Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain NovelR50557 Kia Hoi Hai Khata (Episode 09)
Rate this Novel
Kia Hoi Hai Khata (Episode 09)
Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain
دور رہو تم۔۔۔۔تارا جھٹکے سے اُس کی طرف پلٹ کر درمیان میں فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کرنے لگی مگر کسی کا بھی دھیان نہ پاکر احناف نے مزید اُس کو تنگ کرنے کی خاطر اُس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی
دور کیوں بھاگتی ہو؟احناف نے اُس کے بالوں کی لٹ کان کے پاس اُڑسی
حد میں رہو تم۔۔۔۔۔تارا نے اُس کا ہاتھ جھٹکا
یاد ہے میں تم سے بڑا ہوں عمر میں؟احناف نے یاد کروانا چاہا
مجھے تنگ مت کرو تم بس۔۔۔۔تارا کو کوفت ہونے لگی اور دائیں بائیں سر گُھمانے لگی
کوئی آنے والا ہے کیا؟احناف نے اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا
تم سے مطلب۔۔۔۔تارا نے بیزاری سے جواب دیا تبھی وہاں حیات آئی تو اُس کے تنے ہوئے تاثرات دیکھ کر تارا جو بیزار کھڑی تھی جانے اُس کے دل میں کیا سمائی جو اپنا ایک ہاتھ احناف کے ہاتھ میں دیا اور دوسرا اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ڈانس کے اسٹیپ لینے لگی تو جہاں اُس کی حرکت پر احناف حیران ہوا تھا وہی حیات کے تن بدن میں آگ لگی تھی۔
احناف سے دور رہو۔۔۔۔حیات نے چبا چبا کر لفظ ادا کیا اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ تارا کا حشر کردیتی
کیوں؟تارا نے معصوم لہجے میں پوچھا
احناف اِس کو دھکا دے کر خود سے دور کرو۔۔”مگر خود کے قریب نہ آنے دو۔۔حیات نے اب کی احناف کو مُخاطب کیا جس پر تارا یکطرفہ مسکراتی احناف کو دیکھنے لگی۔
دھکا دو مجھے تمہاری لولی فیانسی کی فرمائش ہے۔۔۔تارا اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تو احناف کے گلے کی ہڈی اُبھر کے معدوم ہوئی تھی یکایک اُس کے کانوں میں تارا کے الفاظ گونجنے لگے
“وحشت ہوتی ہے مجھے آپ کے لمس سے مجھ سے دور رہا کرے”نہیں چاہیے مجھے آپ کی ہمدردی میں اپنی زندگی میں خوش ہوں”اُس میں آپ کی گُنجائش نہیں مجھے نفرت ہے آپ سے اور بار بار یوں آپ کے حق جتانے والے انداز سے میں کوئی آپ کی زرخرید غُلام نہیں ہوں جو بس آپ کی بات پر سرجُھکادوں گی۔۔۔۔
اِن الفاظوں میں جانے کیا تھا جو احناف کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں تھی اور اُس نے کسی اچھوت کی طرح تارا کو خود سے دور کیا تھا جس پر نیچے گِرتی تارا کے پاؤں میں بہت گہری موچ آئی تھی جس کی تکلیف کے آثار اُس کے چہرے پر واضع طور پر ظاہر تھے”مگر منہ سے آہ تک نہ نکلی تھی۔۔۔۔”اُس کو گِرتا دیکھ کر ہر کوئی اُس کی طرف متوجہ ہوا تھا تیز میوزک اچانک سے بند ہوگیا تھا مگر بدقسمتی سے وہاں اُسماعیل صاحب یا ازلان میں سے کوئی بھی نہیں تھا جو تارا کی مدد کو آتے
تارا
احناف اپنے بے اختیاری میں کیے جانے والے عمل پر شرمندگی میں مبتلا ہوتا اُس کی طرف بڑھنے والا تھا جب کوئی اور تارا کی طرف اُس سے پہلے آیا تھا۔
ا۔۔سجد۔۔۔اپنے پاؤں پر ہاتھ رکھتی تارا درد سے کراہی
آر یو اوکے؟اسجد نے فکرمندی سے اُس کو دیکھا جس پر تارا اپنا سر نفی میں ہلانے لگی۔
لِیو اِٹ۔۔۔حیات نے احناف کے بازوں کو پکڑا جس پر احناف لب بھینچتا تارا کو دیکھنے لگا
موچ لگتا ہے گہری آئی ہے۔۔۔وہاں کھڑے لوگوں میں سے کسی نے کہا
کال دا ڈاکٹر۔۔۔۔اسجد پاس کھڑے ارسلان سے کہتا تارا کو اپنے بازو میں اُٹھانے والا تھا جب احناف نے ایک جھٹکے سے اُس کو تارا سے دور کیا تھا اور اُس کے چہرے پر ایک زوردار مُکہ مارا تو سب حق دق رہ گئے
واٹ دا۔۔۔اپنی ناک پہ ہاتھ رکھ کر اسجد نے ناپسندیدہ نظروں سے اُس کو دیکھا اور جوابی مُکہ مارنے کے لیے اُس کی طرف بڑھا جس پر آس پاس چہ مگوئیاں ہونے لگیں تھیں
احناف۔۔۔۔حیات چیخی جبکہ احناف نے سرعت سے اسجد کا ہاتھ درمیان میں روک لیا
یہ کیا ہورہا ہے؟بند کرو سب اپنا تماشا۔۔۔اُسماعیل صاحب کو پتا چلا تو وہ وہاں آکر گرج اُٹھے جس پر احناف کھاجانے والی نظروں سے اسجد کو دیکھتا تارا کی طرف آیا تھا اور بنا کسی پر ایک نظر ڈالے اُس کو اپنے بازوں میں اُٹھاتا سب کے درمیان سے نکلتا گیا اُس کا رُخ اب تارا کے کمرے کی طرف تھا.۔۔”گھروالوں کے ساتھ ساتھ وہاں موجود مہمانوں نے اُس کی پشت کو گہری نظروں سے دیکھا تھا جبکہ حیات کی آنکھیں آگ برسانے کی حد تک سُرخ ہوگئیں تھیں۔۔۔”حالات کو یوں بدلتا دیکھ کر انعم بیگم مہمانوں سے معذرت کرنے لگیں جس پر وہ باری باری گھر سے نکلتے چلے گئے
“تم ٹھیک ہو؟تھوڑی دیر بعد ازلان آیا تو اسجد کی طرف بڑھا تھا
میں ٹھیک ہوں تم تارا کے پاس جاؤ پہلے احناف اُس کو تکلیف پہنچا کر اب مرہم لگانے کے چکروں میں ہے۔۔۔”اسجد سرجھٹک کر اُس سے بولا
میں جاتا ہوں اور احناف کی طرف سے میں سوری کرتا ہوں۔۔۔ازلان نے تھوڑی شرمندگی سے کہا
تمہیں یہاں انوائٹ تارا نے کیا تھا؟”کس حیثیت سے اُس نے تمہیں یہاں آنے کا کہا اور کیا رشتہ ہے تمہارا اُس کے ساتھ جو احناف سے اُلجھ پڑے۔۔۔۔۔حیات اسجد کے سر پہ کھڑی ہوتی اُس سے استفسار ہوئی
حیات۔۔۔۔۔۔ازلان نے اُس کا بازو دبوچ کر تنبیہہ بھری نظروں سے اُس کو دیکھا
کیا حیات؟اور کیا تم ہر وقت اُس کی حمایت میں لگے رہتے ہو۔۔۔حیات نے اُس کو گھورا تو ازلان نے لب بھینچ کر حیات کا چہرہ دیکھا
مجھے دادا جان نے انوائٹ کیا تھا اور احناف سے میں نہیں بلکہ وہ مجھ سے اُلجھ پڑا تھا ہمیشہ کی طرح وہ بھی بے وجہ میں بس تارا کی مدد کرنا چاہ رہا تھا وہ میری دوست ہے اور اِس سے زیادہ میں تمہیں کوئی صفائی نہیں دوں گا۔۔۔۔اسجد اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوا
تمہارا اور تارا کا سین آن ہے نہ ہتاؤ مجھے؟حیات نے کہا تو سب ہکا بکا رہ گئے
حیات شرم کرو یہ بہتان ہے جو تم لگا رہی ہو۔۔انعم بیگم نے اُس کو سمجھانا چاہا
میری بیٹی نے اگر کہا ہے تو ضرور اُس نے کچھ ایسا دیکھا ہوگا”حیات میری جان پوری بات بتاؤ۔۔۔منیبہ بیگم انعم بیگم کو جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولیں
آنٹی ایسا کچھ نہیں وی آر جسٹ فرینڈ۔۔۔اسجد نے گہری سنجیدگی سے کہا اُس کو اندازہ نہیں تھا یہاں آنے کے بعد اُس کو ایسی سُچویشن کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔۔۔۔
خاور تمہارے گھروالے میرے بھائی پر الزام تراشی کررہے ہیں اور تم بُت بن کر کھڑے ہوئے ہو۔۔۔ایک لڑکی خاور کے برابر کھڑی ہوتی کاٹ دار لہجے میں بولی تو اُس کو دیکھ کر خاور کی آنکھیں چمکی جو سلیولیس لونگ بلیک میکسی میں غضب دھاڑ رہی تھی اُپر سے اُس کے چہرے کے تیکھی تاثرات نے اُس کی خوبصورتی میں چار چاند لگادیا تھا۔۔۔
مایا تم پاکستان کب آئی۔۔؟۔اُس کی بات نظرانداز کرکے خاور نے اُس کا رخ اپنی جانب کیا
میں کب کا آچُکی تھی پر یہ میری بات کا جواب نہیں اپنی بہن سے کہو میرے بھائی کے کردار پر اُنگلی نہ اُٹھائے۔۔۔مایا نے دو ٹوک انداز اپنائے کہا
تم غُصہ نہ ہو میں سمجھاتا ہوں حیات کو۔۔۔خاور نے جلدی سے کہا
“جسٹ فرینڈ سیریسلی کس کو پاگل بنانا چاہ رہے ہو؟حیات طنز مسکرائی
حیات چھوڑو یہ ٹاپک یہ ہمارے گیسٹ ہیں۔۔۔۔خاور جلدی سے حیات تک پہنچا
پر بھائی
چندا میں نے کہا نہ لِیو اِٹ۔۔۔۔حیات کچھ کہنے والی تھی جب خاور نے اُس کی بات کاٹی
اسجد آج کے لیے اِتنا کافی ہے”آئے تھنک وی شُڈ گو ناؤ۔۔۔۔مایا اسجد کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولی تو اُس نے سراثبات میں ہلایا
ایسے کیسے آپ لوگ تو ابھی آئے تھے۔۔۔اختر صاحب نے اُن کو روکنا چاہا
شکریہ انکل مگر ہمیں لیٹ ہورہا ہے۔۔۔۔مایا نے سہولت سے انکار کیا اور اسجد کو اپنے پیچھے آنے کا کہتی خود بھی باہر کی طرف لپکی

ڈونٹ ٹچ می۔۔۔۔تارا کو کمرے میں لانے کے بعد اُس کو احتیاط سے بیڈ پر لیٹا کر احناف اُس کے پاؤں پر مساج کرنے کے اِرادے سے اُس کا پاؤں ابھی اپنی گود میں رکھا ہی تھا جب تارا تیل کی بوتل کو نیچے پھینکتی زخمی شیرنی کے انداز میں غرائی عین اُسی وقت اُسماعیل صاحب اُس کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔
میں نے ڈاکٹر کو کال کی ہے وہ آتا ہوگا میرا بچہ تم پریشان نہ ہو”اور احناف تم جاؤ یہاں سے۔۔۔تارا کو پرسکون کرنے کی خاطر کہتے وہ آخر میں احناف سے مُخاطب ہوئے جو نیچے گِری تیل کی بوتل کو دیکھ رہا تھا
دادا جان پلیز۔۔۔۔اُن کی ناراضگی کا سوچ کر احناف بے بس ہوا
تم نے آج اچھا نہیں کیا مجھے ارسلان نے بتایا کہ کیسے تم نے میری بچی کو ڈانس کے دوران دھکا دیا یہاں ہمدم تو تارا کا کوئی اور پہلے بھی نہ تھا مگر تم؟”تم سے مجھے ایسی توقع ہرگز نہ تھی۔۔۔۔اپنے سینے سے تارا کو لگائے اسماعیل صاحب نے افسوس کا اِظہار کیا
میں نادم ہوں۔۔۔احناف نے کہا
جاؤ تم فی الوقت ڈاکٹر آنے والا ہے۔۔۔اسماعیل صاحب محض اِتنا بولے
مساج سے ٹھیک ہوجائے گا آپ مجھے کرنے دے ورنہ اِس کا پاؤں سوجھ جائے گا۔۔۔۔احناف نے کہا
ہوتا ہے تو ہوجائے گا مگر تم جاؤ۔۔۔اِس بار تارا نے ناگواری سے اُس کو دیکھا
تم چُپ کرو۔۔۔۔۔احناف نے اُس کو گھورا
یہ آنکھیں تم کسی اور کو جاکر دیکھاؤ نانا جان اِس کو جانے کا کہے ورنہ میں خود کے ساتھ کچھ غلط کر بیٹھوں گی۔۔۔۔تارا احناف کو مُخاطب ہونے کے بعد اسماعیل صاحب سے بولی تو احناف پہلے تو اُس کو دیکھتا رہا پھر بنا کچھ کہے لمبے لمبے ڈُگ بھرتا کمرے سے باہر نکلتا چلاگیا
پرسکون رہو میری بچی۔۔اسماعیل صاحب اُس کو اپنے سینے لگائے ماتھا چوم کر بولے تو تارا گہری سانس بھرنے لگی اور اپنے پاؤں کو دیکھا جہاں آہستہ آہستہ سوجھن اپنی جگہ بنا رہی تھیں۔۔







ڈاکٹر چیک اپ کرنے کے بعد اُس کو کچھ میڈیسن لکھ کر دی تھی”کچھ وقت بعد اسماعیل صاحب کے سونے کا وقت ہوا تو وہ تارا کو ہدایت دینے کے بعد اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے مگر شام میں ہوئے واقعے کا تضکرا اُنہوں نے کسی سے نہیں کیا تھا”اور اب تارا اپنے کمرے میں سونے کی نیت سے لیٹی تھی جب اُس کو کھڑکی کے پاس کسی کھٹکے کی آواز محسوس ہوئی مگر اُس کے باوجود وہ بیڈ پر چت لیٹی رہی آہستہ آہستہ کوئی اُس کے بیڈ کے پاس آکر بیڈ کِنارے آکر بیٹھا اور نرمی سے اپنا ہاتھ اُس کے موچ آئے پاؤں پر نرمی سے پھیرنے لگا جس پر تارا نے اپنی انکھیں بند کرلیں تھی۔وہ جانتی تھی اُس کے ساتھ کون ہے”اِس لمس سے وہ واقف تھی پر پھر بھی اُس نے نہ کوئی بات کی اور نہ کوئی خاص ری ایکٹ کیا”مگر وہ آہستہ نرمی اور چاہت سے اُس کا درد کم کرنے کی کوشش کرتا زیرو بلب کی روشنی میں اُس کا چہرہ دیکھنے لگا جو سپاٹ تھا”آنکھیں بند تھیں اور ہونٹ آپس میں پیوست تھے۔۔
یہ سب اب زیادہ ہورہا ہے۔۔۔وہ اُس کو خاموش دیکھ کر بولا ہاتھ ہنوز اُس کے پاؤں پر حرکت دے رہے تھے
جو بھی ہورہا ہے ہونے دو۔۔۔۔جوابً تارا نے سنجیدگی سے کہا
مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا۔۔۔۔اُس کی نظر تارا کے پاؤں پر تھی جہاں اب سوجھن میں اضافہ ہوگیا تھا
مجھے سکون ملتا ہے۔۔۔وہ جذب سے بولی
تمہیں اب فیصلہ لینا ہوگا۔۔۔اُس کا انداز حتمی تھا جس پر تارا نے چونک کر اُس کو دیکھا
کیسا فیصلہ؟تارا نے سنجیدہ نظروں سے اُس کو دیکھا
ہمارے بارے میں تم کب سب کو بتاؤں گی؟بتانے کا اِرادے ہے بھی یا نہیں؟وہ طنز ہوگیا تھا
تمہیں جلدی کس بات کی ہے؟تارا اکتاہٹ کا شکار ہوئی
میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا یہ دوریاں میرے لیے اذیت ناک سزا ہے ایک ایک پل تمہارے بنا مجھے صدیوں جیسا لگتا ہے۔۔۔وہ شدت سے گویا ہوا
خود پر کنٹرول رکھو ابھی یہ وقت اِن باتوں کا نہیں۔۔۔تارا نے اُس کو ٹالا
تم مجھے استعمال تو نہیں کررہی نہ؟تمہیں واقعی میں مجھ سے محبت ہے بھی یا نہیں؟اگر نہیں ہے تو ابھی بتادو۔۔وہ دو ٹوک لہجے میں بولا تو تارا نے شاک کی کیفیت میں اُس کو دیکھا جو شک بھری نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا
محبت نہ ہوتی تو رات کے وقت یوں تم میرے کمرے میں نہ آتے جاتے”اور نہ یہاں میرے بیڈ پر بیٹھے ہوتے اور نہ تمہارا نام یہاں ہوتا۔۔۔۔تارا اپنے ایک ایک لفظ پہ زور دے کر کہتی آخر میں اپنے کندھے سے شرٹ سرکائی جہاں اُس کے نام کا پہلا حرف چمک رہا تھا۔۔۔
تمہاری یہ بے نیازی مجھے کاٹتی ہے میں اِظہار چاہتا ہوں”اور چاہتا ہوں تمہارے چہرے پر وہ سب رنگ ہو جو میرے چہرے پر آتے ہیں تمہیں دیکھ کر۔۔۔وہ تھوڑا اُس کے قریب ہوا اور گال پر ہاتھ رکھ کر اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اُس کی شرٹ کندھے پر سہی کی تھی
جو میں چاہتی ہوں ایک بار ہوجائے اُس کے بعد سب وہ ہوگا جو تم چاہتے ہو۔۔۔تارا نے اُس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھائے یقین دِلوانا چاہا
میں بس تمہیں چاہتا ہوں۔۔۔۔وہ اُس کو دیکھ کر گھمبیر لہجے میں بولا
جانتی ہوں۔۔۔تارا پہلی بار مسکرائی
کچھ بھی ہوجائے میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا۔۔۔وہ پُریقین لہجے میں گویا ہوا
میں یہ بھی جانتی ہوں۔۔۔تارا سرشاری کیفیت میں مسکرائی
تمہیں تکلیف میں دیکھتا ہوں تڑپ میرا دل جاتا ہے”میرا دل چاہتا ہے تمہیں لیکر کہی دور چلا جاؤں جہاں ہم دونوں کے علاوہ کوئی اور نہ ہو۔۔۔۔وہ وارفتگی سے اُس کو دیکھتا بولتا گیا تو تارا نے اپنا سر اُس کے سینے پر ٹِکایا
جائے گے ضرور جائے گے”یہاں سے بہت دور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مگر ابھی نہیں ابھی بہت کچھ مجھے کرنا ہے۔۔۔تارا اُس کے سینے سے لگی احساس سے عاری لہجے میں بولی
سوجاؤ۔۔۔اُس کی بات سن کر وہ گہری سانس بھر کر بولا “وہ جان گیا اب بحث بیکار ہے۔۔۔
ہممم اور تمہیں بھی جانا چاہیے اب۔۔۔تارا اُس سے الگ ہوئی
تمہیں ایسے اکیلا چھوڑ کر جانے کا سوال ہی نہیں بنتا۔۔۔وہ نفی میں سرہلاکر بولا
مطلب رات یہی رہنے کا اِرادہ ہے؟تارا نے جان کر بھی پوچھا
بلکل۔۔۔۔اُس نے اپنا سراثبات میں ہلایا
لیٹ جاؤ پھر۔۔۔۔تارا نے بیڈ کی ایک سائیڈ اُس کے لیے خالی کی اور خود آہستہ سے ایک طرف ہوئی
پیر پر زیادہ موومنٹ نہ دو۔۔۔وہ اُس کو ٹوکنے لگا
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔تارا لاپرواہ ہوئی
“ویسے کب تک تم میرے بارے میں سب کو بتانے کا اِرادا رکھتی ہو؟بیڈ پر لیٹنے کے بعد اُس نے دوبارہ سے اپنا سوال دوہرایا تو آنکھیں موندیں لیٹی تارا نے تاسف سے اُس کو دیکھا
تمہیں کیا جلدی ہے؟تارا زچ ہوئی
میں تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں۔۔۔”اور جو کھیل تم کھیلنے والی ہو وہ بہت رِسکی ہے۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولا تھا
مجھے پرواہ نہیں۔۔۔۔تارا سپاٹ لہجے میں بولی
تمہارا سونا ضروری ہے۔۔۔۔اُس نے تارا کا سر اپنے سینے پر رکھ کر اُس کے بالوں میں اُنگلیاں چلانے لگا۔۔۔
تم پر اعتبار کیا ہے میں نے دھوکہ نہ دینا”ورنہ مرتے دم تک تمہاری شکل تک نہیں دیکھوں گی۔۔۔۔تارا کچھ توقع بعد بولی تو ایک پل کو اُس کے ہاتھ تھمے تھے
ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔سرجھٹک کر اُس نے تارا کو یقین کروانا چاہا جس پر تارا نے دوبارہ سے اپنی آنکھوں کو موند لیا”بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ مسلسل تارا نے اپنے بالوں پر اُس کا لمس محسوس کیا تھا مگر آنکھوں میں نیند کی خُماری اِتنی چھائی ہوئی تھی کہ وہ کچھ بول نہ پائی۔۔۔”جبکہ وہ کافی دیر تک اُس کا چہرہ اپنی آنکھوں میں جذب کرتا جُھک کر اُس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور تھوڑی دیر بعد وہ خود بھی گہری نیند کی وادیوں میں اُترگیا تھا







تارا
تارا
تم ٹھیک ہو؟
اُٹھ جاؤ بیٹا۔۔۔
اگلے دن اُس کی آنکھ انعم بیگم کے جگانے پر ہوئی جس پر اُس نے مندی مندی آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ اپنے چہرے پر فکرمندی سجائے اُس کو دیکھ رہی تھی اُن کو دیکھنے کے بعد تارا نے غیراِرادی نظر بیڈ کی دوسری سائیڈ پر ڈالی جو خالی اور بے شِکن دیکھی وہ شاید ہمیشہ کی طرح اُس کو سوتا دیکھ کر چھوڑ کر چلاگیا تھا جس پر اُس نے شکر کا سانس لیا اور خود کو ملامت بھی کری کہ وہ کیسے کل اپنے کمرے کا دروازہ لاک کرنا بھول گئ تھی؟”اگر رات کے پہر کوئی اُس کے کمرے میں آجاتا تو؟”اِس خیال نے اُس کو جھرجھری لینے پر مجبور کردیا تھا
تارا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں کیا؟اُس کو گم سم دیکھ کر “انعم بیگم نے پریشانی سے پوچھا
میں ٹھیک ہوں آپ بتائے کیسے آنا ہوا؟تارا اُن کی طرف متوجہ ہوئی
تمہارے پاؤں میں موچ آئی تھی تو سوچا دیکھ بھی آؤں”اور ناشتے کا بھی پوچھ لوں۔۔۔انعم بیگم نے اپنے آنے کی وجہ بتائی
ناشتہ میں باہر سب کے ساتھ کروں گی اور اللہ کا شکر ہے پاؤں ٹھیک ہے میرا۔۔۔۔تارا نے جواب دیا
گھر میں کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔انعم بیگم نے اُس کو بتایا
کیا مطلب کوئی بھی نہیں؟انعم بیگم کی بات پر تارا ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگی۔
سلطان کی شادی اگلے ماہ فِکس ہے اور کچھ دِنوں بعد احناف اور حیات کی منگنی تو سب شاپنگ پر گئے ہیں”سومل اور مومل کا تو تمہیں پتا ہے جہاں حیات ہوتی ہے اُن دونوں نے بھی وہی جانا ہے باقی سب مرد حضرات اپنے اپنے دفتروں کو نکل چُکے ہیں ۔۔انعم بیگم نے تفصیل سے سب کچھ اُس کو بتادیا جس پر تارا نے گہری سانس اپنے اندر کھینچی
نانا جان؟اُس کو اپنے نانا کا خیال آیا
اُن کی بھی ضروری میٹنگ تھی مجبورن اُن کو بھی جانا پڑگیا تمہاری زمیداری مجھے سونپی۔۔۔انعم بیگم نے بتایا
آپ کو بھی کچھ لینا ہوگا رُکنا نہیں چاہیے تو خوامخواہ میرے لیے”میڈز تو ہیں یہاں مجھے جو کچھ چاہیے ہوتا اُن سے کہہ دیتی آپ نے تکلف ایسے ہی کرلیا۔۔۔تارا کو اچھا نہیں لگا
ایسی کوئی بات نہیں تم دماغ پر زیادہ زور نہ دو”میرے ساتھ چلو میں واشروم تک تمہیں چھوڑ آتی ہوں”تم فریش ہوجاؤ تب تک میں ناشتہ لگواتی ہوں۔۔۔انعم بیگم سادہ لہجے میں بولی تو تارا نے سر کو جنبش دینے پر اکتفا کیا









افففففف اللہ آج تو میں تھک گئ”اگر احناف نہ ہوتا ساتھ تو جانے میرے ساتھ کیا ہوتا؟صبح کے گئے وہ شام تک واپس آئے تو حیات اپنے بیگز جان کر تارا کے پاس رکھ کر تھکن سے چور لہجے میں بولی”جس سے تارا بے نیاز تھی اپنا پاؤں سیدھا کیے میئگزین پڑھنے میں مصروف تھی اُس نے گھر میں آنے والے لوگوں کو دیکھ کر کوئی خاص ری ایکٹ نہیں کیا تھا
ہاں یار تمہارے سارے بیگز تو اُس نے اُٹھائے مگر ازلان یا ارسلان میں سے کسی ایک نے بھی میری مدد نہیں کی۔۔۔سومل اُس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئ
میرے تو پاؤں میں چھالے پرگئے ہیں لگتا ہے “اگر مجھے اندازہ ہوتا بینش چچی کی شاپنگ اِتنی لمبی ہوگی تو میں کبھی اُن کے ساتھ جانے کو ترجیح نہ دیتی۔۔۔فضا بھی اُن کی بات سے اتفاق کرتی ہوئی بولی اُن سب کے برخلاف مومل کافی چُپ سی تھی جس پر دھیان کسی کا بھی نہیں گیا تھا کیونکہ ہر کوئی اپنی خوشی میں مگن تھا ۔
بائے دا وے تم کیسی ہو؟سومل نے اچانک تارا کو مُخاطب کیا جس پر حیات نے آنکھیں گُھما کر اُس کو دیکھا جو وائٹ ٹراؤرز کے ساتھ بلیک گول گلے والی شرٹ میں تھی جس کی سلیوس محض شولڈر تک تھیں اور اُس نے اپنے بالوں کی چوٹی بنائی ہوئی تھی جو ایک کندھے پر ڈھلکی ہوئی تھی۔۔۔”اُس کے خوبصورت سِراپے کو دیکھ کر حیات کو اُلجھن سی ہونے لگی کیونکہ اُس کو احناف کا سب کے سامنے تارا کو بانہوں میں بھرنا یاد آگیا تھا جس پر ایک بار پھر اُس کو لگنے لگا جیسے کسی نے اُس کی آنکھوں میں مرچیں ڈال دی ہو”جلن کا احساس اُس کو شدت سے ہوا تھا وہ جانتی تھی احناف بس اُس کا ہے اور ہمیشہ بس اُس کا رہے گا مگر اُس کے باوجود اُس کو تارا سے کوئی اچھی ویب نہیں آتی تھی۔۔
“فائن۔۔۔۔تارا نے یکلفظی جواب دیا
آج کل تمہاری خبریں ٹی وی چینلز پر نہیں آتیں”خیریت؟ماڈلنگ بند کرنے کا سوچا ہے کیا؟سومل نے رازدرانہ انداز میں اُس سے سوال کیا
آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھتی میں۔۔۔تارا نے بنا دیکھے جواب دیا جبھی وہاں احناف آیا تھا۔
حیات تمہارا بریسلیٹ گاڑی میں بھول آئی تھی۔۔احناف نے ڈائریکٹ حیات کو مُخاطب کیا
اففف کتنی بُھلکر ہوں میں پلیز تم پہنادو نہ یہ بہت اسپیشل ہے یاد ہے تمہیں مجھے پرپوز کرنے کے ٹائیم تم نے دیا تھا۔۔۔۔حیات اُس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاکر بتانے لگی۔
ہمممم یاد ہے۔۔۔۔اُس کی کلائی میں بریسلیٹ پہناتا احناف نے جواب دیا جس پر حیات کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نے احاطہ کیا اور تارا کے چہرے پر طنز مسکراہٹ نے کیونکہ اُس کو حیات کی بات پر کچھ اور یاد آگیا تھا۔۔۔۔








کچھ سال پہلے۔۔۔۔۔
جتوئی وِلا میں آج خوشیوں کا سماں تھا کیونکہ آج “حیات کی بیسویں سالگرہ تھی جس کے لیے اختر صاحب نے بہت بڑی پارٹی آرگنائز کی تھی اور بڑے تعداد میں لوگوں کو مدعو کیا تھا”مہمانوں کی آمد رفت جاری تھی اور اُپر اپنے کمرے میں حیات اپنے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے تیار ہونے میں مگن تھی۔۔
“وائٹ فراق اور چوڑیدار پاجامے کے ساتھ اُس نے ریڈ کلر کا ڈوپٹہ اپنے ایک کندھے پر رکھا ہوا تھا چہرے پر لائیٹ سا میک اپ جس نے اُس کی خوبصورتی کو مزید نکھار کر رکھ دیا تھا”آنکھوں پر آئے لائنر لگانے سے پہلے اُس نے ایک نظر وال کلاک پر ڈالی پھر جلدی جلدی اُس سے فارغ ہونے کے بعد ڈریسنگ ٹیبل سے سرخ چوڑیاں اُٹھاکر اپنی خالی کلائیاں بھرنے لگی”پوری تیاری کرنے کے بعد اُس نے طائرانہ نظروں سے خود کو دیکھا اور اپنے بالوں کو اُس نے کُھول کر پشت پر چھوڑا دیا جبھی اُس کے کمرے میں کوئی داخل ہوا۔
“او ہو محترمہ کی تیاریاں تو چیک کرو زرا”کیا ٹشن ہے بھئ جیسے سالگرہ نہیں بلکہ نکاح ہونے جارہا ہو۔۔۔سومل نے شرارتی انداز میں اُس کو چھیڑا جس پر وہ ہنس پڑی
تمہیں پتا ہے آج ہر طرح سے میرا دن اسپیشل ہے”آج میں اپنی محبت کا اِظہار احناف سے کرنے والی ہوں جس کے لیے میں بہت پرجوش ہوں۔۔۔حیات کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی
وِش یو بیسٹ آف لک مجھے پتا ہے تمہارے حالِ دل کا اور یہ بھی کہ تمہارے پرپوز کرنے کے بعد احناف نے باقی رسمی طور پر تیاریاں کرڈالنی ہے اور تمہیں اپنے نام کرنا ہے۔۔۔سومل اپنا کندھا اُس کے کندھے سے ٹکرائے چھیڑنے لگی اُس کا چھیڑنا حیات کو بُرا نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایک انوکھی خوشی سے روشناس کروانے جارہا تھا
“اِن شاءاللہ ایسے ہی ہوگا مگر یار نیچے ڈیڈ نے اِتنا کچھ کیا ہے اور باہر ہم نے جہاں پارٹی کرنے کا سوچا ہے وہاں احناف اور ہمارے باقی دوست انتظار میں ہے تمہیں پتا ہے نہ میں نے اُن کو ٹریک لینے کے بجائے دینے کا واعدہ کیا تھا اور کہا تھا اُسی وقت احناف کو پرپوز کروں گی۔۔۔حیات کو اب پریشانی سی ہونے لگیں
ڈونٹ وری اور چِل کرو یہاں فضا سب سنبھال لے گی ہم نے بس بیک ڈور سے نکلنا ہے اور ہاں میں نے تارا کو بھی آنے کا کہا ہے۔۔۔سومل نے بتایا
اُس کو کیوں کہا؟ہزار تو نخرے کرتی ہے وہ۔۔۔حیات کو کوفت ہوئی
تمہیں پتا ہے نہ یونی فرینڈز اُس کو کتنا لائیک کرتے ہیں اگر وہ نہیں ہوگی تو سب نے سوالوں کا پینڈورا کھولنا ہے “اور میں اُن کے سامنے کوئی میس نہیں چاہتی. ۔سومل نے بتایا
اوکے فائن اب جلدی کرو میں تب تک اپنی چادر پہن لوں۔۔۔حیات نے کہا اور بیڈ کی طرف بڑھی
ہممم جلدی آنا باہر سب ریڈی ہے۔۔۔کمرے سے باہر جاتے ہوئے سومل نے اُس سے کہا۔۔

مطلوبہ جگہ پہنچ جانے کے بعد حیات گرمجوشی سے اپنے سب دوستوں سے ملنے لگی”رسمی گفتگو کے بعد جب کیک کٹنے کا وقت آیا تو حیات احناف کی طرف آئی جو مسکراکر اُس کو دیکھ رہا تھا”اُس کی مسکراہٹ دیکھ کر حیات کو دھارس ملی جیسے۔۔جبھی وہ آس پاس دیکھنے لگی۔
برتھ ڈے گرل کیا ہوا؟احناف نے اپنا ہاتھ اُس کی طرف لہرایا
مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔۔۔حیات نے بات کی شروعات کی
ہممم کہو میں سُن رہا ہوں۔۔۔احناف نے اِجازت دی تو “حیات سومل اور مومل کو دیکھنے لگیں جنہوں نے تھمب کا اِشارہ دیا تھا اُن سب سے لاپرواہ”تارا کونے والی ٹیبل پر اکیلی بیٹھی کوفت سے آس پاس دیکھے جارہی تھی اُس کا ذرا من نہیں تھا یہاں آنے کا پر سومل نے اُس کو قسم دی تھی جس پر وہ ناچار آگئ تھی۔”مگر اب پچھتا رہی تھی۔۔
I love you Ahnaf.
اپنے اندر ہمت مجتمع کرکے حیات بلآخر اُس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتی اعترافِ محبت کرنے لگی تو ہر ایک نے ہوٹنک کرنا شروع کردی تھی”سِوائے دو لوگوں نے ایک تارا نے جو کافی حیرت سے حیات کو دیکھ رہی تھی جس نے سب کے سامنے کُھلے عام کسی لڑکے کو پرپوز کیا تھا اُس کو حیات سے اِتنی بولڈنس کی توقع ہرگز نہ تھیں”دوسرا جبکہ ازلان تھا جو خود حیرانی کا بُت بنا ہوا تھا اُس کے دل و دماغ میں بھی وہی سب آیا تھا جو تارا کے دماغ میں آیا تھا۔۔۔”اور ان سب سے الگ احناف تھا جس کو لگ رہا تھا جیسے کسی نے اُس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کِھسکالی ہو وہ یک ٹک بے یقینی سے حیات کا چہرہ دیکھنے لگا جو گُلنار سا تھا اور خوشی سے چمک بھی رہا تھا
حیات۔۔۔آس پاس ہجوم دیکھ کر احناف نے اُس کو باز رکھنا چاہا
Will you marry me?
جوابً حیات نے نئ پیش کش اُس کے سامنے کی تھی جس پر احناف بس اُس کو دیکھتا رہ گیا
