھ تھام کر کہنے لگا ۔۔۔
بخار کی وجہ سے اسکی آنکھیں اور چہرہ سرخ پڑا ہوا تھا ۔۔
” آپ نے کچھ کھایا؟ “
” مجھے بھوک نہیں ہے “
وہ شکست خوردہ سا بیڈ کرائوں سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند تے ہوئے بولا ۔۔
“اگر آپ کسی ڈاکٹر کو جانتے ہیں تو اسے کال کردیں ۔۔ آپ کو بہت تیز بخار ہے “
” اسکی ضرورت نہیں ہے”
وہ بضد ہوا ۔۔ زرش اسکی ضد کے آگے کیا ہی کر سکتی تھی ۔۔
” میں آپ کے لئے کچھ کھانے کو لاتی ہوں “
” ہمممم”
وہ بند آنکھوں سے اونگھا ۔۔
” میرا ہاتھ تو چھوڑیں “
اس نے آہستگی سے کہا مگر دراب نے کوئی رد عمل نہیں دیا ۔۔
” دراب ؟ ” اس نے کندھا ہلایا
” ہوںہ۔۔۔؟ “
اس نے بمشکل سرخ آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ۔۔
” میرا ہاتھ چھوڑیں ۔۔ میں آپ کے لئے کچھ کھانے کو اور ٹیبلٹ لاتی ہوں ۔۔۔اگر آپ ڈاکٹر کو کال کردیتے تو اچھا ہوتا ۔۔ ابھی پوری رات باقی ہے ۔۔آپ کی کنڈیشن دیکھ کر مجھے ڈر لگ رہا ہے “
اسکی فکرمندی پر دراب کے لبوں پر مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی تھی ۔۔
زرش کو اسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا ۔۔۔
اسے سخت پریشانی ہونے لگی تھی ۔۔
” آپ کے پاس موبائل فون ہے ؟ “
اس نے سوپ بناتے ہوئے ملازمہ سے پوچھا۔۔
” جی میرے پاس تو نہیں ہے پر سمندر خان کے پاس ہے مگر وہ تو بی بی جی رات کو آئے گا”
” اچھا ” وہ سخت مایوس ہوئی تھی
” کیا بات ہے بی بی جی؟ “
” دراب کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے مگر وہ مان نہیں رہا میں کیا کروں ؟ “
” بی بی جی آپ چھوٹے خان کے فون سے کال کرلیں ان کا اک دوست ڈاکٹر بھی ہے وہ یہی اسلام آباد میں ہی رہتے ہیں ۔۔جب ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا ہے تو چھوٹے خان اسی کو بلاتے ہیں “
” مگر مجھے کیا پتا کون ہے اور میں کیسے۔۔۔”
اس نے کبھی دراب کے فون کو ہاتھ نہیں لگایا تھا ۔۔ نہ ہی وہ اسکے حلقہ احباب سے واقف تھی ۔۔
دراب نے اسے سات پردوں میں چھپا کر رکھا تھا ۔۔
وہ جس بولڈ سرکل سے تعلق رکھتا تھا ۔۔
ایسی محفلوں میں زرش کا نام تک لینے سے گریز کرتا تھا ۔۔ اور زرش کو اسکی پوزیسونس کا بخوبی اندازہ تھا ۔۔۔
اس نے سوپ کے ساتھ ٹیبلیٹ اسے کھلادی تھی ۔۔
” اگر آپ ڈاکٹر کو کال کر دیتے تو اچھا ہوتا دراب “
” میری ڈاکٹر تو تم ہو “
اس نے مسکراتے ہوئے والہانہ انداز میں اسکا ہاتھ تھام کر دل کے مقام پر رکھ لیا
” یہ مزاق کا وقت نہیں ہے ملازمہ بھی چلی گئی ہے ۔۔سمندر خان ابھی تک نہیں آیا میں کیا کروں گی اکیلی “
” اکیلی کہاں ہو میں ہوں ناں ! “
رخساروں پر جھولتی اسکی لٹھوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو زرش کی کچھ ٹیشن دور ہوئی تھی ۔۔۔
” آپ آرام کریں اب میں یہیں ہوں آپ کے پاس”
اسکا ہاتھ مضبوط گرفت میں لئے آنکھیں موند لیں ۔۔


اسکی گرم سانسوں کی آمدورفت سے اسکا چہرہ تپنے لگا ۔۔۔ اسکی اچانک آنکھ کھلی تو دراب شدید بخار میں پھنک رہا تھا ۔۔۔ مارے ٹینشن کے اسکے ہاتھ پیر پھولنے لگے ۔۔
” دراب ۔۔۔؟ دراب ؟ “
اسنے دو تین بار اسکا چہرہ تھپتھپایا
مگر اس پر غشی طاری تھی ۔۔
دراب نے بمشکل آنکھوں کھول کر اسے دیکھا اور اگلے ہی پل آنکھیں موند لیں ۔۔۔
زرش کا دل ڈوبنے لگا تھا ۔۔
” یااللہ میں کیا کروں “
سخت پریشانی کے عالم میں اس نے سمندر خان کو بلایا تھا ۔۔
” بی بی جی آپ مجھے پہلے بتاتی چھوٹے خان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں تبھی ڈاکٹر کو بلالیتا ۔۔۔اب تو جی بہت رات ہوگئی ہے اور یہ پہاڑی علاقہ ہے یہاں ڈاکٹر کا آنا مشکل نہیں نا ممکن ہے جی “
” اب کیا کریں ۔۔دراب کو تو بلکل ہوش نہیں ہے “
” آپ نے عادی صاحب کو کال کریں بی بی جی ۔۔وہ ڈاکٹر بھی ہیں اور ان کو آنے میں مسلہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ چھوٹے خان کے دوست بھی ہیں”
” انکا نمبر کہاں سے لوں ؟ اور میرے پاس تو فون بھی ہے “
“بی بی جی آپ چھوٹے خان کے فون سے کال کریں “
سمندر خان نے کہا تو اسے یاد آیا ۔۔
اسکا دماغ اس وقت بلکل مائوف ہوچکا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے !
بہت بار سوچنے کے بعد اس نے دراب کا فون انلاک کیا تھا ۔۔وہ اسکے غصے سے بھی ڈرتی تھی ۔۔
جانتی تھی کہ وہ بہت ناراض بھی ہوسکتا ہے اس حرکت پر ۔۔مگر حالات کا تقاضہ یہی تھا کہ اسے کال کر لینی چائیے تھی۔۔ اس نے بہت سی ہمت مجتمع کرکے نمبر پش کرکے کان سے لگایا تھا۔ ۔
“کہاں ہے تو سالے ؟ آیا نہیں آج؟ “
“وہ ۔۔۔ جی ۔۔۔میں ذرش بات کررہی ہوں”
وہ کنفیوژ سی ہوکر بولی
” کون ذرش؟ “
دوسری جانب چونک کر پوچھا گیا
” دراب کی وائف “
وہ ہچکچائی
” انہیں بہت تیز بخار ہے اس وقت ۔۔۔ ملازم نے بتایا کہ آپ ڈاکٹر بھی ہیں اور ان کے دوست بھی ۔۔آپ آسکتے ہیں پلیز ۔۔ اس وقت آپ کی بہت ضرورت ہے “
دوسری جانب ایکدم سے سناٹا چھا گیا تو وہ کچھ مایوس ہوئی تھی ۔۔۔
” ہیلو؟ “
” ٹھیک ہے میں آتا ہوں دس منٹ میں “
” بہت شکریہ آپکا”
اسکی جان میں جان آئی تھی۔۔۔
وہ اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامے مسلسل آیتوں کا ورد کررہی تھی ۔۔وہ تیز بخار میں اول
فول باتیں کر رہا تھا ۔۔۔
ملازم نے ڈاکٹر کے آنے کی اطلاع دی تو وہ اسکے قریب سے اٹھ کر ایک طرف ہوگئی ۔۔۔
آنے والے نے اک بھرپور نگاہ اس پر ڈالی کہ ذرش سہم کر خود میں سمٹی ۔۔
اسے بے اختیار اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہونے لگا ۔۔
مگر دراب کے لئے اس نے یہ قربانی دے دی تھی ۔۔
” اسے تو بہت تیز بخار ہے ۔۔کب سے اسکی کنڈیشن اسطرح؟”
” شام سے “
” تو آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں کال کی “
وہ زرا نادم ہوا
” میں نے دراب سے کہا تھا مگر ” وہ رکی
” آپ اسکے ساتھ رہتے ہوئے اسے جان نہیں سکی کہ وہ کتنا ضدی ہے ۔۔اسے پیار کی نہیں زور و ذبردستی کی زباں سمجھ آتی ہے”
وہ چپ رہ گئی ۔۔۔
” میں اسے فلحال کوئی دوائی نہیں دے سکتا اسے بہت تیز بخار ہے ۔۔بخار اترنے کا انتظار کرنا ہوگا”
وہ اسے کچھ دوائیاں کھلا کر اسکی طرف پلٹا ۔۔۔
” اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو میں رکنا چاہوں گا ۔۔ میں گیسٹ روم میں ہوں۔۔جیسے ہی اسکا بخار کچھ کم ہو آپ مجھے بلالیجئے گا”
” مگر آپ ۔۔۔”
وہ لب بھینچ کر رہ گئی ۔۔
” آپ فکر نہ کریں میں پہلی بار نہیں آیا اس گھر میں ۔۔ بلکے آپ پہلی بار آئی ہیں “
وہ مسکرا کر کہتا واک آؤٹ کرگیا ۔۔۔
زرش کو عجیب غیر محفوظ سا احساس ہونے لگا تھا ۔۔۔ سمندرخان اپنے کوائٹر جا چکا تھا ۔۔۔
دراب اپنے حواسوں میں نہیں تھا اور
ایسے میں وہ اکیلی تھی اس اجنبی کی موجودگی میں ۔۔۔وہ کمرہ اچھے سے لاک کرکے اسکے قریب آگئی ۔۔
” دراب پلیز جلدی سے ٹھیک ہو جائیں “
اسکی آواز کپکپانے لگی تھی ۔۔
وہ آہستگی سے اسکے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ گئی ۔۔۔۔


جب سے اسکا ہاتھ اور پائوں جلا تھا ۔۔
یوسف مورے جان اور ملازمہ کے حوالے ہی تھا ۔۔
آج وہ کچھ بہتر تھی اپنے ضروری کام بھی وہ خود ہی انجام دے رہی تھی ۔۔
اس دن کے بعد سے اسکی ضوفشاں سے بات چیت بھی نا ہونے کے برابر تھی ۔۔
وہ پائوں پر آئمنٹ لگارہی تھی جب اسفی ڈیوٹی سے لوٹا تھا ۔۔
” بچے کہاں ہیں !”
اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔
وہ بارہا اس سے کہہ چکی تھی کہ اسے گھر جانا ہے ۔۔
مگر اسفی نے کان نہیں دھرے تھے ۔۔
وہ مسلسل اسکے مطالبے کو نظرانداز کررہا تھا ۔۔
” گل میں تم سے بات کررہا ہوں “
اس نے نرمی سے دہرایا تھا ۔۔
اور چلتے ہوئے اسکے پاس بیٹھ گیا ۔۔
اور ہاتھ بڑھا کر اسکے بالوں کو کان کے پیچھے کیا جو اسے تنگ کررہے تھے ۔۔
زرگل نے انتہائی بے رخی سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔
” لائو میں لگائوں دوا “
اس نے نرمی سے کہا
” مجھے آپ کی جھوٹی ہمدردیاں نہیں چائیے “
اس نے پائوں اٹھا کر زمین پر رکھنا چاہا مگر اسفی نے کھینچ کر اپنے گھٹنے پر رکھ لیا ۔۔
” تمہارا دماغ کس بات پر آئوٹ ہے اب! “
اس نے دوا لگاتے ہوئے ناراضگی کی وجہ جاننا چاہی تھی ۔۔
” آپ کے مطابق تو میرا دماغ ہمیشہ ہی آئوٹ رہتا ہے “
زرگل نے ناک چڑھایا ۔۔
” میں تمہیں کیسے سمجھائوں گل ۔۔ نہ میں مورے جان کو اکیلا چھوڑ سکتا ہوں نہ ہی تمہارے بغیر رہ سکتا ہوں “
” میں آپ کے بغیر رہ سکتی ہوں ۔۔۔مگر یہاں نہیں رہ سکتی آپ کیوں نہیں سمجھ رہے”
وہ روہانسی ہونے لگی ۔۔
” میں اس عورت کی حاسدانہ نگاہوں اور شاطرانہ چالوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی “
اسفندیار نے بے بسی سے اسکا چہرہ دیکھا ۔۔
” میں مجبور ہوں گل ۔۔ پلیز کچھ دن اور “
” آپ مجبوریاں میری جان لے لیں گی کسی دن “
وہ چیخ پڑی ۔۔
” تمہیں لگتا ہے میں ایسا ہونے دوں گا “
اسفندیار نے اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہیں پیار سے کہا ۔۔
” ایسا ہوگا اور آپ کو خبر بھی نہیں ہوگی”
” شششش “
اسفند نے ایسے لبوں پر انگلی رکھتے ہوئے اسے خاموش کروا دیا ۔۔
وہ اسکی پیشانی چومتے ہوئے بولا ۔۔
” میں مورے جان سے بات کرتا ہوں دراب کو واپس بلائیں ۔۔ وہی یہ سب سنبھالے گا ۔۔ میرے پاس وقت نہیں ان سب کاروباری کاموں کے لئے “
” بس تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر مجھ سے ناراض مت ہوا کرو”
” آپ اتنی بڑے بڑے فیصلے کرنے کے حق رکھتے ہیں اور میں اک ناراضگی کا بھی حق نہیں رکھتی”
وہ بخوبی جانتا تھا اسکا اشارہ کس جانب ہے
” ضوفی سے شادی کرنا میری مجبوری تھی “
اس نے لمبی سانس کھینچ کر کہا
” ہونہہ” اس نے منہ پھیر لیا ۔۔
اسفی نے اسے کھینچ کر اپنے اوپر گرا لیا ۔۔
” چھوڑیں کیا کررہے ہیں۔ ۔ ابھی آپ کی چہتی ضوفی بیگم نے دیکھ لیا تو مجھے شاید زندہ ہی جلا دے “
” دیکھ لینے دو ۔۔ تم ڈرتی ہو کیا”
اسفی نے اسکے بالوں میں منہ چھپاتے ہوئے کہا
” ڈرتی تو میں کسی کے باپ سے بھی نہیں “
اس نے گردن مارتے ہوئے کہا ۔۔
” چھوڑیں مجھے !”
زرگل نے مزاحمت کی مگر وہ آج موڈ میں تھا اسلئے اسکی ساری مزاحمتی ناکام بناتے ہوئے اسے سخت گرفت میں لے چکا تھا ۔۔


صبح اسکی آنکھ کھلی تو زرش اسکے قریب لیٹی ہوئی تھی ۔۔ پہلے پہل تو اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی تھی ۔۔
” زری…! “
آہستہ آہستہ سویا ہوا زہن جاگا تو اسے سب یاد آنے لگا ۔۔
” آپ ۔۔۔آپ ٹھیک ہیں ؟ اب کیسا محسوس کررہے ہیں؟ “
وہ ایکدم اٹھ بیٹھی ۔۔۔
” پانی پلادو مجھے “
” جی ۔۔۔”
وہ گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے اسکی طرف بڑھانے لگی۔۔
اچانک اسے رات والی حرکت یاد آئی تو بمشکل تھوک نگلا تھا ۔۔اسکی کب آنکھ لگی پتا ہی نہیں چلا ۔۔
نہ ہی اسنے دوبارہ اس اجنبی شخص کی خبر لی ۔۔
وہ بھی کیا سوچتا ہوگا!
” اب کیسا محسوس کررہے ہیں آپ ؟ “
اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
” ٹھیک ہوں بس سر چکرا رہا ہے”
” شکر ہے آپ کی طبیعت تو سنبھلی رات آپ کو بہت تیز ۔۔۔”
” دراب ۔۔۔ بھابھی جی ! “
دروازے پر اچانک ہونے والی دستک نے دونوں کو چونکا دیا ۔۔جہاں دراب تاثرات کھنچ گئے وہیں زرش کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں ابھرنے لگیں ۔۔
اس نے مرے مرے قدموں سے چلتے ہوئے دروازہ کھولا ۔۔
” میں آپ سے بہت ناراض ہو بھابھی جی ۔۔ ایک تو اتنی رات میں آپ کے بلانے پر آیا ۔۔اور پھر آپ نے بے رخی کی حد کرتے ہوئے مجھے سردی میں ٹھٹھرنے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا ۔۔خیر کیسی طبیعت ہے نواب صاحب کی ؟ “
وہ اس سے شکوہ کرتے ہوئے اب دراب کی طرف متوجہ ہوا تھا جس نے سختی سے مٹھیاں بھینچ لی تھی۔۔
عادی چیک اپ کرنے کے بعد کچھ ضروری ہدایات دے کر واپس جا چکا تھا ۔۔
زرش نے ہمت مجتمع کرتے ہوئے اسکا چہرہ دیکھا ۔۔
اسکی آنکھیں آگ دہکا رہی تھی ۔۔
وہ بہت غصے سے کمفرٹر ہٹاتے ہوئے بیڈ سے اترا تھا ۔۔
” آپ کو بہت تیز بخار تھا اسلئے میں۔۔۔”
” بخار ہی ہوا تھا مر تو نہیں گیا تھا جو تمہیں آدھی رات کو اس اجنبی کو گھر بلانا پڑا “
وہ چیخ اٹھا ۔۔
” آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں ہے میں نے یہ سب آپ کے لئے کیا ۔۔میں پریشان ہوگئی تھی”
” بھاڑ میں گئی تمہاری پریشانی ۔۔۔آئندہ کسی بھی مرد کو تم اس طرح سے گھر نہیں بلائو گی چاہے میں مر ہی کیوں نہ جائوں”
وہ انگلی اٹھا کر سختی سے تنبیہہ کرنے لگا
” اسکا مطلب ہے آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں ہے “
وہ رو دی
” میرا دماغ خراب مت کرو زرش”
وہ ایکدم اسکے آنسو بہانے پر آئوٹ ہوا تھا
” دماغ تو میرا خراب تھا جو ۔۔۔”
” چپ ایکدم چپ ۔۔۔”
اس نے گردن سے اسکے بال مٹھی میں دبوچے تھے ۔۔
گرفت سخت نہ تھی مگر لہجہ بہت سخت تھا ۔۔۔
زرش کی آنکھیں بہنے لگیں ۔۔
” جو میں تم سے کہوں صرف وہی کیا کرو ۔۔ میری اجازت کے بغیر تم سانس بھی نہیں لو گی”
وہ چبا چبا کر کہنے لگا
” سمجھی تم ؟ “
اس نے بالوں کو جھٹکا دے کر چھوڑا اور کمرے سے نکل گیا


” کھانا کھا لیں پھر آپ نے ٹیبلیٹ بھی کھانی ہے “
وہ ٹرے ڈائننگ پر رکھ کر جانے لگی
” کھانا دے رہی ہو احسان کررہی ہو”
زرش نے بمشکل غصہ دبایا تھا
” آپ کا مسلہ کیا ہے آخر ؟ آپ کو زرا بھی احساس نہیں ہے میں آپ کے لئے کتنا کچھ کر رہی ہوں اس پر بھی آپ تنز کرتے رہتے ہیں “
” تمہارے جیسا ہوگیا نا میں بلکل”
وہ ٹاول پھینکتے ہوئے اسکے قریب آیا
” جس پر نہ محبت اثر کرتی ہے نہ نفرت ، نہ غصہ ، جذبات”
اس نے بے رحمی کی حد کردی تھی
” آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ “
” کیوں کیا غلط لگتا ہے مجھے ؟ بتائو”
اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی دراب نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے قریب کرلیا ۔۔
” چھوڑیں مجھے ! “
اسکی سخت گرفت میں مچلی ۔۔
” میری طرف دیکھو ! ” حکم ہوا
زرش نے ناراضگی سے منہ پھیر لیا ۔۔
اسکی یہ حرکت دراب اور غصہ دلا گئی ۔۔
” میری طرف دیکھو “
اس نے جبڑے سے دبوچ کر اسکا چہرہ اپنی جانب کیا ۔۔
” مجھے نافرمان عورتوں سے سخت نفرت ہے ۔۔تم آئندہ ایسی حرکت نہیں کروگی “
وہ زرش کی کل والی حرکت پر بہت ہرٹ ہوا اور کچھ بیماری نے چڑچڑا کردیا تھا اس نے بات کا ایشو کریٹ کرلیا تھا۔۔
مگر زرش اسکو سمجھنے کے بجائے اور بدظن ہوچکی تھی ۔۔
” اگر میں ایسا نہ کروں تو ! “
وہ کپکپاتے لبوں سے بولی ۔۔اسکا انداز چیلنجنگ تھا
دراب کو اسکا گستاخانہ لہجہ بہت برا لگا تھا
وہ ایسی تو نہیں تھی ۔۔ !
” تم خود کو سمجھتی کیا ہو ! ” وہ چیخا
” آپ خود کو کیا سمجھتے ہیں ۔۔ میری عنایتوں اور محبتوں کا یہ صلہ دے رہے ہیں آپ ! سہی کہتی ہے ضوفی ۔۔ مرد ہوتے ہیں ایسے ہیں ۔۔انہیں سر پر نہیں چڑھانا چائیے ۔۔”
اسے بھی غصہ آگیا تھا ۔۔
” کیا کہا تم نے ؟ “
دراب کو یقین نہیں آرہا تھا سامنے اسکی وہی بیوی فرمانبردار اور اطاعت مند بیوی ہے جو آنکھ اٹھا کر بات تک نہیں کرتی تھی ۔۔
” وہی جو آپ نے سنا ۔۔ آپ جیسے مرد صرف حکم چلانا اور حق جتانا جانتے ہیں نبھانا نہیں جانتے “
” حق کی بات تو تم مت ہی کرو ! اگر حق وصول کرنے پر آیا تو کون روک سکتا ہے مجھے “
” اور کر بھی کیا سکتے ہیں آپ ! “
وہ چیخ اٹھی ۔۔۔
” زرششش ! “
اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ۔۔
” مجھے نفرت ہے آپ جیسے وحشی انسان سے .. جس پر کوئی جذبہ اثر نہیں کرتا”
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ۔۔
” تم نے ابھی میرا وحشی پن دیکھا ہی کہاں ہے “
دراب اسکی گردن دبوچتے ہوئے نازک لبوں کو نشانہ بنایا تھا ۔۔۔
ذرش نے بمشکل خود کو چھڑاتے ہوئے
اسکے گال پر تھپڑ جڑ دیا تھا ۔۔۔
اس نے بے یقینی گال کو چھوا تھا ۔۔۔
یقین تو زرش کو بھی نہیں ہورہا تھا کہ وہ دراب پر ہاتھ اٹھا چکی ہے ۔۔
یہ حرکت وہ مر کر بھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔
جانے آج اتنی ہمت اور حوصلہ کیسے آگیا تھا اس کے اندر ۔۔۔ دراب کی آنکھوں وحشت ہی وحشت تھی اور سر پر جنون سوار تھا ۔۔۔
جو محبت ، اور صحبت اسکا خواب تھی ۔۔
وہ خواب چکنا چور ہوچکا تھا ۔۔اب صرف ان خوابوں کی بکھری کرچیاں تھی۔۔
جو ان دونوں کو زخمی کررہی تھی ۔۔
” تمہیں اب بتاتا ہوں وحشی کہتے کسے ہیں”
وہ غصے میں سب کچھ بھول چکا تھا ۔۔
اسے دبوچتے ہوئے بیڈ پر پھینکا تھا ۔
۔اور اس پر ہاتھ اٹھانا زرش کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔۔وہ جانتی تھی دراب خان انا پرست مرد تھا ۔۔ انا پر چوٹ گوارہ نہیں کرتا تھا ۔۔
وہ آگ تھا تو زرش پانی بن کر اس آگ کو ٹھنڈا کر دیتی مگر اب وہ خود آگ بن چکی تھی ۔۔
آگ اور آگ کا ملاپ ہمیشہ تباہی ہی لایا کرتا ہے
جاری ہے ۔