Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain NovelR50557 Kia Hoi Hai Khata (Episode 02)
Rate this Novel
Kia Hoi Hai Khata (Episode 02)
Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain
صبح تارا کی آنکھ نو بجے کے وقت کُھلی تو اُس نے سب سے پہلے اپنا سیل فون چیک کیا جہاں اُس کی سوچ کے مُطابق میسج آیا ہوا تھا۔۔
Good morning my life have a good day.
میسج پڑھنے کے بعد نین تارا کا موڈ خوشگوار ہوگیا تھا۔۔تبھی کچھ سوچ کر اُس نے بھی ایک میسج اُس کے نمبر پہ چھوڑا
Can we meet?
میسج سینڈ کرنے کے بعد وہ اُٹھنے والی تھی جب خلاف توقع رپلائے جلدی موصول ہوا تھا جیسے دوسری طرف بیٹھا شخص اُس کے جاگنے اور میسج کے انتظار میں تھا
Yeah of course why not.
میسج ریڈ کرنے کے بعد وہ زِیر لب مسکرائی
OK then I’m coming in 3 hours.
میسج سینڈ کرنے بعد وہ اُس کے جذبات کے بارے میں سوچنے لگی وہ جانتی تھی “یہ تین گھنٹے دوسری طرف تین صدیوں کے برابر ہوگے۔۔۔
Waiting.
اُس کا میسج پڑھنے کے بعد اب کی تارا نے اپنا سیل فون آف کیا اور واشروم میں نہانے کے غرض سے چلی گئ۔۔۔بیس منٹ بعد وہ نہاکر باہر آئی تو ڈھیلی ڈھالی شرٹ اور ٹراؤزر میں تھی وہ گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑتی مرر کے سامنے کھڑی ہوئی تو اچانک اُس کے دماغ میں ایک خیال آیا تو وہ جلدی سے اپنے سیل فون کی طرف بڑھی اور میسج لکھنے لگی اِس وقت اُس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ہاتھوں میں لرزش واضع تھی بلآخر سب اس نے میسج لکھ کر سینڈ کیا۔
Did you see my new photo shoot?
میسج سینڈ کرنے کے بعد وہ سانس رُکے اُس کے رپلائے کی منتظر ہوئی
No.
اِس بار جواب پانچ منٹ بعد آیا تھا وہ بھی مُختصر یکلفظی جس کو پڑھ کر اُس نے موبائیل بیڈ پہ پھیکا پھر کمرے کی کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوئی جو گھر کے لان کی طرف کُھلتی تھی”جہاں کا منظر وہ صاف دیکھ سکتی تھی۔۔
“ازلان “حیات”فضا ارسلان سومل اور مومل یہ سب اُتوار ہونے کی وجہ سے کرکیٹ گیم کھیلنے میں مگن تھے۔۔یہ دیکھ کر وہ کھڑکیوں کا پٹ بند کرتی لیپ ٹاپ لیے کمرے سے باہر نکلنے لگی۔۔۔
ماجدہ میرے لیے کافی کا کپ لان میں لانا۔۔۔ہال سے گُزرتے ہوئے اُس نے کام کرنے والی سے کہا
تم آؤٹ ہوئے ہو ازلان بیٹ مجھے دو۔۔حیات نے گھور کر ازلان سے کہا
میں آؤٹ نہیں ہوا تمہیں بالنگ ہی نہیں آتی۔۔ازلان صاف مکرگیا۔۔۔نین تارا سب پہ ایک نظر ڈالتی لان میں موجود چیئر پہ بیٹھ کر اپنا لیپ ٹاپ کھول کر ٹیبل پہ رکھا
آپ بھی ہمیں جوائن کرلے۔۔فضا نے نین تارا سے کہا تو وہ چونک کر اُس کو دیکھنے لگی
مجھے بچوں والے گیم کھیلنے کا شوق نہیں۔۔نین تارا نے سرجھٹک کر کہتے اپنے کام میں مگن ہوگئ۔۔
اوو یس احناف آگیا میں اب اُس کی پارٹی میں ہوگی دیکھتی ہوں تم کیسے اب چیٹنگ کرتے ہو۔۔۔حیات ازلان کو زبان دیکھاتی احناف کی طرف بھاگی۔۔
تم نے تو آج سرپرائز کردیا اور خوب وقت پہ آئے ہو اگین ٹاسک کرتے ہیں کرکیٹ گیم کھلتے ہیں میں اور تم ایک ٹیم میں ہوگے۔۔۔حیات نے گاڑی سے نکلتے احناف کو دیکھ کر پرجوش لہجے میں کہا
مجھے دادا جان سے ایک ضروری کام ہے میں پھر کبھی کھیلوں گا۔۔۔احناف نے سنجیدگی سے انکار کیا
نو پلیز احناف ابھی آج کھیلو پلیزززززز پلیززززز
پلیززززز۔۔۔حیات اُس کا ہاتھ پکڑے ضدی لہجے میں بولی تو احناف جو اُس کے انداز میں کان میں انگلی تھونسے یہاں وہاں دیکھ رہا تھا نظر ہر ایک سے بے نیاز “نین تارا پر پڑی جو لیپ ٹاپ میں کچھ ٹائپ کرتی وقفے سے کبھی کافی کا گھونٹ بھر رہی تھی۔
ٹھیک ہے چلو۔۔۔احناف نے ہار مان لی تو سب نے یاہوووو کا نعرہ لگایا جس پہ نین تارا اکتاہٹ بھرے لہجے میں اُن کو دیکھتی اپنے کان میں ایئر پوڈ ڈالنے لگی۔۔۔
بیٹنگ میں کروں گا سب سے پہلے۔۔۔احناف شرٹ کے کف فولڈ کرتا ازلان سے بیٹ لیکر بولا
اوکے میں پھر بالنگ میں کروں گا۔۔۔ازلان نے گھاس سے بال اُٹھاکر کہا
ایز یو وِش۔۔۔۔احناف اِتنا کہتا اپنی جگہ سنبھالی
یہاں سکسر ہے اور وہاں چونکا۔۔حیات نے اُس کو سمجھایا تو احناف گھور کر اُس کو دیکھنے لگا
پہلی بار نہیں کھیل رہا میں۔۔احناف نے جتانے والے انداز میں کہا تو حیات کھسیانی ہوئی پھر سب نے اپنی اپنی جگہ سنبھالی تو ازلان نے بالنگ شروع کی۔۔۔
چھکا۔۔۔۔۔۔احناف نے جیسے ہی بیٹنگ شروع کی حیات اور مومل نے چیخ کر کہا
ارسو جان نہیں ہے کیا بال کیچ نہیں کرسکتا۔۔۔ازلان نے ارسلان کو گھور کر کہا جو نین تارا کو دیکھنے میں مگن تھا
ڈونٹ وری برو اب کروں گا۔۔۔نین تارا سے نظریں ہٹاکر ارسلان نے جھٹ سے کہا تو احناف نے چیلنج کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا پھر اگین ازلان نے بالنگ شروع کی تو اُس کے مخالفین نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے جس پہ احناف نے تیز بیٹنگ کی تو بال سیدھا ہر چیز سے لاپروا بیٹھی “نین تارا کے برہنہ بازوں پہ زور سے لگا تھا جس پہ کچھ پل کے لیے خاموشی کا راج ہوگیا تھا مگر وہ جو غور سے لیپ ٹاپ اسکرین کو دیکھ رہی تھی اِس اچانک افتاد پہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوتی اپنا بازوں دیکھنے لگی جہاں اُس کے گورے بازو پہ سرخ نشان صاف عیاں تھا۔۔”بال جتنی زور سے لگی تھی اُس پر بڑی مشکل سے اُس نے اپنی چیخ کا گلا گھونٹا تھا
واٹ دا یہ کس جاہل نے مارا بال؟نین تارا اپنی جگہ سے اُٹھتی اُن پہ چلائی تو سب لوگ نے گردن موڑ کر “احناف کو دیکھا جو اپنے کان کی لو کُھجاتا آسمان کی طرف دیکھ کر جانے کیا تلاش کررہا تھا”یہ دیکھ کر نین تارا کو غُصہ تو بہت آیا تھا مگر خود پہ ضبط کرتی وہ دندناتی وہاں سے اندر کی طرف بڑھی
او مائے گوڈ یہ کہی دادا جان سے شکایت نہ لگادے۔۔اُس کے جانے کے بعد سومل نے کہا
نہیں لگائے گی ڈونٹ وری۔۔۔مومل نے اُس کو تسلی دی
ویسے اُس کی سرخ رنگت دیکھنے والی تھی قسمے سواد آگیا۔۔حیات مزے سے بولی
وہ تو گئ ہم تو اپنا گیم شروع کرے۔۔۔ارسلان نے نین تارا کو گھر میں اندر جاتا دیکھ لیا تو اُن سب سے کہا
ہاں کیوں نہیں۔۔حیات نے کہہ کر احناف کو دیکھا جو جانے کِن خیالوں میں گُم تھا
تمہیں کیا ہوا؟ میں تو ویسے آج بڑی تم سے ایمپریس ہوئی ہو۔۔حیات نے چہک کر کہا تو احناف نے چونک کر اُس کو دیکھ کر بیٹ خود سے دور پھینکی پھر بنا کسی پہ نظر ڈالے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا
اِس کو کیا ہوا؟ازلان حیرت سے اُس کی پشت کو دیکھنے لگا
کیا ہوتا جو تارا باہر نہ آتی اچھا خاصا ہمارا موڈ برباد کیا۔۔۔فضا نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر کہا
سویٹی وہ تو یہاں آئی ہی ہمارا وقت اور زندگی برباد کرنے۔۔حیات نے سرجھٹک کر کہا
بُری بات ہے حیات وہ بھی ہماری کزن ہے تو پلیز تم اپنا رویہ اُس کے ساتھ ٹھیک رکھو۔۔۔ازلان نے سنجیدگی سے اُس کو ٹوک کر کہا
تم نہ ہر وقت اُس کی طرفداری مت کیا کرو۔۔۔حیات نے بیزاری سے اُس کو ٹوکا جس پہ ازلان اپنا سر نفی میں ہلاتا رہ گیا۔






تم اگر وہاں کھیل نہیں رہی تھی تو بیٹھی کیوں؟انعم بیگم اُس کے بازوں پہ برنال لگاتی بولی
مجھے وہاں بیٹھ کر اپنا کام کرنا تھا اور یہ چوٹ جان کر احناف نے مجھے دی ہے۔۔۔۔تارا جلتی نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولی
احناف ایسا نہیں ہے وہ جان کر کسی کو ہرٹ نہیں کرتا “تمہاری بات تو الگ ہے تم نے کونسا اُس کا کچھ بگاڑا ہے جو وہ ایسی پچکانی حرکتیں کرے گا۔۔۔انعم بیگم نرم لہجے میں بولی
آپ نے تو اُس کی سائیڈ لینی ہے پر میں نے اُس کا کیا یہاں کسی کا بھی کچھ نہیں بگاڑا مگر پھر بھی سب کا اٹیٹیوڈ آپ کے سامنے ہے مجھے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔تارا نے کہا تو انعم بیگم نے گہری سانس خارج کیے اُس کو دیکھا
تارا بیٹا تم نے خود سب سے خود کو دور کیا ہے آج یا کل سے نہیں بلکہ سالوں سے تم نے اِس گھر کو کبھی اپنا گھر نہیں سمجھا اور نہ یہاں کے افراد کو۔۔انعم بیگم نے کہا تو تارا چپ رہی
آج بھی مجھے وہ دن یاد ہے جب نانو کے کہنے پہ نانا جان مجھے یہاں لائے تھے تو اختر چاچا نے مجھے اپنی بیٹی تو کیا بہن کی بیٹی بھی سمجھ کر گلے نہیں لگایا تھا بس سیدھا نانا سے یہ کہا کے تارا کو اپنے ساتھ کیوں لائے ہیں؟کچھ توقع بعد تارا نے کہا
اِس میں کونسی بڑی بات ہے۔۔
آپ کے لیے نہیں ہوگی مگر میرے لیے تھی میرا دل ایسے لوگوں سے بات کرنے کو بھی نہیں کرتا میں بس یہاں نانا جان کی وجہ سے ہوں۔۔۔تارا سنجیدگی سے اُن کو جواب دیتی اپنے کمرے میں آئی”پہلے تو یہاں سے وہاں ٹہل کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگی مگر پھر میسج ٹیون نے اُس کا دھیان اپنی طرف کھینچا
I am anxiously waiting for you
میسج پڑھ کر اُس نے گہری سانس خارج کی پھر ٹائپ کرنے لگی۔
Plan cancel,today we can not meet.
میسج سینڈ کرنے کے بعد وہ سیل فون رکھتی بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹ گئ”اُس کی آنکھوں کے سامنے بار بار کبھی بے نیازی کا مظاہرہ کرتے “احناف کا چہرہ سامنے آتا تو کبھی مسکراہٹ ضبط کرتی “حیات کا”وہ اُن میں سے کسی کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی تبھی تکیہ منہ پہ رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔”خوشقسمتی سے دوبارہ اُس کو نیند جلدی آگئ تھی مگر اُس کے فون پر مسلسل “life line”کالنگ لکھا چمک رہا تھا پر کال رِنگ بند ہونے کی وجہ سے وہ بے خبر لیٹی رہی۔۔۔







تارا کہاں ہے؟اسماعیل صاحب نے دوپہر کے وقت کھانے کی میز پر تارا کو نہیں دیکھا تو پوچھا
وہ سو رہی ہے۔۔۔۔انعم بیگم نے بتایا
یہ کونسا وقت ہے سونے کا؟اختر صاحب نے پوچھا
طبیعت تو ٹھیک ہے نہ اُس کی؟اسماعیل صاحب پریشان ہوئے
طبیعت کو کیا ہونا ہے ابھی آجکل فری ہے تو بستر توڑ رہی ہے۔۔۔مُنیبہ بیگم نے منہ بناکر جواب دیا
آج احناف کی بال لگ گئ تھی اُس کے بازو پر تو یہ بھی ہوسکتا ہے وہ انتظار کررہی ہو آپ کا کے دو میں تین چار ملاکر آپ کو اُس کی شکایت لگادے۔۔۔حیات نے بھی اپنا حصہ ڈالا
کریکٹ۔۔۔سومل نے اپنا ہاتھ آگے کیا تو حیات نے ہنس کر اُس کے ہاتھ پہ تالی ماری
یہ چیپ حرکتیں نین تارا نہیں کرتی۔۔۔۔ڈائینگ ہال میں اچانک نین تارا کی آواز پہ وہ چپ ہوئے
واٹ ایور۔۔حیات نے منہ کے زاویئے بگاڑے
اِن کو چھوڑو بچہ اور یہاں ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ۔۔۔اسماعیل صاحب ایک نظر سب پہ ڈال کر سنجیدگی سے کہا
شیور مگر میری جگہ پہ تو کوئی اور بیٹھا ہے۔۔تارا کا صاف اِشارا حیات کی طرف تھا جو اسماعیل صاحب بائیں طرف بیٹھی تھی جبکہ دائیں طرف اختر صاحب تھے۔۔
تمہاری جگہ کیسی؟یہ ہمارا گھر ہے سمجھی۔۔حیات نے پلٹ کر اُس کو گھورا
حیات۔۔۔اسماعیل صاحب نے اُس کو تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا
رہنے دے نانو ہم لان میں کرتے ہیں لنچ۔۔۔تارا طنز نظروں سے حیات کو دیکھ کر “اسماعیل صاحب سے بولی
تمہیں کرنا ہے تو تم کرو مگر ابو نہیں آئے گے۔۔منیبہ بیگم نے اُس کو گھورا
ماجدہ سے میں کہتا ہوں تم جاؤ میں بھی آتا ہوں۔۔اسماعیل صاحب کے ازلی روعب دار آواز میں کہا تو باقی سب حیرت سے اُن کو دیکھنے لگے۔۔
دادا جان ہم سب ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔۔آپ کہی نہیں جانے والے۔۔تم حیات دوسری چیئر پہ بیٹھو تمہیں پتا ہے یہاں تارا نے بیٹھنا ہوتا ہے۔۔۔ازلان “اسماعیل صاحب سے کہتا حیات کو بولا
یہاں اُس کا نام نہیں لکھا ہوا۔۔حیات دانت پیس کر بولی
ازلان بھائی اِٹس اوکے ہم ویسے بھی باہر جارہے ہیں۔۔نین تارا نے کہا
حیات دوسری چیئر پہ جاکر بیٹھو۔۔۔ازلان ایک سخت نظر اُس پہ ڈالتا دوبارہ سے بولا
لگتا ہے تمہارے بھائی کو “نین تارا کا بھائی لفظ ہضم نہیں ہوا۔۔۔۔سومل ارسلان کے کان میں سرگوشی نما آواز میں بولی
ظاہر سی بات ہے اِتنی خوبصورت اور اسٹائلش لڑکی کے منہ سے بھائی لفظ برداشت کرنا کسی بھی مرد کے لیے پاسبل بھی نہیں۔۔۔جوس کا گھونٹ بھرتا ارسلان مسکراہٹ ضبط کیے بولا تو سومل ہنس پڑی
میں
حیات بحث نہیں کرو اُٹھو یہاں سے ویسے ہی کھانے کے وقت اچھا تماشا لگ چُکا ہے۔۔۔حیات کچھ کہنے والی تھی جب اِس بار اختر صاحب نے کہا تو ناچار اُس کو اُٹھنا پڑا مگر دوسری چیئر پہ بیٹھنے سے پہلے اُس نے کھاجانے والی نظروں سے نین تارا کو دیکھا جو دل جلانے والی مسکراہٹ سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔۔”مگر جیسے ہی دونوں کی نظریں چار ہوئی نین تارا نے آنکھ کا کونا دبایا جس نے جلے پر نمک کا کام کیا تھا
آجاؤ بیٹا ہوگئ ہے تمہاری فرمائش پوری۔۔اسماعیل صاحب نے اُس کو کھڑے دیکھا تو مسکراکر بولے
شکریہ نانوں جان ایک آپ کو خیال ہے میرا ورنہ باقی سب تو بھول گئے ہیں کے اِس گھر میں میری ماں کا حصہ بھی نکلتا ہے۔۔۔تارا اُن کے پاس والی چیئر پہ بیٹھ کر سرسری لہجے میں بولی جس پہ بے اختیار کسی نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا تھا۔۔
*************†**********
تیرا بیمار میرا دل
میرا جینا ہوا مشکل
کروں کیا ہائے
ہائے
تیرا بیمار میرا دل
میرا جینا ہوا مشکل
کروں کیا ہائے
ہائے
سارا دن سونے کی وجہ سے رات کے وقت اُس کو نیند نہیں آرہی تھی تبھی وہ اپنے سوشل اکاؤنٹس چیک کررہی تھی جب کسی آواز نے اُس کا دھیان اپنی طرف کھینچا”تارا نے غور کیا تو یہ آواز کھڑکی سے آرہی تھی۔۔
شٹ۔۔۔ایک خیال کے آتے ہی وہ جلدی میں گانے کی آواز کم کرتی کمبل سے نکلتی کھڑکی کی طرف آکر کھڑکیاں کُھولی تو اپنی سوچ کے مُطابق اُس کو کھڑا دیکھ کر تارا بے یقین نظروں سے اپنے سامنے اُس کو دیکھنے لگی۔جو مسکراکر اُس کو ہی دیکھ رہا تھا”
کیا ہوا؟اُس نے اپنا ہاتھ لہرایا
تم یہاں کیا کررہے ہو؟تمہارا دماغ ٹھیک ہے اگر کسی نے دیکھ لیا تو؟تارا ایک نظر اپنے کمرے کے بند دروازے پہ ڈالتی اُس کو گھور کر بولی جس پہ جوابً اُس کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی
ڈرتا نہیں کسی سے”تمہیں بھی ڈرنا نہیں چاہیے۔۔۔کمرے میں داخل ہوتا وہ پرسکون لہجے میں گویا ہوا
میں اِن سے کبھی ڈر سکتی بھی نہیں۔۔۔تارا سرجھٹک کر بولی تو اُس نے تارا کو اپنی جانب کھینچا
حد میں رہو اپنی۔۔۔تارا نے اُس کو خود سے دور کرنا چاہا
پلین کیوں کینسل کیا؟تمہیں اندازہ ہے کتنا انتظار کرتا رہا میں تمہارا۔۔وہ اُس کے گرد اپنا حصار قائم کرکے بولا
موڈ خراب ہوگیا تھا۔۔۔تارا نے وجہ بتائی
مجھ سے ملنے آجاتی چٹکی میں موڈ اچھا کردیتا تمہارا۔۔۔وہ اُس کے چہرے پہ آتے بالوں کو سائیڈ پہ کرتا بولا تو تارا نے اپنا سر اُس کے سینے پہ رکھا
چینج دِس ٹاپک۔۔۔نین تارا بیزار ہوئی
ایز یو وِش۔۔۔وہ آرام سے کہتا اُس پہ گرفت اپنی مضبوط کی تو”تارا سی کرتی اُس سے دور ہوئی
کیا ہوا؟وہ پریشان ہوا
کچھ نہیں۔۔۔تارا اپنے بازوں پہ ہاتھ رکھتی نفی میں سرہلاگئ
کیا کچھ نہیں دیکھاؤ مجھے۔۔وہ اُس کا ہاتھ دور کرتا بازوں چیک کرنے لگا جہاں بڑا سا سرخ نشان دیکھ کر اُس نے اپنے ہونٹوں کو بھینچا
یہ؟وہ بس یہ کہہ پایا
بال لگا تھا بس۔۔۔تارا نے اُس کا دھیان ہٹانا چاہا
دوائی لی ہے؟اُس نے پوچھا
کیا ہوگیا ہے بال لگی ہے کونسا گولی لگی تھی۔۔تارا کو ہنسی آئی مگر اُس کے الفاظوں پر سامنے والے کے دل کو کچھ ہوا تھا
آئے لو یو یار لو یو سومچ دوبارہ ایسا کچھ منہ سے مت نکالنا۔۔۔وہ زور سے اُس کو اپنے سینے سے لگاکر بولا تو نین تارا مسکرائی
نہیں کہتی کچھ مگر ابھی تم جاؤ۔۔۔تارا نے کہا
کیوں جاؤں میں؟آج میں یہی رہنے والا ہوں۔۔۔وہ آرام سے کہتا بیڈ پہ لیٹ گیا
پاگل ہوگئے ہو؟اُٹھو اور جاؤ اِس سے پہلے کسی کو شک ہوجائے۔۔تارا کو غُصہ آیا
آ جا چل توں میرے ساتھ
یاراں چل توں یہ رات
کبھی نہ آوے آوے
آنکھ لڑ جاوے ساری رات
نیند نہ آوے
غُصے میں آفت لگتی ہو ویسے گانا مست لگایا ہے۔۔۔گانا دوسرا شروع ہوا تو اُس کو دیکھ کر آنکھ وِنک کیے بولا تو تارا نے تاسف سے اُس کو دیکھا
ایک تمہارے سامنے بے بس ہوجاتی ہوں۔۔۔تارا نے ہار مان لی۔۔۔
کیا اِس کو مرضِ محبت کہتے ہیں؟وہ شوخ ہوا
تمہیں کیا لگتا ہے؟تارا نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اُس کا عکس تھا۔۔۔
یہی لگتا ہے مجھے تو۔۔۔اُس نے تارا کے ماتھے پہ بوسہ لیا
زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں یہ لو تکیہ اگر یہاں سونا ہے تو صوفہ پڑا ہے ایڈجسٹ کرلوں خود کو۔۔۔تارا نے شانِ بے نیازی سے بولی
سونے نہیں آیا تمہیں دیکھنے آیا ہوں اور ساری رات یہی کام کروں گا”تمہیں تو میری بے خودی کا اندازہ تک نہیں۔۔۔وہ جذب سے بولا
کیوں کرتے ہو اِتنی محبت؟تارا نے ہمیشہ سے کیا جانے والا سوال کیا
محبت کرنے کے لیے کسی وجہ کا ہونا ضروری نہیں ہوتا میں نے جب پہلی بار تمہاری اِن نیلی آنکھوں میں دیکھا تھا تب سے دل ہار گیا تھا۔۔۔وہ مبہم مسکراہٹ سے جواب دینے لگا۔۔
اگر ایسا ہے تو تم جو کام کرنے آئے ہو وہ کرو کیونکہ میں اب سونے لگی ہوں۔۔۔تارا پرسکون لہجے میں کہتی اپنا سر اُس کی گود میں رکھا تو اُس کے ہونٹوں کو گہری مسکراہٹ نے چھوا
بچی ہو تم۔۔۔وہ اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا تو تارا کو گونا سکون میسر ہوا
کیونکہ تم میرے لاڈ اُٹھاتے ہو اِس لیے ہوں میں ایسی۔۔۔تارا نے بنا تاخیر کیے جواب دیا۔۔۔








امی میرا شیفون کا ڈوپٹہ نہیں مل رہا جو کریمی رنگ کا تھا۔۔۔۔حیات اپنے کمرے سے باہر آتی مُنیبہ بیگم کو آواز دیتی بولی
مجھے نہیں اپنے کمرے کی الماری میں ٹھیک سے چیک کرو۔۔۔۔مُنیبہ بیگم نے لاعلمی کا مُظاہرہ کیے کہا
پورا کمرہ چھان مارا ہے میرا ڈوپٹہ نہیں ملا اب یونی کیسے جاؤں گی؟حیات پریشان ہوئی
کیا ہوگیا ہے بیٹا کوئی اور ڈریس پہن لو۔۔۔انعم بیگم نے کہا
چینج کرنے کا وقت نہیں ہے آج میرا ضروری لیکچر ہے مجھے جلدی جانا تھا یونی اور میرا دوسرا جوڑا بھی کوئی استرہ شُدہ نہیں۔۔۔حیات نے بتایا
تو ڈوپٹہ تلاش کرنے سے اچھا اپنا کوئی ڈریس پریس کرو۔۔۔مُنیبہ بیگم نے کہا
میں نے کبھی پریس نہیں کیے آپ کسی ملازمہ سے کہے۔۔۔حیات نے سرجھٹک کر کہا
وہ ناشتے کی تیاری میں ہیں تم ایسا کیوں نہیں کرتی ایک مرتبہ نین تارا سے پوچھ لوں کیا پتا اُن کے کپڑوں میں چلاگیا ہو تمہارا ڈوپٹہ۔۔۔۔انعم بیگم نے کہا
میں دیکھتی ہوں اُپر جاکر۔۔۔حیات اِتنا کہتی سیڑھیوں کی طرف بھاگی.
نین تارا کے کمرے میں آکر وہ بنا نوک کیے کمرے میں داخل ہوئی تو اُس کو نین تارا نظر نہیں آئی البتہ واشروم سے پانی گِرنے کی آواز سے اُس کو اندازہ ہوگیا تھا کے وہ نہا رہی ہے”
خود چیک کرتی ہوں۔۔۔حیات بڑبڑاتی وارڈروب کی طرف بڑھنے والی تھی جب اُس کو کچھ غیرمعمولی پن سا محسوس ہوا اُس نے گہری سانس لی تو چونک پڑی پھر ایک طائرانہ نظر پورے کمرے میں ڈالی
یہ خوشبو کیسی ہے؟تارا تو ایسا کوئی مردانہ پرفیوم استعمال نہیں کرتی؟حیات کی چھٹی حس بیدار ہوئی یکخلت اُس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر ایک واچ پر پڑی تو اُس نے احتیاطی نظر واشروم کے بند دروازے پر ڈالی پھر بھاگنے والے انداز میں سائیڈ ٹیبل سے وہ واچ اُٹھائی اور غور سے اُس گھڑی کو دیکھنے لگی جو بلیک کلر کی مہنگی اور خوبصورت گھڑی تھی اُس کو دیکھ کر حیات کو اُس گھڑی کی قیمت کا اندازہ ہوگیا کے بہت قیمتی ہوگی۔۔۔
او مائے گوڈ یہ مردانہ گھڑی اور پہلے پرفیوم کی خوشبو”اِٹس مین تارا کے کمرے میں رات کے وقت کوئی آیا تھا”پر کون؟نہ تو یہ گھڑی ہماری کسی فیملی میمبر کی ہے اور نہ ایسا پرفیوم کوئی گھر میں استعمال کرتا ہے تو کون ہے جس کو رات کی تاریخی میں تارا اپنے کمرے میں دعوت دیتی ہے؟یہ لڑکی تو میری سوچ سے زیادہ چیپ ہے یعنی اففف توبہ۔۔۔حیات گھڑی کو دیکھتی خود سے ایک کے بعد ایک سوال کرتی آخر میں نفرت انگیز لہجے میں بولی
تم یہاں کیا کررہی ہو؟نین تارا کے آواز سن کر اُس نے جلدی سے گھڑی کو اپنے ہاتھ میں چُھپایا
میرا ڈوپٹہ نہیں مل رہا تھا تم اپنے وارڈروب میں دیکھو شاید وہاں ہو۔۔۔حیات گہری نظروں سے اُس کا جائزہ لیتی بولی تو “نین تارا کو اُس کو دیکھنے کا انداز تھوڑا عجیب لگا مگر وہ اگنور کرتی بالوں میں لپیٹا تولیہ نکال کر بیڈ پہ پھینکا پھر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی
میرے روم میں تمہاری کوئی چیز نہیں اب تم جاسکتی ہوں اور دوبارہ میرے کمرے میں دروازہ نوک کیے بنا نہ آنا۔۔۔نین تارا کے لہجے میں وارننگ تھی
میری مرضی میں جیسے چاہے آسکتی ہوں”تم سے مجھے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں”خیر کیا تمہارے کمرے میں کوئی آیا تھا؟حیات نے پوچھا تو ہاتھوں میں لوشن لگاتی نین تارا چونکی
میرے کمرے میں اگر کوئی آنے والا ہوگا تو مجھ سے پہلے تم سب کو پتا چلے گا ہاں اگر تم کمرے میں پھیلی خوشبو سے اندازہ لگا رہی ہو تو یہ میرا نیو لیٹسٹ پرفیوم کی خوشبو ہے۔۔۔نین تارا کے لہجے میں طنز واضع تھا”پر اُس کے چہرے پر بلا کا اعتماد تھا جس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حیات یقین کر بھی لیتی اگر گھڑی پر اُس کی نظر نہ پڑی ہوتی یا تارا کا ایسا کِھلا ہوا روپ اُس کی آنکھوں میں ٹھٹکتا نہیں
یقینً پھر چہرے پر فیشل بھی کوئی نیا کیا ہوگا تبھی اِتنا چہرہ گِلو کررہا ہے ورنہ دن کے وقت تو تمہارا چہرہ ایسا چمک دمک نہیں رہا تھا۔۔ حیات نے بھی جوابً طنز کیا
اِس کا جواب دینا میں ضروری نہیں سمجھتی خیر اب تم جاسکتی ہوں مجھے کپڑے چینج کرنے ہیں۔۔۔۔نین تارا نے کہا
واشروم میں کرکے آسکتی تھی۔۔۔”مجھے ابھی اپنا ڈوپٹہ دیکھنا ہے جو ضرور یہی ہوگا۔۔۔حیات نے کہا تو نین تارا نے بیزاری سے اُس کو دیکھا
ٹھیک ہے تم وہ دیکھو تب تک کپڑے میں تمہارے سامنے بدل لیتی ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں بکاز وی آر کزنز۔۔۔۔نین تارا شانے اُچکاکر بولی تو حیات آنکھیں پھاڑ کر اُس کو دیکھنے لگی۔۔۔ابھی نین تارا اپنی پہنی ڈھیلی شرٹ اُپر کرنے والی تھی جب حیات ہوش میں آئی
بے شرم بے ہودہ لڑکی۔۔حیات اپنی نظریں فرش پر گاڑھتی کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئ۔۔تو نین تارا نے اپنے شرٹ ٹھیک کی اور وارڈروب سے اپنے ڈریس کا انتخاب کرتی اُس کو لیکر چینج کرنے کے لیے دوبارہ واشروم میں گُھس گئ۔۔۔
