Kasa-e-Ishq by Fariha Islam Readelle 50357 Kasa-e-Ishq Episode 9
Rate this Novel
Kasa-e-Ishq Episode 9
گھر میں قدم رکھتے ہی وہ سیدھا اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی۔
گھر کے ماحول میں ایک دم سے تناؤ آگیا تھا وہ لوگ وہاں مزید نہیں رکے تھے اور وہ رکنا بھی نہیں چاہتی تھی اور اب گھر آکر وہ اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی۔
“شیزا جاؤ بہن کو دیکھو۔۔”فوزیہ بیگم نے شیزا کو اسکے پیچھے بھیجا تھا۔
“دیکھ لیا انجام اسی دن کے ڈر سے میں نے شمع تمہیں سمجھایا تھا کہ اسے خود سے دور مت کرو۔۔
“اسکا اداس چہرہ کلثوم بی کا خون کھلا اٹھا تھا..
“اماں ابھی کوئی ایسی بات مت کریں وہ پہلے ہی پریشان ہے ۔”وسیم صاحب نے کہا اور خود اٹھ کر اسکے کمرے تک آئے تھے جہاں شیزا بیچارہ سا منہ بنائے اسے دروازہ کھولنے کا کہہ رہی تھی۔
وسیم صاحب نے اشارے سے اسے باہر جانے کا کہا تو وہ سر ہلاتی وہاں سے نکلی تھی ۔
“در گڈے اپنے چچا کی بات نہیں سنو گے؟؟ ان کے لئے دروازہ نہیں کھولو گے؟؟”انہوں نے نرمی سے کہتے دروازہ ناک کیا تھا جو لمحے کے توقف کے بعد کھول دیا گیا تھا۔
دروازہ کھولتے ہی وہ ان کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔۔
وسیم صاحب نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔۔
“بس چپ بلکل روتے اچھی نہیں لگتی میری بچی۔۔ اس پر تو سب کو رلانا ہی جچتا ہے۔۔”
“آپ جانتے ہیں نہ میں نے بچپن سے سے ہر چیز برداشت کی ہے سب کی بری باتوں کو برداشت کیا بلکہ میں نے مما کی دوسری شادی کو دل سے تسلیم کیا ہے میں نے شفیع انکل کو بے حد عزت دی میں نے انہیں اپنے باپ کا درجہ دیا ہے مگر اب مما کا یوں خود غرض ہوجانا مجھے اچھا نہیں لگ رہا چاچو۔۔ “
“تو گڑیا ایسے کمرے میں بند ہونے سے کسی سے بات نا کرنے سے مسئلے کا حل تو نہیں نکلے گا نا”
“مجھے نہیں کرنی ابھی ان سے بات میں شاید ابھی اس چیز کو نہیں قبول کررہی ہوں میں نے ان کا یہ رویہ نا سوچا تھا نا میں سوچنا چاہتی ہوں ان سے کہیں کہ وہ چلی جائیں کیونکہ چاچو میں اپنے بابا کو بہت پہلے کھو چکی ہوں میں اپنی ماں کو نہیں کھونا چاہتی مجھے کچھ وقت چاہیے تاکہ میں اس بات کو سمجھ سکوں اور اب ان کی جو ضد ہے وہ کبھی پوری نہیں ہوسکتی تو وہ مجھے ضرور ایسا کچھ کہیں گی جو میں برداشت نہیں کرسکوں گی اور میں ان سے بدتمیزی نہیں کرنا چاہتی میں اپنی دادی کی تربیت پر کسی کو اگلی اٹھانے نہیں دے سکتی آپ کی بیٹی آپ کا سر نہیں جھکا سکتی کبھی بھی نہیں مر کر بھی نہیں ایک بنا ماں باپ کی بچی کو آپ لوگوں نے جس طرح پالا ہے ایسا آج کے دور میں کوئی نہیں کرتا ہے میری ماں سے بھی مجھے وہ محبت و چاہت نہیں ملی جو مجھے ان سے چاہیے تھی انہیں ہمیشہ یہ رہا کہ وہ سب کو نیچا دیکھا سکیں وہ خود غرض ہیں یا نہیں میں یہ بات نہیں کہہ سکتی مگر وہ خود کو اچھا ثابت کرنے کے لئے مجھے۔۔۔”
“ششش”اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی وسیم صاحب نے اسے ٹوکا تھا۔
اور ان کے ٹوکنے پر وہ ایک دم مسکرا اٹھی۔
“دیکھا آپ نے میرا دل بہت برا ہو رہا ہے ابھی کچھ بھی بول دونگی جو ان کی دل آزاری کا باعث بنے گا تو مجھے معاف کردیں اور انہیں کہیں کہ فلحال یہاں سے چلی جائیں کچھ وقت بعد شادی ہے میری میں مضطرب اور بے سکون نہیں رہنا چاہتی میں چاہتی ہوں میری ماں میری شادی میں کھلے دل سے شریک ہو۔۔”ان کا ہاتھ تھامے وہ ان سے التجا کر رہی تھی وسیم صاحب نے اسکی بات سمجھ کر سر اثبات میں ہلایا تھا۔
“پریشان نہیں ہو ٹھیک ہو جائے گا اور اب سوچنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اگلے مہینے رخصتی ہے تو اچھے سے اپنی تیاری کرنی ہے جو بھی لینا ہو فوراً سے اپنے چاچو سے کہو گی سمجھ آئی۔۔”اس کے سر پر دست شفقت رکھتے وہ محبت سے اسکا ماتھا چومتے باہر کی جانب بڑھے تو دروازے کے پاس کھڑی شمع بیگم فوراً سے پیچھے ہوئی تھیں۔
ان کی آنکھیں نم تھیں اپنی آنکھیں صاف کرتے وہ فوراً سے باہر کی جانب بڑھی تھیں انکا دل بار بار تکلیف میں مبتلا ہورہا تھا ایک پچھتاوا تھا جس نے انہیں اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔
شمع بیگم کے جاتے ہی وہ واپس سے نارمل ہوئی تھی اور اس حوالے سے کلثوم بی اور فوزیہ بیگم نے اسے بہت سمجھایا تھا مگر وہ ایسی تھی جب ضد پر آجاتی تو کسی کی نہیں سنتی تھی۔۔
وسیم صاحب نے کہنے پر ان لوگوں نے یہ ٹاپک ہی بدل لیا تھا اور اب باتیں تھیں تو بس اسکی رخصتی کی۔۔
پاکیزہ بیگم نے جہیز لینے سے صاف انکار کردیا تھا مگر پھر بھی کپڑے جیولری اور بھی بہت سا سامان تھا جو انہوں نے اس کے جوڑا تھا اور وہ اسے سب دینے کا ارادہ رکھتی تھیں۔
ابھی بھی وہ سب سارا سامان نکالے بیٹھے تھے۔شیزا کے ہاتھ میں پین پیپر تھا اور وہ سارے سامان کی لسٹ بنا رہی تھی تاکہ جو سامان رہ گیا ہے وہ آجائے۔
“ویسے شہوار تیرے مزے یار شادی کے بعد پڑھائی سے جان چھوٹی ۔” اسکے سامان کو دیکھتے شیزا نے اسے کہا تو اسنے اترا کر اپنے بالوں کو جھٹکا دیا تھا۔
“شکر ہے جان چھوٹی۔۔”دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیرتے اس نے شکر ادا کیا تھا ۔
“بیٹا تو رک ایک بار پاکیزہ آجائے پھر میں بات کرتی ہوں تیرے شہر پڑھنے کی۔۔”ان کی بات پر اسکی آنکھیں پھیلی تھیں۔
“خبردار جو مجھے آگے پڑھنے کا بولا قسم سے میں اس صوفے سے گر کر اپنی ساری ہڈیاں تڑوا لوں گی اور نجم کے موٹے پیٹ سے ٹکر مار کر اپنا سر پھوڑ لونگی۔۔”اس نے کمر پر ہاتھ رکھ انہیں دھمکی دی تھی۔
“ارے چل تیرے تو اچھے بھی جائیں گے آگے پڑھ اور کچھ بن کر دیکھا۔۔”
“کچھ بننے کے لئے پڑھنا ضروری نہیں ہے بھئی درزی، قصائی،لوہار،فروٹ والے،کپڑے والے،گوک گپے والے۔۔۔ اب بتاؤ زرا دادی کیا گول گپے بنانے کے لئے وہ آگے پڑھیں ہونگے کیا؟”اس نے آنکھیں پٹپٹاتے ان سے سوال کیا تھا۔
“اور تو اور بیوی ہی تو بننا مجھے اب اس میں کونسی ڈگری لگتی ہے؟”دوپٹے کا پلو دانتوں میں دبائے معصوم بننے کی کوشش میں وہ نجم کو چالاک بلی لگی تھی جہاں اسکا قہقہ بلند ہوا وہیں دادی کی ہوائی چپل نے اسکی کمر پر اچھے سے سیک لگائی تھی کہ وہ بلبلا اٹھی۔۔
“ہائے میرے اللہ مجھ معصوم چھوٹی سی لڑکی کی ریڈھ کی ہڈی میں چھید ہوگیا۔۔”اس کی دہائی پر کلثوم بی چھڑی سمیت اسکی طرف لپکی تھیں۔۔
“پکڑ کر دیکھاؤ تو مانو عمر ہوگئی ہے تمہاری دادی یہ امیتابھ بچن بننا چھوڑ دو۔۔۔”انہیں زبان چڑاتے وہ فوراً وہاں سے رفو چکر ہوئی تھی۔
“کیسے تر تر زبان چل رہی ہے سمجھا اسے فوزیہ پاکیزہ کی ساری بہوئیں اتنی سلجھی ہوئی ہیں اور ایک یہ بلا جسے عقل نام کو نہیں ہے۔۔”اپنا سر پکڑتے انہوں نے فوزیہ بیگم کو کہا تو وہ ہنس دی۔
“شہوار بری بات ہے ایسے نہیں بولتے بیٹا۔۔”
“تو بھئی ان کو بولیں میں نہیں پڑھنے والی۔ “وہ منہ بسور کر ان کے پاس بیٹھ کر بولی تو انہوں نے محبت سے اس کے بال سنوارے تھے۔۔
“اچھا بابا نہیں بولتی ویسے بھی دادی کی تھوڑی نا چلے گی وہاں ۔۔”ان کے کان میں سرگوشی کرتے اس نے خود کو مطمئن کرنا چاہا تھا۔۔
فوزیہ بیگم نے ہنس کر اسکے سر پر چپت لگائی تھی۔۔
اگلے ہفتے پاکیزہ بیگم نے حنا بھابھی اور انعم اور عدینہ بھابھی کے ساتھ شادی کی تاریخ پکی کرنے آنا تھا۔۔
کلثوم بی کو یہ ٹینشن تھی کہ اتنی جلدی یہ سب کیسے ہوگا مگر وسیم صاحب اور فوزیہ نے انہیں کہا کہ وہ ٹینشن نا لے سب اچھے سے ہو جائے گا اور جس طرح آگے بڑھ چڑھ کر فوزیہ کام کر رہی تھیں بھلا آج کل کہاں کوئی کسی کے لئے کرتا ہے۔۔
پلک جھپکتے ایک ہفتہ گزرا تھا۔
پاکیزہ بیگم کل یہاں آنے والی تھیں تیاریوں میں اضافہ ہوا تھا کیونکہ وہ تاریخ کا سامان بھی ساتھ لانے والی تھیں اور ان کی طرف سے شاہنواز کا سامان بھی جانا تھا۔
سارے کاموں سے فارغ ہوتے اس نے موبائل اٹھایا تاکہ اپنی دوستوں کو شادی کی اطلاع دے سکے۔
صحن کی لائٹس آف کرتے اس نے کیری کی پلیٹ اٹھائی تھی وہ اپنے کمرے میں آئی تھی شیزا اور فوزیہ بیگم تو شاپنگ پر نکلی ہوئی تھیں۔
ابھی وہ کمرے میں داخل ہی ہوئی تھی کہ اسکا موبائل بجنا شروع ہوا تھا انجان نمبر دیکھ اسنے کال کاٹنی چاہی مگر پھر نا جانے کیا سوچ کر اس نے فون کانوں سے لگایا تھا۔
“ہیلو۔۔”مقابل کی آواز وہ لمحوں میں پہچانی تھی دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی تھی۔
“ہیلو۔۔۔”
“مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔”اسکے ہیلو بولتے ہی اسکی سماعتوں میں ان کی بھاری گھمبیر آواز گونجی تو چہرے پر ناگواری لائے اس نے کان سے فون اٹھا کر ایسے گھورا تھا جیسے وہ سامنے ہوں۔
“جی بولیں سن رہی ہوں.”بیڈ پر بیٹھتے اس نے کیری کی پلیٹ اپنی گود میں رکھی تھی۔
“دیکھو میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اور اس نکاح کی کوئی حیثیت نہیں ہے میرے آگے تو تم اس شادی کے لئے منع کردو۔۔”ان کی بات تحمل سے سنتے اس نے دانت کچکچائے تھے۔
“سوری میں تو نہیں کرونگی کیونکہ مجھے اس شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے جسے ہے وہ اتنی ہمت لائے کہ منع کردے۔۔”چٹاخ سے جواب دیتے اس نے سر جھٹکا تھا۔
“بہت شوق ہے نا تمہیں شادی کا لیکن ایک بات یاد رکھنا میں چھوڑوں گا نہیں تمہیں نا تم سے محبت کرونگا کبھی تو یہ بات اپنے اس خرافاتی دماغ میں اچھے سے بٹھا لو۔۔”اس کی بات پر غصے میں کہتے وہ کھٹاٹ سے فون بند کرگئے تھے۔
“اس بندے کا مسئلہ کیا ہے بڑھاپے کی شادی پر بھی خوش نہیں ہے کھڑوس۔۔”غصے سے بڑبڑاتے اس نے فون پٹخا تھا۔۔
![]()
![]()
![]()
،![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
کراچی سے مہمان آچکے تھے اور دادی اور چچی کی نصیحتوں کو پلو سے باندھے وہ بے تحاشہ شرافت کا مظاہرہ کر رہی تھی۔
پاکیزہ بیگم اسکے لئے بہت سارا اور بہت خوبصورت سامان لائی تھیں جسے اس نے دل سے سراہا تھا۔
شام کو دعوت کا اہتمام تھا شیزا نے اسے پاکیزہ بیگم کے لائے ہوئے سوٹ میں سے ایک سوٹ دیا تھا اور پھر ہلکا سا تیار کیا تھا تاکہ رسم ادا کی جاسکے۔۔
خوشیوں بھرے ماحول میں رسم ادا کی گئی اور پھر شادی کی تاریخ رکھی گئی ایسے میں یہ سوچ کہ اب اس گھر میں وہ محض چند ہفتوں کی مہمان ہے اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔
کلثوم بیگم کے گلے لگ وہ ایسے روئی تھی جیسے اسکی رخصتی آج ہی ہو۔۔
“بس کردے شہوار سیلاب آجائے گا..”نجم نے اسکو سوں سوں کرتے دیکھ اسکا مذاق اڑایا تھا۔
“چھوٹی دادی اسکے یوں رونے پر نہیں جائیں ابھی شروع شروع میں آپ کو یہ شریف لگ رہی پھر اسکی حرکتوں سے آپ بولیں گی کیا بلا گلے پڑ گئی۔۔”نجم کے پاکیزہ بیگم کو بولنے پر جہاں وہ ہنس دی تھیں وہیں کلثوم بی اور فوزیہ دونوں نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔
اس لڑکے کی زبان جیسے قینچی جیسی چل رہی ہے کیا عورتوں میں بیٹھا ہے جا باہر آدمیوں میں بیٹھ۔۔” اسکی کمر پر دھموکہ جڑتے کلثوم بیگم نے اسے آنکھیں دیکھائی تھیں مگر وہ بیچارہ سدا کا ڈھیٹ۔
“باہر بیٹھو تو بولتی ہیں بڑوں میں نا بیٹھ یہاں بیٹھا ہوں تو بول رہی ہیں عورتوں میں بیٹھا ہے آپ مجھے ایک بار بتا ہی دیں کہ آخر میں جاؤ تو جاؤ کہا۔۔۔” بھرپور سستی ایکٹنگ کا مظاہرہ کرتے وہ مظلوم بنا تھا۔
“ارے کلثوم خاکہ چھوڑ دیں بھئی بچے کو اچھا خاصا دل لگا رہا اپنی باتوں سے۔۔”عدینہ کی طرف داری کرنے پر اس نے اترا کر شہوار کو دیکھا تھا جو اسے ایسے گھور رہی تھی جیسے کچا چبا جائے گی۔۔
“ارے ارے تھینک تو آپی آپ نے میری سائیڈ لی ورنہ یہ لوگ تو سائیڈ ہی کر دیتے ہیں مجھے۔۔ اور ہاں اب سے میں آپ کی سائیڈ ہوں دیورانی بن کر اگر یہ تنگ کرے تو مجھ سے رابطہ کرنا آپ لوگ۔۔”ان کے پاس بیٹھتے وہ دانتوں کی نمائش کررہا تھا وہ وہاں بیٹھے سب لوگوں کا دل جلا رہا تھا۔۔
اور پھر پوری رات کی باتیں جاری رہی تھیں پندرہ دن بعد شادی کی تاریخ رکھی تھی تو وہ لوگ صبح ہوتے ہی کراچی روانہ ہوئے دو تھے۔۔
اپنا سامان پیک کرتے انہوں نے اپنی اور پاکیزہ بیگم کی تصویر کو بیگ میں رکھا تھا۔
وہ اس زبردستی کے رشتے کو نہیں نبھا سکتے تھے اور آج وہ بہت سوچ سمجھ کر ایک فیصلے کر پہنچے تھے۔۔۔
اپنی ساری تیاری مکمل کر انہوں نے اپنا بیگ بیڈ کے نیچے چھپایا تھا۔
جو چیز وہ نہیں کرنا چاہتے تھے اب وہ ہوگئی تھی مگر نبھانا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔۔
اپنی سوچوں میں وہ گم تھے جب دروازہ ناک ہوا تھا۔
انہوں نے ایک دم گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا دل میں چور تھا اس لئے گھبراہٹ بھی زیادہ تھی۔
جلدی سے خود کو سیٹ کرتے انہوں نے دروازہ کھولا تو سامنے فرحان بھائی اور باقی سب موجود تھے۔
“یار شاہنواز گھر میں اتنا سناٹا ہے اور تم بھی یوں کمرے میں بیٹھ گئے ہو بھئی شادی ہے تمہاری کچھ ہنگامہ کرو۔۔”ان کے بولتے ہی وقاص نے تھال اٹھا کر بیچ میں رکھا تھا اور باقی سب ان کے اردگرد بیٹھے تھے۔
“بھائی مجھے یہ سب نہیں۔۔۔”
“منہ بند کر یار اور مزے کر۔۔۔”انکی بات کاٹتے انہوں نے شاہنواز کا ہاتھ کھینچ کر انہیں ساتھ بیٹھایا تھا۔
انکا یوں بچکانہ رویہ اختیار کرنے شاہنواز کی سمجھ سے باہر تھا۔۔
ان لوگوں کی آمد انہیں اپنی روانگی میں رنگ میں بھنگ ڈالتی محسوس ہوئی تھی۔
جبکہ فرحان کے اشارے پر افسانہ نے خاموشی سے پیچھے سے انکا بیگ غائب کیا تھا ۔
