Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kia Hoi Hai Khata (Episode 04)

Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain

آج ہاف ڈے تھا اور پھر بھی احناف تم آج لیٹ آئے ہو بیٹا۔۔۔۔۔احناف اپنے گھر تھکا ہارا لوٹا تو بینش بیگم نے کہا

امی وہ دادا کی طرف گیا تھا حیات کو ہیلپ چاہیے تھی کچھ۔۔۔۔احناف صوفے پہ ڈھے ہوتا بتانے لگا

کسی ہیلپ؟اور وہاں تارا بھی ہوتی ہے نہ کیسا ہے رویہ ہے سب کا اُس کے ساتھ؟”بچاری معصوم بچی کے ساتھ بُرا ہوا ہے بارہ سال کی عمر میں پہلے ماں باپ کو کھویا اور اب اِس چودہ سال کی عمر میں اکلوتا سہارا اپنی بہن کو بھی گنوادیا۔۔۔۔بینش بیگم افسردگی سے بولی

اچھا رویہ نہیں ہے کسی کا بھی اُس کے ساتھ۔۔۔۔احناف آہستگی سے بڑبڑایا

کچھ کہا کیا تم نے؟بینش بیگم نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا

میں نے کچھ نہیں کہا میں کمرے میں جارہا ہوں سوؤں گا پھر رات کو میرا کرکٹ میچ ہے۔۔۔۔احناف کلسمندی سے بولا

احناف پیپرز قریب ہیں تمہارے اُس پہ فوکس کرو اور اپنی اِن ساری فضول ایکٹویٹیز کو بند کرو باپ تمہارا پہلے ہی ناخوش ہے تم سے خیر سے بڑے ہو تم مگر بچوں کے ساتھ رہ رہ کر خود کو بچا بنالیا ہے۔۔۔۔بینش بیگم نے سنجیدگی سے کہا

فکر نہ کرے میرے مارکس اِس بار اچھے آئے گے ابھی آپ دعا کرنا میں میچ جیت جاؤں۔۔۔احناف نے اُن کی ساری باتیں ایک کان سے سُنی اور دوسرے کان سے نکال دی

❤
❤
❤
❤
❤
❤

دادا جان۔۔۔۔ازلان اور حیات اُسماعیل صاحب کے کمرے میں آکر اُن سے مُخاطب ہوئے جو سوئی ہوئی تارا کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہے تھے۔۔۔۔۔

رات کے اِس وقت خیریت؟اُسماعیل صاحب نے تارا کے نیند میں ہونے کا خیال کرکے آہستگی سے پوچھا

بہت ضروری بات کرنی ہے آپ سے باہر آئے۔۔۔ازلان نے بھی اِس بار آہستگی سے کہا

کونسی بات؟اسماعیل صاحب نے سوالیہ نظروں سے اُن دونوں کو دیکھا

آپ باہر آئے تو سہی۔۔۔حیات نے تیز پرجوش لہجے میں کہا تو تارا کی نیند ٹوٹ گئ تھی وہ مندی مندی آنکھوں سے کبھی ازلان حیات کو دیکھتی تو کبھی اُسماعیل صاحب کو جو خشمگین نظروں سے حیات کو گھور رہے تھے۔۔

میں نے مشکل سے تارا کو سُلایا تھا۔۔۔اُسماعیل صاحب نے حیات سے کہا تو اُس نے لب دانتوں تلے دبائے

سوری۔۔۔۔۔۔حیات معذرت خواہ ہوئی

اچھا ہوا جو تارا جاگ گئ دادا جان ہم سب آئسکریم کھانے جارہے ہیں تو یہ بھی ہمارے ساتھ چلے تو کتنا اچھا ہوجائے گا ویسے بھی تارا کو باہر کبھی آپ لیکر نہیں گئے۔۔۔ازلان تارا کو دیکھ کر اسماعیل صاحب سے بولا

پاگل انسان ہم آئسکریم کھانے نہیں جارہے۔۔۔حیات نے دانت پیس کر اُس کو دیکھ کر کان میں سرگوشی کی

چُپ کرو تم۔۔۔ازلان نے اُس کو ڈپٹ کر کہا

تم بچوں کو رات کے وقت کیا سوجھی ہے آئسکریم کھانے کی بیٹھو یہی میں خاور سے کہتا ہوں وہ لاکر دے گا تم سب کو آئسکریمز۔۔۔۔۔اُسماعیل صاحب نے دونوں کو گھورا تارا جبکہ خاموشی سے اُن کو دیکھ رہی تھی۔

اِجازت دے نہ دادا جان سب لوگ سوئے ہوئے ہیں پرومس کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا ہم آدھے گھنٹے میں واپس آجائے گے کیوں تارا کیا تمہارا دل نہیں کرتا رات کے وقت آئسکریم کھانے کا؟ازلان نے درمیان میں تارا کو گھسیٹا تو وہ جزبز ہوئی

تارا بچی ہے میں رات کے اِس وقت تم لوگوں کے حوالے نہیں کرسکتا زمانہ خراب ہے اِس لیے جاؤ اور اپنے اپنے کمرے میں سوجاؤ صبج کو تم لوگوں کا کالج بھی ہے”ویسے بھی تارا کے سر پہ پہلے سے چوٹ آئی ہوئی ہے اُس کا آرام کرنا ازحد ضروری ہے۔۔۔اسماعیل صاحب نے سنجیدگی سے کہا

تارا تم کہو نہ دادا کو۔۔۔ازلان نے پھر سے تارا کو کہا “حیات جبکہ چُپ تھی کیونکہ اُس کو لگ رہا تھا اگر وہ تارا سے کوئی بات کرے گی تو تارا وہ ہرگز نہیں کرے گی جو ازلان اُس سے کروانا چاہتا ہے۔۔۔

کیا پاگل ہوگئے ہو بچیوں کو اپنے ساتھ لے جارہے ہو”اِن کا خیال کون رکھے گا؟”تمہیں تو خود سے فرصت نہیں ملتی۔۔۔اُسماعیل صاحب نے اُس کو ڈپٹ کر کہا

نانا جان مجھے آئسکریم کھانی ہے آپ لے چلو نہ۔۔۔تارا نے اِس بار اُن سے کہا تو ازلان اور حیات جہاں اُس کی پہلی بات پہ خوش ہوئے تھے وہی اُس کی آخری بات پہ اپنا ماتھا پیٹا تھا

گئ بھینس پانی میں۔۔۔۔حیات کوفت سے بڑبڑائی

اچھا چلو میری تارا کا دل ہے تو چلتے ہیں ازلان تم ڈرائیور سے کہو گاڑی نکالے۔۔۔اُسماعیل صاحب نیم رضامند ہوئے

آپ نہ چلے آپ نے آرام کی دوائیں لی ہوئی ہے نیند سے جھول رہے ٹرسٹ می آپ کی آنکھوں کے تارے کا ہم خیال رکھے گے۔۔۔ازلان جلدی سے بولا جس پہ تارا نے غور سے اسماعیل صاحب کو دیکھا جن کی آنکھیں واقع نیند سے لال ہوئیں پڑی تھیں۔۔۔

میں ہاتھ منہ دھولوں گا کوئی بڑی بات نہیں۔۔۔اُسماعیل صاحب نے اُس کا بہانا رد کیا

نانا جان آپ آرام کرے میں اِن کے ساتھ چلی جاؤں گی۔۔۔تارا نے مسکراکر اُن سے کہا

یہ مسکراتی بھی ہے؟حیات کو حیرت ہوئی

پیارا مسکراتی ہے۔۔۔ازلان ہنس پڑا

تارا نہیں تم سب بچوں کو ایک ساتھ چھوڑنا سہی نہیں۔۔۔اُسماعیل صاحب ماننے سے انکاری ہوئے

خاور بھائی ساتھ ہیں اور ہم ڈرائیور کو ساتھ لے جائے گے۔۔۔۔۔حیات نے جھٹ سے کہا تو ازلان نے داد دیتی نظروں سے اُس کو دیکھا جس نے موقعے پہ کام کا پتہ پھینکا تھا

اچھا سہی جاؤ مگر تارا کو اکیلا نہ چھوڑنا۔۔۔۔اسماعیل صاحب نے بلاآخر رضامندی دے ڈالی

آئسکریم پارلر جارہے ہیں میلے میں تھوڑئی۔۔۔۔۔۔حیات زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے بولی

تارا جلدی سے جوتے پہنو۔۔۔۔ازلان نے اُس کے سامنے اُس کی سلپر رکھی تو بیڈ سے اُٹھ کر تارا اپنے جوتے پہننے لگی۔۔۔

جلدی کرو ورنہ آئسکریم پارلر بند ہوجائے گا۔۔۔تارا نے ابھی ٹھیک سے اپنے پاؤں چپل میں ڈالے نہیں تھے جب ازلان عجلت کا مُظاہرہ کرکے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے بولا

آہستہ۔۔۔اُسماعیل صاحب فکرمند ہوئے

ڈونٹ وری دادا جان آپ آرام سے سوجائے۔۔۔۔حیات اُن کے کمرے کے باہر کھڑی ہوتی دروازہ بند کرکے بولی

ازلان اور حیات تارا کو لیے باہر آئے تو وہاں خاور تو نہیں البتہ سومل اور مومل ضرور کھڑی تھیں۔۔۔۔۔

پئسے دو جلدی۔۔۔۔ازلان نے کہا تو سب نے اپنی مٹھی میں موجود پانچ”پانچ سؤ کا نوٹ ازلان کی طرف بڑھائے سِوائے تارا کے جو یہ سوچنے میں لگی ہوئی تھی”پانچ والی کونسی آئسکریم ہوگی؟

یہ لو دو ہزار ہیں صبح جو کوئی بھی پوچھے کہنا ہم بیس منٹ میں واپس آئے تھے ٹھیک ہے؟ازلان سب کے پئسے جمع کرتا اپنی جیب سے بھی ایک پانچ سؤ کا نوٹ نکال کر چوکیدار کی طرف بڑھائے بولا

فکر نہیں کرے صاحب۔۔۔چوکیدار خوش ہوکر بولا

یہ ساتھ آئے گی کیا۔؟مومل نے تارا کی طرف اِشارہ کیا

ہاں بلکل اِس وجہ سے تو اجازت ملی ہے اب سب گاڑی میں بیٹھو جلدی سے میچ شروع ہوگیا ہوگا۔۔۔ازلان نے کہا تو وہ تینوں گاڑی کی پچھلی سیٹ بیٹھ گئ۔۔۔

سائیڈ پہ ہوجاؤ تارا تم لوگوں کے ساتھ بیٹھے گی۔۔۔ازلان نے اُن کو دیکھ کر کہا

بھائی اِس کی کیا ضرورت ہے اپنے ساتھ بیٹھائے نہ ایڈجسٹ ہوجائے گی۔۔۔سومل نے کہا

بکواس نہیں کرو اور جو بول رہا ہوں وہ کرو۔۔۔۔ازلان نے گھور کر کہا تو وہ منہ کے زاویئے بگاڑ کر تارا کے لیے جگہ بنانے لگے۔۔

تارا کے بیٹھنے کے بعد ازلان فرنٹ سیٹ پہ آیا اور ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اِشارہ کیا”مطلوبہ جگہ پہنچ کر ڈرائیور نے گاڑی روکی تو سب پرجوشی سے گاڑی میں سے باہر نکلتے گئے”ازلان جبکہ ڈرائیور کو کچھ سمجھانے میں مگن تھا تو تارا اُس کے پاس ہی رُک گئ۔۔۔۔

ہے احناف میچ شروع نہیں ہوا نہ؟حیات احناف کی طرف بھاگ کر آتی اُس سے گویا ہوئی

ابھی ٹاسک کرنے لگے تھے ہم۔۔۔۔۔”یہ بتاؤ ازلان کہاں ہے؟احناف نے بتانے کے بعد پوچھا

وہ آتا ہوگا بونی کو اپنے ساتھ لیکر۔۔۔حیات نے بتایا

بونی؟احناف ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا

تارا بھی آئی ہے۔۔۔۔سومل نے بتایا

واقع؟احناف کو خوشگوار حیرت ہوئی

ہاں وہ دیکھو۔۔۔۔مومل نے سامنے کی طرف اِشارہ کیا تو احناف نے اُس کی نظروں کا تعاقب کیا تو نظر نائٹ سوٹ یعنی نیلی سلیولیس شرٹ اور ٹخنوں سے تھوڑا اُپر پاجامے میں ملبوس تارا پہ گئ جس کے گورے بازوں برہنہ تھے اور بالوں کی چوٹی بنی ہوئی تھی اور وہ ارد گرد سے بے نیاز ازلان کی کوئی بات سن رہی تھی۔۔۔”احناف اپنی نظروں کا زاویہ تارا سے ہٹانے کے بعد پھر آس پاس دیکھنے لگا جہاں زیادہ تر اُس کے عمر جتنے لڑکوں کی بھیڑ تھی لڑکیاں تو شاید دس یا بارہ ہوگی۔۔۔۔

احناف و

یہ تم تارا کو کس حُلیے میں لائے ہو؟لانے سے پہلے اِس کو لباس تو بدلنے دیتے۔۔۔۔ازلان اُن لوگوں کے پاس پہنچ کر احناف سے کچھ کہنے والا تھا جب وہ اُس کی بات نظرانداز کرتا ناگوار لہجے میں بولا اُس کی خوشگواریت تارا کو ایسے دیکھ کر غائب ہوگئ تھی۔۔۔

ہمارے پاس اِتنا وقت نہیں تھا اور کیا ہوا ہے اچھا خاصا حُلیہ تو ہے اِس کا۔۔۔۔جواب حیات نے دیا تھا

نائٹ سوٹ میں ہے وہ بھی جس میں یہ عیاں ہورہی ہے یہ گھر نہیں ہے ہمارا پبلک ہے۔۔۔۔۔احناف نے دانت پیس کر اُس کو دیکھ کر کہا

کیا جاہلوں والی باتیں کررہے ہو احناف بچی ہے یہ اور تمہاری باتوں سے تارا ڈسٹرب ہورہی ہے۔۔۔ازلان نے سنجیدگی سے کہا تو احناف کی نظر تارا پہ گئ جو بے تاثر نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی

بچی نہیں ہے چودہ سال کی جوان لڑکی ہے اور تم سب اِس کو اِس کے قد کی وجہ سے جج نہ کرو تو اچھا ہوگا۔۔۔۔احناف کے لہجے میں کوئی لچک کوئی ٹھیراؤ نہیں تھا۔۔۔

لو جی اب جو کل بچی تھی اب وہ جوان لڑکی بن گئ کیونکہ اُس نے سلیولیس شرٹ پہنی ہے۔۔۔حیات نے طنز کیا

چھوڑو اِسے دادا جان کو ویسے بھی اعتراض نہیں تھا تو احناف تمہیں بھی نہیں ہونا چاہیے اپنی سوچ کو زرا بدلو “چلو تارا۔۔۔ازلان اُس کو جواب دیتا تارا کو اپنے ساتھ لیجانے لگا تو جب وہ احناف کی سائیڈ سے گُزرنے لگی تو احناف نے اُس کا دوسرا ہاتھ تھاما جس سے اب وہ دونوں کے درمیان آگئ تھی۔۔۔۔۔

کہاں لیکر جارہے ہو تارا کو؟احناف نے سنجیدگی سے پوچھا

یہاں کھڑی تو نہیں ہوگی نہ جو ہماری لیول کا اسٹینڈیم ہے وہاں بیٹھ کر باقیوں کی طرح ہمیں کِرکٹ میچ کِھیلتا ہوا دیکھے گی۔۔۔۔ازلان نے بتایا

مجھے آئسکریم کھانی ہے کرکٹ نہیں دیکھنی۔۔۔۔تارا نے پہلی بار لب کُشائی کی تو احناف نے آئبرو اُپر کیے ازلان کو دیکھا

وہ دراصل آئسکریم کے بہانے اِس کو نیند سے اُٹھا لائے ہیں”یہ ہماری شطرنج کی وہ رانی ہے جس کی وجہ سے ہم رات کے اِس وقت یہاں ہیں۔۔۔ازلان دانتوں کی نمائش کرتا بولا تو پہلی بار احناف کو اُس پہ غُصہ آیا

ٹھیک ہے پھر جاؤ اور اِس لیے آئسکریم لاؤ۔۔۔۔احناف نے تارا کو اپنی طرف کیا

میچ کے بعد۔۔۔۔۔ازلان نے کہا

ابھی جاؤ ٹاسک میں ویسے بھی پہلے میری ٹیم کی باری ہے۔۔۔۔احناف نے بتایا

اچھا جاتا ہوں مگر جلدی ختم نہ کرلینا تم لوگ میچ اور تارا کا خیال رکھنا۔۔۔۔ازلان ایک نظر تارا پہ ڈالے بولا

ہمممم تم جاؤ۔۔۔احناف نے اُس کو باہر کا راستہ دیکھایا

حیات”سومل مومل یہ تو اپنی ٹیم والوں کے ساتھ بزی ہوجائے گا تارا کو اکیلا نہ چھوڑنا تم تینوں۔۔۔۔ازلان نے جاتے ہوئے اُن تینوں سے کہا

ہاں ہاں اب جا بھی چُکو تم۔۔۔حیات کوفت سے بولی تو ازلان تیز قدم اُٹھاتا باہر کی طرف چلاگیا

احناف آجاؤ۔۔۔احناف کے ساتھی نے اُس کو آواز دی

آتا ہوں۔۔۔۔احناف نے جواب دیا

تم سب اُس سامنے والی جگہ پہ موجود بینچ پہ بیٹھنا اور تارا کو اکیلا نہ چھوڑنا وہ چھوٹی ہے تم تینوں سے۔۔۔احناف کے جانے کا وقت آیا تو اُس نے کہا

یہ جوان لڑکی ہے اپنا خیال خود رکھ سکتی ہے”اور ہم اِس کو اِس کے قد کی وجہ سے جج نہیں کرسکتے۔۔۔۔وہ تینوں ایک آواز میں بولیں تو احناف نے تیکھی نظروں سے اُن کو دیکھا

زیادہ ہوشیار بننے کی ضرورت نہیں جو کہا ہے وہ کرو اور تارا اِن سے الگ ہوکر نہ بیٹھنا رات ہے اندھیرے کا راج بہت ہے زیادہ روشنی نہیں۔۔احناف اُن سے کہتا آخر میں تارا کو بولا تو اُس نے سراثبات میں ہلانے پہ اکتفا کیا

چلو بونی۔۔۔۔حیات نے تارا کا ہاتھ پکڑا

نین تارا بلوچ نام ہے میرا۔۔۔تارا نے جوابً کہا تو احناف نے آنکھیں گُھمائی

یہ بچی کون ہے احناف؟احناف اپنے دوست سے بیٹ لینے لگا تو ایک ساتھی نے تارا کی طرف اِشارہ کیے پوچھا تو وہ اُس کو ناگواری سے دیکھنے لگا جس کی عمر بیس سال تھی اور بہت خراب نیچر کا تھا

کزن ہے میری اور تم میچ پہ دھیان دو۔۔۔احناف کا لہجہ جتایا ہوا تھا

کول ڈیوڈ کیا ہوگیا ہے پہلی بار دیکھا تبھی پوچھا۔۔ وہ لڑکا اُس کو پرسکون کرنے کی خاطر بولا

پہلی بار کو آخری بار نہ بناؤ۔۔۔احناف دو ٹوک ہوکر کہتا اپنی جگہ پہ کھڑا ہوا”بیٹنگ کرنے کے دوؤران احناف کی نظریں مسلسل تارا پہ جارہی تھی جس کے چہرے پہ کوفت بھرے تاثرات تھے اور وہ بار بار جمائی لینے میں تھی۔۔۔

یار پاپ کارن اور چپس کے پاکٹ تو ہم گاڑی میں بھول آئے۔۔۔سومل سر پہ ہاتھ مار کر بولی

میں احناف کی اِتنی اچھی بیٹنگ چھوڑ کر کہی نہیں جانے والی۔۔۔حیات نے انکار کیا

تمہیں کرکٹ پسند نہیں کیا؟مومل نے تارا سے پوچھا جو اب نیند سے جھول رہی تھی

نہیں کرکٹ دیکھ کر مجھے نیند آنے لگتی ہے تبھی چاندنی آپی رات کے وقت مجھے کہانی سُنانے کے بجائے کمرے میں ٹی وی چلاکر اسپورٹس والا چینل لگایا کرتیں تھیں۔۔۔تارا نے بتایا

اچھا تو ایک کام کرو ہمارا پھر میں تمہیں ایک اچھا آئیڈیا دوں گی جس سے تمہاری جان یہ میچ دیکھنے سے چھوٹ جائے گی۔۔۔مومل اِشاروں کناروں میں حیات اور سومل کو کچھ سمجھاتی تارا سے بولی

کیسا آئیڈیا؟تارا نے پوچھا

ہماری گاڑی میں ایک شاپر پڑا ہوگا تمہاری آنکھوں کے رنگ جیسا وہ یہاں تک لانا پڑے گا۔۔۔۔مومل نے بتایا

گاڑی تو بہت دور کھڑی ہے اور وہاں اندھیرا تھا ازلان اور احناف نے اکیلے جانے سے منع بھی کیا ہے۔۔۔”اگر مجھے کچھ ہوگیا تو نانا جان پریشان ہوجائے گے۔۔۔تارا اُس کی بات سن کر بولی تو مومل کا دل چاہا اپنا ماتھا پیٹے

یہ ضرورت سے زیادہ معصوم نہیں بنتی۔۔۔حیات تپ کے بڑبڑائی

اندھیرا نہیں ہے اور تم کیوں اِن لڑکوں کی باتوں میں آرہی ہو اِن کو لگتا ہے تارا چھوٹی ہے ڈرپوک ہے پر تارا تو بہادر ہے نہ؟سومل نے اب کی اُس کو اپنے طریقے سے سمجھایا

ہاں میں بہادر ہوں مگر رات کو اندھیرے سے لال بیگ اور دن میں چھپلی سے ڈر لگتا ہے بہت۔۔۔تارا نے بتایا

تو ڈیئر بونی کزن پارکنگ ایریا میں کونسا اندھیرا ہے وہاں روشنی کا جہاں آباد ہے جاؤ اور لے آؤ۔۔۔۔۔سومل نے کہا

پارکنگ ایریا تو یہاں کوئی نہیں تھا ڈرائیور نے تو دیوار کے پاس گاڑی روکی۔۔۔۔نین تارا کو حیرانگی ہوئی

یہ ہمارا دماغ خراب کرے گی۔۔۔حیات کو اُس پہ غُصہ آنے لگا

تو تم ہمارا کام نہیں کرو گی؟ٹھیک ہے دیکھو پھر تم بورنگ میچ۔۔۔۔مومل نے کہا تو وہ لب کُچلنے لگی

اچھا میں جاتی ہوں۔۔۔۔اِتنا کہہ کر تارا بینچ سے اُٹھ کھڑی ہوئی

جلدی سے واپس آنا اور یہاں وہاں نہ دیکھنا سیدھا گاڑی کے پاس جانا اور بیگ لاکر دوبارہ بھاگ کر یہاں آنا۔۔۔اُس کو جاتا دیکھ کر حیات نے کہا

احناف اب یہ میچ تیرے ہاتھ میں ہے جلدی سے اچھا اسکور بنانا۔۔۔۔احناف کا ساتھی اُس سے ہائے فائے کرتا بولا تو پسینے سے شرابور احناف نے سرہلانے پہ اکتفا کیا”وہ دوبارہ بیٹنگ کرنے والا تھا جب نظر سامنے بینچ پہ گئ جہاں تارا کو نہ دیکھ کر اُس کی پیشانی میں بل نمایاں ہوئے

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

یار آج کوئی مال ہی ہاتھ نہیں آیا پتا نہیں کیوں آج لاہور کی سڑکیں اِتنی سنسان کیوں ہے؟شراب تو ہے مگر شباب نہیں۔۔۔۔دو اوش پاش لڑکے نشے میں دُھت ایک دوسرے سے بولے

پتا نہیں یار یہ رات کیسے کٹے گی؟دوسرا جوابً بولا تبھی ایک آواز نے اُن کو اپنی طرف متوجہ ہوا

اللہُ اکبر

اللہُ اکبر

اللہُ اکبر

اللہُ اکبر

یہ تو کسی لڑکی کی آواز ہے لگتا ہے شباب کا انتظام ہوگیا۔۔۔۔آواز سن کر لڑکے کی آنکھوں میں شیطانیت ٹپکنے لگی

غور سے سُن یار لڑکی کی نہیں کسی بچی کی آواز ہے وہ دیکھ۔۔اُس کا دوست بول کر سامنے کی طرف اِشارہ کرنے لگا جہاں تارا سیدھا چلتی تیز تیز قدم اُٹھانے میں تھی

کیا مست بچی ہے یار دور سے اُس کا حُسن اِتنا چمک رہا ہے تو قریب سے تو قیامت ہوگی۔۔۔وہ اپنی آنکھوں میں ہوس لیے تارا کو دیکھ کر خباثت سے بولا

چھوڑ شبی کوئی اور مل جائے گی اِس بچی کو چھوڑ ہمارے کسی کام کی نہیں۔۔۔دوسرا والا اُس کی بات سے انکاری ہوا”دوسری طرف نین تارا کا پاؤں کسی چیز میں اٹکا تھا اور وہ زمین بوس ہوئی تھی

مجھے تو یہی چاہیے دیکھ قُدرت کا بھی یہی اِشارہ ہے۔۔اُس کو گِرتا دیکھ کر شبی نے گھٹاگھٹ شراب کی بوتل خود میں انڈیلی تو اب کی بار بار انکار اُس کا دوست بھی نہیں کرپایا اور دونوں تارا کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔

نام کیا ہے تمہارا؟ شبی تارا کے روئی جیسے گال کو چھو کر پوچھنے لگا تو وہ جو اپنی ٹوٹی ہوئی چپل کو دیکھ رہی تھی کسی کو اپنے بے حد قریب پاکر حواس باختہ ہوئی

کون ہو تم دونوں۔۔۔تارا جلدی سے اُٹھ کھڑی ہوئی

ہم سے دوستی کرو گی؟شبی نے پوچھا دوسرا جبکہ تارا کے پیچھے کھڑا ہوگیا

نہیں۔۔۔تارا اِتنا کہتی جانے لگی تو تصادم دوسرے سے ہوا تو پیچھے والے نے اُس کو اپنی طرف کھینچا

چھوڑو مجھے۔۔۔۔اُس کی گرفت میں تارا مچلی

چھوٹی سی نازک تو ہو کیوں اپنی انرجی ضائع کررہی ہو اففف آفت ہو پوری۔۔۔۔شبی سرتا پیر اُس کو گھورنے لگا تو تارا کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا وہ خوفزدہ نظروں سے آس پاس دیکھتی اُن سے بچنے کی ترکیب تلاش کرنے لگی

ماں کے ساتھ آئی ہو وہ بھی تیری طرح

آآآہ آہ

کون ہے سالہ۔۔۔۔وہ کچھ غلاظت بک کر تارا کا برہنہ بازو چھونے والا تھا جب اچانک کوئی آندھی طوفان کی طرح آیا تھا اور پوری قوت سے اُس کے ہاتھ کی کلائی میں بیٹ ماری تو شبی کے ہاتھ کی ہڈیاں یقینً ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تھیں تبھی اُس پہ ہاتھ رکھتا چیخا

“توں چھٹانگ بھر کا لڑکا ہم سے مقابلہ کرے گا؟دوسرے والے نے جب سترہ سالہ بچے یعنی احناف کو دیکھا تو کٹیلی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا جس کی خونخوار نظریں شبی پہ تھیں۔۔۔وہ نین تارا کو ناپاکر اپنا میچ درمیان میں چھوڑ کر حیات سے تارا کے مطلق پوچھنے لگا تو اُس کو پتا چلا اُنہوں نے تارا کو اکیلے کہی بھیجا تو وہ اُن کو ملامت کرتی نظروں سے دیکھ کر ایک منٹ ضائع کیے بغیر تارا کے پیچھے جانے لگا اور اِس درمیان بیٹ رکھنا وہ یکسر فراموش کرگیا تھا پر ایک سنسان جگہ پہ احناف نے دو آدمیوں کو تارا سے بدتمیزی کرتا دیکھا تو پہلے اُس کو یقین نہیں آیا کہ یہ دو مرد ایک اکیلی بچی کو حراس کررہے ہیں”مگر جب اُس نے اُن کو حد سے بڑھتا دیکھا تو غُصے میں اُن کی طرف آکر جتنی طاقت سے وہ اُس کو مارسکتا تھا اُتنا مارا تھا۔۔۔۔

نین میرے پاس آؤ۔۔احناف اُن کو نظرانداز کرتا تھرتھر کانپتی نین تارا سے بولا

تیری تو۔۔۔۔۔دوسرا والا احناف کو مارنے والا تھا جب ایک زوردار لات احناف نے اُس کے پیٹ پہ ماری جس سے وہ دو جاکر گِر کر بیہوش ہوگیا کیونکہ شراب کا نشہ اب سر پہ چڑھنے لگا تھا

بہری ہو سُنائی نہیں دے رہا کیا؟احناف نے سختی سے اِس بار اُس سے کہا اب تک باقی کے لوگ بھی وہاں جمع ہوگئے تھے۔۔۔

احناف یہاں آؤ کر کیا رہے ہو تم۔۔۔۔حیات نے اُس کو آواز دی

نین حیات کے پاس جاؤ۔۔۔۔احناف تھوڑا نرم ہوا مگر تارا کو جیسے غش طاری ہوگیا تھا وہ کچھ بھی سُننے سمجھنے کی کیفیت میں نہیں تھی

اِس بچی کو تو کوئی جانے نہیں دے گا اب۔۔۔۔شبی اُٹھنے کی کوشش کرتا بولا تو احناف اُس کی بات سن کر بنا سوچے سمجھے بیٹ زور سے اُس کے سر پہ ماری تو اُس کا پورا سر لولُہان ہوگیا تھا “احناف کی حرکت پر سب ہکا بُکا رہ گئے تھے۔۔ حیات سومل”مومل کا سر چکرا کر رہ گیا تھا اور وہی نین تارا کی بس ہوئی تھی۔۔۔”اُس کا دماغ پوری طرح سے ماؤف ہوچُکا تھا جیسے تبھی دھڑام سے وہ نیچے گِری تھی۔۔۔”احناف جو اپنے چہرے پہ آیا پسینہ صاف کرتا ابھی بھی اُس شبی کو نفرت سے دیکھ رہا تھا تارا کے گِرنے پہ اُس کی طرف متوجہ ہوا خاموش فضا”اور رات کی تاریخی میں پولیس سائرن نے آواز نے ارتعاش پیدا کیا تھا”وہاں موجود سب لڑکوں نے ڈور لگادی تھی۔۔۔

سومل

حیات

مومل

یہ تینوں جلدی سے احناف کی طرف آئیں

احناف بھاگو پولیس کو جانے کس نے خبر دی ہے جو وہ یہاں پہنچ گئ ہے۔۔۔حیات اُس کا بازو پکڑے پریشانی سے بولی

تم دونوں نین کو جگانے کی کوشش کرو میں تب تک پانی کی بوتل لاتا ہوں۔۔۔احناف نے جیسے اُس کی بات سُنی ہی نہیں تھی

چھوڑو اِس مصیبت کی پوٹلی کو اور چلو تم نے آدمی کا سر پھاڑ دیا ہے اور دوسرے کو زخمی کیا ہے پولیس آگئ نہ تمہیں اپنے ساتھ لے جائے گی ہوش کرو کچھ۔۔۔۔حیات نے اُس کی عقل پہ ماتم کیا

چھوٹی کزن ہے ہماری دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟ہوش ہے کچھ بول کیا رہی ہو؟اور رہی بات اِن کی تو میں نے کچھ غلط نہیں کیا یہ جن نظروں سے نین کو دیکھ رہے تھے میرے بس میں ہوتا تو میں اِن کی آنکھیں نوچ لیتا۔۔۔۔۔احناف دبے دبے لہجے میں غِرایا تھا

یہ ہو کیا گیا ہے تمہیں جوش میں ہوش گنوا بیٹھے ہو اگر پولیس کے ہاتھ چڑھے نہ تو بھی پولیس سے بچ جاؤ گے مگر چچا جان نے تمہاری پیٹھ سے خال اُڈھیر دینی ہے۔۔۔سومل نے دانت پیس کر کہا

لڑائی بعد میں کرلینا مگر پہلے اِس تارا کو دیکھو کہی مر ور تو نہیں گئ۔۔۔۔مومل نے اکتاہٹ سے اُن کو دیکھ کر کہا تو اُس سے پہلے احناف تارا کی طرف بڑھتا پولیس والے وہاں پہنچ گئے تھے جن کو دیکھ کر اُن کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ گئ تھیں۔۔”مگر لاشعوری طور میں حیات نے احناف کے ہاتھ میں موجود بیٹ کو اپنے ہاتھ میں لیے چُھپانے کی کوشش کی تھی کیونکہ اُس میں خون کے دھبے لگے ہوئے تھے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *