665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 24

“امی۔۔۔ امی۔۔۔” پھولتی سانسوں کے ساتھ انہیں پکارتے ہانپتی کانپتی ربعیہ کمرے میں آئی تو

برس ڈریسنگ پر رکھ کر انہوں نے حیرت سے اس تیز گام کو دیکھا۔

“خیریت ہے کیا کتا پیچھے لگا ہوا ہے ؟”

“کتے کا تو پتا نہیں مگر ابھی نیچے تماشا ضرور ہونے والا ہے۔۔”

اس کے انداز پر اب کی بار حنا بھابی چونکیں۔

“کیا مطلب کیسا تماشہ؟.”

“امی چاچو کی سابقہ منگیتر نیچے بمعہ سامان سمیت موجود ہیں اور ان کے استقبال کے لئے شہوار۔۔۔ مطلب شہوار چچی موجود ہیں۔۔”

“یا اللّٰہ ۔۔” ربعیہ کی بات پر انہیں دھچکا لگا ابھی تو سب ٹھیک ہوا تھا اور اب اس کی آمد۔۔

“ربعیہ اس بات کا ذکر نا کرنا کہ وہ شاہنواز کی منگیتر ہے اور کون سا شہوار اسے پہچانتی ہے تو چپ رہنا اور باقی سب کو بھی بول دینا کہ اپنی زبان بند کرلیں میں انعم کو فون کرتی ہوں ایسے موقعے پر ہمیشہ دیر ہی کرنی ہوتی ہے اسے۔۔” جلدی سے فون اٹھاتے انہوں نے انعم کا نمبر ملایا تھا۔۔

“انعم کہا ہو جلدی پہنچو۔۔۔”

“بھابھی ہوا کیا ہے کچھ بتائیں گی بھی ۔” گھر کو تالا لگاتی انعم بیچارہ گھبرا گئیں ۔

“ابھی تک تو کچھ نہیں ہوا مگر مجھے لگ رہا کچھ ہو نا جائے وہ واپس آگئی ہے اور نیچے کھڑی ہے چڑیل۔۔” ان کے انداز میں اسکے لئے صرف ناگواری تھی اور اس خبر نے انعم آپا پر جیسے آسمان گرایا۔

“شہوار کہا ہے اور شاہنواز ؟؟” ان کو سب سے پہلے ان دونوں کی فکر ہوئی تو فوراً سے پوچھا

“ربعیہ نے بولا ہے شہوار نیچے ہے میں جاتی ہوں تم آؤ جلدی۔۔” ان کو بولتی وہ کھٹاک سے فون بند کرتیں نیچے بڑھی تھیں۔۔

“جی آپ کون؟..” ایک انجان چہرے کو کھڑے دیکھ اس نے سوال کیا تو وہ ایک ادا سے مسکرائی اور ایک نظر وہاں کھڑے سبھی لوگوں کے ہونق ہوئے چہروں پر ڈال اس کی نگاہیں شاہنواز کے چہرے پر آکر رکی تھیں۔

اسکی نگاہوں کا تعاقب کرتی وہ لمحے کو ٹھٹکی تھی۔

“یہاں موجود ہر شخص مجھے جانتا ہے سوائے تمہارے اور یہاں موجود ہر شخص کو میں بھی جانتی ہوں مگر تمہیں نہیں جانتی تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہی ہو۔۔” اسے شاہنواز کے برابر کھڑا دیکھ سوال پوچھتے آخر میں اسکا لہجہ سخت ہوا تھا۔

اس کے سوال پر شہوار نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر سامنے کھڑی اس میڈم کو اور پھر اسکے چہرے پر خوبصورت سے مسکراہٹ آئی تھی۔

“آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہاں موجود ہر شخص مجھے جانتا ہے سوائے آپ کے اور یہاں موجود ہر شخص کو میں جانتی ہوں سوائے آپ کے۔۔” کھل کر مسکراتے اس نے اسی انداز میں جواب دیا۔۔

“خیر جیسا کہ آپ نے ابھی بولا کہ آپ مجھے نہیں جانتی تو میں تعارف کی محتاج نہیں ہوں لیکن پھر بھی اگر آپ کو جاننا ہے تو میں آپ کو بتا دیتی ہوں میں ہوں مسزز شاہنواز۔۔۔ان کی بیوی ان کے بیٹر ہاف در شہوار شاہنواز” شاہنواز کی طرف دیکھتے اس نے اپنا تعارف کروایا تو وہاں موجود سب کے چہروں پر مسکان آئی تھی جبکہ سامنے کھڑی غرور میں ڈوبی طوبی کا چہرہ سپاٹ ہوا تھا۔

“امی آپ کی مہمان آئی ہیں بھابھی میں زرا اوپر جارہی شاہ آپ چلیں چینج کرلیں یہ کلر بلکل بھی سوٹ نہیں کر رہا۔۔ آپ آج میرے فیورٹ کلر میں سے کوئی ایک کلر پہنیں۔۔ “استحقاق سے شاہنواز کا ہاتھ تھامے وہ اوپر بڑھی تھی

اور اتنے عجیب سے انداز پر طوبی کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔

“آجاؤ طوبی اب یہاں تک آ ہی گئی ہو تو اندر بھی آجاؤ ۔۔” حنا بھابھی کے انداز پر وہ چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجاتی اندر آتے پاکیزہ بیگم کی طرف بڑھی تھی مگر اس کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی وہ اپنے کمرے میں جاکر دروازہ لاک کرگئیں۔۔

“آجاؤ طوبی تیار ہوجاؤ مہمان آنے والے ہیں۔۔” اسے ساتھ لئے عدینہ بھابھی اپنے کمرے میں آئی تھیں۔

“آپ بھی ناراض ہیں مجھ سے؟” ان کو مصروف انداز میں دیکھ وہ پوچھے بنا نا رہ سکی تو تیزی سے چلتے عدینہ بھابھی کے ہاتھ تھمے تھے۔۔

“کیا تم نے ایسا کچھ کیا تھا طوبی جو تمہیں لگ رہا میں ناراض ہونگی؟” جواب کے بجائے سوال پر وہ لمحے کو چپ ہوئی تھی۔

“میں نے کچھ غلط بھی نہیں کیا تھا۔” بہت دیر بعد اس سے جواب دیا تو وہ گہرا سانس بھر کر رہ گئیں۔

“تم خوش قسمت ہو جو ایسے وقت پر آئی ہو جب تمہیں کوئی اس گھر سے نکال کر باہر نہیں پھینک رہا تو اس نرمی کا فائدہ مت اٹھانا آرام کرو میں کچھ کھانے کو بھیجتی ہوں۔” اسے ٹکا سا جواب دیتی عدینہ بھابھی کمرے سے نکل گئیں تو اس نے نخوت سے سر کو جھٹکا تھا۔

“ہوں مجھے میری ہی جگہ آنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور ویسے بھی صبح کا بھولا رات کو گھر آئے تو اسے معاف کر ہی دیا جاتا ہے اور مجھے یقین ہے تم بھی مجھے معاف کردو گے شاہنواز۔۔”

آئینے میں اپنے سجے سنورے روپ کو دیکھ وہ بھرپور انداز میں مسکرائی تھی اسکی آنکھوں مین زرا سا افسوس اور پچھتاوا نہیں تھا کہ وہ کیا کر چکی ہے۔۔

“آپ بتائیں کون سا ڈریس پہنیں گے یہ ڈارک بلو یہ آف وائٹ یہ گرے بلیک یا یہ براؤن۔۔” ایک ایک کر ان کے کپڑے بیڈ پر پھیلاتے وہ اب انکے سامنے کھڑی سوال پوچھ رہی تھی جو خاموشی سے بس اسے دیکھنے میں مصروف تھے۔۔

“شاہ مجھے یوں مت دیکھیں بلکہ بتائیں مجھے کونسا پہننا ہے مہمان آنا شروع ہوچکے ہیں پھر میں بزی ہوجاؤ گی۔۔” انہیں بولتی وہ ڈریسنگ کی جانب بڑھی تھی جب اسکی کلائی اچانک شاہنواز کی گرفت میں آئی شہوار نے چونک کر انہیں دیکھا جو اپنی جگہ سے اٹھ کر اسے اپنے قریب کر گئے تھے۔

“کیا ہوا شاہ؟” مسکرا کر پوچھتے اس نے اپنا ہاتھ ان کے چہرے پر رکھا تو وہ آہستہ سے اسکی ہتھیلی پر اپنے لب رکھ گئے۔

“تم جانتی ہو جو عورت ابھی نیچے آئی وہ کون ہے ۔۔” نہایت سنجیدگی طاری کئے انہوں نے سوال کیا تو شہوار نے ہاں میں سر ہلایا تھا

” میں جانتی ہوں اسے آپ کی کزن جس نے کسی اور سے شادی کرلی تھی۔” اس نے انہیں سابقہ منگیتر جیسا کچھ نہیں کہا تھا۔

“شہوار میں نہیں جانتا وہ یہاں کیوں۔۔”

“ششش۔۔۔” انہیں یوں صفائی دیتے دیکھ وہ ایک دم سے ان کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ گئی تھی۔

“یہ کیا بول رہے ہیں شاہ ایسے کیوں بول رہے ہیں ؟” ان کا یوں صفائی دینا اسکا دل دکھا گیا تھا۔

“در۔۔” وہ بے بسی سے اسے پکار بیٹھے تو اسکا دل دکھا تھا۔

“ادھر دیکھیں میری طرف کیا وہ اتںی ضروری ہے کہ اس کے لئے ہم آج کا دن اور آنے والے برباد کریں۔۔” ان کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ پوچھ بیٹھی تو انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

“تمہیں برا نہیں لگا اس کا آنا میرا ذکر کرنا تمہیں ڈر نہیں لگ رہا؟” وہ ناجانے اس سے کیا سننا چاہتے تھے ۔

“دیکھیں برا مجھے تب لگتا جب آپ اسکے پاس جاتے مگر آپ نہیں گئے اور ڈر مجھے تب لگتا جب مجھے آپ پر بھروسہ نہیں ہوتا یا آپ کو مجھ سے محبت نا ہوتی۔۔ مجھے آپ پر بھروسہ ہے اور خود سے کئی زیادہ ہے اور میں بھی جانتی ہوں ہمارے درمیان جو محبت اور اعتماد کی ڈور ہے نا وہ بہت مضبوط ہے جو کوئی بھی نہیں توڑ سکتا تو اس ہینڈسم سے چہرے پر پیاری سے اسمائل لائیں اور اچھے سے ریڈی ہو جائیں کیونکہ میرے لئے آج مقابلہ سخت ہوگیا ہے۔۔شرارت سے کہتے وہ انہیں بھی ہنسا گئی تھی جبھی شاہنواز نے زرا سا جھک کر اسکی مسکراہٹ کو چرایا تھا۔

یہ اتنا اچانک تھا کہ وہ لمحے کو گھبرائی اور پھر گھور کر شاہنواز کو دیکھا۔

اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی مارتی ہوں میں۔۔” ان کے بازو پر مکا مارتے اس نے جلدی سے انہیں چینج کرنے کے لئے بھیجا تھا اور خود شیشے کے سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی۔

اپنا عکس آئینے میں دیکھ چہرے پر چھائی مسکراہٹ کہیں غائب ہوئی تھی اور اسکی جگہ کئی پرسوچ لکیریں اسکے ماتھے پر ابھری تھیں۔

اپنی تیاری مکمل کرتے اس نے شاہنواز کی دلائی چوڑیاں اپنی کلائی میں ڈالی تھیں۔

ڈریسنگ روم کے دروازے پر ناجانے کب سے کھڑے شاہنواز نے اسکا کھویا کھویا انداز بیگ شدت سے محسوس کیا تھا وہ اتنی مدہوش تھی اپنی سوچوں میں کہ اسے ان کی آمد کی خبر تک نہیں ہوئی تھی اور یہ بات ہی ان کا دل دکھا گئی تھی۔

“در۔۔ در۔۔۔۔” اسے پکارتے وہ اس کی پشت پر آکر کھڑے ہوئے تب بھی اسکے سوچوں کا محور نہیں ٹوٹا تھا اب کی بار انہوں نے آہستگی سے اسے کندھوں سے تھام کر ہلایا تو وہ جیسے ہوش میں آئی تھی۔

“ججی۔۔۔جی۔۔” ایک دم سے چونکتے اس نے انہیں دیکھا جو چہرے پر سنجیدگی طاری کئے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔

“کچھ نہیں چلو آجاؤ سب انتظار کر رہے ہیں۔۔” اسکا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں قید کرتے وہ اسے ساتھ لئے نیچے آئے تھے جہاں سب پہلے سے ہی موجود تھے..

“آجاؤ شہوار چلو دیکھو سب تمہارا ہی پوچھ رہے ہیں اور تم ہو کہ بزی۔۔” انعم آپی اس سے ملتی مسکرا کر بولی تو وہ ان کے ہمراہ آگے بڑھی تھی

“ارے ماشاءاللہ ماشاءاللہ یہ اپنے شاہنواز کی دولہن ہے۔۔” پاکیزہ بیگم اور کلثوم بی کے پاس بیٹھی عورت یقیناً ان دونوں کی مشترکہ دوست تھیں جبھی اسے دیکھ وہ چہکی تھیں۔

“ہاں زلیخا یہ میرے شاہ کی دولہن ہے۔۔”

پاکیزہ بیگم نے اسکا ہاتھ تھامتے اپنے پاس بیٹھایا تو وہ مسکرا کر ان کے پاس بیٹھ گئی تبھی وہاں طوبی داخل ہوئی تھی جسے دیکھ وہاں ایک دم سے سناٹا چھایا تھا کسی کو یہ امید ہر گز نہیں تھی کہ وہ یوں اچانک آ جائے اور ڈھیٹ بن کر سب کے سامنے بیٹھے گی۔

“امی دادو انہیں نکال کیوں نہیں رہی ہیں۔۔۔”

ربعیہ کو اس کے رویے پر سخت غصہ آرہا تھا۔

“پاگل ہو اتنے مہمانوں کی موجودگی میں دادی اسے نکالیں گی تو سب دادی کو ہی برا بولیں گے۔۔” حنا بھابی کی جگہ افسانہ نے جواب دیا تو وہ منہ بنا گئی

“شہوار کا منہ کیسے اتر گیا ہے نا بیچاری کتنا خوش تھی اور اب یہ آگئی اور یہ اب چاچو کو اپنی طرف کرلے گی۔۔” اس بیچاری کو شہوار کی فکر ستائے جارہی تھی

“کیا فضول بکواس کر رہی ہو ربعیہ عقل کا استعمال کرنا نہیں آتا جاؤ باہر بابا کو بولو کھانا کھلوائیں اس نے آکر ساری خوشی خاک کردی۔۔” حنا بھابھی اسے جھڑکتے خود ہی باہر بڑھ گئیں

شہوار نے گردن موڑ کر انہیں باہر جاتے دیکھا تو اسکے دل کو کچھ ہوا تھا۔

“خیریت ہے طوبی تو یہاں کیا کر رہی ہے ؟” زلیخا بی اچانک ہی اس سے مخاطب ہوئیں تو ہر کوئی ان کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

لوگ چاہے جیسے بھی ہوں مگر ایسے موقعے پر مزہ لینا ہر گز نہیں بھولتے تھے۔

“کیا مطلب اس بات کا میں یہاں کیا کر رہی ہوں میری ماموں کا گھر میں جب چاہے یہاں آسکتی ہوں.” سخت لہجے میں جواب دیتے اس نے سر جھٹکا تھا۔

اسکی ادا کر کندھے پر آتے بال بکھرے تھے شہوار نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا وہ بےتحاشہ حسین تھی اتنی کہ اسے اندازہ ہوا کہ کیوں وہ شاہنواز کی محبت تھی۔

“شہوار۔۔۔” وہ اپنی سوچوں کے گرداب میں الجھی ہوئی تھی کہ انعم آپا کی آواز پر چونکی تھی۔

“آہ۔اہاں۔۔ہاں۔۔۔” کچھ نا سمجھتے وہ ایک دم بوکھلائی تو انہوں نے اسکا ساتھ تھاما تھا۔

“کیا ہوا کن سوچوں میں گم ہو ؟”

“نہیں تو کچھ نہیں میں کیا سوچوں گی۔۔” چہرے پر مسکراہٹ لاتی وہ اپنے دل کی حالت ان سے چھپا گئی۔

“کچھ بھی ایسا ویسا سوچنے سے پہلے شاہنواز سے لازمی بات کرنا شہوار مجھے یقین ہے میرا بھائی ساری الجھ سلجھا دے گا۔۔”

“میں کچھ بھی سوچ رہی آپی پریشان نہیں ہوں آپ میں زرا مہمانوں کو دیکھ لوں۔۔” انہیں تسلی دیتی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کچن میں آئی تھی۔

“لو آگئی شہوار میں ابھی تمہارے پاس ہی آنے والی تھی۔” حنا بھابی نے خوشدلی سے اسکا ہاتھ تھاما تو اسنے چونکتے ہوئے انہیں دیکھا۔

“کیا ہوا خیریت ۔؟”

“بلکل خیریت بلکہ خوشی کی خبر ہے۔۔” خوشی سے چہکتے انہوں نے کہا تو ان کا انداز ہی اسے مسکرانے پر مجبور کرگیا۔

اور جو بات انہوں نے بتائی وہ اسکی ساری بیزاری ہوا کر گئی۔

“سچ میں بھابی یار کتنا مزہ آئے گا ارے ایسا ہوا تو۔۔” وہ توقع کے عین مطابق خوشی سے پاگل ہوئی تو انہوں نے سکون کا سانس لیا ورنہ اسے یوں چپ دیکھ ان کا دل بھی اداس ہو گیا تھا۔

“کھانے کا سلسلہ شروع ہوا تو مصروفیت میں وہ ہر چیز بھول گئی پھر سب کی محفل لگی تو پاکیزہ بیگم نے سب کو اکٹھا کیا۔

“عدینہ آجاؤ بھئی۔۔” ان کی پکار پر عدینہ بھابی مسکراتی آگے آئیں اور حنا بھابی کو دیکھا۔

“بھابی آج میں اپنے زبیر کے لئے آپ سے ربعیہ کا رشتہ مانگنے آئی ہوں۔۔”

ان کی بات پر حنا بھابھی کو حیرت نہیں ہوئی کیونکہ اس بات سے وہ پہلے ہی اگاہ تھیں جبھی خوشدلی سے ہاں کہی تھی۔

ربعیہ بیچاری تو اس چانک افتاد پر بوکھلاتے اندر بھاگی تھی جبکہ افسانہ کی تو بتیسی ہی اندر نہیں جارہی تھی۔

“اب چونکہ خوشی کا موقع ہے تو فوزیہ کلثوم خالہ میں اپنے وقاص کے لئے شیزا کا ہاتھ مانگتی ہوں مجھے امید ہے آپ مجھے خالی ہاتھ نہیں رکھیں گی۔۔” اتنی اس سے مانگا گیا رشتہ بھلا کیسے منع کرتے وہ جبھی اس طرف بھی ہاں ہوئی تو چاروں طرف خوشیاں بکھر گئیں۔

“ویسے اصولاً تو افسانہ کو وقاص کے لئے لینا چاہیے تھا مگر انہوں نے تو ہمیشہ ہی آپ کو پیچھے رکھا ہے۔۔” عدینہ بھابی کے کام میں سرگوشی کرتی طوبی نے نخوت سے سامنے سب کو دیکھا تھا۔

جب کہ اس کی بات پر عدینہ بھابی کے چہرے پر ایک دم سختی آئی تھی۔