665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 12

محبت وہ ملی جو کسی اور کی تھی

رشتہ وہ ملا جو زبردستی کا تھا۔۔

ہم نے بھی ٹھان لیا ہے مگر۔۔

جو بھی ملا ہے سب نصیب میں تھا۔۔۔

اپنے ساتھ لائی ڈائری کا ورق پلٹتے کوئی پرانا سا شعر کی اسکی آنکھوں کے سامنے گزرا تو وہ بے ساختہ ہنسی تھی۔

“واہ رے قسمت جو کبھی ایسے ہی شغل میں لکھا تھا آج وہ حقیقت میں مل گیا۔۔” ڈائری واپس سے بیگ میں رکھتے وہ خود سے بولی تھی تھوڑی دیر بعد اسے ولیمے کے لئے تیار ہونے پارلر جانا تھا اسکے گھر والے تو کب کے نکل گئے تھے اور وہ بیچاری انعم آپی کا انتظار کر رہی تھی جو مارکیٹ تک گئی تھیں۔

“یار کوئی تو آجاؤ میں بور ہورہی ہوں۔۔”دروازے تک آتے وہ واپس اپنے قدم موڑ گئی تھی دولہن ہونے کا نقصان آج سمجھ آیا تھا۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی تو وہ جلدی سے سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔۔

“جی۔۔۔؟” اسکے بولتے کی دروازہ کھول کر وہ دونوں اندر داخل ہوئی تھیں جنہیں دیکھ اسنے ناراضگی سے رخ پھیرا تھا۔

اسکے منہ پھیرنے پر افسانہ اور ربعیہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔

“اگر تم دونوں مجھ سے بات کرنے آئی ہو تو جیسے آئی ہو چلی جاؤ قسم سے ایسی دوستیں ہوتی ہیں جب سے یہاں آئی ہوں ایک بار بھی ملنے نہیں آئیں۔۔” ناراضگی سے کہتے اسنے واپس سے چہرہ موڑا تو ان دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ آئی تھی۔

“یار ہم تو اسی میں کنفیوز گھوم رہے کہ تمہیں تم بولیں یا آپ ۔۔۔ شہوار بولیں یا چاچی ۔”

اسکے پاس دھپ سے بیٹھتے افسانہ نے اپنا دکھڑا رویا تھا۔

“اوو بھئی خدا کو مانو کوئی چاچی واچی نہیں شہوار بولو یا در بس۔۔۔ ” اسکے گلے میں ہاتھ ڈالتے وہ رعب سے بولی تھی۔

“اور ہاں میں ناراض ہوں اور ایسے نہیں مانو گی۔۔” واپس سے ہاتھ نیچے کرتے وہ دونوں ہاتھوں کو سینے پر باندھ کر منہ بنا گئی تھی۔

“اچھا نا در سوری یار ہمیں سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کیسے ریکٹ کریں جبھی ہم نہیں آرہے تھے اوپر سے چاچو کا بھی تو مسئلہ نا وہ تو ویسے ہی ہمیشہ غصے میں رہتے ہیں سیریس سے۔۔”افسانہ نے اداس سا چہرہ بنایا تو اسنے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا تھا۔

“اب ان کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں انکا دور گیا اب اور میرا شروع۔۔”اترا کر کہتے وہ جلدی سے الماری کی طرف بڑھی تھی۔

ان دونوں نے ستائشی انداز میں اس کا یہ اسٹائل مارنا دیکھا تھا۔۔

جب کہ الماری سے ان دونوں کے لئے گفٹ نکالتے وہ واپس ان کے پاس آئی تھی۔۔

“یہ گفت تم دونوں کے لئے رکھے تھے میں نے مگر تم لوگوں نے تو ایس آنکھیں ہھیریں کہ حد نہیں۔۔”منہ بسور کر ناراضگی کا بھرپور اظہار کرتے اس نے وہ پیکٹ ان دونوں کو تھمائے تھے۔

“یارا در سوری نا بھئی۔۔۔” اسکو کے گرد بازو پھیلاتے ربعیہ منمنائی تھی۔۔

“ہونہہ۔۔۔”اس نے مزید نخرہ دیکھاتے منہ پھیرا تو افسانہ نے ربعیہ کو اشارہ کیا۔

“اچھا پلیز مان جاؤ اگر تم مان گئیں تو ہم چاچو کا ایک راز تمہیں بتائیں گے۔۔”افسانہ نے ربعیہ کو آنکھ مار کر اسے کہا تو اسکا راز سن کر شہوار کے کان کھڑے ہوئے تھے۔

“ان کے پاسٹ کو چھوڑ کر کوئی اور بات ہے تو ڈیل ہوسکتی ہے کچھ۔۔”اس نے آئی برو آچکا کر ان دونوں کو کہا تو ربعیہ نے اشارے سے افسانہ کو منع کرنا چاہا تھا مگر وہ اسے چپ کروا گئی۔۔

“چاچو اس شادی سے بچنے کے لئے بھاگ رہے تھے وہ تو ارحم نے انہیں پیکنگ کرتے دیکھ لیا تو ہم نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔۔”افسانہ نے رازداری سے ادھر ادھر دیکھتے اسے بتایا۔۔

“سچ میں؟؟”یہ بات سن کر اسکی آنکھیں پھیل گئیں تھیں۔

“ہاں نا بعد میں دادی نے آکر ان کی کلاس بھی لی تھی۔۔”ربعیہ نے بھی اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا تھا۔

“لڑکیوں تم لوگ یہاں ہو پارلر نہیں جانا کیا اور شہوار بچے جلدی سے سارا سامان ایک بار دیکھ لو یہ آئیں گے تو پھر وقاص تم لوگوں کو چھوڑ کر آئے گا..”

دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر آتی انعم آپا نے ان تینوں کو ڈرا کر رکھ دیا تھا۔

افسانہ اور ربعیہ تو فوراً سے وہاں سے کھسکی تھیں جب کہ اسے یہ ڈر تھا کہیں انہوں نے کچھ سنا تو نہیں ۔

“کن سوچوں میں گم ہو ؟” اسے یوں ہی اسٹل کھڑا دیکھ انعم آپا نے اسکا ہاتھ ہلایا تو وہ ایک دم چونکی تھی مگر پھر نفی میں سر ہلاتے اس نے اپنا بیگ ان کے سامنے رکھا تھا۔

“پھپھو انکل آگئے ہیں وقاص بھائی ویٹ کر رہے ہیں نیچے۔۔” ربعیہ کی آواز پر انہوں نے جلدی سے اسے چادر تھمائی تھی۔

“شہوار وہ میری دوست ہے تو کوئی بھی مسئلہ ہو تو فوراً سے اسے بول دینا اگر میک اپ پسند نا آرہا ہو تب بھی شرم کی وجہ سے چپ نہیں رہنا۔۔”اسے لئے نیچے اترتے وہ مسلسل بول رہی تھیں۔

“عدینہ تم جارہی ہو بچیوں کے ساتھ؟”وہ دونوں نیچے آئیں تو سامنے عدینہ بھابھی کو بھی تیار پایا تھا۔

“ہاں امی بول رہی ہیں نئی دولہن کو اکیلے نہیں چھوڑنا ہے۔،”

“اچھا ٹھیک ہے تم تیار ہوکر آؤ پھر میں اور بھابھی جائیں گے۔۔”

وہ بول کر اندر بڑھی تھیں جب کہ باہر سے اندر آتے شاہنواز کو اس نے گھور کر دیکھا تھا۔

انہوں نے ناسمجھی سے اسکا یوں گھورنا ملاحضہ فرمایا تھا۔

“اس لڑکی میں زرا شرم نہیں ہے یوں سب نے سامنے گھور رہی ہے۔۔”خود سے بولتے وہ اندر کی طرف بڑھے تھے۔

اس نے ایک نظر آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھا تھا۔

بلاشبہ پارلر والی نے بہت مہارت سے اس کے ایک ایک عکس کو ابھارا تھا۔

اس نے لینز نہیں لگائے تھے مگر اس کی آنکھیں زرا سے میک اپ سے ہی بے حد خوبصورت لگ رہی تھیں۔۔

اس کے ساتھ اس وقت حنا بھابھی اور انعم آپی تھیں باقی سب تو کب کے حال پہنچ چکے تھے اسکے گھر والوں سمیت۔۔

وقاص باہر آگیا تھا۔

وہ ان دونوں کے ہمراہ حال پہنچی تھی۔

“آپی آپ ان کو بلا دیں۔۔”کچھ سوچ کر اس نے آہستہ سے انعم آپا کو کہا تھا جنہوں نے مسکرا کر سر ہلاتے شاہنواز کو آواز دی تھی۔

“شاہ۔۔۔۔شاہنواز۔۔۔۔۔”وہ دور کھڑے مہمانوں کو ریسو کر رہے تھے انعم آپا کی آواز پر سجاد صاحب کو بولتے وہ کار تک آئے تھے۔

“جی آپی؟؟”

“بھئی آپ کی دولہن آپ کو یاد کر رہی ہیں زرا ان کی بات تو سن لیں آپ۔۔”شرارت سے کہتے انہوں نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا تھا۔

جہاں وہ کھڑکی سے جھانکتے انہیں ہی دیکھ رہی تھی نظریں ملنے پر اس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں بلایا تھا۔

اس حرکت پر وہ بس دانت پیس کر رہ گئی کیونکہ سب کی نظریں ہی ان دونوں پر تھیں۔

بہن کی موجودگی کا لحاظ کرتے وہ گاڑی کے پاس آئے تھے۔

“کیا ہوا ہے؟ کیوں اشارے کر رہی ہو صبر نہیں ہورہا تھا۔۔” آواز نیچے کئے وہ غصے کو ہر ممکن طور کر کنٹرول کر رہے تھے۔

ان کے اس انداز پر اس نے آنکھیں گھما کر بیزاری کا مظاہرہ کیا تھا۔

“بات سنیں شاہ ۔۔۔۔! یہ میرا ولیمہ ہے جو روز روز نہیں ہوگا اس لئے جیسا میں نے سوچا ہے مجھے ویسا سب ہی کرنا ہے اور اگر آپ نے کوئی گڑبڑ کی تو یاد رکھئے گا ساری زندگی میرے ساتھ ہی گزارنی ہے کہیں پاگل ہی نا ہو جائیں۔۔” انہیں دھمکی دیتے اس نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تھا۔

“کیا؟”اس کا بڑھا ہاتھ دیکھ کر وہ جو اسے سنانے کے لئے کچھ سوچ رہے تھے اچانک پوچھ بیٹھے۔

“کیمرہ مین سامنے کھڑا ہے اسے بلائیں اور ایسا پوز بنوائیں اور یہ کریلا جیسا منہ نہیں آنا چاہیے ورنہ ساری زندگی طعنہ دے دے کر آپ کو آدھے سے پورا پاگل کر دوں گی ۔” اسکی بات پر انہوں نے شاکڈ کیا تھا وہ انہیں آدھا پاگل بول رہی تھی۔۔

“کچھ زیادہ زبان نہیں چل رہی ہے؟”ماتھے پر بل ڈالے انہوں نے زرا سا جھک کر اسے کہا تو وہ کھل کر مسکرائی تھی۔

“جب میں زیادہ حسین لگتی ہوں نا خود کو تو میں زیادہ بولتی ہوں اب پلیز اچھے ہسبیںڈ کی طرف کام کریں اور میری اور اپنی دونوں کی فیملی کو ٹینشن سے آزاد کریں جو ہم دونوں کی طرف سے انہیں ملی ہوئی ہے۔۔”اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر ان کا ہاتھ تھامے وہ آہستہ سے گاڑی سے اتری تھی۔

ہیل کی وجہ سے اچانک ہی اسکا پاؤں مڑا تھا کہ اچانک شاہنواز نے اسکے گرد اپنا حصار کر اسے سنبھالا تھا۔

“بس زبان ہی چلانی آتی ہے چلنا نہیں آتا۔”تنک کر کہتے انہوں نے اسکی میکسی کو سائیڈ کیا تھا۔

جس پر اس نے زرا سا مسکرا کر انہیں دیکھا تھا اور پھر ان پر اٹھی کئی نظروں میں جیسے سکوں سا آیا تھا۔

کیمرہ مین ان کے ساتھ ساتھ تھا اور وہ ان کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے ان کے قدم سے قدم ملاتے آگے بڑھ رہی تھی اس کے چہرے پر کھلی مسکان نے اس کی دادی اور ساس دونوں کو فکروں سے آزاد کیا تھا۔

اس نے ایک نظر مسکرا کر شاہنواز کو دیکھا تھا۔

“شاہ۔۔۔ تھوڑا سا مسکرا دیں سڑے ہوئے کدو لگ رہے ہیں۔۔”وہ جو اس کی بات سننے کو زرا سا جھکے تھے اسکی بات پر ایک گھوری سے اسے نوازتے سر جھٹک گئے تھے۔

“در شہوار دولہن اتنا بولتی اچھی نہیں لگتی اس لئے منہ بند کرلیں آپ ۔۔” انہوں نے سب کی نظریں خود پر محسوس کر آہستہ سے اسکی منت کی تھی جو ایک نظر انہیں دیکھ کر سر جھکا گئی تھی کیونکہ جو اسے کرنا تھا وہ کام تو ہوگیا تھا۔۔

اینٹری کے بعد وہ ایک ایک کر سب سے ملی تھی۔

“کیسی ہو شہوار ؟؟” شمع بیگم کو وہ کب سے نظر انداز کرنے کی کوشش کررہی تھی مگر ان کے سامنے آنے پر اس نے زرا سا اردگرد دیکھا تھا ۔

“میں ٹھیک ہوں مما خوش ہوں بہت ۔۔”۔

“میری دعا ہے تم یونہی خوش رہو اور تمہیں اور تمہاری امی کو پچھتانا نا پڑے۔۔”

“بد دعا دے رہی ہیں؟” اس کے سوال پر وہ ہلکا سا مسکرائی تھیں۔

“میں بد دعا دے کر کیا کروں گی۔؟ میری اولاد ہو تم۔۔”

“مجھے اس بات پر شک ہے کہ میں آپ کی اولاد ہوں خیر میرے گھر آئی ہیں تو اچھے سے کھانا وغیرہ کھا کر جائیے گا کیونکہ میں نہیں چاہتی بعد میں میرے سسرال والوں کو باتیں سننی پڑے۔۔”چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ اپنی بات کہہ کر رکی نہیں تھی۔

“شہوار ٹھیک ہو کیا بول رہیں تھیں وہ؟؟” اس کے پاس آتے فوزیہ بیگم نے جلدی سے اس سے پوچھا تھا۔

“کچھ نہیں چچی بس یہ ہر بار میرے دل سے اپنی محبت ایک درجہ مزید کم کر دیتی ہیں۔۔”

اس نے آہستہ سے ان کی طرف دیکھ کر کہا تھا انہوں نے افسوس سے سر ہلایا ۔

فوزیہ بیگم کے ساتھ وہ اسٹیج پر آکر بیٹھی تھی پہلے کی دولہن اچھی ہوتی تھی ایک جگہ بیٹھ جاتی تھیں یہاں تو اسے ادھر ادھر گھومنا پڑ رہا تھا وہ بھی بغیر دولہے کے ۔۔

گھر جانے سے فلحال اس نے خود ہی منع کردیا تھا کلثوم بی کو وہ ابھی اس رشتے کو وقت دینا چاہتی تھی دوسرا پاکیزہ بیگم نے بھی اسے یہاں رکنے کا کہا تھا وہ چاہتی تھیں شاہنواز اور وہ زیادہ سے زیادہ وقت ساتھ گزاریں۔

اس لئے وہ لوگ بنا اسے لئے ہی چلے گئے تھے ان لوگوں کے نکلتے ہی وہ لوگ بھی گھر آئے تھے۔

پاکیزہ بیگم نے سب سے پہلے شکرانے کے نفل ادا کئے تھے کہ سب ساتھ خیریت سے ہوگیا تھا۔

کھانا وغیرہ کھا کر وہ بھی اپنے روم میں آئی تھی مہمان تو کچھ آج چلے گئے تھے اور باقی نے کل جانا تھا۔

اور پھر اسکا اصل امتحان شروع ہونا تھا۔۔

وہ چینج کر کے مزے سے بیڈ پر لیٹی تھی تبھی دروازہ کھلا تھا اور شاہنواز اندر آئے تھے۔

انہیں دیکھ کر بھی وہ اپنی جگہ سے ہلی نہیں تھی ۔

“تم گئی نہیں اپنے گھر ؟؟ کیا اتنی بیزار تھیں اپنے گھر سے؟” دن کا پورا بدلہ چکانے کو انہوں نے نہایت کاٹ دار لہجے میں اس پر طنز تھا۔

“نہیں نا اگر میں چلی جاتی تو آپ کو بھاگنے کا موقع مل جاتا ۔۔” آنکھیں پٹپٹاتے اس نے معصومیت سے کہتے ان کے سر پر بم پھوڑا تھا۔

“کیا فضول بول رہی ہو۔۔؟”وہ فوراً سے اپنا کہا بھول گئے تھے.

“ہائے۔۔ کیا زمانہ آگیا ہے پہلے لڑکیاں بھاگا کرتی تھی اب یہاں آدمی۔۔۔۔۔ بھاگنے لگے ہیں…” اس نے آدمی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا۔

“مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔۔؟” اسکی بات پر وہ غصے سے اسکی طرف بڑھے تھے ۔

“اہاں میں نے تو آپ کو کچھ نہیں کہا اب آدمی کی داڑھی میں ہی تنکا ہو تو میں معصوم بھلا کیا کر سکتی ۔۔” اپنی جگہ سے اٹھتے وہ افسوس سے سر ہلاتی ان سے پہلے واشروم میں بند ہوئی تھی اور وہ بس خود پر ضبط کرکے رہ گئے ۔۔