Kasa-e-Ishq by Fariha Islam Readelle 50357 Kasa-e-Ishq Episode 11
Rate this Novel
Kasa-e-Ishq Episode 11
طویل سفر کے بعد بالآخر وہ لوگ اپنی منزل پر پہنچے تھے۔۔
بیٹھے بیٹھے سب کی کمر اکڑ گئی تھیں یہ پانچ گھنٹے کا سفر کوئی دس گھنٹے کے برابر لگا تھا انہیں۔۔
“حنا بھابھی شہوار کو لے کر آجائیں میں دروازے کھولتی ہوں۔۔”انعم نے حنا بھابھی کو کہا اور خود سجاد بھائی سے چابی لیتیں اندر بڑھیں تھیں۔۔
“سنیں بچے سوگئے ہیں آپ انہیں اندر امی کے کمرے میں سلا دیں۔۔”وہ جاتے جاتے اپنے شوہر کو بولنا ہر گز نہیں بھولی تھیں۔۔
“شہوار آجاؤ بیٹا۔۔”گاڑی کا دروازہ کھولتے حنا بیگم نے اسکا شرارہ سنبھالتے اسے باہر نکلنے میں مدد کی تھی جس کی کمر بیٹھے بیٹھے تختہ ہوگئی تھی۔
“شاہنواز بھئی بیگم کو دیکھو اپنی۔۔”ڈرائیور کے پاس کھڑے شاہنواز کو پکارتے حنا بھابھی نے شرارت سے عدینہ بھابھی کو دیکھا تھا۔
اتنے مہمانوں کی موجودگی میں وہ انکار تو کر ہی نہیں سکتے تھے۔۔
وہ آہستہ سے چلتے اسکے پاس آکر کھڑے ہوئے تھے ۔
“بھابھی نے صرف کھڑے ہونے کو نہیں بولا میری مدد کرنے کو بھی بولا ہے ۔” ان کو اسٹل کھڑے دیکھ اسنے دبی آواز میں کہا تو انہوں نے چونک کر اسے دیکھا تھا.
“ایسے گھور کر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے اس بیگ کو تھامیں زرا…” اپنا بیگ ان کو تھامتے اس نے اپنے ہاتھوں کو ریلکس کیا تھا۔
جبکہ وہ اس کی ڈھٹائی دیکھ کر ہی حیران تھے۔
عدینہ بھابھی کی مدد سے وہ اندر آئی تھی کیونکہ سب ہی تھکے ہوئے تھے تو رسموں کو مختصر کردیا گیا تھا دوسرا شاہنواز کا موڈ بھی عجیب سا ہورہا تھا۔۔
“انعم بچی کو کمرے میں لے جاؤ کب سے بیٹھی ہوئی ہے تھوڑا آرام کرلے گی۔۔”پاکیزہ بیگم کے کہنے پر انعم آپا اسے شاہنواز کے کمرے میں لائی تھیں۔۔
سرخ پھولوں سے سجا بہت حد خوبصورت کمرہ۔
اسنے ایک طائرانہ نظر پورے کمرے پر ڈالی تھی کمرہ بھی ان کی شخصیت کی عکاسی کر رہا تھا۔
سائیڈ ٹیبل پر رکھی ان کی تصویر دیکھ اسکا دل ایک دم سے دھڑکا تھا۔۔
پاکیزہ بیگم اوپر آئی تو آج ناجانے کتنی مدتوں پر اپنی خواہش پوری ہونے پر ان کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔
انہوں نے اسکا صدقہ اتارا اور پھر اسکے پاس ہی بیٹھی تھیں۔
“آپ نے کھانا کھایا؟؟”ان کے پاس بیٹھنے پر اس نے ان کا ہاتھ تھاما تھا۔
اسکے یوں پوچھنے پر وہ بے اختیار ہنس دی تھیں۔
“پاکی اماں ہنسیں نہیں آپ کی دوست نے سختی سے تاکید کی ہے ان کی دوست کا بہت خیال رکھنا ہے۔۔”
“تو میری گڑیا ابھی یہ وقت میرا خیال نہیں ابھی یہ تمہارے مزے کرنے کے دن ہیں۔۔” اسکے سر پر ہاتھ رکھتے انہوں نے محبت سے کہا تو وہ مسکرا دی۔
“شہوار گڑیا۔۔”کچھ سوچ کر انہوں نے اسے پکارا تھا۔
“جی۔۔۔”
“بیٹا مجھے نہیں پتا مجھے یہ کیسے کہنا ہے مگر شاہنواز کے حوالے سے تمہیں اندازہ ہے نا۔۔”وہ جو کہنا چاہ رہی تھیں وہ اچھے سے سمجھ گئی تھی جبھی اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“مجھے ان کے ماضی یہ تب تک لینا دینا نہیں ہے اماں جب تک وہ خود مجھے اس ماضی کا نا بتائیں۔۔ “
“میں قدر کرتی ہوں بہت تمہاری بچے مگر شاہنواز۔۔۔” وہ لمحے کو رکی تھیں۔
“اسے وقت لگے گا تھوڑا کتنی عجیب سی بات ہے نا یہ بات ہم لڑکیوں کو کہتے ہیں سسرال کو شوہر کو سمجھنے میں انہیں مسئلہ ہوتا وہاں خود کو رچانا بسانا یہ سب کرنا سب سے مشکل ہے مگر یہاں میں ایک بیٹے کی ماں ہوکر یہ بات کر رہی ہوں میں چاہتی ہوں تم اسے محبت کرنا سیکھاؤ اسے زندگی کے اس نئے رنگ سے روشناس کرواؤ۔۔”
ان کی بات پر اسنے آہستہ سے سر ہلایا تھا دل میں پلتے خیالات مزید جڑ پکڑ گئے تھے۔
“اب تک آرام کرو میں شاہنواز کو بھیجتی ہوں۔۔”اسکے ماتھے پر بوسہ دیتی وہ کمرے سے باہر آئی تھیں اور اب انکا رخ شاہنواز کی طرف تھا جو اس وقت ان کے کمرے میں موجود تھے۔
وہ اپنے کمرے میں آئیں تو انہیں بیڈ پر اوندھے منہ لیٹے پایا تھا.
“نواز میرے بچے۔۔۔”ان کے پاس بیٹھتے انہوں نے ان کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو انہوں نے زرا سا چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھا تھا۔
“کیا ہوا ہے بچے..”؟ان کو ایسے دیکھ ان کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
آج کا دن تو سب کے لئے ہی خوشیوں سے بھرا ہوتا ہے اور ان کے بیٹے کے لئے۔۔۔
انہوں نے کبھی کسی کو برا نہیں کہا تھا نا قصور وار ٹہرایا تھا مگر آج انکا دل کیا کہ وہ اس سے سارے حساب کتاب کریں۔۔
“کچھ نہیں امی ٹھیک ہوں۔۔”وہ اندرونی انتشار کا شکار تھے مگر اپنی ماں کو وہ مزید پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔
“کچھ نہیں بس سفر کی تھکان ہے۔۔”ان کا ہاتھ چومتے وہ مسکرا کر بولے تھے۔
“تو جا کر آرام کرو شہوار بھی تھک گئی ہے میں اسے بھی آرام کا بول کر آئی ہوں۔”ان کے بال سنوارے انہوں نے کہا تو اس کے نام پر ان کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔
“شاہ وہ بن ماں باپ کی بچی ہے دادی چاچا کتنا بھی پیار کرلیں ماں باپ کی کمی پوری نہیں کر سکتے اور پھر ایک محبت جو عورت کو سب سے زیادہ چاہیے ہوتی ہے وہ شوہر کی ہوتی ہے۔
اسے شوہر سے محبت کی امید نا بھی ہو مگر اسکی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکا شوہر اس کی عزت کرے۔۔۔ ” ان کا ہاتھ تھامے وہ آہستہ سے ان سے اپنی بات کہہ رہی تھیں اور وہ سر جھکا کر ان کی بات سن رہے تھے۔
“وہ عمر میں ضرور چھوٹی ہے مگر وہ بے عقل نہیں ہے وہ ایک حساس دل رکھتی ہے میرے بچے۔۔بے شک اسے محبت نا دینا مگر اسکی عزت ہمیشہ کرنا وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر صرف تمہارے لئے یہاں آئی ہے۔۔
اور جب ایک عورت اپنا گھر بار چھوڑ کر ایک انجان شخص کے پاس آتی ہے تو وہ کئی خواب سجا کر آتی ہے آنے والی زندگی کو لے کر اسکے بہت سے ارمان ہوتے ہیں مگر یہ جو قسمت ہے نا یہ سب چیزوں سے آگے ہوتی ہے حالات چاہے جو بھی ہوں مگر عورت اگر محبت نا بھی مانگے وہ عزت ضرور مانگتی ہے وہ چاہتی ہے کہ اسکا شوہر چار لوگوں میں اسکا پردہ رکھے نا کہ چار لوگوں میں اسے بیٹھا کر رسوا کرے۔۔ پھر ایسا مرد کسی عورت کو نہیں چاہیے ہوتا خدا نے عورت کا محافظ بنایا ہے شوہر کو اگر وہ ہی اسے رسو کرے گا تو وہ کس پر اعتماد کرے گی؟
محبت نا بھی ہو رشتے میں تو رشتے نبھا ہی لئے جاتے ہیں مگر رشتے میں عزت نا ہو تو انہیں ٹوٹنے میں لمحہ بھی نہیں لگتا۔۔”
“اور میرے بچے میں یہ نہیں کہوں گی کہ تم شہوار سے محبت کرو یہ وہ چیز ہے جو زبردستی نہیں کروائی جاسکتی ہاں مگر میں یہ کہتی ہوں اس کی عزت میں کوئی کمی مت آنے دینا اسے ویسے ہی عزت دینا جیسے اپنی ماں بہن اور بھابھیوں کو دیتے ہو۔۔ “
وہ خاموشی سے ان کی ہر بات سن رہے تھے۔
“بے غیرت ہوتے ہیں وہ مرد جو عورت کو پیر کی جوتی سمجھتے ہیں ان کے لئے عورت گھر کی ماسی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی وہ اپنی ماں بہن کے آگے اسے ذلیل کرنے کو اپنی مردانگی تصور کرتے ہیں مگر یاد رکھو پھر ایسے مرد مرد نہیں کہلاتے انہیں کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے تو اپنے رشتے کو اتنا خالص رکھنا کہ تم انصاف کرسکوں تم ماں بہن کو خوش رکھنے کے لئے اسے رسوا نا کرنا تم اللہ کی رضا کے لئے اسکے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا۔۔۔”
“میں کوشش کرونگا امی آپ پریشان نا ہوں۔۔”انہوں نے پاکیزہ بیگم کو مطمئن کرنا چاہا تھا اور پھر انہیں شب بخیر کہتے وہ اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھے تھے دماغ میں پاکیزہ بیگم کی باتیں گردش کر رہی تھیں۔۔
انہوں نے کمرے میں قدم رکھا تو سامنے نا منظر دیکھ انہوں نے گھیرا سانس لیا تھا۔
سامنے ہی دولہن محترمہ گدھے گھوڑے بیچ پورے بیڈ پر براجمان تھیں۔
نفی میں سر ہلاتے انہوں نے گھڑی اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی تھی اور خود فریش ہونے گئے تھے۔
فریش ہوکر واپس آئے تو وہ محترمہ اپنی پرانی پوزیشن کو اب تبدیل کرتے آدھا بیڈ اپنے قبضے میں کر چکی تھیں ۔
“سنو۔۔۔ شہوار!”آہستہ سے اسے پکارتے انہوں نے بیڈ پر بکھرا اسکا دوپٹہ سمیٹا تھا۔
“شہوار؟؟؟” اپنے کمرے میں اسکی موجودگی ہی انہیں عجیب سی لگ رہی تھی اوپر سے اب اسے اٹھانا۔۔
انہوں نے ایک نظر اسکے سوئے ہوئے چہرے پر ڈالی تھی۔۔
کروٹ کے بل سونے سے چہرے پر جیولری کے نقش و نگار بن گئے تھے۔
گہرا سانس بھرتے انہوں نے اسے گھورا تھا اور پھر آہستہ سے اسکا ہاتھ تھام کر اسکی چوڑیاں اتاری تھیں۔
“یونہہ اب یہ بھی میں کروں خود تو سب بیچ کے سوگئی ہے۔۔” چوڑیاں اتار کر سائیڈ کرتے وہ بڑبڑائے تھے۔
اور پھر اسے تمام جیولری سے آزاد کرتے وہ اپنی جگہ پر آکر لیٹے تھے۔
شاہ کو اس کی نیند پر حیرت ہوئی تھی جو زرا سا بھی نہیں اٹھی تھی۔
“ہونہہ۔۔سوتو۔۔۔۔”سر جھٹک کر اسے سوتے بولتے وہ خود بھی لائٹس آف کرتے آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئے تھے۔
صبح اسکی آنکھ کھلی تو اس نے ایک بھرپور انگڑائی لیتے اپنی جمائی کو روکا تھا۔۔
“اوور شٹ۔۔۔”ہوش آتے ہی وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔
رات کھانا کھا کر اسنے زرا سی آنکھیں بند کی تھیں اور وہ بیچارہ زرا سی آنکھیں پوری کی بند ہوئیں اور ایسی بند ہوئیں کہ اب کھلی تھیں۔۔
اس نے گردن موڑ کر بیڈ کی دوسری سائیڈ دیکھی جو کہ خالی تھی۔۔
“شکر یہ نہیں ہیں ورنہ میرا ایسا حلیہ دیکھتے تو مذاق بناتے۔۔” اپنے بکھرے بال سنوارتے وہ ابھی اٹھی ہی تھی کہ اپنا حلیہ ٹھیک کرلے مگر اسکی قسمت۔۔
یہاں وہ اٹھی وہی دروازہ کھول کر شاہنواز اندر داخل ہوئے تھے۔۔
“آہہہ۔۔۔۔۔ نہیں نہیں پلیز وہیں رہیں۔۔” اپنا منہ چھپاتی وہ واپس سے بیڈ پر اوندھے منہ گری تھی۔۔
اور بیچارے اس اچانک چیخ پر ہونق ہوئے تھے۔۔
“کیا ہوگیا ہے شہوار؟؟” تولیہ سائیڈ پھینکتے وہ اسکے پاس آئے تھے۔۔
“نہیں پلیز ابھی آپ جائیں پلیز شاہ پلیز۔۔۔”دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپاتے وہ خود میں سمٹی تھی۔۔
“شہوار ہوا کیا ہے آخر کچھ بتاؤ گی؟؟”اسکے رویے انہیں ٹھیک ٹھاک پریشان کیا تھا۔۔
“نہیں آپ بس جائیں میں یہ چہرہ آپ کو نہیں دیکھا سکتی ساری آپ کی غلطی ہے جب میں پیاری لگ رہی تھی تب تو آپ آئے نہیں اور اب جب میں ایک نمبر کی چڑیل لگ رہی آپ سامنے آگئے۔۔۔”
“ہا۔۔۔۔”اسکی بات سمجھ ان کو ہنسی آئی تھی
“مگر اب تو میں تمہیں دیکھ چکا ہوں جب تم سو رہی تھیں بکھرے بال بہتا کاجل اور ہاں ایک آواز۔۔۔”
“بس بس پلیز شاہ پلیز میں دیکھیں ایک دن کی دولہن ہوں مجھ ہے رحم کھائیں نا۔۔۔”اپنے حلیے جا سوچ سوچ اسکی جان ہوا ہورہی تھی۔
شاہنواز نے دانتوں تلے لب دباتے اپنی مسکراہٹ کو روکا تھا۔
“ٹھیک ہے نہیں دیکھتا میں یہ بھوت۔۔ سوری تمارا چہرہ۔۔” شرارت سے کہتے وہ ڈریسنگ کے پاس آئے تھے مگر نظروں کا مرکز بیڈ کر گھٹڑی کی صورت میں پڑی شہوار پر ہی تھی۔
“آپ نظر ہٹا لیں ورنہ دیکھ لیں سوتے آپ بھی ہیں میں بھی وڈیو بنا کر وائرل کردوں گی ۔”
اس کی دھمکی پر انہوں نے گردن گھما کر اسے حیرت سے دیکھا تھا۔
“تم اس کنڈیشن میں ہو کہ مجھے دھمکی دو؟؟ ” انہوں نے سینے پر ہاتھ رکھتے جیسے کنفرم کیا تھا۔
“اچھا بھئی سوری واپس لے رہی اپنے الفاظ اب آپ جائیں نا ۔۔۔” دونوں ہاتھ جوڑتے اس نے منہ بیڈ پر چھپایا تھا۔
“اچھا جا رہا ہوں ہوجاؤ تیار۔۔” خود پر پرفیوم اسپرے کرتے وہ کمرے سے باہر نکل گئے۔۔
“اففففف اللّٰہ جی۔۔ لعنت ہو شہوار اپنے دن کی صحیح شرمندگی ہوگئی۔۔” خود سے کہتے وہ آئینے کے سامنے آئی تھی۔
رات کا مٹا مٹا میک اپ۔۔۔
“اتنی بھی بری نہیں لگ رہی یار بس تھوڑی سی۔۔۔افففففف۔۔۔”پیر پٹختے اسنے خود کو کوسا تھا۔۔
“چل شہوار اس سے پہلے کوئی اور اس روپ میں دیکھے بھاگ لے۔۔”خود سے کہتے وہ جلدی سے کپڑے لے کر واشروم میں بند ہوئی تھی۔۔
“بیٹا اب سے یہ تمہارا گھر ہے تو بلکل بھی ہچکچانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔”اسے بولتے پاکیزہ بیگم نے اسکی پلیٹ میں فرائی ایگ رکھا تھا۔
اس نے مسکرا کر نہیں شکریہ کہا تھا مگر برابر بیٹھے انسان کی موجودگی میں کچھ بھی حلق سے اتارنا سب سے مشکل کام تھا۔
اس نے کن انکھیوں برابر میں سکون سے ناشتہ کرتے شاہنواز کو دیکھا تھا۔۔
اور پھر سر جھٹک کر ناشتہ کرنے لگی دل میں کہیں یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں صبح والی بات سب کو نا بتادیں مگر اسنے سکون کا سانس تب لیا جب وہ خاموشی سے اپنا ناشتہ کر اٹھ کر چلے گئے۔۔
سب کے جانے کے بعد پاکیزہ بیگم وہیں اس کے پاس بیٹھ گئیں۔۔
“بیٹا شاہنواز کا رویہ ٹھیک تھا نا تیرے ساتھ۔ “
“اماں بے فکر رہیں انہوں نے کچھ نہیں کہا مجھے اور اگر کچھ کہیں گے بھی تو آپ سے شکایت تو بلکل نہیں کرونگی میں۔۔” اسکے شرارتی انداز پر وہ ہنس دیں۔۔
“بس خوش وہ میرا بچہ اور ابھی شاہ آئے تو گھر پر بات کرلینا ابھی تو وہاں بھی سب ناشتہ وغیرہ کر رہے ہونگے۔۔”
“جی ٹھیک ہے۔۔” اس نے مسکرا سر ہلایا تو اپنی جگہ سے اٹھی تھیں۔
“اب آرام کر کوئی بھی کام ہو ربعیہ اور افسانہ کو بول دینا۔۔”
“جی۔۔۔” ان کے جاتے ہی اسنے پیر پسارے تھے۔۔
“واہ رے شہوار شادی کے فائدے بھی بہت ہیں سکون سے آرام کرو آرام کرو آرام کرو۔۔” خود سے کہتے وہ کھلکھلا کر ہنسی تھیں۔
کمرے میں آتے شاہنواز نے اسے پاگلوں کی طرح ہنستے دیکھا تھا جو پتا نہیں کیا کیا سوچتی منہ کے نہایت واہیات زاویے بنا کر کوئی جوکر ہی لگ رہی تھی۔۔
انہوں نے حیرت سے اسے دیکھا جو ہنستے ہنستے بیڈ پر گری تھی مگر ان پر نظر پڑتے ہی اسکی ہنسی کو بریک لگا تھا۔۔۔۔
