Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kia Hoi Hai Khata (Episode 08)

Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain

یہ بٹن؟؟ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کرتی حیات پرسوچ نگاہوں سے ہاتھ میں موجود “بٹن کو دیکھنے لگی۔۔اُس نے پوری طرح سے ڈریسنگ روم کو دیکھا تھا کہ شاید اُس کو تارا کے خلاف کوئی اور چیز نظر آجائے مگر بے سود کیونکہ اُس کو سِوائے اِس شرٹ کے بٹن کے کچھ اور نظر نہیں آیا تھا۔۔۔

لڑکا کون ہوسکتا ہے جس سے تارا اکیلے میں ملتی ہے؟”اگر پیار وغیرہ کا سین ہے بھی تو تارا کو کس چیز کا ڈر ہے جو وہ دادا جان کو بتانے کے بجائے چوری چوری تنہائی میں اُس سے ملتی ہے”وہ تو ہڈ دھرمی کرنے میں ماہر ہے”پھر ایسی کیا بات ہے جو وہ اُس لڑکے کو سب سے چُھپاتی بھی ہے اور خود چُھپ کر ملتی بھی ہے۔۔۔حیات جتنا اِن باتوں کو سوچ رہی تھی اُتنا اُلجھتی جارہی تھی۔۔

جو بھی ہو مجھے پتا لگانا پڑے گا آخر وہ شخص کون ہے؟”ہوسکتا ہے دونوں محض وقت گُزاری کررہے ہو۔۔اِس خیال کے آتے ہی حیات چونک اُٹھی تھی

ہاں ایسا ممکن ہے ایسا ہوسکتا ہے۔۔۔حیات جیسے اب ساری بات سمجھ گئ تھی تبھی تارا کو سوچنے کے بجائے اب اپنا ڈریس پہن کر چیک کرنے لگی۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

تمہاری شاپنگ ہوگئ نہ؟اُن لوگوں کی گاڑی گھر کے گیٹ کے پاس رُکنے لگی تو ازلان نے تارا سے پوچھا

ہاں میں نے لے لیا جو مجھے چاہیے تھا۔۔۔تارا نے بتایا اور گاڑی سے اُتر کر جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی تو اُس کو عجیب گہماگہمی نظر آئی

بھائی آپ۔۔۔۔ابھی وہ کچھ سمجھتی جبھی اُس کے برابر سے تیز بھاگتی حیات خاور کے سینے سے لگی تھی جو کچھ سالوں سے پاکستان سے باہر تھا اور اب اچانک آکر اپنے سب گھروالوں کو سرپرائز کر ڈالا تھا”خاور کو دیکھ کر ہر کوئی خوش ہورہا تھا مگر اُس کو دیکھ کر تارا کے قدم سست پڑے تھے وہ خاموشی سے بس اُس کو دیکھنے لگی جو حیات کا ہاتھ چومتا اُس کی کوئی بات سُننے میں مصروف تھا۔۔

السلام علیکم ۔۔۔تارا نے مروتً سلام کیا

وعلیکم السلام تارا کیسی ہو؟خاور نے خوشگوار لہجے میں اُس سے پوچھا

ٹھیک۔۔۔یکلفظی جواب دیا

آؤ بیٹھو سب کے ساتھ ساتھ میں تمہارے لیے بھی تحائف لایا ہوں”تمہاری پسند کا مجھے اندازہ تھا۔۔خاور نے مسکراکر کہا

میں تھک گئ ہوں اپنے کمرے میں جاؤں گی اور آپ کا شکریہ پر مجھے کسی تحائف کی ضرورت نہیں۔۔۔تارا نے ہنوز سنجیدگی سے کہا تھا۔

تارا میری جان بیٹھو بڑا کزن ہے تمہارا اور تحائف کوئی بھی ضرورت کے تحت نہیں لیتا اور نہ دیتا ہے بلکہ تحائف میں تو انسان محبت کو دیکھتا ہے۔۔۔اُسماعیل صاحب نے محبت سے اُس کا چہرہ دیکھ کر کہا تو تارا اُن کے پاس جڑکر بیٹھ گئ جو بھی تھا پر وہ اپنے پیار کرنے والے نانا کی کوئی بھی بات سے انحراف کرنے کی جُرئت نہیں رکھتی تھی اپنے ماں باپ اور بہن کے علاوہ اگر کوئی اُس کا تھا جو ہر حال میں اُس کے ساتھ کھڑا رہے گا تو وہ اُس کا نانا ہی تھا۔۔۔

بلکل ٹھیک کہا آپ نے۔۔۔ازلان نے اُن کی بات سے اتفاق کیا

آپ نے دوائی کھائی ہے؟تارا نے آہستگی سے اُن سے پوچھا

ایک تو تمہیں اپنے پاس بیٹھاؤ تو تمہیں دوائیاں یاد آجاتیں ہیں۔۔۔اسماعیل صاحب نے مصنوعی گھوری سے اُس کو نوازہ

آج آپ کا بلیٹ پریشر اور شوگر چیک کرنا ہے میں نے جو مجھے نارمل نظر آنا چاہیے۔۔۔تارا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو اسماعیل صاحب اپنی جگہ چور سے ہوگئے۔۔

آپ مجھے تو بتاتے نہ میں احناف کو یہاں بلوالیتی۔۔۔حیات خاور کو دیکھ کر لاڈ سے بولی

میں کونسا ایک دن کے لیے آیا ہوں احناف سے پارٹی میں مل لوں گا۔۔۔خاور نے مسکراکر کہا

کل کیوں میں ابھی اُس کو کال کرتی ہوں دیکھیئے گا بھاگا بھاگا آئے گا میری ایک کال پر۔۔.۔حیات نے فخریہ انداز میں کہا تو اُس کی بات پر سب مسکرائے

ہاں بلاؤ مجھے بھی بات کرنی ہے اُس سے۔۔۔۔اختر صاحب نے کہا تو سب چونک کر اُن کو دیکھنے لگے جن کا انداز کافی سنجیدہ تھا

خیریت والی بات ہے نہ؟منیبہ بیگم اُن کے پاس بیٹھی

تمہیں پتا نہیں وہ کیا حماقت کرنے جارہا ہے۔۔اختر صاحب کافی غُصے میں معلوم ہورہے تھے جس پر ناچاہتے ہوئے بھی تارا کا دھیان اُن کی طرف گیا

بات بتائے ڈیڈ کیا ہوا ہے؟حیات احناف کے نمبر پر مسیج چھوڑتی اختر صاحب کی طرف متوجہ ہوئی

ہمارے مخالفین کی طرف نوکری کرنے لگا ہے احناف۔۔۔اختر صاحب نے بتایا

نوکری؟حیات ہنس پڑی “اُس کو اختر صاحب کی بات پر یقین نہیں آیا تھا

ڈیڈ اُس کو کیا ضرورت ہے نوکری کرنے کی ہمارا اپنا اِتنا بڑا بزنس ہے چچا نے کہاں اِجازت دینی ہے اُس کو۔۔۔حیات نے اُن کی بات کی نفی کی۔

سچ بات ہے آئے تو پوچھ لینا۔۔۔اختر صاحب نے سرجھٹک کر کہا

اگر ایسا ہوا تو حیات تم سمجھانا احناف کو یوں ناشکری کرنے والے سے اللہ ناراض ہوجاتا ہے”بھلا اپنا اِتنا بڑا بزنس ہونے کے باوجود اُس کو ضرورت کیا ہے دو ٹکے کی نوکری کرنے کی”اور نوکری بھی وہاں جو اُس کے چچا اور ہونے والے سسر کے دُشمن ہے۔۔۔۔منیبہ بیگم نے کہا تو حیات نے سراثبات میں ہلایا

کبھی اپنا دماغ بھی یوز کرلیا کرو۔۔ازلان جو اُس کے پاس والے صوفے پر بیٹھا تھا حیات کی حرکت پر بولے بغیر نہ رہ پایا جس پر حیات نے فقط اُس کو گھورا تھا۔۔۔

“السلام علیکم ۔۔۔کچھ دیر بعد احناف آیا تو سب کو اکھٹا بیٹھا دیکھ کر اُس نے سلام کیا

وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو؟آؤ بیٹھو.۔۔احناف کے سلام کا جواب سب نے دیا اور اسماعیل صاحب نے محبت سے اُس کو دیکھ کر کہا تو وہ خاور سے اچھی طرح سے ملنے کے بعد اُن کے ساتھ آکر بیٹھ گیا اب “اسماعیل صاحب کی ایک سائیڈ پر تارا تھی تو دوسری طرف احناف اور درمیان میں وہ خود تھے۔۔۔

تم نے جاب کرنے کا سوچا ہے؟اختر صاحب نے بات کا آغاز کیا

جی۔۔مختصر جواب

وجہ؟اگلا سوال

اپنے آپ کو ثابت کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔احناف نے سنجیدگی سے بتایا جس پر اسماعیل صاحب نے فخریہ انداز میں اُس کو دیکھا

تمہیں پتا ہے جس کمپنی کو تم نے جوائن کرنے کا سوچا ہے اُس کی وجہ سے ہمارے کمپنی کے کتنے شیئرز گِرچُکے ہیں۔۔۔۔اختر صاحب نے طنز انداز میں کہا

مجھے نہیں پتا آپ بتائے”کتنے گِرے ہیں؟احناف نے بڑی توجہ سے اُن کو دیکھ کر پوچھا تو اختر صاحب نے خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھا تھا جبکہ اُن کے غُصیلے انداز میں احناف کا ٹھنڈا جواب سن کر تارا کو ہنسی آگئ تھی جس کو اُس نے کھانسی میں بدلا تھا۔۔

ٹھیک ہو؟اسماعیل صاحب نے فکرمندی سے اُس کو دیکھا جس کی رنگت میں سرخی چھاگئ تھی۔

میں ٹھیک ہوں۔۔۔تارا نے خود کو کمپوز کیا

ڈیڈ کو تمہاری جاب سے مسئلہ ہے”میرے خیال سے تمہیں اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔۔۔حیات اُٹھ کر اُس کے ساتھ بیٹھ گئ۔

چچا جان میری جاب سے آپ کو مسئلہ کیا ہے؟”جبکہ میں مطمئن ہوں۔۔۔احناف نے سیدھا اختر صاحب سے سوال کیا

وہ تمہیں ہمارے خلاف بھی استعمال کرسکتا ہے۔۔۔اختر صاحب نے سنجیدگی سے کہا

میں کوئی بچہ نہیں۔۔۔احناف جوابً بس اِتنا بولا

میں کچھ نہیں جانتا تم بس یہ جاب چھوڑو میں نہیں تو بھائی صاحب سے بات کروں گا۔۔۔اختر صاحب نے کہا

آپ کو نہیں لگتا مجھے اِس حالت میں آپ کو چاہیے کہ مجھے سپورٹ کرنا چاہیے؟احناف نے افسوس سے اُن کو دیکھا

سپورٹ والا کام بھی تو کرو نہ کوئی یعنی ہمارے خاندان کا لڑکا کسی اور کے انڈر کام کرے گا۔۔۔۔اختر صاحب کے لہجے میں حقارت در آئی

میں تو اپنے پوتے کے ساتھ ہوں۔۔۔اُسماعیل صاحب نے احناف کا کندھا تھپتھپایا تو احناف نے اُن کے ہاتھوں کا بوسہ لیا

احناف کی بات ٹھیک ہے اگر وہ کوئی تجربہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اِس میں کوئی قباحت نہیں ہے”رہی بات اپنے بزنس کی تو وہ بھی احناف کا ہے وہ جب چاہے اُس کی دیکھ بھال کرسکتا ہے۔۔۔انعم بیگم نے بھی باتوں میں اپنا حصہ ڈالا

یہ تو بچہ ہے آپ لوگ کیوں بچیں بن رہے ہیں؟منیبہ بیگم نخوت سے بولی

میں بچہ نہیں ہوں چچی”بچپن سے ڈیڈ چاہتے تھے میں کچھ کروں اور آپ سب بھی یہی چاہتے تھے کہ میں خود سے کچھ کروں تو میں وہی کرنے جارہا ہوں پر پتا نہیں آپ سب کو کیا ہوگیا ہے اب۔۔۔احناف سرجھٹک کر کہتا وہاں سے اُٹھ گیا اُس کا رخ اب ٹیرس کی جانب تھا کیونکہ جب بھی وہ اپنے دادا کے گھر آتا تھا تو ٹیرس ضرور جاتا تھا کیونکہ یہ اُس کی پسندیدہ جگہ تھی۔۔

میں دیکھتی ہوں۔۔۔حیات اِتنا کہتی اُٹھ گئ

بیٹھ جاؤ ابھی اُس کو اکیلا رہنے دو۔۔۔خاور نے اُس کو اُٹھتا دیکھا تو بیٹھنے کا اِشارہ کیا

تم جاؤ۔۔۔اسماعیل صاحب نے تارا کو دیکھ کر آہستگی سے کہا

میں؟تارا تعجب سے اُن کو دیکھنے لگی

کزن ہے تمہارا جاؤ اور دیکھو۔۔۔۔اسماعیل صاحب نے نرمی سے کہا تو تارا ناچاہتے ہوئے بھی اُٹھ گئ۔۔۔۔

میں اپنے کمرے میں آرام کروں گا اب۔۔۔خاور نے مسکراکر سب کو دیکھ کر کہا

ٹھیک ہے آرام کرو کیونکہ کل مصروف دن ہونے والا ہے۔۔۔منیبہ بیگم نے اُس کو دیکھ کر کہا

“تارا ٹیرس پر آئی تو احناف کو ریلنگ کے پاس خاموش کھڑا پایا جو دور خلاؤں میں جانے کیا تلاش کررہا تھا۔۔۔”اُس کو دیکھ کر تارا اُس کے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوئی مگر بولی کچھ نہیں

“کیا میں غلط ہوں؟اچانک احناف کے مُخاطب کرنے پر تارا نے چونک کر اُس کو دیکھا

آپ کو کیا لگتا ہے؟تارا نے اُلٹا اُس سے سوال داغا تو احناف نے گردن موڑ کر اُس کو دیکھا جس نے آج بہت عرصے بعد اُس کو”آپ”کہے مُخاطب کیا

انسان کو اپنا آپ کبھی غلط نہیں لگتا۔۔۔۔احناف دوبارہ آسمان کی جانب دیکھتا اُس سے بولا

لگتا ہے بلکل لگتا ہے”البتہ وہ ظاہر ہونے نہیں دیتا ورنہ ہر انسان کو پتا ہوتا ہے جو وہ کرنے جارہا ہے یا وہ کرچُکا ہے وہ غلط ہے۔۔”یہ بات اچھے سے پتا ہوتی ہے۔۔تارا نے اُس کی بات کی نفی کی

ڈیڈ کو خوش کرنا چاہتا ہوں میں۔۔۔احناف نے بتایا

انسان کبھی اپنی زندگی سے خوش نہیں ہوتا تو تم نے کیسے سوچ لیا کہ وہ محض تمہاری ایک جاب سے خوش ہوجائے گے؟تارا کا لہجہ طنز ہوگیا تھا

جاب اچھی ہے میری”سیلیری پکیج بھی اچھا ہے۔۔۔احناف نے بتایا

اچھی ہوگی مگر سب کو تمہارا جاب کرنا اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔تارا شانے اُچکاکر بولی

تو تمہیں کیا لگتا ہے آپ مجھے اُن کی بات مان لینی چاہیے؟احناف نے پھر سے اُس کو دیکھا

میں کون ہوتی ہوں تمہارے مطلق اندازہ لگانے والی پر اگر تم نے عزم کرلیا ہے کہ کچھ کرنا ہے تو تمہیں اپنی قسمت آزمانی چاہیے پھر جب تمہارا دل نہ لگے تو واپس اپنے ڈیڈ کے پاس چلے جانا۔۔۔۔تارا نے سرسری لہجے میں کہا

ڈیڈ نے ایک حساب سے مجھے اپنی جائیداد سے عاق کرلیا ہے۔۔۔احناف نے کہا تو تارا کو اچنبھا ہوا

ریئلی؟

بس ایک جان کی وجہ سے؟تارا بے یقین تھی

اُن کی حکم عدولی کرنے کی وجہ سے۔۔۔احناف نے کہا تو تارا نے گہری سانس خارج کی پھر کچھ منٹس کھڑے رہنے کے بعد اُس نے جانا ضروری سمجھا تبھی اُس نے جانے کے لیے ابھی قدم آگے بڑھائے تھے کہ احناف نے اُس کی کلائی اپنے شکنجے میں لی۔۔۔

ہاتھ چھوڑو میرا۔۔۔تارا کو اُس کی حرکت پسند نہیں آئی اور اپنی اِس نے اختیاری پر احناف خود کو ملامت کرتا اُس کی کلائی چھوڑ چُکا تھا

تارا۔۔۔ازلان وہاں آتا تارا کو آواز دینے لگا تو تارا اور احناف نے ایک ساتھ اُس کو دیکھا جس کے ساتھ حیات بھی کھڑی تھی”حیات کے چہرے پر ناگواری والے تاثرات دیکھ کر تارا نے اپنے قدم ازلان کی طرف بڑھائے جبکہ حیات ایک اچٹنی نظر اُس پر ڈالے احناف کی طرف آئی تھی۔

احناف تم غُصہ کیوں ہورہے ہو؟حیات اُس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کر بولی

میں غُصہ نہیں ہوں۔۔۔۔احناف نے کہا جبکہ نظریں تارا پر اٹک گئ تھی جو ازلان کے ساتھ نیچے کی طرف جارہی تھی۔۔۔۔

اگر تمہیں جاب کرنا ہے تو فائن کرلوں مجھے کوئی اعتراض نہیں میں ڈیڈ اور موم کو بھی یہ بات سمجھادوں گی۔۔۔۔حیات نے اُس کا ہاتھ پکڑا

میں جانتا تھا۔۔۔احناف پہلی بار مسکرایا

بناوٹی مسکراہٹ کیوں ہے تمہارے چہرے پر؟حیات نے غور سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا

بناوٹی مسکراہٹ کیوں ہوگی میری؟احناف نے اُلٹا اُس سے سوال داغا

اچھا فائن چھوڑو اور میرے ساتھ آؤ میں نے کل کے لیے ایک خوبصورت سا ڈریس سلیکٹ کیا ہے۔۔۔حیات نے مسکراکر بتایا

کل پہنوں گی تو دیکھ لوں گا ابھی میں چلتا ہوں”میرا موڈ آف ہوچکا ہے۔۔۔۔احناف نے انکار کیا

ڈنر کرنے کسی اچھی جگہ جائے؟تمہارا موڈ بہتر ہوجائے گا۔۔۔۔حیات نے پیش کش کی

آ نہیں میں بس گھر جاکر سوؤں گا۔۔۔احناف نے مسکراکر انکار کیا

ایز یو وِش۔۔۔۔حیات نے مزید بحث نہیں

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

نیلے رنگ کی میکسی پہنے”ہونٹوں پر ڈارک لپ اسٹک لگائے تارا نے مسکراکر آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا اُس کے بال جوڑے میں مقید تھے سِوائے آگے کو نکلی چند لٹوں کہ جن پر اُس نے نیلا کلر کیا تھا۔۔۔

پرفیکٹ۔۔۔خود پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر وہ آہستگی سے بڑبڑاٹی سینڈل پہننے کے اِرادے سے بیڈ پر آئی۔۔اِس درمیان اُس کی نظریں وال کلاک پر جمی ہوئی تھیں وہ جانتی تھی گھر اب تک پورا مہمانوں سے بھر گیا ہوگا وہ لیٹ ہوچکی ہے۔۔۔”اور شاید اب تک پارٹی شروع بھی ہوگئ ہوگی..”جبھی وہ جلدی جلدی اپنے ہاتھ پاؤں چلانے لگی

❤
❤

یہ آپ کی بیٹیاں ہیں نہ”کیا اِن کو بھی ماڈلنگ میں بھیجا ہے؟اختر جتوئی اور اصغر جتوئی مہمانوں کے ساتھ خوش گپوں میں مصروف تھے جب اُن میں سے ایک نے سیڑھیوں کی جانب اِشارہ کیے مزاحیہ انداز میں پوچھا تو وہ دونوں چونک کر سیڑھیوں کی جانب دیکھنے لگے جہاں”حیات”سومل”مومل سلیولیس پارٹی ڈریس میں ملبوس”پشت پر کُھلے بال چھوڑے “فل میک اپ کیے مسکراتی ہوئی آپس میں کوئی بات کرنے میں مصروف تھیں۔۔”اُن کی ایسی ڈریسنگ دیکھ کر اُن دونوں کا چہرہ احساس توہین کی وجہ سے سرخ ہوا تھا۔

ایسی کوئی بات نہیں دراصل گھر میں فنکشن تھا تو تبھی بچیوں نے ایسی ڈریسنگ کی ہے۔۔”اصغر صاحب نے مسکراکر اُن کی بات کی نفی کی

اچھا اچھا ویسے آپ کی بھانجی نظر نہیں آرہی؟سارا کچھ تو اُس نے کیا ہے نہ؟اور اُس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ماشااللہ سے جوان ہوگئ ہے اُس کے ہاتھ بھی پیلے کردینے چاہیے۔۔۔اب کی ایک خاتون نے رازدرانہ انداز میں اُن سے کہا

مُناسب رشتہ نظر آیا تو ضرور۔۔اصغر صاحب مسکراکر بولے تو اُنہوں نے سر کو خم دیا

“السلام علیکم ۔۔۔حیات اپنے باپ کے سامنے کھڑی اُن کو سلام کرنے لگی

وعلیکم السلام بیٹا کیسی ہو؟خاتون نے مسکراکر اُس کو دیکھ کر پوچھا

میں ٹھیک الحمداللہ آپ بتائے۔۔حیات نے بھی جوابً مسکراکر بتانے کے بعد پوچھا

اللہ کا شکر ہے۔۔۔۔خاتون بولی تو حیات کی نظر الطاف صاحب اور بینش بیگم کے ساتھ “سلطان احناف انابیہ بھی پر پڑی جو ابھی آئے تھے۔”اُن کو دیکھ کر حیات ایکسکیوز کرتی بینش بیگم کی طرف بڑھی

چچی جان کیا حال چال ہے۔۔حیات اُن کے گلے لگی۔

میں ٹھیک تم بتاؤ اور بیٹا تمہیں بھی تارا کی ہوا لگی ہے کیا؟بینش بیگم نے مسکراکر دل کی بات کردی تو احناف جو اپنے سیل فون میں بزی تھا اپنی ماں کی بات سن کر چونک کر سراُٹھایا تو نظر حیات کے بجائے اُس کے پیچھے آتی تارا پر گئ جو پاؤں کو چھوتی خوبصورت میکسی میں ملبوس آہستہ آہستہ چلتی لوگوں سے مل رہی تھی۔۔”اُس کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ تھی جس کو احناف نے بڑے غور سے دیکھا تھا مگر جلدی دیکھنے سے محروم بھی ہوگیا تھا کیونکہ وہاں لوگوں نے اُس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا ۔۔

اچھی نہیں لگ رہی کیا؟حیات کی آواز پر احناف کا دھیان اب حیات پر گیا تھا۔۔”اور اُس کو دیکھ کر چہرے پر ناپسندیدگی والے تاثرات نمایاں ہوئے

بلکل بھی اچھی نہیں لگ رہی۔۔۔احناف نے ناگواری سے کہا

احناف۔۔۔۔بینش بیگم نے اُس کو تنبیہہ کی جس پر وہ ایک اچٹنی نظر حیات پر ڈالتا وہاں سے ہٹ گیا۔

احناف رُکو۔۔۔حیات فورن سے اُس کے سامنے کھڑی ہوئی

یہ کیا ہے حیات؟احناف نے اُس کے کپڑوں کی جانب اِشارہ کیا

اچھے نہیں ہیں کیا؟مجھے لگا تھا تمہیں پسند آئے گے۔۔۔حیات آہستگی سے منمنائی

سیریسلی؟تمہیں لگا میں اِن واحیات کپڑوں میں تمہیں دیکھ کر خوش ہوجاؤں گا؟احناف نے طنز کیا

ہاں تو اِس میں غلط کیا ہے آجکل ایسا ہی چلتا ہے ہر جگہ اور ہم لاہور میں ہیں بلوچستان کے کسی گاؤں میں نہیں۔۔۔حیات نے آخر میں مزاحیہ انداز میں کہا تھا

بلوچستان کے گاؤں کی لڑکی نے بھی قابلِ تعریف کپڑے پہنے ہیں۔۔۔احناف نے کہنے کے ساتھ ہی اُس کا رُخ تارا کی طرف کیا جس پر حیات کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے تھے اُس کا چہرہ دیکھنے لائق ہوا تھا۔۔۔”اُن سب سے انجان تارا کسی کو کال کرنے میں محو تھی۔۔۔

ہیلو۔۔۔۔سلطان تارا کی طرف آیا

السلام علیکم ۔۔۔۔تارا اپنا فون بند کرتی اُس کی طرف متوجہ ہوئی

وعلیکم السلام ڈانس؟سلطان نے اُس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا

ڈانس؟تارا شش وپنج میں مبتلا ہوئی

ہاں کیوں اِس میں اِتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے؟اسٹیج کی طرف دیکھو ہر کوئی ڈانس کرنے میں مصروف ہے۔۔۔سلطان نے کہا تو آس پاس نظریں ڈوراتی تارا اُس کی بات پر حامی بھرگئ

شیور۔۔۔۔تارا نے مسکراکر اپنے ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دیا تو سلطان اُس کو لئے اسٹیج پر آیا اور اُس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کر تھوڑا اپنے نزدیک کیا

آؤ ڈانس کرتے ہیں۔۔۔۔حیات نے پرجوش لہجے میں احناف سے کہا

میرا موڈ نہیں۔۔۔۔۔احناف نے انکار کیا

کم آن یار احناف چلو حد ہے تمہاری بھی۔۔۔حیات اُس کو آنکھیں دیکھاتی زبردستی اپنے ساتھ اسٹیج پر لائی”دوسری طرف سومل خاور کے پاس آئی تھی”

ڈانس۔۔۔سومل نے مسکراکر خاور سے کہا تو وہ جو میسج ٹائپ کررہا تھا اُس کی طرف دیکھا

وائے ناٹ۔۔۔خاور نے سب کو ہلکے ہلکے میوزک پر ڈانس کے اسٹیپس لیتا دیکھا تو مسکراکر مثبت جواب دینے لگا جس پر اُس کی باچھیں کُھل گئ۔۔۔۔۔

آپ کا موڈ کیوں آف ہے؟کولڈ ڈرنک کا سِپ لیتے ارسلان نے مومل سے پوچھا جس کی نظریں سلطان اور تارا پر تھیں۔۔

تارا کو دیکھو زرا بچپن میں احناف کو اپنے پیچھے لگایا تھا”پھر یونی فیلو “اسجد اُس کے بعد ازلان اور اب دیکھو سلطان کو اپنی طرف مائل کرنے میں لگی ہوئیں ہیں۔۔۔مومل نفرت بھرے لہجے میں گویا ہوئی

خُدا کا خوف کرو آپی سلطان بھائی کی کچھ ماہ بعد شادی ہے اور منگنی شُدہ ہے۔۔۔۔”اور تارا کو تو وہ اکثر اپنی چھوٹی بہن سمجھا کرتے ہیں۔۔۔۔ارسلان اُس کی بات سن کر ہنس کر بولا

تمہیں نہیں پتا کچھ۔۔۔مومل سرجھٹک کر بولی

واقع مجھے کچھ نہیں پتا خیر میں بھی جارہا ہوں ڈانس کرنے آپ بھی اپنا کوئی پارٹنر تلاش کرلے۔۔۔ارسلان اپنے ہاتھ کھڑے کیے کہتا انابیہ کی طرف بڑھا تھا

ازلان بھائی۔۔۔۔فضا نے سب کو ڈانس میں مگن دیکھا تو ازلان کے پاس آئی جو اپنے دوستوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔

ہممم۔۔۔ازلان نے اُس کی طرف اپنا رُخ کیا

آئے نہ ڈانس کرتے ہیں ہر کوئی کررہا ہے اور بڑے لوگوں کو بزنس کی باتوں سے فرصت نہیں ایسے میں مجھے بوریت محسوس ہورہی ہے۔۔۔۔فضا نے کہا تو ازلان اُس کی بات پر مسکرایا

تم چلو میں آتا ہوں۔۔۔ازلان اُس کے بال بگاڑ کر بولا

اوکے۔۔۔وہ مسکراکر کہتی اسٹیج کی طرف بڑھی۔

“”تمہیں کسی کا انتظار ہے؟سلطان کی بات پر تارا جو آس پاس دیکھنے میں تھی چونک کر اُس کو دیکھنے لگی

نہیں تو آپ کو ایسا کیوں لگا؟تارا نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجائی

تمہارے چہرے پر بے چینی والے تاثرات تھے تبھی مجھے لگا۔۔سلطان نے وجہ بتائی

ایسا کچھ نہیں۔۔۔تارا نے نفی میں سر کو جنبش دی”

“تم ان کمفرٹیبل فیل کررہے ہو کیا؟حیات نے بغور احناف کے تاثرات جانچے جس کا ایک ہاتھ تو اُس کی کمر پر تھا اور دوسرا اُس کے ہاتھ میں تھا مگر اُس کے چہرے سے لگ رہا تھا جیسے وہ کچھ پریشان سا ہے۔۔

تمہاری کمر بیک لیس ہے۔۔۔احناف نے مختصر اِتنا بتایا یہی وجہ تھی جو احناف بار بار وہاں سے اپنا ہاتھ ہٹا رہا تھا کیونکہ اُس کو عجیب محسوس ہورہا تھا۔۔۔

تو کیا ہوا میں تمہاری منگیتر ہوں”اِس لیے شرماؤ نہیں۔۔حیات ہنس کر پڑی

ایسی ڈریس کے ساتھ تمہیں اپر پہننی چاہیے تھی۔۔۔احناف محض اِتنا بولا

تمہاری سوچ کافی پُرانے خیالات کی ہے۔۔۔حیات نے جھرجھری سی لی

نین تارا کے پاس ہوتیں ہیں تم ایک اُس سے لینی چاہیے تھیں اگر تمہارے پاس نہیں تھی تو۔۔۔احناف نے کہا تو اُس کی بات پر حیات نے آنکھیں گُھمائی

اُس کی یوزلیس چیزیں استعمال کرنے سے اچھا میں مرجاؤں۔۔۔حیات سرجھٹک کر بولی تو احناف نے تاسف سے اُس کو دیکھا”جبھی ڈانس کے دوران ہر کپل نے پوزیشن چینج کی “تو جس وقت سلطان تارا کو گول گھمارہا تھا اُس وقت تارا کا ہیل والی سینڈل والا پاؤں اپنی میکسی پر اٹکا تھا مگر اُس سے پہلے وہ گِرتی ازلان نے جلدی سے اُس کو تھام لیا تھا۔۔۔ازلان کے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑتی تارا نے شکر کا سانس خارج کیا

ٹھیک ہو نہ تم؟ازلان اُس کو سہی سے کھڑا کرتا فکرمندی سے پوچھنے لگا

جی میں ٹھیک ہوں آپ کا شکریہ ورنہ بہت بُری موچ آتی۔۔۔اپنے پاؤں کو دیکھتی تارا ہنس کر بولی تو اُس کو مسکراتا دیکھ کر ازلان بھی مسکرایا تھا۔۔

ضرورت کیا ہے تم لڑکیوں کو اِتنی بڑی ہیل پہننے کی۔۔۔ازلان اُس کو دیکھ کر بولا

مجھے عادت ہے بس آج یہ ہوگیا۔۔۔۔تارا نے جوابً بس اِتنا کہا جس پر ازلان نے ڈانس کے دوران اُس کی پوزیشن ٹھیک کی۔۔”اُن دونوں کو دیکھ کر احناف کی گرفت انجانے میں حیات کی کمر پر مضبوط ہوئی تھی جس نے اُس کو پوزیشن بدلنے کے دوران چھوڑا نہیں تھا۔۔”دوسری طرف خود پر کسی کی نظروں کا ارتکاز محسوس کیے اپنے دونوں ہاتھ ازلان کے کندھوں کو پکڑتی تارا نے نظریں سامنے اُٹھائی تو نگاہیں احناف سے ملیں تھی جو بے تاثر نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا”تارا نے بار بار اُس کو دیکھا پر احناف نے اُس سے اپنی نظریں اُس پر ہٹائی نہیں تھیں جس پر تارا کو عجیب فیل ہونے لگا تبھی ازلان کے کان میں کچھ کہتی وہ اپنی پشت احناف کی طرف کرگئ تھی۔۔۔

آہستہ یار۔۔۔۔حیات نے اُس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا خود سے دور کیا تو احناف ناسمجھی سے حیات کا چہرہ دیکھنے لگا

تمہارے پاس ہوں کہی بھاگی نہیں جارہی اِس لیے رلیکس رہو اور اپنا ہاتھ ہولہ رکھو۔۔۔حیات نے شرارت سے مزید کہا تو احناف کو محسوس ہوا وہ کیا کرگیا ہے تبھی سرعت سے وہ اپنے ہاتھ پیچھے کرگیا تھا شرمندگی کیا ہوتی ہے؟”اِس بات کا احساس اُس کو شدت سے ہوا تھا اور اپنی اِس حرکت پر دل ہی دل میں کئ بار خود کو کوس بھی چُکا تھا۔۔۔”اور جب اُنہوں نے دوبارہ پوزیشن چینج کی تو حیات گول گول گھومتی خاور کے پاس آئی اور “مومل سلطان کے پاس جبکہ باقیوں کا بھی پارٹنر بدل گیا تھا اور تارا احناف کے پاس آئی تو اپنے ہاتھ اُس کے کندھوں پر محسوس کیے وہ پیچھے ہونے لگی جب احناف نے اُس کے گرد اپنا حصار بناکر اُس کی کوشش کو ناکام بنا گیا تھا

“ازلان کے کندھوں کو تو بڑی مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اب کیا ہوا؟احناف نے کہا تو اُس کی بات کا مطلب جان کر تارا نے ناگواری سے اُس کو دیکھا

میں گِرنے والی تھی۔۔۔تارا نے جانے کیوں صفائی پیش کی

اوو۔۔۔۔۔احناف نے اپنے ہونٹوں کو”گول”شیپ دیا پھر اُس کی نظریں تارا کے چہرے پر آتی آوارہ لٹوں پر گئ۔۔

یہ نقلی ہے؟احناف نے اُس کے نیلے بالوں کی لٹوں کو چھیڑا

اصلی ہیں۔۔۔۔تارا بغیر اُس کو دیکھ کر بولی

اوو کافی شوق ہے تمہیں اچھی چیزوں کا بیڑا غرق کرنے کا۔۔۔۔احناف نے اُس کو دیکھ کر طنز انداز میں کہا

میرے بال میری مرضی۔۔۔۔تارا نے اُس کو گھورا

بلکل مگر نیلی آنکھیں”نیلی ڈریس اور اُپر سے یہ نیلی آوارہ لٹیں بات کچھ جمی نہیں”ایک تھا ڈائن والے ڈرامے کی “سیکنڈ قسط والی ڈائن سے مشابہت کھا رہی ہو مگر فرق بس اِتنا ہے کہ اُس کے سفید ڈریس کے ساتھ سفید آنکھیں تھیں اور تم پوری کی پوری نیلی بنی ہوئی ہو۔۔۔۔احناف نے بڑے افسوس بھرے لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا تو تارا کو اُس کی بات بُری تو بہت لگی مگر خاموش رہی بس اپنی نظریں ڈانس کرتے کپلز پر جمائی

خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔احناف نے دوبارہ بات کی شروعات کی تو تارا نے اِس بار چونک کر نظریں اُُٹھاکر اُس کو دیکھا جو پہلے اُس میں سے نقص نکال رہا تھا اور اب جلدی سے تعریف میں کررہا تھا۔۔۔۔

کون میں؟تارا کو یقین نہیں آیا کہ احناف نے اُس کی تعریف کی ہے”بھلا اِتنی جلدی کون بدلتا ہے؟

ہاں سوچا کرلوں کیونکہ میں شیور ہوں تمہاری تعریف یہاں کسی نے بھی نہیں کی ہوگی۔۔۔۔احناف نے جوابً کہا جس پر تارا نے دانت پیس کر اُس کو دیکھا مگر کہا کچھ بھی نہیں پر اُس کو مسلسل خود پہ احناف کی نظروں کا ارتکاز اچھے سے محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔”جس سے وہ کوفت کا شکار ہوئی

ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟تارا نے بلآخر پوچھ لیا کیونکہ وہ اُس کی نظروں سے زچ ہورہی تھی۔۔۔۔

کچھ تلاش کررہا تھا تمہاری اِن آنکھوں میں۔۔۔۔احناف نے بتایا

اچھا اور وہ کیا؟تارا نے آئبرو اُپر کیے اُس سے پوچھا

شرم”حیا”جو اِن آنکھوں میں کہی بھی نہیں ہے۔۔۔۔احناف نے بتایا تو تارا کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا وہ غُصیلے نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی جس نے اب اپنی نظروں کا زاویہ خاور کے ساتھ ڈانس کے اسٹیپ لیتی حیات کی طرف کرلیا تھا۔۔۔۔۔۔”مگر تارا کے صبر کا پیمانہ جیسے اِن دو الفاظوں سے لبریز ہوگیا تھا۔۔

تم کون ہوتے ہو مجھے جج کرنے والے۔۔۔تارا نے اُس کو خود سے پرے دھکیلا اور بنا اُس کی سُنے جانے والی تھیں جب احناف نے اُس کو اپنی طرف کھینچا جس پر اُس کی پشت احناف کے سینے سے لگی تھی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *