Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain NovelR50557 Kia Hoi Hai Khata (Episode 07)
Rate this Novel
Kia Hoi Hai Khata (Episode 07)
Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain
میں تارا کا نیو فرینڈ ہوں۔۔۔۔اسجد نے بتایا تو احناف کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے تھے اور تارا کے ہاتھ پر اُس کی گرفت مزید مضبوط ہوئی تھی”جس پر وہ سی کرتی رہ گئ۔۔۔۔
نین یہ کیا بکواس کررہا ہے۔۔۔اسجد کو غُصے سے دیکھتا وہ اُس سے پوچھنے لگا
آپ۔ہاتھ۔۔چھوڑے۔۔۔تارا کو بس ابھی اپنے ہاتھ کی پڑی تھی جو احناف کی بے رحم گرفت کے رحم وکرم پر تھا۔۔۔
رلیکس احناف جانی اور اُس بیچاری کا ہاتھ چھوڑو میں بس نین تارا سے ایک بات کرنے آیا تھا۔۔۔تارا کی نم ہوتی آنکھیں دیکھ کر اسجد نے معاملہ رفع دفع کرنا چاہا جس پر احناف بنا اُس کو جواب دیئے کوئی تارا کو کیفٹیریا لایا
آپ بہت بُرے ہو اور جھوٹے بھی۔۔۔تارا نے غُصے سے اُس کو دیکھا تو اُس کے کیوٹ ایکسپریشن دیکھ کر احناف ناچاہتے ہوئے بھی مسکرایا
دوبارہ تم کسی سے بات نہ کرنا۔۔۔احناف نے کہا
کیوں؟
آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر پابندیاں لگانے والے؟”میری مرضی میں جو چاہے کروں”جس سے چاہوں بات کروں آپ کو اُس میں نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔اپنے ہاتھ پر سرخ نشان دیکھ کر تارا کا دل بھر آیا
میں تمہارا کزن ہوں نین اور میں جو بھی کرتا ہوں تمہاری بھلائی کے لیے کرتا ہوں اور تم اُلٹا مجھ سے خفا ہوجاتی ہو۔۔۔احناف کو تارا کی بات پسند نہیں آئی تبھی خفگی بھرے لہجے میں اُس سے گویا ہوا
آپ حیات سومل مومل اِن میں سے کسی پر پابندی کیوں نہیں لگاتے؟بس ہر وقت مجھے روکتے ٹوکتے ہیں حیات اپنے کلاس کے سب لڑکوں سے بات کرتی ہے سومل کی بھی اپنی کلاس فیلوز سے فرینڈشپ ہے”اور مومل تو فٹبال گیم بھی کھیلتی ہے لڑکوں سے اُن کو تو کبھی آپ نے آنکھیں نہیں دیکھائی یہ؟میں اکیلی ہوں تو بلاوجہ روعب جھاڑنے آجاتے ہو میں نانا جان سے اب آپ کی شکایت کروں گی”آپ کی وجہ سے کوئی بھی مجھ سے دوستی نہیں کرتا۔۔۔۔تارا جو ہمیشہ خاموش رہتی تھی آج تنگ آکر بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئ جس کو سُن کر احناف شد سا رہ گیا اُس کو اندازہ نہیں تھا کہ تارا اِس قدر اُس سے بدگمان بھی ہوسکتی ہے۔۔۔
نین کیا ہوگیا ہے یار میں نہیں چاہتا تم کسی کی باتوں میں آؤ “حیات سومل اور مومل کی بات الگ ہے یار وہ سب تم سے بڑی ہیں عمر میں اور سمجھدار بھی جبکہ اُن کے برعکس تم میں اِتنی عقل نہیں ہے تم معصوم ہو اور میں نہیں چاہتا کوئی تمہاری معصومیت کا غلط فائدہ اُٹھائے۔۔۔احناف نے اِس بار رسانیت سے اُس کو سمجھانے کی خاطر کہا
احناف میں بچی نہیں ہوں۔۔۔۔تارا جیسے زچ ہوئی تھی مگر آج پہلی بار اُس کے منہ اپنا نام سُن کر احناف کو انجانی سی خوشی اور انجانا سا احساس شدت سے ہوا تھا مگر پھر نظر جب چھوٹی سی تارا پھر اپنی سوچ پر گئ تو خود پر ہزار بار ملامت کرکے اُس نے اپنا سر ہر بُری سوچ سے آزاد کیا
بچوں والا انداز تو ہے نہ تمہارا چہرہ دیکھو اپنا کیسے بنایا ہوا ہے اور اِن سب باتوں کو اگنور کرو اور بتاؤ تم مجھے کونسی بات بتانے والی تھی؟احناف نے مسکراکر اُس کو دیکھ کر پوچھا
وہ میں
احناف تم یہاں ہو چلو باسکٹ بال کھیلتے ہیں۔۔۔تارا اُس کو کچھ بتانے والی تھی جب حیات وہاں آکر بولی
میرا موڈ نہیں تم لوگ کِھیلو۔۔۔احناف نے انکار کیا
تمہارے موڈ کی ایسی کی تیسی اُٹھو اور چلو ورنہ میں نے ہمیشہ کے لیے ناراض ہوجانا ہے۔۔۔حیات نے اُس کا بازوں پکڑ کر زبردستی اُٹھانے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئی
اچھا یار رُکو میں چلتا ہوں۔۔۔احناف نے آخر مان لیا
گُڈ بوائے۔۔۔حیات چہکی
نین تم بھی آؤ۔۔۔احناف نے تارا کو دیکھ کر کہا
میں یہی ٹھیک ہوں۔۔۔تارا بنا اُس کو دیکھ کر بولی
کبھی اپنے اِس خول سے باہر بھی آجایا کرو اور عمر کتنی ہے اور انداز دیکھو بزرگوں والا ہے۔۔۔اُس کا ہمیشہ والا انکار سُن کر حیات زچ ہوتی بولی
مجھے پسند نہیں یہ سب۔۔۔۔تارا نے کہا
کالج میں ہر اسٹوڈنٹ ہر ایکٹویٹی میں پارٹ لیتا ہے مگر تم نہیں لیتی لو ورنہ بعد میں پچھتاؤ گی۔۔۔حیات نے کہا
نہیں۔۔۔۔تارا کا وہی انداز
مرو پھر یہاں اور تم چلو۔۔۔حیات اُس کو وہی چھوڑتی احناف کو اپنے ساتھ لے جانے لگی۔۔
میں ایک بار نین سے کہتا ہوں۔۔۔گراؤنڈ واپس جانے سے پہلے احناف اچانک رُک کر حیات سے بولا
اففففف اللہ”میرے خیال سے امی ٹھیک کہتی ہیں مجھے واقع تمہیں تارا سے دور رکھنا چاہیے یار جب سے وہ آئی ہے تم ہم باقی کزنز کو اگنور کرنے لگے ہو بس اُس کی جی حضوری میں لگے ہوئے ہو وہ بڑی ہے کوئی چھوٹی کاکی نہیں اِس لیے تم اُس کے ابا مت بنا کرو میں تمہاری بیسٹ فرینڈ ہوا کرتی تھی مگر اب لگ رہا ہے جیسے تمہیں ہماری دوستی بھولنے لگی ہے۔۔۔حیات سخت خائف ہوتی بولی تو احناف نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا
تم حیات ہو اور وہ نین تارا ہے میرے لیے تم دونوں کزنز برابر ہو۔۔۔۔احناف نے سنجیدگی سے کہا
نو نو احناف میں اُس سے زیادہ تمہاری لیے ضروری ہونی میں چاہیے”ہم بچپن سے ایک ساتھ ہیں اور وہ تارا اُس کو ہماری زندگی میں آئے چند ماہ ہوئے ہیں تم ہم دونوں کو ایک جتنے مارکس نہیں دے سکتے تمہارے لیے پہلے میری بات کا ماننا لازمی ہونا چاہیے اُس کے بعد تارا کی۔۔۔حیات دو ٹوک انداز اپنائے بولی
ٹھیک ہے جیسا تم کہو۔۔۔۔احناف نے ہار مان لی ویسے بھی اِس وقت وہ بحث کے موڈ میں نہیں تھا
اچھا ایک بات بتاؤ جتنی کیئر تم تارا کی کرتے ہو وقت آنے پر میری بھی کروگے نہ؟یا بس یہ نوازشات تارا کے لیے ہیں؟حیات نے کھڑے کھڑے ہی پوچھا
افکورس تمہاری بھی کروں گا”اور میرا تارا کی کیئر کرنے کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ میں نہیں چاہتا وہ اکیلا فیل کرے اگر وہ خود کو اکیلا فیل کرے گی تو مایوس ہوجائے گی پھر اُس کو مایوس دیکھ کر دادا جان رنجیدہ ہوجائے گے جو میں نہیں چاہتا اِس لیے میں چاہتا ہوں”تارا نارمل لائیف گُزارے۔۔۔احناف نے کہا تو حیات مسکرائی
میں جانتی تھی یہی وجہ ہوگی کیونکہ بچپن سے ہی تم ایک ہمدرد انسان ہو۔۔۔حیات اُس کے گال کھینچ کر بولی
ہممم وہ جب ہماری طرح نارمل ایکٹ کرے گی تو میں اُس کو تنگ نہیں کروں گا اور نہ یوں اُس پر روک ٹوک کروں گا کوئی”میں بس دادا جان کو پریشان نہیں دیکھ سکتا نین کی وجہ سے۔۔۔احناف نے ہنکارہ بھر کر کہا تو حیات نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی تھی مگر اُس کے الفاظ تارا نے بھی سُنے تھے جو اپنی کلاس کی طرف جانے والی تھی”اُن دونوں کا اپنے بارے میں ایسی رائے اور باتیں سُن کر تارا کو جو احناف پہلے سب سے الگ لگتا تھا اب باقیوں کی طرح لگا تھا”اُس کو سخت چڑ تھی”ہمدرد”لفظ سے اور اُس کو غُصہ بھی آیا تھا جس کو ضبط کرتی وہ ایک آخری نظر اُن دونوں پہ ڈالے وہاں سے چلی گئ اُس نے سوچ لیا تھا اِتنا کچھ سُن لینے کے بعد وہ اب کبھی احناف سے بات نہیں کرے گی”اُس کے پاس مخلص پیار کرنے والا اُس کا نانا تھا اور اُس کو کوئی ضرورت نہیں تھی کسی کی بھی ہمدردی بٹورنے کی۔۔۔








حال۔۔۔
کُنٹریکٹ سائن ہوجائے پھر؟ایک بڑی کمپنی کا ایڈمن صدام تارا کو دیکھ کر بولا
کُنٹریکٹ سائن کرنے سے پہلے میں ایک بار کوسٹیوم دیکھنا چاہوں گی۔۔۔تارا نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
وہ ابھی پوری طرح سے ریڈی نہیں ہوا آپ تب تک تصویریں دیکھے۔۔۔صدام نے لیپ ٹاپ کی اسکرین اُس کی طرف کی تو تارا اُس کی طرف متوجہ ہوئی
اِس ڈریس میں کوئی حجاب وغیرہ نہیں؟تارا نے لیپ ٹاپ سے نظریں اُٹھائے اُس کو دیکھ کر پوچھا
حجاب کُونٹیکٹ نہیں ہے”آپ جانتی ہیں یہ بات ہمارے پاس کلاسیکل کپڑے ہوتے ہیں جن کی ہم
آپ کو بھی پتا ہونا چاہیے میں ایسے کلاسیکل کپڑے ویئر نہیں کرتی کسی کی بھی شوٹ پر۔۔۔۔تارا اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی
مس تارا مسئلہ کیا ہے یہ برینڈڈ کپڑے ہیں جس کو پہننے کے بعد آپ کو بھی فائدہ ہوگا۔۔اور پیمنٹ بھی تو ہم آپ کو آپ کی مرضی سے دینگے۔۔صدام نے کہا
ٹاپ چیک کرے آپ اور اسکرٹ بھی دیکھو۔۔ٹاپ سلیولیس ٹھیک ہے مگر ڈیپ گلا “بیک لیس ٹاپ میں پہن کر کیمرہ کے آگے کھڑی نہیں ہوسکتی۔۔۔تارا نے سنجیدگی سے کہا
آپ کسی سے مشورہ لے ٹھنڈے دماغ سے سوچے اُس کے بعد آپ کوئی فیصلہ لے کیونکہ یہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے سال کا سب سے بڑا آپ کو یہ چانس گنوانا نہیں چاہیے۔۔۔”اِس پروجیکٹ کے بعد ماڈلز کی آفرز آپ کو دوسرے ممالک سے بھی ہوسکتی ہے۔۔۔صدام نے کہا تو تارا گہری سوچ میں ڈوب گئ
ٹھیک ہے میں کل تک آپ کو جواب دوں گی۔۔۔کچھ سوچ کر تارا نے کہا
شیور۔۔۔صدام نے اُس کی بات سن کر سراثبات میں ہلایا









جلدی کرو لیٹ ہورہا ہے آپ لوگوں کو شاپنگ پہ چھوڑنے کے بعد مجھے بہت ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔ازلان ہال میں کھڑا اُونچی آواز میں بولا جہاں بھاگم بھاگ لگی ہوئی تھی۔
آتے ہیں صبر کرو تم۔۔۔انعم بیگم اپنا بیگ سنبھالیں ازلان سے بولیں
حیات تم بھی آجاؤ کیا اپنی منگنی کا جوڑا نہیں لینا تمہیں؟منیبہ بھی ہال میں آتی حیات کو آواز دیتی ہوئیں بولی
اُس نے کہا تھا آنلائن شاپنگ کرے گی۔۔انعم بیگم نے بتایا
سچ پوچھو تو میرا دل بلکل بھی نہیں چاہ رہا کل کا فنکشن اٹینڈ کرنے کو ابو نے اچھا نہیں کیا ہم سے یہ بات چُھپاکر مگر میں بس یہ سوچ رہی ہوں کہ گھر کی بات گھر میں رہے باہر نہ جائے۔۔۔مُنیبہ بیگم منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی
چچی دادا جان نے کوئی بات چُھپائی تو نہیں ہے۔۔ازلان بولے بغیر نہ رہ پایا
رہنے دو تم بیٹا یہ بات ہمیں کسی اور سے پتا چلی ہے۔۔۔منیبہ بیگم گھر میں داخل ہوتی تارا کو دیکھ کر بولی
السلام علیکم چچی جان اور ازلان۔۔۔تارا اُن دونوں کو سلام کرتی صوفے پہ بیٹھ گئ۔
چچی اور ازلان کے علاوہ بھی کوئی موجود تھا۔۔مُنیبہ بیگم نے چُھبتے لہجے میں کہا
اچھا کون؟تارا حیرت کا مُظاہرہ کرتی آس پاس دیکھنے لگی.جیسے واقع کوئی اُس کو نظر نہیں آرہا تھا مگر منیبہ بیگم تو کلس کر رہ گئ تھیں۔
آپ لوگوں کے ساتھ میں بھی آؤں گی۔۔حیات جلدی سے سومل کے ساتھ آتی اُن سے بولی
پوری فوج تیار کرنی ہے یا کچھ اور کرنا ہے مگر جو بھی کرنا ہے پلیز جلدی کریں۔۔ازلان کوفت سے بولا وہ تنگ آگیا تھا۔۔۔۔
تارا اُٹھو تم بھی ہمارے ساتھ آؤ۔۔انعم بیگم نے اپنا سر دائیں بائیں ہلاتی تارا سے بولی
میرے پاس آلریڈی کپڑے ہیں آپ لوگ جائے۔۔۔تارا نے سہولت سے انکار کیا
جانتی ہوں تمہارا اپنا ڈیزائنر ہے مگر کبھی ہمیں بھی وقت دے دیا کرو اُٹھو شاباش۔۔۔انعم بیگم نے اُس کو آنکھیں دیکھائی تو اُن کے بار بار کہنے پر اِس بار وہ انکار نہیں کرپائی
کپڑے اپنے چینج کرلینا اور اپنا چہرہ بھی ڈہانپ لینا۔۔۔”ورنہ خوامخواہ کا رش لگ جائے۔۔۔۔اُس کو اُٹھتا دیکھ کر ازلان نے سنجیدگی سے کہا
تمہیں تو دیر ہورہی تھی۔۔۔حیات نے طنز کیا
ہٹ پہن لوں گی میں۔۔تارا نے سنجیدگی سے بس اِتنا کہا
چلیں پھر۔۔۔۔ازلان اِتنا کہتا باہر کی طرف بڑھا تو سب لوگ باری باری اُس کے پیچھے ساتھ نکلنے لگے۔۔۔۔









تم نے کہی اور جاب کے لیے اپلائے کیا ہے؟احناف لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا جب الطاف صاحب اُس کے سر پہ کھڑے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگے تو چائے سرو کرتی بینش بیگم چونکی یہی حال سلطان کا بھی تھا
جی کچھ ماہ پہلے ایک بہت بڑی کمپنی میں اپلائے کیا تھا اور اب رسپانس مل گیا ہے”کل سے جوائننگ ہے۔۔۔۔احناف نے سنجیدگی سے بتایا
برخودار یہاں لاہور میں سلطان جتوئی انڈسٹری کے علاوہ کوئی اور بڑی کمپنی نہیں ہے اور تمہیں کس چیز کی کمی تھی جو تم اپنی کمپنی میں موجود بڑی پوسٹ کو چھوڑ کر دو ٹکے کی جاب کرنے کی ضرورت پڑگئ؟سلطان صاحب نے ناگوار لہجے میں کہا تو احناف نے گہری سانس خارج کرکے لیپ ٹاپ کی اسکرین کو بند کیا اور پوری طرح سے اُن کی جانب متوجہ ہوا
وہ آپ کی کمپنی ہے ڈیڈ ہے جس کو آپ نے کھڑا کیا ہے اور میں اپنے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں”بغیر آپ کی کسی سپورٹ کے”آپ بھی تو یہی چاہتے تھے نہ پھر اِس بار بھی آپ کو اعتراض کیوں ہے؟احناف نے سنجیدگی سے اُن کو دیکھ کر پوچھا
میں کچھ نہیں جانتا تم کہی اور جاب نہیں کرو گے”تم احناف الطاف جتوئی ہو میرے بیٹے اور میرا بیٹا کسی اور جگہ جاب نہیں کرے گا”تم بس مجھے نام بتاؤ اُس شخصیت کا جس نے تمہیں یہ پٹی پڑھائی ہے۔۔۔الطاف صاحب نے نخوت سے کہا
میں جاب کروں گا ڈیڈ بہت اچھی اپرچونیٹی ہے جس کو میں گنوا نہیں سکتا۔۔احناف نے بس اِتنا کہا جبکہ اُن کی آخری بات وہ سِرے سے نظرانداز کرگیا تھا
احناف باپ کے سامنے ضد کیوں کررہے ہو؟بینش بیگم نے بات بگڑتی دیکھی تو مُداخلت کی
ہاں امی ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔سلطان نے بھی کہا
ڈیڈ ہمیشہ آپ مجھ سے یہ کہتے آتے ہیں کہ آپ کے بغیر میں کچھ نہیں میری کوئی اوقات نہیں تو بس آپ یوں سمجھ لے کہ میں اپنی اوقات بنانا چاہتا ہوں آپ کے نام کے بغیر”اِس لیے میں چاہتا ہوں کوئی درمیان میں نہ آئے۔۔۔احناف الطاف صاحب کو دیکھ کر بولا
باپ سے مقابلہ کرنے کا سوچ رہے ہو؟الطاف صاحب کا لہجہ چُھبتا ہوا تھا
اِتنا گُستاخ نہیں ہوں میں بس خود سے کچھ کرنا چاہتا ہوں”تاکہ چار لوگوں میں اگر بیٹھو تو کوئی یہ نہ کہے کہ اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر اِس لڑکے نے اپنے باپ کا بزنس جوائن کیا تھا۔۔۔احناف اُن کی آنکھوں میں دیکھ کر اٹل لہجے میں کہا
غلط کررہے ہو۔۔الطاف صاحب نے اُس کو باز رکھنا چاہا
غلطی سے اِنسان بہت کچھ سیکھتا ہے اِس لیے اگر یہ غلط ہے تو بھی آپ مجھے یہ کرنے دے”آپ کو اندازہ نہیں اسٹارٹنگ میں ہی مجھے ایک بہت بڑا پراجکیٹ ملا ہے۔۔۔احناف نے کہا
اچانک تمہیں جاب کی کیا سوجھی ہے؟سلطان نے اِس بار پوچھا
اچانک نہیں بہت پہلے سوچا تھا مگر کسی اچھی کمپنی سے رسپانس نہیں مل رہا تھا مگر اللہ کا شکر ہے اِس بار مل گیا۔۔۔احناف نے بتایا
یعنی ہماری کمپنی سے تم قطعیً تعلق ہورہے ہو؟الطاف صاحب نے پوچھا
جی کیونکہ میں اپنا خود کا نام اپنے بُل بوتے سے بنانا چاہتا ہوں۔۔۔احناف نے جواب دیا
یہ لگژری زندگی چھوڑنا آسان نہیں احناف اِس لیے ابھی سے تھم جاؤ”وگرنہ میں تمہیں دی ہوئی ہر آسائش کو تم سے چھین لوں گا لاپرواہ ہوجاؤں گا تم سے تمہارا اکاؤنٹ تک بند کردوں گا جس میں ہر ماہ پئسے ٹرانسفر ہوتے ہیں۔۔۔الطاف صاحب نے ایک اور کوشش کی اُس کو سمجھانے کی
میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔۔۔۔احناف اپنی جگہ بضد تھا
حیات کو پتا ہے یہ بات؟بینش بیگم گہری سانس بھر کر بولی
نہیں سوچا اُس کو سرپرائز دوں گا۔۔۔۔احناف نے بتایا
سرپرائز کم شاک زیادہ ہوگا اگر تم کنگلے ہوگے تو وہ تمہیں دیکھے گی بھی نہیں۔۔۔الطاف صاحب کا انداز خاصا تضحیک آمیز تھا
میں اپنی بیوی کو جس حال میں رکھوں گا وہ اُس میں خوش رہے گی۔۔احناف نے پُریقین لہجے میں کہا تو الطاف صاحب اُس کو دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔









Do you have in a bigger size?
ایک سبز رنگ کی پارٹی ڈریس ہاتھ میں لیے تارا نے سامنے کھڑے لڑکے سے پوچھا تو حیات جو بے دلی سے آس پاس ٹنگے کپڑے دیکھ رہی تھی اُس کی نظر بھی اُس ڈریس پہ ٹھیر گئ تھی جو بہت خوبصورت تھا اور کافی مہنگا بھی لگ رہا تھا مگر تھا وہ شارٹ گُھٹنوں تک
جی میم ہے۔۔لڑکے نے بتایا
شو می۔۔۔تارا نے کہا
شیور۔۔وہ جوابً بولا
Do you have this in another colour.
حیات وہ ڈریس چھیننے والے انداز میں تارا کے ہاتھ سے لیا اور بولنے کا انداز اپنا تارا جیسا بنایا تھا تو تارا کے چہرے پہ ناگواریت بھرے تاثرات اُبھرے مگر وہ خاموش رہی کیونکہ وہ پبلک پلیس پہ کوئی تماشا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
یس میم۔۔۔وہ حیات کو دیکھ کر بولا
شو می اِن ریڈ کلر۔۔۔۔حیات نے مسکراکر کہا
مجھے سیم ایسا چاہیے مگر سائز الگ ہو۔۔۔تارا نے مکمل طور پر حیات کو نظرانداز کیا تھا۔
حیات تمہیں کوئی ڈریس پسند آیا ہم نے ڈیسائیڈ کیا تھا کہ ہمارا تھیم کوڈ ایک جیسا ہوگا۔۔۔سومل اور مومل بھی وہاں آئی
ہاں یہ دیکھو۔۔۔حیات زچ کرتی نظروں سے تارا کو دیکھ کر اُن کو ڈریس دیکھانے لگی
یہ تو نائٹی ہے۔۔مومل کی زبان پھسلی تو تارا طنز مسکرائی
میم یہ نائٹی نہیں ہے پارٹی ڈریس ہے اور پارٹی ڈریس اب ایسا ہی ہوتا ہے”اور اِنہوں نے ہمیں پارٹی ڈریس دِکھانے کا کہا تھا۔۔۔وہ لڑکا مومل سے کہتا آخر میں تارا کی طرف اِشارہ کیا حیات اور سومل نے مومل کو گھورا جس نے خود کے ساتھ ساتھ اُن کو بھی شرمندہ کروایا تھا۔
ہمیں پتا ہے اِس کا سائیز چھوٹا تھا جبھی اِس نے کہا۔۔سومل نے اُس لڑکے کو گھورا جبکہ مطلوبہ ڈریس ملتے ہی تارا ڈریسنگ روم کی چلی گئ۔۔۔
“حیات اِس ڈریس کے ساتھ تو کوئی ڈوپٹہ نہیں پتا نہیں کل ڈیڈ والے پہننے دے بھی یا نہیں ہمیں کوئی اور لینا چاہیے۔۔۔”تارا کے جانے کے بعد مومل آہستہ آواز میں حیات سے بولی
یہ تارا بغیر ڈوپٹے کے ٹی وی اسکرین پر آتی ہے اور کیا ہم اپنے گھر کے فنکشن میں آزادی سے گھوم نہیں سکتے۔۔۔حیات غُصے سے بولی
تارا کی بات الگ ہے وہ تو لاوارث ہے کوئی اُس کو روکنے ٹوکنے والا نہیں مگر ہمارے پاس ہمارے والدین ہیں۔۔۔”جن کو شاید پسند نہ آئے ہم تارا کی طرح خودمختار نہیں۔۔۔سومل کو مومل کی بات سہی لگی۔۔
ہم یہی ڈریس پہنے گے”وہ لاوارث ہوکر خودمختار ہوسکتی ہے تو میں بھی حیات ہوں اپنی مرضی کی مالک۔۔حیات اٹل انداز میں بولی
وہ لاوارث ہی سہی مگر اخلاق والی ہے مگر تم تینوں اُس کو نیچا دیکھانے کے چکر میں ہمیشہ خود نیچے گِرجاتی ہو۔۔۔اچانک ازلان کی آواز پر وہ بُری طرح سے سٹپٹائی
آگیا تارا باجی کا حمایتی۔۔۔حیات طنز ہوئی
بھائی تو ہمارا ہے مگر آفرین ہے جو کبھی ہماری طرفداری بھی کی ہو۔۔۔سومل نے بھی تاسف سے ازلان کو دیکھا
طرفداری کرنے والا کوئی کام بھی کرلیا کرو پھر۔۔۔ازلان نے افسوس سے اُس کو دیکھ کر کہا
میرے خیال سے تمہیں کہی جانا تھا تو جاؤ نہ آنے سے پہلے تو بڑی جلدی مچائی ہوئی تھی۔۔حیات کوفت سے اُس کو دیکھ کر بولی
میں تو جارہا ہوں مگر تم لوگ سنبھل جاؤ اور میں یہ کارڈز دینے آیا تھا جس کے بغیر تم لوگ شاپنگ کرنے میں مصروف تھیں۔۔۔ازلان دو کارڈز ایک حیات اور دوسرا سومل کی طرف بڑھائے بولا تو وہ اچھی خاصی شرمندہ ہوئی تھیں۔۔۔”دوسری طرف تارا جیسے ہی ڈریسنگ روم میں داخل ہوئی تو اُس کی نظر سامنے مردانہ پشت پر گئ اُس کو لگا شاید وہ غلط جگہ چلی آئی ہے تبھی واپس جانے کے لیے وہ جیسے ہی پلٹی تو وہ جو کوئی بھی تھا اُس نے تارا کا بازو اپنی آہنی گرفت میں لیے اُس کا رخ اپنی جانب کیا تو اِس اچانک ہوتی افتاد پر تارا بوکھلائی جبھی بنا سوچے سمجھے اُس نے سامنے والے کو تھپڑ مارنا چاہا پر اُس نے درمیان میں روک لیا اور اُس کے کان کے پاس جُھک کر سرگوشی نما آواز میں بولا
اِٹس می رلیکس۔۔۔۔
جانی پہچانی آواز سن کر ایک ٹھوکا تارا نے اُس کی پسلی پر مارا تو وہ تڑپ اُٹھا جبکہ تارا مسکراہٹ ضبط کرتی اُس کے چہرے سے ہٹ اُتارنے لگی
یہ کیا تھا۔۔۔وہ اُس کو گھور کر بولا
میں ڈر گئ تھی۔۔۔ڈریس ایک جانب کرکے تارا نے بتایا
نظر آرہا ہے کتنا ڈر گئ تھی تم۔۔وہ طنز بولا
یہاں کیا کررہے ہو تم اگر کوئی آگیا تو۔۔تارا نے اُس سے پوچھا
تمہاری یاد آرہی تھی تو آگیا۔۔۔وہ دلکش مسکراہٹ چہرے پہ سجائے اُس کو اپنے روبرو کھڑا کیے بولا
میرے یہاں ہونے کا تمہیں کس نے بتایا؟اور یہ بھی کہ میں ڈریس دیکھنے کے لیے یہاں آؤں گی؟تارا نے پوچھا
میرے دل نے بتایا۔۔۔وہ آرام سے بولا
اچھا اب جاؤ مجھے چینج کرنا ہے۔۔۔”اور یہ دیکھو پیارا ہے نہ؟کل میں یہ پہنوں گی۔۔۔تم آؤ گے نہ؟تارا نے ڈریس اُس کو دیکھایا
بہت بُرا ہے۔۔۔اُس نے بُری شکل بنائی
ریٹ دیکھو۔۔۔”کتنا ایکسپینسو ہے۔۔۔تارا نے اُس کو گھورا
ایکسپینسو تب ہوگا جب تب یہ پہنو گی۔۔اُس نے تھوڑا پیچھے ہوکر ایک ڈریس اُس کی طرف کیا تو تارا کا منہ بن گیا۔۔
نیلا؟گول گلے والی نیلے رنگ کی میکسی دیکھ کر تارا کا بُرا منہ گیا تھا
تمہاری آنکھوں کا۔۔۔وہ اُس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا
تمہیں کیوں عشق ہے اِس نیلے رنگ سے؟میں نہیں پہننے والی۔۔۔تارا نے صاف صاف انکار کیا
تم یہی پہنو گی اور اپنے اِس بالوں کی لٹ کو نیلا رنگ لگاؤں گی۔۔۔وہ اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر حکم سُنا رہا تھا۔
اچھا مذاق تھا۔۔۔تارا نے اُس کو خود سے دور کیا
یہ مذاق نہیں تھا میں سیریس ہوں۔۔تمہیں نہیں پتا نیلے رنگ میں پوری آفت لگتی ہو اور میں چاہتا ہوں میرے لیے تم ہمیشہ نیلا رنگ پہنو۔۔۔وہ جذب کے عالم میں اُس کو دیکھ کر بولا
تمہارا بس نہیں چلتا ورنہ میرے چہرے پر بھی نیلا رنگ لگادیتے۔۔وہ سرجھٹک کر بولی تو وہ ہنس پڑا
اب ایسا بھی نہ کہ میں تمہارا چہرہ نیلا کرو اپنی محبت دِکھاکر شرم وحیا سے سرخ کرسکتا ہوں مگر نیلا نہیں۔۔۔وہ مسکراہٹ دبائے بولا تو اُس کی نظروں کی آنچ سے تارا کو اپنے گال تپتے محسوس ہوئے
میری کزنز بھی ساری یہاں ہیں تم جاؤ اگر کسی نے دیکھ لیا تو مسئلہ ہوجائے گا ۔۔تارا نے اُس کو باہر نکالنا چاہا
میں باہر جاؤں گا تو تمہیں دیکھوں گا کیسے؟وہ سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
کل دیکھ لینا ابھی جاؤ۔۔تارا نے اُس کو باہر کی طرف زبردستی کرنا چاہا
نہیں میں پیٹھ کرکے کھڑا ہوجاتا ہوں تم جلدی سے چینج کر میں پھر تمہیں دیکھ کر چلا جاؤں گا۔۔۔وہ بھی اپنے نام کا شاید ایک تھا ڈھیٹ
جاؤ ۔۔۔تارا نے دانت پیس کر کہا
نو۔ ۔۔اُس نے زبان دیکھائی
میں نے کہا جاؤ۔ ۔۔تارا نے زبردستی اب کی زور سے اُس کو دھکا دیا تو اُس کی شرٹ کا ایک بٹن ٹوٹ کر دروازے کے باہر گِرا تھا۔۔۔
تمہیں تو میں بعد دیکھ لوں گا۔۔بند دروازے کو گھورتے وہ اُس کو وارن کرنے لگا مگر تارا نے کوئی جواب نہیں دیا جس سے وہ جانے لگا تبھی دوسری طرف سے ایک ڈریس لیے حیات آئی تو لڑکیوں والی سائیڈ پہ کسی لڑکے کو نکلتا دیکھ کر اُس کا ماتھا ٹھٹکا جبھی وہ بھاگ کر اُس کے پیچھے جانے لگی تاکہ اُس کا چہرہ دیکھ پائے مگر وہ اچانک جانے کیسے غائب ہوگیا تھا
اگر یہاں تارا ہوئی تو؟ڈریسنگ روم کے دروازے کو دیکھ کر بے اختیار اُس کے من میں پہلا خیال تارا کا آیا تھا۔۔
ہاؤ چیپ۔۔۔دروازے کے پاس ٹوٹے بٹن پہ اُس کی نظر گئ تو بٹن ہاتھ میں لیے حیات کی آنکھوں میں تارا کے لیے نفرت اُبھری
تم؟تارا باہر آئی تو حیات کو کھڑا دیکھ کر وہ چونکی جبکہ حیات نے بٹن والا ہاتھ سرعت سے پیچھے کیا تھا اور اپنے شک پہ یقین کی مہر دیکھ کر وہ بنا تارا کو کوئی جواب دیئے ڈریسنگ روم میں چلی گئ۔۔۔اُس کا رویہ تارا کو عجیب تو بہت لگا مگر اُس نے حیات کے بارے میں سوچنا ضروری نہیں سمجھا تبھی سرجھٹک کر وہاں سے ہٹ گئ۔
