665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 4

“کیا ضرورت تھی سب کی ٹکٹ کروانے کی وسیم۔۔”سب کی ٹکٹ دیکھ کلثوم بی نے کہا تھا۔

“ضروری تھا اماں شمع باجی آنے کا کہہ رہی تھیں۔۔”ان کی بات کر وہ بری طرح چونکی تھیں۔

“کیا مطلب؟؟”وہ پہلے بھی آتی تھی تو اب یہ بات انہیں سمجھ نہیں آئی تھی۔۔

“شہوار کو لینے آنا چاہ رہی ہیں وہ چاہتی ہیں کہ اس کی شادی جلد از جلد کی جائے اس لئے وہ اسے ہمیشہ کے لئے لینے آرہی ہیں مگر میں نے انہیں بول دیا کہ ہم کراچی میں ہیں اور کوئی راستہ نہیں تھا میرے پاس انہیں روکنے کا۔۔”

“آپ کیوں انہیں روک رہے ہیں وہ ماں ہیں وسیم۔۔”فوزیہ کے کہنے پر انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

“بات یہ نہیں ہے فوزیہ میں بھی جانتا ہوں وہ ماں ہیں مگر وہ اپنے فائدے کے لئے اسے جہنم میں بھیجنا چاہ رہی ہیں جس بچی جو ان لوگوں نے پہلے قبول نہیں کیا اب یوں اچانک کیسے اسے اپنے گھر کی بہو بنانے پر راضی ہوگئے؟ وہ لالچی لوگ ہیں شفیع بھائی آخر کب تک ان لوگوں کو سنبھالیں گے اماں ہمیں ہی کوئی فیصلہ لینا ہوگا ورنہ اگر وہ شہوار کو لے گئیں تو ہمیں بھی کوئی حق نہیں رہے گا اس پر ۔”وہ سہی معنوں میں پریشان تھے کیسے اسے جہنم میں بھیج دیتے۔۔

“آپ پریشان نا ہو سب انشاء اللہ اچھا ہی ہوگا۔”فوزیہ نے انہیں تسلی دیتے اپنی ساس کو دیکھا تھا جو کسی گہری سوچ میں چلے گئی تھیں۔۔

“آپ لوگ تیاری کریں کل آٹھ بجے نکلنا ہے ہمیں۔۔”ان کو بولتے وہ اپنی جگہ سے اٹھے تھے اور فوزیہ کو اشارہ کیا تھا..

“اماں پریشان نا ہوں سب ٹھیک ہوگا۔۔”ان کا ہاتھ تھامے وہ انہیں تسلی دے رہی تھیں ۔

“وہ بہت ضدی ہے فوزیہ۔۔۔ مجھے اب ڈر لگتا ہے سلیم کی موت کے بعد ہم نے اسے جانے دیا کیونکہ یہ اس کا حق تھا ہم ساری زندگی اسے اپنے بیٹے کی بیوہ بنا کر نہیں رکھ سکتے تھے وہ کم عمر تھی مگر اس نے ہمیشہ اپنا سوچا اس نے اپنی معصوم بیٹی تک کا نہیں سوچا مگر ہم چپ رہے کیونکہ ہمیں کوئی حق نہیں تھا کسی کو بھی کچھ بولنے کا مگر اب میری شہوار پر کسی نے بری نظر ڈالی تو میں چھوڑوں گی نہیں۔۔”انکے لہجے میں اچانک ہی غصہ عود آیا تھا۔۔

“اماں اس مسئلے کا بس ایک ہی حل ہے۔۔”فوزیہ کی بات پر انہوں نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا۔۔

“شہوار کی شادی۔۔”

“شہوار کی شادی؟؟”وہ چونکی تھیں.

“ہاں اماں میں جانتی ہوں یہ بہت جلدی ہے مگر یہ شہوار کی پوری زندگی کا معاملہ ہے ہم یونہی اسے برباد ہونے نہیں دے سکتے۔۔”

“بات تو ٹھیک ہے مگر اتنی جلدی اچھا رشتہ کہاں سے ملے گا؟.”

“اماں آپ پاکیزہ خالہ سے بات کریں نا اس معاملے میں ان کا بیٹا بھی تو ابھی غیر شادی شدہ ہے۔۔”

“پاگل ہوگئی ہے فوزیہ اپنا شاہنواز کم و بیش بھی دس سال بڑا ہوگا اپنی شہوار سے۔۔”ان کے اعتراض پر فوزیہ نے ایک نظر انہیں دیکھا تھا۔

“اماں میں نے آپ کو بس مشورہ دیا ہے باقی آپ بڑی ہیں آپ زیادہ بہتر سب سمجھتی ہیں مگر میری نظر میں عمروں کا فرق تو معنی نہیں رکھتا۔۔”

انہیں سوچ میں چھوڑ وہ اپنے کام میں مگن ہوئی تھیں۔

“یار کل کا دن کب آئے گا میں بہت زیادہ پاگل ہورہی ہوں کراچی جانے کے لئے۔۔”جھولے کی اسپیڈ تیز کرتے اسنے شیزا کو کہا جو سامنے بیٹھی کیری میں مصالحہ لگا کر کھانے میں مصروف تھی۔۔۔

“قسم سے میں خود کو اتنی پرجوش ہوں۔۔اور کتنا مزہ آئے نا شہوار ہے تو وہاں جائے اور کوئی ہینڈسم سا لڑکا تجھ سے ٹکرا کر تجھ پر فدا ہو جائے جیسے کہانیوں اور ڈراموں میں ہوتا ہے۔۔”اسکے جھولے کو روکتے اس نے کیری کی پلیٹ اسکی گود میں رکھی تھی۔۔

“ہاہاہاہا پاگل میں تھوڑی ایسے ہی کسی کو فدا ہونے دونگی۔۔ میری سوچ تو الگ ہے۔۔”اسکی بات پر شیزا نے آئی برو آچکا کر اسے دیکھا تھا۔۔

“بھئی جب میں سب سے الگ ہوں تو میرا ہیرو بھی سب سے الگ ہونا چاہیے نا جو کسی کو منہ نا لگاتا ہوں اپنے آپ میں رہتا ہو سب لڑکیاں اس کے آگے پیچھے گھومیں مگر وہ کسی کو گھانس تک نا ڈالے۔۔اسکے چہرے پر ہمیشہ نو لفٹ کا بورڈ لگا رہے جب وہ دیکھے تو لوگوں کی دھڑکنیں تھم سی جائیں وہ جہاں موجود ہو وہاں سب اس سے کے آگے پھیکے لگیں۔۔” کیری کا چٹخارہ لیتے اسنے اپنی پسند کا نقشہ کھینچا تھا۔

“اور تمہیں لگتا ہے وہ تمہیں منہ لگائے گا؟”شیزا نے اسکا مذاق اڑایا تو اسنے کھینچ کر اسکے ہاتھ پر مکا مارا تھا۔

“دنیا میں حسن کی دیوانی ہے۔۔ ہلکے میں نا لو مجھے۔۔”اپنے بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتے وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔

“اووو ہیلو تھم جاؤ بیٹا اور ویسے بھی ایسے ہیرو صرف کہانیوں میں ہوتے ہیں اصل میں ملنا ہمیں وہی جو جو ناجانے کتنی لڑکیوں کو ابھی یہ چونا لگا رہا ہوگا کہ میں صرف تم بات کرتا ہوں۔۔”

“میری بے بی نے تھانا تھایا۔۔۔ آلے آلے بے بی تے سر میں درد ہے میں دبا دوں۔۔”شرارتی انداز میں کہتے دونوں تالی مار کر ہنسی تھیں۔۔

“تم دونوں کا ہنسی کا دورانیہ ختم ہوگیا ہو تو جاکر اپنی پیکنگ دیکھو کل نکلنا ہے ہمیں صبح۔۔”ان کو یوں فرصت سے بیٹھے دیکھ فوزیہ نے آکر ٹوکا تھا۔۔

“آہو چچی پیکنگ تو کب کی ہوگئی ہماری۔۔”انہیں بولتے وہ اندر کی طرف بھاگی تھی کیونکہ سامنے ہی نجم اسکا سامان لئے کھڑا تھا..

“آرام سے لڑکی گر نا جانا۔ “

“نہیں گرتی آپ فکر نا کریں بلکہ کوئی کام ہو میرے لائق تو بتائیں۔۔”اپنی ماں کو کندھوں سے تھام کر اندر لاتے اس نے صوفے پر بیٹھایا تھا۔

“نہیں کام تو سارے ہوگئے بس ہماری عزت رکھ لینا وہاں پاگلوں کی طرح حرکتیں مت کرنا۔۔”

“امی۔۔۔” ان کے یوں کہنے پر وہ خفا ہوئی تھی۔

“مانا کہ ہم مستی خور ہیں مگر ہمیں اندازہ ہے کہ کسی کے گھر جاکر کیسے رہنا ہے۔۔”

اسکے یوں خفا خفا انداز پر وہ مسکرائی تھیں۔

“یوں کاکی جیسا منہ نا بناؤ تم لوگوں نے بھلے کے لئے سمجھاتی ہوں میں۔۔

“اچھا بھئی سمجھ گئی اور ان دونوں کو بھی سمجھ جا دونگی۔۔”

“سر یہ فائل آپ نے منگوائی تھی۔۔”پاس کھڑے سہیل نے ایک نظر اپنے باس کو دیکھا تھا جو لیپ ٹاپ پر مصروف دنیا بھلائے بیٹھے تھے۔۔

“سر۔۔۔۔؟”

“ہاں۔۔۔”اسکی تیز پکار کر شاہنواز نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا تو اپنی بے دھیانی ہر غصہ آیا۔

“سوری سہیل میں نے دیکھا نہیں تمہیں۔۔”

“اٹس اوکے سر یہ فائل دینی تھی بس باس نے کہا ہے کہ اس پراجیکٹ کی میٹنگ آپ اٹینڈ کرینگے۔۔۔”سہیل کے بتانے پر گائک تھامتے وہ سر ہلاتے اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر آئے تھے سہیل نے ان کی تقلید میں قدم بڑھائے تو سامنے سے آتی ماریہ کے قدم رکے تھے۔

“شاہنواز کیسے ہو؟؟”ماریہ کے یوں اچانک سامنے آنے پر ان کے قدم رکے تھے۔

“میں ٹھیک ہوں۔”سپاٹ لہجے میں جواب دیتے انہوں نے سائیڈ سے نکلنا چاہا تھا مگر ماریہ ایک بار پھر ان کے سامنے آئی تھیں۔

“کتنے دنوں سے نظر ہی نہیں آرہے تھے خیریت ؟ بابا بتا رہے تھے تمہیں کوئی نیو پراجکٹ دینے والے ہیں؟”

“ہمم میں انہیں کے پاس جارہا ہوں۔”جلدی سے جواب دیتے وہ فوراً سے وہاں سے نکلے تھے ان کی پھرتی پر ماریہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی یوں ہی تو نہیں دل ہاری تھیں وہ شاہنواز پر مگر وہ تھا کہ لفٹ ہی نہیں دیتا تھا۔

وہ امیر تھی خوبصورت تھی اسے کسی چیز کی کمی نہیں تھی مگر دل کا کیا کرتی جو اس بے مہر انسان میں اٹک سے گیا تھا جو بات کرنا تو دور نظر بھر کر دیکھتا بھی نہیں تھا۔۔

وہ آفس میں داخل ہوئے تو سامنے ہی شیخ زبیر کو اپنا منتظر پایا تھا۔

“ارے آجاؤ شاہنواز۔۔ بیٹھو۔۔”ان کے لہجے میں ہمیشہ سے ان کے لئے محبت ہی ہوتی تھی۔

“تھینک یو سر۔۔”سیٹ پر بیٹھتے انہوں نے فائل ان کے سامنے رکھی تھی۔

“ارے بھئی کبھی اس کام کی جان چھوڑ بھی دیا کرو ہر وقت کام کام۔۔”ان کے ہنس کر کہنے پر وہ ہولے سے مسکرائے بھی صرف آدھے سیکنڈ کی مسکراہٹ۔۔

“اور بتاؤ کیا چل رہا ہے اور آگے کا کیا پلان ہے؟”چائے آرڈر کرتے وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔

“کچھ خاص نہیں چل رہا سر بس آفس اور گھر۔۔”

“تو بھئی شادی کرو گھر بساؤ آخر کب تک یونہی رہنا ہے کہو تو میں دیکھو لڑکیاں ہمارے سرکل میں کتنی اچھی ابھی لڑکیاں ہیں..”ان کی بات پر شاہ کے چہرے کی رنگت بدلی تھی۔۔

“سر مجھے کچھ کام ہے کیا میں وہ پہلے ختم کر لوں؟”ان کے اپنی سے سیٹ سے اٹھنے پر وہ سر ہلا گئے تو شاہ نے بھی دیر نہیں کی تھی وہاں سے نکلنے میں۔

اور وہ جانتے تھے ہر بار شادی کے نام پر ان کا یہی ری ایکشن ہوتا تھا۔۔

مگر وہ بھی کیا کرتے تھے بیٹی کے باپ تھے اپنی بیٹی کی آنکھوں یں شاہنواز کی محبت انہیں نظر آتی تھی اور شاہنواز انہیں خود بھی بے حد پسند تھا۔

سلجھا ہوا بردبار۔۔مگر شاید ابھی وہ شادی کے لئے راضی نہیں تھا اور نا اس حوالے سے بات کرنا پسند کرتا تھا۔

گہرا سانس بھر انہوں نے سیٹ کی پشت سے سر ٹکایا تھا۔۔

،❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

گاڑی کراچی کی حدود میں داخل ہوئی تو وہ تینوں کی پرجوش سے کھڑکی پر لٹکے تھے بالآخر ساڑھے چار گھنٹے کے سفر کے بعد وہ اپنی منزل پر پہنچے تھے۔

پورے راستے ان تینوں نے فوزیہ اور کلثوم بی کو بہت تنگ کیا تھا کبھی ایک کھڑکی تو کبھی دوسری تو کبھی برتھ پر چڑھ کر بیٹھ جاتے ان تینوں کے لئے ہی یہ پہلا تجربہ تھا اپنے شہر سے باہر جانے کا۔۔

گاڑی اسٹیشن پر رکی تو وہ سب سارا سامان سمیٹ کر جلدی سے وسیم صاحب کے ہمراہ نیچے اترے تھے جہاں سجاد صاحب پہلے سے ہی ان کے استقبال کے لئے موجود تھے۔۔

“وسیم میرے یار۔۔۔”انہوں نے بانہیں پھیلائے ان کا استقبال کیا تو وسیم صاحب اپنے بچپن کے دوست کو سامنے دیکھ ان کے گلے لگے تھے۔۔

“بڑا ترسا دیا یار کبھی تو آجاتا ملنے۔۔”شکوہ کرتے وہ انہیں خود میں سختی سے بھینچ کر بولے تھے..

“یہ بندھن تو پیار کا بندھن ہے جنموں کا سنگم ہے۔۔”نجم کے گنگنانے پر سجاد صاحب قہقہ لگا کر وسیم صاحب سے الگ ہوئے تھے۔۔

“کیسی ہیں خالہ۔۔”کلثوم بی سے ملتے انہوں نے ان کے آگے سر جھکایا تو انہوں نے شفقت سے ان کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

“یہ میرا بیٹا نجم یہ شیزا اور یہ سلیم بھائی بیٹی ہے در شہوار۔۔”وسیم صاحب کے بتانے پر انہوں نے حیرت سے شہوار کو دیکھا تھا۔

“ارے یہ چھوٹی سے گڑیا اتنی بڑی ہوگئی۔۔”ان کے ہوں کہنے پر وہ ہولے سے مسکرائی تھی انہوں نے محبت سے ان تینوں کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

“چلو آجاؤ گاڑی وہاں کھڑی ہے۔”زبردستی وسیم صاحب کے ہاتھ سے سامان لیتے وہ گاڑی کی طرف بڑھے تھے۔

وہ تینوں تو اتنا پروٹوکول ملنے پر ہی پرجوش تھے مگر بڑے ہونے کے ناطے شہوار نے ان دونوں کو بھی کنٹرول کیا ہوا تھا کیونکہ اب معاملہ ان کی عزت کا جو تھا۔۔

وہ لوگ گھر پہنچے تو گھر میں پہلے سے ہی مہمان موجود تھے۔

کلثوم بی کو دیکھ کر سب ہی خوش ہوئے تھے ایک عرصے تک ان لوگوں کا ساتھ رہا تھا۔۔

حنا بیگم جلدی سے جا کر سب کے لئے شربت بنا کر لائی تھیں۔۔

اوپر سے عدینہ اور فرحان بھی نیچے آگئے تھے کلثوم بی سے انکا تعلق ہی الگ طرح تھا بیچ میں فاصلے ضرور آگئے تھے مگر اب رابطے ایک بار پھر سے بحال ہوئے تو سب ہی بے حد خوش تھے۔

“مجھے بہت خوشی ہورہی ہے خالہ اب آئیں قسم سے میں اپنی خوشی بیان نہیں کر سکتی۔۔”ان کے پاس بیٹھتے حنا بیگم نے محبت سے انکا ہاتھ تھاما تھا۔

“میں بھی تم لوگوں کو بہت یاد کرتی تھی دل کرتا تھا ملنے آؤ مگر زمہ داریاں آزاد ہی نہیں کرتی تھیں۔۔”

“کوئی ہمیں تو لفٹ ہی نہیں کروا رہا شہوار۔۔”شیزا نے اسکے کان میں سرگوشی کی تو اس نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔

“اچھا نا نہیں بولتی کچھ فضول۔۔”اسکی گھوری پر منہ بناتے اس نے اپنا دھیان سامنے کیا تھا۔

“بھئی ہمیں ان پیاری پیاری بچیوں سے تو ملوائیں۔۔”حنا کے بولنے پر شیزا کی آنکھیں چمکی تھیں۔

” یہ در شہوار ہے میری بڑی پوری میرے سلیم کی بٹیا اور یہ شیزا اور نجم میرے وسیم کے۔۔

“ماشاءاللہ ماشاءاللہ ان دونوں کو پیار کرتے انہوں نے ان دونوں کو ساتھ لگایا پھر عدینہ بیگم ان سے ملی تھیں۔

“افسانہ ربعیہ بہنوں سے ملو بھئی۔۔”حنا بیگم کی آواز پر دروازے کے پاس کھڑی سب دیکھتیں وہ دونوں اندر آئی تھیں۔

ان دونوں نے نظر اٹھا کر ان دونوں کو دیکھا تھا وہ دونوں ہی پیاری پیاری سی انہیں بہت اچھی لگی تھیں۔

“جاؤ بچیوں اندر جاؤ فریش ہوجاؤ۔۔”حنا کے بولنے پر وہ دونوں ربعیہ اور افسانہ کے ہمراہ اندر بڑھی تھیں۔۔

“یار قسم سے اتنا سنا تھا آپ سب کے بارے میں آج فائنلی دیکھ بھی لیا۔۔”شیزا نے بات کا آغاز کیا تو وہ دونوں مسکرائی تھیں

“آپ واپ کا تکف نا کرو یار ہم لوگ سیم ایج کے ہیں تو اتنی عزت نا دو۔۔”

“ہاں کیونکہ ہم عزت کے لائق نہیں ہیں۔۔”افسانہ کی بات پر ربعیہ جے جواب نے ان دونوں کو ہنسنے پر مجبور کردیا تھا۔

“ویسے بات تو سہی ہے عزت رو ویسے بھی آنے جانے والی چیز ہے “کمرے میں داخل ہوتے شہوار بھی ہنس کر بولی تھی۔

اور پھر انہیں چند منٹ لگے تھے دوست بننے میں۔۔

شہوار ہو اور کوئی اسکا گرویدہ نا ہو ایسا ممکن کب تھا بھلا۔۔

“یار شہوار قسم سے تم سے مل کر مجھے تو بہت خوشی ہورہی ہے۔۔”افسانہ کی بات پر شیزا کا قہقہ گونجا تھا۔

“صبر کرو بہن تھوڑی دیر بعد افسوس بھی ہوگا۔۔”شیزا کی بات پر اسنے سائیڈ میں رکھی کشن اسے ماری تھی۔

“چلو تم لوگ آرام کرو کپڑے وغیرہ پریس کرنے ہوں تو مجھے بتا دینا اور فریش ہوکر کھانا کھانے باہر آجانا۔۔اپنا ہی گھر سمجھنا کوئی تکلف کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔”ان دونوں کی طرف ٹافی پھینکتے ربعیہ نے کہا تو ان نے دونوں نے مسکرا کر سر ہلایا تھا۔۔

شام ہوتے ہی گھر میں شادی کے گانے بجانے لگے تھے مہمانوں کی آمد شروع ہوگئی تھی۔۔

سارا ارینجمنٹ باہر کیا گیا تھا۔۔

وہ اپنی تیاری کر رہی تھی شیزا تو کب کی افسانہ کے ساتھ باہر چلی گئی تھی جبکہ سب کو تیار کرتے اسکی باری اب آئی تھی۔

میک اپ آنے کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ سب سے لاسٹ میں رہ جاتے ہیں۔۔

شیزا کے علاؤہ حنا عدینہ فوزیہ افسانہ سب کا میک اپ اس نے اور ربعیہ نے مل کر کیا تھا۔۔

اسے جتنا پروٹوکول مل رہا تھا اسکا دل کر رہا تھا یہی رہ جائے۔۔

“در۔۔۔در۔۔۔۔”شیزا کی پکار پر اسنے سامان رکھ دروازے کی طرف دیکھا تھا جہاں وہ ہانپتی کانپتی اندر آئی تھی۔

“در۔۔در۔۔”بھولی سانسوں کے ساتھ اس نے دوبارہ اسکا نام پکارا تھا۔

“کیا ہوگیا ہے کون پیچھے لگ گیا ہے جو یوں کھلے سانڈ کی طرح بھاگ کر آرہی ہو۔۔”

“سانڈ ہوگی تو ابھی جو میں خبر لائی ہوں وہ سن کر تو بھی یونہی بھاگے گی۔۔

“خیریت ہے کہیں بھوت تو نہیں یہاں؟”ادھر ادھر دیکھتے اس نے آنکھیں چھوٹی کر اسے دیکھا تھا۔

“بھوت نہیں پاگل تیرے خوابوں کا شہزادہ بلکل تیرے سوچے ہوئے ہیرو جیسا بندہ دیکھا ہے میں نے ابھی ۔”شیزا کی بات کر اسنے حیرت سے اسے دیکھا تھا جیسے اسکی دماغی حالات پر شبہ ہو۔

“سچ بول رہی ہوں یقین نہیں آتا تو چل کر دیکھ۔۔”اسکا ہاتھ تھامے وہ اسے زبردستی لے کر آگے بڑھی تھی۔

“پاگل ہوگئی ہے تو شیزا ہاتھ چھوڑ مجھے تیار تو ہونے دے۔۔”اپنے ادھورے میک کی وجہ سے اس نے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا تھا مگر وہ اپنے نام کی ایک تھی اسے لے کر باہر آئی تھی اور پلر کی اوٹ میں کھڑے ہوکر اس نے سامنے کی طرف اشارہ کیا تھا۔

“وہ دیکھ۔۔۔۔”اسے بول وہ خود پیچھے ہٹی تھی۔

شہوار نے آگے بڑھ کر اس شخص کو دیکھا تو بے اختیار چونکی تھی۔

بھلا ایسا کب ممکن تھا آپ کا خیالوں میں تخلیق کیا ہوا کردار یوں اچانک سامنے اجائے۔۔

اسکا دل دھڑکنا بھولا تھا سامنے دیکھ۔

کالے رنگ کے کلف لگے سوٹ میں وہی آنکھیں وہیں مغرور کھڑی ناک چہرے کر بڑھی شیو لمبا قد چوڑے شانے۔۔۔

وہ مبہوت سے انہیں دیکھے گئی تھی دل عجیب سے انداز میں دھڑکا تو اس نے بے اختیار اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا.

“یہ کون ہے شیزا۔۔۔؟ اس نے پیچھے مڑ کر شیزا سے سوال کیا تھا مگر جھٹکا تب لگا جب اسے غائب پایا۔

“یہ مجھے یہاں اکیلے چھوڑ کر خود کہاں چلے گئی۔۔”ادھر ادھر دیکھتے اسکی نظر اچانک ہی اپنی طرف آتے شاہنواز پر پڑی تھی۔

اپنا حلیہ یاد کر وہ تیزی سے وہاں سے نکلی تھی کہ اچانک اسکا پاؤں زمین پر پڑے تار میں اٹکا تھا۔۔

اس سے پہلے کہ وہ زمین پر گر اپنا منہ توڑتی کسی نے اسکا ہاتھ تھام اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔