Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain NovelR50557 Kia Hoi Hai Khata (Episode 12)
Rate this Novel
Kia Hoi Hai Khata (Episode 12)
Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain
تارا اور اختر صاحب کی گاڑیاں جتوئی ویلا میں ایک ساتھ داخل ہوئیں تھیں۔۔”جس پر تارا ایک اچٹنی نظر اُن کی گاڑی میں ڈالے اپنی گاڑی کا دروازہ لاک کیے اندر کی طرف بڑھنے لگی تھی جب عین ٹائیم اختر صاحب بھی گاڑی سے باہر نکلتے اُس کو مُخاطب کیا
آج جو تم نے کیا وہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔
میں نے آج کیا کیا؟جوابً تارا اُن کی طرف پلٹی
تمہارا آفس میں آنا ہمیں شرمندگی میں مبتلا کرگیا تھا اِس لیے اپنا وجود ہماری کمپنی میں نہ لایا کرو۔۔۔اِس بار اصغر صاحب نے دو ٹوک لہجے میں کہا
فرسٹ آف آل وہ آپ کی کمپنی نہیں میرے نانا جان کی کمپنی تھی جہاں میں جب چاہے آسکتی ہوں میرا پورا حق ہے۔۔۔۔”کوئی مجھے روک نہیں سکتا اِیون آپ دونوں بھی نہیں اور میرے وہاں آنے سے یا جو میں نے آج کیا میرا نہیں خیال اُس سے آپ کو شرمندہ ہونا چاہیے۔۔۔۔تارا سنجیدگی سے دو ٹوک انداز میں کہتی باری باری اُن کو دیکھنے لگی۔
تمہیں کیا لگتا ہے ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا یہ جو تم ہر ایک کی تعریفیں بٹور رہی ہو اُس کا مقصد ہمیں اچھے سے پتا ہے۔۔۔اختر صاحب نے اُس کو گھورا
جان کر دل کی گہرائیوں سے خوشی ہوئی پر پتا ہے کیا پیارے چچا جان۔۔۔۔تارا نے لمحے بھر کا وقفہ لیا پھر بولی
“کل رات غلطی سے نانا جان نے نیند کی گولیاں کھالی تھیں اور ایک سے زیادہ گولیاں تھیں تو وہ اُٹھ تو گئے صبح مگر اُن کے سر درد نے بیڈ سے اُٹھنے کی اِجازت نہیں دی اور جیسا کہ وہ اکیلے نہیں میں اُن کے ساتھ ہوں جو اُن کی محنت کو کبھی ضائع نہیں ہونے دے گی تو میں نے سب سنبھال لیا اور ان شاءاللہ آئیندہ بھی ایسے سب کچھ سنبھال لوں گی۔۔۔تارا کی بات پر بے ساختہ اختر صاحب اور اصغر صاحب نے ایک دوسرے کو دیکھا اُن کے چہرے کی بدلتی رنگت کو تارا نے پل بھر میں محسوس کرلیا تھا۔
آپ کو اُن سے ملنا چاہیے اور مجھے مبارک آباد بھی آپ اُن کے سامنے دیجئے گا اُن کو اچھا لگے گا۔۔۔تارا مسکراکر کہتی وہاں رُکی نہیں تھی۔۔۔
بھائی صاحب اِس کو واپس بلوچستان بھیجنے کا بندوبست کرلے آپ۔۔۔۔اصغر صاحب نے سنجیدگی سے اختر صاحب کو دیکھا
فکر نہیں کرو اِس کا پتہ تو میں جلدی کٹ کروں گا بہت اُونچی اُڑان اُڑ لی اِس نے اب پٙر کاٹنے کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔اختر صاحب پُراسرار لہجے میں بولے اُن کی آنکھوں میں ایک الگ سی شیطانی چمک تھی جس کا مطلب اصغر صاحب اچھے سے جان گئے تھے جبھی وہ بھی مطمئن ہوتے اپنے قدم اندر کی طرف بڑھا گئے تھے۔۔۔









بس کردو یار تصویروں نکالنا۔۔۔احناف اب زچ ہوا
کیوں بس کروں تمہیں پتا نہیں آج ہم ایک ماہ بعد یہاں اپنی فیورٹ جگہ آئے ہیں یادگار مومنٹس تو بنتے ہیں۔۔۔۔حیات مزے سے کہتی پوز بناکر اُس کے ساتھ تصویریں بنانے لگی تو احناف بھی ناچاہتے ہوئے اُس کا ساتھ دینے لگا۔۔۔۔
ایک منٹ ویٹ میں اسٹوری اور اسٹیٹس لگادوں،تم اپنا سیل فون بھی دینا زرا۔۔۔۔حیات مسکراکر اُس کو دیکھ کر بولی پھر اپنے سیل فون کی طرف متوجہ ہوئی
پہلے ہمیں کچھ کھانا چاہیے میں بہت ہنگری ہوں۔۔۔احناف نے کہا
تم کھانے کا آرڈر کرو میں جب تک اِن کاموں سے فارغ ہوجاؤں۔۔۔حیات مصروف لہجے میں بولی
ایز یو وِش۔۔۔۔۔احناف شانے اُچکاکر کہتا ویٹر کو اپنے پاس آنے کا اِشارہ کیا
تم نے اپنا سیل فون نہیں دیا۔۔۔حیات نے سراُٹھا کر اُس کو دیکھا
سیل فون کیوں دینا تھا؟احناف ناسمجھی سے اُس کو دیکھا
تمہاری اور تمہاری سم ون اسپیشل کی پرائیویٹ چیٹ پڑھنا تھی۔۔۔۔حیات نے بڑی سنجیدگی سے کہا
بہت بُرا جوک تھا۔۔۔احناف نے اُس کو گھورا
یار فون دو تمہارے سیل فون سے بھی اسٹوری اور اسٹیٹس لگانا ہے۔۔۔حیات بضد ہوئی
میرے فون سے الگ کیوں؟”تمہیں پتا ہے مجھے یہ سب پسند نہیں۔۔۔۔احناف نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر مسکراکر کہا
واٹ ایور یہ تم اسٹائلش مولا اب بنے ہو ورنہ تمہارے شوق بھی ہمارے جیسے ہوا کرتے تھے۔۔۔۔حیات آنکھیں گُھماکر بولی تو احناف تاسف سے اُس کو دیکھتا اپنا موبائل اُس کی طرف بڑھایا جس کو حیات نے مسکراکر تھام لیا۔۔۔
تمہارے پاس تارا کا نمبر بھی ہے؟حیات کو حیرت ہوئی
ہاں۔۔۔۔احناف نے مختصر جواب دیا
حیرت ہے۔۔۔حیات جھرجھری سی لیکر بولی
اِس میں اِتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے؟کیا تمہارے پاس اُس کا نمبر نہیں؟احناف کو اُس کا حیران ہونا سمجھ نہیں آیا
بلکل میرے پاس تو کیا ہمارے یہاں ازلان اور ارسلان کے علاوہ کسی کے پاس بھی اُس کا نمبر نہیں ہے۔۔۔حیات نے بتایا
مجھے دادا جان نے سیو کروالیا تھا خیر تمہاری اگر جاسوسی ہوگئ ہو تو وہ کرو جس کے لیے سیل فون لیا تھا۔۔۔۔احناف سرجھٹک کر بولا تو حیات نے مسکراہٹ دبائی
اوو تو فیس بُک میں بھی فرینڈ لِسٹ میں ایڈ ہے وہ حیرت ہے میں نے کبھی جانا ہی نہیں خیر تم یہ بتاؤ چیٹ ہوتی ہے تمہاری اور اُس کی؟حیات واٹس ایپ چیٹ کے بعد مسنجر میں جاکر اُس سے پوچھنے لگی
خود دیکھ لو۔۔۔۔احناف ایک نظر اُس پر ڈالتا بولا تو حیات نے واقع ایسے کیا تو اُس کو پتا چلا اُن دونوں کی آپس میں کبھی گپ شپ نہیں ہوئی تھی”ہائے ہیلو تک بھی نہیں کچھ سوچ کر حیات نے ایک چور نگاہ احناف پر ڈالی جو آس پاس کے ماحول میں نظریں پھیرا رہا تھا اُس سے نظریں ہٹانے کے بعد حیات نے جب تارا کو آنلائن دیکھا تو احناف کے موبائل سے اُس کے نمبر پر میسج چھوڑا
Hey..
میسج سینڈ ہونے کے بعد حیات اُس کے رِپلائے کا انتظار کرنے لگی اُس کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ تھی وہ بس دیکھنا چاہتی تھی کہ تارا کیا رسپانس کرتی ہے۔۔۔۔”کچھ ہی دیر میں ویٹر اُن کا آرڈر لے آیا تو احناف نے اُس کو کھانے کی طرف متوجہ ہونے کا کہا تو “حیات سراثبات میں ہلاتی احناف کا موبائل آن کیا جہاں پانچ منٹس سے زائد وقت ہوگیا تھا پر تارا نے احناف کا میسج سین نہیں کیا تھا جبکہ وہ مسلسل آنلائن تھی۔
بدتمیز۔۔۔۔حیات ناگواری سے بڑبڑاتی میسج ڈیلیٹ کیا اور احناف کی طرف متوجہ ہوئی
تمہیں پتا ہے میں نے آنلائن نکاح ڈریس سلیکٹ کرلیا ہے آرڈر بھی دے دیا ہے بس وہ کل تک ڈیلیور ہوجائے گا۔۔۔۔حیات نے کھانا کھاتے احناف کو بتایا
نکاح ڈریس تو امی نے لینا تھا۔۔۔۔اور باقی ولیمے کا ڈریس ہم نے مل کر خریدنا تھا۔۔۔احناف کو تعجب ہوا حیات کے پل میں بدلتے انداز کو دیکھ کر
ہاں پر چچی بینش نے بتایا وہ اپنی ساس کا جوڑا دے گی مجھے آئے مین احناف سیریسلی؟اِتنا پُرانہ ڈریس میں اپنے اسپیشل ڈے پر کیسے زیب تن کرسکتی ہوں؟”جو اُن کے علاوہ امی اور چچی انعم نے بھی پہنا ہوا تھا توبہ ہے مطلب اولڈ فیشن جیولری کی سمجھ آتی ہے پر جوڑا۔۔۔۔حیات کے زاویئے بگاڑ کر بولی
ایک دن کی بات تھی پہن لیتی تو امی کو اچھا لگتا۔۔۔اُس کی بات سن کر احناف نے کہا
نو وے احناف تم دادا جان کی پُرانی شیروانی پہن سکتے ہو مگر میں نہیں۔۔۔۔حیات نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے تو احناف نے مزید بحث نہیں کی۔۔۔









مجھے تم پر فخر ہورہا ہے میں نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ تمہیں بھی بزنس کی سوجھ بوجھ ہوگی۔۔۔اُسماعیل صاحب محبت پاش نظروں سے تارا کو دیکھ کر بولے تو وہ مسکرائی
آپ خوش ہیں نہ کُنٹریکٹ سائن کروا کر لائی ہوں۔۔۔تارا عقیدت سے اُن کے ہاتھ چوم کر بولی
میں تو بھئ بہت خوش ہوں”اور اختر دیکھ لیا اپنی بھانجی کا کمال ایسا کچھ تو سومل یا حیات میں سے کوئی بھی نہ کرپاتا۔۔۔۔اُسماعیل صاحب کے لہجے میں بس تارا کے لیے محبت بول رہی تھی۔
بلکل ابو کیونکہ ہماری بیٹیاں اِس جیسی نہیں اور نہ ہم نے اُن کو چُھوٹ دی ہے۔۔۔اختر صاحب طنز لہجے میں بولے
اور نہیں تو کیا۔۔۔مُنیبہ بیگم نے بھی اپنا بولنا ضروری سمجھا
تم سب
آپ ٹھیک ہے اب اگر تو میں اپنے کمرے میں جاؤں گی اور آج سے آپ کی ساری میڈیسن وقت پر میں دیا کروں گی۔۔اُسماعیل صاحب اُن سے کچھ کہنے والے تھے جب تارا درمیان میں بول اُٹھی
رات کو تمہارے گھر آنے کا وقت ہوتا ہے کوئی؟مُنیبہ بیگم پھر سے بول پڑی
آپ کی بیٹی کی شادی قریب ہے میرے خیال سے آپ کو اُس کی تیاریوں میں مصروف ہونا چاہیے”میرا کیا ہے میں یہی ہوں میری جاسوسی بعد میں بھی ہوتی رہے گی۔۔۔۔۔تارا گردن ترشی کیے اُن کو دیکھ کر بولی
اگر ایسی زبان میری بیٹی کی ہوتی تو میں گدی سے زبان کھینچ لیتا اُس کی۔۔۔اصغر صاحب غُصے سے گویا ہوئے
اچھی بات ہے۔۔”نانا آپ اپنا بہت خیال رکھنا میں تھک گئ ہوں آرام کروں گی۔۔۔۔تارا سب کو جواب دیتی اُسماعیل صاحب سے بولی تو وہ محض اپنا سراثبات میں ہلا پائے۔۔۔۔۔
آپ بھی ریسٹ کرے۔۔۔تارا اُن سے کہتی کمرے سے باہر آئی تو موبائیل چیک کرتی ایک پل کو وہ چونکی
احناف کا میسج؟تارا نے پہلی بار احناف کے نمبر سے میسج دیکھا تو اُس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا
“آنے کا انداز تو ایسے بنایا ہوا تھا جیسے پوری دُنیا کو فتح کرکے آگئ ہو۔۔۔۔”
مگر جیسے ہی اُس کو احناف کی بات یاد آئی تو اُس کا موڈ بُری طرح سے خراب ہوگیا تھا۔
غلطی سے کرگیا ہوگا۔۔۔۔سرجھٹک کر وہ خود سے بڑبڑاتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئ۔۔۔۔








ازلان تم فِری ہو؟حیات ازلان کے برابر بیٹھتی اُس سے پوچھنے لگی جو ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا نیوز دیکھنے میں مصروف تھا
ہاں میں فِری ہوں۔۔۔۔ازلان ٹی وی آف کرتا اُس کی طرف متوجہ ہوا
مارکیٹ جانا تھا مجھے تم چلو گے میرے ساتھ؟حیات نے پوچھا
احناف بزی ہے کیا؟ازلان نے پوچھا
احناف کا یہاں کیا ذکر؟حیات ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی
مارکیٹ کے چکر تم زیادہ تر اُس کے ساتھ ہی لگایا کرتی ہو تبھی پوچھا۔۔ازلان کندھے اُچکاکر بولا
یا رائٹ مگر یار اُس کی برتھ ڈے کا گفٹ لینا تھا مجھے تو وہ اُس کے ساتھ تو نہیں لی سکتی تھی۔۔۔حیات نے آرام سے وجہ بیان کی
تم ریڈی ہوجاؤ پھر چلتے ہیں۔۔۔ازلان نے بس اِتنا کہا
اوکے تھینک یو سوچ مچ میں بس دو منٹ میں اپنا بیگ لیکر آئی۔۔۔۔حیات پرجوش لہجے میں کہتی اندر کی طرف بھاگی”ازلان بھی پورچ میں آیا تو لان میں بیٹھی تارا پر اُس کی نظر گئ جس کے کان میں ایئرپوڈز تھے اور ساتھ میں وہ کافی سے لطف اندروز ہورہی تھی۔
تارا؟ازلان چیئر گھسیٹ کر اُس کے پاس بیٹھا
جی؟تارا نے اپنے کان سے ایئرپوڈ نکالے
تم احن
ازلان چلیں؟ازلان اُس سے کچھ کہنے والا تھا جب حیات لان میں آئی
تم گاڑی میں بیٹھو میں آتا ہوں۔۔۔۔ازلان اُس کو دیکھ کر بولا
ابھی کیا مسئلہ ہے؟حیات نے ایک اچٹنی نظر تارا پر ڈالی جو کبھی اُس کو تو کبھی تارا کو دیکھ رہی تھی۔
“مجھے تارا سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔ازلان نے بتایا
یہ بات تمہیں پہلے یاد نہیں تھی اب جب میرا کام تم میں پڑا ہے تو تمہیں باتیں کرنا یاد آگیا ہے۔۔۔حیات طنز انداز میں اُس کو دیکھ کر بولی
کیا بات کرنی ہے آپ نے؟تارا حیات کو دیکھتی ازلان سے بولی
مجھے کل کے بارے میں پتا چلا بس اُس کے مطلق بات کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔ازلان نے بتایا
میں سن رہی ہوں۔۔۔۔تارا نے کہا
ازلان اگر تم نے نہیں آنا تو مجھے صاف صاف بتادو۔۔۔۔حیات ضبط سے بولی
بعد میں بات ہوگی۔۔۔۔ازلان تاسف سے حیات کو دیکھتا تارا سے بولی تو اُس نے شانے اُچکائے سراثبات میں ہلایا
آؤ۔۔۔۔حیات سے کہتا خود ازلان گیٹ کی طرف بڑھا
تم مردوں کو لُبھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے مت دینا۔۔۔۔حیات اُس کو گھور کر کہتی خود بھی ازلان کے پیچھے گئ جبکہ تارا عجیب نظروں سے اُس کی پشت کو دیکھنے لگی وہ سمجھ نہیں پائی یہ اچانک”حیات کو کس چیز کا دورہ پڑگیا ہے۔۔۔”یکایک اُس کے موبائل میں بپ ہوئی تو وہ اُس کی طرف متوجہ ہوئی
“آنکھیں پیاسی ہیں دیدار کی تیرے
توں ایک بار آکر اُن کی پیاس بُجھادے”
لائیف لائن سے آنے والا میسج پڑھ کر اُس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
خیریت؟آج موڈ کافی شاعرانہ معلوم ہوتا ہے؟چہرے پر مسکراہٹ بِکھیرے تارا نے میسج سینڈ کیا
صرف تیرے تصور سے جی اُٹھتا ہوں
تُجھ سے سامنا ہوں تو جان سے جاؤں گا۔۔۔۔
جوابً میں پھر سے شعر عرض ہوا تو تارا کو اب عجیب سے فیلنگز آنے لگیں۔۔۔۔
دن میں جانے کتنی بار سامنا ہوتا ہے اگر ایسا کچھ ہے تو تم جان سے تو کبھی نہیں گئے۔۔۔۔سرجھٹک کر تارا نے میسج ٹائپ کیا جو فورن سین ہوگیا تھا
کوئی لمحہ ہو رہائی کا
کوئی دُنیا تیرے سِوا بھی ہو۔۔۔
اب کی یہ میسج پڑھ کر تارا کا پارہ ہائے ہوا تھا۔
اِنسانوں کی طرح اگر بات کرنی ہے تو کرو ورنہ میں نے بات نہیں کروں گی۔۔۔تارا نے گویا دھمکی دی
“ایک شہزادی ہے سرد مزاج کہانی میں
ایک شہزادہ ہے جو دل سے اُس پہ مرتا ہے”
میسج جگمگایا تو تارا نے گہری سانس لی مگر اِس بار واقعی میں اُس نے کوئی رسپانس نہیں کیا۔”مگر بار بار بپ ہونے پر اُس نے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر میسج کھولا جہاں اِس بار یہ تھا۔۔۔
سُنو۔۔۔
سُناؤ۔۔۔تارا نے مسیج سینڈ کیا اور اُس کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔۔
I love You.
مسیج پڑھ کر تارا بے ساختہ مسکرائی
آج مجھ پر کچھ زیادہ پیار نہیں آرہا؟تارا نے پوچھ لیا
“تمہیں تو جب بھی دیکھوں پیار آتا ہے۔۔۔جواب فورن حاضر ہوا تھا
ریئلی؟تارا موبائیل اسکرین کو بس دیکھتی رہی
بلکل۔۔۔۔اُس کی طرف سے اُس کی چاہ مطابق جواب آیا تھا۔۔۔









مجھے مارکیٹ جانا ہے ہوسپٹل نہیں۔۔۔۔حیات نے سنجیدگی سے ایک ہاتھ سے ڈرائیونگ اور دوسرے ہاتھ سے موبائیل یوز کرتے ازلان کو دیکھ کر کہا
وہی جانے والے ہیں۔۔۔۔ازلان نے جوابً کہا
تو فون میں کیوں لگے ہوئے ہو؟حیات نے پوچھا
“بس یہ ای میلز امپورٹنٹ تھیں سینڈ کرنا۔۔۔۔ازلان اُس کو جواب دیتا اپنا سیل فون ڈیش بورڈ پر رکھا
تم احناف کو کیا گفٹ دینے والے ہو؟حیات نے اشتیاق سے پوچھا
احناف کو بچہ نہیں جس کو ہر سال سالگرہ پر تُحفہ دیا جائے اگر چچی نے پارٹی آرگنائز کی ہے تو بس اُس کو اٹینڈ کرینگے۔۔۔۔ازلان نے سنجیدگی سے جواب دیا
سیریسلی ازلان؟ حیات کو اُس کی بات ہضم نہیں ہوئی
گھڑی گفٹ کروں گا میں اُس کو۔۔۔۔ازلان نے بلآخر بتایا
خرید لی ہے؟حیات نے نیا سوال داغا
کل تک خرید لوں گا۔۔۔ازلان نے کہا تو حیات نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی









تارا تم یہاں بیٹھی ہو کیا تم نہیں جاؤ گی ساتھ؟اگلے روز انعم بیگم نے تارا کو اپنے رف حُلیے میں ہال میں لیپ ٹاپ گود میں لیے بیٹھا پایا تو سوال کیا
آپ لوگ کہاں جانے والے ہیں؟تارا نے سب کی تیاریوں کو دیکھ کر پوچھا
تارا کس دُنیا میں رہتی ہو بیٹا آج احناف کی برتھ ڈے ہے ینگ جنریشن وہی جانے میں لگی ہوئی ہے”اُٹھو اور تم بھی تیار ہوجاؤ۔۔۔۔انعم بیگم اُس کے ریشمی بال سنوار کر بولی
میں میسج پر وِش کرلوں گی اُس کو۔۔۔تارا نے بس اِتنا کہا
ساتھ چلتی تو اچھا تھا۔۔۔ارسلان اُس کے کچھ فاصلے پر بیٹھا
مجھے ضروری کام ہے۔۔۔۔تارا نے بہانا بنایا
کونسا کام؟فضا اُس کی طرف سائیڈ پر بیٹھی
آج پھر کوئی اور شوٹ ہوگا۔۔۔۔مومل نے اندازہ لگایا”تارا بس باری باری اُن کو دیکھتی وہاں سے اُٹھ گئ

Happy birthday darling.
حیات احناف سے ملتی شوخ لہجے میں بولی
Thank you.
احناف اُس کو گھور کر شکریہ ادا کرنے لگا
کیسی لگ رہی ہوں میں؟حیات نے اپنی طرف اُس کو متوجہ کیا
بیوٹیفل۔۔۔۔احناف مسکراکر اُس کو دیکھ کر بولا جو اسکن کلر کے گھٹنوں تک آتے فراق اور پاجامے میں ملبوس تھی ڈوپٹہ ایک کندھے پر ڈالا ہوا اور بالوں کو کُھلا چھوڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔”جس سے وہ واقعی میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔
تارا کو ساتھ نہیں لائے؟بینش بیگم کو تارا نظر نہیں آئی تو پوچھا تو احناف کی توجہ بھی وہاں گئ تارا کی طرف
اُس کو ضروری کام تھا۔۔۔۔حیات نے بتایا
کزن کی سالگرہ تھی آجاتی تو اچھا تھا۔۔۔۔بینش بیگم گہری سانس بھر کر بولی تو حیات کو اُن کی بات پسند نہیں آئی
تمہارا گِفٹ ۔۔۔۔حیات نے کچھ دیر بعد ایک بڑا سا پیکٹ اُس کی طرف بڑھایا
تھینک یو مگر اِس میں کیا ہے؟احناف نے ہنس کر پوچھا
ہے بس کیک کٹ ہونے کے بعد خود سے دیکھ لینا۔۔۔حیات نے شانے اُچکاکر کہا
تار آگئ۔۔۔
اچانک کسی نے اُونچی آواز میں کہا تو احناف نے چونک کر داخلی دروازے کی جانب دیکھا جہاں فُل بلیک ڈریس میں ملبوس تارا آہستہ آہستہ قدم اُٹھا کر داخل ہورہی تھی اُس کو آتا دیکھ کر ہر کوئی حیران ہوا تھا۔
