Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain NovelR50557 Kia Hoi Hai Khata (Episode 06)
Rate this Novel
Kia Hoi Hai Khata (Episode 06)
Kia Hoi Hai Khata by Rimsha Hussain
حیات یہاں آؤ ضروری بات بتانی ہے تمہیں۔۔۔۔۔حیات اپنے کمرے میں جانے لگی تو سومل نے کہا
بتاؤ کچھ ہوا ہے کیا؟حیات اُس کے پاس آکر بیٹھی
بینش چچی کا فون آیا تھا۔۔۔۔سومل نے سسپینس پیدا کرنا چاہا
دن میں بہت بار اُن کی کال آتی رہتی ہے”اِس میں کونسی بڑی بات ہے۔حیات کو اُس کی بات ٹھیک سے سمجھ نہیں آئی
اِس بار خاص مقصد کے لیے کال کی تھی۔۔سومل نے بتایا تو اُس کی چھٹی حس بیدار ہوئی
خاص مقصد؟حیات کو تجسس ہوا
اُنہوں نے دادا ابو سے تمہاری اور احناف کی منگنی کے بارے میں بات کہی۔ ۔۔۔سومل نے آخر بتادیا
کیا؟ ؟؟؟؟؟؟خوشی کے مارے حیات کی چیخ نکل گئ۔ ۔
بلکل اور تمہیں پتا ہے دادا ابو نے کیا کہا؟ اب کی اُس کا انداز تھوڑا مایوس کن تھا
کیا جواب دیا؟ حیات نے پوچھا
اُنہوں نے کہا ون ویک بعد منگنی ہوگی ان شاءاللہ۔ ۔۔۔سومل نے بتایا
پاگل یہ تو اور مزے کی بات ہے یعنی فائنلی ہماری آفیشلی انگیجمنٹ ہوگی میں تو خوشی سے پاگل ہوجاؤں گی۔۔۔حیات اُٹھ کر گول گول گھومنے لگی۔۔۔
تو ہوجاؤ کس نے روکا ہے۔۔۔سیڑھیاں اُترتی تارا نے اُس کی آخری بات سُنی تو کہا
افففف تارا میری جان آج تو تم بھی مجھے بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔حیات اُس کے پاس آتی گلے لگ کر بولی تو سومل نے مسکراہٹ دبائی مگر تارا نے اُس کو خود سے دور کیا
اپنی حد میں رہو۔۔۔۔لہجے میں وارننگ تھی۔۔۔
سُنا ہے تم کوئی پارٹی تِھرو کرنے والی ہو؟سومل اُس کو دیکھ کر بولی تو حیات جو مسکرانے میں مگن تھی چونک کر تارا کو دیکھنے لگی
سہی سُنا ہے دو دن بعد ہے۔۔۔تارا نے بتایا
پارٹی مگر کیوں؟حیات کو سمجھ نہیں آیا
نانا جان نے ایک بہت بڑا کُنٹریکٹ حاصل کیا ہے تو اُس خوشی میں۔۔۔تارا نے احسان کرنے والے انداز میں بتایا
ہمیں تو ایسا کچھ پتا نہیں لگا۔۔سومل نے لاعلمی کا اِظہار کیا
ابھی میں نے بتایا نہ۔۔۔تارا نے طنز نظروں سے اُس کو دیکھا
دادا جان کہاں ہے؟حیات کی خوشی مانند ہوئی
وہ آرام کررہے ہیں تم زرا ٹھیک سے اپنی وہ خوشی انجوائے کرو جو تمہیں خیرات میں ملی ہے۔۔۔۔تارا نے تمسخرانہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
تمہاری اِس بکواس کا مطلب؟غُصے سے سومل نے پوچھا جبکہ زلت کے احساس سے حیات کی گوری رنگت میں سرخی ڈور گئ تھی۔۔۔۔
تمہیں نہیں پتا یا بھول گئ ہو حیات کا وہ برتھ ڈے جس پہ احناف کو تمہاری سویٹ کزن نے پرپوز کیا تھا احناف کو سب کے سامنے” اور احناف نے ریجکٹ بھی کیا تھا سب کے سامنے۔۔۔تارا نے مصنوعی حیرانگی کا اِظہار کیا
یاد ہے اور اُسی دن احناف واپس آیا تھا سب کے سامنے حیات سے ایکسکیوز بھی کیا تھا اور اُس کا پرپوزل قبول بھی کیا تھا۔ ۔۔سومل نے جتانے والے انداز میں کہا تو تارا نے آنکھیں گُھمائی
تم بس جیلس ہونا خود کا تو تمہارے پاس کوئی ہے نہیں۔۔۔حیات نے اُس کا انداز دیکھ کر اُس کو گھورا تو تارا نے رونی صورت بنائی
اُس کے باوجود بھی میں کسی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ٹسوے نہیں بہاتی اور نہ ٹھکرانے والے کی بانہوں میں جھولتی ہوں۔۔۔۔تارا کے الفاظ حیات کے لیے کسی تماچے سے کم نہیں تھے۔۔۔۔
لِسن تارا اُتنا کہو جتنا سُن پاؤ۔۔”احناف میرا ہے وہ مجھے دل وجان سے چاہتا ہے میرے لیے اپنے لیے جان تک دے سکتا ہے”تم تبھی جیلس ہو کیونکہ تمہارے پاس ایسا کوئی پیار کرنے والا شخص نہیں مگر میں ایک بات واضع کرلوں اگر میرے ساتھ ایسے پیش آئی دوبارہ تم تو جو میں کروں گی وہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہوگا۔۔۔حیات نے کاٹ کھاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
مسئلاً کیا کروں گی تم میرا؟تارا نے پرسکون لہجے میں پوچھا جیسے بہت بڑا لطف حاصل ہوا ہو اُس کو حیات کی بات سے۔۔۔۔
میں تم سے تمہارا سب کچھ چھین لوں گی۔۔۔۔حیات نے کہا تو تارا ہنسی اور پھر ہنستی ہی چلی گئ۔۔۔حیات اور سومل عجیب نظروں سے اُس کو دیکھنے لگیں۔
ابھی تم نے کہا میرے پاس کچھ بھی نہیں خود کا اور ابھی یہ بول رہی ہو میرا سب کچھ چھین لو گی یار تمہیں تو وزیرِ اعظم ہونا چاہیے تھا۔ ۔۔۔تارا ہنستی ہوئی بولی
سومل اُٹھو اِس کی اِتنی اوقات نہیں جو ہم اِس سے بات بھی کرے۔ ۔۔حیات اب کی تارا کو نظرانداز کرتی سومل سے بولی جو اُس کے ایک بار کہنے پر اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
اوقات؟ تارا نے اُس کا لفظ دوہرایا
سویٹی تمہارا جو یہ ڈریس ہے نہ۔ ۔۔۔تارا نے حیات کے پہنے ہوئی ڈریس کی جانب اِشارہ کیا جو نفیس اور بہت خوبصورت ڈریس تھا۔ ۔۔
اِس کی قیمت محض دس یا بیس ہزار کے درمیان ہوگی اور یقیناً یا تو یہ ڈریس تمہیں چچی چچا میں سے کسی نے لیکر دیا ہوگا یا پھر کسی اسپیشل ڈے پر تمہارے سوکالڈ فیانسے نے دیا ہوگا مگر جو میرا یہ ڈریس ہے نہ؟ اب کی تارا اُس کے مُقابل کھڑی ہوتی اپنے ڈریس کی طرف اِشارہ کرنے لگی تو حیات نخوت سے سرتا پیر اُس کو دیکھنے لگی جو سلیولیس گُھٹنوں تک آتے ٹاپ اور ٹخنوں سے تھوڑا اُپر اسکرٹ میں ملبوس سادہ حُلیے میں بھی اپنی مثال آپ لگ رہی تھی۔ ۔۔۔
یہ میرا لیٹسٹ برینڈڈ ڈریس ہے جس کی مالیت دس بیس ہزار سے زائد پئسو کی ہے اور یہ ڈریس میں نے اپنے کمائے ہوئے پئسو سے لیا ہے”اِس لیے آئیندہ مجھے میری اوقات یاد دِلانے سے پہلے ایک مرتبہ تم اپنی اوقات ضرور نظر میں رکھنا۔ ۔۔تارا نے خاصے جتائے ہوئے لہجے میں کہا تو حیات کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اپنے ہاتھ کے پنجوں سے اُس کا خوبصورت چہرہ بگاڑ لیتی
شرم کرو تم دونوں جب دیکھو تب ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے میں لگ جاتی ہو۔ ۔۔انعم بیگم کی آواز پہ وہ دونوں ایک دوسرے سے ایک قدم دور کھڑے ہوئے
شروع اِس نے کیا تھا۔ ۔۔۔حیات نے تارا کی طرف اِشارہ کیا
ریئلی؟ طنز سے بھرپور انداز
اور
میم آپ کا فون بج رہا تھا کب سے۔ ۔۔حیات کچھ کہنے والی تھی جب میڈ نے آکر تارا کو بتایا تو تارا موبائل اسکرین کو دیکھتی بنا کسی پر نظر ڈالے وہاں سے چلی گئ تو حیات کو وہ مشکوک لگی جبکہ سومل بھی تارا کی پشت دیکھتی رہ گئ جس کے تیور اچانک سے بدل گئے تھے ۔۔۔
حیات تمہارے اب رشتے کی بات چلنے والی ہے اِس لیے اپنا رویہ بہتر بناؤ میں نہیں چاہتی تمہارا انداز بینش آپا دیکھے۔۔۔انعم بیگم نے تارا کے جانے کے بعد حیات سے بولی
امی چچی جان کو پتا ہے حیات کیسی ہے۔۔۔۔سومل نے مُداخلت کی
پہلے کی بات اور تھی اب کی بات کچھ اور ہے”تم اُن کے گھر کی بہو بننے جارہی ہو تو اُن پر تمہارا ایمپریشن اچھا پڑنا چاہیے ویسے بھی بینش آپا کو پسند نہیں جو تم لوگ اشارے کناروں میں ایک دوسرے پر طنز کرتے رہتے ہو۔۔۔۔انعم بیگم نے کہا تو حیات نے گہری سانس اپنے اندر کھینچ کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی۔
گھر میں پارٹی کے ساتھ ساتھ سلطان کے یہاں مہندی کا بھی فنکشن ہے تو تم لوگ اُس کی تیاری پوری کرو جو بھی لینا ہے جلدی سے اپنی خریداری کرلوں ورنہ عین موقعے پر یاد آجاتا ہے سب کو۔۔۔انعم نے بیگم نے مزید کہا
میں شاپنگ آنلائن کروں گی۔۔۔۔حیات نے اپنا پلان بتایا
مجھے ضرور بتانا ہم سب کزنز سیم ڈریسنگ کرینگی۔۔۔۔سومل نے پرجوش انداز میں کہا
افکورس۔۔۔حیات نے بھی اُس کے انداز میں کہا اور اُس کے ہاتھ پر تالی ماری









ماضی!
اِس کی وجہ سے آج میری عزت دو کوڑی کی رہ گئ تھی۔ ۔۔۔الطاف صاحب احناف کی طرف اِشارہ کیے غُصیلے انداز میں بولے جس کی بیل جیسے تیسے ہوگئ تھی کیونکہ جن کو اُس نے زخمی کیا تھا اُن میں سے ایک کو ابھی ہوش نہیں آیا تھا جبکہ دوسرے سے جب بیان لیا گیا تو اُس نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا تھا جس پر پولیس نے احناف کو رہائی دے ڈالی تھی مگر اُس کے باوجود الطاف صاحب کا غُصہ تھا جو احناف کے لیے ختم ہونے کو نہیں آرہا تھا۔ ۔۔
ڈیڈ
چٹاخ
احناف اپنی صفائی میں کچھ کہنے والا تھا جس پر الطاف صاحب نے زناٹے دار تھپڑ اُس کے چہرے پر مارا تو وہ اپنے ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ ۔”لیکن بینش بیگم کا ہاتھ اپنے دل پہ پڑا تھا۔
الطاف کیا ہوگیا ہے جوان اولاد ہے”گرم خون ہے کون اِس طرح اپنی جوان اولاد پر ہاتھ اُٹھاتا ہے؟اور آپ کو کیا نظر نہیں آرہا احناف کے سر پہ کتنی گہری چوٹ آئی ہے۔ ۔۔۔بینش بیگم نے افسوس سے اُن کو دیکھ کر کہا
تمہاری ڈھیل کا نتیجہ ہے ورنہ یہ ایسا کچھ نہیں کرتا سترہ کا ہوگیا ہے مگر ابھی تک اِس سے سیکنڈ ایئر پاس نہیں ہورہا”اِس کی ساری غلطیاں تم چُُھپاتی آتی ہو اچھا پردہ رکھا ہوا تھا جس کا خامیازہ بھی نظر آرہا ہے۔ ۔۔الطاف صاحب نے سارا ملبہ اُن پہ ڈال دیا تھا جبکہ احناف اپنی جگہ سے اُٹھتا اپنے کمرے میں جانے لگا۔
احناف میری بات سُنو تم۔ ۔سلطان نے اُس کو اُٹھتا دیکھا تو پیچھے گیا۔ ۔۔
بے جا پابندیاں بچوں کو باغی بنادیتی ہیں” اور ماں باپ سے دور بھی۔ ۔۔”اور خُدانخواستہ ہمارے احناف میں کوئی بُری عادتیں نہیں ہے پر اگر کبھی کبھی اُس نے اپنے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیل لیا تو کیا ہوگیا ہے؟ ضروری تو نہیں جو آج ہوا وہ پہلے بھی ہوتا آیا ہو یا آگے بھی ہوجائے۔ ۔۔بینش بیگم سنجیدگی سے بولی
اُس کی طرفداری مت لو بینش ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ ۔۔مجھے جانے کیا ہونے لگتا ہے جب احناف کو ایسے نان سیریس دیکھتا ہوں تو خاور کو دیکھ لو وہ بھی سولہ سترہ کا تھا جب پڑھائی کے ساتھ ساتھ اُس نے اپنے باپ کا بزنس بھی دیکھنا شروع کیا اُس کے ساتھ دیا اور اب آہستہ آہستہ ازلان بھی اُس کے نقشِ قدم پہ چل کر آفس کا تھوڑا بہت کام سمجھنے لگا ہے اور اپنے باپ کی مدد کرتا ہے اور ایک ہمارا بیٹا ہے جس کو فضول ایکٹویز کرنے سے فُرصت حاصل نہیں۔۔۔الطاف صاحب نخوت سے بولے
آپ نے ہمیشہ یہی کیا ہے سب بچوں سے احناف کا مقابلہ کیا ہے آپ کو لگتا ہے احناف کچھ نہیں کرسکتا جب کہ وہ آپ کے لیے جو بھی کرے وہ آپ کو نظر نہیں آتا” اگر آپ چاہتے ہیں وہ آپ کا آفس بھی دیکھے تو آپ خود سوچے اُس کی پڑھائی کا بھی تو حرج ہوگا خاور ازلان سلطان” اِن کے لیے پاسنگ مارکس ہی سب کچھ ہوتا ہے جبکہ احناف نے ہمیشہ ہر جگہ پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ ۔۔بینش بیگم نے بڑھ چڑھ کر احناف کی حمایت کی آخر کرتی بھی کیوں نہ “ماں تھی اپنے بیٹے کو کسی احساسِ کمتری کا شکار ہونے نہیں دینا چاہتی تھیؑ۔۔۔۔









اُس رات کے واقعے نے تارا پر گہرا اثر چھوڑا تھا اُس کو بہت تیز بُخار ہوگیا تھا جو اُترنے کا نام تک نہیں دے رہا تھا” ازلان کو جب جیسے ہی سارا کچھ معلوم ہوا تب سے وہ دل ہی دل میں خود کو ہر چیز کا قصوروار سمجھ رہا تھا کیونکہ اسماعیل صاحب اور انعم بیگم نے جھوٹ بولنے کی وجہ سے اُس سے بول چال بند کرلی تھی جس کی وجہ سے شرمندگی اُس کو کچھ زیادہ محسوس ہونے لگی۔ ۔۔”تارا کی طبیعت بھی سنبھلنے میں نہیں آرہی تھی دو دن ہوسپٹل میں رہنے کے باوجود جب اُسماعیل صاحب اُس کو گھر لائے تو تارا ہر وقت غنودگی کی حالت میں رہتی
السلام علیکم ۔۔۔احناف کی آواز پر اسماعیل صاحب نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا
وعلیکم السلام بیٹا آؤ اندر۔۔۔اُسماعیل صاحب نے اپنے سینے سے لگی سوئی ہوئی تارا کو احتیاط سے بیڈ پہ سہی سے لیٹایا
کیسے ہیں آپ اور نین کیسی ہے؟احناف بیڈ کے تھوڑا پاس آکر اُن سے پوچھنے لگا
آج تھوڑی طبیعت سنبھلی ہے میری پھول جیسی بچی دیکھو کتنی کمزور ہوگئ ہے۔۔۔۔اُسماعیل صاحب تارا کو دیکھ کر بولے
مجھے پتا نہیں تھا کہ ازلان وہاں نین کو لیکر آنے والا ہے اور میں نے اپنی طرف سے بہت کوشش کی تھی کہ نین کا خیال رکھوں۔ ۔۔۔احناف نے اپنی طرف سے صفائی دی تو اسماعیل صاحب بے اختیار مسکرائے
یہاں آؤ۔۔۔اُنہوں نے اُس کے لیے اپنی بانہیں کھولی تو احناف اُن کے پاس آکر بیٹھا
جانتا ہوں تم نے اپنی طرف سے بہت خیال رکھا تارا کا مگر اب بس دعا کرو کہ وہ ٹھیک ہوجائے اور نارمل زندگی گُزارنے لگے کیونکہ اب تک جو کچھ بھی اُس کے ساتھ ہوا ہے مجھے ڈر لگنے لگا ہے کہ تارا زندگی جینا نہ چھوڑدے”میری جان میری بیٹی رافعہ کی آخری نشانی ہے جس کو میں کھو نہیں سکتا بیٹا اور نہ میں چاہتا ہوں زندگی سے بیزار ہوکر چاندنی جیسا کوئی عمل کرے وہ۔۔۔۔اُسماعیل صاحب کی آنکھیں بھیگنے لگی تو احناف نے تڑپ کر اُن کو دیکھا
دادا جان اللہ نہ کرے کہ ایسا کچھ ہو آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں۔۔۔۔نین ٹھیک ہوجائے گی آپ بس کالج میں اُس کے لیے ایڈمیشن کی بات کیجئے گا اور دادا جان چودہ سال کی عمر میں نین دسویں کلاس میں ہے کیا یہ بات آپ کو عجیب نہیں لگ رہی؟ حیات سولہ کی ہے اور گیارہویں کا پیپر دینے والی ہے۔ ۔۔۔احناف نے آخر میں اُلجھن زدہ لہجے میں اُس سے کہا
نین تارا اسٹڈی میں ہوشیار تھی تو جمپ لگایا تھا۔ ۔۔”تبھی دسویں میں ہے۔ ۔۔۔اُسماعیل صاحب ہنس کر اِس بار مزاحیہ انداز میں بولے
اچھا تو اب نین کا ایڈمیش دسویں میں ہوگا یا گیارہویں میں؟ احناف نے پوچھا
دسویں میں ہوگا خیر سے۔ ۔۔۔اُسماعیل صاحب نے بتایا
تو کیا آپ اُس کو ایک سال نیچے کرے گے؟ احناف نے پوچھا
بلکل چھوٹی سی تو ہے ہماری نین۔ ۔۔۔اُسماعیل صاحب نے کہا
جی پھر آپ جلدی سے اِس کی ایڈمیشن کا انتظام کرے ہمارے کالج میں پڑھے گی نہ یہ؟ احناف نے سوئی ہوئی نین تارا کو دیکھ کر پوچھا
بلکل وہاں ہوگی ایڈمیشن۔ ۔۔اُسماعیل صاحب نے بتایا تو جانے کیوں احناف کو عجیب خوشی کا احساس ہونے لگا۔ ۔۔۔۔
___
____
حیات تم سے بات کرنی ہے۔ ۔۔مُنیبہ بیگم اسائمنٹ بناتی حیات کے کمرے میں آتی اُس سے بولی
جی امی بتائیں کیا بات کرنی ہے؟ حیات نے بیڈ پر اُن کے بیٹھنے کی جگہ بنائی۔ ۔۔۔
احناف کو تارا سے دور کرو مجھے احناف کا تارا کے لئے فکرمند ہونا کچھ خاص پسند نہیں آرہا۔ ۔۔منیبہ بیگم مدعے کی بات پر آئی۔ ۔
کیا مطلب؟ حیات کو اُن کی بات سمجھ نہیں آئی
احناف تمہارا کزن اور تمہارا بیسٹ فرینڈ ہے میں جانتی ہوں تم ابھی سے اُس کو لائیک کرتی ہو تبھی میں کہہ رہی ہوں تارا کو احناف کے آس پاس بھٹکنے نہ دو۔ ۔۔۔منیبہ بیگم نے کہا تو حیات کچھ پل خاموش رہی
تارا بچی ہے اور وہ احناف سے تو کیا کسی کے بھی پیچھے نہیں جاتی آپ فکر نہ کرے اُس کی۔ ۔حیات نے اپنی طرف سے اُن کو تسلی کروائی
میسنی ہے یہ اپنی معصومیت سے احناف کو خود کے راغب کرلے اُس سے پہلے تم اپنی اور احناف کی دوستی کو زیادہ گہرا بناؤ تاکہ تارا درمیان میں نہ آ پائے تمہیں سمجھ آرہی ہے نہ تمہیں میری بات؟منیبہ بیگم کی بات کا مطلب کافی گہرا تھا جس کو سمجھ کر حیات کا سر خودبخود اثبات میں ہلنے لگا۔۔۔









کچھ دن بعد!
نین تارا کی طبیعت میں آہستہ آہستہ سُدھار آگیا تھا مگر وہ سب سے اب دور رہتی تھی پاس تو وہ کبھی کسی کے گئ نہیں تھی مگر احناف کو دیکھ کر اُس کی نظروں میں خون میں لت پت وہ دو آدمی آجاتے جس سے اُس کے اندر ایک انجانا سا خوف بیٹھ گیا تھا۔ ۔۔اور اِس کا گریز احناف کی آنکھوں سے پوشدہ نہیں تھا وہ سب سمجھ رہا تھا کئ بار اُس نے تارا سے بات کرنے کی کوشش بھی کی مگر ہر بار وہ کوئی کہ کوئی بہانا بناکر اُس کو نظرانداز کرکے اُٹھ جاتی۔ ۔۔۔
_____
____،
مجھے آپ کی کلاس میں چلنا ہے۔ ۔۔تارا بضد انداز میں ازلان سے بولی کیونکہ وہ اپنے کلاس میں جانا نہیں چاہتی تھی
میں ضرور تمہیں اپنی کلاس میں لے جاتا مگر یار سمجھنے کی کوشش کرو میری پہلی کلاس میں جو سر ہیں وہ کافی اکڑ مزاج کے ہیں تمہیں دیکھ کر مجھے بھی کلاس سے آؤٹ کردے گے”اِس لیے تم اپنے کالج کا پہلا دن ضائع نہ کرو اور اچھے بچوں کی طرح اپنے کلاس میں جاؤ لکھو پڑھو اور میرا نام روشن کرو۔ ۔۔۔ازلان نے اُس کو سمجھانا چاہا
مجھ
السلام علیکم ۔۔۔تارا کچھ کہنے والی تھی جب احناف کی آواز پر اُس کی زبان کو بریک لگی۔
وعلیکم السلام احناف شکر ہے یار کہ تم آگئے ورنہ تارا تو میری بات ماننے کو تیار نہ تھی۔ ۔۔ازلان نے شکر کا سانس لیا
کونسی بات؟ احناف نے تارا کو دیکھ کر اُس سے پوچھا جو اُس سے چُھپنے کی کوششوں میں تھی
یہ اپنے کلاس میں جانے کے لیے راضی نہیں بلکہ میرے ساتھ میری کلاس میں جانے پر بضد ہے اب تم بتاؤ میں کیا کروں؟ازلان نے ساری بات بتانے کے بعد اُس سے پوچھا
تم اپنے کلاس میں جاؤ کیونکہ نین اگر اپنی کلاس میں نہیں جانا چاہتی تو کوئی بات وہ یہ پیریڈ مس کرسکتی ہے۔۔”نین تم آؤ میرے ساتھ۔۔۔احناف نے اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھایا
میں آپ کے ساتھ نہیں آؤں گی۔۔۔تارا نے انکار کیا
نین ضد نہیں کرو آؤ میری بھی کلاس کا وقت ہونے والا ہے اور ازلان تم کھڑے کیوں ہو؟”جاؤ اپنی کلاس میں۔۔احناف تارا سے کہتا آخر میں ازلان سے بولا تو وہ جلدی سے سراثبات میں ہلاتا وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا اور پیچھے تارا اکیلے رہ گئ احناف کے ساتھ۔۔
نین تم مجھ سے خوفزدہ ہو؟احناف نے سنجیدگی سے پوچھا تو جوابً اُس نے سرہلانے پر اکتفا کیا جس پر وہ مسکرایا
وجہ؟مختصر سوال
آپ بُرے ہو”لوگوں کو مارتے ہو۔۔تارا نے بتایا
میں بُرا بنا اُس کی وجہ تھی وہ تمہیں ہرٹ کررہے تھے تبھی مجھ سے ایسا ہوگیا اِس لیے تم بھی وہ بھول جاؤ اور چلو اینڈ میں واعدہ کرتا ہوں دوبارہ کبھی غُصہ نہیں کروں گا۔۔۔۔احناف نے مسکراکر کہا تو تارا نے ایک نظر اُس کو دیکھا جس کے چہرے کے تاثرات قدرے نارمل تھے۔ “کچھ سوچ کر اُس نے اپنا سراثبات ہلاکر اُس کے ساتھ کلاس میں جانے پر حامی بھری تو احناف کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چُھوا
____
__
دن تیزی سے گُزر رہے تھے باقیوں سے تو نہیں مگر تارا کی احناف اور ازلان سے کافی بن گئ تھی احناف پڑھائی میں اُس کی بہت مدد بھی کرلیا کرتا تھا اور ہر لحاظ سے اُس کا خیال بھی رکھتا تھا” کالج میں بھی ہر وقت ازلان یا احناف کے ساتھ ہوا کرتی تھی دوسرا کوئی اُس نے اپنا دوست نہیں بنایا تھا” سومل مومل حیات یہ تینوں بھی اُس کالج میں ہوا کرتی تھی مگر اُس کے باوجود بھی اجنبیت کا مُظاہرہ کیا کرتیں تھیں نہ اُنہوں نے کبھی تارا کو مُخاطب کیا اور نہ کبھی تارا نے اُن کو مُخاطب کرنا ضروری سمجھا کبھی” وہ بس اپنے آپ میں مگن رہا کرتی تھی اور کچھ دِنوں سے اُس کے پاس جو ڈائری تھی وہ پڑھنا بھی اُس نے شروع کرلی تھی جو پوری انگلش میں لکھی ہوئی تھی شروع شروع میں عام سی باتیں لکھی ہوئی تھی جہاں تک اُس نے پڑھی تھی مگر ڈائری میں کچھ مشکل الفاظ بھی تھے جس کی اُس کو سمجھ نہیں آتی تھی تبھی اُس نے اُن الفاظوں کو الگ رجسٹر میں اُتارا تھا تاکہ احناف سے وہ اُن الفاظوں کا مطلب جان پائے۔ ۔۔۔
____
______
مجھے تم سے کچھ پوچھنا تھا۔ ۔۔بریک ٹائم میں تارا نے احناف کو مُخاطب کیے کہا جو اُس کو کالج گراؤنڈ میں لایا تھا
ضرور پوچھنا ابھی تم یہاں بیٹھو میں تمہارے لیے پانی کی بوتل لاتا ہوں پیاس لگی ہوگی تمہیں اور بتانا اگر کچھ کھانے میں چاہیے ہو تو۔۔۔احناف نے مسکراکر بینچ پہ اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ دیئے کہا
بس پانی۔۔۔۔تارا نے کہا
ٹھیک ہے میں جاتا ہوں تم تب یہی رہنا اور کسی اور سے غیرضروری مُخاطب ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔احناف نے جاتے ہوئے اُس کو وارن کرنا ضروری سمجھا جس پر تارا گہری سانس بھر کر اپنے بیگ سے ایک کِتاب نکال کر بیٹھ گئ۔۔۔۔۔
میرا نام اسجد ہے اور تمہارا کیا نام ہے اینڈ فائنلی آج تمہارے اِرد گرد تمہارا کوئی باڈی گارڈ نہیں۔۔۔۔اُس کو بیٹھے ابھی پانچ منٹ ہی ہوئے تھے جب غیرشناسا آواز پہ تارا نے اپنا سر کِتاب سے اُٹھائے سامنے دیکھا جہاں “احناف کی عُمر کا لڑکا کالج بیگ کندھے پہ لٹکائے مسکراکر اُس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔”اُس کو دیکھ کر تارا نے اپنی نظریں دوبارہ سے کِتاب کی جانب مرکوز کی
کیوٹ گرل ہینڈ شیک تو کرو”میں تمہارے پاس دوستی کا ہاتھ لیکر آیا ہوں”بات تو بہت دِنوں سے کرنا چاہتا تھا مگر وقت آج ملا۔۔۔اسجد نے اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھائے کہا جس پر نین تارا تنقیدی نظروں سے آس پاس کا جائزہ لینے لگی جہاں سب کِھیلنے میں مصروف تھے مگر اُس کی نظروں کو احناف کی تلاش تھی کہی نہ کہی اُس کے اندر احناف کا ڈر اور خوف کُنڈلی مارے بیٹھ گیا تھا۔
نین تارا نام ہے میرا۔۔۔۔۔احناف کو ناپاکر جوابً تارا نے مصافحہ کے لیے اپنا نازک سا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دیا”تبھی تارا کے لیے پانی کی بوتل لائے احناف کی نظر اُن دونوں پر گئ تو اُس کا پرسکون مزاج بِگڑا جانے کیوں اُس کو تارا کے آس پاس کسی کا بھی وجود برداشت نہیں ہوتا تھا۔پھر یہ تو سامنے والا منظر تو اُس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا
تارا کلاس میں چلو۔۔۔کھینچے والے انداز میں احناف نے تارا کو بینچ سے اُٹھایا تو وہ کراہ کے رہ گئ۔۔۔۔
آرام سے ڈوڈ یہ اُس کا ہاتھ ہے کوئی بریف کیس نہیں۔۔۔اور بریک ٹائیم میں کلاس میں جاکر تارا نے کیا کرنا ہے۔۔۔۔اسجد اُس کو دیکھ کر بولا
یہ میری کزن ہے میں جب چاہوں جہاں چاہوں اِس کو لے کر جاسکتا ہوں تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔احناف نے چبا چبا کر الفاظ ادا دیئے
مجھے مسئلہ ہے”یا یوں کہو مجھے اعتراض بھی ہے تم اِس معصوم کے ساتھ ایسا رویہ رواں دواں نہیں کرسکتے۔۔۔۔احناف کسی گُڑیا کی طرح تارا کو لے جانے والا تھا جب اسجد نے کہا
ایکسکیوز می تم کون ہوتے ہو اعتراض اُٹھانے والے؟اسجد کے الفاظ کافی تھے احناف کے تن بدن میں آگ لگانے کے لیے تبھی سرخ چہرے سے اُس کو دیکھتا گویا ہوا تو تارا پہلے اسجد کو دیکھنے لگی جس کے تاثرات نارمل تھے پھر احناف کو دیکھا جو کاٹ کھانے کے در پہ تھی تارا کو اُس سے وحشت سے ہونے لگی وہ اُس سے دور کھڑے ہونے کی کوشش کرنے لگی مگر اُس کا ہاتھ ابھی تک احناف کی گرفت میں تھا تبھی وہ دور نہ ہو پائی
