Kasa-e-Ishq by Fariha Islam Readelle 50357 Kasa-e-Ishq Episode 8
Rate this Novel
Kasa-e-Ishq Episode 8
وہ جو اجنبی تھے کبھی۔
آج محرم بنے بیٹھے ہیں،
کہ جن سے راستے تھے جدا جدا
اب منزل وہی بن بیٹھے ہیں۔۔
اسکول کے زمانے میں لکھیں ایک چھوٹی سی یہ سطریں اسے محسوس ہوئی تھیں واقع ایک انسان جو سوچتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جس چیز کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا وہی اسکا مقدر بن جاتا ہے ۔
اپنی سوچوں کو جھٹکتے اس نے گردن موڑ کر برابر میں سوئی شیزا کو دیکھا تھا۔۔
بالوں کو سمیٹتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور کھڑکی تک آئی تھی۔
چاند آج ستاروں بھرے آسمان پر پوری شان کے ساتھ براجمان تھا۔
کتنا پسند تھا اسے چاندنی رات میں بیٹھ کر دیر تک چاند کو تکتے رہنا کتنا سمجھاتی تھیں کلثوم بی اسے کی یوں لڑکیوں کا رات میں چھت پر جانا ٹھیک نہیں ہے اور وہ ہمیشہ چڑ جاتی تھی۔
بچپن سے اپنی دادی کی چھاؤں میں رہنی والی وہ آج ایک دم سے خود کو پرایا محسوس کر رہی تھی۔
“کیا سوچ رہی ہوں شہوار۔۔”اسکے کندھے پر ٹھوڑی ٹکراتے شیزا نے نیند سے بوجھل آواز میں اسے کہا تو وہ ایک دم کر مسکرا دی۔۔
“کچھ نہیں بس یہ سوچ رہی ہوں کہ چاند اتنا خوبصورت ہے مگر اتنا دور کیوں ہے۔۔”
چاند کو دیکھتے اس نے اپنے دل کی بات اسے بتائی تھی۔
“ہممم بات تو سہی ہے مگر اسکا جواب تو میرے پاس بھی نہیں ہے۔۔”
“تمہارے پاس تو کسی بھی سوال کا جواب نہیں ہے میرے اب یہ بتاؤ اٹھ کیوں گئیں۔۔”پردے برابر کرتے وہ واپس سے آکر اپنی جگہ پر بیٹھی تھی۔۔
“تمہیں یوں چڑیلوں کی طرح آدھی رات کو کھڑکی پر کھڑے دیکھا تو ڈر گئی میں۔ “وہ بسورتی وہ شہوار کو بے تحاشہ پیاری لگی تھی یا شاید اس نئے رشتے کا اثر تھا جو اسے جذباتی کر رہا تھا
“سوری میں نے تمہاری نیند خراب کردی۔ “محبت سے اسکے بال سنوارتے اس نے کہا تو شیزا نے حیرت سے اسے دیکھا تھا..
“کیا کہا؟کیا کہا؟ شہوار نے سوری کی وہ بھی مجھ سے۔۔۔”اپنی طرف انگلی کرتے اس نے بے یقینی سے اس سے پوچھا تھا۔
“ذیادہ اوور ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے چپ کرکے سوجاؤ۔۔”اسکے ہاتھ پر مکا مارتے وہ اپنی جگہ پر آکر لیٹی تھی اور سائیڈ سے موبائل اٹھاتے اپنا ہینڈ فری نکال کانوں سے لگایا تھا۔
“آدھی رات کو پھر ایف ایم انسان بن جا شہوار۔۔ ” اسے اسٹیشن سیٹ کرتے دیکھ شیزا نے ماتھا پیٹا تھا۔۔۔
“لیٹنے سے پہلے لائٹ بند کر دینا۔۔۔”موبائل کی آواز تیز کرتے اسنے آنکھوں پر ہاتھ رکھا تھا شیزا نے سڑا سا منہ بنا کر اسے دیکھا اور واپس سے آکر اپنی جگہ پر لیٹی تھی۔
“یونہی کہاں تو شادی شادی کرتی رہتی تھی اب ہوگئی ہے تو اتنا سناٹا چھا گیا ہے۔۔”اسکی سنجیدگی پر وہ کڑھ کر کہتی آنکھیں موند گئی تھی۔
شہوار نے زرا سا آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹاتے اسے دیکھا تو مسکرائی تھی۔
“ہر کہانی فیری ٹیل نہیں ہوتی فیری ٹیل بنانے کے لئے بھی خود کو شہزادی بنانا پڑتا مگر ابھی تو فلحال ان کی لائف کی سب سے بڑی ولن میں ہوں جسے وہ مارنے کی خواہش میں ہونگے فلحال۔۔”ان کا پرشدت احتجاج یاد آنے پر وہ شرارت سے مسکرائی تھی پتا نہیں کیوں مگر چند ملاقاتوں میں ان کا یوں منہ بنا کر پھرنا اسے ہر بار ہنسنے پر مجبور کردیتا تھا۔
انہوں نے آج تک جو کام نہیں کیا تھا وہ آج کرگئے تھے وہ اس وقت آدھی رات کو چھت پر کھڑے ہے در پے سیگریٹ سلگھا رہے تھے ان کی زندگی بہت سادہ تھی مگر ان انہیں لگ رہا تھا ان کی زندگی سے زیادہ الجھی زندگی کسی کی نہیں ہے۔۔
اپنے اندر کا غبار دھوئے کے مرغولے کی صورت باہر آرہا تھا ان کی آنکھیں لال ہورہی تھیں جو انکے اندرونی انتشار کو ظاہر کر رہی تھی۔۔
وہ ماضی کو سوچتے نہیں تھے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی اذیت میں اضافہ ہوتا تھا مگر آج ایک بار پھر وہ اسی اذیت اسی کرب سے گزر رہے تھے سب کو لگتا تھا وہ اوور ریکٹ کر رہے ہیں مگر وہ کسی کو کیا بتاتے کتنا گہرہ زخم ہے جو وہ انہیں لگا کر گئی تھی ان کا دل کرتا تھا وہ اپنی زندگی کو ختم کرلیں مگر اپنی ماں کا چہرہ یاد کر وہ ہر بار اس عمل سے رک جاتے تھے ۔
وہ یہ نکاح نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ تھی جسے وہ چاہ کر بھی کسی کو نہیں بتا سکتے تھے مگر کیا فائدہ ہوا اتنے سالوں کی اذیتوں کا جب آخر میں وہ ہمت ہار گئے۔
ہاں وہ ہار گئے تھے اپنی ماں کے آگے وہ ان کی تکلیف کے آگے ہار گئے تھے انہوں نے اپنی ہار تسلیم کرلی تھی اور سب سے زیادہ چڑ جس سے انہیں اس وقت ہورہی تھی وہ تھی شہوار۔۔
“اچھا نہیں کیا تم نے لڑکی میرے نکاح میں تو آگئی ہو مگر اپنی زندگی میں داخل نہیں ہونے دونگا میں۔۔”سیگریٹ کو مسلتے وہ خود سے بولے تھے۔
فجر کی اذانوں کی آواز آنا شروع ہوئی تو انہیں وقت کا احساس ہوا تھا سیگریٹ کی راکھ وہاں سے ہٹاتے وہ نیچے کی طرف بڑھے تھے مگر سامنے دیکھ ان کے قدم رکے تھے۔
قدم تو وضو کرکے کمرے میں جاتی شہوار کے بھی انہیں رکے تھے مگر اس سب سے زیادہ جس چیز نے اسے چونکایا تھا وہ تھی ان کے ہاتھ میں سیگریٹ۔۔۔
وہ آہستہ سے قدم بڑھاتی ان کے روبرو آئی تھی.
“آپ سیگریٹ پیتے ہیں؟؟”اس کے لہجے میں چھپی حیرانگی سمجھ وہ آہستہ سے مسکرائے تھے۔
“تمہیں نہیں پتا میں سیگریٹ پیتا ہوں؟؟”انہوں نے حیرت سے اس چھوٹی سے لڑکی کو دیکھا تھا۔
“غلط جگہ پھنس گئی ہو میں نے کہا بھی تھا نہیں کرو نکاح مگر تم نے سنی نہیں میں سیگریٹ بھی پیتا ہوں نشہ بھی کرتا ہوں میں سارے غلط کام کرتا ہوں۔۔”اسکی طرف جھکتے وہ قدرے پراسرار انداز میں بولے تھے۔
اس نے کچھ سوچ کر ان کی طرف دیکھا تھا.
“آپ گانجا پیتے ہیں؟چرس؟؟؟”
“کیا؟؟”گنجا؟؟؟؟”
“اونہوں گنجا مطلب ٹکلا میں بول رہی گانجا چرس وہ جو ہتھیلی پر ڈال کر سونگھنے سے نشہ ہوتا ہے۔۔”اپنی ہتھیلی کو انگلی کی مدد سے مسلتے اسنے انہیں ڈیمو کر کے دیکھا تھا۔
“آپ کو نہیں پتا؟؟”ان کے تاثرات دیکھ اس نے بمشکل اپنی ہنسی دبائی تھی۔
“پرو لیول کے نشئی نہیں ہیں آپ خیر کوئی بات نہیں میرے نکاح میں آگئے ہیں نا اب میں آپ ایک دم پرفیکٹ نشئی بنا دونگی کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں۔۔”ان کا کندھا تھپکتے وہ ان کے برابر سے نکلی تھی۔
اور وہ بیچارے منہ کھولے اپنی نئی نویلی دلہن کے منہ سے چرس کا سن کر ہی شاکڈ تھے۔۔
یہ ہوا کیا تھا ان کے ساتھ۔۔؟
“یہ چرس اور گانجا۔۔۔ یونہہ چرسن۔۔۔”غصے سے سر جھٹکتے وہ اندر کی طرف بڑھے تھے جب کے دروازے کی اوٹ سے ان کے تاثرات دیکھتی وہ دل کھول کر ہنسی تھی۔
“واہ اللہ تعالیٰ بندہ بھی کیا مزے کا دیا ہے مجھے۔۔” ان کے تاثرات یاد کرتے وہ ایک بار پھر دل کھول کر مسکرائی تھی۔۔
“اماں کیوں پریشان ہورہی ہیں اب تو کچھ بھی ہو جائے شمع اپنی مرضی نہیں کر سکتیں۔۔”ان کے پاس بیٹھتے فوزیہ بیگم نے انہیں کرسکون کرنا چاہا تھا مگر وہ صبح سے یونہی پریشان بیٹھی تھیں۔
“فوزیہ وہ مجھے غلط سمجھے گی میں کیا بولوں گی کل تک جو آسان لگ رہا تھا اب مزید مشکل لگ رہا ہے وہ ہنگامہ کھڑا کردے گی۔۔
“اماں۔۔۔”ان کی پریشانی وہ اچھے سے سمجھ سکتی تھیں ابھی ابھی تو نیا رشتہ جڑا تھا ایسے میں کوئی تماشہ شہوار کے لئے مشکلات بڑھا سکتا تھا۔۔۔
“فوزیہ میری بچی کے نصیب میں پہلے ہی بہت پریشانیاں تھیں اب اس نئے رشتے کی شروعات پر میں مزید کوئی پریشانی اسکے لئے نہیں چاہتی ہوں گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے کیسے شمع کو سنبھالوں گی میں؟؟”ایک پریشانی ختم ہوتی نہیں تھی کہ دوسری سر اٹھا لیتی تھی.
“آپ کو ان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے وہ میری ماں ہیں تو انہیں سنبھالنا بھی مجھے آتا ہے میں کوئی بچی نہیں یوں دادی اور یوں ہر بات پر کونے میں چھپ کر پریشان ہونا چھوڑ دیں جتنا پریشانیوں سے بھاگے گیں یہ پریشانیاں اتنا ہی آپ کے سامنے سر اٹھا کر آئیں گی ۔
پریشانیوں کا سامنا کرنا سیکھیں ان سے ڈریں نہیں کیونکہ یہ آزمائش ہوتی ہے اسکا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ ” اندر کمرے میں قدم رکھتے اس نے ساری بات سنی تھی جبھی ان کے پاس بیٹھتے اس نے رسان سے انہیں اپنی بات سمجھانی چاہی تھی۔
“اماں دیکھیں زرا نکاح نے ہماری شہوار کو کتنا سمجھدار کردیا ہے اب آپ بھی ٹینشن چھوڑیں اور ریڈی ہوجائیں۔۔”ماحول کو تھوڑا ہلکا پھلکا کرتی وہ شہوار کو اشارہ کرتی باہر شیزا کے پاس گئیں تو شہوار نے انکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا.
“کچھ بولنے کچھ سننے اور کچھ بھی فضول سوچنے کی ضرورت نہیں ہے آپ میری ماں ہیں اور آپ نے میری زندگی کا فیصلہ کیا بات ختم۔۔۔صرف پیدا کرنے سے کوئی ماں نہیں بن جاتا قربانیاں دینی پڑتی ہیں بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے جو آپ نے کیا ہے انہوں نے نہیں آپ کا مجھ پر حق ہے اب مزید کوئی ٹینشن نہیں اٹھیں اور چلیں باہر ۔”انکا ہاتھ زبردستی تھامے وہ انہیں اپنی جگہ سے اٹھا کر باہر لائی تھی۔۔
اسے دیکھتے ہی پاکیزہ بیگم نے اٹھ کر اسے ساتھ لگایا تھا۔
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔۔”پیسے اسکے سر سے وارتے انہوں نے محبت سے اسکے ماتھے پر لب رکھے تھے۔
“سدا سہاگن رہو میری بچی اللہ خوشیاں دیکھنا نصیب کرے۔۔”اسے اپنے پاس بیٹھاتے وہ مسلسل دعا گو تھیں۔
“وسیم میاں بہت جلدی مچا رہے تم لوگ جانے کی ایک دو دن مزید رکتے تو ہمیں اپنی شہوار کے ساتھ مزید وقت گزارنے کا موقع مل جاتا۔۔”
“ارے اماں پریشان نہیں ہوں بس اگلے مہینے ہی رخصتی کروا لیں بس ۔”انعم آپا نے کمرے میں داخل ہوتے شاہنواز کے سر پر بم پھوڑا تھا اندر آتے ان کی قدم وہیں دہلیز پر رکے تھے۔
“ہاں بھئی کلثوم ہمیں کچھ نہیں چاہیے بس سب جلدی سے رخصتی کی تاریخ دو میں مزید صبر نہیں کرونگی۔۔”کلثوم بی ان کی بات پر ہولے سے مسکرائی تھیں۔
“اتنی بھی کیا جلدی ہے پاکیزہ ابھی تو اسنے آگے پڑھنا ہے کم از کم چودہ تو پڑھاؤ گی نا اسے۔۔”
“دادی۔۔۔۔”شہوار نے حیرت سے انہیں پکارا وہ جو اس سوچ میں تھی کہ اب پڑھائی سے جان چھوٹی اس نئی مصیبت پر دل جلا کر رہ گئی۔
“ارے بھئی کچھ نہیں ہوتا شادی کے بعد پڑھ لے گی اور ویسے بھی یہاں تو اتنے اچھے اچھے کالج ہیں۔۔”پاکیزہ بیگم نے ان کی بات ہو ہوا میں اڑایا تھا اور اپنی شادی کی بات سنتے اس نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی تھی ورنہ لوگ کیا کہتے جیسے ڈھیٹوں کی طرح بیٹھی ہوئی۔
یہ لوگ اور ان کی باتیں بھی۔
ابھی اسے کمرے میں آئے بمشکل دس منٹ ہی ہوئے ہونگے کہ باہر سے آتی آوازوں پر اسکے کان کھڑے ہوئے تھے اور یہ آواز وہ کیسے نہیں پہچانتی اسے۔۔
اسکے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئی تھیں کیونکہ باہر سے آتی آوازیں اب مزید بڑھتی جارہی تھیں ضبط سے وہاں بیٹھے اسنے بیڈ شیٹ پر اپنا غصہ نکالا تھا۔۔
“اماں میں یہ کیا سن رہی ہوں کیسے آپ میری بیٹی کا نکاح اپنی مرضی سے کر سکتی ہیں؟؟”گھر میں داخل ہوتے ہی شمع بیگم نے ان سے سوال جواب کرنے شروع کردئیے تھے نا جانے کہاں سے سن کر آئی تھیں۔۔
“شمع بیٹھ جاؤ بیٹھ کر بات کرو۔۔”لوگوں کی موجودگی کا احساس کرتے کلثوم بی نے انہیں سکون سے بیٹھنے کا کہا تھا مگر وہ شاید سکون سے بات کرنا چاہتی ہی نہیں تھیں۔۔
“بیٹھ کر بات کروں؟؟ آخر بیٹھ کر بات کرنے کو بچا ہی کیا ہے اماں ہاں آپ نے اپنے مفاد کی خاطر میری بچی کو یہاں جھونک دیا مگر میں ایسا نہیں ہونے دونگی میں ابھی اپنی بچی کو یہاں سے لیکر جاؤ گی۔۔۔”
“ایک بار اپنی بیٹی سے پوچھا ہے آپ نے کہ وہ جانا چاہتی ہے یا نہیں آپ کے ساتھ؟؟”اس سے پہلے کوئی جواب دیتا وہ غصے سے ان کے روبرو آئی تھی۔
“آپ نے کبھی جاننا چاہا امی کہ میں کیا چاہتی ہوں بچپن میں جب میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی تھی تو زمانے کی مجبوریوں نے آپ کو مجھے خود سے دور رکھنے پر مجبور کیا مگر اب جب آپ کو اپنا مقصد نظر آرہا مجھ میں تو آپ مجھے لینے آگئی ہیں میں کھلونا نہیں ہوں امی۔۔۔”
“تم پاگل ہو شہوار کیا بول رہی ہو میں ماں ہوں تمہاری ان لوگوں نے بھڑکایا ہے میرے۔ خلاف تمہیں بیٹا۔۔”اس کا ہاتھ تھامتے وہ جتنی میٹھی بن سکتی تھیں بن رہی تھی۔
“مجھے سچ بولنے پر مجبور مت کریں یہ میرا سسرال ہے امی میری عزت کا خیال کرلیں..”ان کے آگے جوڑتے وہ انہیں ساکت چھوڑ گئی تھی۔
“میرا بچپن سے تماشہ بنتا آیا ہے یہاں میری عزت رکھ لیں میں سر اٹھا کر رہنا چاہتی ہوں سر جھکا کر نہیں میں نے کبھی آپ کی دوسری شادی کو لے کر شرمندگی محسوس نہیں کی کیونکہ یہ آپ کا حق تھا میں نے لوگوں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالا کیونکہ مجھے پتا ہے میرے اللّٰہ کے نزدیک یہ گناہ نہیں ہے مگر امی۔۔۔ اس طرح کا رویہ رکھ خود کو ظالم اور خود غرض مت ثابت کریں۔۔۔”
“آپ کو پتا ہے نا بچپن سے کیا کچھ سنا ہے میں نے کہ میری ماں کو شادی کی جلدی تھی میاں کے مرتے ہی گھر بسا لیا۔ امی آپ کی مرضی تھی اس میں کوئی غلط بات نہیں تھی یہ بات میں سمجھتی ہوں مگر اب آپکا رویہ مجھے آپ سے دور کر رہا ہے اور میں نہیں چاہتی کہ میری زندگی کی نئی شروعات میری ماں کے بغیر ہو ہم گھر جارہے ہیں آپ چلیں مگر میں آپ کے گھر نہیں آؤ گی ایسے حالات میں تو کبھی بھی نہیں امید ہے آپ میری بات جو سمجھیں گی جیسے میں بچپن سے آپ کو سمجھتی آئی ہوں ۔”
شمع بیگم نے حیرت سے اپنی اس چھوٹی سے بچی کو دیکھا تھا اور آج انہیں بہت بڑی لگی جبکہ پاکیزہ بیگم کو ایک بار پھر اپنے انتخاب پر فخر ہوا تھا۔۔۔
