665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 10

وہ سر کو تھامے بیڈ پر بیٹھے تھے گھڑی رات کے تین بجا رہی تھی اور ان کے چہرے پر چھائی بےبسی اس بات کی علامت تھی کہ ان کے ساتھ بہت برا ہوچکا ہے۔

پہلے ہی فرحان بھائی اور بچوں نے ان کی جان نہیں چھوڑی تھی اور جب چھوڑی تو وہ سارے اپنا ساتھ صاف کر گئے تھے۔۔

پورا کمرہ چھان مارا تھا انہوں نے نا انہیں بیگ ملنا تھا نا ملا۔۔

وہ تھک ہار کر اب بیڈ پر بیٹھے تھے بیگ کا غائب ہونا مطلب تھا ان کے جانے کا گھر میں پتا چل گیا تھا شرمندگی سے ان کا برا حال تھا وہ جانتے تھے ایک بار سجاد بھائی آجائیں تو یقیناً یہ بات ان تک بھی پہنچائی جائے گی۔۔

“اففففف “انہوں نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرایا تھا۔

اب راہ فرار تو تھی نہیں اس لئے خاموشی سے لائٹ آف کرتے وہ اپنی جگہ پر آکر لیٹے تھے نیند تو کیا ہی آنی تھی صرف پچھتاوے ہی تھے جو انہیں پوری رات تنگ کرنے والے تھے۔۔

اور ہوا بھی یہی ان کی آنکھ کھلی تو دن کے دو بج رہے تھے آفس سے چھٹی ہوئی سو ہوئی باہر سے آتی آوازوں سے انہوں نے اندازہ لگایا کہ گئے ہوئے لوگ واپس گھر لوٹ آئیں ہیں۔۔

بیزاری حد سے سوا تھی پتا نہیں کتنی دیر وہ یونہی کسلمندی سے بیڈ پر پڑے چھت کو گھورتے رہے آخر کب تک کمرے میں بند رہتے۔

اٹھ کر فریش ہو کر وہ باہر آئے تو سب ہی لاونج میں جمع تھے۔

ان کو دیکھتے ہی سب کے چہروں سے ہنسی غائب ہوئی تھی۔

انہوں نے سب کو سلام کیا اور جاکر اپنی ماں کے پاس بیٹھے تھے ان کے بیٹھتے ہی سب ایک ایک کر کے ان وہاں سے اٹھتے چلے گئے۔

اس رویے سے ان کے دل میں ہوک سی اٹھی تھی۔

“کہاں جارہے تھے شاہنواز ؟؟” پاکیزہ بیگم کے سوال نے ان کا سر مزید جھکایا تھا۔

“افسانہ اسکا بیگ لاکر دو۔۔”ان کی کرخت آواز ہر افسانہ نے جلدی سے بیگ ان کے پاس رکھا تھا اور واپس باہر کا رخ کیا تھا۔

“امی۔۔۔”انہوں نے بے بسی سے انہیں پکارا تھا۔

“تم جانا چاہتے ہو شاہنواز چلے جاؤ مگر ایک بات یاد رکھو لڑکی ہو یا لڑکا۔۔۔ رات کی سیاہی میں چوروں کی طرح نکلنے والا کبھی باعزت نہیں رہتا جو یہ بات سوچتے ہیں کہ لڑکا ہے کرسکتا ہے تو یاد رکھنا اسکی ماں کو ہمیشہ یہ کہا جائے گا کہ یہ اس لڑکے کی ماں ہے جو بھاگ گیا تھا کسی کو اپنی عزت بنا کر اسے یوں بیچ راہ میں چھوڑ جانے کا فیصلہ اگر تمہیں ٹھیک لگتا ہے میرے بچے تو میں روکوں گی نہیں راستہ صاف ہے اور سامان سامنے تم جانا چاہو تو جاؤ اب میں نہیں روکوں گی کیونکہ یہاں بات اب اس بچی کی ساری زندگی کی آگئی ہے سوچا تھا ماضی کو بھولنے کے لئے ایک نیا رشتہ ضروری ہے مگر جب دل میں آگے بڑھنے کی خواہش ہی نہیں ہو تو میں اس بچی کو ایک بزدل اور ناکام شخص کے حوالے نہیں کرسکتی۔۔”

اپنی بات کہہ کر وہ بنا ان کی کوئی بات سنے آہستہ سے قدم بڑھاتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں جبکہ وہ وہی ساکت سے بیٹھے رہ گئے۔

ایک نظر سامان پر ڈالتے انکا سر شرمندگی سے جھک گیا تھا۔

کیا کرنے جارہے تھے وہ؟ اپنے مرحوم باپ کے نام پر دھبہ لگانے جارہے تھے اپنی ماں کو جیتے جی مارنے والے تھے۔۔

“اففففف”انہوں نے اپنا سر ہاتھوں میں گرایا تھا اس زندگی میں ان کے پاس پچھتاوے بہت تھے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔

یہ سوچ الگ کھائے جارہی تھی کہ سب کیا سوچ رہے ہونگے ان کے بارے میں۔

اپنا بیگ اٹھاتے وہ واپس کمرے کی طرف بڑھے تھے اور انہیں دروازے کی اوٹ سے دیکھتی پاکیزہ بیگم نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔

اب ان کو انہیں اپنے طریقے سے ہی ڈیل کرنا تھا روز ایک ڈوس دینی تھی اب انہیں۔۔

وہ چھوٹا سا گھر برقی قمقموں سے دولہن کی طرح سجایا گیا تھا دن اتنی تیزی سے گزرے تھے کہ بلکل بھی پتا نہیں چلا تھا۔

آج اسے مایوں بیٹھانا تھا اور گھر میں اتنی رونق تھی کہ کان پڑے آواز سنائی نہیں دے رہی تھی مہانوں کی آمد جاری ہے جتنے محلے والے تھے سب کی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔

“جواد یار یہ کرسیاں اٹھا کر باہر رکھ نا۔۔۔”وسیم صاحب نے برابر والے جواد جو کہا تو جو بیچارہ جب سے سیٹنگ میں لگا ہوا تھا۔

“رکھوا رہا ہوں آپ جاکر کھانا دیکھ لیں۔۔” کرسیاں لے جاتے وہ ان سے بول کے گیا تھا۔

اور کھڑکی سے نیچے جھانکتے شہوار نے نم آنکھوں سے اپنے چاچا جو دیکھا جو اسکے لئے اسکے باپ جیسے تھے اور جتنا وہ کر رہے تھے اتنا ہی اسکا دل ان سے دور جانے کا سوچ کر اداس ہورہا تھا۔۔

“شہوار کب سے ایسے کھڑی ہے تیار ہونا بھئئ۔۔”پیلے رنگ کے فراک میں تیار شیزا نے اسے یونہی کھڑے دیکھا تو فوراً سے ٹوکا تھا۔

“دل نہیں کر رہا میرا تیار ہونے کا۔۔”منہ بسور کر کہتے وہ اسے ایک دم سے اداس کرگئی تھی۔

“اوئے اداس ہونے کی ضرورت نہیں میں ہر مہینے آیا کرونگی نا۔۔۔”اسکے تاثرات بھانپتے وہ جلدی سے اٹھ کر اسکے پاس آئی تھی اور اسکو اپنے حصار میں لیا تھا۔۔

“اچھا اب زیادہ چپکنے کی ضرورت نہیں چلو تیار ہو۔۔”اسے خود سے ہٹاتے وہ الماری کی طرف بڑھی تھی۔

“شہوار۔۔۔”اسکے کپڑے رکھتے شیزا نے ایک چور نظر سے اسے دیکھا تھا جو اس وقت چوڑیاں پہننے میں مصروف تھی۔۔

“ہوں؟”

“تائی امی آئی ہیں پلیز اپنا موڈ خراب مت کرنا۔۔”اسکی بات پر اسکے چوڑیاں پہنتے ہاتھ ایک دم سے ساکت ہوئے تھے مگر صرف لمحے کو۔۔

“اچھا تو اتنے مہمان آئے ہیں وہ آگئی ہیں تو کون سی انوکھی بات ہوگئی۔۔”چوڑیوں کا ڈبہ رکھتے اسنے اپنا سوٹ شیزا سے لیا تھا اور اندر روم میں بند ہوئی تھی۔

اسنے تاسف سے اسے دیکھا تھا۔

تھوڑی دیر میں وہ باہر آئی تو شیزا نے مبہوت سے اسے دیکھا تھا۔

ہلدی رنگ کا فراک پہنے جس کے دوپٹے کے چاروں اور گوٹا کناری کا کام کیا گیا تھا وہ اس سادگی میں بھی بے حد حسین لگ رہی تھی۔

شیزا نے اسکا ہلکا پھلکا سا میک اپ کیا اور دوپٹہ سیٹ کرتے پاکیزہ بیگم کا لایا شگن نا دوپٹہ اسکے سر پر ڈالا۔

نیچے سے آوزیں آنا شروع ہوگئی تو وہ اسے لئے نیچے بڑھی تھی۔۔

جس نے اسے دیکھا اسکی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکا۔۔

کلثوم بی تو بار بار اسکی نظر اتار رہی تھیں۔

جبکہ شمع بیگم خاموشی سے یہ سب ہوتا دیکھ رہی تھیں۔

رسم کا آغاز ہوا تھا کلثوم بی نے انہیں سب سے آگے رکھا تھا۔

اس نے ایک بار بھی اپنی ماں سے بات نہیں کی تھی۔۔

جب رشتے بٹ جائیں تو شاید ایسا ہی ہوتا ہے اور جب بات اولاد اور ماں باپ کی آئے تو اس رشتے کو بہت لگاؤ سے نبھانا پڑتا ہے۔

کلثوم بی اسکے پاس آکر بیٹھیں تو آنکھیں اپنے آپ ہی چھلک پڑی تھیں۔

جس آنگن میں سارا بچپن گزرا اب اسے چھوڑنے کا وقت آنے والا تھا۔

ہر گزرتا لمحہ اس کے دل پر عجیب سی بے چینی لا رہا تھا۔

اسے آج سمجھ میں آیا تھا کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ بیٹیاں پرائی ہوتی ہیں۔

اسے لگ رہا تھا ہاتھ سے وہ بچپن لڑکپن کی ڈور چھوٹنے کو ہے۔۔

اور جب وسیم صاحب نے آکر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو اسکے صبر کا دامن چھوٹا تھا۔

تیرے آنگن میں پلی ہوں میں نازوں سے بابل،

نئے انگنا میں مجھے اب اپنا گھر بسانا ہے،

تیرے کاندھے پر جو بہائے آنسو میں نے،

انہیں خود سے بھی اب چھپانا ہے،

تو نے جو دیا بہترین دیا اب باری قسمت کی ہے،

کہ جس نے ہمیں اپنی نئی دنیا سے روشناس کروانا ہے۔۔۔

رسموں کے بعد ایک مختصر سا گانوں کا پروگرام ہوا تھا۔

جس میں شیزا اور نجم دونوں ہی پاگل ہوگئے تھے۔

ہنسی قہقے خوشیوں بھری ساعتوں میں آج کا دن اختتام کا پہنچا تھا

دوسری طرف وائٹ کرتے پاجامے میں وہ خاموشی سے سر جھکائے اسٹیج پر بیٹھے تھے ان کے چاروں طرف مہمانوں کا ہجوم تھا اسٹیج کر ان کے پاس ان کی ماں بہن اور بھابھیوں کو راج تھا۔

“افسانہ جلدی سے ہلدی کا تھال لے کر آ۔۔۔”حنا بھابھی نے افسانہ کو جلدی سے وہاں سے روانہ کیا تھا۔

شاہنواز کی شادی تھی کوئی مذاق نہیں تھا اس لئے تیاریاں بھی مکمل شاہی انداز میں کی گئی تھیں۔۔

سب کے چہروں پر ہنسی تھی سوائے دولہا کے۔۔

جو ایسا منہ بنا کر بیٹھے تھے جیسے کسی نے انہیں بندوق کی نوک پر بیٹھایا ہو ویسے اگر ایسا کہا جاتا تو بھی کچھ غلط نہیں تھا پاکیزہ بیگم کی وجہ سے وہ اتنی خاموشی سے بیٹھے یہ سب برداشت کر رہے تھے۔۔

“مما چاچو کے یہ مہندی بھی تو لگائیں۔۔۔” ربعیہ نے مہندی کا تھال آگے بڑھایا تو شاہنواز نے فوراً سے انہیں ایسا کرنے سے روکا تھا۔۔

انکے موڈ کے پیش نظر پاکیزہ نے بیگم نے اشارے سے سب کو منع کیا وہ آج کے دن کوئی بد مزگی نہیں چاہتی تھیں۔

رسم کے فوراً بعد وہ اٹھ کر اوپر چلے تھے۔

پاکیزہ بیگم کے لئے تو یہی بہت تھا کہ انہوں نے یہ رسم ادا کرلی۔۔

کیونکہ بارات کو کل صبح ہی نکلنا تھا تو وہ سب ہی جلدی سوئے تھے۔

اور پھر اگلے دن ان کی گاڑی صبح سات بجے بارات لے کر نکلی تھی۔

وہاں پہنچنے میں ہی کم سے کم پانچ گھنٹے لگنے والے تھے اور پھر واپسی بھی آج کی ہی تھی۔۔

پورے راستے خوشیاں مناتے وہ لوگ اپنی منزل پر پہنچے تھے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔

مہمانوں کے آرام کے لئے پاکیزہ بیگم کے سامنے والوں نے اپنا دوسرا گھر انہیں دیا تھا جس پر وہ ان کی بے حد مشکور تھیں۔

“سجاد شاہنواز کے ساتھ رہنا بیٹا۔۔”گولڈن سوٹ میں مکمل تیار تھیں۔

“امی آپ بے فکر رہیں اسکے پاس فرحان وقاص سب موجود ہیں وہ کہیں نہیں جائے گا۔۔”

انہیں تسلی دیتے وہ مسکرائے تھے۔

“آپ بس بہو لے جانے کی تیاری کریں باقی سب اللہ پر چھوڑ دیں۔ “

سجاد صاحب کی بات پر سن کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔

بارات کا استقبال شاندار انداز میں کیا گیا تھا نکاح چونکہ پہلے ہی وہ چکا تھا تو زیادہ مسئلہ نا ہوا۔۔

“بھئی دولہن کو لے کر آئیں۔۔”پاکیزہ بیگم کے بولنے پر وہ لوگ شہوار کو لے کر آئے تھے۔

سرخ لہنگے میں نیٹ کا گھونگھٹ ڈالے وہ سب کی توجہ کا مرکز بنی تھی۔

اسے کے جا کر شاہنواز کے پہلو میں بیٹھایا گیا تھا اور اسکے بیٹھتے ہی شاہنواز نے پہلو بدلا تھا۔۔

مختصر کی رسموں کے بعد کھانے کا اہتمام ہوا تھا۔

“شہوار گڑیا کچھ کھا لو لمبا سفر ہے ۔”اسے کچھ نا کھاتے دیکھ فوزیہ بیگم نے دو بار ٹوکا تھا اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ برابر میں بیٹھے کھڑوس کی وجہ سے کھانا تو کیا بیٹھنا بھی محال لگ رہا ہے۔۔

کھانا کھانے کے بعد فوٹو سیشن اسٹارٹ ہوا اور شاہنواز کی شکل دیکھ دیکھ کر اسکا دل کیا دولہن والی حرکتوں کو چھوڑ قہقہ لگائے وہ دولہن ہو کر اتنی ریلکس تھی تو وہ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد رخصتی کا شوہر اٹھا تب اسے لگا وہ آج رو رو کر آنکھیں سجا لے گی۔

اپنوں کو چھوڑنا آسان کہاں ہوتا ہے بھلا۔۔

نیا گھر نئی زندگی نئے لوگ۔۔۔

سب سے الوادع لیتے اسنے ایک نظر سب کو دیکھا تھا بابل کا انگنا اب پرایا ہوا تھا۔۔۔