Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain NovelR50557 Kia Hoi Hai Khata (Episode 14)
Rate this Novel
Kia Hoi Hai Khata (Episode 14)
Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain
واہ۔۔۔۔احناف نے حیات کے پیک شُدہ گِفٹ کا کور کُھولا تھا اُس کے فیورٹ رِنگ کی ٹی شرٹ کے ساتھ ایک کافی کا کپ تھا جس میں”حیات”نام لکھا ہوا تھا اور ساتھ میں فریم بھی تھا جس میں اُن دونوں کی بچپن سے لیکر آج تک کی کئ تصاویریں اُس میں چسپاں تھی جس کو دیکھ کر احناف مسکرایا تھا۔
پسند آیا تمہیں؟حیات نے متجسس لہجے میں اُس سے پوچھا
ہاں بہت خوبصورت ہے یہ۔۔۔۔احناف نے مسکراکر تعریفی انداز میں کہا
میں تو بس یہ دعا کررہی تھی کہ میرا دیا گیا گِفٹ ہر ایک سے الگ اور اسپیشل ہو۔۔۔حیات فضا میں گہری سانس چھوڑ کر بولی
تمہارا تحفہ واقع میں بہت اسپیشل ہے اِس میں ایسی پکچرز بھی ہیں جو واقعات میں سِرے سے بھول چُکا ہوں تم نے تو بچپن کی یادیں تازہ کردی۔۔۔احناف نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں کہا تو حیات کے چہرے پر گہری مسکراہٹ نے احاطہ کیا
میں جانتی تھی تمہارے پاس اِن میں سے زیادہ تصویریں نہیں ہوگی مگر پتا ہے کیا میرے پاس تم سے وابستہ ہوئی ہر چیز موجود ہے میں نے اُس کو بہت چاہ سے سنبھال کر رکھا ہے اور ہمیشہ سنبھال کر رکھوں گی۔۔۔۔حیات اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بولی تو احناف بس اُس کو دیکھتا رہ گیا
ایک بات پوچھوں؟احناف نے اُس کو دیکھ کر کہا
ہزار پوچھو۔۔۔۔حیات نے کُھلے دل سے اجازت دی
تم مجھ سے اِتنی محبت کیوں کرتی ہو؟”مجھ میں ایسا بھی کیا ہے جو تمہارا دل مجھ پر آیا۔۔۔احناف کے لہجے میں اُلجھن تھی جس کو محسوس کرتی حیات بے ساختہ مسکرائی
محبتیں بے وجہ ہوتیں ہیں مجھے تم سے بہت پیار ہے کیونکہ مجھے میری زندگی میں ایک جنونی اور پوزیسیو مرد چاہیے تھا”تمہیں پتا ہے احناف جب تم سترہ سال کے تھے اور تارا کو کسی نے ہراس کرنا چاہا تو تم نے اُن لوگوں کا حشر نشر کردیا تھا تب سے میں تارا کی جگہ خود کو امیجن کرتی ہوں کہ اگر تم اُس کے لیے اِتنا پاگل ہوسکتے ہو تو میرے لیے کتنا ہوگے۔۔۔؟میں تو تمہاری دوست ہوں اور جیون ساتھی بننے والی ہوں۔۔۔ حیات مسکراکر کہتی اُس کے گلے لگی تو احناف چُپ رہا شاید اُس کے پاس کچھ بولنے کے لیے نہیں تھا
اچھا سُنو۔۔۔۔حیات نے اپنا سر اُس کے سینے سے اُٹھایا
ہمم کہو؟احناف نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
آج ڈنر باہر کرے اور ڈنر کے بعد لونگ ڈرائیو پر بھی؟حیات نے پرجوش لہجے میں کہا
آج؟احناف نے پریشانی سے اُس کو دیکھا
ہاں آج کیوں کیا کچھ مسئلہ ہے؟حیات نے اُس کو دیکھا
میں کچھ اچھا فیل نہیں کررہا آرام کرنا چاہتا ہوں”ڈنر اور لونگ ڈرائیو کا پلان ہم کسی اور دن کرتے ہیں۔۔۔۔احناف نے کہا
اچھا چلو کوئی بات نہیں۔۔۔حیات نے اُس کی حالت کے پیش نظر کوئی بحث نہیں کی جس پر احناف نے سر کو جنبش دی






تارا گھر آنے کے بعد سیدھا اپنے کمرے میں آئی تھی جہاں اندھیرے نے اُس کا استقبال کیا تھا بس ایک زیرو بلب تھا جو روشن تھا”اور اِس وقت اُس کو جتنی تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی اُس نے ہنوز ویسے ہی جیسی اپنی حالت تھی بیڈ پر بے سُدھ لیٹ گئ تھی”جب اُس کو اچانک احساس ہوا کے کمرے میں اُس کے علاوہ بھی کوئی تھا جو اب اُس کے پاؤں کے پاس جُھکا اُس کے سینڈل کی اسٹریپ کھول کر اُتار رہا تھا۔۔۔یہ دیکھ کر تارا نے اپنا پاؤں کھینچنا چاہا مگر اُس شخص نے کوشش کو ناکام بنادیا جبھی تارا نے بھی مزید بحث نہیں کی اور کروٹ کے بل لیٹ گئ۔۔۔”کچھ ہی وقت میں تارا کو اپنا آپ اُس کے حصار میں محسوس ہوا تو وہ اُس کی طرف کروٹ لیتی پیچھے کی جانب اُس کو دھکیلنے لگی تو جواب میں وہ شخص اُس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی قید میں لے گیا۔۔۔”کتنا ہی وقت وہ دونوں آپس میں خاموشی کی لڑائی لڑتے رہے جس پر آخر تنگ ہوکر تارا نے زیرو بلب کی روشنی میں اُس کو گھورا
چھوڑو مجھے اور جاؤ یہاں سے۔۔۔۔تارا کے لہجے میں آج جھنجھلاہٹ صاف محسوس کی جاسکتی تھی
آج نہیں۔۔۔وہ اُس کے کان کے پاس سرگوشنی نما آواز میں بولا تو تارا کو اُس کے اِرادے ٹھیک نہیں لگے
میں تھکی ہوئی ہوں مجھے سونا ہے تم پلیز جاؤ یہاں سے۔۔۔۔تارا نے بیزاری کا مُظاہرہ کیا
میں بھی بہت تھک گیا ہوں”سالوں سے تم نے انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھا ہے مگر آج نہیں آج میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔۔۔وہ اُس کا ماتھا چھو کر بولا تو تارا کا گلا خُشک ہوا تھا اُس نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا جس پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا اور لمحے بھر میں اپنا حصار اُس پر تنگ کیا تھا۔۔۔”جس پر تارا بے بس ہوئی تھی۔۔۔








جتوئی ویلا میں سلطان کے ساتھ ساتھ حیات اور احناف کی شادی کی تیاریاں بھی زور شور سے شروع ہوچکی تھیں۔۔”جیسے جیسے شادی کا دن قریب آتا جارہا تھا ویسے ویسے حیات کے پاؤں زمین پر نہیں ٹِک رہے تھے اُس کے چہرے پر آجکل الوہی چمک ہوا کرتی تھی اور وہ خود کو بہت خوشقسمت سمجھتی تھی کہ اُس نے جس کو چاہا اُس کو پالیا تھا”اپنی محبت کو پانے کا احساس ایک بہت خوبصورت احساس تھا جو وہ آئے دن محسوس کرتی تھی۔۔۔”مسکراہٹ تو جیسے اُس کے چہرے پر چپک سی گئ تھی۔۔۔
“میم آپ کا فون بار بار بج رہا ہے۔۔۔۔تارا اپنے شوٹ سے فارغ ہوتی ابھی بیٹھی ہی تھی جب ایک لڑکا اُس کی طرف اُس کا سیل فون بڑھائے بولا تو تارا نے بیزاری سے اپنا فون اُس کے ہاتھ سے لیا جیسے وہ جان گئ تھی کہ کال کرنے والا کون تھا۔۔۔
تم جاؤ۔۔۔تارا نے اُس لڑکے کو دیکھا پھر کال بیک کرنے لگی جو جلدی سے ریسیو ہوگئ تھی۔
جان نکالنے کا اِرادہ ہے کیا؟اور تم ایک دن میری جان نکال کر دم لو گی۔۔۔اُس کے کچھ بولنے سے پہلے دوسری طرف سے آواز اُبھری تھی کیونکہ اُس رات کے بعد تارا اُس کو بھی نظرانداز کرنے لگی تھی اُس نے ہر ممکن کوشش کی تھی تارا کو منانے کی پر تارا کو اچانک کیا ہوگیا تھا جو وہ اُس کی کوئی بھی بات سُننا تک گوارا نہیں کرتی تھی۔
کیوں کال کی ہے؟تارا نے سنجیدگی سے بس اِتنا کہا
اپنی ٹون دیکھو۔۔۔وہ ناگواری سے بولا اُس کو تارا کے بات کرنے کا انداز پسند نہیں آیا تھا یہاں وہ پل پل اُس کی نارضگی کا سوچ کر تڑپ رہا تھا اور ایک وہ تھی جس کو شاید اُس کی حالت کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔۔
میں ایسی ہی بات کرتی ہوں۔۔۔۔تارا نے جتایا
روٹھی ہوئی محبوبہ کب تک رہو گی آئے مس یو اور جو اُس دن ہوا اُس میں کچھ غلط نہیں تھا۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولا
میں اِن چیزوں کے لیے ابھی راضی نہیں تھی۔۔۔تارا نے بھی جواباً سنجیدگی سے کہا
راضی نہیں تھی یا اب تک مجھ پر اعتبار نہیں ہوا تھا؟وہ بولا تو تھا مگر لہجے میں ایک عجیب سی بے بسی تھی اور زمان بھر کی تھکاوٹ جیسے بس اُس کے ایک جُملے نے لے رکھی تھی۔۔۔۔
یہی سمجھ لو۔۔۔۔تارا نے محض یہ بولی
میں تمہیں عشق کی حد تک چاہتا ہوں وہ تمہیں کیا نظر نہیں آتا؟وہ جیسے تھک گیا تھا اپنی محبت کا یقین دِلاتے دلاتے
ایک رات میں لگتا ہے مجھ سے جی بھرگیا ہے۔۔۔اُس کا لہجہ محسوس کیے وہ طنز ہوئی تھی
فضول مت بولا کرو تم جانتی ہو میں تمہیں کتنا چاہتا ہوں۔۔۔وہ جیسے تڑپ اُٹھا تھا
مجھے ثبوت چاہیے تمہاری محبت کا تمہاری اُس چاہت کا جو مجھ سے عشق کی حد تک ہے۔۔۔تارا نے چیلینج کرنے والے انداز میں کہا
تمہارے لیے میں کچھ بھی کرسکتا ہوں۔۔۔وہ پُرعزم لہجے میں بولا
ٹھیک ہے تو وہ اب دن قریب آگیا ہے جب تمہیں اپنا آپ منوانا ہے۔۔۔۔تارا نے کہا
میں تیار ہوں۔۔۔۔”بس تم اپنی ناراضگی ختم کرلوں۔۔۔۔وہ جلدی سے بولا تھا
ٹھیک ہے۔۔۔تارا پہلی بار مسکرائی تھی
تو میں آجاؤں تمہیں پِک کرنے ایک عرصہ ہوگیا ہے جیسے تمہارے ساتھ کُھلی فضا میں سانس نہیں لیا۔۔۔اُس نے کہا
آجاؤ میں تمہارا انتظار کررہی ہوں۔۔ تارا نے وال کلاک میں وقت دیکھ کر کہا
میں جلدی آتا ہوں۔۔۔وہ بولا تو تارا نے کال ڈراپ کردی اور آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے لگی تو اُس کی آنکھوں میں ایک الگ سی چمک آنے لگی۔۔۔








سجنا ہے مجھے سجنا کے لیے۔۔۔
“حیات گانا گُنگُناتی اپنا عکس آئینے میں دیکھنے لگی”وہ آج پور پور احناف کے لیے سجی تھی اُس کی خوشی کا آج کوئی ٹھکانہ نہیں تھا”بس کچھ پل کا انتظار پھر ہر لحاظ سے وہ احناف کی اور احناف کو اُس کا ہوجانا تھا۔۔.
السلام علیکم دولہن صاحبہ۔۔۔۔۔سومل مومل فضا یہ سب ایک ساتھ اُس کے کمرے میں داخل ہوئیں
وعلیکم السلام کہاں غائب تھی تم سب اور بتاؤ میں کیسی لگ رہی ہوں؟حیات گول گول گھومتی ہوئی اُن سے پوچھنے لگی۔
نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی ہو بس اللہ تمہیں نظرِبد سے بچائے۔۔۔۔سومل نے کہا تو اُس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ نے احاطہ کیا
بارات آگئ ہے؟حیات نے بے چینی سے پوچھا
لڑکی صبر کرو ابھی تو ہم نے سلطان بھائی کے نکاح میں جانا ہے اُس کے بعد پھر تمہارا نمبر آئے گا۔۔۔سومل اُس کو مصنوعی گھوری سے نواز کر بولی
افففف کاش میں بھی نکاح اٹینڈ کرپاتی۔۔۔حیات کو افسوس ہوا
تم بس اپنی خوشی کو محسوس کرو۔۔۔۔اِس بار مومل نے کہا
تمہارے چہرے کی بتی کیوں گُل ہے۔۔۔؟سومل نے اُس کو چھیڑا
ایسا کچھ نہیں میں باہر انتظار کررہی ہوں تم لوگ آجانا۔۔۔۔مومل سنجیدگی سے اُن کو کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئ۔
تم تو میرے پاس رہو گی نہ؟حیات نے فضا سے پوچھا
بلکل آپی میں آپ کے ساتھ رُکنے والی ہوں۔۔۔فضا نے مسکراکر بتایا تو حیات نے شکر کا سانس لیا
تم یہی بیٹھ کر احناف کے خیالوں میں ڈوب جاؤ ہم تب تک سلطان بھائی کے نکاح سے ہو آئے۔۔۔سومل شرارت سے اُس کو کہہ کر چلی گئ تو حیات مسکرائی
بیٹھ جائے آپ۔۔۔۔فضا نے اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ دیا تو وہ اپنا لہنگا سنبھالتی آرام سے بیٹھ گئ۔۔۔۔۔








ماشااللہ
ماشااللہ بہت پیارے لگ رہے ہو۔۔۔۔بینش بیگم احناف کا صدقہ اُتار کر بولی تو وہ محض مسکرایا
کیا ہوا خوش نہیں ہو؟الطاف صاحب نے جانچتی نظروں سے اُس کو دیکھا
کیسی باتیں کررہے ہیں آپ احناف خوش کیوں نہیں ہوگا آخر کو جو یہ چاہتا تھا وہ ہونے جارہا ہے۔۔۔۔احناف کے بجائے بینش بیگم نے جواب دیا تھا
چلیں؟احناف نے بس یہ کہا
ہاں چلو بھئ بارات کا ہی انتظار ہوگا اب وہاں۔۔۔۔بینش بیگم بھی جھٹ سے بولیں
شادی بہت بڑی زمیداری ہے احناف جس کو اب تم نے پوری عمر سنبھالنا ہے۔۔۔۔احناف باہر نکلنے لگا تو الطاف صاحب نے کہا
میں جانتا ہوں ڈیڈ۔۔۔۔احناف سنجیدگی سے اُن کو جواب دیتا باہر نکلتا چلاگیا








مہرون رنگ کے گُھٹنوں تک آتے فراق زیب تن کیے ہونٹوں پر ڈراک لپ اسٹک لگائے تارا نے ایک سنجیدہ نظر آئینے میں اُبھرتے اپنے عکس پر ڈالی پھر ڈریسنگ ٹیبل سے جُھمکے اُٹھاکر باری باری اپنے کانوں پر ڈالے اُس کے بعد وہ چوڑیاں اپنی خالی کلائی میں ڈالنے والی تھی جب کوئی اُس کے کمرے میں آیا
ازلان؟اپنے پیچھے ازلان کو کھڑا پایا تو سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
بارات آگئ ہے نکاح شروع ہونے والا ہے۔۔۔۔ازلان نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر بتایا تو تارا کے چہرے پہ اب مسکراہٹ آئی تھی
آپ چلے میں آتی ہوں۔۔۔۔ڈریسنگ ٹیبل کے ڈرار کو کُھول کر اُس میں موجود ڈائری پر ایک نظر ڈالے تارا نے کہا
میں یہی ہوں آجانا تم بھی۔۔۔ازلان نے کہا تو تارا خود پر ایک آخری نظر ڈالے ازلان کے ساتھ ہال میں منعقد کی گئ تقریب میں جانے لگی۔”تو اُس کے کانوں میں قاری صاحب کی آواز آئی۔
“احناف الطاف ولد الطاف اُسماعیل آپ کا نکاح”حیات اختر ولد اختر اُسماعیل سے کیا جاتا ہے”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔
یہ سن کر تارا کے چہرے پر طنز مسکراہٹ اُبھری تھی اُس نے پاس سے گُزرتے ویٹر کے ہاتھوں میں موجود ٹرے سے کول ڈرنک اُٹھایا اور قدم قدم چلتی اسٹیج کے نزدیک جاتی گئ۔۔۔۔
“جبکہ قاری صاحب کی آواز سن کر احناف بے وجہ بس اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا اُس کے پاس بیٹھی حیات کا رواں رواں احناف کے جواب کا منتظر تھا باقی سب بھی مسکراکر اُن دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے!!؟
قاری صاحب نے دوسری بار احناف سے پوچھا تو اسٹیج کے عین پاس کول ڈرنک کا گلاس ہاتھ میں پکڑے تارا زیر لب مسکرائی اور ایک گھونٹ بھر کر دلچسپ نظروں سے وجاہت سے بھرپور احناف کو دیکھا جو شاید اضطراب کی کیفیت کا شکار تھا باقی سب اُس کے جواب کہ منتظر تھے سب کو اُس کی خاموشی اب کھٹک رہی تھی اور جیسے جیسے وقت گُزر رہا تھا اُس کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی وہ اپنی خوبصورت نیلی آنکھوں میں چمک لیے بے چینی سے احناف کو دیکھنے لگی کیونکہ جو وہ سُننا چاہتی تھی اب انتظار کی گھڑیاں اُس کو جیسے کاٹنے لگی۔۔۔۔”انتظار اب طویل ہوتا محسوس ہورہا تھا جو اب مزید وہ برداشت نہیں کرپارہی تھی۔
دوسری جانب خود پہ نظروں کا ارتکاز محسوس کرکے احناف نے بھی سراُٹھایا تو نظر سامنے کھڑی تارا پہ گئ تو اُس کو اپنا گلا خشک ہوتا محسوس ہوا بے ساختگی کے عالم میں اُس نے اپنی واسکٹ کا اُپری بٹن کھولا جیسے بڑھتی ہوئی گُھٹن کا احساس کم کرنا چاہا ہو” مگر جانے یہ کیسی گُھٹن تھی جو بڑھتی جارہی تھی اور بس بڑھتی جارہی تھی۔۔۔
میری جان قاری صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں۔۔۔بینش بیگم نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر آہستگی سے کہا تو وہ ضبط سے آنکھیں میچ کر کھولتا اپنے ساتھ فاصلے پہ بیٹھی حیات کو دیکھا جس کی خوشی سے وہ اچھے سے واقف تھا پھر سب لوگوں کو دیکھنے لگا جو اُس کی خاموشی پہ سب چہ مگوئیاں کرنے لگے تھے۔۔۔
“کہہ دو سب کے سامنے کہ”قبول نہیں”۔۔۔تارا اُس کو دیکھ کر بڑبڑائی تو اُس کے پاس کھڑے ازلان نے اُس کو دیکھ کر گہری سانس خارج کی تھی۔۔
قبول ہے۔۔۔۔۔۔
احناف اچانک ایک فیصلے پہ پہنچ کر بولا تو جہاں سب کے اندر خوشی کی لہریں ڈور گئ تھی وہی کچھ دیر قبل خوشی اور چمک لیے تارا کی آنکھیں ساکت وجامد ہوئی تھی وہ حیرت اور بے یقین نظروں سے احناف کو دیکھنے لگی”ایسا تو اُس نے نہیں چاہا تھا اور نہ سوچا تھا پھر یہ کیسے ہوگیا اُس کو اپنے قدموں سے جان جاتی محسوس ہوئی وہ اپنی آنکھوں میں عجیب تاثرات سجائے احناف کو دیکھنے لگی تو اُس نے اپنے چہرے کا زاویہ بدل کر آنکھوں میں آتی نمی کو پیچھے کی جانب دھکیلا تھا”اگر اُس کے دو بول سُن کر کوئی ٹوٹا تھا تو یہ کہتے ہوئے بھی وہ ہزار بار مرا تھا۔۔۔
“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے!!؟
قاری صاحب نے تیسری بار پوچھا جو احناف کے لیے دوسری بار تھا
قبول ہے۔۔۔!!!
احناف نے پھر سے اپنی رضامندی تھی تو حیات کو اپنا آپ ہواؤں میں اُڑتا محسوس ہوا جبکہ تارا کے قدم اب لڑکھڑائے تھے وہ گِر بھی جاتی اگر پاس کھڑے ازلان نے اُس کو تھاما نہ ہوتا تو
قبول ہے۔۔۔!!!
تیسری بار احناف کا قبول ہے کہنا تھا اور چُھن کی آواز سے اُس کے ہاتھوں میں موجود شیشے کا گلاس فرش پر گِرتے کرچی کرچی ہوگیا تھا”ٰکرچی تو اُس کا دل بھی ہوا تھا مگر ستم یہ تھا کہ اپنے دل کے ٹوٹنے کی آواز بس وہ خود سُن سکتی تھی کسی اور کو سُنا نہیں سکتی تھی۔۔۔۔
“جہاں ہر ایک کے مُبارکباد کا شور اُٹھا تھا وہی تارا کو لگا جیسے اُس کا دل بندہ ہوجائے گا وہ ساکت پتلوں سے یک ٹک احناف کو دیکھتی اپنے قدم پیچھے لے جانے لگی…
تارا۔۔۔ازلان نے اُس کو اُلٹے پاؤں جاتا دیکھا تو آواز دی مگر تارا نے ہاتھ کے اِشارے سے اُس کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا اور اپنی آنکھوں سے بہتے گرم سیال کو بے دردی سے صاف کرتی وہ باہر کو بھاگی تھی”حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ازلان نے اُس کے پیچھے جانا چاہا مگر عین وقت پر اصغر صاحب اُس کے سامنے کھڑے ہوتے کام بتانے لگے تو وہ لب بھینچ کر وہی رُک گیا تھا۔۔۔۔
مُبارک کو چُھوٹے میاں۔۔۔۔۔
بھائی ایک منٹ پلیز۔۔”سلطان گرمجوشی سے اُس کے گلے لگنے والا تھا جب احناف اُس کو روکتا خود بھی اسٹیج سے اُترتا باہر کا رُخ کیا تو کسی نے بھی اُس کے جانے کا خاص نوٹس نہیں لیا تھا کیونکہ ہر کوئی آپس میں مبارکباد دینے میں مصروف تھا بس ایک سلطان تھا جس کو اُس کا انداز کھٹکا تھا مگر وہ بھی نظرانداز کرگیا تھا۔
“نین
نین
رُکو میری بات سُنو ایک بار۔۔۔۔تارا گاڑی میں بیٹھ کر جیسے ہی دروازہ لاک کیا جبھی احناف بھاگ کر اُس کے پاس آتا گاڑی کا شیشہ نوک کرنے لگا مگر تارا نے ایک نظر اُس پر ڈالنا ضروری نہیں سمجھا
باہر آؤ نین پہلے میری بات سُنو۔۔۔۔احناف نے پوری قوت سے اپنا ہاتھ شیشے پر مارا تھا مگر تارا پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا وہ بس اسٹیئرنگ ویئر پر اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھاتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی تو چوکیدار نے جلدی سے گیٹ کُھولا تھا۔۔
شِٹ
شِٹ
اپنے ہاتھ کی مٹھی کو دوسرے ہاتھ پر غُصے سے مارتا احناف بھی جلدی سے ایک گاڑی میں بیٹھ کر اُس کے پیچھے جانے کی نیت سے باہر کی طرف گاڑی زن سے بھگائی
سُنسان سڑک پر تارا کی گاڑی ہواؤں سے بات کرتی ڈور رہی تھی”دوسری طرف اُس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتا احناف نے بھی اپنی گاڑی کو فُل اسپیڈ پر چھوڑا تھا۔۔۔
نین اسٹاپ دا کار۔۔۔۔۔۔۔بلآخر اُس کے برابر گاڑی چلاتا احناف نے اُونچی آواز میں اُس سے کہا تھا مگر تارا تو جیسے بہری بن گئ تھی وہ ایک ہاتھ سے بار بار اپنے آنسوؤ کو صاف کرتی نامعلوم راستوں پر گاڑی چلاتی آئی تھی اُس کو تو یہاں تک پہنچتے ہوئے یہ اندازہ بھی نہیں ہوا تھا کہ کتنی بار اُس کا خطرناک ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا اُس کے اندر تو بس اِس وقت ایک آگ تھی جس میں وہ خود کو جلتا ہوا محسوس کررہی تھی اور خود کے ساتھ وہ پوری دُنیا کو بھی جلانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
اگر ایسا ہے تو ایسے ہی سہی آؤ اور میری گاڑی کو ٹھوک دو تم۔۔۔۔احناف نے جب دیکھا تارا اُس کی کوئی بھی بات سُننے کے حق میں نہیں تو اُس نے بنا انجام کا سوچے موڑ کاٹ کر اپنی گاڑی کو اُس کی گاڑی کے سامنے کھڑا کردیا تھا اور یہ سب اِتنا اچانک ہوا تھا کہ تارا کو کچھ سمجھنے اور سوچنے کا موقع تک نہیں ملا تھا اُس کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا تو دوسرا جارہا تھا مگر جلدی وہ اپنے حواسوں پر قابوں پائے بریک پر اپنے پاؤں کا دباؤ بڑھایا تھا اُس نے اپنی گاڑی کو سائیڈ پر کرنا بھی چاہا تھا مگر بُری طرح سے ناکام رہی۔
