Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kia Hoi Hai Khata (Episode 13)

Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain

Happy birthday czn.

تارا سب کو اگنور کرتی سیدھا احناف کے روبرو کھڑی ہوتی اُس کی طرف گفٹ بڑھاکر بولی تو احناف کی حیرت میں اضافہ ہوا

تمہیں تو ضروری کام تھا؟احناف کے پاس کھڑی حیات نے طنز نظروں سے تارا کو دیکھا

یہ بھی ضروری کام ہے میرے کزن کی سالگرہ کا دن تو کیسے ممکن ہے میں مس کروں؟تارا اُس کو دیکھ کر پرسکون لہجے میں بولی

تمہارا آنا اور نہ آنا ہمارے لیے ایک جیسا ہے”اور تم ہر سال نہیں آتی جو ایسا بول رہی ہو۔۔۔حیات نے جتایا

“مگر میں تو تم لوگوں کے نہیں آئی میں تو احناف کے لیے آئی ہوں۔۔۔تارا احناف کو دیکھتی حیات سے بولی

اچھا کیا جو تم آئی تم سب لوگ انجوائے کرو میں اپنے کمرے میں جاؤں گی۔۔۔۔بینش بیگم سب پر نظر ڈال کر کہتیں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔۔۔

تھینک یو۔۔۔۔احناف سرجھٹک کر اُس کا شکریہ ادا کرنے لگا

تھینکس کس لیے؟تارا کو سمجھ نہیں آیا

اِس تُحفے کے لیے۔۔۔احناف نے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے لہرایا جہاں اُس کا دیا گیا گِفٹ تھا

کوئی بڑی بات نہیں۔۔۔۔تارا عام لہجے میں بولی

اگر تمہیں آنا تھا تو ہمارے ساتھ آجاتی۔۔۔سومل بھی وہاں آئی

میں نے یہاں آنے کا پروگرام اچانک بنایا تھا۔۔۔۔تارا نے بتایا

تم بہت سالوں بعد یہاں آئی ہوں۔۔۔۔سُلطان تارا کو دیکھ کر بولا

یہ پہلی بار یہاں آئی ہے۔۔۔احناف اپنے بڑے بھائی کی بات کے جواب میں بولا تو تارا خاموشی سے اُن کو دیکھتی کارنر میں موجود ایک ٹیبل پر اکیلے بیٹھ گئ۔۔

“تم اِتنی اٹینشن سیکر کیوں ہو؟مومل بھی اُس کے برابر آ کر بیٹھی

تمہیں یہ کیوں لگا؟تارا نے چونک کر اُس کو دیکھا

تم اِتنا تیار ہوکر آئی ہو،تمہاری اٹینشن یہی ہوگی نہ کہ احناف یا کوئی اور تم میں انٹرسٹ لے کیونکہ ہمارا بھائی تو ویسے بھی تمہارا پکا والا حمایتی ہے۔۔۔۔مومل نے اُس کو دیکھ کر تیکھی لہجے میں کہا

مجھے کسی کی اٹینشن کی ضرورت نہیں اور نہ مجھے ایسا کوئی شوق ہے جو ایسی چیپ حرکت کرتی پِھیروں زندگی میں اِن چیزوں کے علاوہ بھی میرے پاس بہت سے کام ہیں۔۔۔۔تارا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بہت کچھ باور کروایا تھا۔۔۔۔

مومل آؤ کیک کٹ ہونے کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔۔سومل اور حیات مومل کے پاس آکر بولیں جبکہ تارا کو دونوں نے سِرے سے نظرانداز کیا تھا

اِف یو ڈونٹ مائینڈ میں تم سے ایک سوال پوچھوں؟مومل اُٹھنے لگی تو تارا نے حیات کو مُخاطب کیا

پوچھو۔۔۔۔حیات نے جیسے احسان کیا

تمہارے فیانسی کا برتھ ڈے رات کو بارہ بجے تھا اور تم یہاں سب کے ساتھ مل کر بورنگ انداز میں سیلیبریٹ کررہی ہو،کیا تمہیں نہیں لگتا تمہیں پرسنلی اُس کو سرپرائز دینا چاہیے تھا ناکہ غیروں کی طرح اُس کی سالگرہ میں بس ایویں شرکت کرنا چاہیے تھا۔۔۔تارا اُس کو دیکھ کر سرسری لہجے میں بولی جس پر حیات نے کڑے چتونوں سے اُس کو گھورا تھا

یہ میرا اور میرے فیانسے احناف کا آپسی معاملہ ہے میں اُس کو کہاں؟کس انداز میں”سالگرہ وِش کرتی ہوں یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے اِس لیے دوبارہ مجھ پر ایسا طنز مت کرنا۔۔۔۔حیات نے اُس کو وارن کیا

ویل میں نے تو جسٹ ایک بات کہی تو تم اِتنا دل پر کیوں لے رہی ہو؟”بہت بولتی ہو نہ اپنے اور احناف کے بارے میں اور اپنے ریلیشن پر تمہیں ناز بھی بہت ہے تو میں نے سوچا مطلب جسٹ میری یہ تھینکنگ تھی کہ تم نے تو پوری رات اُس کے ساتھ گُزاری ہوگی اُس کی سالگرہ کا ڈے خوبصورت بنانے کے لیے۔۔۔۔تارا نے ہاتھ کھڑے کیے ہنوز سادہ لہجے میں کہا

ہمیں اپنی حدود پتا ہے۔۔۔حیات نے جتایا

اوو ریئلی؟تمہیں تمہاری حدود پتا ہے تو یہ ساری باتیں تمہارے مائینڈ سے تب آؤٹ کیوں ہوجاتیں ہیں جب تم اُس کے گلے کا ہار بنتی ہوں یا بے باک انداز میں اُس کے گال چومتی ہو تو؟تارا نے میٹھا سا طنز کیا تو حیات کی رنگت پل بھر میں سرخ ہوئی تھی

حیات رلیکس تم اِس کی باتوں کو سر پر سوار نہ کرو آج تمہارا دن ہے اور یہ بس اُس کو اسپوئل کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔سومل نے اُس کو غُصے میں دیکھا تو پرسکون کرنے کی خاطر کہا

دیکھو تارا میں کیا کرتی ہوں اور کیا نہیں یہ تمہارا سر درد نہیں اِس لیے دوبارہ مجھے آئینہ دیکھانے سے پہلے وہاں اپنا عکس دیکھنا”میں چُپ ہوں تو مجھے چُپ رہنے دو۔۔۔۔حیات نے چبا چبا کر لفظ ادا کیے کہا

جاؤ کیک کٹ کا وقت ہورہا ہے۔۔۔تارا نے جیسے اُس کی بات سُنی ہی نہیں

لیٹس گو۔۔۔۔۔حیات ایک اچٹنی نظر اُس پر ڈالے اُن دونوں سے بول کر وہاں رُکی نہیں تھی۔۔۔۔

“تم یہاں کیوں بیٹھی ہو؟ازلان تارا کے پاس آیا

مجھے مزہ نہیں آرہا میں نہیں تھی آنے والی تھی بس نانا جان کی وجہ سے آئی۔۔۔۔تارا اُس کو دیکھ کر بولی

کیک کٹ ہونے والا ہے چلو اگر یہاں تک آگئ ہو تو وہاں تک بھی چلنا چاہیے تمہیں۔۔۔ازلان اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوا

اُن کو مجھ سے مسئلے بہت ہیں”میں یہی ٹھیک ہوں۔۔۔تارا نے سرجھٹک کر کہا

احناف شاید تمہارا انتظار کررہا ہے۔۔۔۔ازلان سامنے احناف کو دیکھ کر اُس سے بولا تو تارا چونک کر سامنے دیکھنے لگی جہاں احناف کے ہاتھ میں نائیف تھی اور وہ بڑی توجہ سے اپنے کان کے پاس جُھکی حیات کی کوئی بات سُن رہا تھا یہ دیکھ کر”تارا کو کچھ یاد آگیا تھا۔۔۔

❤

آج میری سالگرہ ہے اور تم یہاں بیٹھی ہوں۔۔۔۔۔سترہ سالہ احناف چودہ سالہ تارا کے پاس بیٹھ کر بولا تو اُس کو اچانک قریب دیکھ کر تارا نے جلدی سے اپنی ڈائری کو چُھپایا تھا۔”یہ اُن دونوں کی بات تھی جب تارا نیولی پاکستان آئی تھی اور زیادہ تر اکیلا ہی رہتی تھی کسی سے اُس کی بات چیت وغیرہ نہیں ہوتی تھی

آپ کی سالگرہ سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔تارا روکھے لہجے میں بولی

میں جانتا ہوں تم ہم سب کو لائیک نہیں کرتی پر کیا آج تم سب کچھ بُھلا کر اندر آسکتی ہو پلیز؟احناف غور سے اُس کو دیکھ کر بولا تو تارا نے بھی نظریں اُٹھائے اُس کی طرف دیکھا جس کے انداز میں عاجزی تھی

میرا آپ کی سالگرہ میں ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے وہاں اندر آپ کے سارے کزنز موجود ہیں میرا نہیں خیال وہاں آپ کو میری کمی محسوس ہوگی۔۔۔تارا اُس سے نظریں ہٹاتی بولی

کمی محسوس نہ ہوتی تو یہاں لان میں تمہیں تلاش کرتا ہوا نہ آتا۔۔۔۔احناف ہلکی مسکراہٹ سے بولا

آپ کو مجھ سے ایسے بات کرنے کی ضرورت نہیں میں خود کو اکیلا فیل نہیں کرتی کیونکہ میں جانتی ہوں اِس دُنیا میں اللہ کے سِوا میرے نانا میرے پاس ہیں۔۔۔۔تارا اپنے ہاتھوں کی اُنگلیوں سے کھیلتی اُس سے بولی

ایک بات کہوں؟احناف نے پہلے اِجازت چاہی

جی؟

تم پر یہ سنجیدگی سوٹ نہیں کرتی اور نہ تمہاری نیلی آنکھوں میں ہر وقت اُداسی والا تاثر اچھا لگتا ہے میں جانتا ہوں تم نے اپنے قریبی رشتوں کو کھویا ہے تمہارا دُکھ بڑا ہے مگر اب تمہیں موو آن کرنا چاہیے آخر کب تک تم پورے گھر میں تنہا گوشا تلاش کرو گی بیٹھنے کے لیے؟”میں آج یہاں آیا تھا تو بس تمہارے لیے تاکہ مل کر پارٹی کرے میں جانتا تھا تو ہمارے یہاں نہیں آؤں گی۔۔۔۔۔احناف نے اُس کا خوبصورت ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے کہا

مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا میں بس یہاں اپنے نانا کی وجہ سے ہوں ورنہ مجھے وحشت ہوتی ہے یہاں۔۔۔۔تارا عجیب نظروں سے اپنے اطراف دیکھ کر بولی تو اِس بار احناف مسکرایا

وحشت لفظ کی معنٰی پتا ہے تمہیں؟احناف کے لہجے میؓ شرارت تھی۔

جی پتا ہے”جب آپ سانس لینا چاہو پر سانس لینے وقت آپ کو حبس کا احساس ہو تو اُس کو وحشت کہتے ہیں”آپ کُھل کر جینا چاہو مگر آس پاس کی درو دیواریں آپ کو کاٹ کھانے لگ جائے تو اِس کو وحشت کہتے ہیں سب کچھ ہونے کے باوجود اگر آپ کا دل کسی ایک چیز میں بھی نہ لگے تو اُس کو وحشت کہتے ہیں”آپ اُس دوہراے پر نہیں جہاں میں ہوں میری محسوسات سے آپ بلکل لاعلم ہیں اِس لیے آپ کو نہیں پتا کہ مجھے کیا کچھ پتا ہے اور میرے خیال سے اِن چیزوں کو حقیقتاً “وحشت”کا نام دیا جاتا ہے پر آپ چاہے تو مجھے غلط قرار کرسکتے ہیں۔۔۔۔تارا گہرے سنجیدگی سے بولی تو احناف بس اُس کو دیکھتا رہ گیا اُس کو یقین نہیں آیا کہ سامنے بیٹھی چھوٹی لڑکی اُس سے ایسی باتیں بھی کرسکتی ہیں۔۔۔۔

نین تم بہت اسپیشل ہو۔۔۔۔احناف نے اُس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھایا

اسپیشل اور میں؟تارا حیرت سے اپنی آنکھوں کو بڑا کیے احناف کو دیکھنے لگی۔

ہاں بلکل۔۔۔۔احناف نے سرہلایا

کیسے؟تارا نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا اُس کی آنکھوں میں الجھن اور یکے دیگر کئ سوالات آئے تھے۔

اللہ کے سامنے جو اسپیشل ہوتا ہے وہ اُس کو آزماتا ہے اُس کی پیاری چیزوں کو لیکر۔۔۔۔۔احناف نے کہا تو تارا خاموش رہی

کیا ہوا؟احناف کو اُس کی خاموشی سمجھ نہیں آئی

اسپیشل لوگوں کی تو ہر چیز کا خیال رکھنا پڑتا ہے کوئی اپنی اسپیشل لوگوں کو تکلیف کیسے دے سکتا ہے؟تارا بس اِتنا بولی

وہ مالک ہے جو چاہے کرسکتا ہے مگر تم ایک بات یاد رکھنا وہ ہم سب سے بے انتہا محبت کرتا ہے”اور ہاں تم یہاں اگر یہاں چچی جان کی کسی بات کی وجہ سے ہو تو اُن کو اگنور کیا کرو سیڈ مت ہوا کرو۔۔۔احناف نے نرمی سے اُس کو سمجھایا

میں چچی کی کسی بات پر خفا یا سیڈ نہیں ہوتی۔۔۔۔تارا نے بتایا

کتنی مرتبہ بولا ہے چچی نہیں مامی بولا کرو۔۔۔احناف نے اُس کو ٹوکا

آپ اور ازلان باقی سب بھی تو چچی کہتے ہو میں نہ بول دیا تو کیا ہوا۔۔۔تارا نے سرجھٹکا

وہ اِس لیے کہ ہماری چچی ہیں مگر وہ تمہاری مامی ہیں یعنی تمہارے ماما جان کی بیوی اور تمہاری امی کی بھابھی۔۔۔۔۔احناف نے اُس کو سمجھایا

میں اُنہیں چچی ہی کہوں گی آسان یہی لگتا ہے”ویسے بھی اُن کو میں کچھ بھی کہوں کونسا اُن کو فرق پڑتا ہے۔۔تارا اپنی بات پر قائم تھی۔۔۔۔۔

اچھا چھوڑو یہ باتیں اور چلو میں نے کیک کٹ کرنا ہے سب انتظار میں ہیں۔۔۔۔احناف نے باتوں کا رُخ بدلا

میں نہیں آؤں گی آپ پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دے۔۔۔تارا کو چڑ ہونے لگی۔

نین ضد نہیں کرو آؤ تمہارے بغیر میں کیک نہیں کاٹنے والا۔۔۔وہ بضد تھی تو احناف بھی اپنی جگہ ضد پر اڑ گیا جس پر تارا نے تھکی ہوئی سانس خارج کی

آپ نے میری بہت سی مدد کی ہے تبھی میں آج آپ کی بات مان رہی ہوں۔۔۔۔تارا اُٹھ کر اُس سے بولی

تمہارا بہت شکریہ۔۔۔۔احناف اُس کی بات سن کر مُسکرایا

ویسے کیا سچ میں آپ کیک نہ کاٹتے؟تارا اُس کے ساتھ چلتی تجسس سے پوچھنے لگی

بلکل یہاں منانے کا ریزن ہی تم تھی پھر اگر تم نہ آتی تو کیک کٹ کرنے کا کیا فائدہ؟احناف شانے اُچکاکر عام انداز میں بولا

❤

کِن کے خیالوں میں گُم ہو؟احناف کی آواز سن کر تارا چونک کر خیالوں کی دُنیا میں واپس لوٹ آئی اور اپنی آنکھیں جھبپکیں آس پاس دیکھنے لگی جہاں ہر کوئی آپس میں باتوں میں مگن تھا اور اُس کے ساتھ ازلان نہیں بلکہ احناف کھڑا تھا ہاتھ میں کیک پکڑے”ازلان جانے کب کا جاچُکا تھا جس کی اُس کو خبر تک نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔

کسی کے بھی نہیں۔۔۔۔تارا نے خود کو کمپوز کیا

تم نہیں آئی سوچا یہی دے آؤں۔۔۔احناف نے کیک اُس کی طرف بڑھائے کہا

کیک کٹ ہوگیا؟تارا کو جانے کیوں حیرت ہوئی

ہاں ہوگیا تمہیں پتا نہیں چلا شاید تم سم ون اسپیشل کے خیالوں میں تھی۔۔۔احناف اُس کو دیکھ کر طنز لہجے میں بولا

میں کسی سم ون اسپیشل کے خیالوں میں نہیں تھی۔۔۔تارا نے اُس کو گھورا

اُپسسس پھر تو یقیناً میرے بارے میں سوچ رہی ہوگی۔۔۔احناف نے اندھیرے میں تیر پھینکا

خوشفہمی اچھی چیز ہے اگر ایک حد تک رکھی جائے تو۔۔۔۔اپنی چوری پکڑے جانے پر تارا نے مشکل سے خود کو سنبھالا

میں آج تم سے بحث نہیں کرنا چاہتا یہ پکڑو بس تم۔۔۔۔احناف نے مسکراکر کیک اُس کی طرف بڑھایا

میں یہ کیک نہیں کھاتی۔۔۔تارا بنا ایک نظر کیک پر ڈالے بولے

اوو مگر اب تو یہی ہے کیونکہ میرا فیورٹ کیک ہے تو میں کھاؤ گی تو اچھا لگے گا۔۔احناف مصنوعی افسوس سے بولا

مجھے نہیں کھانا اور مجھے گھر جانا چاہیے اب۔۔۔۔تارا سنجیدگی سے کہتی اپنا سیل فون اُٹھائے جانے لگی۔۔

یار کیا مسئلہ ہے تمہارا کیک کھاؤ سب نے انجوائے کیا ہے تمہیں بھی انجوائے کرنا چاہیے۔۔۔۔احناف اُس کے راستے کی دیوار بنا

مجھے جو چیز پسند نہیں ہوتی وہ نہیں ہوتی۔۔۔تارا نے اُس کو گھورا جس نے اُس کے جانے کے راستے مسدود کرلیے تھے بنا کسی بھی انسان کا خیال کیے

چھوٹا سا پیس کھانے میں کیا جائے گا تمہارا۔۔۔۔احناف نے کیک کا ایک پیس اُس کے ہونٹوں کے بیحد قریب کیا مگر تارا نے اپنا منہ نہیں کھولا جس پر احناف نے کیک کا وہی ٹکڑا اپنے منہ میں ڈالا جس پر تارا نے کاٹ کھاتی نظروں سے اُس کو دیکھا تھا۔

یمی بہت ٹیسٹی تھا ایک مرتبہ تمہیں بھی ٹرائے کرنا چاہیے۔۔۔۔۔احناف زچ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا تو اپنا منہ صاف کرتی تارا اپنے ہاتھ کی پشت زور سے اُس کے کندھے پر مار اُس کے برابر سے گُزرگئ جبکہ اُس کا تپا ہوا انداز احناف کو مزہ دے گیا تھا۔۔۔

“کیا ہورہا تھا یہاں؟حیات احناف کے پاس آتی مسکراکر بولی

کچھ نہیں تم بتاؤ کیک کھایا؟احناف نے جواباً مسکراکر کہا

ہاں میں نے کھایا پر لگتا ہے آج تمہیں کیک زیادہ پسند آگیا ہے۔۔۔حیات کا اِشارہ اُس کے ہاتھ کی طرف تھا۔

نہیں یہ تو میں ایٹیٹیوڈ گرل کے لیے لایا تھا جس نے کھانے سے صاف انکار کردیا۔۔۔احناف سرجھٹک کر بولا

تارا نام ہے اُس کا۔۔۔۔۔حیات نے بتایا

آئے نو۔۔۔۔احناف نے اُس کو دیکھ کر کہا

تم اُس کا نام نہیں لیتے تو مجھے لگا شاید تم بھول گئے ہو اُس کا نام۔۔۔۔حیات اُس کے ہاتھ میں موجود کیک کو لیکر بولی

ایسا بھی نہیں اب۔۔۔۔احناف نے کہا

ایس

حیات کچھ کہنے والی تھی جب اچانک آس پاش ہلچل مچ گئ تو سب کا دھیان اُس کی طرف گیا۔

جہاں یہ لڑکی ہو وہاں سکون کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔حیات نے تارا کو کسی لڑکے کے ساتھ بحث کرتا دیکھا تو کوفت سے بڑبڑائی تھی مگر احناف کے تاثرات یکدم تن گئے تھے۔۔۔”تبھی لمبے لمبے ڈُگ بھرتا اُن کی طرف آیا

“کیا ہورہا ہے؟احناف اُن دونوں کے پاس کھڑا ہوا

کچھ نہیں یار میں بس اِن کو ڈیٹ کی آفر کررہا تھا۔۔۔۔ایک لڑکا تارا پہ نظریں جمائے بولا تو احناف کے ماتھے پر بلوں کا جال بِچھ گیا تھا۔۔۔۔”جبکہ تارا سخت ناگواری سے اُس کو دیکھ رہی تھی

اگر بکواس ہوگئ ہو تو سائیڈ پہ ہوجاؤ۔۔۔تارا نے غُصے سے کہا

ارے آپ

آآہ آہ

وہ تارا کے کندھے پر ہاتھ رکھتا کچھ کہنے والا تھا جب احناف درمیان میں اُس کا ہاتھ روک کر مڑور چُکا تھا جس پر اُس لڑکے کے منہ سے چیخ بے ساختہ نکلی تھی۔۔۔

“پارٹی میں موجود ہر کوئی چہ مگوئیاں کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کو دیکھ رہے تھے”

تمہاری میں جان لے لوں گا سالے۔۔۔۔

احناف ہوش کرو کچھ کررہے ہو تم۔۔۔۔احناف دوبارہ اُس لڑکے کو مارنے کے لیے بڑھنے والا تھا جب حیات نے جلدی س اُس کو روکا

تارا آر یو اوکے؟ازلان شاک میں کھڑی تارا کے پاس آیا

ہاں۔۔۔میں. ٹھیک ہوں۔۔۔ٹھیک ہوں میں۔۔۔تارا جیسے نیند سے جاگی

تمہیں گھر جانا چاہیے۔۔۔۔۔ازلان کو وہ ٹھیک نہیں لگی۔

“حیات تم درمیان میں مت آؤ تمہیں نہیں پتا اِس نے کیا بکواس کی ہے۔۔۔۔احناف کا غُصے سے بُرا حال ہوا تھا۔

ہمارے گیسٹ ہیں احناف تم اپنے کمرے میں چلو۔۔۔ حیات نے زبردستی اُس کو اپنے ساتھ گھسیٹا

“میں گھر جانے والی تھی جب سیم راستے میں آیا۔۔۔۔اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتی تارا نے جواب دیا

میں بھی گھر جانے والا ہوں آؤ تم بھی۔۔۔ازلان نے کہا تو اُس نے سراثبات میں ہلایا

آؤ بیٹھو اور پانی کا گلاس پیو۔۔۔۔حیات اُس کو کمرے میں لاتی بیڈ پر بیٹھاکر بولی تو احناف نے اپنا سرجھٹکا

تمہارا غُصہ بہت خراب ہے احناف کبھی کبھی آتا ہے مگر سانس خشک ہوجاتا ہے ہمارا۔۔۔۔حیات پانی کا گلاس اُس کے ہاتھ میں دیتی برابر بیٹھ گئ۔۔۔

وہ شخص ہمارے گھر میں کھڑا ہمارے خاندان کی عزت میں ہاتھ ڈالنے والا تھا۔۔۔احناف تنے ہوئے تاثرات سے بولا

ایسے واقعات بس تارا کے ساتھ ہوتے ہیں احناف کیونکہ وہ جس فیلڈ میں ہے وہاں لڑکیوں کو عزت نہیں ملتی۔۔۔حیات نے کہا تو احناف نے لب بھینچ لیے

میں دادا سے بات کروں گا۔۔۔۔احناف نے کہا تو حیات چونک کر اُس کو دیکھنے لگی

کیا کہو گے تم؟حیات نے پوچھا

یہی کے اپنی نواسی کو گھر میں بیٹھائے۔۔۔احناف اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیے بولا

کم آن احناف تمہیں لگتا ہے دادا جان تمہاری بات سن لے گے؟حیات کا لہجہ تمسخرانہ تھا

اُن کو بس سُننا نہیں بلکہ ماننا بھی ہوگا۔۔۔احناف کا لہجہ مضبوط تھا۔۔۔”حیات بھی جواب میں کچھ کہنے والی تھی جب اُس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر گئ جہاں تارا کا احناف کو دیا گیا گِفٹ پڑا تھا اور باقی تحائف کمرے میں موجود ایک ساتھ صوفے پر پڑے تھے”جس میں اُس کا دیا گیا گفٹ بھی شامل تھا۔

یہاں میرا تحفہ ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔۔حیات نے کہا تو احناف نے اُس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا

تسلیم”(میڈ”)کو سارے تحائف دیئے تھے کہ وہ رکھ آئے۔۔۔۔احناف بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا

چیک کروں کیا ہے اِس میں۔۔۔حیات کسی خیال کے تحت تارا کا پیک شدہ گفٹ اُٹھایا اور اُس کو کھولنے لگی۔۔۔

پرفیوم؟گِفٹ کھول کر حیات حیران ہوئی

حیران کیوں ہورہی ہو اِتنا؟پرفیوم ہے تاج محل کے کاغذات نہیں۔۔۔۔احناف کو اُس کا حیران ہونا سمجھ نہیں آیا تبھی بولا

یہ تمہارا فیورٹ پرفیوم ہے جو بہت ایکسپینسو ہوتا ہے اور تمہیں پتا ہے میں خود تمہیں یہ دینا چاہتی تھی مگر یہ مجھے نہیں ملا۔۔۔۔حیات واپس بیڈ پر آتی اُس کو بتانے لگی”احناف کے آخری الفاظ جبکہ اُس نے اگنور کیے تھے۔۔۔

تم اپنا گفٹ لاؤ دیکھوں تو سہی اُس میں کیا ہے؟احناف نے مسکراکر کہا

لاتی ہوں مگر یہ تم استعمال نہ کرنا۔۔۔حیات نے پرفیوم کی طرف اِشارہ کیا

کیوں؟

کیونکہ تمہاری ہونے والی بیوی بول رہی ہے ایسا تو بس “کیوں”کی گُنجائش نہیں نکلتی۔۔۔حیات اِتراکر بولی

اچھا اب تم اپنا گفٹ تو لاؤ۔۔۔۔احناف مسکراکر بولا تو حیات بھاگ کر اپنا گفٹ صوفے سے اُٹھانے لگی اور وہ ہاتھ میں لیے احناف کے طرف آکر اُس کے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھ گئ جبکہ احناف اُس کا گفٹ کھولنے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *