Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain NovelR50557 Kia Hoi Hai Khata (Episode 10)
Rate this Novel
Kia Hoi Hai Khata (Episode 10)
Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain
حیات پہلے تم کھڑی ہوجاؤ۔۔۔۔احناف سنجیدگی سے کہتا اُس کو کندھوں سے تھامے کھڑا کیا تو حیات کھڑی ہوتی بس اُس کو دیکھنے لگی۔۔
جواب دو۔۔۔۔حیات نے اُمید بھری نظروں سے اُس کو دیکھا تو احناف اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا
سے یس
سے یس
سے یس
احناف حیات کا پرپوزل قبول کرلوں۔۔۔۔احناف کے کچھ کہنے سے پہلے وہاں کھڑے لڑکیوں اور لڑکوں نے احناف کو اُکسایا جبکہ تارا بھی اپنا کام چھوڑے احناف کو دیکھنے لگی جس کی بس وہ پشت ہی دیکھ سکتی تھی وہ سِرے سے لاعلم تھی اُس کے چہرے پر چھائے تاثرات سے
کام ڈاؤن ایوری ون حیات از مائے جسٹ بیسٹ فرینڈ”میں اُس سے شادی کیسے کرسکتا ہوں۔۔۔؟احناف اُونچی آواز میں بولا تو سب کو جیسے سانپ سوگھ گیا جبکہ حیات کی حالت ایسی تھی جیسے کاٹو بدن لہو نہیں
“دوسری طرف اُس کا جواب سن کر تارا چیئر سے پشت ٹِکاتی سرجھٹک کر کول ڈرنک کا گلاس پینے لگی اُس کو حیات کی اُڑی رنگت مزہ دینے لگی۔۔
اور کرو سرے عام مردوں کو پرپوز۔۔۔تارا طنز انداز میں بڑبڑاتی وہاں سے اُٹھ کر باہر کے راستے کی جانب بڑھی
“احناف وی آر آلسو کزنز اینڈ آئے نو وی آر بیسٹ فرینڈز بٹ
حیات
حیات
ہم اچھے کزنز اور اچھے دوست رہے تو کیا اچھا نہیں؟یہ پیار وغیرہ کا ریلیشن ہمارے درمیان کیوں لانا چاہتی ہو۔۔۔؟میں ہمارے درمیان موجود اچھی بورڈنگ کو ہمیشہ برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔۔،مگر شادی کے بعد ویسا نہیں رہے گا۔۔۔حیات خود کو کمپوز کیے کچھ کہنے والی تھی جب احناف اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر نرمی سے بولا
احناف تمہیں کیوں لگتا ہے سب بدل جائے گا؟”ٹرسٹ می ایسا کچھ نہیں ہوگا میں بہت پیار کرنے لگی ہوں تم سے۔۔۔حیات اپنے ہاتھ اُس کے گال پر رکھ کر بولی باقی سب خاموش تماشائی کا رول پِلے کرنے میں لگے ہوئے تھے۔۔۔۔
حیات یار پلیز آج تمہارا برتھ ڈے ہے اور میں نہیں چاہوں گا کہ وہ اسپوئل ہو اِس لیے لیٹس انجوائے۔۔۔احناف مسکراکر بولا
احناف حیات جیسی پرفیکٹ لڑکی تمہیں کہی اور نہیں ملے گی تم ایک بار اُس کو چانس دے کر تو دیکھو نہ۔۔۔سومل نے دونوں کے درمیان مداخلت کی
یہ میرے بس میں نہیں۔۔۔احناف سنجیدگی سے کہتا وہاں سے جانے لگا جبکہ اُس کی بات سن کر حیات نیچے بیٹھتی چلی گئ تھی”اُس نے ایسا کچھ سوچا تو نہیں تھا جیسا ہوگیا تھا۔







آپ کہاں کھوئی ہوئی ہیں؟فضا کی آواز پر تارا حقیقت کی دُنیا میں واپس آئی
کہی نہیں۔۔۔تارا نے مختصر جواب دیا
تمہاری موچ کیسی ہے؟احناف نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
آپ سے مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔تارا اجنبی لہجے میں اُس کو دیکھ کر بولی
تمہاری اوقات سے زیادہ احناف کے احسانات ہیں تم پر اِس لیے اپنی ٹون اچھی بنایا کرو”جب احناف بات کرے تو۔۔۔۔احناف کے کچھ کہنے سے پہلے اِس بار حیات درمیان میں بول پڑی
تم سے میں نے کتنی بار کہا ہے مجھے میری اوقات یاد کروانے سے اول اپنی اوقات نظر میں رکھا کرو۔۔۔۔تارا نے طنز انداز میں اُس کو بھی سُنا ڈالی
یہ جو تم اِتنا اِتراتی ہو،بتانا پسند کرو گی کہ اصل غرور ہے کس بات کا تم میں؟حیات نے تگڑی گھوری سے اُس کو نوازا
ہر چیز کا۔۔۔۔جواب فوراً حاضر ہوا تھا،جبھی وہاں گھر کے سارے مرد حضرات ایک ساتھ اندر آئے تھے
کیسی ہو تارا؟اسماعیل صاحب تارا کے پاس آئے
مچ بیٹر۔۔۔۔تارا نے اُن کو دیکھ کر مسکراکر جواب دیا
ابو کیا آپ کو نہیں لگتا آپ کو اب آفس سے ریٹائر ہونا چاہیے”میرا مطلب آپ کی طبیعت بھی آجکل بہت خراب رہتی ہے۔۔۔۔اختر صاحب اصغر صاحب کو دیکھ کر بولے
کیا ہوا ہے آپ کو دادا جان ٹھیک ہیں نہ آپ؟احناف فکرمندی سے اُن کو دیکھ کر گویا ہوا جبکہ تارا بھی پریشان سی اُن کو دیکھنے لگی
ارے مجھے کچھ نہیں ہوگیا تمہارے چچا کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔۔اُسماعیل صاحب ہنس کر بولے تو تارا اختر صاحب کو دیکھنے لگی جن کے تاثرات کچھ عجیب سے تھے۔
مطلب؟اِس بار تارا نے اُن سے پوچھا
تمہارا ماما چاہتا ہے میں اب گھر میں رہوں مگر تم بتاؤ کیا میں زیادہ بوڑھا ہوگیا ہوں؟اُسماعیل صاحب نے آخر میں اُس سے پوچھا تو تارا اپنا سر نفی میں ہلانے لگی،کیونکہ واقع میں اُسماعیل صاحب نے خود کو اِس عمر میں بھی تندرست رکھا تھا
بس تو چار سے پانچ سالوں تک میرا اپنا آفس چھوڑنے کا کوئی اِرادہ نہیں۔۔۔اُسماعیل صاحب نے ہاتھ کھڑے کیے کہا
آپ کیوں چاہتے ہیں کہ نانا آفس کو خیرآباد کرے؟”جبکہ اُن کا بزنس الگ ہے”وہ الگ سے اپنا بزنس اور ڈیلز کو دیکھتے ہیں۔۔۔ تارا نے جانچتی نظروں سے اُن کو دیکھ کر سوال داغا
ویسے ڈیڈ واقع میں بغیر کسی کام کے گھر بیٹھنے سے اچھا ہے دادا جان کام پر فوکس کرے”خالی دماغ تو ویسے بھی شیطان کا گھر ہوتا ہے۔۔۔۔حیات نے بھی باتوں میں حصہ ڈالا
یہی تو مسئلہ ہے ابو نے اپنا بزنس الگ ایسے کیا ہے جیسے ہم کوئی غیر ہو”اور آج اِتنا بڑا پراجیکٹ ہمیں مل سکتا تھا مگر وہ ابو کو مل گیا اگر ہم ساتھ ہوتے تو ہمارا ہوتا۔۔۔جواب میں اصغر صاحب نے کہا
دادا جان جو کررہے ہیں وہ آپ لوگوں کے لیے ہی کررہے ہیں۔۔۔احناف بولے بغیر نہیں رہ پایا
غلط ابو جو کررہے ہیں وہ اِس تارا کے لیے کررہے ہیں۔۔۔اختر صاحب نخوت سے بولے
تو اِس میں کیا غلط ہے؟”کل کُلاں کو اگر مجھے کچھ ہوجاتا ہے تو اللہ کی ذات کے علاوہ کون ہے میری معصوم بچی کا؟تم لوگوں کو میری تارا کو کبھی اپنی بھانجی کے روپ میں دیکھتے تو آج میں ہر فکر سے آزاد ہوتا۔۔۔۔اُسماعیل صاحب نے کہا تو چند لمحوں کے لیے وہاں خاموشی چھاگئ۔
آپ بلاوجہ پریشان ہورہے ہیں ورنہ اِس بھری دُنیا میں بہت سے چاہنے والے موجود ہیں اِس کے۔۔۔۔حیات معنی خیز نظروں سے تارا کو دیکھ کر بولی جس پر تارا نے اُس کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا
میں اب چلتا ہوں۔۔۔۔احناف کو وقت کا احساس ہوا تو بولا
رات کا کھانا کھا کر جانا۔۔۔۔اُسماعیل صاحب نے نرمی سے کہا
پھر کبھی۔۔۔احناف نے مسکراکر ٹالا
تمہاری یہ پھر کبھی والی عادت کبھی ختم نہیں ہوگی،چُپ چاپ بیٹھ جاؤ۔۔۔حیات اُس کو مصنوعی گھوری سے نوازتی اپنے ساتھ بیٹھایا
تمہیں پتا ہے ابو کو پراجکیٹ کس کمپنی سے ملا ہے؟اصغر صاحب نے احناف سے کہا
مجھے کیسے پتا ہوگا؟احناف نے لاعلمی کا مُظاہرہ کیا
مہران احمد سے جو تمہارا بوس ہے.۔۔اصغر صاحب نے بتایا تو احناف نے چونک کر اُن کو دیکھا آج آفس نہ جانے کی صورت میں وہ ہر چیز سے لاعلم تھا دوسرا اُس کی جوائننگ بھی نیولی تھی جس وجہ سے اُس کو زیادہ کچھ پتا نہیں تھا
جو آپ کے مُخالف تھے،جن کی وجہ سے میرا وہاں جاب کرنا آپ کو ناگوار لگ رہا تھا آپ اُن کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے تھے جو نہیں ہوئی تو آپ کو افسوس ہورہا ہے۔۔۔احناف کو جیسے یقین نہیں آیا
صلح ہوگئ ہے ہماری۔۔۔اصغر صاحب بنا اُس کو دیکھ کر بولے
کانگریس نانا جان آپ کو۔۔۔تارا مسکراکر اُسماعیل صاحب سے بولی
شکریہ میری بچی۔۔۔وہ بھی جوابً مسکرائے
یہ سب چیزیں؟اختر صاحب نے کی نظر اب ہر جگہ پھیلے ہوئے شاپنگ بیگز پر پڑی
منگنی کی شاپنگ کرنے گئے تھے اور آپ کو پتا ہے چچی جان نے انگیجمنٹ ایونٹ کے لیے جو مجھے لہنگا لیکر دیا ہے وہ پورے پانچ لاکھ کا ہے۔۔۔۔حیات نے پرجوش انداز میں اُن کو بتانے لگی تو منیبہ بیگم نے اُس کی نظر اُتاری
فضول خرچی “چند گھنٹوں کے لیے جو ڈریس خریدہ ہے اُس پر اِتنا پئسا برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔اُسماعیل صاحب کو یہ بات پسند نہیں آئی
میں نے اُن سے کہا تھا منگنی کی تقریب اگر سادگی سے نہیں بھی تو اِتنا مہنگا ڈریس لینے کی کیا تُک بنتی ہے اِس سے اچھا بندہ غریبوں کے لیے کچھ کرے۔۔۔۔انعم بیگم نے بھی کہا
تم تو چُپ کرو میڈل کلاس گھرانے سے عورت بیاہ لاؤ تو یہ باشن سُننے کو ملتا ہے۔۔۔اصغر صاحب نے بنا کسی کی موجودگی کا لحاظ کیے اُن کو سُنائی
ڈیڈ پلیز۔۔۔۔ازلان جو ابھی گھر میں داخل ہوا تھا سب کے سامنے اُن کا لہجہ اپنی ماں سے بات کرتے ہوئے دیکھ کر بامشکل اُس نے اپنا لہجہ نارمل کیا تھا جبکہ اُس کے علاوہ تارا بھی کافی ناپسندیدہ نظروں سے اصغر صاحب کو دیکھ رہی تھی جنہوں نے اپنی بیوی کو یوں سب کے سامنے سر جُھکانے پر مجبور کردیا تھا۔
میرے باپ بننے کی ضرورت نہیں تمہیں۔۔۔ازلان کو سخت نظروں سے گھور کر کہتے وہ وہاں سے اُٹھ گئے ماحول میں اچانک سے ایک تناؤ سا آگیا تھا۔
امی آپ میرے لیے کھانے کا بولے کسی سے۔۔۔ازلان نے سنجیدگی سے خاموش کھڑی انعم بیگم سے کہا تو اُنہوں نے مسکراکر سراثبات میں ہلایا”اُن کی مسکراہٹ میں چُھپے درد کو جان کر ازلان کو اپنے باپ پر افسوس ہونے لگا مگر اختر صاحب کچھ اور ہی سوچنے میں محو تھی یکایک اُن کی نظریں احناف پر گئ۔۔۔
“ویسے یہ ڈریس زیادہ مہنگا ہوسکتا تھا اگر احناف تمہیں دلاتا تو کیوں احناف؟”تم نے اپنی ہونے والی بیوی کا ڈریس کیوں نہیں لیا؟”کیا انگھوٹی تمہاری طرف سے ہوگی؟اختر صاحب نے اپنی نظریں احناف پر گاڑھی جو اپنے سیل فون میں جانے کیا تلاش کررہا تھا۔۔۔۔
یہ کیسا سوال ہے احناف ہو یا بینش آپا اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ لڑکے والوں سے لڑکے کی ماں کرتی ہے۔۔۔۔احناف کے بجائے منیبہ بیگم نے کہا
احناف لیکر دیتا تو اور اچھا ہوتا کیوں حیات؟اختر صاحب نے درمیان میں حیات کو گھسیٹا
احناف نے میرے لیے ایک خوبصورت سا بریسلیٹ بنانے کا دیا ہے جیولر کو اور جہاں تک مجھے اندازہ ہوتا ہے وہ کافی ایکسپینسو ہے۔۔۔۔حیات نے مسکراکر بتایا تو””سومل اور فضا کا منہ پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا جبکہ احناف تعجب سے حیات کو دیکھنے لگا
اچھا دیکھتے ہیں خیر مُنیبہ تم میرے کپڑے نکالوں میں فریش ہوجاؤں۔۔۔اختر صاحب اِتنا کہہ کر اُٹھ گئے
یہ سب سمیٹو تم لوگ۔۔۔۔مُنیبہ بیگم اختر صاحب کے پیچھے جاتی اُن کو بولنے لگی
آپ بھی فریش ہوجائے۔۔۔تارا اُسماعیل صاحب کو دیکھ کر بولی
میڈ سے کہو کپڑے نکالے میرے۔۔۔اُسماعیل صاحب بھی اُٹھ کھڑے ہوئے
تمہارا زیادہ چلنا اچھا نہیں تمہیں بیڈ ریسٹ کرنا چاہیے۔۔۔۔احناف نے اُس کو ایک پاؤ پر زور دے کر اُٹھتا دیکھا تو بے ساختہ بولا
آپ کے بتانے کا شکریہ مگر میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔تارا بنا اُس کو دیکھ کر بولی،اور آہستہ قدم اُٹھاکر وہاں سے جانے لگی۔۔۔۔
“حیات میری بات سُننا۔۔۔۔حیات بھی اُٹھنے لگی تو احناف نے اُس کو مُخاطب کیا
ہاں کہو کیا بات ہے؟حیات نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
یہ تم نے چچا جان سے جھوٹ کیوں بولا؟”کہ میں نے تمہارے لیے جیولر کو ایکسپینسو بریسلیٹ کا کہا ہے۔۔۔۔احناف نے سنجیدگی سے پوچھا
اِس میں جھوٹ کیا ہے؟”اور تم زیادہ بنو نہیں کیونکہ میں نے شاپنگ کرنے کے درمیان تمہیں جیولر کے پاس جاتے دیکھا تھا بس وہ ڈیزائن نہ دیکھ پائی جو تم اُس کو بتارہے تھے۔۔۔حیات شوخی سے بولی
حیات ایک بار تم مجھ سے بات تو کرتی،سوری ٹو سے مگر وہ میں تمہارے لیے نہیں بنانے کا بول رہا تھا بلکہ میرے ایک دوست نے کہا تھا وہ اُس کا تھا۔۔۔احناف نے اُس کی غلطفہمی دور کرنے کی کوشش کی
اوو کوئی نہیں تم ویسا میرے لیے بھی بنانے کا کہنا کیونکہ اِنگیجمنٹ گفٹ تو بنتی ہے نہ۔۔۔۔حیات عام لہجے میں بولی
ضرور پر ابھی پوسیبل نہیں۔۔۔احناف نے گہری سانس بھری
مطلب؟حیات ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی
ڈیڈ نے مجھے ایک طرح سے عاق کرلیا ہے جب تک میں جاب کروں گا تب تک اُن سے مجھے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔۔احناف سرسری لہجے میں بولا تو حیات ہونک بنی اُس کا چہرہ تکنے لگی اُس کو یقین نہیں آیا کہ ابھی جو اُس نے جو کچھ سُنا وہ سچ تھا یا جھوٹ؟
احناف سیریسلی؟”اِتنی بڑی بات تم نے مجھ سے چُھپائی آئے مین یہ سب کیا ہے؟اِتنا سب کچھ اگر تمہارے ساتھ محض ایک جاب کی وجہ سے ہورہا ہے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے تم یہ جاب؟حیات جھنجھلاہٹ سے بولی
نہیں چھوڑ سکتا میں یہ جاب یہ جاب”بڑی مشکل سے مجھے حاصل ہوئی ہے۔۔۔۔احناف سنجیدگی سے بولا
مگر
ہم کسی اور موضوع پر بات کرے گے۔۔۔۔حیات کچھ کہنے لگی تو احناف نے اُس کی بات درمیان میں کاٹی جس پر حیات بس اُس کو دیکھتی رہ گئ۔۔۔۔








ماضی!!!
ہیلو نین کیسی ہو؟احناف تارا کے کمرے میں آتا خوشگوار لہجے میں اُس سے حال دریافت کرنے لگا،جواب میں تارا خاموش رہی وہ بس اپنا اسائمنٹ پورا کرنے میں مگن رہی
مجھے پتا چلا کل تمہارا ٹیسٹ ہے میتھ کا،آؤ میں تیاری کروا دیتا ہوں۔۔۔۔احناف نے اُس کو چُپ دیکھا تو دوبارہ بات کی شروعات کی مگر اِس بھی تارا نے کوئی رسپانس نہیں دیا
تم
تارا بی بی آپ کے ٹیوٹر آپ کا ڈرائنگ روم میں انتظار کررہے ہیں۔۔۔۔احناف کچھ کہنے والا تھا جب میڈ کی آواز پر وہ حیرت سے کبھی اُس کو دیکھتا تو کبھی تارا کو۔
ٹیوٹر کیوں؟احناف ناسمجھی سے میڈ کو دیکھنے لگا
اِن کو پڑھانے کے لیے۔۔۔۔میڈ نے تارا کی طرف اِشارہ کیے بتایا جو اپنی کتابیں سمیٹ رہی تھی
پڑھائی میں تمہاری مدد تو میں کرتا ہوں پھر یہ ٹیوٹر کیوں؟احناف نے سنجیدگی سے اِس بار اُس سے پوچھا پر تارا بنا جواب دیئے کمرے سے نکلنے لگی تو اِس بار احناف نے اُس کا نازک بازو دبوچا
مجھے جواب چاہیے۔۔۔۔احناف نے اپنی بات پر زور دیا
میں آپ کے سامنے جوابدے نہیں ہوں اور پلیز آپ میرا بازو چھوڑے۔۔۔تارا بے تاثر لہجے میں بولی
ناراض ہو میری کسی بات پر؟احناف نے اندازہ لگایا
ناراض دوستوں سے ہوا جاتا ہے اور آپ میرے فرینڈ نہیں میں آپ کو اپنا فرینڈ نہیں مانتی۔۔۔۔تارا اُس کا ہاتھ جھٹک کر بولی
اِس بدتمیزی کی وجہ؟غُصے سے احناف کا بُرا حال ہونے لگا
مجھے آپ کی ہمدردی کی ضرورت نہیں میں نے کالج میں آپ کی اور حیات کی باتیں سُن لی تھی”لہذا یہ ہمدردی والا ڈرامہ آپ کسی اور سے کرے مجھ سے نہیں۔۔۔۔تارا نے آخر اپنے لہجے کی وجہ بتائی
تم غلط
مجھے سہی غلط کچھ نہیں جاننا مجھے بس جو کہنا تھا وہ میں کہہ چُکی۔۔۔۔تارا نے اُس کی بات کاٹی
حیات تمہارے بارے میں ٹھیک کہتی ہے تم سے بات کرنی چاہیے ہی نہیں۔۔۔غُصے میں احناف کے منہ میں جو آیا وہ بولتا چلاگیا
اگلی بار اگر وہ کچھ میرے بارے میں کہے تو اُس کی بات ماننے میں دیر نہ لگائیے گا۔۔۔۔تارا کو جیسے کوئی فرق نہیں پڑا
تم سے بات کرنے کے لیے میں بھی کوئی مرا نہیں جارہا گو ٹو ہیل۔۔۔۔احناف کو چڑ ہونے لگی
اگر کبھی مجھ سے بات کرنے کے لیے مرنے لگے تو سچ مچ میں مر ہی جائیے گا۔۔۔۔تارا اپنی بات کہہ کر وہاں رُکی نہیں پیچھے احناف نے اپنے ہاتھ کی مٹھی زور سے دیوار پر ماری تھی۔۔۔۔”اُس کو سمجھ نہیں آیا وہ کیوں اُس کی باتوں پر اِتنا پریشان یا غُصہ کیوں ہورہا ہے









حال!
آج احناف اور حیات کی منگنی تھی جس وجہ سے گھر میں بھاگ ڈور مچی ہوئی تھی”حیات”سومل مومل فضا یہ سب لڑکیاں پارلر تیار ہونے چلی گئ تھیں،جبکہ تارا اپنے گھر میں تھی اُس کا پاؤ اب قدرے بہتر تھا جس پر وہ اب مطمئن تھی۔۔۔۔
سال کا بہت بڑا ماڈلنگ شو تھا جس کے لیے تم نے مجھے اِجازت نہیں دی۔۔۔۔تارا خفگی بھرے لہجے میں اپنے سامنے کھڑے شخص سے بولی جو اُس کے ہاتھوں میں چوڑیاں پہنا رہا تھا۔۔۔۔
ماڈلنگ کا مطلب ہوتا ہے کپڑوں کی نُمائش کرنا ناکہ اپنے جسم کی نمائش کرنا”اور تم جس شو کی بات کررہی ہو وہ کوسٹیوم تم دیکھ چُکی ہو پھر اِس ناراضگی کی وجہ؟وہ سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر بولا
ایک بار تم بول دیتے ڈریس چینج ہوجاتا۔۔۔تارا نے کہا تو اُس نے تارے کے دونوں ہاتھ تھامے
تمہیں ماڈلنگ کرنے کا شوق تھا تم نے کہا میں نے مان لیا لاکھ اعتراضات ہونے کے باوجود میں تمہاری خوشی کا سوچ کر خاموش رہا پر یار تم خود سوچو میں کیسے تمہیں ایسے کپڑوں میں دیکھوں گا؟”اور کیسے میں چاہوں گا کہ اِتنے لوگوں کی نظریں تم پر ہو اِتنا بے غیرت نہیں ہوں میں۔۔۔وہ بے لچک انداز میں بولا
پر
ہشششش
تارا کچھ کہنے والی تھی جب اُس کے ہونٹوں پر اُنگلی رکھ کر اُس کو چُپ کروایا
آج تمہیں بس ہماری بات کرنی چاہیے”تمہیں یاد ہے نہ اپنا واعدہ؟وہ اُس کو دیکھ کر وارفتگی سے بولا تو تارا پہلی بار مسکرائی
مجھے سب یاد ہے بس تم نہ بھولنا۔۔۔۔تارا اُس کے چہرے پر پھونک مار کر بولی
تو پھر رات کو آجاؤں میں؟وہ اُس کو دیکھ کر آنکھ کا کونا دباکر شرارت سے بولا جس پر تارا کے گال تپنے لگے
فضول مت بولو ابھی وہ وقت نہیں آیا۔۔۔تارا نے اُس کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا تو وہ ہنس پڑا
جیسا تم کہو اور آؤ تمہیں گھر ڈراپ کردوں۔۔۔وہ مسکراکر اُس کا ماتھا چھو کر بولا
میں اپنے گھر کے ٹیرس پر ہی موجود ہوں۔۔۔۔تارا نے اُس کو جتایا
میں اِس گھر کی بات نہیں کررہا وہ گھر جو ہمارا ہوگا”ہم دونوں کا۔۔۔۔وہ بھی اُس کو جتانے کی خاطر بولا
ابھی نہیں۔۔۔۔تارا نے اپنا سر نفی میں ہلایا
اچھا پھر نیچے جاؤ۔۔۔۔اُس نے کہا
دل نہیں کررہا۔۔۔تارا منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی
جانا تو پڑے گا۔۔۔۔وہ شانے اُچکاکر بولا تو تارا ناچار اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔









کیسی لگ رہی ہوں میں؟حیات نے پرجوش لہجے میں سومل سے ہزار بار کیے جانے والا سوال کیا
بہت حسین وجمیل لگ رہی ہو اب اپنے آپ پر کنٹرول پاؤ کیونکہ سب لوگ تمہاری بے چینی نوٹ کررہے ہیں۔۔۔۔سومل اُس کے چہرے پر آتے بال ٹھیک کرتی بولی تو حیات مسکرائی
بیٹھ جائے جیجا صاحب۔۔۔۔اپنے ساتھ احناف کو لائے فضا شوخ لہجے بولی تو وہ مسکرایا اور حیات کے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔
السلام علیکم ۔۔۔۔حیات نے سلام کیا
وعلیکم السلام پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔۔احناف اُس کو دیکھ کر مسکراکر بولا جس پر حیات کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔۔
میری آپی کو ہمیشہ خوش رکھیے گا۔۔۔۔فضا نے اِتراکر کہا
تمہیں کہنے کی ضرورت نہیں وہ ویسے بھی ہمیشہ خوش رہے گی۔۔۔ارسلان نے اُس کے بال بگاڑے تو فضا نے اُس کو گھورا
میرے بالوں کو کچھ نہ کرو۔۔۔فضا نے تپ کر کہا
بھائی ون سیلفی۔۔۔سب کو سائیڈ پر آتی انابیہ اُن دونوں کے درمیان بیٹھی اور اپنا سیل فون آگے کیا
شکر کسی نے تو عقل والی بات کہی۔۔۔۔مومل نے کہا تو انابیہ ہنس پڑی
فضا جاؤ،خاور بھائی کو بھی آنے کا کہو۔۔۔۔چند تصویروں کے کلک ہونے کے بعد حیات نے فضا سے کہا
ابھی جاتی ہوں۔۔۔فضا اُس کی بات پر فورن سے اُٹھ کھڑی ہوئی جبھی وہاں بڑے آئے تو باقی سب لوگ سائیڈ پر کھڑے ہوئے
یہ لو بیٹا احناف کو انگھوٹی پہناؤ۔۔۔۔منیبہ بیگم نے ایک انگھوٹی حیات کی طرف بڑھائی جس کو حیات نے جلدی سے اپنے ہاتھوں میں لی اور مسکراکر احناف کو دیکھا جو براؤن کلر کے شلوار قمیض پہنے کندھوں پر شال اُوڑھے بہت وجیہہ لگ رہا تھا۔۔۔
ہاتھ دے جناب۔۔۔۔حیات نے شوخ نظروں سے اُس کو دیکھ کر اپنی ہتھیلی اُس کے سامنے پھیلائی تو احناف نے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دیا تو تھوڑی چھیڑ چھاڑ کے بعد حیات نے اُس کی انگلی میں انگھوٹی ڈالی تو ہر کوئی تالیاں بجانے لگا جبکہ اُس کے کزن زور شور سے ہوٹنگ کرنے لگے۔۔۔۔۔۔
اب تمہاری باری۔۔۔۔۔بینش بیگم آنکھوں ہی آنکھوں میں اُن دونوں کی نظریں اُتارتی احناف کی طرف ایک قیمتی انگھوٹی بڑھائی جو اُن کی خاندانی انگھوٹی تھی”اور ہر ساس اپنی بڑی بہو کو دیا کرتیں تھی۔۔۔
ارے بینش آپا یہ انگھوٹی آپ نے سلطان کی منگیتر کو نہیں پہنائی تھی کیا؟منیبہ بیگم احناف کے ہاتھوں میں موجود انگھوٹی کو دیکھ کر بولی
وہ کہتی ہے اولڈ فیشن ہے تو سوچا اپنی حیات کو دوں جو اِس کا خیال بھی رکھے گی اور سنبھالے گی بھی۔۔۔بینش بیگم نے کہا تو سب مسکرائے جبکہ احناف غور سے انگھوٹی کو دیکھنے لگا جو اِتنی پُرانی ڈیزائن کی بھی نہیں تھی۔۔
سوچ کیا رہے ہو پہناؤ۔۔۔۔۔حیات نے احناف کو گم سم دیکھا تو ایک ٹھوکا مارا
پہناتا ہوں۔۔۔احناف اُس کی اِس قدر بے چینی پر ہنس پڑا
یہ لو میرا ہاتھ۔۔۔حیات نے مسکراہٹ دبائے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دیا تو احناف اُس کے ہاتھ کی انگلی میں انگھوٹی پہنانے والا تھا جب ایک شور نے اُن کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی
یہ کیسا شور ہے؟انعم بیگم پریشان ہوئی
چچی جان
یہاں آئے فضا سیڑھیوں سے گِرگئ ہے۔۔۔۔مومل کی حواس باختہ آواز سن کر ہر کوئی اپنی جگہ شد رہ گیا تھا جبکہ حیات اور مُنیبہ بیگم بھاگ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھے تھے”اچانک سے افراتفری کا ماحول بن گیا تھا۔۔۔۔
احناف نے بینش بیگم کو نہیں دیکھا تو وہ بھی انگھوٹی جیسے تیسے کرتا اپنی جیب میں ڈالے وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا اور جلدی سے سیڑھیوں کی طرف آیا جہاں فضا نیچے بے سُدھ ہوش وحواس سے بیگانہ پڑی تھی جبکہ اُس کے پاس حیات پریشان سی اور نم نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی مُنیبہ بیگم نے تو ابھی سے واویلہ مچایا ہوا تھا۔۔۔
کال دا ایمبولنس۔۔۔تارا کوفت بھری نظر ماتم کُناں منیبہ بیگم پر ڈالتی ازلان سے بولی جو خود شاید اُسی کام میں لگا ہوا تھا۔۔۔۔
