Lams E Hararat by Rameen Khan readelle50030 Episode 05
Rate this Novel
Episode 05
“آج ضوفی نے آکر چچی جان کو اسفندیار خان کے خفیہ نکاح کے بارے میں سب بتا دیا ہے ۔۔وہ تو پہلے ہی دل کی مریضہ ہیں اماں ضوفی نے یہ اچھا نہیں کیا سمجھائیں ناں اسکو ۔۔۔اب پتا نہیں چھوٹے خان سنیں گے تو کیا ردعمل دیں گے”
وہ ماں سے فون پر اپنی پریشانی کہہ رہی تھی ۔۔
” تمہیں اپنی بہن کا دکھ نہیں نظر آتا زرشالہ ۔۔ اسفند نے دھوکہ دیا ہے میری بیٹی کو اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے “
اماں بیگم بے رحمی سے کہنے لگیں
” اور اپنے شوہر کو زرا کنٹرول میں رکھو زرش ایک شوہر نہیں سنبھالا جاتا تم سے ۔۔کب تک ڈر ڈر کے جیو گی اس سے”
” آپ کیسی باتیں کررہی ہیں اماں میں بھلا اک مرد کو کیسے کنٹرول کر سکتی ہو”
زرشالہ کیا کسی دوسرے کی بھی کیا مجال جو دراب خان کے سامنے زبان کھول سکے ۔۔۔
جب سے اس نے جرگے میں فیصلے لینا شروع کیئے تھے سب ہی لوگ اس کے رعب سے دبتے تھے ۔۔
” ارے میری بچی تم نے تو بلکل ہی اسے کھلے سانڈ کی طرح چھوٹ دے رکھی ہے ۔۔ میں نے دیکھا ہے وہ زرا بھی فوقیت نہیں دیتا تمہیں ہر وقت ماں کے قدموں میں پڑا رہتا ہے ۔۔ زرا اپنی محبت سے اسکا دل جیتنے کی کوشش کرو ۔۔اپنے قدم مضبوط کرو اس گھر میں۔۔۔کل کو ضوفی نے بھی بیاہ کر اس گھر میں جانا ہے ۔۔ تم تو اپنے حق کے لئے آواز نہیں اٹھاتی تو بہن کے لئے کیا ہی کرو گی “
اماں بیگم یہ بات اسے بیسیوں بار سمجھا چکی تھی ۔۔
مگر مجال ہے جو دراب خان کے سامنے وہ زرا بھی ہمت کر پائی ہو
اسکی غیر موجودگی میں تو وہ کھل کر سانس لے پاتی تھی۔۔۔
پیار محبت تو بہت دور کی بات تھی ۔۔۔
دراصل اسکا رعب اور دبدبہ ہی اتنا تھا کہ اسکی ہر بات اسے حکم کی طرح لگتی کہ بس فورا غلام کی طرح حکم بجالاتی ۔۔
کئی بار تو دراب خود بھی زچ ہوجاتا
پھر مورے کی پسند سمجھ کر اسے نظرانداز کردیتا چونکہ وہ مورے پر جان چھڑکتا تھا ۔۔۔۔
” زرش ۔۔۔! “
دراب نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے عادت کے مطابق اسے آواز لگائی تھی اور وہ ہر بار کی طرح اتنی حواس باختہ ہوئی کہ اماں کو خدا حافظ بھی کہنا بھول گئی ۔۔
” ج۔۔جی “
فورا بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی
“مورے کو دوا کھلائی ؟ “
اس نے گھڑی اتار کر ڈریسنگ پر رکھتے ہوئے سرسری سا پوچھا تھا
مگر زرشالہ کا جھکا سر دیکھ کر دراب خان کے سفید گوری رنگت سرخی مائل ہونے لگی ۔۔
” بیوقوف لڑکی۔۔کتنی بار سمجھایا ہے فون پر غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کیا کرو ۔۔۔دوپہر کے کھانے سے پہلے انہیں دوا دینی تھی اور ۔۔۔”
وہ لب بھینچ کر رہ گیا ۔۔۔
” وہ ۔۔۔ اماں ۔۔۔کا فون آگیا تھا “
زرشالہ کا جھکا سر سینے سے لگ گیا ۔۔
وہ روہانسی ہوکر کہنے لگی
” زرش ۔۔۔ زرش ۔۔۔”
اس نے غصے پر قابو پانے کی ناکام کوشش تھی ۔۔ اور آگے بڑھ کر اسکی کہنی دبوچ لی ۔۔
” اپنی ماں سے کہنا تمہیں ہر وقت فون کرکے پٹیاں پڑھانا بند کردے تم اس گھر میں خوش ہو”
اسکی غصیلی آواز بہت دھیمی اور گرفت سخت تھی ۔۔
” خوش ہو نا ؟ “
زرشالہ سسک اٹھی ۔۔
” جی “
” اب جائو اور مورے کو دوا دو انہیں کھانا کھلائو ۔۔پھر میرے حال احوال پوچھنا کہ دو دن بعد گھر آیا ہوں”
دراب خان نے بے رخی سے اسکی کہنی جھٹکی تھی ۔۔
” حد ہے یار ۔۔ نہ گھر میں سکوں نہ باہر سکوں ۔۔بیوقوف لڑکی سارا موڈ اسپائل کردیا “
وہ فون اور والٹ اٹھا کر دوبارہ باہر نکل چلا گیا ۔۔۔
مہمند خان کے تین شیر جیسے بہادر ، نڈر اور بیباک بیٹے تھے ۔۔۔
بڑا یوسف ،
منجھلا ، اسفند ،
اور چھوٹا دراب خان ۔۔
یوسف نے یونیورسٹی میں ہی گل مینا نامی کسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوکر خفیہ طور پر شادی کرلی تھی ۔۔یونیورسٹی سے پاس آئوٹ ہونے کے بعد وہ چاہتا تھا کہ خان بابا سے بات کرے مگر خان بابا اسکے نکاح کا سن کر ہی طیش میں آگئے اور اسے گھر سے بے دخل کردیا ۔یوسف اپنی بیوی کے ساتھ شہر چلا گیا ۔۔۔
اسفندیار خان کو یوسف سے بہت محبت تھی دونوں بھائی کم دوست زیادہ تھے اسے باپ کی یہ بات پسند نہ آئی تھی اس نے بہت منانے کی کوشش کی مگر خان بابا نہ مانے ۔۔۔ رشتوں کی یہ جنگ پانچ سال چلتی رہی
گل مینا جو گھر سے بھاگ آئی تھی یوسف کے ساتھ کیونکہ نکاح کی خبر سن کر اسکے گھر والے بھی بہت غصے میں تھے گل مینا کے پاس یوسف کا ہاتھ تھامنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔۔۔اک دن خدا جانے کیسے گل مینا کے بھائیوں نے اسے یوسف کے سامنے خوش و خرم زندگی بسر کرتے دیکھ لیا ۔۔
ان کی غیرت اک دم پھر سے جاگ اٹھی ۔۔
گل مینا کے بھائیوں نے نہ صرف یوسف کو بلکے اپنی بہن تک کو قتل کردیا ۔۔
ظالموں نے دو معصوم بچوں تک کا نہ سوچا ۔۔
اسفندیار خان کو جب ان کی موت کی خبر ملی اسکا دل خون کے آنسو رویا تھا ۔۔
وہ دونوں بچوں کو لے کر خان بابا کے پاس گیا تھا کہ ان کے مرحوم بیٹے یوسف کی اولاد ہے مگر انہوں نے
“خون میں ملاوٹ”
کہہ کر بچوں کو خاندان کا نام دینے سے انکار کر دیا ۔۔۔
ا س دن کے بعد سے وہ اپنے آبائی گھر نہیں گیا تھا ۔۔
خان بابا نے اس سے ناراض ہوکر اپنی گدی اسفندیار خان کے بجائے سب سے چھوٹے اور فرمانبردار دراب خان کے سپرد کردی تھی۔۔
اسفند نے دونوں بچوں کی زمہ داری خود سنبھال لی تھی ۔۔
زرگل سے شادی بھی اس نے اسی مقصد کے تحت کی تھی کیونکہ بچے اب بڑے ہورہے تھے
انکی اچھی تربیت کے لئے اک عورت کا ہونا ضروری تھا ۔۔ ویسے تو آیا بھی تھی
مگر اسکی تسلی نہیں ہورہی تھی جب تک وہ خود اپنے آنکھوں سے سب ہوتا ہوا نہ دیکھ لیتا ۔۔
اسے زرگل سے بہت سی امیدیں تھی مگر !
لگتا تھا کہ اس نے غلط فیصلہ کرلیا تھا کیونکہ زرگل کے انداز سے اب بھی اممیچور لڑکیوں کی جھلک نظر آتی تھی جبکے وہ رف ٹف روٹین پر چلنے والا فوجی تھا ۔۔
اسے چڑ سی ہونے لگتی کبھی کبھی ۔۔
اور کبھی کبھی اس من موجی لڑکی پر رشک بھی آتا تھا
وہ زندگی سب فکروں سے آزاد تھی
مگر اسفندیار خان کی زندگی میں تو کانٹے دار راستے تھے ۔۔۔
” بی بی جی آپ رہنے دیں اگر خان صاحب نے آپ کو یہاں دیکھ لیا تو ہمیں ڈانٹ دیں گے آپ بچوں کے پاس چلی جائیں “
جمیلہ بی نے کوئی تیسری دفعہ اسکی منت کی تھی
مگر وہ تھی ڈھیٹ ۔۔اور اسفندیار خان کی نافرمانی کرنے کی تو خاص قسم اٹھا رکھی تھی ۔۔
“اسکا ہاتھ جلایا تو جلایا کیسے اس نے “
وہ ابھی تک اس سے سخت خفا تھی
مگر کمانڈر اسفندیار خان کی صحت پر کیا اثر پڑ سکتا تھا وہ تو بن ٹھن کر تیار ہوکر میس گیا تھا
اب تو واپس آنے کا وقت تھا ۔۔
اس نے پلائو کو دم دیا اور بچوں کے کمرے آگئی ۔۔
علیزے سو چکی تھی ۔۔ ۔
یوسف کی طبیعت آج کل خراب تھی
وہ ضدی اور چڑچڑا سا ہورہا تھا ۔۔۔
اسے سینے سے لگائے تھپک کر سلاتے سلاتے اسے خود بھی نیند آنے لگی تھی ۔۔
یوسف کو صوفے لٹا کر وہ اسکے پاس بیٹھ گئی ۔۔۔
اسے کب نیند آئی پتا نہیں چلا ۔۔۔
جب اسفندیار خان ڈیوٹی سے واپس آیا تو
وہ سیدھا بچوں کے کمرے میں آتا تھا ۔۔۔
اسے کمرے میں دیکھ کر اسے تسلی بخش احساس ہوا تھا ۔۔ اور اپنے رویے پر احساس ندامت بھی ہوا تھا
کل وہ بہت روڈ ہوگیا تھا ۔۔
اسے اپنی حرکت پر افسوس ہونے لگا
” گل ؟ سنو؟ “
آہستگی سے اسکے پاس سرگوشی کی تو وہ ڈر گئی ۔۔
سرخ سرخ خمار آلود آنکھوں سے گھورتے ہوئے اسکے چہرے پر سختی چھا گئی
اس نے یوسف کو کاٹ میں لٹایا اور جانے ہی لگی تھی اسفندیار خان نے اسکا اردہ بھانپ کر راستہ روکا
” رکو مجھے تم سے بات کرنی ہے”
” مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی “
وہ سائیڈ سے نکلی
” میں اپنے کل والے رویے پر شرمندہ ہوں “
اس نے ہاتھ پکڑ کر روکا
” آپ کے شرمندہ ہونے سے کیا ہوگا؟ “
اس کی آواز بھرا گئی
” مجھے سے آج تک کسی نے ایسے بات نہیں کی اور آپ نے تو اتنے بڑے بڑے الزامات لگادیئے کیا جرم تھا میرا ۔۔ بس سوال ہی تو پوچھا تھا اک “
وہ رودی
” اتنی جلن آپ کے دیئے گئے زخم سے نہیں ہوئی جتنی ہاسپٹل کے باہر آپ دونوں کی باتیں سن کر ہوئی “
اس نے تیزی سے ہاتھ چھڑایا
” زرگل تم غلط سمجھ رہی ہو”
اسنے صفائی دینا چاہی
” تو کیا وہ لڑکی نہیں ہے آپ کی منگیتر؟ نہیں کرتے آپ ایک دوسرے سے محبت”
اس نے غصے اور بے بسی سے پوچھا
” منگیتر والی بات سچ ہے مگر”
” اگر سچ ہے تو آپ نے شادی کیوں کی مجھ سے اس سے کیوں نہیں کی؟ “
وہ روتے روتے پوچھنے لگی ۔۔ وہ بہت ہرٹ ہوئی تھی ۔۔
انکی شادی کو عرصہ ہی کتنا ہوا تھا تب سے اب تک اک بات بھی نارمل نہیں ہوئی تھی ان دونوں کے درمیان ۔۔۔
نہ کوئی منہ دکھائی کا تحفہ ،
نہ نئی نویلی دلہنوں کی طرح
اس کے ناز و نخرے اٹھائے گئے ۔۔
اسکے سارے خواب چکنا چور ہوگئے تھے ۔۔
اوپر سے اس شوہر کم جلاد جیسے شخص کے رویے وہ سہہ نہیں پارہی تھی ۔۔۔
” زرگل دیکھو اب تم میری بیوی ہو ۔۔ وہ سب پرانی باتیں ہیں میری زندگی میں اب صرف تم ہو یار”
اسکے دل کو کچھ ہوا تھا وہ نہیں جانتا تھا گل اتنا ہرٹ ہوگی اسکے رویے سے
” آپ صرف زبان سے کہہ رہے ہیں اپنے دل سے پوچھیں کبھی مجھے بیوی سمجھا بھی ہے آپ نے”
وہ کہہ رکی نہیں تھی تیزی سے باہر نکل گئی ۔۔
رات دیر تک اپنے دوستوں کے ساتھ محفل میں بیٹھنے کے بعد وہ کمرے میں آیا تھا۔۔۔
زرشالہ کمرے کی لائٹ بند کرکے سو چکی تھی ۔۔
ظالم لڑکی نے اسکا انتظار تک نہیں کیا تھا کہ
وہ دو دن اسکے بغیر کیسے گزار کر آیا تھا وہی جانتا تھا ۔۔۔ ایک ہاتھ سر کے نیچے جمائے وہ آہٹ پیدا کیئے بغیر اسکے پہلو میں لیٹ گیا ۔۔
ہاتھ بڑھا کر آہستگی سے اسکے چہرے سے بال ہٹائے
” مجھے اپنی محبت تک محسوس کرنے کا حق بھی نہیں دیتی ہو بہت ظالم ہو”
وہ دھیرے دھیرے انگوٹھے کی نوک اسکے نازک پنکھوری جیسے ہونٹوں پر پھیرنے لگا ۔۔
اچانک زرشالہ کی آنکھ کھل گئی وہ ایسے اسکے پہلو سے اٹھی جیسے بھوت دیکھ لیا ہو ۔۔۔
” لیٹ جائو ” حکم ہوا
زرش کی جان پر بن آئی تھی وہ کیسے مزے سے سو رہی تھی پتا نہیں وہ کب سے آیا ہوا تھا ۔۔
اس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا!
” آپ ۔۔۔کے لئے”
” مجھے بھوک نہیں ہے “
وہ جانتا تھا کیا پوچھنے والی ہے
وہ اب کنفیوژ سی لب کاٹ کاٹ کر سرخ کرنے لگی ۔۔ پھر پہلو بدل کر لیٹ گئی ۔۔
دراب نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر کھینچ کر اپنے سینے سے لگالیا اور اسکے بالوں میں منہ چھپا لیا ۔۔
” بڑی بڑی نامور حسینائیں دراب خان سے دو پل بات کرنے کو، قرب پانے کو ترستی ہیں اور اک تم ہو جسے قدر ہی نہیں”
وہ بہت دھیمے سے کہنے لگا اسکے لہجے میں ازیت تھی۔۔۔
” تمہیں کب میری قدر ہوگی ؟”
اسکے والہانہ لہجے میں سختی تھی
زرش سے کوئی جواب نہیں بن پارہا تھا ۔۔۔
دراب خان کی قربت اسکے چھکے چھڑا دیتی تھی ۔۔۔
” تمہیں کیوں نہیں ہے میرے قرب کی چاہ؟ کوئی اور ہے تمہاری نظر میں ۔۔کسی اور پسند کرتی ہو تم”
وہ عجیب جنونی ہورہا تھا
” ایسا نہیں ہے “
” تو پھر کیسا ہے! “
اسکا لہجہ اور گرفت دونوں سخت تھی
زرشالہ نے بیڈ شیٹ مٹھیوں میں جکڑ لی۔۔۔
” میں پسند نہیں ہوں تمہیں ؟”
” میرا۔۔۔میرا دم گھٹ رہا ہے”
وہ اٹھنا چاہتی تھی
اسکے پہلو سے مگر دراب کی گرفت بہت سخت تھی ۔
۔ اور اسکا جواب سن کر تو اسکی مٹھی میں اسکے ریشمی بال تھے
” تم وہ واحد لڑکی ہو جس کا دراب خان کی پناہوں میں دم گھٹتا ہے ۔۔۔تم ! “
وہ اسے چھوڑ کر بہت خراب موڈ کے ساتھ اسٹڈی میں چلا گیا ۔۔اور پوری رات کمرے میں نہیں آیا
زرشالہ کو خود سے نفرت محسوس ہونے لگی ۔۔
وہ کیوں تھی ایسی؟
