665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 13

“سنیں۔۔۔”وہ صوفے پر بیٹھے اپنا کام کرنے میں مصروف تھے جب اس نے بوریت سے تنگ آکر انہیں پکارا تھا۔

“شاہ۔۔” جواب نا پاکر اسنے ایک بار پھر سے انہیں پکارا تھا۔۔

“کیا ؟؟”لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاتے انہوں نے اسے دیکھا تھا ۔

“کیا آپ واقعی بھاگنے والے تھے ہماری شادی سے پہلے ؟؟” اسکے سوال پر انہوں نے اسکا چہرہ دیکھا تھا جہاں اس وقت سنجیدگی چھائی ہوئی تھی انہیں سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دیں ۔۔

“بتائیں نا کیا واقعی ایسا ہے یا مجھے پاگل بنایا گیا ہے ۔۔”

ان کو چپ دیکھ اسکے دل کو کچھ ہوا تھا جب سے وہ یہی ایک بات تو سوچے جارہی تھی۔

“فضول سوال مت کرو میرے سر میں درد ہورہا ہے۔۔” سر جھٹک کر وہ واپس سے لیپ ٹاپ میں گم ہوئے تھے ۔

“اگر اتنا ہی سر درد ہورہا ہے تو اسے کیوں بند نہیں کر رہے ہیں۔۔” تنک کر کہتے وہ ان کے سامنے آئی تھی اور ان کا لیپ ٹاپ بند کیا تھا ۔۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔”اس کی حرکت نے انہیں غصہ دلا دیا تھا۔

“کل ہماری شادی ہوئی ہے اور آپ کو لیپ ٹاپ پر اپنا کام کرنا لازمی ہے ؟؟”

“میں نے پہلے ہی کہا تھا مجھ سے کوئی امید نہیں رکھنا یہ شادی سراسر تمہاری مرضی سے ہوئی ہے تم شروع دن سے جانتی تھیں کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اور نا میری زندگی میں کسی بھی شخص کی گنجائش تھی جب سب کچھ جان کر یہاں آئی ہو تو اب شکوہ کیسا؟؟۔۔ بہت شوق چڑھا تھا مجھ پر ترس کھانے کا تو اب اپنی رحمدلی کو بھگتو۔۔” غصے سے کہتے وہ اس کی سائیڈ سے نکلے تھے مگر انہیں رکنا پڑا تھا کیونکہ انکا ہاتھ اسکی نازک گرفت میں آیا تھا۔

“آپ سے کس نے کہا کہ میں نے آپ سے ترس کھا کر شادی کی ہے؟؟؟” ماتھے پر بل ڈالے وہ ان کے سامنے آئی تھی۔

“معذور ہیں آپ بول نہیں سکتے ؟ گونگے ہیں آپ کے ہاتھ پیر سلامت نہیں ہیں؟؟ بتائیں ایسی کون سی چیز ہے جس پر میں ترس کھاؤ ؟؟ ” ان کے سامنے آتے اس نے ان سے سوال کیا تھا.

“آپ کو پتا ہے شاہنواز ہماری طرف ایک لڑکا تھا اس نے دو شادیاں کی دونوں ناکام وجہ قسمت نہیں تھی وجہ بنی تھی اسکی پہلی محبت۔۔ جس وجہ سے اس نے زبردستی شادی تو کی مگر دونوں لڑکیوں کی زندگی برباد ہوئی اور اسکی ماں اسی غم میں گھل گھل کر ختم ہوگئی کہ اسکے بیٹے پر لوگ انگلیاں اٹھاتے تھے باتیں بناتے تھے۔ مجھے آپ کا ماضی نا جاننا ہے نا خواہش ہے جب تک آپ خود نا بتائیں مگر جب میرے سامنے میری دادی اور آپ کی ماں نے اپنی بات رکھی تو میں نے انکار نہیں کیا کیونکہ میں ان سے خوشی نہیں چھین سکتی تھی۔۔ میں آپ سے چھوٹی ہوکر آپ سے زیادہ سمجھدار ہوں اور آپ ۔۔۔” وہ لمحے کو رکی تھی۔

“آپ ایک نمبر کے بیوقوف اور خود سر انسان ہیں جو اپنی خوشیاں تو خود سے دور کر کے بیٹھا ہی ہے مگر اپنے سے جڑے رشتوں کو بھی اذیت میں رکھا ہوا ہے کیا آپکا ماضی اتنا اہم ہے آپ کے لئے کہ آپ اس کی وجہ سے اپنا حال اور مستقبل خراب کر رہے ہیں۔۔۔؟”

اسکے سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ بس خاموشی سے کھڑے اسکا چہرہ تک رہے تھے جو غصے کی زیادتی سے سرخ ہوگیا تھا۔

“شہوار ۔۔”انہوں نے کچھ کہنا چاہا تھا مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے انہیں ٹوک گئی۔

“میں نہیں جانتی کہ ماضی میں آپ کے ساتھ کیا ہوا اور کیا نہیں مگر خدارا شاہ اس کی سزا سب کو مت دیں۔۔”

“یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے جو بھی تھا میں سکون سے زندگی گزار رہا تھا اور تمہارے آنے کی وجہ سے اب میرا وہ سکون بھی چھین گیا ہے۔۔ مجھے نہیں سننی کوئی نصیحت اور بھی بات جاؤ یہاں سے۔۔” ان کے پاس جواب نہیں دیا تھا جبھی انہوں نے اسکا ہاتھ تھام اسے کمرے سے نکالا تھا۔۔

اس نے حیرت سے اس بند دروازے کو دیکھا تھا اور پھر سامنے کھڑی افسانہ کو۔۔

احساس توہین سے اسکا سر جھکا تھا۔

افسانہ نے ایک نظر اسکے جھکے سر کر ڈالی تھی اور پھر نیچے کی طرف بڑھی تھی جبکہ وہ خود اوپر چھت پر آگئی تھی ۔

دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو چاہ رہا تھا اور پھر وہ روئی تھی اور پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی ۔۔

“وہ کب سے آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹے ہوئے تھے شہوار کی باتیں دماغ میں گردش کر رہی تھیں ۔

“ہونہہ مجھے سیکھا رہی تھی پتا کیا ہے اسے میرے بارے میں۔۔”خود سے بولتے انہوں نے تکیے میں منہ دیا تھا مگر نیند تھی کہ روٹھ سی گئی تھی ۔

بے چین ہو کر وہ اپنی جگہ سے اٹھے تھے اور آکر کھڑکی کھولی تھی ۔۔

ٹھنڈی ہوا کا جھونکا جونہی چہرے سے ٹکرایا انکا گرم دماغ تھوڑا پرسکون ہوا تھا.

انہوں نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تھا مگر سامنے نظر پڑتے ہی وہ ایک دم سے چونکے تھے۔

غصہ ٹھنڈا ہوا تو اپنی کی گئی زیادتی کا احساس ہوا تھا۔

“افففففف۔۔۔” ہاتھ کی دو انگلیوں سے ماتھا مسلتے وہ جلدی سے باہر آئے تھے اور چھت کا رخ کیا تھا۔

چھت پر وہ منڈیر سے ٹیک لگائے خاموشی سے چاند کو تکنے میں مصروف تھی ۔

کسی کی آہٹ پر اس نے چونک کر انہیں دیکھا تھا ۔

انہیں سامنے پاتے اس نے جلدی سے رخ موڑ کر اپنے آنسو صاف کرے تھے ۔

وہ کبھی اپنی کمزوری کسی پر ظاہر نہیں کرتی تھی نا اسے پسند تھا اپنا تماشہ بنوانا۔

“یہاں کیوں کھڑی ہو ؟” اسکی پشت پر آکر انہوں نے سوال کیا تھا مگر وہ ان سنا کرتی سامنے دیکھتی رہی۔

“کچھ پوچھ رہا ہوں یہاں کیا کر رہی ہو ؟”

اب کی بار اسکا بازو تھامے انہوں نے اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا ۔

جس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔

ان کے اچانک رخ موڑنے کر اس نے ہاتھ کی پشت سے اپنا چہرہ صاف کیا تھا اور اپنا بازو چھڑاتی ان کی پہنچ سے دور ہوئی تھی .

“آپ کو جواب دینے کی پابند نہیں ہوں میں اگر میاں چار دیواری کے اندر اپنی بیوی کو جگہ نہیں دے سکتا تو بہتر ہے یوں کھلے عام جھوٹی ہمدردی کا ڈھونگ بھی نا کرے ۔۔”

انہیں آئینہ دیکھاتے نے اس نے رخ موڑا تھا۔

“میں غصے میں تھا۔۔” اپنا رویہ یاد کر وہ خود پر لعنت بھیجتے انہوں نے بے بسی سے اسے دیکھا تھا۔

پاکیزہ بیگم کو پتا چلتا تو وہ الگ ناراض ہوتیں۔۔

“اچھا جو ہوا اس کے لئے سوری اب نیچے روم میں چلو ۔”

ان کے سوری بولنے پر اس نے گردن ترچھی کرکے انہیں دیکھا تھا ۔

“جب سوری بولنا نہیں آتا نا تو بولیں بھی نہیں عجیب ہی لگ رہے ہیں اور دوسرا آپ کی وجہ سے یہاں نہیں کھڑی وہ کمرہ میرا بھی ہے اور کوئی مجھے اندر جانے سے نہیں روک سکتا تھا وہ تو بات نا بڑھے اس لئے میں چپ رہی ہونہہ آئے بڑے خود کو کچھ سمجھنے والے ۔۔” نخوت سے کہتے وہ تن فن کرتی نیچے کی طرف بڑھی تھی ۔

اور اسکی بات ہے انہوں نے گہرا سانس لیا تھا ۔

کیونکہ اسکے آگے جیتنا کم از کم ان کے لئے مشکل تھا۔

نفی میں سر ہلاتے وہ روم میں آئے تو وہ روم میں اندھیرا کئے بیڈ پر قبضہ کئے ہوئے تھی۔

نیند تو اب انہیں کیا آنی تھی دل و دماغ بے چین تھے جبھی خاموشی سے اپنی جگہ پر لیٹتے وہ آنکھیں موند گئے تھے ۔۔

“اماں شہوار سے بات ہوئی آپ کی .”وہ لوگ اس وقت صحن میں بیٹھے تھے شیزا پاس ہی بیٹھی پالک کاٹ رہی تھی شہوار کے نام پر اسنے کان کھڑے ہوئے تھے۔

“نہیں فوزیہ کل رات کی بات ہوئی تو پھر میں نے بھی تنگ نہیں کیا۔”

“دادی اسے لے کر آتے نا میرا تو دل ہی نہیں لگ رہا اس کے بغیر اور اس نجم کو بھی ابھی کورس کرنا تھا۔” منہ بسور کر کہتے وہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی تھی ۔

“نجم کو عقل آگئی ہے یہی بہت ہے بچے اور شہوار آئے گی نا اچھا ہے ابھی شوہر اور سسرال کو وقت دے میں تو چاہتی ہوں میری بچی بیت خوش رہے کہ اسے ہماری یاد بھی نا آئے ۔۔ “

“انشاء اللہ اماں آپ دیکھئے گا سب ٹھیک ہوگا بس اسکے بغیر گھر واقعہ خالی خالی سا ہوگیا ہے ۔۔”فوزیہ بیگم کے کہنے پر اداس تو وہ بھی ہوگئی تھیں مگر ایک نا ایک دن تو یہ ہونا تھا نا بیٹیوں کو جتنا جلدی ہوسکے اپنے گھر کا کرنا چاہئے اور وہ تو پھر پوتی تھی دوھری زمہ داری تھی ان کے سر۔۔

“ہاں بس تھوڑا موسم اچھا ہوجائے پھر ہم ملنے چلیں گے۔۔” ان کے اداس چہرے پر ان کی بات سن کر مسکراہٹ آئی تھی ۔

“دادی اب کے شہوار آئی نا تو ہم باغ جائیں گے۔۔” شیزا کی فرمائش پر انہوں نے سر ہلایا تھا۔

“جہاں جانا ہو جانا فلحال تو کچن میں جاؤ شاباش۔۔” فوزیہ بیگم کی بات پر اس نے منہ بسورا تھا ۔

“اسلام وعلیکم ۔۔۔”سب کو سلام کرتی وہ دسترخوان پر آکر بیٹھی تھی ۔۔

“وعلیکم السلام جیتی رہو۔۔”پاکیزہ بیگم نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا.

“بلکل بھی تکلف نہیں کرنا شہوار۔۔”اسے یونہی بیٹھے دیکھ عدینہ بھابھی نے اس کی طرف پلیٹ بڑھائی تو وہ مسکرائی تھی ۔

” تکلف نہیں کر رہی بھابھی ان کا انتظار کر رہی ہوں ۔۔” اس کے یوں کہنے پر وہاں سب کے چہروں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔

“ہائے افسانہ کل سے ہم یہ چچی کا فرمانبردار روپ نہیں دیکھ سکیں گے۔۔” ربعیہ کی بات کر اس نے منہ بنا کر اسے گھورا تھا ۔

باقی سب کی تو جاب اسٹارٹ ہوگئی تھی البتہ وہ دونوں کل سے کالج جانے والی تھیں ۔۔

“شاہنواز کہا ہے بیٹا ابھی تک نہیں آیا۔۔” دروازے کی طرف دیکھتے انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے بھی دروازے کی سمت دیکھا تھا۔

“امی وہ شاور لے رہے تھے آتے ہیں ہوں گے میں ..”ابھی وہ کچھ مزید بولتی تبھی شاہ نیچے آتے دیکھائی دیے تھے۔

وہ سلام کرتے آکر بیٹھے تو انہوں نے پاکیزہ بیگم کو دیکھا جو چہرے پر سنجیدگی لائے انہیں دیکھ رہی تھیں ۔

“بھئی شاہنواز ناشتہ اسٹارٹ کرو تمہاری بیوی تمہارے انتظار میں بیٹھی ۔”حنا بھابھی کے چھیڑنے پر انہوں نے چونک کر اسے دیکھا تھا کو سر جھکائے اپنی پلیٹ کو دیکھ رہی تھی ۔

“جی بھابی۔۔”زبردستی سا مسکراتے انہوں نے اپنی پلیٹ میں پراٹھا رکھا تھا ۔

“شاہنواز ناشتہ ہوجائے تو بچے کمرے میں آجانا ۔۔” انہیں حکم سناتی پاکیزہ بیگم اٹھ کر اندر چلے گئی تو انہوں نے پریشانی سے اسے دیکھا کہ ضرور اس نے شکایت لگائی ہوگی مگر وہ مگن سی اپنی پلیٹ میں جھکی ہوئی تھی ۔

اپنا ناشتہ مکمل کر وہ تو افسانہ اور ربعیہ کے ساتھ چلتی بنی جبکہ وہ بچارے چند زہر مار نوالے کھا کر پاکیزہ بیگم کے پاس آئے تھے جو بیڈ پر بیٹھی گہری سوچ میں گم تھیں ۔

“امی۔۔”

ان کی پکار پر انہوں نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا تھا ۔

“آجاؤ شاہنواز۔۔” اسکی سنجیدگی دیکھ انہوں نے خود کو حوصلہ دیا تھا ۔

“بیٹھو ۔۔” انہیں بیٹھنے کا بول کر وہ ایک بار پھر سوچ میں پڑ گئی تھیں جیسے لفظوں کا چناؤ کر رہی ہوں۔

” امی۔۔” ان کی پکار کر انہوں نے ایک نظر انہیں دیکھا تھا۔

” زندگی میں پہلی بار اپنی اولاد سے کچھ بولتے ہوئے سوچنا پڑ رہا کہ میری اولاد میری بات کو اصہمیت جو نہیں دیتی ہے “

“ایسا کیوں بول رہی ہیں امی۔۔” انہوں نے تڑپ کر انکا ہاتھ تھاما تھا ۔

“شاہنواز تم میرے بچے ہو تمہاری ہر غلطی معاف ہے مگر اپنی اور اس بچی کی ذات کا تماشہ گھر والوں کے سامنے مت بناؤ کل اسے کمرے سے کیوں نکالا تھا تم نے۔” اپنی بات کہتے وہ ایک دم سے مدعے کی بات پر آئی تھیں ۔

“اس نے آپ سے شکایت لگائی؟ بس اسی لئے میں شادی نہیں کرنا چاہتا تھا وہ چھوٹی ہے اسے اتنا نہیں پتا کہ کیا بات کرنی چاہے کیا بتانی چاہیے کیا نہیں ۔۔” اپنی رو میں بولتے وہ اپنے ہی پیروں کر کلہاڑی مار گئے تھے۔

“پہلی بات تو یہ کہ اس نے مجھے کچھ نہیں بولا افسانہ نے دیکھا تھا تمہیں اسے کمرے سے باہر نکالتے ہوئے وہ اسی وقت میرے پاس آئی تھی مگر میں ایسے دخل اندازی نہیں کرنا چاہتی میں ان ماؤں میں سے نہیں ہوں جو ان حرکتوں کر فخر کریں۔ بیوی بہن ماں سب کا ایک الگ مقام ہے تو میری تربیت کا ہی تھوڑا خیال کرلو۔ باقی آگے تمہاری مرضی۔۔”

سب کچھ بول کر وہ جو بولتی تھیں نا کہ آگے تمہاری مرضی تو مرضی بچتی کہاں تھی پھر ۔۔

کھڑکی میں بیزار سی شکل بنائے وہ سامنے دیکھ رہے تھے ۔

آفس کی چھٹیاں بھاری پڑ رہی تھیں ۔

سیگریٹ کی طلب بڑھی تو انہوں نے ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں کوئی دیکھ نا لے۔

اچھے سے تسلی کرتے انہوں نے دراز سے سیگریٹ نکال کر سلگائی تھی۔

“شاہ۔۔”وہ کو مگن سی کمرے میں آئی تھی انہیں دیکھ کر اسے شاکڈ لگا تھا اور اسکے تاثرات نے مزہ دیا تھا۔

وہ کبھی انہیں دیکھتی تو کبھی سیگریٹ کو۔۔

اسکے تاثرات دیکھتے شاہنواز کے دماغ میں الارم بجا تھا۔

“آپ سیگریٹ پیتے ہیں؟؟”اس کے لہجے میں چھپی حیرانگی سمجھ وہ آہستہ سے مسکرائے تھے۔

“تمہیں نہیں پتا میں سیگریٹ پیتا ہوں؟؟”انہوں نے حیرت سے اس چھوٹی سے لڑکی کو دیکھا تھا۔

“غلط جگہ پھنس گئی ہو میں نے کہا بھی تھا نہیں کرو نکاح مگر تم نے سنی نہیں میں سیگریٹ بھی پیتا ہوں نشہ بھی کرتا ہوں میں سارے غلط کام کرتا ہوں۔۔”اسکی طرف جھکتے وہ قدرے پراسرار انداز میں بولے تھے۔

اس نے کچھ سوچ کر ان کی طرف دیکھا تھا.

“آپ گانجا پیتے ہیں؟چرس؟؟؟”

“کیا؟؟”گنجا؟؟؟؟”

“اونہوں گنجا مطلب ٹکلا میں بول رہی گانجا چرس وہ جو ہتھیلی پر ڈال کر سونگھنے سے نشہ ہوتا ہے۔۔”اپنی ہتھیلی کو انگلی کی مدد سے مسلتے اسنے انہیں ڈیمو کر کے دیکھا تھا۔

“آپ کو نہیں پتا؟؟”ان کے تاثرات دیکھ اس نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی تھی۔

“پرو لیول کے نشئی نہیں ہیں آپ خیر کوئی بات نہیں میرے نکاح میں آگئے ہیں نا اب میں آپ ایک دم پرفیکٹ نشئی بنا دونگی کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں۔۔”ان کا کندھا تھپکتے وہ ان کے برابر سے نکلی تھی۔

اور وہ بیچارے منہ کھولے اپنی نئی نویلی دلہن کے منہ سے چرس کا سن کر وہ بیچارے شاکڈ تھے