Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kia Hoi Hai Khata (Episode 01)

Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain

ساری تیاریاں ہوگئ ہے نہ آج میری نواسی پورے ایک سال بعد پاکستان آرہی ہے۔۔۔اُسماعیل صاحب روعب بھری آواز میں ملازموں سے پوچھنے لگے جن کی ڈور یہاں سے وہاں ہورہی تھی”پاس ہی ہال میں اُن کے پوتے غباروں میں ہوا بھرنے میں لگے تھے جن کے پاس اُن کی ایک بے نیاز پوتی اپنے سیل فون میں کچھ دیکھنے میں مگن تھی آس پاس کیا ہورہا ہے اُس سے اُس کو کوئی سروکار نہیں تھا۔۔۔

حیات بیٹا آپ کیوں اِس قدر لاپرواہ انداز میں بیٹھی ہیں جائے جاکر دیکھے تازہ پھول میں نے منگوائے تھے وہ آئے ہیں یا نہیں؟اُسماعیل صاحب نے اپنی نخریلی پوتی حیات سے کہا

دادا جان وہ اپنے شوٹ سے آرہی ہے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا جو آپ اِتنی تیاریاں کررہے ہیں اور مجھے تو وہ لفٹ بھی نہیں کرواتی اور میرا بھی کوئی انٹرسٹ نہیں کے میں بلاوجہ اُس کی آمد کی تیاری کرو مجھے بس احناف کا انتظار ہے وہ آئے گا تو میں اُس کے ساتھ چلی جاؤں گی۔۔۔حیات اُسماعیل صاحب کی بات پر سنجیدگی سے دو ٹوک لہجے میں کہتی آخر میں اپنے منگیتر کا ذکر کیا جس سے اُس کو انتہا کی محبت تھی۔۔

سہی کہہ رہے میری بیٹی آپ نے تو خوامخواہ اُس کو سر پہ چڑھا لیا ہے تبھی اِس قدر گھمنڈی اور مغرور ہوگئ ہے ہم سے تو بات کرنا بھی جیسے اُس کو توہین لگتا ہے۔۔۔کچن سے باہر آتی منیبہ بیگم(حیات کی ماں)ناک منہ چڑھا کر بولی

تم سب کا یہی رویہ دیکھ کر اُس کو تم لوگوں سے بات کرنے میں انٹرسٹ نہیں ہوتا خُدا جانے میرے جانے کے بعد میری نواسی کا کیا ہوگا۔۔۔اسماعیل صاحب اُن کے جوابات سن کر رنجیدہ آواز میں بول کر اُپر کی طرف جانے لگے مگر ایک آواز پہ اُن کو رُکنا پڑا

السلام علیکم ایوری ون۔۔۔احناف گھر میں داخل ہوتا سب کو سلام کرنے لگا

وعلیکم السلام میرا شیر پوتا آگیا۔۔۔وائٹ گول گلے والی شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ میں ملبوس جس نے بالوں کو جیل کی مدد سے سیٹ کیا تھا چہرے پر ہلکی سی بیئرڈ اور ہونٹوں پہ مبہم مسکراہٹ سجائے کھڑے احناف کو دیکھ اسماعیل صاحب نے محبت بھرے لہجے میں کہا

جی میں آگیا۔۔۔احناف نے جواب دیا

اچھا ہوا تم آگئے میں تو تمہارے انتظار میں یہاں بیٹھ کر بور ہوگئ تھی۔۔۔احناف کو دیکھ کر حیات کی جان میں جان آئی

اب تو میں آگیا ہوں جہاں کہو گی وہاں لے چلوں گا۔۔احناف نے مسکراکر کہا تو حیات کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کیا

احناف آگئے ہو تو بیٹھ جاؤ تمہاری کزن آتی ہوگی۔۔۔”اُس سے مل کر چلے جانا۔۔۔اُسماعیل صاحب نے نرم لہجے میں کہا

دادا سائیں ہم سے مل کر اُس نے کیا کرنا ہے دیکھیے گا گھر میں داخل ہوکر آپ کو سلام کرے گی آپ سے ملے گی پھر گھر کو ریڈ کارپیٹ سمجھ کر ریمپ کرتی اپنے کمرے میں چلی جائے گی۔۔۔احناف کے کچھ بھی کہنے سے پہلے حیات بول پڑی تو باقی سب کزن اُس کی باتوں کا چسکا لیکر ہنس پڑے

السلام علیکم نانا سائیں۔۔۔۔خوبصورت آواز پہ سب لوگوں کی ہنسی کو بریک لگی تھی”اور سب کی نظریں داخلی دروازے پہ جم سی گئ تھی۔۔۔”جہاں تئیس سال کی عمر کے درمیان فل بلیک جنیز پینٹ میں ملبوس خوبصورت نین تارا کھڑی تھی جس کے سلکی لونگ ہیئر پشت پہ بکھرے پڑے تھے اور آنکھوں میں سن گاگلز تھے جن کو ابھی اُس نے آنکھوں سے اُپر کیا تھا۔۔اُس کا چہرہ ہر احساس سے عاری تھا”سب کی نظروں میں اُس کو دیکھ کر ستائش اُبھری تھی سوائے دو لوگوں کے ایک حیات جس نے اُس کو دیکھ کر اپنی نظروں کا زاویہ بدلا تھا تو دوسرا احناف جس نے ایک نظر کے بعد دوسری نظر اُس پہ نہیں ڈالی تھی۔۔

وعلیکم السلام میری جان یہاں آؤ۔۔۔اسماعیل صاحب کی آنکھوں میں جیسے ٹھنڈک پڑگئ تھی۔۔تبھی بانہیں پھیلا کر اُس کو اپنی طرف آنے کا کہا تھا”نین تارہ کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا اور وہ بھاگ کر اُن کے سینے لگی تھی۔۔

میں نے آپ کو مس کیا۔۔۔نین تارا اُن کے سینے سے لگی بولی

میں نے بھی اپنی جان کو بہت مس کیا۔۔۔اُسماعیل صاحب اُس کا ماتھا چوم کر بولے

شروع ہوگیا اِن کا میلو ڈرامہ میرے خیال سے ہمیں نکلنا چاہیے۔۔۔حیات نے بیزار لہجے میں کہا تو احناف کی نظریں بے ساختہ نین تارا پہ اُٹھی جو ابھی تک اُسماعیل صاحب کے ساتھ لگی ہوئی تھی مگر اپنے چہرے پہ کسی کی نظروں کا ارتکاز اُس نے صاف محسوس کیا تھا تبھی آنکھیں کھولی تو نظر سیدھا احناف پر پڑی دونوں کی نظریں چار ہوئی تو احناف نے ایک لمحہ ضائع کیے بنا نظریں دوسری طرف کرلی

میں اب ریسٹ کروں گی کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے۔۔۔نین تارا ایک اچٹنی نظر احناف پہ ڈالے اُسماعیل صاحب سے بولی

سب سے مل تو لو۔۔۔اُسماعیل صاحب نے کہا

بہت تھکی ہوئی ہوں بس آرام کرنا چاہوں گی۔۔۔نین تارا نے کہا

کیوں کیا جہاز کو دھکا دے کر آئی ہو یا ایئر ہوسٹ کی ڈیوٹی دے کر آئی ہو؟حیات نے مصنوعی حیرت سے سوال کیا تو سب لوگ پھر سے ہنس پڑے مگر نین تارا نے سخت ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھا تھا مگر کوئی بھی جواب دینا اُس نے ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔

حیات ہمیں لیٹ ہورہا ہے۔۔احناف حیات کا ہاتھ تھامے اُس کا دھیان اپنی طرف کیا

ہاں سوری میں بھول گئ تھی چلو۔۔حیات نے اپنے سر پہ ہاتھ مار کر کہا”نین تارا جبکہ خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔

تم بھی اُپر جاؤ آرام کرو پھر مل کر کھانا کھائے گے۔۔۔”اور احناف تم رات کا ڈنر ہمارے ساتھ کرنا۔۔۔اسماعیل صاحب نین تارا کو مُخاطب کرنے کے بعد احناف سے بولے جو حیات کو لیے جانے والا تھا

سوری دادا جان مگر مجھے اور حیات کو آنے میں لیٹ ہوجائے گا کیونکہ دوستوں کے ساتھ پارٹی کا پروگرام بنا ہے۔۔۔احناف نے عاجزی سے کہا

چلو کوئی بات نہیں اگلی بار کرلینا۔۔اسماعیل صاحب نے مسکراکر کہا”نین تارا جبکہ کب کا جاچُکی تھی۔

شیور۔۔۔۔احناف نے مسکراکر سراثبات میں ہلاکر کہا

❤
❤
❤
❤
❤
❤

اُسماعیل صاحب کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی”بڑے بیٹے کا نام الطاف جتوئی تھا جن کی شادی اپنی کلاس فیلو بینش سے ہوئی اور اُن کے تین بچے تھے”ایک بڑا بیٹا سلطان جس کی عمر اٹھائیس سال کی تھی اور وہ سافٹ ویئر انجیئر تھا دوسرے بیٹے کا نام احناف جتوئی تھا جس کی عمر پچیس سال تھی اور اُس کا انٹرسٹ فائن آرٹسٹ میں تھا مگر اپنے والد کی ضد پہ وہ اُن کی کمپنی میں senior software developer” تھا۔۔۔اور تیسری بیٹھی انابیہ جو اٹھارہ سالہ کالج اسٹوڈنٹ تھی”الطاف جتوئی نے جوائنٹ فیملی میں رہنے کے بجائے الگ رہنے کو ترجیح دی تھی تبھی اپنی بیوی بچوں سمیت وہ الگ گھر میں شفٹ ہوگئے تھے”باقی دو بھائی اپنے باپ کے ساتھ ہی رہا کرتے تھے چنانچہ الطاف خانزادہ کے بعد اُن کی آخری بیٹی رافعہ اور دوسرے نمبر پہ بیٹا جس کا نام اختر جتوئی تھا اِن دونوں بہن بھائی کی شادی ایک ساتھ ہوئی تھی”اختر جتوئی کی شادی اپنی کزن منیبہ بیگم سے ہوئی تھی جبکہ رافعہ کی شادی اُسماعیل صاحب نے اپنے دوست کے بیٹے سُہیل بلوچ سے کروائی تھی”جو بلوچستان کے ایک گاؤں کے رہائشی تھے”رافعہ کی دو بیٹیاں تھی ایک بڑی بیٹی جس کا نام چاندنی تھا اور دوسری بیٹی نین تارا تھی جس کو بچپن سے اپنے آپ میں رہنا پسند تھا مگر اپنی بڑی بہن میں اُس کی جان تھی”کیونکہ نین تارا پانچ سالہ کی تھی اور چاندنی بارہ سال کی تھی جب کار ایکسیڈنٹ میں رافعہ بیگم اور سُہیل بلوچ کا انتقال ہوگیا تھا تب سے چاندنی نے اپنی بہن کا خیال رکھا تھا۔۔۔چاندنی اور اختر جتوئی کا بیٹا یہ دونوں ہم عمر تھے”جبکہ اختر جتوئی کی دو بیٹیاں اور بھی تھی ایک حیات جو نین تارا سے دو سال بڑی تھی دوسری بیٹی کا نام فضا تھا جو انابیہ کی عمر کی تھی اُن کے بڑے بیٹے کا نام خاور جتوئی تھا”اسماعیل صاحب کا تیسرا بیٹا جن کا نام اصغر جتوئی تھا جن کی شادی بھی اپنی خالہ زاد انعم سے ہوئی تھی”اُن کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھی”بڑے بیٹے کا نام ازلان جو حیات کی عمر کا تھا دوسرے بیٹے کا نام ارسلان تھا جو اُنیس سال کا تھا”بڑی بیٹی کا نام سومل تھا اور چھوٹی بیٹی کا نام مومل تھا۔۔”یہ سب ایک گھر میں اپنی خوشحال زندگی بسر کررہے تھے جب اچانک اُن کی زندگی میں ایک طوفان آیا تھا اور وہ طوفان باقی کا تو کچھ نہیں مگر نین تارا کا سب کچھ لے گیا تھا”اپنے والدین کے بعد نین تارا کا سب رشتہ چاندنی سے جڑا تھا مگر جانے کیا بات تھی جس نے چاندنی کو حرام موت مرنے پہ مجبور کیا تھا اور وہ صبح کا اُجالا نہ دیکھ پائی۔۔۔بس اِس فانی دُنیا سے ہمیشہ کے لیے رُخصت ہوگئ۔جب چاندنی کا انتقال ہوا تھا تو اُس کی عمر اکیس سال تھی اور نین تارا چودہ سال کی تھی”جس کو اسماعیل صاحب اپنے ساتھ شہر لائے تھے اور چودہ سالہ نین تارا اپنے نانا کے ساتھ رہنے لگی تھی جب وہ شہر آئی تھی تو اُس کے پاس کچھ نہیں تھا سِوائے ایک ڈائری کے جو چاندنی کی ڈائری تھی”جس کو نین تارا نے پڑھنا تھا اور جاننا تھا کے اُس کی بڑی بہن نے خودکشی جیسا عمل کیوں کیا؟ایسا کیا ہوگیا تھا اُس کی زندگی میں جس وجہ سے اُس نے موت کو گلے لگادیا تھا”ایسے کئ راز نین تارا کے سینے میں دفن تھے”جن کو جانے کُھلنا بھی تھا یا نہیں یا بس ہمیشہ نین تارا کے سینے میں دفن ہوکر رہنا تھا”

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

تم نے دیکھا تارا کو کیسے ناک منہ چڑھایا تھا مجھے تو وہ سخت زہر لگتی ہے”کتنا اٹیٹیوڈ ہے یار اُس میں آئے مین سیریسلی اِن دو تین سالوں میں اُس نے جسٹ ایک دو بڑے ماڈلنگ کے پروجیکٹ کیا کردیئے وہ تو خود کو کوئی توپ چیز سمجھنے لگی ہے۔۔۔۔احناف حیات کو ریسٹورنٹ لایا تھا جہاں آکر حیات نان سٹاپ بولنا شروع ہوگئ تھی۔۔

پانچ ماڈلنگ کے پروجیکٹ دو فلمز اور چار ایڈز کیے ہیں اُس نے اِن تین سالوں میں۔۔۔احناف نے سرسری لہجے میں بتایا

ہاں کتنی شرم کی بات ہے نہ ویسے آئے دن کسی نہ کسی غیرمرد کی بانہوں میں جھولتی نظر آتی ہے۔۔۔”دادا جان پتا نہیں کیوں اُس پہ سختی نہیں کرتے ڈریسنگ چیک کی تم نے اُس کی؟کس قدر ٹائیٹ تھی شرٹ اور جینز۔۔حیات اپنا کھانا بھول کر اُس سے بولی

جہاں تم ہوتی ہو وہاں مجھے کچھ اور نظر نہیں آتا۔۔احناف اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بولا تو حیات نے شرما کر سرجُھکالیا۔

ویسے ہمیں تو ڈیڈ فرینڈ کے گھر ایک دن بھی نہیں رہنے دیتے اور یہ تارا پورے ایک سال بعد گھر آئی جانے کیا کچھ کیا ہوگا اُس نے دوسرے مُلک میں ظاہر سی بات ہے وہ اکیلی تھی”کسی کی کوئی روک ٹوک بھی نہیں تھا جو جی میں آیا ہوگا وہ کیا ہوگا بے لگام جو ہے۔۔حیات افسردہ سانس خارج کیے بولی

حیات اِف یو ڈونٹ مائینڈ پر کیا ہم نین تارا کے علاوہ کچھ اور ڈسکس نہیں کرسکتے؟آئے میں نین تارا کا ہمارے درمیان کیا ذکر یہ ہم دونوں کا اسپیشل مومنٹ ہے تو پلیز تم مجھے وہ انجوائے کرنے دو۔۔۔احناف اُس کی ساری بات سن کر سنجیدگی سے بولا تو حیات کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی

مجھے خود ہمارے درمیان ٹھرڈ پرسن کا ذکر پسند نہیں پر آج اِتنے وقت بعد تارا کو دیکھا تو تبھی باتیں کرنے لگ گئ۔۔”میں یار احناف سوچتی ہو وہ کیوں ہے ایسی؟وہ ہماری طرح کیوں نہیں؟اُس کا شوبز میں جانا ضروری تھا کیا؟کیا کمی تھی اُس میں ہر چیز بن کہے دادا جان اُس کے سامنے رکھتے ہیں ورنہ وہ کیا اُس کی اوقات کیا؟وہ ایک گاؤں کی رہائشی تھی اگر میرے دادا جان ترس کھاکر اُس کو یہاں نہ لاتے تو باقیوں کی طرح وہ بھی گنوار ہوتی یا اب تک شادی وغیرہ بھی اُس کی ہوچکی ہوتی جسٹ امیجن تب وہ کیسی لگتی”؟حیات جو بنا سانس لیے ان گنت سوالوں کا انبار کھول لیا تھا آخر میں اُس کا لہجہ پرشوق ہوگیا تھا اِس بیچ میں وہ احناف کے بدلتے تاثرات بھی نوٹ نہیں کرپائی تھی۔۔

پلیز یار لِیو دِس ٹاپک مجھے چڑ ہورہی ہے نین تارا کا نام سن سن کر وہ کیوں ہے؟کیسی ہے؟کیا ہے؟کیا ہوتی؟یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے ہم اُس کو یاد تک نہیں ہوتے ہماری سوچ تک اُس کے دماغ میں نہیں آتی پھر میں یا تم کیوں اُس کو ڈسکس کررہے ہیں؟ہمارے مومنٹ میں اُس کا ذکر کیوں امپورٹنٹ ہے وہ یہاں نہیں ہے مگر تم نے اُس کو یہاں بھی لا کھڑا کیا ہے تم کہتی ہو تمہیں اُس سے نفرت ہے تو یار کیوں اُس کی باتیں لیکر بیٹھ گئ ہو۔۔چھوڑدو اُس کے ذکر کو میں نہیں سُننا چاہتا اُس کے بارے میں کچھ بھی۔۔۔احناف کا صبر جیسے جواب دے گیا تھا تبھی ایک سانس میں بولتا چلاگیا

یو آر رائٹ اینڈ آئے ایم سوری میں اگین اُس کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گی۔۔حیات اپنے دونوں کان پکڑتی کیوٹ سے منہ کے زاویئے بنا کر بولی

پلیز۔۔۔۔احناف محض اِتنا بولا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

یہ کس حُلیے میں تم باہر آئی ہو گھر میں جوان کزنز بھی رہتے ہیں کوئی حیا شرم تم میں بچی ہے یا نہیں۔۔۔شام کے وقت نین تارا ہال میں آئی تو اُس کو دیکھ کر منیبہ بیگم نے سخت ناگوار لہجے میں کہا جو پیروں کو چھوتے اپنے نائٹ گاؤن میں ملبوس تھی۔۔

کیا خرابی ہے اِس میں؟یہ میرے نانا کا گھر ہے میں جیسے چاہے یہاں رہ سکتی ہوں یہ آپ کا مسئلہ نہیں اگر آپ کو اِتنا مسئلہ ہے تو اُن جوان کزنز سے کہے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لے کیونکہ ہر ایک چیز کا ٹھیکا نین تارا بلوچ نے نہیں لے رکھا۔۔۔نین تارا نے بھرپور طنز لہجے میں کہا تو منیبہ بیگم کو اُس پہ سخت تاؤ آیا

کس قدر بدلحاظ بے ادب لڑکی ہو اچھا ہوا جو یہ دن دیکھنے سے پہلے رافعہ مرچُکی ہے کب کا ورنہ اِس قدر بدلحاظ اولاد کے چال چلن دیکھ کر اُس نے ویسے بھی مرجانا تھا۔۔۔منیبہ بیگم کانوں کو ہاتھ لگاکر بولی تو نین تارا نے کوفت سے اُن کو دیکھا

ماجدہ میرے لیے گرین ٹی کا کپ میرے کمرے میں لیکر آؤ فاسٹ۔۔۔”یا ایسا کرو ٹیرس پہ لے آنا”نین تارا نے منیبہ بیگم کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تبھی اُن کو نظرانداز کیے مُلازمہ کو اُونچی آواز میں کہہ کر اُس نے اپنے قدم دوبارہ اُپر کی طرف بڑھائے

دیکھا انعم تارا کو تم نے؟منیبہ بیگم بیچ وتاب کھاتی انعم بیگم سے بولی

نظرانداز کرے بھابھی بچی ہے۔۔۔انعم بیگم نے رسانیت سے کہا

بچی نہیں ہے وہ اب اگر میری بچی ایسی بدلحاظی کا مظاہرہ کرتی تو میں نے اُس کو گلا گھونٹ کر مار دینا تھا۔۔منیبہ بیگم حقارت سے بولی تو انعم بیگم نے گہری سانس ہوا کے سُپرد کرتے اُن کو دیکھا

___________❤_________

گرین ٹی کا کپ پکڑے اور سیل فون لیے تارا ریلنگ کے پاس کھڑی ہوئی تو نظر غیرارادی طور پہ احناف اور حیات پہ پڑی جن کی گاڑی ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی اور “حیات احناف کے گلے لگے اُس کے کان میں کچھ کہہ رہی تھی”گرین ٹی کا سِپ لیتے تارا نے نوٹ کیا جیسے احناف نے حیات کے گرد اپنے بازوں کا گھیرا نہیں ڈالا تھا۔۔”نین تارا نے اِس چیز کا خاص نوٹس نہیں لیا بس آسمان کی جانب اپنی نظریں اُپر کی جب اچانک اُس کو خود پہ کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی پر وہ نظرانداز کرتی ڈھیٹ بنی کھڑی رہی”پانچ منٹ بعد جب اُس نے اپنی نظریں نیچے کی تو حیات شاید گھر میں داخل ہوچُکی تھی اور احناف کی گاڑی ابھی باہر نکل گئ تھی”نین تارا گیٹ کو ہی دیکھ رہی تھی جب اُس کا سیل فون رِنگ کرنے لگا تو موبائل اسکرین کو دیکھا جہاں “life line”کالنگ دیکھ کر اُس کی رگ رگ میں سکون کی لہر ڈور گئ تھی اور بنا تاخیر کیے اُس نے کال ریسیو کی۔

مل گئ فرصت مجھے کال کرنے کی میں تو یہ سوچ کر آئی تھی کے تم ایئرپورٹ پہ میرے انتظار میں ہوگے مگر تمہاری بے چینی بے قراری سب کھوکھولی تھیں ۔بس فضول کے داعوے ہوتے ہیں محبت کے۔ایئرپورٹ لینے تو آئے مگر پھر نظر ہی نہیں آئے بول تو بہت بولے تھے کے ایک لمحے کے لیے بھی دور نہیں کروں گا خود سے”نین تارا اب وہاں موجود جھولے پہ بیٹھتی کافی خوشگوار لہجے میں بولی جب دوسری طرف سے جانے کیا کہا گیا جو اُس کی ہنسی کے جلترنگ چاروں طرف گونج اُٹھے تھے”اُس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ ایک لمحے کے لیے بھی غائب نہیں ہوئی تھی نیلی آنکھیں الگ انداز میں چمک رہی تھی۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

بھائی!

بھائی اچھا ہوا آپ آگئے مجھے یہ ٹاپک سمجھنا تھا پلیز میری ہیلپ کردے۔۔۔۔احناف گھر میں داخل ہوا تھا انابیہ اُس کی طرف بھاگ کر آتی بولی

پہلے جاؤ میرے لیے پانی لاؤ۔۔۔احناف نے کہا اور صوفے پہ ڈھے سا گیا

اوکے بھیا جی۔۔انابیہ اب جھٹ سے کچن کی طرف بھاگی

احناف مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔بینش بیگم احناف کے ساتھ بیٹھ کر بولی

جی امی بولے کیا بات ہے؟احناف سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا

سلطان کے ساتھ میں تمہاری شادی بھی کروانا چاہتی ہوں تمہارا بھی تو لاسٹ ایئر ہے اب۔۔۔بینش بیگم نے مسکراکر کہا

میری شادی ہوگی مگر یار امی پہلے میرا یہ سال کمپلیٹ ہوجائے ویسے بھی حیات ابھی پڑھ رہی ہے میں اِس لیے جلدبازی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔احناف نے جوابً مسکراکر کہا تبھی انابیہ بھی کچن سے باہر آئی

بلکل سہی کہا آپ نے اگر شادیاں ایک ساتھ ہوگی تو جسٹ ایک بار ہمارے گھر میں ایوینٹس ہوگا شادی الگ الگ ہو تو یہ زیادہ بہتر ہوتا ہے۔۔انابیہ پانی کا گلاس احناف کو دیتی بینش بیگم سے بولی

تم تو چپ رہو ہر وقت بس تمہارے دماغ میں شادی فنکشن رہتے ہیں۔۔۔بینش بیگم نے اُس کو جھڑکا

بھائی آپ خود امی کو سمجھائے۔۔۔انابیہ نے منہ بسورا

آپ کو اچانک میری شادی کا خیال کیسے آیا؟احناف نے سنجیدگی سے پوچھا

انابیہ تم اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔بینش بیگم نے انابیہ سے کہا

میں کیوں جاؤں اِتنی اہم ڈسکشن چھوڑ کر۔۔۔انابیہ نے ہاتھ کھڑے کیے

انابیہ۔۔۔۔۔بینش بیگم نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر نام لیا تو ناچار انابیہ کو اُٹھنا پڑا

مُنیبہ کا فون آیا تھا وہ چاہتی ہے حیات کی شادی نین تارا سے پہلے ہو اُس کو ڈر ہے کہی ابو سارا کچھ جہیز میں نین تارا کو نہ دے ڈالے۔۔بینش بیگم آہستہ آواز میں بتانے لگی۔۔

واٹ ربش۔۔۔احناف کا موڈ بُری طرح سے خراب ہوا

باقیوں کی طرح تمہارا بھی کیوں موڈ بگڑ جاتا ہے نین تارا کا نام سن کر۔۔۔بینش بیگم نے جاننا چاہا

امی یار کیا خاندان میں بس ایک نین تارا ہے جو سب کی لبوں پہ اُس کا نام ہوتا ہے؟آپ چچی سے کہے دے ہمیں کونسا جہیز میں انٹرسٹ ہے حیات خالی ہاتھ بھی آئے تو مجھے قبول ہے اُن کو اِس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں”احناف نے سنجیدگی سے کہا

میں بات کروں گی تم ٹینشن نہیں لو۔۔۔بینش بیگم نے اُس کو تسلی کروائی

میں کیوں ٹینشن لینے لگا۔۔احناف کو سمجھ نہیں آیا

اچھا دفع کرو اِن باتوں کو فریش اپ ہوجاؤ میں کھانا لگواتی ہوں۔۔ بینش بیگم نے کہا

اُس کی کوئی ضرورت نہیں میں باہر سے کھاکر آیا ہوں۔۔۔احناف نے بتایا

ویسے میں ایک بات سوچ رہی تھی حیات تمہاری منگیتر ہے تو اب شادی تک اُس سے میل جول کرنا زرا کم کرو۔۔۔بینش بیگم نے کہا

اور ایسا کیوں؟احناف نے پوچھا

ایسے ہی نظر لگ جاتی ہے۔۔۔بینش بیگم نے کہا تو احناف مسکرایا

نہیں لگتی نظر فکر نہیں کرے میں اب اپنے کمرے میں جارہا ہوں۔۔۔احناف اُٹھ کر بولا تو جوابً بینش بیگم نے محض اپنے سر کو جنبش دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *