Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kia Hoi Hai Khata (Episode 05)

Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain

کیا ہورہا تھا یہاں اور اِس بچی کے ساتھ کیا”کیا ہے تم بچوں نے؟پولیس آفسر اُن چاروں کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگا جبکہ لیڈی کانسٹبل نے تارا کو اپنی گود میں اُٹھایا تھا اور باقی بیہوش اُن دو آدمیوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔

ہماری کزن ہے یہ اکیلا دیکھ کر اِس کو تنگ کررہے تھے۔۔۔پھر میں نے اِن کا یہ حال کردیا۔۔۔احناف بے خوفی سے بولا وہ تینوں اپنا سر پکڑ کے بیٹھ گئ۔۔۔

تم بچہ پارٹی یہاں کیا کررہے تھے۔۔۔؟ایک کانسٹبل نے سوال کیا

کرکٹ کِھیلنے آئے تھے۔۔۔جواب حیات نے دیا

نین کو نیچے اُتارے ۔۔۔احناف لیڈی کانسٹبل سے بولا

اوو ہیرو زیادہ شان پتی نہ کر چلو تم سب تھانے۔۔۔پولیس آفسر کی بات پر حق دق رہ گئے

ہم تھانے کیوں آئے؟آپ کو اِن دونوں کو لے جانا چاہیے۔۔۔۔احناف نفرت سے ہوش وحواسوں سے بیگانہ آدمیوں کو دیکھ کر بولا

ابھی تم اپنا حساب دو عمر دیکھو اپنی اور کام چیک کرو زرا”ارشد بیٹھاؤ اِن کو گاڑی میں۔۔۔۔پولیس آفسر نے تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا

آپ لوگ شاید جانتے نہیں میں کون ہوں۔۔۔۔ایک نے احناف کو بازوں سے پکڑا تو وہ طنز لہجے میں بولا

تھانے چلو یہ بھی پتا چل جائے گا کہ آپ کون ہو؟جوابً پولیس والا بھی طنز ہوا

ایک منٹ میری کزنز کو چھوڑو آپ اِن کو مارا میں نے ہے تو مجھے لے جاؤ جبکہ اِن کو باحفاظت گھر چھوڑ آئے۔۔۔۔وہ لوگ حیات سومل مومل کی طرف بڑھے تو احناف کو غُصہ آیا

یہ بھی تمہاری کزنز ہیں “قصور ہو یا نہ ہو مگر ساتھ تو لیجانا پڑے گا تاکہ تمہارے گھروالوں کو پتا لگے کہ رات کے وقت اِتنی کم ایج میں بچوں کو اکیلا چھوڑنے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔۔۔”انتہا کہ لاپرواہ والدین ہیں۔۔۔لیڈی پولیس آفسر نے باری باری اُن کو دیکھ کر کہا

ہمارے والدین کو درمیان میں نہ لائے وہ لاعلم ہیں۔۔۔۔حیات غُصے سے بولی

چھٹانگ بھر کی لڑکی ہو اور لہجہ چیک کرو پہلے تو تھوڑا لحاظ کرتے مگر اب نہیں ساجدہ فرزانہ بیٹھاؤ اِن کو بھی۔۔۔وہ حیات کو کڑے چتونوں سے گھور کر بولی تو احناف اُن تینوں کے سامنے کھڑا ہوا

میں نے کہا نہ غلطی میری ہے تو بس میری ہے میری کزنز کو اِن سب سے دور رکھے یہ تھانے نہیں آئیں گی مجرم میں ہوں۔۔۔۔۔۔احناف نے خاصا زور دیا اپنی لفظوں کو تو وہ پولیس آفسر کو دیکھنے لگی جس نے نظروں ہی نظروں میں جانے کیا اِشارہ دیا کہ اُس نے سراثبات میں ہلایا

ٹھیک ہے تم چلو۔۔۔اُس نے کہا

احناف ہم تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے اور یار یہ ازلان کہاں مرگیا ڈرائیو اور گاڑی بھی یہاں نہیں ہے۔۔۔۔سومل احناف کو کہتی آخر میں ازلان کو یاد کیے بولی

میری فکر نہیں کرو بیل ہوجائے گی میری تم تینوں بس جاؤ۔”اور نین کا خیال رکھنا۔احناف نے سنجیدگی سے کہا

تارا کی وجہ سے ہوا ہے سب۔۔۔حیات کو تاؤ آیا احناف کی بات پر

اپنے باپ کا نمبر دو۔۔۔۔پولیس آفسر نے احناف کو کہا تو اُس کا گلا خشک ہوا جس کو تر کیے وہ”الطاف جتوئی”کا نمبر بتانے لگا مگر نظریں تارا پر تھیں۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

حال

ویسے یار احناف میں تمہیں ایک بہت ضروری بات بتانا تو بھول ہی گئ تھی۔۔۔احناف حیات کو گھر ڈراپ کرنے آیا تو حیات جو گاڑی سے اُتر کر اندر کی طرف جانے والی تھی کچھ یاد آنے پر اپنے سر پہ ہاتھ مار کر بولی

کونسی ضروری بات؟احناف اُس کی طرف متوجہ ہوا

ویٹ۔۔۔حیات اُس کو اِشارہ کرتی اپنا بیگ کُھولنے لگی۔۔۔۔

یہ دیکھو۔۔۔بیگ سے گھڑی نکال کر حیات نے وہ”احناف”کی طرف بڑھائی تو اُس کی نظروں میں ستائش اُبھری

نائیس بہت پیاری ہے اور ایکسپینسو بھی ہے مگر تم نے یہ کہاں سے لی؟میرا نہیں خیال پاکستان میں ایسی گھڑیاں ملتی ہیں۔۔۔۔۔احناف غور سے اور ہر اینگل سے گھڑی کو دیکھ کر آخر میں حیات سے بولا

مذاق نہیں کرو پاکستان میں سب کچھ ملتا ہے اور یہ گھڑی مجھے تارا کے بیڈروم کی سائیڈ ٹیبل پہ پڑی ملی ہے۔۔۔حیات نے بتایا تو احناف کے تاثرات یکدم سپاٹ ہوئے

یعنی یہ اُس کی ہے۔۔۔۔احناف نے گھڑی واپس اُس کی طرف بڑھائی

نہیں اُس کے بوائی فرینڈ کی ہے؟حیات نے گھڑی اپنے ہاتھ میں لیکر کہا تو احناف کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا وہ حق دق حیرانگی کا بُت بنا اُس کو دیکھنے لگا جس کے تاثرات کافی نارمل تھے۔۔۔۔

بوائے فرینڈ لائیک سیریسلی؟احناف گہری سانس بھر کر خود کو کمپوز کرتا سرسری لہجے میں بولا

تمہیں مجھ پہ ٹرسٹ نہیں ہے کیا؟حیات نے اُس کو گھورا

آئے ٹرسٹ یو مور دین یو مگر جو تم بات کررہی ہو اُس پہ یقین نہیں آرہا۔۔۔۔احناف نے اُس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے کہا

وہ اُس وجہ سے کہ تارا کی شکل حدرجہ معصوم ہے اپنے چہرے پہ معصومیت کا نقاب چڑھائے وہ سب کو بے وقوف بناتی آئی ہے۔۔۔اسپیشلی دادا جان افففففف اللہ ہمارے دادا کی جان جہاں ہم میں بستی تھی اب اُن کی زندگی کا دارومدار بس صرف اُس تارا کے گرد تک ہے۔۔۔حیات نخوت سے سر پکڑ کر بولی

سمپل سی بات ہے حیات نین تارا اُن کی اکلوتی بیٹی کی آخری نشانی ہے تو ظاہر سی بات ہے وہ اُس کو اپنے سینے سے لگاکر رکھے گے”ہماری زندگی میں الحمداللہ ہر رشتہ ہے مگر اُس کا کوئی بھی نہیں سِوائے دادا جان کہ اِس لیے تم زیادہ نہ سوچو۔۔۔احناف نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا

آئے نو مگر سِوائے دو شخصیت کہ اُس کی زندگی میں کوئی اور بھی ہے”تمہیں پتا نہیں کبھی کبھی وہ بہت زیادہ خوش ہوتی ہے”ورنہ خود سوچو وہ ہنسنے والوں میں سے کہاں تھی؟”اب اکیلے بیٹھی بلاوجہ اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ ہوتی ہے۔۔۔۔حیات نے کہا تو احناف خاموش رہا

تمہیں کسی پر شک ہے؟احناف نے سنجیدگی سے پوچھا

تھوڑا بہت۔۔۔۔حیات نے بتایا

کس پر؟احناف نے ہنوز سنجیدگی سے پوچھا

مجھے لگتا ہے وہ “اسجد ہے تمہیں تو یاد ہوگا تارا کی کالج لائیف میں اسجد سے بہت جمنے لگی تھی وہ کلوز فرینڈز بن گئے تھے تو ہوسکتا ہے اب رشتہ بدل لیا ہو اُن دونوں نے اب دیکھنا جلد تارا اسجد کو “دادا جان سے متعارف کروائے گی۔۔۔حیات پرسوچ لہجے میں بولی اُس کے لہجے میں انجانا سا یقین تھا جو احناف کی سمجھ سے تو بلاآتر تھا مگر ایک خیال کے تحت وہ چونکا

“حیات؟احناف نے اُس کو مُخاطب کیا

ہمممم۔۔۔حیات اُس کی جانب متوجہ ہوئی

تم نے کہا یہ گھڑی اُس کے بوائی فرینڈ کی ہے”ٹھیک ہے مان لیا مگر تم اِتنا شیور کیسے ہو؟اور تم اُس کے کمرے میں کیوں گئ تھی؟”جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے شروع سے وہ اپنی چیزوں کے معاملے میں اوور سینسٹو رہتی ہے تو کیا اُس کو پتا نہیں چلا ہوگا کہ تم نے اُس کے کمرے سے یہ واچ اُٹھائی ہے؟”اور ایک اہم بات اگر واقع یہ گھڑی اُس کے بوائی فرینڈ کی ہے بھی تو نین تارا اپنے کمرے کی سائیڈ ٹیبل پہ کیوں رکھے گی؟احناف نے ایک ساتھ کئ سوال پوچھ ڈالے جس پر حیات مسکراتی تھوڑا اُس کے قریب ہوئی

وہ سم ون کل رات اُس کے ساتھ اُس کے بیڈروم میں تھا۔۔۔۔حیات نے آہستگی سے بتایا تو جانے کتنے بل احناف کی کشادہ پیشانی پر نمایاں ہوئے

حیات۔۔۔۔تنبیہہ کرتا انداز

جانتی ہوں تمہیں ایسی باتیں پسند نہیں مگر احناف مجھے ہماری محبت کی قسم یہ سچ ہے۔۔۔”میں نے نہ تو کبھی پہلے جھوٹ بولا ہے تم سے اور نہ آج اور نہ کبھی بولوں گی۔۔۔۔حیات دھیمے لہجے میں اُس سے بولی تو احناف نے سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر اُس کو دیکھا حیات کی آنکھوں میں سچائی وہ محسوس کرسکتا تھا۔۔

وہ کیوں سب کو اندھیرے میں رکھنا چاہتی ہے؟احناف محض اِتنا بول پایا

کیونکہ وہ دھوکے باز اور احسان فراموش ہے”ہمارا کھاتی ہے اور ہماری ہی پیٹھ پر چُھڑا گھونپتی آئی ہے دیکھنا وہ لڑکا بھی اُس کے ساتھ لویل نہیں ہوگا کیونکہ جن میں لویلٹی ہوتی ہے وہ یوں اِس طرح رات کے اندھیرے میں چُوری چُھپے ملنے نہیں آیا کرتے۔۔۔۔حیات نفرت سے بولی

اندر جاؤ تم میں بھی گھر جاؤں گا اب۔۔۔۔احناف سنجیدگی سے گویا ہوا

اوکے میں جارہی ہوں اور شکر ہے تو نے ازلان کی طرح اوور ری ایکٹ نہیں کیا سچی مجھے تو لگا تھا وہ میری جان ہی نکال دے گا۔۔۔حیات پرجوش انداز میں کہتی اُس کے گلے لگی عین اُسی وقت “نین تارا”کی گاڑی پورچ میں داخل ہوئی تھی اور ڈرائیونگ سیٹ کی کھڑکی کُھلی ہونے کی وجہ سے یہ منظر بخوبی اُس نے دیکھ لیا تھا جس پر اُس کے چہرے پہ طنز مسکراہٹ آئی تھی۔۔

حیات یار امی کو اِتنی کلوزنس اچھی نہیں لگتی۔۔۔احناف نے آرام سے اپنے اور اُس کے دونوں کے درمیان فاصلہ اختیار کیا

اِس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے احناف اِس ماہ کے آخر میں ہماری آفیشل انگیجمنٹ پھر شادی ہے ویسے بھی یہ آجکل عام ہے۔۔۔۔حیات کو احناف کا ایسا اجتناب برتنا اچھا تو نہیں لگا مگر اُس کے باوجود بھی مسکراکر بولی کیونکہ ایک وجہ”نین تارا”بھی تھی جو گاڑی سے اُتر کر گارڈ سے کوئی بات کررہی تھی۔۔۔۔

جو بھی مگر فلحال ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔۔۔۔احناف نے مسکراکر کہا

میں تمہارے پاس پہلی بار نہیں آئی لیکن لِیو اِٹ وہ دیکھو۔۔۔حیات نے “تارا کی طرف اِشارہ کیا تو احناف نے اُس کو دیکھا جو آج نیلے کلر کی ٹی شرٹ اور بلیک جینز میں تھی بڑے بالوں کا جبکہ جوڑا بنایا ہوا تھا چہرہ میک اپ سے پاک وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔

دیکھی ہوئی ہے۔۔۔۔احناف ایک نظر اُس پر ڈالے دوبارہ حیات کی طرف متوجہ ہوا

کہاں گئ تھی؟تارا بنا یہاں وہاں دیکھے گھر کے اندر جارہی تھی جب احناف کو دیکھتی حیات نے اُس کو مُخاطب کیا

تم کہاں سے آئی ہو”اور اکیلے اِس کے ساتھ کیا کررہی تھی؟احناف کی جانب اشارہ کرکے تارا نے اُلٹا اُس سے سوال داغا

ایکسکیوز می تم ہوتی کون ہو مجھ سے یہ سوال پوچھنے والی؟حیات آگ بگولہ ہوئی

ایکزائکلی تم ہوتی کون ہو مجھ سے یہ سوال پوچھنے والی؟تارا بھی تُرکی پہ تُرکی بولی یکخلت اُس کی نظر حیات کے ہاتھوں میں موجود گھڑی پہ گئ تو اُس کی نیلی آنکھوں میں جیسے خون اُتر آیا

اوو تو ڈوپٹے کے بہانے تم میری چیزیں چوری کرنے آئی تھی۔۔۔غُصے سے کہتے تارا نے اُس سے گھڑی لینی چاہی مگر حیات نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا

یہ میل واچ تمہاری کیسے ہوئی؟حیات نے زچ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

ڈرامہ بند کرو تم دونوں اپنا۔۔۔احناف جو چُپ تھا غُصے سے اُن دونوں کو دیکھ کر بولا

اپنی فیانسی سے کہو مجھے یہ گھڑی واپس کرے ورنہ اللہ کی قسم میں اِس کا حشر نشر کردوں گی۔۔۔تارا احناف کو دیکھتی بے لچک انداز میں بولی اُس کی حالت عجیب ہوگئ حیات کے ہاتھ میں “گھڑی”دیکھ کر جس پر احناف دمبخود رہ گیا۔۔

جسٹ ایک گھڑی ہے اُس کے لیے اِتنا پاگل پن؟حیات کے لہجے میں حیرانگی تھی

مجھے میری گھڑی واپس کرو۔۔۔تارا اُس کی بات نظرانداز کرتی اُس سے گھڑی چِھیننے لگی تو خود کو بچانے کی خاطر حیات نے اُس کو دھکا دیا مگر اُس سے پہلے وہ گِرتی احناف نے آگے بڑھ کر اُس کو تھام لیا تھا

تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟لیا دیا انداز

تمہیں اِس سے غرض نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔تارا اُس سے دور ہوتی سپاٹ لہجے میں کہتی دونوں کو نظرانداز کیے جانے لگی جب حیات نے اُس کا راستہ روکا

اپنی گھڑی لیکر جاؤ ایسا نہ ہو کہ سانس رُک جائے تمہارا۔۔۔۔۔حیات نے گھڑی اُس کے سامنے کی مگر تارا اُس کو نظرانداز کرتی وہاں سے چلتی گئ۔۔۔پھر آگے چل کر رُکی اور پلٹ کر اُس کو دیکھا

مجھ سے دور رہا کرو ورنہ میں تمہیں برباد کردوں گی۔۔۔وارننگ بھرے لہجے میں کہتا وہ تیر کی تیزی سے اندر داخل ہوئی

پاگل ہے یہ آئی بڑی مجھے برباد کرنے والی۔۔۔۔حیات بڑبڑاتی سامنے دیکھنے لگی تو اُس کو احناف کہی نظر نہیں آیا

احناف کہاں چلاگیا اِتنا جلدی؟حیات حیرت سے خود سے سوال جواب کرنے لگی۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ماضی

اِن کی ہمت کیسے ہوئی تمہیں لاکپ میں ڈالنے کی۔۔۔۔۔”الطاف جتوئی اور سلطان رات کے پہر تھانے سے آتی کال پہ جب پولیس اسٹیشن آئے تو وہ سیدھا احناف کی طرف آئے تھے اُس سے ملنے جبھی سلطان غُصے سے بولا تو “الطاف صاحب نے اُس کو خاموش رہنے کا اِشارہ کیا اور خود احناف کے قریب سے قریب تر آئے جتنا وہ آسکتے تھے

ایکزام قریب ہیں اور تمہیں آورگردگی کرنے سے فرصت نہیں”تم کیا اِس لیے پیدا ہوئے تھے”جس نام کو بنانے کے لیے میں نے سالوں سال گُزارے تم ایک لمحے میں اُس کو ڈوبا دینا چاہتے ہو؟یہ مار دھار کی سِکھیا تمہیں کہاں سے ملی؟کیا یہی اسکول اور کالجوں میں سِکھایا گیا ہے؟کیا میں اِس لیے تمہاری پڑھائی کا سوچتا ہوں کہ تم اپنے مستقبل کا یہ حال کرو؟آخر میں تمہارا کروں کیا احناف؟اب تم بچے نہیں ہو بڑے ہوگئے ہو تو بڑپن کا مُظاہرہ بھی کرو کچھ عقل کے ناخن لو ہوش کرو کچھ کتنی بار کتنی بار کہا ہے کہ اپنے بڑے بھائی سے کچھ سیکھو اُس نے تو مجھے کہی بھی کبھی بھی شرمندہ نہیں کروایا تو پھر تم کیوں ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑے ہو؟الطاف صاحب سخت ناگوار اور تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھتے چبا چبا کر بولے تو سلطان نے اُن کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر رلیکس کرنے کی کوشش کی جو کھاجانے والی نظروں سے احناف کو دیکھ رہے تھے۔۔

“”نین کیسی ہے؟اُن کی اِتنی بڑی تقریر کے جواب میں احناف کے سوال نے جیسے جلتی پہ نمک کا کام کیا تھا”الطاف صاحب کا ایک بار دل چاہا وہ تھپڑوں لاتوں سے اُس کا حال بے حال کردے مگر خود پہ ضبط کے پہرے ڈالے دوسری طرف سلطان اُس کو ایسی نظروں سے دیکھنے لگا جیسے احناف کا دماغ سٹیا گیا ہو کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ احناف نے اپنی بے عزتی محسوس نہ ہوئی ہو۔۔

یہی سڑو تو اچھا ہے۔۔۔الطاف صاحب تیز گھوری سے اُس کو نوازتے جانے لگے

بھائی آپ بتائے نین کیسی ہے؟سلطان بھی اُن کے پیچھے جانے لگا تو احناف نے اُس کو آواز دے کر پوچھا

یہاں ہم پریشان ہے اور تمہیں اُس تارا کی پڑی ہے سیریسلی احناف؟اور وہ نین نہیں تارا ہے سب اُس کو تارا بولتے ہیں۔۔۔سلطان نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا

نین کیسی ہے؟یہ لائن تو جیسے احناف کی زبان میں چپک گئ تھی

تم نے ایک آدمی کا سر پھاڑا ہے احناف تم اِس وقت سلاخوں کے پیچھے ہو کل ہفتہ پھر اُتوار ہے اِن دو دنوں میں تمہاری ضمانت مشکل ہے امی اِس فکر میں ہلکان ہے اور تمہیں کچھ احساس نہیں۔۔۔سلطان خشمگین نظروں سے اُس کو گھور کر کہتا بنا اُس کے سوال کا جواب دیئے چلاگیا

میرے خلاف کونسا رپورٹ درج ہے۔۔۔احناف نے پیچھے سے ہانک لگائی پھر مایوسی ہوتا چاروں اِطراف دیکھنے لگا تو نظر تاش کھیلتے لڑکوں پر گئ تو وہ اُن کے ساتھ بیٹھا جو عمر کے لحاظ سے بہت بڑے تھے اُس سے

لڑکی ورکی کے چکر میں یہاں ہو؟ایک آدمی اُس کو دیکھ کر بولا

میری چھوٹی کزن کو کچھ نے حراساں کرنے کی کوشش کی تھی.۔۔جواب میں احناف نے مختصر بتایا

تم تو خود چھوٹے ہو تو وہ یعنی تم سے بھی زیادہ چھوٹی پھر یہ بتاؤ وہ کم عمری میں قیامت خیز حُسن رکھتی ہے کیا؟وہ رازدرانہ انداز میں اُس کے کندھے پہ اپنا بازوں حائل کیے پوچھنے لگا تو احناف نے ایک نظر اُس کو دیکھا پھر اپنے کندھے کو جھٹکا دیا جس پر اُس کا ہاتھ نیچے آیا

میری کزن ہے وہ اُس کے خلاف کوئی بکواس نہیں سُنوں گا میں اُن لڑکوں کا تو بس سر پھاڑا تھا مگر تم نے مزید کوئی بکواس کی تو تمہارے جسم کی دو سؤ چھ ہڈیوں کو توڑ ڈالوں گا۔۔۔۔۔احناف وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہتا وہاں سے اُٹھنے والا تھا جب دو آدمیوں نے ٹانگوں سے کھینچ کر اُس کو نیچے گِرایا تھا جس سے اُس کا سر زور سے فرش پر لگا تھا۔۔۔۔

_____❤___

آفیسر آپ کے پاس کوئی ثبوت بھی ہے یا بس شک کی بُنیاد پہ میرے بیٹے کو جیل میں ڈالا ہوا ہے۔۔۔۔الطاف صاحب نے سنجیدگی سے پولیس آفسر سے کہا

آپ کے بیٹے کی بیٹ جس سے احناف نے ایک آدمی کا سر لہولہان کردیا تھا یہ ہے ثبوت۔۔۔آفیسر نے جوابً کہا

میرا وکیل آتا ہوگا اُس کے رہائی کے پیپرز لیکر “بغیر کیسی کمپلینٹ کے آپ نے میرے بیٹے کو جیل میں ڈالا ہے اُس سے آپ کی یہ وردی بھی اُتر سکتی ہے۔۔۔۔الطاف صاحب کے لہجے میں وارننگ تھی۔۔

آپ کا بیٹا بہت جنونی ہے میرے خیال سے اُس کو ماں باپ کی ایکسٹرا کیئر کی ضرورت ہے اچھا ہوگا جو میری وردی کی فکر کرنے کے بجائے آپ اپنے بیٹے کی تربیت پر توجہ دے۔۔۔۔پولیس آفسر طنز لہجے میں بولا تو الطاف صاحب نے زور سے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا

سر یہاں آئے اور دیکھے اندر لڑائی ہوگئ ہے۔ ۔۔کانسٹبل نے ہڑبڑی میں آکر بتایا تو سلطان جلدی سے اُٹھ کھڑا ہوا

دیکھ لے یہاں بھی وہ باز نہیں آرہا۔۔۔۔آفیسر طنز انداز میں کہتا اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔

احناف کی وجہ سے دو ٹکے کے لوگوں کی وجہ سے مجھے باتیں سُننا پڑ رہی ہیں۔۔۔۔الطاف صاحب نے زور سے اپنا ہاتھ ٹیبل پر مارا تو سلطان نے گہری سانس خارج کی

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

حال

امی دادا جان کے پاس جائے میری اور حیات کی منگنی کی ڈیٹ فائنل کرنے۔۔۔اپنے گھر آتا سنجیدگی سے احناف بینش بیگم سے کہتا سیڑھیوں کی طرف بڑھا پیچھے بینش اُس کو پشت دیکھتی رہ گئ کل تک جب وہ اُس سے شادی کی بات کرتی تھی تو وہ انکار کردیتا تھا مگر آج جانے کیا ہوگیا تھا جو وہ خود اپنی منگنی کی بات کرگیا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *