Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain NovelR50557 Kia Hoi Hai Khata (Episode 03)
Rate this Novel
Kia Hoi Hai Khata (Episode 03)
Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain
یہ گھڑی تمہاری ہے؟اپنے کمرے میں واپس آکر یونی بیگ اُٹھا کر وہ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی تو سامنا ازلان سے ہوا تبھی پوچھا
نہیں تو کس کی ہے؟ازلان پہلے تو گھڑی کو دیکھتا رہا پھر انکار میں سرہلاتا بولا
یہاں آؤ۔۔۔حیات اُس کا ہاتھ پکڑتی تنہا گوشے میں کھڑا کیا
کیا ہوا؟ازلان کو وہ ٹھیک نہیں لگی
یہ مجھے تارا کے کمرے سے ملی۔۔حیات نے بتایا
اوو تو تم اُٹھا کر کیوں لائی؟اور مجھ سے کیوں پوچھا کے میری ہے یا نہیں؟ازلان نے کہا وہ سمجھ نہیں پایا حیات کو
بیوقوف انسان یہ مردانہ گھڑی اُس کے کمرے میں کیا کررہی تھی یہ سوچنے کی بات ہے اور تمہیں پتا ہے اُس کے کمرے سے میل پرفیوم کی خوشبو بھی آرہی تھی۔۔۔حیات نے بتایا تو اُس کی بات کا مطلب سمجھ کر ازلان تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا
حیات اپنی بات پر غور کرو اندازہ ہے کچھ تمہاری اِس بکواس کا کیا مطلب نکلتا ہے۔۔۔۔ازلان نے سنجیدگی سے کہا”اُس کو حیات کی ایسی بات بہت بُری لگی تھی
واٹ ایور ڈیوڈ میں سچ بول رہی ہو۔۔۔۔حیات نے یقین دلوانا چاہا
اِسٹاپ یار اور جسٹ لِیو اِٹ مجھے دو یہ گھڑی “اور تم اِس بات کا ذکر کسی سے بھی نہیں کرو گی گاٹ اِٹ۔۔ ازلان اُس کے ہاتھ سے وہ گھڑی چھین کر بولا
ایکسکیوز می مسٹر تم بڑے ہونے کا روعب نہیں جماسکتے واپس کرو یہ گھڑی۔۔۔حیات آنکھیں دیکھاکر کہتی اُس کے ہاتھ سے گھڑی واپس لی۔۔۔
حیات
یو نو ازلان آئے ڈونٹ نو بٹ یار تمہارے پاس نہ ہزار دلائل ہوتی ہیں جس سے تم اُس تارا کو سپورٹ کرتے ہو مگر حقیقت یہ ہے وہ جیسی نظر آتی ہے وہ ویسی نہیں ہے”اُس کا اٹینشن ہماری فیملی کو توڑنے کا ہے۔۔۔ازلان کچھ کہنے والا تھا جب حیات نے اُس کی بات درمیان کاٹ کر کہا
تم کیوں اُس کے لیے اِتنا نیگیٹو سوچ رہی ہو؟شی از ویری انوسینٹ اپنے کام سے کام تو رکھتی ہے نہ۔۔۔پھر کیا مسئلہ ہے تمہیں؟ازلان اُس کو کندھوں سے تھام کر بولا
First of all She is not innocent,and secondly you love her.
حیات اُس کے ہاتھ جھٹک کر کہتی جانے لگی تو ازلان اُس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے اُس کو دیوار سے لگایا تو حیات کا بیگ اور ہاتھ میں پکڑی گھڑی زمین بوس ہوئی تھی اور خود ہکا بُکا ازلان کا انداز دیکھ رہی تھی جو خاصی ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا۔
ازلان؟؟؟؟حیات بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔۔۔
ازلان اُس کو دیکھ کر کہنا تو بہت کچھ چاہتا تھا مگر اپنی زبان پر قفل لگاتا بنا کچھ کہے لمبے لمبے ڈُگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلاگیا۔۔۔
ہے کیا اُس میں جو ہر کوئی دیوانہ بنا ہوا ہے اُس کا۔۔حیات حیرت سے بڑبڑائی اُس کو ازلان کا انداز ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔”پر وہ خود کو پرسکون کرتی اپنی گِری چیزیں اُٹھاتی باہر کے راستے نکل پڑی۔۔۔









السلام علیکم چچی جان حیات کہاں ہیں اُس کو کہے جلدی سے آجائے۔۔۔احناف ہال میں انعم بیگم کو دیکھتا حیات کے مطلق بولا
وعلیکم السلام احناف حیات تو ڈرائیور کے ساتھ چلی گئ۔۔۔۔انعم بیگم نے بتایا
ڈرائیور کے ساتھ مگر کیوں؟ہر روز تو اُس کو پِک کرنے میں آتا ہوں۔اور مجھے تو ایسا کچھ حیات نے بتایا بھی نہیں تھا۔۔احناف کو حیرت ہوئی
اُس کا کوئی ضروری لیکچر تھا تبھی جلدی میں نکل گئ”۔۔۔انعم بیگم نے وجہ بتائی
ہاں وہ مجھے بتایا تھا اُس نے پر ٹریفک کی وجہ سے میں تھوڑا لیٹ ہوگیا خیر اب چلتا ہوں”خُدا حافظ۔ احناف اِتنا کہتا دوبارہ واپس جانے والا تھا جب انعم بیگم نے اُس کو آواز دی
احناف اگر بُرا نہ لگے تو ایک بات کہوں؟
جی چچی بلکل پوچھے۔۔۔احناف نے مسکراکر اُن کو دیکھا
میں جانتی ہوں کل غلطی سے تمہاری بال تارا کو لگی ہوگی مگر بیٹا تمہیں تو پتا ہے وہ کتنا خائف رہتی ہے ہم سب سے۔۔۔انعم بیگم نے تھوڑا جِھجھک کر کہا
جی جانتا ہوں”ہم سے بات کرنا ہمیں دیکھنا وہ اپنی توہین سمجھتی ہے۔۔۔احناف سرجھٹک کر بولا
احناف بیٹا کم از کم تم تو اپنے منہ میں حیات کی زبان ڈال کر بات نہ کرو”تم سب کے اِس اٹیٹیوڈ کی وجہ سے وہ کسی سے کلوز نہیں ہوتی۔۔۔انعم بیگم کو افسوس ہوا احناف کی بات سن کر۔۔۔
اِس میں غلط کیا ہے چچی؟ہمارا اٹیٹیوڈ اگر ایسا بنا ہے تو اُس کی وجہ وہ خود ہے ورنہ یہاں فیملی جوائنٹ سسٹم میں وہ کیوں خود کو تنہا سب سے دور رکھتی ہے؟ہر ایک کو شک بھری غُصے سے بھری نظروں سے دیکھتی ہے بس اپنی منمناتی کرتی ہے”قابلِ اعتراض ڈریسنگ کرتی ہے ہر وہ چیز کرتی ہے جو اُس کو نہیں کرنی چاہیے”نہ اُس کے جانے کا کوئی وقت ہوتا ہے اور نہ آنے کا۔۔۔احناف سنجیدگی سے دو ٹوک لہجے میں بولا
“میرے پاس تمہاری اِن باتوں کا جواب نہیں”برحال میں بس اِتنا چاہوں گی وہ اِس وقت لاؤنج میں بیٹھی ہے تمہیں چاہیے کے کل کی وجہ سے اُس سے ایکسکیوز کرو کیونکہ وہ سمجھتی ہے کل جان کر اُس کو تکلیف دینے کے لیے تم نے اُس کو بال ماری تھی۔۔۔انعم بیگم نے سنجیدگی سے کہا
خودساختہ سوچیں پالنا اُس کا کام ہے”وہ خوامخواہ بات کو بڑھاوا دے رہی ہے۔۔احناف نے کہا
احناف وہ بات کو کوئی بڑھاوا نہیں دے رہی تم اُس سے بس ایکسکیوز کرو جاکر اُس کو اچھا لگے گا۔۔۔۔”تم سب کیوں بھول جاتے ہو وہ اکلوتی تم سب کی پُھُپھو زاد کزن ہے۔۔۔انعم بیگم نے کہا تو احناف نے گہری سانس ہوا کے سُپرد کی
آپ کے کہنے پر میں اُس سے معافی مانگ لوں گا۔۔۔احناف سنجیدگی سے کہتا اپنے قدم لاؤنج کی طرف بڑھائے جہاں وہ کوئی میگزین پڑھنے می مصروف تھی اور پاس بیٹھی ماجدہ اُس کے پاؤں میں مساج کررہی تھی۔۔۔
سوری۔۔۔۔۔۔احناف اُس کے سر پہ کھڑا ہوتا سیدھا یہ بولا تو نین تارا نے چونک کر اپنا سراُٹھایا
سوری فار واٹ؟نین تارا نے آئبرو اُپر کیے سوال داغا
چچی نے بتایا تمہیں یہ لگتا ہے کے میں نے جان کر تمہیں بال ماری مگر درحقیقت ایسا نہیں۔۔۔۔احناف اپنا چہرہ دوسری طرف کرتا بولا
تم جاؤ۔۔۔نین تارا نے ماجدہ کو جانے کا اِشارہ کیا تو وہ سراثبات میں ہلاتی اُٹھ کر چلی گئ۔۔۔
مجھے تمہارا سوری نہیں چاہیے کیونکہ مجھے پتا ہے تم نے جان کر یہ کیا تاکہ مجھے تکلیف ہو۔۔۔نین تارا نے کہا تو احناف نے اُفسوس سے اُس کو دیکھا
میں تمہارے سامنے کوئی وضاحت پیش نہیں کروں گا۔۔۔احناف نے کہا
مجھے تمہاری کسی وضاحت میں کوئی انٹرسٹ ہے بھی نہیں۔۔۔تارا نے دوبدو کہا جس ہر ایک آخری نظر احناف اُس پہ ڈالتا وہاں سے چلاگیا۔۔۔”تارا نے بھی اُس کے جانے کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا بس دوبارہ میگزین پڑھنے میں محو ہوگئ







احناف تم یہاں واٹ آ سرپرائز یار۔۔۔۔حیات نے اپنی یونی میں احناف کو دیکھا تو خوشگوار حیرت بھرے لہجے میں کہا
صبح تم سے مُلاقات نہیں ہوئی تھی تو سوچا تم سے مل کر آفس چلا جاؤں،اگلی بار میرے بغیر یونی مت آنا۔۔۔۔احناف اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
سو کیوٹ دراصل میں آج بھی نہ آتی مگر میری ضروری کلاس تھی آٹھ بجے خیر وہ ہوگئ ہے اب ہم کہی بیٹھ کر ناشتہ کرتے ہیں۔۔۔حیات نے کہا تو احناف نے چونک کر اُس کو دیکھا
تم نے ناشتہ نہیں کیا تھا آنے سے پہلے؟احناف نے پوچھا تو حیات معصوم شکل بنائے اپنا سر نفی میں ہلانے لگی۔
حد کرتی ہوں یار خیر آؤ اُٹھو کیفٹیریا چلتے ہیں۔۔۔احناف نفی میں سر کو جنبش دے کر بولا
شیور اور تم نہ پروفیسر قدوس سے ضرور ملنا بہت تعریف کیا کرتے ہیں تمہاری۔۔۔حیات نے کہا
ہممم تمہارا لاسٹ ایئر ہے اُس کے بعد تمہاری بھی تعریف ہوگی۔۔۔۔احناف اُس کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر بولا
میں اِتنی خوش قسمت کہاں؟تمہاری بات الگ ہے تم ایک ہوشیار ذمیدار شاگرد تھے۔۔۔حیات نے شوخ لہجے میں کہا
تم احناف ہو؟ اور تم حیات رائٹ؟وہ دونوں ابھی کیفے داخل ہوئے تھے تو اُن کا سامنا ایک لڑکے سے ہوا جس پہ غور اُنہوں نے تو نہیں کیا تھا مگر سامنے والے نے کرلیا تھا۔۔۔۔
ہاں میں حیات ہوں اور یہ احناف ہے۔۔۔جواب حیات نے دیا تھا جبکہ احناف کی پرسوچ نظریں اسجد کے چہرے پہ تھیں
گائیز مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو میں ہوں،اسجد جمال حد ہے بھول گئے دونوں۔۔۔اسجد دونوں کے تاثرات دیکھ کر ہنس کر بولا تو حیات جہاں حیران ہوئی تھی وہی احناف کے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا
ایسی بات نہیں ہمیں تم یاد ہو بائے داوے تم تو آؤٹ آف کنٹری تھے نہ پھر پاکستان کیسے کب آئے؟حیات نے مسکراکر پوچھا
تارا کی وجہ سے آیا ہوں کیسی ہے وہ؟اسجد نے مسکراکر بتانے کے بعد پوچھا تو حیات کا منہ ایسے بن گیا جیسے کوئی کچا کڑوا کریلا کھالیا ہو
تم پاکستان آئے ہو تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ تمہاری مُلاقات پہلے نین تارا کے بجائے ہم سے ہوئی ہو۔۔۔احناف نے سنجیدگی سے کہا تو جہاں اسجد خُجل ہوا تھا وہی حیات کے دماغ میں صبح والا واقع تازہ ہوا تو وہ غور سے اسجد کو دیکھنے لگی۔۔۔”وجیہ مضبوط سِراپا سیاہ آنکھیں کھڑی ناک اور عنابی ہونٹوں پہ مسکرائے سجانے والا اسجد ہر کسی لڑکی کا ڈریم بوائے ہوسکتا تھا”اُپر سے ایک مشہور فلم ڈاریکٹر کا بیٹا تھا اور وہ کسی بھی لحاظ سے کسی سے کم نہیں تھا مگر جہاں نین تارا کا مزاج ساتویں آسمان پہ ہوتا تھا وہی اسجد سُلجھا ہوا لڑکا تھا اور اُس کا تعلق بھی فلم انڈسٹری سے تھا
ہمیں جوائن کرلوں تم اسکول کی یادیں تازہ کرے گے۔۔۔حیات نے دونوں کے درمیان مُداخلت کی
شیور مگر آج نہیں پھر کبھی آج ابھی مجھے بہت ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔۔اسجد نے مسکراکر کہا
اوکے ایز یو وِش چلو حیات۔۔۔احناف سنجیدگی سے اُس کی بات پہ کہتا حیات کا ہاتھ تھامے اندر چلاگیا پیچھے اسجد نے خاصے تعجب سے اُس کا انداز دیکھا تھا
یہ ابھی بھی نہیں بدلا۔۔۔اسجد ہنس کر بڑبڑاتا آنکھوں پہ گاگلز چڑھائے اپنے راستے چل دیا
اسجد کتنا چینج ہوگیا ہے میں نے اُس کو لاسٹ ٹائیم ایک فلم میں دیکھا تھا اب شاید دوسری فلم کی شوٹ میں مصروف ہوتا ہے وہ۔۔۔۔ایک ٹیبل پہ بیٹھ جانے کے بعد حیات نے باتوں کا سلسلہ شروع کیا
تمہاری آج اگر کوئی دوسری ایکسٹرا کلاس نہیں تو ہم آؤٹنگ پہ جائے باہر؟احناف نے سِرے سے اُس کی بات نظرانداز کی
گِریٹ میری کوئی کلاس نہیں پھر چلتے ہیں جہاں تم کہو۔۔۔۔۔حیات پرجوش ہوئی جبکہ احناف نے سر ہلانے پہ اکتفا کیا










دس سال پہلے!!!
بچوں اِدھر آؤ اپنی کزن تارا سے ملو۔۔۔۔۔۔۔اسماعیل صاحب ہاتھوں میں ٹیڈی بیئر تھامے چودہ سالہ تارا کو اپنے ساتھ لائے لان میں کِھلتے بچوں سے بولے تو اُن کی آواز پہ سب بچے”سُلطان ،احناف،خاور ازلان
،ارسلان،حیات فضا،مومل سومل انابیہ جو اُتوار ہونے کی وجہ سے مُل جُل کر کھیلنے میں مصروف تھے اپنے دادا کی آواز پہ بھاگ کر اُن کی طرف آئے
سلام کرو اپنی کزن کو اب سے یہ بھی ہمارے ساتھ رہے گی۔۔۔۔اسماعیل صاحب چودہ سالہ نین تارا کو اپنی گود میں اُٹھائے بولے تو سب بچوں کا مُنہ حیرت سے کُھل گیا
دادا جان یہ اِتنی بڑی ہے پھر بھی آپ اِس کو گود میں لے رہے ہو اور کیا یہ اِتنی بڑی ابھی تک ٹیڈی بیئر سے کِھلتی ہے؟سولہ سالہ حیات کھی کھی کرتی بولی تو سب بچے ہنس پڑے سِوائے”خاور ازلان اور احناف کے وہ تینوں بس تارا کو دیکھ رہے تھے جو اپنی نیلی آنکھوں میں اُداسی لیے اُن کو دیکھ رہی تھی اُس نے پہنا بھی نیلے رنگ کا فراق تھا جس سے وہ بہت پیاری اور معصوم گُڑیا لگ رہی تھی
اپنی ایج سے کم لگتی ہے اور دادا یہ اِتنی کمزور کیوں ہے؟”کیا وہاں اِس کو کوئی کِھلاتا پِلاتا نہیں تھا؟سولہ سالہ ازلان فکرمندی سے تارا کو دیکھ کر بولا جو اُن کے ساتھ ہوکر بھی نہیں تھی۔
یہاں رہے گی تو ہٹی کٹی ہوجائے گی پِچھلے کچھ دِنوں سے بیمار تھی تبھی یہ حال ہے اور حیات بیٹا یوں کسی پر ہنسا نہیں کرتے یہ تو پھر آپ کی چھوٹی کزن ہے۔۔۔۔”ٹیڈی بیئر سے یہ کِھیلا نہیں کرتی اِس کے بغیر ہماری تارا کو نیند نہیں آتی اِس لیے اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے۔۔۔۔اُسماعیل صاحب نے نرم لہجے میں محبت پاش نظروں سے تارا کو دیکھ کر اُن سے کہا
کچھ زیادہ ہی چھوٹی ہے۔۔۔اِس بار سومل منہ پہ ہاتھ رکھ کر بولی تو اُسماعیل صاحب نے نفی میں سر کو جنبش دی
اِس کی آنکھیں کتنی پیاری ہے لائیک جیسے یہ کوئی نیلی پری ہے۔۔۔۔سترہ سالہ سالہ احناف جو اب تک خاموش تھا ہاتھ میں فٹبال لیے تارا کو دیکھ کر ستائش لہجے میں بولا
میری تارا پریوں سے زیادہ پیاری ہے اب چلو باری باری اپنا تعارف کرواؤ۔۔۔۔اُسماعیل صاحب تارا کو نیچے اُتار کر اُن سب سے بولے
میں تمہارا فرسٹ کزن ہوں سُلطان۔۔۔۔اور یہ احناف ہے اور یہ ہماری چھوٹی بہن انابیہ جس کو ہم انا کہتے ہیں۔۔۔۔سُلطان نے احناف اور انابیہ کی طرف اِشارہ کرکے اُس کو بتایا
“اور میرا نام خاور ہے۔۔۔۔۔
ازلان اور ارسلان میرا بھائی
“حیات اور یہ چھوٹی بہن ہے میری فضا
سومل اور یہ مومل ہم دونوں بہنیں ہیں ازلان اور ارسلان یہ ہمارے بھائی ہیں دونوں
سب نے ایک ساتھ اپنا نام بتایا اور اپنا ہاتھ بھی آگے کیا مگر تارا اُن سے ہاتھ ملانے کے بجائے خاموش نظروں سے سب کو دیکھنے لگی۔
لگتا ہے اِس کو ہم پسند نہیں آئے۔۔۔اُس کو چپ دیکھ کر احناف نے اندازہ لگایا
ایسی بات نہیں تارا بچے ہائے فائے کرو۔۔۔اُسماعیل صاحب نے خود ہی تارا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر کہا
ہم کرکیٹ کھیل رہے ہیں تم ہمیں جوائن کرو۔۔۔۔ازلان نے پیش کش کی
ہاں ضرور تم اِن کے ساتھ کھیلوں میں تب تک آتا ہوں۔۔۔تارا کے بولنے سے پہلے اُسماعیل صاحب نے کہا اور گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئے
کیا تم گونگی ہو؟مومل نے اُس کو ایک لفظ بھی بولتا نہیں دیکھا تو آہستہ رازدرانہ انداز میں پوچھا
تمہارا ٹیڈی بیئر ویسے بہت پیارا ہے۔۔۔حیات اُس کے ٹیڈی بیئر پہ ہاتھ پھیر کر مسکراکر بولی
“دادا جان یہ اِتنی بڑی ہے پھر بھی آپ اِس کو گود میں لے رہے ہو اور کیا یہ اِتنی بڑی ابھی تک ٹیڈی بیئر سے کِھلتی ہے؟””
حیات کو دیکھ کر تارا کو اُس کے پہلے کہا جُملا یاد آیا تو غیرشعوری طور پہ اُس نے اپنا ٹیڈی بیئر دور کیا
آؤ ہمارے ساتھ۔۔۔احناف نے تارا کو دیکھے کہا
میں نہیں کھیلوں گی۔۔۔تارا پہلی بار لب کُشائی کرکے جانے والی تھی جب اُس کی نظر میڈ پہ گئ جو پُرانہ سامان شاید جلا رہی تھی یہ دیکھ کر وہ بھاگ کر اُس تک آتی اپنا فیورٹ ٹیڈ بیئر جلتی آگ میں جھونک دیا تو اُس کی حرکت پہ سب ایک دوسرے کا چہرہ تکتے رہ گئے
یہ اِس نے کیا کردیا؟دادا نے تو بتایا تھا ٹیڈی بیئر کے بغیر اِس کو نیند نہیں آتی۔۔۔ازلان حیرت زدہ لہجے میں بولا
حیات نے اِس کے ٹیڈی بیئر کو چھوا شاید اِس وجہ سے۔۔سومل نے اندازہ لگایا
میں کوئی اچھوت ہو کیا۔۔۔۔حیات کو غُصہ آیا
نہیں دوست تم اچھوت نہیں بس وہ شاید اپنی چیزوں کے لیے پوزیسیو ہے۔۔۔احناف نے ہنس کر کہا
ہماری طرف واپس آرہی ہے۔۔۔مومل نے اُن کا دھیان تارا کی طرف کروایا جو آہستہ آہستہ اُن کی طرف آرہی تھی
اگین میری چیز کو ہاتھ نہ لگانا۔۔۔تارا سنجیدگی سے اُس کو کہہ کر گھر کے اندر چلی گئ
بدتمیز جاہل گوار خود کو سمجھتی کیا ہے۔۔”یہ کیا اُور اِس کی اوقات کیا ایک گاؤں میں رہتی تھی اور اب دیکھو دماغ سوا نیزے پہ کرلیا ہے۔۔۔سب کے سامنے نین تارا کے الفاظ نے اُس کو شرمندگی میں مبتلہ کرلیا تھا تبھی غُصے سے پاگل ہوتی بولی کیونکہ آج سے پہلے کبھی اُس سے ایسے بات نہیں کی تھی وہ گھر بھر کی لاڈلی تھی۔۔
وہ گوار ہے تو تم اپنے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دو،یہ کیسی لینگیویج استعمال کررہی ہو وہ ہماری کزن ہے پہلی بار یہاں آئی ہے اُس کے ساتھ اِتنی بڑی ٹریجڈی ہوئی ہے تو یہ اُس کا ردعمل فطری ہے۔۔”ویسے بھی تم نے پہلے اُس پہ ٹیڈی بیئر کا بہانا بناکر ٹیز کیا پھر تعریف کی تو اُس کو غُصہ تو آئے گا نہ۔۔۔۔ازلان اُس کی بات سن کر تحمل سے بولا
ویسے وہ اٹیٹیوڈ گرل گوار نہیں لگی مجھے۔۔۔احناف نے پرسوچ لہجے میں کہا
گائیز تم دونوں کو ہوا کیا ہے اُس دو ٹکے کی تارا کی وجہ سے مجھے باتیں سُنارہے ہو اور احناف تمہیں اُس کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ازلان کو اُس کی طرفداری کرنے کی۔۔۔۔حیات دونوں کو گھور کر بولی تو وہ چُپ ہوگئے۔۔۔










“اے لڑکی
تارا اکیلے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھی جب مُنیبہ بیگم نے اُس کو مُخاطب کیا
میرا نام نین تارا ہے لڑکی نہیں۔۔۔۔نین تارا نے سراُٹھاکر اُس کو دیکھ کر کہا
میرے سامنے زبان چِلانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں جو کہو بس وہ سُناکر۔۔۔منیبہ بیگم اُس کا نازک بازو دبوچ کر بولی تو تارا کے چہرے پہ تکلیف دہ آثار نمایاں ہوئے
چھوڑو میرا بازو۔۔۔۔”میں نے نانا سائیں کو شکایت لگا دینی ہے ورنہ۔۔۔۔اپنے آپ کو اُن کی گرفت سے آزاد کروانے کی جدوجہد میں ہلکان ہوتی تارا نے کہا
مجھے دھمکی دیتی ہے۔۔۔
چٹاخ
منیبہ بیگم اُس کی بات سن کر غُصے سے آگ بگولہ ہوتی ایک زناٹے دار تھپڑ اُس کے نازک گال پہ مارا تو وہ اُوندھے منہ نیچے گِری تھی اور اُس کا سر ٹیبل پہ لگا تھا۔۔”درد سے اُس کے منہ سے سسکی نکلی تھی مگر منیبہ بیگم طنز نظروں سے اُس کو دیکھا تھا تبھی گھر میں داخل ہوتے کالج یونیفارم میں ملبوس احناف نے یہ منظر صاف اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا جبھی پریشانی سے تارا کی طرف بڑھا تھا جو حراساں نظروں سے اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جہاں خون کے چھینٹے تھے۔
چچی یہ کیا کردیا آپ نے بن ماں باپ کی چھوٹی بچی ہے یہ۔۔۔احناف خاصی مایوس نظروں سے حواس باختہ منیبہ بیگم کو دیکھ کر تارا کی پیشانی چیک کرتا بولا جبکہ منیبہ بیگم کو قطعاً اندازہ نہیں تھا کوئی اُن کو دیکھ سکتا ہے۔۔
بدتمیزی کررہی تھی یہ۔۔۔اپنا دامن چھڑانے کے لیے اُنہوں نے سارا ملبہ تارا پہ ڈالا جو خاموش بیٹھی تھی جیسے چوٹ اُس کو نہیں کسی اور کو آئی ہو ضبط سے اُس کی گوری رنگت سرخ پڑگئ تھی مگر حیرت انگیز طور پر اُس کی آنکھوں سے ایک بھی آنسو نہیں آیا
فرسٹ بوکس لائے آپ۔۔۔احناف بس اِتنا بولا تو منیبہ بیگم میڈ سے کہتی خود وہاں سے رفو چکر ہوگئیں
درد ہورہا ہوگا رو لو ویسے بھی بچی ہو تم۔۔۔احناف اُس کو صوفے پہ ببیٹھاتا بولا جس کے ایک گال پہ منیبہ بیگم کے ہاتھ کی پانچ اُنگلیوں کا نشان واضع تھا
مجھے رونا نہیں آتا اور آپ کالج میں پڑھتے ہو۔۔۔؟جواب میں تارا نے بس اِتنا کہا
ہاں میں سیکنڈ ایئر کا اسٹوڈنٹ ہوں تم اپنا بتاؤ کہاں تک پڑھی ہو دوبارہ اسٹڈی کب شروع کرو گی؟احناف نے بتانے کے بعد پوچھا
اپنے گاؤں میں دسویں جماعت کی طالبا تھیں میں اور میرے پرچے ہورہے تھے پھر نانا جان مجھے یہاں لائے۔۔۔۔تارا نے بتایا
اُردو کی اسٹوڈنٹ تھی؟احناف نے مسکراکر اُس کو دیکھا میڈ جب وہاں آئی تو اُس کے ہاتھ سے فرسٹ ایڈ بوکس لیکر جانے کا اِشارہ کیا
میرے کورس کی کتابیں پانچ تھیں وہاں اُس میں آسان اردو بھی تھا۔۔۔تارا نے جواب دیا
دوبارہ کب پڑھو گی؟نرمی سے وہ اُس کے ماتھے پہ آیا خون صاف کرتا پوچھنے لگا
جب نانا داخلہ کروائے گے۔۔۔تارا نے بتایا
تم ہمارے ساتھ آنا ہم سب کالج وین میں جاتے ہیں ہلا گُلا کرتے ہیں مزہ آتا ہے بہت تم بھی سب سے گُھل مل جاؤ۔۔۔احناف نے اُس کو مشورہ دیا
ازلان نے بتایا تھا یہ۔۔۔”نانا سے میرے داخلے کی بات بھی کی اُنہوں نے جب داخلہ ہوجائے گا تو اُن کے ساتھ جاؤں گی کیونکہ وہ گاڑی میں جاتے ہیں۔۔۔۔”الگ تھلگ۔۔۔۔تارا نے بتایا
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔۔۔احناف نے شانے اُچکائے
ہے احناف تم یہاں اور تارا کو کیا ہوا؟ازلان گھر میں آیا تو جہاں احناف کو دیکھ کر اُس کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی وہی تارا کے ماتھے پہ آئی چوٹ دیکھ کر وہ پریشان ہوا
چچ
میں گِرگئ تھی۔۔۔احناف اُس کو سب بتانے والا تھا جب نین تارا بول پڑی تو احناف نے حیرت سے اُس کو دیکھا وہ سمجھا تھا تارا سب کو بتادے گی مگر ایسا نہیں ہوا تھا ۔
خیال سے چلا کرو نہ اور یہ دیکھو میں تمہارے لیے ٹیڈی بیئر لایا ہوں بلکل ویسا جیسا تمہارا پہلے والا تھا۔۔۔ازلان نے گُلابی رنگ کا خوبصورت ٹیڈی بیئر اُس کے سامنے کیا جس کو دیکھ کر تارا کی نیلی آنکھوں میں چمک آئی اُس نے مشکور نظروں سے ازلان کو دیکھا
آپ کا بہت شکریہ۔۔۔۔ٹیڈی بیئر کو ہاتھ میں لیے تارا نے اُس کا شکریہ ادا کیا
مائے پلیرز اور احناف تم بتاؤ خیریت کالج سے سیدھا یہی آئے ہو کیا؟ازلان نے احناف سے پوچھا جو اب اپنے ہاتھ صاف کررہا تھا۔۔۔
ہاں حیات نے کہا تھا ایک سبجیکٹ اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا ہیلپ کرنے چلا آیا پھر مجھے سینٹر بھی جانا ہوتا ہے۔۔۔احناف نے وجہ بتائی یہاں آنے کی
میں اُس کو سمجھا دیتا پر اُس نے تمہیں پریشان کرنا ہوتا ہے خیر وہ ابھی تک آئی نہیں کیا؟ازلان آس پاس نظریں ڈورا کر پوچھنے لگا
ڈونٹ نو۔۔۔۔احناف نے لاعلمی کا مُظاہرہ کیا
تارا یہاں آجاؤ میں نے نوڈلز بنائے ہیں غضب خُدا کا اناڑی لڑکی ہے کھانے کے معاملے میں۔۔۔۔انعم بیگم کچن سے آتی تارا کو آواز دیتی بولی اور جب اُن کی طرف آئی تو انعم بیگم کی نظر اُس کے ماتھے پر چوٹ دیکھی تو پریشان ہوئی
یہ کیا ہوا ہے تمہیں دس منٹ پہلے تو ٹھیک ٹھاک میں تمہیں یہاں بیٹھا کر گئ تھی۔۔۔انعم بیگم گُھٹنوں کے بل اُس کے پاس بیٹھی
گِرگئ تھی ٹھیک سے کھائے گی نہیں تو یہی حال ہوگا دیواروں سے سر مارے گی یا ٹیبل سے اپنا پاؤں ٹکرائے گی۔۔۔جواب ازلان نے دیا تھا۔۔۔
تمہیں بھوک کی دوائی کھیلانی پڑے گی۔۔انعم بیگم نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا پر تارا نے کوئی جواب نہیں دیا
السلام علیکم چچی حیات کہاں ہے؟احناف نے اُن کو مُخاطب کیا
وعلیکم السلام احناف تم کب آئے؟انعم بیگم کی اب اُس پہ نظر گئ
کچھ دیر قبل۔۔۔احناف نے بتایا
اچھا حیات اسٹڈی روم میں ہوگی۔۔۔۔انعم بیگم نے بتایا تو احناف اپنا بیگ اُٹھاتا اسٹڈی روم کی طرف بڑھ گیا۔
