Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain NovelR50557 Kia Hoi Hai Khata (Episode 15)
Rate this Novel
Kia Hoi Hai Khata (Episode 15)
Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain
تارا کی گاڑی بس تھوڑی دور رُکی تھی ورنہ اگر گاڑی اٙن بیلنس ہوتی تو کوئی شک نہیں تھا کہ اُس کی گاڑی کا ٹکراؤ بُرے طریقے سے احناف کی گاڑی کے ساتھ ہوجاتا۔۔۔۔
باہر آؤ۔۔۔احناف جلدی سے اپنی گاڑی سے اُترتا تارا کے سر پر کھڑا ہوا
مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔تارا نے پہلی بار لب کُشائی کی
نین
نام نہ لو میرا۔۔۔احناف کچھ کہنے والا تھا جب تارا نے ضبط سے کہا
باہر آؤ تم۔۔۔۔احناف نے سخت انداز اپنایا تو تارا نے سپاٹ نظروں سے اُس کو دیکھا
پلیز۔۔۔۔۔احناف کے لہجے میں التجا تھی جس کو محسوس کیے تارا نے ناچاہتے ہوئے بھی گاڑی کا دروازہ کُھولا تو احناف کی جان میں جیسے جان آئی تھی۔
ہاتھ مت لگانا مجھے۔۔۔۔احناف اُس کی طرف بڑھنے لگا تو تارا نے درمیان میں اُس کو روک لیا
مجھے کچھ بولنے کا موقع تو دو۔۔۔احناف اُس کو دیکھ کر عاجزی سے بولا
مجھے تمہاری چیزی لائنز نہیں سُننی مجھے پتا ہے تم کیا کہو گے تم کہو گے نین مجھے حیات سے محبت ہوگئ تھی مجھے پتا نہیں چلا اور کب ہماری دوستی محبت میں بدل گئ مجھے احساس تک نہیں ہوا۔۔۔۔تارا اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر طنز سے بھرپور لہجے میں بولی تو احناف بے یقینی سے بس اُس کو دیکھتا گیا
میں نے محبت ایک بار کی ہے۔۔۔احناف نے سنجیدگی سے کہا
حیات سے۔۔۔۔تارا رُخ موڑ کر کھڑی ہوگئ۔۔
صرف تم سے۔۔۔۔احناف نے اُس کا رُخ اپنی طرف کیا
مجھ سے تم نے وقت گُزاری کی ہے احناف جتوئی اصل محبتیں نچھاور تو کسی اور پر کرنے والے ہو تم”میں تم پر اعتبار کرنا نہیں تھی چاہتی اور نہ تمہاری باتوں میں بہکنا چاہتی تھی مگر تم نے جان کر مجھے اٹینشن دی مجھے وہ سب کچھ دیا جس کی مجھے ضرورت تھی اور بعد میں بتادیا کہ تم بھی باقیوں جیسے ہو”میرا کیا ہے میں تو بچپن سے عادی ہوں مجھے تو بچپن سے کچھ نہیں ملا پہلے ماں باپ پھر بہن سب کے سب مجھے تنہا چھوڑ گئے کسی کو تارا کی ضرورت نہیں تھی تارا ایک فالتو چیز ہے جو کسی فُٹبال کی طرح یہاں سے وہاں بس گھومتی رہتی ہے جو بھی آتا ہے یا وہ جس کے راستے میں آتا ہے کیک مار کر چلاجاتا ہے۔۔۔۔تارا بھیگے لہجے میں بولی
ایسا نہیں ہے۔۔۔۔احناف نے اُس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا
ایسا ہی ہے تم مزید مجھے دھوکہ میں نہیں رکھ سکتے مجھے پتا چل گیا کہ تم پر اعتبار کرکے میں نے اپنی زندگی میں کتنی بڑی غلطی کی ہے تم جھوٹے ہو”تمہاری وہ ساری کہی باتیں جھوٹی ہیں”تمہارا پیار جھوٹا ہے سب سے بڑی بات تم ایک واعدہ خلاف شخص اور ایک بہت بڑے “ہارٹ بریکر ہو آئے ہیٹ یو احناف آئے ہیٹ یو مجھے تم سے زیادہ خود پر غُصہ آرہا ہے کہ میں نے تمہیں اعتماد کی ڈور تھمائی۔۔۔۔تارا اُس کے سینے پر مُکوں کی برسات کرتی آخر میں نیچے بیٹھتی چلی گئ۔۔۔۔”اُس کو ایسے دیکھ کر احناف کی اپنی حالت غیر ہونے لگی تھی۔۔۔
میں نے تمہیں دھوکہ نہیں دیا تارا میں حیات کے ساتھ مزید بُرا نہیں کرسکتا تھا اُس کی کوئی غلطی نہیں ہے وہ تو بے قصور ہے۔۔۔احناف گھٹنوں کے بل اُس کے پاس بیٹھ کر بولا تو تارا کا سسکیاں لیتا وجود تھما تھا اور وہ نظریں اُٹھائے بے مقصد کتنا ہی وقت بس احناف کا چہرہ دیکھنے لگی جیسے کچھ کھوجنا چاہ رہی ہو۔۔۔۔
اوو سہی کہتے ہیں لوگ کہ نکاح کے دو بول میں بہت تاثیر ہوتی ہے اب تو نتیجہ بھی میرے سامنے ہے وہاں تم نے دو لفظ بولیں اور یہاں تمہارے اندر اُس کے لیے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر آباد ہوگیا۔۔۔۔تارا کا انداز طنز سے بھرپور تھا جس پر احناف بس تاسف سے اُس کو دیکھ پایا
میں نے بس دل وجان سے تمہیں چاہا ہے۔۔۔احناف نے بکھرے لہجے میں کہا تو تارا نے اپنا سر زور سے نفی میں ہلایا
کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا”مجھ سے کسی کو کوئی غرض نہیں اور تم نے احناف جتوئی میرا استعمال کیا تھا تمہیں مجھ سے محبت کبھی ہوئی ہی نہیں تھی۔۔۔۔تارا ہذیاتی انداز میں چیخی تھی اور یکدم کھڑی ہوتی پاگلوں کی طرح یہاں سے وہاں ٹہلنے لگی۔۔۔
کیا کہا؟مجھے تم سے محبت نہیں؟احناف جیسے بے یقین ہوا اُس نے سُنا بھی تھا تو بس اُس کا آخری جُملا وہ اُس سے ہر جُملے کی توقع کررہا تھا پر شاید اِس کی نہیں مگر تارا نے اُس کو دیکھ کر محض نفرت سے اپنا سرجھٹکا تھا
یہ میری محبت ہی تھی جو میں تمہاری ہر بات مانتا آیا ہوں۔۔۔احناف اچانک اُس کا بازوں دبوچ کر بولا
تم ایک دوغلے شخص ہو تم نے مجھے چیٹ کیا ہے احناف جتوئی اور مجھے تم سے نفرت ہے شدید نفرت تم نے جو کچھ کیا اُس میں تمہارا اپنا مفاد چُھپا تھا میرے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔وہ اپنا بازوں آزاد کرواتی غرائی تو احناف بس اُس کو دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔
تمہیں کبھی میری محبت پر یقین آیا ہی نہیں تھا۔۔۔احناف کی حالت کسی ہارے ہوئے جواری سے زیادہ بدتر تھی۔
بلکل کیونکہ پتا ہے کیا تمہاری رگوں میں بھی اُن کا خون ہے جن سے مجھے حددرجہ شدید قسم کی نفرت ہے پر میری مت ماری گئ تھی جو میں نے تم پر یقین کیا اور جواب میں تم نے مجھ سے اپنی ریجیکشن کا بدلا اِس طریقے سے لیا میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر اور میرے دل کو توڑ کر چکنا چور کرکے۔۔۔۔تارا کا پورا چہرہ آنسوؤ سے تر تھا کیا کچھ نہیں تھا اُس کے لہجے میں جس کو احناف محسوس کرکے تڑپ ہی تو گیا تھا۔۔۔
تم نے۔۔۔۔
احناف نے اُس کی طرف اِشارہ کیا تو تارا اپنے گال صاف کرتی احساس سے عاری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔
تم نے مجھ سے کہا احناف حیات کا پرپوزل ایکسیپٹ کرلوں میں نے ناچاہتے ہوئے بھی اپنے دل کو مار کر تمہاری بات مان لی اور حیات کے آگے جُھک گیا۔۔۔”پھر تم نے کہا احناف اپنے اور حیات کے درمیان نزدیکیاں پیدا کرو میں ایسا نہیں چاہتا تھا مگر تمہارے لیے صرف اور صرف تمہارے لیے “نین تارا بٹ میں نے ایسا بھی کیا تم نے کہا احناف اِس ڈیٹ پر اپنی اور حیات کی منگنی فکس کرو میں اُس سے منگنی نہیں تھا کرنا چاہتا تم سے ہزار بار کہا بھی پر تم کچھ سُننے کے موڈ میں تھی کہاں”جو بھی تھا میں نے وہ کیا میری او اُس کی شادی کا فیصلہ بھی تمہارا تھا تم نے جو جو مجھ سے کروانا چاہا میں نے کیا تم ایک بار کہتی کہ احناف مرجاؤ اللہ کی قسم میں بغیر وجہ پوچھے مرجاتا۔۔۔۔احناف بولنے پر آیا تو بولتا چلاگیا اور آخر میں اُس کے لہجے میں عجیب بے بسی کا عنصر نمایاں ہوا تھا۔۔۔
مرنا قبول ہے تمہیں مگر حیات سے نکاح نہ کرنا قبول نہیں تمہیں”تم نے ایک بار احناف ایک بار بھی میرا نہیں سوچا تمہیں بھی مجھ سے کوئی غرض نہیں تھا تمہیں بس مجھے پانا تھا اور تم اُس مقصد میں کامیاب ہوگئے تھے آخر میں بس ڈرامہ کیا تم بہت کم ظرف ہو احناف بہت کم ظرف ہو”میرے دل سے تم ایسے کِھیلے جیسے ایک بچہ دلجموئی سے اپنے کسی کھلونے سے کھیلتا ہے۔۔۔۔۔تارا کو جیسے اُس کی کسی بات کا یقین نہیں ہوا تھا
تم نے بہت بول دیا نین مگر میں اپنی محبت کے خلاف ایک لفظ مزید سُنوں گا۔۔۔۔احناف نے سنجیدگی سے کہا
محبت کی پہلے معنی جانو احناف پھر بات کرنا۔۔۔۔۔تارا نے نخوت سے سرجھٹکا
تم خود کو میری جگہ رکھو اور سوچو کیا میری جگہ ہوتی تو ایسا کرتی؟”میں کیسے حیات کو پوری محفل کے آگے رسوا کرتا جبکہ میں خود ایک لڑکی کا بھائی ہوں۔۔۔۔احناف نے اِس بار نرمی سے اُس کو دیکھ کر کہا
تم خود کو میری جگہ رکھو احناف پھر مجھ سے یہ سوال کرو”بچپن سے تم نے وہ نہیں دیکھا جو میں دیکھتی آئی ہوں”تم نے وہ سب برداشت نہیں کیا جو میں کرتی آئی ہوں تم کبھی کسی کے لمس کے لیے ترسے نہیں ہو مگر میں ترستی آئی ہوں”مجھے جب چوٹ لگتی تھی تو کوئی مرہم لگانے کے لیے میرے آگے پیچھے نہیں تھا ہوتا مگر جب ایک خروچ بھی حیات یا سومل میں سے کسی کو لگتی تو پورا گھر اُن کے آگے پیچھے رہتا تھا” تمہاری پُکار پر ہر کوئی تمہارے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے مگر میں چلا چلا کر اپنا گلا بھی خُشک کردو تو کوئی نہیں آتا میں کس جگہ پر ہوں وہ تو تم کبھی سمجھ نہیں سکتے کیونکہ تم نے کسی کو کھویا نہیں ہے پر میں نے بس کھویا ہے”کسی دل کے قریب شخص کو کھونے کا درد اُس کی تکلیف کیا ہوتی ہے یہ تم کبھی نہیں سمجھ سکتے یہ بس میں خود اکیلے سمجھ سکتی ہوں کیونکہ میں نے بس اپنوں کو کھویا ہے اور آج تمہیں بھی کھودیا۔۔۔۔تارا نے رنجیدہ آواز میں کہا تو احناف کو اُس کی آخری بات پر کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا تھا اُس کے گلے کی ہڈی اُبھر کے معدوم ہوئی تھی۔۔۔”اور وہ سانسیں روکتا تارا کو دیکھنے لگا
نین
بس احناف۔۔۔۔احناف نے کچھ کہنا چاہا تھا جب تارا نے اِشارے سے اُس کو روک دیا
بچپن میں حیات نے میرے ٹیڈی بیئر کو ٹچ کیا تھا میں نے وہ ٹیڈی بیئر آگ میں جھونک دیا تو تم نے کیسے سوچ لیا کہ اگر تم خود کو اُس کے حوالے کرو گے اور پھر جب میرے پاس آؤ گے تو میں تمہارے لیے دروازے کھول دوں گی؟”تم نے مجھے جاناں ہی نہیں اگر جانتے تو ایسا کبھی نہ کرتے۔۔۔۔تارا اٹل انداز میں کہتی جانے لگی جب احناف نے اُس کے دونوں کندھے تھمامے
مجھے میرے حق میں بولنے کا موقع تو دو میں نے اِتنی بڑی خطا کونسی کی جو تم اِتنی بڑی سزا دے رہی ہو۔۔۔۔۔احناف اُس کو دیکھ کر بولا تو تارا طنز مسکرائی اور اپنے اور اُس کے درمیان فاصلہ قائم کیا
میرا سب کچھ اُجاڑ کر تمہیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ تم سے کیا ہوئی ہے خطا؟”ایمان اور عشق کا ایک ہی کلمہ ہے احناف
وَحَدَہؙ لاَ شَریکَ لَہؙ
شرک دونوں میں ہی حرام ہے
شرک خُدا بھی برداشت نہیں کرتا تو میں تو پھر بھی بس اُن کی بندی ہوں میرے پاس اپنا اکلوتا سہارا تھا جو میں نے تمہیں سمجھا تھا مگر اب لگ رہا ہے جیسے میں اُس سے بھی گئ تمہیں تمہاری ہیپی اینڈ نیولی ویڈنگ لائیف مُبارک ہو احناف۔۔۔تارا بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرکے کہتی وہاں رُکی نہیں تھی جبکہ اُس کے الفاظوں میں جانے کیا تھا جنہوں نے احناف کے قدموں میں زنجیریں ڈال دی تھی اور وہ چاہ کر بھی تارا کو اِس بار روک نہیں پایا تھا۔۔۔








چچی یہ احناف کہاں چلاگیا مطلب یہ زیادہ ہوگیا کہ رُخصتی کے وقت دولہا ہی غائب تھا۔۔۔۔بینش بیگم حیات کو لیکر احناف کے کمرے میں آئی تو حیات بولی جس پر بینش بیگم شرمندہ سی مسکرائی
اُس کو کوئی ضروری کام پڑگیا ہوگا تم پریشان نہ ہو میں کال کرکے اُس سے پوچھتی ہوں کہ وہ کہاں ہے۔۔۔بینش بیگم نے اُس کو تسلی بخش جواب دیا
میں اُس سے ناراض ہوں یہ بھی بتائیے گا آپ اُس سے۔۔۔۔حیات بیڈ پر اپنا لہنگا پِھیلا کر بیٹھتی اُن سے بولی
ضرور تمہیں کچھ چاہیے تو بتادینا۔۔۔۔بینش بیگم مسکراکر بولی
جی ضرور اب تو یہ میرا اپنا گھر ہے۔۔۔۔حیات چاروں اِطراف اپنے کمرے پر ڈال کر بولی
بلکل ایسے میں تو کوئی شک نہیں۔۔۔۔بینش بیگم اُس کے سر پر ہاتھ پھیر کہتی کمرے سے باہر چلی گئ تو اُن کے جانے کے بعد حیات بھی بیڈ سے نیچے اُتری اور کمرے کی ہر چیز کو چھو کر محسوس کرنے لگی۔۔۔۔
“فائنلی احناف اب میرا ہے امی خوامخواہ پریشان ہوا کرتی تھی میرے لیے۔۔۔حیات ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی ہوتی اپنا آپ آئینے میں دیکھتی خود سے بولی

حیات
حیات
کہاں ہو بیٹا۔۔۔۔۔۔
منیبہ بیگم پورے گھر میں حیات کو تلاش کرتی پِھر رہی تھیں جو اُن کی آواز سن کر لاؤنج میں آئی تھی۔
کیا ہوگیا ہے امی؟حیات نے سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھا
یہاں آؤ بیٹھو میری بات سُنو۔۔۔۔۔منیبہ بیگم نے اُس کو اپنے پاس بیٹھنے کا اِشارہ دیا
جی؟حیات اُن کے پاس بیٹھی
تمہیں پتا ہے احناف نے آج بہت بڑا پراجیکٹ حاصل کیا ہے۔۔۔مُنیبہ بیگم اُس کو دیکھ کر بولی
ہاں سرسری سی بات ہوئی تھی میری تو اُس نے بتایا میں نے اُس سے ٹریٹ بھی مانگی ہے وہ شام میں آئے گا ہم سب کو لیجانے۔۔۔۔حیات نے اچانک پرجوش ہوکر بتایا
سب کو؟مُنیبہ بیگم نے دانت پیسے
ہاں سب کو ازلان”سومل مومل فضا”ارسلان۔۔۔حیات نے “تارا”کے علاوہ ہر ایک کا کام نام لیا
وہ تارا کے ساتھ ہے اِس وقت وہ بھی اکیلے۔۔۔۔مُنیبہ بیگم نے اُس کی عقل پر ماتم کیا
ہاں مجھے بتایا ہے اُس کی یونیورسٹی کے کسی کام میں لگا ہوا ہے دادا جان نے کہا ہے اُس سے۔۔۔۔”ایک تو دادا جان کو اپنے کاموں کے لیے ایک احناف نظر آتا ہے۔۔۔حیات نے سرجھٹک کر بتایا
دیکھو حیات تم میری بیٹی ہو اور میں نہیں چاہتی تمہارا حق وہ تارا لے جائے۔۔۔۔مُنیبہ بیگم اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولی
تارا کی اِتنی اوقات ہے جو وہ میرا حق چھین پائے؟بائے دا وے آپ کس حق کی بات کررہی ہیں؟حیات پوری طرح سے اُن کی جانب متوجہ ہوئی
میں تمہیں ہمیشہ سے کہتی ہوں کہ احناف کو اپنے بیحد نزدیک کرو اِتنا کہ وہ کسی اور لڑکی کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھے اگر تم نے یہ کام نہیں کیا تو یہ کام وہ تارا کرے گی۔۔۔مُنیبہ بیگم نے اپنی بات اُس کو سمجھانی چاہی
امی ہم دونوں آپس میں بیسٹ فرینڈز ہیں اور بیحد قریب ہے اِس سے آگے میں کیا کرسکتی ہوں میں کوئی جیلر تو نہیں جو اُس کو اپنا قیدی بنا ڈالوں۔۔۔۔حیات کے سر پر سے گُزری تھیں مُنیبہ بیگم کی باتیں۔۔۔
تم اِتنی کم عقل کیوں ہو حیات؟مُنیبہ بیگم زچ ہوئی
آپ مجھے صاف صاف بات کیوں نہیں کہتیں؟”جو کہنا چاہتی ہیں کُھل کر کہیں۔”جلدی سے بتائے پھر مجھے ازلان کے ساتھ اپنے ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔حیات کو اب کوفت ہونے لگی تھی۔
دوستی وغیرہ کچھ نہیں ہوتی حیات اور یوں سمجھو احناف بھائی صاحب کی ساری جائیداد کا اکیلا وارث ہے سُلطان تو اپنی امیر گرل فرینڈ کے ساتھ پاکستان سے لینڈ کرجائے گا پر پیچھے احناف رہتا ہے جو الطاف بھائی کی پروپرٹی کا اکیلا وارث ہوگا سوچو اگر تمہاری اُس سے شادی ہوئی تو تمہاری پوری زندگی عیش میں گُزرے گی۔۔۔۔”تم ساری عمر راج کرو گی راج۔۔مُنیبہ بیگم نے کہا تو حیات پرسوچ نظروں سے اُن کو دیکھنے لگی۔
عیش تو میرے یہاں بھی ہے اُس کے لیے میری اور احناف کی شادی کیوں ہو؟حیات کو ابھی تک ٹھیک سے کچھ سمجھ نہیں آیا
تمہارا باپ تمہاری شادی ازلان سے کروادے گا اور حیات میری جان ازلان کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں اصغر بھائی صاحب اپنے بچوں اور بیوی سے سخت ناخوش ہیں ازلان سے اگر تمہاری شادی ہوئی تو تمہیں وہ سب کچھ نہیں ملے گا جو تم ڈیزور کرتی ہو۔۔۔۔۔مُنیبہ بیگم پیار سے اُس کی ٹھوڑی چھو کر بولی
احناف ہو یا ازلان دونوں میرے کزنز اور اچھے دوست ہیں امی اور برابر بھی احناف جنونی قسم کا ہے اُس کی سوچ کافی ٹپیکل ہے آپ دیکھتی نہیں کیسے وہ تارا کے پہننے اوڑھنے پر ٹونٹ کرتا ہے بلاوجہ کا روعب جھاڑتا ہے اگر ہماری شادی ہوئی بھی تو وہ ایسا رویہ میرے ساتھ بھی رواں رکھے گا اور آپ جانتی ہیں مجھے پابندیاں پسند نہیں۔۔۔۔۔حیات جھرجھری سی لیکر بولی
تم اُس کی ٹپیکل سوچ نہیں اُس کا جنونی انداز دیکھو سوچو وہ تمہارے لیے کتنا اچھا شوہر ثابت ہوگا اُس کے پاس سب کچھ ہے حیات اور وہ سب میں تمہارا ہوتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں تم حیات ہو میری بیٹی جس کو بس راج کرنا چاہیے”کیا تم چاہو گی وہ سب کسی اور کو ملے۔۔۔۔؟مُنیبہ بیگم بہت خوبصورت طریقے سے اپنی باتیں اُس کے دماغ میں ڈالنے لگی جو کچی عمر کے ہونے کے باعث حیات کے دماغ میں بیٹھتی بھی چلی گئ۔۔۔۔۔
میں ایسا ہرگز نہیں چاہوں گی امی اور ظاہر سی بات ہے شادی ایک نہ ایک دن میری ہوگی پھر احناف سے کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔حیات پہلی بار مسکرائی
تو بس احناف کو اپنا بنالو ایسا بناؤ کے وہ کسی اور کے بارے میں سوچے بھی نہ ویسے بھی تم اگر اُس کو پرپوز کرو گی تو وہ کبھی تمہیں انکار نہیں کرے گا۔۔۔۔مُنیبہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا
بلکل وہ انکار نہیں کرے گا اور میں کچھ ماہ بعد اپنے سالگرہ کے دن اُس کو پرپوز کروں گی ہوسکتا ہے مجھے الگ قسم کی محبت ہوجائے اُس سے۔۔۔۔۔حیات خوشی ہوتی بولی
خوش رہو میری جان۔۔۔۔مُنیبہ بیگم نے جُھک کر اُس کا ماتھا چوما

بھابھی؟
انابیہ کی آواز پر حیات جو سوچو میں گُم تھی چونک پڑی
انابیہ تم اِس وقت؟حیات نے پلٹ کر اُس کو دیکھا
امی نے آپ کے لیے جوس بھیجا تھا۔۔۔”اور بول رہی تھیں اگر آپ تھک گئ ہیں تو سوجائے بھائی کو آنے میں شاید وقت لگ جائے۔۔۔۔انابیہ نے بتایا
ہماری شادی تھی آج اور آج کے دن اِس سے زیادہ ضروری کیا کام ہوسکتا ہے؟حیات کو انابیہ کی بات پسند نہیں آئی جس کا اِظہار اُس نے بلاجھجھک کیا
ڈونٹ نو۔۔۔۔انابیہ نے کندھے اُچکائے اور جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھ کر وہ چلی گئ۔۔جبکہ حیات آس پاس دیکھتی اپنا فون تلاش کرنے لگی جو اُس کو نہیں ملا مگر سائیڈ ٹیبل پر اُس کو ایک تصویر ضرور نظر آئی تھی جو اُلٹی پڑی تھی۔۔۔۔
یہ کس کی تصویر ہے؟حیات آہستہ سے بڑبڑاتی اور وہ تصویر اُٹھائی تو تارا کی تصویر دیکھ کر اُس کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا”تصویر میں وہ احناف کے ساتھ تھی اور یہ کالج میں لی گئ اُن کی تصویر تھی جس کو دیکھ کر حیات کو یہ خیال نہیں آیا تھا کہ تارا کی تصویر احناف کے کمرے میں کیوں ہے؟”کیونکہ کمرے کی دیواروں پر آلریڈی ہر ایک کزن کی تصوریں لگی ہوئیں تھی تارا کی تو پھر بھی ایک تھی۔۔۔۔
پتا نہیں پر تم مجھے بُہت بُری لگتی ہو۔۔حیات اِتنا کہتی فریم سے وہ تصویر نکالی اور اُس کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا








تارا اپنا بِکھرا وجود لیے گھر میں آئی تو گھر میں ابھی تک موجود سجاوٹ دیکھ کر اُس کو وحشت سی ہونے لگی۔۔۔۔”اپنا دم گُھٹتا محسوس ہونے لگا کچھ قبل پہلے والے آنسو جو خشک ہوچُکے تھے وہ ایک بار پھر آنکھوں سے برسنے لگے۔۔۔”
“احناف حیات کے ساتھ ہوگا اُس کے ساتھ ایک کمرے میں ہوگا۔۔۔”ایسی سوچیں اُس کے دماغ میں آکر اُس کو جیسے کچوے مار رہی تھیں وہ اِن سب سے آگے سوچنا چاہتی بھی نہیں تھی پر بے بس تھی۔۔۔۔
حیات تم نے بچپن سے لیکر آج تک میرے ساتھ بُرا کیا ہے اور تم سہی تھی۔۔۔۔ہراساں نظروں سے وہ خالی ہال کو دیکھتی آہستگی سے بڑبڑائی تھی۔۔۔۔

تارا۔۔۔۔؟
سترہ سالہ حیات پندرہ سالہ تارا کے پاس آکر بیٹھی جو لاؤنج میں اپنا کالج اسائمنٹ کرنے میں بزی تھی۔
جی۔۔۔۔۔تارا نے جواباً سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا جس کے ساتھ سومل اور مومل دونوں ساتھ تھیں۔۔۔
آج بیٹھے بیٹھائے باتوں میں ہمارے دماغ میں ایک سوال آیا سوچا اُس کا جواب کیوں نہ تم سے لیا جائے۔۔۔۔اِس بار سومل نے کہا
کیسا سوال؟تارا باری باری اُن کو دیکھنے لگی
تمہاری بہن چاندنی نے خودکشی کیوں تھی؟’کیا اُس کو پتا نہیں تھا نہ خودکشی حرام ہے۔۔۔حیات نے رازدرانہ انداز میں اُس سے پوچھا تو اُن کے سوالوں پر تارا کے چہرے کی رنگت متغیر ہوئی تھی
میرے خیال سے نہیں ہوگا پتا کیونکہ بلوچستان کے ایک گاؤں میں رہا کرتے تھے یہ لوگ اور گاؤں کے لوگ تو ہوتے ہی جاہل ہیں۔۔۔۔۔مومل نے چسکا لیکر کہا تو تارا نے بے ساختہ اپنے لب کُچلے اُن کو دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔۔۔۔۔
پتا ہے کیا مجھے لگتا ہے ضرور اُس سے کوئی بہت بڑی غلطی ہوگئ ہوگی جس کا انجام بہت بھیانک ہوگا اور وہ کسی کو بھی فیس کرنے کے قابل نہیں بچی ہوگی جبھی تو ایسا کیا۔۔۔حیات اپنا اندازہ لگاکر بولی تو تارا اپنی کتابیں سمیٹنے لگی۔۔
کہاں ہمیں ہمارے سوال کا جواب تو دو پہلے۔۔۔۔تارا اُٹھ کر جانے لگی جب سومل اُس کے سامنے کھڑی ہوئی
مجھے کسی کو بھی جواب دینے کی ضرورت نہیں اور آپ میں سے اگر کوئی بھی میری بہن کے بارے میں غلط بولا تو میں برداشت نہیں کروں گی۔۔۔تارا نے سنجیدگی سے دو ٹوک لہجے میں کہا اُس کی بات پر وہ تینوں بے ساختہ قہقہقہ لگانے لگیں
سُنو تو بول کون رہا ہے ایسا۔۔۔حیات نے طنز نظروں سے اُس کو دیکھا
میں بلوچستان کے گاؤں میں نہیں شہر میں رہتی تھی جہاں کے لوگ کافی امن پرست اور محبت کرنے والے لوگ ہوا کرتے تھے۔۔۔وہاں ایسے وہ کسی کا مذاق نہیں اُڑایا کرتے تھے اُن کی زندگی بس محبت کرنے اور محبت بانٹنے میں گُزرا کرتی تھی۔۔وہ انجانے لوگوں کو بھی اپنا بناکر چھوڑتے تھے ہر ایک سے ادب اور احترام سے ملنا اُن کے خون میں شامل تھا۔۔۔تارا حیات کی بات پر خاصے جتانے والے انداز میں بولی
تو تمہیں وہاں رہنا تھا نہ یہاں کیوں آئی؟سومل نے کاٹ کھاتی نظروں سے اُس کو دیکھا
اپنی مرضی سے نہیں آئی میں یہاں۔۔۔تارا نے بس اِتنا کہا
“بلکل ہمارے سویٹ دادا جان نے اپنی محرومہ بیٹی کی نشانی کی طور پر تمہیں یہاں لائے کیونکہ اُن کو ڈر تھا تم بھی نہ خودکشی کرلوں کہی اور تمہیں نہ دادا کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جو تمہیں یہاں لائے ورنہ تم آج اے سی کی کولنگ میں نہیں ہوتی بلکہ کُھلے سر ننگے پاؤں تپتی دھوپ میں سڑک پر ہوتی اور تو اور ہمارا بھی تمہیں شکریہ ادا کرنا چاہیے جو اِس گھر میں تمہیں رہنے دیا ورنہ تم کیا اور تمہاری اوقات کیا۔۔۔۔حیات سرتا پیر اُس کو دیکھ کر حقارت سے بولی تو پہلی بار اُن میں سے کسی کی بات سن کر تارا کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں”مگر اُس نے ہر طرح کی کوشش کی تھی کہ اُس کی آنکھ سے آنسو نہ بہے اور وہ اُن کے آگے شرمندہ ہونے سے بچ جائے۔۔۔۔۔
بلکل ٹھیک بول رہی ہو تم۔۔۔۔سومل حیات کی بات سے متفق ہوئی
اور تمہیں پتا ہے تارا ہمارے یہاں جو بھی آتا ہے ہر کوئی تمہیں ہمدردی سے دیکھتا ہے کسی کو تمہارے لیے محبت کا احساس نہیں ہوتا اور دیکھنا آگے چل کر بھی کوئی تم سے محبت نہیں کرے گا کیونکہ تم محبت کے لائق نہیں ہو تمہارے پاس ایسا کچھ نہیں جس کی بدولت تم سے کوئی پیار کرے تم ایک یتیم اور بے سہارا لڑکی ہو جس سے ہر ایک ہمدردی تو کرسکتا ہے پر پیار؟”پیار ہرگز نہیں کرسکتا تم خوبصورت تو ہو مگر تمہاری قسمت کافی بدصورت ہے۔۔۔حیات اُس کے گرد چکر کاٹ کر آہستہ آہستہ بولنے لگی تو تارا کی اب بس ہوئی تھی جبھی وہ اُن تینوں کو دھکا دیتی اُپر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔

کیوں؟؟؟؟؟
آخر کیوں احناف تم نے میری اندھیری زندگی میں اُجالا کیا اور پھر دوبارہ مجھے اندھیروں میں جھونک دیا۔۔۔آخر کیوں کیا تم نے احناف ایسا کیا میرا کیا تھا قصور۔۔۔اپنے بالوں کو نوچتی تارا شدتِ غم سے چلائی تھی مگر اُس کی سُننے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ ہر کوئی اب شادی کی تھکاوٹ کے بعد اپنے اپنے کمروں میں خواب وخروش سے مزے لوٹ رہا تھا اور ایک وہ تھی جو اکیلی تھی اور اُس کی تنہائی جس کے ساتھ اُس نے جینا تھا۔۔۔
مجھے نفرت ہے تم سے احناف آئے ہیٹ یو میں کبھی تمہیں معاف نہیں کروں گی تم نے میرا اعتبار توڑا ہے جو میں نے تم پر کیا تھا تم بھی سب کی طرح نکلے احناف تم بھی سب کی طرح نکلے اور مجھے اب تم سے بھی نفرت ہے۔۔۔اپنے گالوں پر بار بار تھپڑ مارتی وہ کوئی پاگل لگ رہی تھی اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ رو رو کر آسمان سر پر اُٹھالیتی۔۔۔۔۔
