Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kia Hoi Hai Khata (Episode 11)

Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain

پریشان نہیں ہو فضا کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔احناف نے حیات کو پریشان دیکھا تو اُس کو تسلی کروانے کے غرض سے بولا وہ لوگ فضا کو اب ہوسپٹل لائے تھے جہاں اُس کو ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کیا گیا تھا۔

اِن شاءاللہ۔۔۔۔حیات محض یہی بول پائی اُس کو بس وارڈ سے ڈاکٹر کے نکلنے کا انتظار تھا تاکہ وہ کوئی تسلی بخش جواب دے۔۔۔

کچھ بتایا ڈاکٹرز نے؟اختر صاحب اُن لوگوں کے پاس آکر استفسار ہوئے

ابھی تک تو نہیں۔۔۔حیات نے جواب دیا

یہ ہوا کیسے؟اختر صاحب فکرمندی سے گویا

ہیل والی سینڈل پہنی ہوئی تھی ہوسکتا ہے پاؤں اٹک گیا ہو خوش بھی تو بہت تھی نہ آج،یہاں سے وہاں بس بھاگے جارہی تھی۔۔۔۔حیات اُن کی بات کے جواب میں بولی

خاور بھائی کہاں ہے؟احناف کو خاور نظر نہیں آیا تو پوچھا

اُس کو ضروری کام تھا۔۔۔۔اختر صاحب نے بتایا

آج کیا ضروری کام پڑگیا؟احناف کو سمجھ نہیں آیا

آگیا ہوگا بہت کام ہوتے ہیں اِنسان کو۔۔۔اختر صاحب کو چڑ ہونے لگی”جبھی روکھے لہجے میں بولے

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

تم کسی اور کو ڈیٹ کیسے کرسکتی ہو؟خاور بے یقین نظروں سے مایا کو دیکھ کر بولا جس کو اُس نے کسی لڑکے کے ساتھ دیکھا تھا اور اُن دونوں کی نزدیکیوں سے اُس کو اندازہ ہوگیا کہ مایا اُس لڑکے میں کافی انٹرسٹ لے رہی ہے جو بات اُس کو سخت چُبھ رہی تھی۔۔۔

حیران ایسے ہورہے ہو جیسے خود تم نے میرے علاوہ کسی اور لڑکی کو آنکھ اُٹھاکر نہیں دیکھا۔۔۔۔مایا طنز لہجے میں بولی

ہاں واقعی میں تمہارا میری زندگی میں آنا خوش بخت ثابت ہوا ہے اور جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو میں نے کسی اور لڑکی کو آنکھ اُٹھاکر نہیں دیکھا کیونکہ آئے ریئلی لو یو۔۔۔۔خاور اُس کو اپنے روبرو کھڑا کیے شدت سے بولا جس پر مایا نے کوفت بھری نظروں سے اُس کو دیکھا

پلیز خاور ایسی اسٹوپڈ لائنز تم میرے سامنے مت بولا کرو میں فیڈ اپ ہوچکی ہوں۔۔۔۔مایا اُس سے دور کھڑی ہوئی

تم میری محبت سے بیزار ہوچکی ہو سیریسلی مایا؟خاور کا لہجہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا

دیکھو خاور ہمارے درمیان جو کچھ تھا وہ کب کا ختم ہوچکا ہے یہ میں کلیئر کرچکی ہوں ایک بار نہیں بار بار مگر آئے ڈونٹ نو تمہیں میری بات سمجھ کیوں نہیں آتی۔۔۔۔مایا نے اِس بار سخت لہجہ اپنایا

کیونکہ میں تم سے بے انتہا پیار کرتا ہوں”شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے تم خود بتاؤ کیا کوئی تمہیں میرے علاوہ اِتنا چاہ سکتا ہے جتنا میں چاہتا ہوں؟خاور نے سراُٹھایا

محبت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے یہاں خاور میں مایا ہوں جس کے ایک اِشارے پر ہر کوئی قطار کھڑی کرلیتا ہے۔۔۔۔مایا مغرور لہجے میں بولی اُس کی آنکھوں میں خاور کے لیے کوئی احساس نہیں تھا جس کو دیکھ کر خاور کا دل کٹ کے رہ گیا تھا،جبکہ اُس کی حالت سے بے نیاز مایا اپنا پرس اُٹھائے ہیل کی ٹِک ٹِک کرتی برابر سے گزرگئ تھی اور خاور کو لگا جیسے اُس کے قدم زمین پر منجمد ہوگئے ہیں۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ڈرا دیا تھا تم نے تو ہمیں۔۔۔سومل فضا کو مصنوعی گھوری سے نواز کر بولی تو وہ بامشکل مسکرا پائی

تم گِری کیسے سیڑھیوں سے؟حیات اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولی

پاؤں سِلپ ہوگیا تھا میرا۔۔۔۔فضا نے آہستگی سے بتایا

شکر ہے زیادہ خطرے والی کوئی بات نہیں تھی۔۔۔منیبہ بیگم اُس کا صدقہ اُتار کر بولی

میں احناف کو دیکھ کر آتی ہوں۔۔۔۔حیات نے “احناف کی غیرموجودگی نوٹ کی تو کہا اور اُٹھ کر باہر آئی

احناف۔۔۔۔حیات نے احناف کو جاتا دیکھا تو اُونچی آواز میں اُس کو پُکارا

ہممم کہو۔۔۔۔احناف اُس کی طرف متوجہ ہوا

کہاں جارہے تھے؟حیات نے پوچھا

ڈسپینسری۔۔۔احناف یک حرفی بولا

اچھا میری رِنگ جو پہنا نہیں پائے تھے تم۔۔۔۔۔حیات نے مسکراکر اپنا ہاتھ آگے کیے کہا تو جوابً احناف بھی مسکراتا اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر رِنگ ٹٹولنے لگا تو چونک سا گیا۔

کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟حیات نے بغور اُس کے تاثرات جانچے

ایک منٹ۔۔۔۔احناف اُس کو اِشارہ دیتا ٹھیک سے چیک کرنے لگا

احناف ڈونٹ ٹیل می کہ انگھوٹی گُم ہوگئ ہے۔۔۔حیات نے بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

حیات میں نے افراتفری میں انگھوٹی یہی جیب میں ڈالی تھی پر اب مل نہیں رہی۔۔۔۔احناف پریشانی کے عالم میں بولا

او گاڈ۔۔۔۔حیات اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرتی اُس کو دیکھنے لگی.

مجھے یقین نہیں ہورہا احناف کہ تم نے اِتنی مہنگی اسپیشلی ہمارے خاندانی انگھوٹی کو گُم کردیا تم اِتنے غیرذمیدار کیسے ہوسکتے ہو؟تمہیں اندازہ تک نہیں اُس کی قیمت کا۔۔۔حیات کے لیے یہ بات ہضم کرنا مشکل تھی۔۔

جان کر نہیں کیا ایسا کچھ میں نے “تھوڑی دیر قبل جیسی صورتحال بن گئ تھی تب گِرگئ ہوگی تم گھر کال کرو کیا پتا کسی میڈ کے ہاتھ لگی ہو صفائی کے دوران۔۔۔۔۔ایک خیال کے آتے ہی احناف نے اُس سے کہا

دعا ہی کرسکتی ہوں میں۔۔۔۔۔حیات سرجھٹک کر اُس سے کہتی گھر کا نمبر ملانے لگی

مل جائے گی پریشان نہ ہو تم۔۔۔۔احناف نے سنجیدگی سے کہا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

کچھ دن بعد!

بس کردو یار یہ سوگ منانا وہ بس ایک انگھوٹی تھی۔۔۔سومل نے کوفت سے حیات کو دیکھ کر کہا کیونکہ اُس کو اُس کی انگیجمنٹ رِنگ نہیں ملی تھی گھر کا ایسا کونا نہیں تھا جہاں اُنہوں نے انگھوٹی کو تلاش نہ کیا ہو مگر وہ نہیں تھی ملنی تو نہ ملی جس کا افسوس حیات کا بہت ہوا تھا اور اُس کے غم میں وہ ابھی تک تھی۔۔۔

وہ صرف ایک انگھوٹی نہیں تھی یار۔۔۔۔حیات نے اُس کو گھورا

جو بھی مگر بینش چچی نے اپنے جیولر کو ایسی انگھوٹی بنانے کا کہا ہے نہ تو بس بات ختم تم اب کیوں پریشان ہوتی ہو جب کہ تمہیں ویسی کی ویسی پلس نیو انگھوٹی ملے گی۔۔۔۔حیات نے اُس کو سمجھانے کی خاطر کہا

جو چچی اب دے گی اُس میں اور گم ہوئی انگھوٹی میں فرق ہے”وہ ہماری خاندانی انگھوٹی تھی جس کو میں پہننا چاہتی تھی۔۔۔جو ہر بڑی بہو کو ملتی ہے امی کو نہ مل پائی پر میں خوشقسمت تھی جو مجھے مل جاتی اگر احناف سے کوتاہی سرزند نہ ہوتی تو۔۔۔۔حیات سرجھٹک کر بولی

رلیکس اور بھول جاؤ یہ سوچو احناف کو گِفٹ کیا دینا ہے آفٹر آل اُس کا برتھ ڈے آرہا ہے۔۔۔مومل نے باتوں میں حصہ لیا

اُپسس میں تو بھول گئ تھی۔۔۔۔حیات نے بے ساختہ اپنے سر پہ ہاتھ مارا

اب تو یاد آگیا نہ تو سوچو اُس کو کیا سرپرائز دینا ہے۔۔۔سومل نے طنز کیا

ہاں سوچتے ہیں۔۔۔۔حیات پرسوچ لہجے میں بولی

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ماجدہ نانا جان نے ناشتہ کرلیا؟تارا صبح سویرے اپنے شوٹ کے لیے تیار ہوتی گھر سے باہر جانے لگی تھی جب باہر اُس کو اُسماعیل صاحب کی گاڑی نظر آئی تو رُک کر میڈ سے پوچھا

جی وہ تو صبح سے اپنے کمرے میں موجود ہیں۔۔۔۔ماجدہ نے بتایا تو اُس کا ماتھا ٹھٹھکا

کیا مطلب وہ صبح سے اپنے کمرے میں ہے تم کیا اُن کو جگانے نہیں گئ؟آج نو بجے اُن کی اہم میٹنگ تھی۔۔۔۔تارا وال کلاک میں وقت دیکھتی سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر بولی

اُن کے کمرے کا دروازہ لاک ہے میں نے نوک کیا تھا پر کوئی رسپانس نہیں کیا تھا اُنہوں نے۔۔۔ماجدہ نے بتایا تو تارا کو اب فکر ہوئی

مجھے ڈوپلیکیٹ چابی لاکر دو۔۔۔اپنا ہینڈ بیگ ٹیبل پر رکھتی تارا نے اُس سے کہا تو وہ سر کو جنبش دیتی کچن کی طرف گئ۔۔۔

یہ لے۔۔۔تھوڑی دیر میں وہ واپس آتی چابی تارا کی طرف بڑھائی جس کو پکڑ کر وہ تیزی سے اُسماعیل صاحب کے کمرے کی طرف گئ۔۔

“یہ تو تارا کا پرس ہے شاید؟”چیک کرتی ہوں کیا پتا اِس کے انون بوائے فرینڈ کا کوئی کِلو مل جائے۔۔۔۔

“اُس کے جانے کے بعد نیچے حیات آئی تھی اور ٹیبل پر تارا کے پرس دیکھ کر اُس کے دماغ میں ایک خیال آیا تھا جبھی خود سے بڑبڑاتی وہ ایک احتیاطی نظر آس پاس حال میں ڈوراتی اُس کا پرس اپنے ہاتھ میں لیا اور زِپ کھول کر اندر ٹٹولنے لگی تو پئسو کے ساتھ ساتھ اُس کو تارا کا قیمتی موبائل نظر آیا۔۔۔

کوئی رِنگ وغیرہ نہیں اِس میں جسٹ فضول چیزیں ہیں موبائیل کا پاسورڈ بھی جانے کیا ہوگیا۔۔۔حیات کو اُس کے مطلب کی چیز نظر نہیں آئی تو اُس نے اُس کے موبائل کی اسکرین آن کی جہاں وال پیپر پر اُس کی تصویر تھی مگر پاسورڈ دیکھ کر اُس کا منہ بن گیا تھا۔۔۔

ضرور اپنا نام ہوگا۔۔۔۔حیات اندازہ لگاتی جلدی سے اُس کا پورا نام لکھا جو کی غلط ثابت ہوا مگر پھر اُس نے ہار نہیں مانی”اور نین تارا سے بس تارا نام کی اسپیلنگ لکھی اُس پر بھی لاک نہیں کُھولا تو کچھ سوچ کر اُس نے”نین”لکھا مگر پھر بھی لاک ان لاک نہیں ہوا تو اُس کو غُصہ آنے لگا مگر پھر اُس کو یاد آیا وہ اپنی بہن چاندنی سے بہت پیار کرتی تھی تو شاید اُس کے نام کا پاسورڈ لگایا ہو مگر بے سود کیونکہ یہ پاسورڈ بھی غلط تھا اور جتنے غلط پاسورڈ اُس نے لگادیئے تھے کہ اب اُس کو تیس سیکنڈز کے بجائے ایک منٹ کا انتظار کرنا پڑرہا تھا اور دل تیزی سے دھڑک الگ سے رہا تھا کیونکہ چوری چُھپے موبائل یوز کرنے کا تجربہ اُس کا پہلا تھا وہ جانتی تھی اگر تارا کو زرا بھی شک ہوا تو وہ ضرور اُس سے سوال جواب کرے گی۔۔۔۔

کیا مصیبت ہے یار ایسا بھی کیا خوفیہ پاسورڈ ہوگا۔۔۔۔اب ایک غلط پاسورڈ سے پھر سیکنڈز آنے لگے تو حیات کو چڑ ہونے لگی جبھی اُس نے بے دلی سے موبائل اُس نے تارا کی پرس میں واپس ڈالا

ہو نہ ہو ضروری پاسورڈ بھی اُس لڑکے کے نام کا ہوگا۔۔۔حیات کو اب اُس لڑکے پر شک ہونے لگا

کون ہوگا جو اِس بونی کو دل دے بیٹھا ہے”خوبصورت آنکھوں اور گوری رنگت کے علاوہ ہے کیا اُس میں۔۔۔۔حیات سرجھٹک کر نخوت سے بڑبڑائی بلاجواز اچانک سے اُس کا موڈ خراب ہوگیا تھا۔۔۔۔۔

❤

نانا جان آپ ٹھیک ہو؟تارا دروازہ کھول کر جلدی سے اُسماعیل صاحب کی طرف بڑھی جو بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے

ہاں میں ٹھیک ہوں میری جان۔۔۔۔اُسماعیل صاحب نے اُٹھنے کی کوشش کی مگر سر میں ایسی ٹیسیں اُٹھی کہ وہ واپس بیڈ پر ڈھے سے ہوگئے

نانا۔۔۔تارا کے چہرے کی رنگت پل بھر میں اُڑی

ارے کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں بس رات کو شاید نیند پوری نہیں ہوئی تبھی سر میں بہت درد ہے۔۔۔اُسماعیل صاحب نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجائی

آٹھ بج چُکے ہیں نانا اور آپ پانچ بجے کے اُٹھنے والے شخص ہیں”آپ کی روٹین اِتنی پختہ ہوتی ہے کہ رات کے وقت آپ چاہے جس ٹائیم پر سوئے مگر پھر بھی بغیر الارام کے آپ وقت پر اُٹھ جایا کرتے ہیں اور آج تو آپ کی ایک بہت اہم میٹنگ تھی اور یہاں آپ نے سر درد کا بہانا بنالیا ہے۔۔۔۔تارا اُفسوس سے اُن کو دیکھ کر بولی

بیٹا میں خود حیران ہوں ایک تو رات میں مجھے نیند جلدی آگئ اُپر سے سر الگ درد کرنے لگا ہے ایسی حالت میں مشکل ہے میرا آفس جانا۔۔۔۔اُسماعیل صاحب نے بتایا

آپ کی میٹنگ؟تارا نے جیسے یاد کروایا

مینجر سنبھال لے گا اُس کو سب پتا ہے۔۔۔اُسماعیل صاحب اُس کی فکرمندی پر مسکرائے بغیر نہ رہ پائے

نانا اِتنا بڑا پراجکیٹ آپ کو ملا تھا جو آپ محض ایک مینجر کے حوالے کرکے مطمئن ہورہے ہیں سیریسلی؟تارا نے تاسف سے اُن کو دیکھا

تو میں اور کیا کروں؟”تمہیں بزنس کا الف ب تک نہیں پتا”احناف کی اپنی جاب لگی ہوئی ہے اگر وہ میرے کہنے مطابق لیو کر بھی لے تو غلط ہوگا کیونکہ میٹنگ تو اُن کے ساتھ ہے جہاں وہ جاب کرتا ہے دوسرا بچا ازلان جس کا آج لاسٹ سمسٹر ہے اور وہ اُس میں بزی ہے باقی ارسلان تو بچہ ہے۔۔۔۔اُسماعیل صاحب نے جوابً کہا تو تارا لب کُچلتی خاموشی سے بس اُن کو دیکھنے لگی۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

لگتا ہے اُسماعیل صاحب کے آنے کا کوئی موڈ نہیں۔۔۔میٹنگ روم میں موجود ایک شخص نے کہا تو اصغر صاحب کی نظر اپنے بڑے بھائی اختر صاحب پر گئ جو خاصے مطمئن نظر آرہے تھے۔۔۔۔

ابو جی کی عمر آرام کرنے کی ہے تم نے جلدبازی کرلی تھی اُن کو اِتنا بڑا براجیکٹ دے کر “پانچ کڑور کوئی معمولی رقم نہیں ہوتی۔۔۔اصغر صاحب نے کہا تو اُنہوں نے گہری سانس خارج کی۔”جبکہ خاموش بیٹھے احناف نے تاسف سے اپنے چچا پلس ہونے والے سُسر کو دیکھا

سر آپ کو نہیں لگتا ہمیں تھوڑا ویٹ کرنا چاہیے۔۔۔احناف ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھتا اُن سے بولا وہ خود پریشان تھا کہ آج آخر اُسماعیل صاحب نے ایسی لاپرواہی کر کیسے لی بھلا جس پراجیکٹس کے لیے اُنہوں نے اِتنی زیادہ محنت کی تھی عین ٹائم پر اب جب اُن کو اپنا آپ منوانا تھا تو وہ کیوں پیچھے رہ گئے

“یہاں وقت کی پابندی کو اہم رکھا جاتا ہے۔۔۔ا

بلکل سہی کہا عمیر جیلانی صاحب آپ نے جس انسان کو وقت کی پابندی کا پتا نہیں ہوتا وہ کبھی اپنی زندگی میں آگے بھر نہیں پاتا۔۔وہ ابھی کچھ کہنے والے تھے جب اچانک روم کا دروازہ کُھلا تھا اور وہاں تارا داخل ہوتی بولی تھی جس کو دیکھ کر ہر کوئی اپنی جگہ حیران تھا”احناف بھی کافی تعجب بھری نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا جو آج ہر روز سے ہٹ کر الگ حُلیے میں تھی گُلابی پینٹ کوٹ اور وائٹ شرٹ میں ملبوس تارا کافی پُراعتماد سی کھڑی تھی۔۔

یہ یہاں کیسے آگئ؟اختر صاحب نے دانت پیس کر آہستہ مگر سخت لہجے میں اصغر صاحب سے کہا

بھائی صاحب پریشان نہ ہو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔اصغر صاحب نے اُن کو پرسکون کرنے کی خاطر کہا جس پر وہ چُپ ہوگئے۔

“آپ تو ماڈلنگ کرتیں ہیں نہ؟عمیر جیلانی نے سرتا پیر اُس کو دیکھا جبکہ اُس کے بیٹے اور بیٹی کی نظریں بھی تارا پر جمی ہوئیں تھیں

میں آج یہاں اپنے نانا کی نواسی بن کر آئی ہوں اور اُن کی جگہ پر آپ کے سامنے پریزیٹیشن میں دوں گی۔۔۔تارا سنجیدگی سے محض یہی بولی جبکہ اصغر صاحب نے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر اُس کو دیکھا

آجائے۔۔۔۔۔عمیر جیلانی نے کہا تو تارا نے گردن ترشی کرکے اُسماعیل صاحب کے مینجر کو دیکھا پھر چل کر احناف کے پاس والی خالی چیئر پر بیٹھ گئ۔۔۔۔

“آنے کا انداز تو ایسے بنایا ہوا تھا جیسے پوری دُنیا کو فتح کرکے آگئ ہو۔۔۔۔وہ جیسے ہی بیٹھی احناف اُس کے کان کے پاس سرگوشی نما آواز میں بولا جس پر تارا نے کاٹ کھاتی نظروں سے اُس کو دیکھا جو زچ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا

دُنیا فتح کرلوں یا کچھ آپ کو کیا؟تارا نے اُس کو گھور کر کہا

ویل تمہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے تم پوری دُنیا کی بہت بڑی بزنس وومن ہو۔۔۔احناف باز نہیں آیا تھا مگر اِس بار تارا نے اُس کو کوئی بھی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔۔”کچھ ہی دیر میں پریزیٹیشن دینے کا وقت آیا تو تارا کلمہ پڑھتی اُٹھ کھڑی ہوئی تھی اور بیحد خوبصورت طریقے سے پریزٹیشن دینے لگی جس پر احناف کافی ایمپریس ہوا تھا اُس سے جبکہ اختر صاحب اور اصغر صاحب کی شکل دیکھنے لائق ہوئی تھی۔۔۔۔۔

ایک ماڈل سے کنفیوزن اور جِھجھک کی اُمید کیسے رکھ لی میں نے۔۔۔؟اصغر صاحب افسوس سے بڑبڑانے لگے جس پر اختر صاحب کو مزید تاؤ آیا تھا۔

Beauty with brain.

وہ جیسے ہی پریزیٹیشن سے فارغ ہوئی تو سب نے تالیاں بجاکر اُس کو حوصلہ افزائی کی تھی جبکہ عمیر جیلانی کا بیٹا عمر نے اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھا کر مسکراکر کُمپلیمنٹ دیا جس پر تارا جوابً مسکراتی ہاتھ ملانے والی تھی جب اچانک سے احناف درمیان میں آیا

Congratulations.

احناف اُس سے مصافحہ کرتا مسکراکر بولا جس پر تارا نے کِن اکھیوں سے اُس کو دیکھا جبکہ عمر شرمندہ سا اپنا ہاتھ پیچھے کرگیا تھا۔

Thank You.

تارا سنجیدگی سے کہتی اُس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا

میرے خیال سے ہمیں فائنل ڈسکشن کرلینی چاہیے۔۔۔۔عمیر جیلانی نے کہا

شیور۔۔۔۔تارا اِتنا کہتی واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئ ۔

یہ کیسے کیا تم نے؟احناف نے اُس کو دیکھ کر پوچھا

اللہ نے دماغ دیا ہے مجھے۔۔۔۔تارا نے بتایا

جس کو آج پہلی بار استعمال کرنے کی زحمت کر ڈالی۔۔۔احناف نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دے کر کہا تو تارا نے ضبط سے اُس کو دیکھا جو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تھا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

بہت پیاری لگ رہی ہے تمہارے ہاتھ میں یہ انگھوٹی۔۔۔بینش بیگم مسکراکر حیات سے بولی”وہ آج خاص حیات کے ہاتھ کی انگلی میں انگھوٹی پہنانے آئی تھی۔

شکریہ چچی مگر پہلی والی رِنگ سے عجیب سا اپنا پن تھا۔۔۔حیات گہری سانس بھر کر بولی

اُس کو اب آپ بھول جاؤں اور یہ بھی بہت ایکسپینسو ہے۔۔۔انابیہ نے اُس کو دیکھ کر کہا

وہ تو نظر آرہا ہے۔۔۔حیات نے اپنے ہاتھ میں چمکتی انگھوٹی کو دیکھ کر کہا

منیبہ میں آج خاص ایک اور مقصد کے لیے بھی یہاں آئی ہوں۔۔۔۔بینش بیگم نے مُنیبہ بیگم کو دیکھ کر کہا

اور کیا مقصد؟منیبہ بیگم نے ناسمجھی سے اُن کو دیکھا باقی سب کا دھیان بھی اُنہیں کی طرف تھا جبکہ انعم بیگم ریفریشمنٹ کا سامان دیکھنے میں مصروف تھی۔

اگلے ماہ سلطان کی شادی کی تاریخ طے پائی گئ ہے تو میں سوچ رہی تھی احناف اور حیات کی بھی شادی خیر سے ہوجائے”ہماری حیات کا آج ویسے بھی اب آخری سال ہے۔۔۔۔بینش بیگم نے کہا تو حیات کا چہرہ گُلنار ہوگیا تو اُس کے اگل بگل میں بیٹھیں سومل اور مومل نے اُس کو ٹھوکا مارا جس پر وہ اُن دونوں کو گھور بھی نہیں پائی

اگلے ماہ شادی؟آپا یہ سب کیسے ممکن ہے آپ تو لڑکے والوں کی طرف سے ہیں آپ کو تیاریوں میں وقت نہیں لگے گا مگر ہم لڑکی والے ہیں سؤ کیا ہزار کام ہوتے ہیں ہمیں کرنے کے لیے۔۔۔۔منیبہ بیگم اُن کی بات پر جہاں خوش ہوئی تھیں وہی اُن کو پریشانی نے بھی آ گھیرا تھا

ہمیں کونسا جہیز کی لالچ ہے اللہ بچائے ایسی رسم ورواج سے جو ایک لعنت ہے۔۔۔”اور احناف بھی جہیز کے سخت خلاف ہے۔۔۔بینش بیگم اُن کی بات سن کر بولی

جو بھی آپا ہمیں اپنی طرف سے کچھ تو تیاری کرنی ہوگی نہ جس میں وقت لگے گا اور ایک ماہ کم عرصہ ہے۔۔۔منیبہ بیگم نے کہا تو حیات کو اُداسی ہونے لگی مگر سومل نے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ دے کر تسلی کروائی

“بول تو ایسے رہی ہو جیسے تم نے کچھ کیا نہیں ہوگا بھئ کچھ تو تم نے بھی تیاری کی ہوگی نہ بس پھر فائنل تاریخ کرتے ہیں اور جو کچھ رہتا ہے اُس کی تیاری تم کل سے شروع کردو۔۔۔۔بینش بیگم نے کہا تو منیبہ بیگم سوچ میں پڑگئ

بینش بیگم سہی بول رہی ہے بیٹیوں کے فرض سے جتنی جلدی سبکدوش ہوجائے اُتنا اچھا ہوتا ہے۔۔۔انعم بیگم چائے کا کپ بینش بیگم کو دیتی بولی

اچھا ٹھیک ہے اگر آپ سب کچھ سوچ کر آئیں ہیں تو میرے انکار کرنے کی اب کیا ویلیو۔۔۔منیبہ بیگم نے کہا

مُبارک ہو بھئ مبارک ہو۔۔۔سومل نے خوشی خوشی اُس کو اپنے گلے لگایا جس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی۔۔۔۔

“احناف بھائی تو آپ کے پکے والے عاشق نکلے۔۔۔انابیہ بھی اُس کو مبارک دیتی چھیڑنے والے انداز میں بولی تو سب کا قہقہقہ چھوٹ گیا۔۔

تمہارے بھائی سے تو میں پوچھوں گی آخر مجھ سے یہ بات کیوں چُھپائی مجھے تو ایٹلیسٹ پتا ہونا چاہیے نہ۔۔۔حیات اِتنا کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی باقی سب بس اُس کی بے قراری دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

میں بہت خوش ہوں آج۔۔۔۔احناف کے کانوں پر حیات کی چہکی آواز پڑی تو وہ مسکرایا

لگتا ہے امی تم لوگوں کی طرف ہے۔۔۔۔احناف جیسے ساری بات جان گیا۔

بلکل پر اب امی کا بیٹا کب آئے گا۔۔۔؟حیات نے شوخی سے پوچھا

وہ نہیں آسکتا وہ اپنے کام میں بیحد مصروف ہے۔۔۔احناف نے بتایا

ویسے جب سے تم نے جاب کی ہے تب سے مجھے وقت دینا کم کردیا ہے تم نے۔۔۔حیات کے لبوں سے شکوہ پھسلا

کام کا برڈن زیادہ ہوتا ہے مگر تم فکر نہیں کرو آہستہ آہستہ ہر چیز روٹین میں آجائے گی۔۔۔احناف نے اُس کو مثبت جواب دیا

اچھا پر آج میں ڈنر کسی اچھی جگہ کرنا چاہتی ہوں پلیز انکار کرکے میرا دل مت توڑنا تمہیں پتا نہیں میں کتنا خوش ہوں۔۔۔حیات خاصے پرجوش لہجے میں اُس سے گویا ہوئی

مجھے تمہاری خوشی کا اندازہ ہے اِس لیے ڈونٹ وری میں تمہاری یہ خوشی اسپوئل نہیں کروں گا شام میں تمہیں پِک کرنے آؤں گا”لونگ ڈرائیو کے بعد تمہارے فیورٹ ریسٹورنٹ جائینگے۔۔۔احناف نے مسکراتے لہجے میں کہا تو خوشی کے مارے حیات کی چیخ نکل گئ جیسے جانے کونسا اُس کے ہاتھ کارون کا خزانہ لگا ہو۔۔۔

تم بہت اچھے ہو آئے لو یو احناف۔۔۔حیات نے جذب سے کہا

اچھا میں اب کال رکھتا ہوں پھر شام میں مُلاقات ہوگی۔۔۔اپنے سامنے پڑی فائلز کو دیکھ کر احناف نے اُس سے کہا

بہت بے مروت ہو تم کیا ہوجاتا جو اگر جوابً آئے لو یو ٹو کہتے۔۔۔حیات کو افسوس ہوا

اِظہار کے لیے پوری زندگی پڑی ہے اِس لیے فکر نہیں کرو اور نہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لگایا کرو۔۔۔احناف نے نرم لہجے میں اُس سے کہا

تمہیں نہیں پتا احناف ورنہ محبوب کا ہر وقت اِظہارِ محبت ہمارے لیے کسی امرت یا آبِ حیات سے کم نہیں ہوتا تمہیں ابھی اِس بات کا اندازہ نہیں پر جب تم مجھے میری طرح چاہوں گے تو تمہیں اچھے سے لگ پتا جائے گا۔۔۔۔حیات نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں کہا تو احناف کچھ بول نہیں پایا بس خاموش رہا شاید بولنے کے لیے الفاظوں کا چُناؤ کررہا تھا۔

تم ٹھیک بول رہی ہو پر ابھی میں مصروف ہوں پھر باتیں ہوگی۔۔احناف اُس کی بات سے اتفاق کرتا بولا

ٹھیک ہے بائے مگر ایک بات سن لو میں اپنی شادی کی ہر شاپنگ تمہارے ساتھ کرنے کا سوچے ہوئی ہوں تو میں تمہارے کوئی بھی لیم ایکسکیوز نہیں سُنوں گی۔۔۔۔حیات نے باور کروایا تو احناف مسکرایا

جیسا تم کہو۔۔۔۔احناف نے فرمانبرداری سے کہا تو حیات نے ایک دو مزید اور باتیں کرنے کے بعد کال کاٹ دی اور مسکراکر اپنے آنے والے کل کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔”جہاں وہ احناف کے سنگ اپنی ہر خوشی کو سیلیبریٹ کررہی تھی جہاں وہ بس اُس کی تھی تو وہ بس اُس کا دونوں کے درمیان کوئی تیسرا نہیں تھا۔۔۔

“میں وہ واحد لڑکی ہوں جس کی محبت کی کہانی میں کوئی ویلن یا ظالم سماج درمیان میں نہیں آیا۔۔۔اپنی بات پر حیات خود ہی ہنس پڑی

ماشااللہ ماشااللہ اللہ نظرِبد سے بچائے۔۔۔اپنے سر پر چپت مارے وہ آخر میں جلدی سے بڑبڑانے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *