Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain NovelR50557 Last updated: 2 March 2026
Rate this Novel
Kia Hoi Hai Khata (Episode 01)Kia Hoi Hai Khata (Episode 02)Kia Hoi Hai Khata (Episode 03)Kia Hoi Hai Khata (Episode 04)Kia Hoi Hai Khata (Episode 05)Kia Hoi Hai Khata (Episode 06)Kia Hoi Hai Khata (Episode 07)Kia Hoi Hai Khata (Episode 08)Kia Hoi Hai Khata (Episode 09)Kia Hoi Hai Khata (Episode 10)Kia Hoi Hai Khata (Episode 11)Kia Hoi Hai Khata (Episode 12)Kia Hoi Hai Khata (Episode 13)Kia Hoi Hai Khata (Episode 14)Kia Hoi Hai Khata (Episode 15)Kia Hoi Hai Khata (Episode 16)Kia Hoi Hai Khata (Episode 17)Kia Hoi Hai Khata (Episode 18)Kia Hoi Hai Khata (Episode 19)Kia Hoi Hai Khata (Episode 20)Kia Hoi Hai Khata (Episode 21)Kia Hoi Hai Khata (Episode 22)Kia Hoi Hai Khata (Episode 23)Kia Hoi Hai Khata (Episode 24)Kia Hoi Hai Khata (Last Episode)
Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain
امی میرا شیفون کا ڈوپٹہ نہیں مل رہا جو کریمی رنگ کا تھا۔۔۔۔حیات اپنے کمرے سے باہر آتی مُنیبہ بیگم کو آواز دیتی بولی
مجھے نہیں اپنے کمرے کی الماری میں ٹھیک سے چیک کرو۔۔۔۔مُنیبہ بیگم نے لاعلمی کا مُظاہرہ کیے کہا
پورا کمرہ چھان مارا ہے میرا ڈوپٹہ نہیں ملا اب یونی کیسے جاؤں گی؟حیات پریشان ہوئی
کیا ہوگیا ہے بیٹا کوئی اور ڈریس پہن لو۔۔۔انعم بیگم نے کہا
چینج کرنے کا وقت نہیں ہے آج میرا ضروری لیکچر ہے مجھے جلدی جانا تھا یونی اور میرا دوسرا جوڑا بھی کوئی استرہ شُدہ نہیں۔۔۔حیات نے بتایا
تو ڈوپٹہ تلاش کرنے سے اچھا اپنا کوئی ڈریس پریس کرو۔۔۔مُنیبہ بیگم نے کہا
میں نے کبھی پریس نہیں کیے آپ کسی ملازمہ سے کہے۔۔۔حیات نے سرجھٹک کر کہا
وہ ناشتے کی تیاری میں ہیں تم ایسا کیوں نہیں کرتی ایک مرتبہ نین تارا سے پوچھ لوں کیا پتا اُن کے کپڑوں میں چلاگیا ہو تمہارا ڈوپٹہ۔۔۔۔انعم بیگم نے کہا
میں دیکھتی ہوں اُپر جاکر۔۔۔حیات اِتنا کہتی سیڑھیوں کی طرف بھاگی.
نین تارا کے کمرے میں آکر وہ بنا نوک کیے کمرے میں داخل ہوئی تو اُس کو نین تارا نظر نہیں آئی البتہ واشروم سے پانی گِرنے کی آواز سے اُس کو اندازہ ہوگیا تھا کے وہ نہا رہی ہے"
خود چیک کرتی ہوں۔۔۔حیات بڑبڑاتی وارڈروب کی طرف بڑھنے والی تھی جب اُس کو کچھ غیرمعمولی پن سا محسوس ہوا اُس نے گہری سانس لی تو چونک پڑی پھر ایک طائرانہ نظر پورے کمرے میں ڈالی
یہ خوشبو کیسی ہے؟تارا تو ایسا کوئی مردانہ پرفیوم استعمال نہیں کرتی؟حیات کی چھٹی حس بیدار ہوئی یکخلت اُس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر ایک واچ پر پڑی تو اُس نے احتیاطی نظر واشروم کے بند دروازے پر ڈالی پھر بھاگنے والے انداز میں سائیڈ ٹیبل سے وہ واچ اُٹھائی اور غور سے اُس گھڑی کو دیکھنے لگی جو بلیک کلر کی مہنگی اور خوبصورت گھڑی تھی اُس کو دیکھ کر حیات کو اُس گھڑی کی قیمت کا اندازہ ہوگیا کے بہت قیمتی ہوگی۔۔۔
او مائے گوڈ یہ مردانہ گھڑی اور پہلے پرفیوم کی خوشبو"اِٹس مین تارا کے کمرے میں رات کے وقت کوئی آیا تھا"پر کون؟نہ تو یہ گھڑی ہماری کسی فیملی میمبر کی ہے اور نہ ایسا پرفیوم کوئی گھر میں استعمال کرتا ہے تو کون ہے جس کو رات کی تاریخی میں تارا اپنے کمرے میں دعوت دیتی ہے؟یہ لڑکی تو میری سوچ سے زیادہ چیپ ہے یعنی اففف توبہ۔۔۔حیات گھڑی کو دیکھتی خود سے ایک کے بعد ایک سوال کرتی آخر میں نفرت انگیز لہجے میں بولی
تم یہاں کیا کررہی ہو؟نین تارا کے آواز سن کر اُس نے جلدی سے گھڑی کو اپنے ہاتھ میں چُھپایا
میرا ڈوپٹہ نہیں مل رہا تھا تم اپنے وارڈروب میں دیکھو شاید وہاں ہو۔۔۔حیات گہری نظروں سے اُس کا جائزہ لیتی بولی تو "نین تارا کو اُس کو دیکھنے کا انداز تھوڑا عجیب لگا مگر وہ اگنور کرتی بالوں میں لپیٹا تولیہ نکال کر بیڈ پہ پھینکا پھر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی
میرے روم میں تمہاری کوئی چیز نہیں اب تم جاسکتی ہوں اور دوبارہ میرے کمرے میں دروازہ نوک کیے بنا نہ آنا۔۔۔نین تارا کے لہجے میں وارننگ تھی
میری مرضی میں جیسے چاہے آسکتی ہوں"تم سے مجھے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں"خیر کیا تمہارے کمرے میں کوئی آیا تھا؟حیات نے پوچھا تو ہاتھوں میں لوشن لگاتی نین تارا چونکی
میرے کمرے میں اگر کوئی آنے والا ہوگا تو مجھ سے پہلے تم سب کو پتا چلے گا ہاں اگر تم کمرے میں پھیلی خوشبو سے اندازہ لگا رہی ہو تو یہ میرا نیو لیٹسٹ پرفیوم کی خوشبو ہے۔۔۔نین تارا کے لہجے میں طنز واضع تھا"پر اُس کے چہرے پر بلا کا اعتماد تھا جس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حیات یقین کر بھی لیتی اگر گھڑی پر اُس کی نظر نہ پڑی ہوتی یا تارا کا ایسا کِھلا ہوا روپ اُس کی آنکھوں میں ٹھٹکتا نہیں
یقینً پھر چہرے پر فیشل بھی کوئی نیا کیا ہوگا تبھی اِتنا چہرہ گِلو کررہا ہے ورنہ دن کے وقت تو تمہارا چہرہ ایسا چمک دمک نہیں رہا تھا۔۔ حیات نے بھی جوابً طنز کیا
اِس کا جواب دینا میں ضروری نہیں سمجھتی خیر اب تم جاسکتی ہوں مجھے کپڑے چینج کرنے ہیں۔۔۔۔نین تارا نے کہا
واشروم میں کرکے آسکتی تھی۔۔۔"مجھے ابھی اپنا ڈوپٹہ دیکھنا ہے جو ضرور یہی ہوگا۔۔۔حیات نے کہا تو نین تارا نے بیزاری سے اُس کو دیکھا
ٹھیک ہے تم وہ دیکھو تب تک کپڑے میں تمہارے سامنے بدل لیتی ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں بکاز وی آر کزنز۔۔۔۔نین تارا شانے اُچکاکر بولی تو حیات آنکھیں پھاڑ کر اُس کو دیکھنے لگی۔۔۔ابھی نین تارا اپنی پہنی ڈھیلی شرٹ اُپر کرنے والی تھی جب حیات ہوش میں آئی
بے شرم بے ہودہ لڑکی۔۔حیات اپنی نظریں فرش پر گاڑھتی کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئ۔۔تو نین تارا نے اپنے شرٹ ٹھیک کی اور وارڈروب سے اپنے ڈریس کا انتخاب کرتی اُس کو لیکر چینج کرنے کے لیے دوبارہ واشروم میں گُھس گئ۔
