665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 7

“میں بہت خوش ہوں بچے تم نے اپنی بوڑھی دادی کا مان رکھا۔۔”اسکے سر پر سرخ زرتار کا دوپٹہ اوڑھاتے کلثوم بی نے اسکا ماتھا چوما تھا۔۔

کچھ ہی دیر میں نکاح کی رسم ادا کی جانے والی تھی۔

یہ بھی قسمتوں کے کی کھیل وہ جو کسی اور کی منگنی میں شریک ہونے آئی تھی اسکی تو سوچ میں بھی نہیں ہوگا کہ اسکی قسمت اسے یہاں لیکر آئی ہے اسکا نصیب یہاں جڑا تھا۔

دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے اپنی دادی کا ہاتھ تھاما تھا۔

دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ بڑھی ہوئی تھی ایک ڈر جو شاہنواز کی جانب سے تھا وہ چاہ کر بھی کسی کو بتا نہیں پا رہی تھی اس نے یہ رسک لیا تھا اس نے اپنے دل کی سنی تھی اور اب آخر کار وہ بند لمحوں میں کسی اور کے نام ہوجائے گی۔

“ماشاءاللہ۔۔۔ ” کمرے میں داخل ہوتی حنا بھابھی اور فوزیہ بیگم نے اسے دیکھ ایک ساتھ کہا تھا فوزیہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسکا ماتھا چوما تھا۔

“کلثوم خالہ امی شہوار سے کچھ بات کرنا چاہتی ہیں۔۔”حنا بھابھی نے انہیں پاکیزہ بیگم کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلاتے اسے اٹھایا تھا اور باہر کی جانب بڑھی تھیں۔

گھر آئے مہمانوں میں الگ ہی ہلچل مچی ہوئی تھی کیونکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ شاہنواز کا نکاح ہوجائے گا۔۔

وہ آہستہ سے قدم بڑھاتے حنا بھابھی کی ہمراہی میں پاکیزہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوئی تھی جہاں وہ بستر پر نیم دراز تھیں۔

چوڑیوں کی کھنک پر انہوں نے بند آنکھوں کو کھول سامنے دیکھا تھا۔

سامنے کا منظر انہیں جیسے خواب لگا تھا ان کے سرہانے بیٹھی افسانہ نے انہیں سہارا دے کر بیٹھایا تھا تب انہوں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے پاس بلایا تھا۔۔

“تم لوگ جاؤ تیاری دیکھو مجھے میرے شاہ کی دولہن سے باتیں کرنی ہیں۔۔”

ان کے کہنے پر حنا افسانہ کو اشارہ کرتی خود باہر کی جانب بڑھ گئیں تو اسنے آہستہ سے قدم بڑھاتے ان کا پھیلا ہوا ہاتھ تھاما تھا۔

پاکیزہ بیگم نے اسکا نرم و ملائم ہاتھ تھام اسے اپنے پاس بیٹھایا تھا اور محبت سے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں بھر اسکا ماتھا چوما تھا۔

“میرے شاہ ہی دولہن بلکل چاند سی ہے “اپنے لئے دولہن لفظ سن اسکا دل زور سے دھڑکا تھا۔

“اپنی اس ماں سے ناراض تو نہیں ہے نا بچے میں نے یوں رشتہ مانگا کیا میں نے تمہارے ساتھ زیادتی تو نہیں کردی۔۔”

“ہونہہ یہ دیکھو مجھے جو بات سب سے پہلے پوچھنی چاہیے تھی وہ میں سارے فیصلے ہونے کے بات پوچھ رہی ہوں۔۔”اپنی بات پر خود ہی افسوس سے سر ہلاتے انہوں نے اسکے ہاتھوں پر اپنا دباؤ بڑھایا تھا۔

“آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ آپ نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے؟” آہستہ سے ان سے سوال کرتی وہ انکے جھریوں زدہ ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ گئی تھی۔

“میرے بچے۔۔”انہوں نے کچھ کہنا چاہا تھا مگر وہ ایک دم سے ان کے ہاتھ پر دباؤ بڑھاتے انہیں روک گئی.

“اونہوں ایک طرف اپنا بچہ بول رہی اور پھر ایسی باتیں کر رہی ہیں آپ لوگوں کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر اور یہ میری ماں کا میرے لئے فیصلہ ہے اور میں جانتی ہوں وہ کبھی میرے لئے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرینگی جو میرے لئے غلط ہو۔۔اور رہی زیادتی کی بات تو ایسا کہنا بھی غلط ہے میری دادی کہتی ہیں اللّٰہ پاک نے پہلے ہی ہمارے لئے چیزیں رکھی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ صحیح وقت آنے پر ہمیں ملتی ہیں اور مجھے اب لگتا ہے کہ شاید یہ سب اسی وقت پر ہونا تھا تو آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔”

انہوں نے حیرت سے اس چھوٹی سی گڑیا کو دیکھا تھا جو بظاہر اتنی لاپرواہ لگتی تھی مگر آج انہیں وہ اپنی عمر سے بڑی لگی تھی جسے پتا تھا کہ اسکا ایک فیصلہ سب کی زندگی بدل سکتا ہے۔

“میں شاہ کے ماضی کے حوالے سے کچھ باتیں بتانا چاہتی ہوں۔۔”

“اونہوں۔۔۔”ان کے کہنے پر اسنے نفی میں سر ہلایا تھا۔

“آپ مجھے کچھ نہیں بتائیں گی جو بتائیں گے وہ مجھے خود بتائیں گے جب انکا دل کرے گا میں ماضی کی کسی بات کو جان کر ان پر رحم نہیں کھانا چاہتی۔۔۔ میں چاہتی ہوں میں ان سے شادی کروں تو اپنے دل کی پوری رضا سے نا کہ ان کے ساتھ زیادتی پر رحم کھا کر۔۔۔ انہیں جب مناسب لگے گا وہ مجھے خود بتا دینگے۔۔”اسکے چہرے پر کھلی مسکراہٹ دیکھ ان کے دلوں میں ڈھیروں سکون اتر آیا تھا۔

“چلو اب میں خود اپنے شاہ کی دولہن کو لے کر جاؤ گی۔۔”

خوشی ان کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔

کتنا ہی اچھا جو ہر کوئی دوسرے کے بارے میں سوچنا شروع کردے زندگی میں سکون سا آجاتا ہے دوسروں کو اپنی وجہ سے خوش دیکھ کر۔۔

ان کی پکار پر افسانہ ربعیہ شیزا تینوں ہی اندر آئی تھیں شیزا نے اسکا ہاتھ تھاما تھا جبکہ وہ دونوں پاکیزہ بیگم کو تھامتی آگے بڑھی تھیں۔

“مجھے یقین نہیں آرہا در تیری سچ میں شادی ہورہی ہے وہ بھی جیسا ہیرو سوچا تھا بلکل ویسے ہی شخص سے۔۔”شیزا پوجقز سی اس کے کان کے پاس بولی تھی۔

آسان لگتا ہے ایسا بولنا مگر یہ کوئی ناول نہیں تھا جہاں سب جلدی جلدی ٹھیک ہونے والا تھا وہ جانتی تھی اسے اس نئے سفر میں بہت صبر سے کام لینا ہوگا۔۔

اس نے ایک نظر سامنے دیوار گیر آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا تھا افسانہ اور عدینہ بھابھی نے اسے بلکل دولہن کی طرح تیار کیا تھا کیا اس کا نصیب بھی اتنا ہی خوبصورت ہوگا کتنی وہ آج کے دن لگ رہی ہے؟ اس نے خود سے سوال کیا تھا

مگر جواب فلحال اسکے پاس نہیں تھا۔

“کن سوچوں میں گم ہوگئی ہو؟؟”اسے سوچوں میں گھیرا دیکھ شیزا نے اسکا بازو ہلایا تو وہ جیسے ہوش میں آئی تھی۔۔

“ہوں۔۔نہیں کچھ نہیں ۔۔”مسکرا کر سر ہلاتے اسنے آنکھوں میں آئی نمی کو چھپایا تھا اس موقع پر وہ رونا نہیں چاہتی تھی اسے اللّٰہ پر یقین تھا اور اسی یقین کے ساتھ اس نے باہر کی طرف قدم بڑھائے تھے۔۔

دونوں ہاتھوں کو پشت پر باندھے وہ کھڑکی کے سامنے کھڑے بادلوں کی اوٹ سے جھانکتے اس چاند کو دیکھنے میں مصروف تھے جس کی روشنی ان کے چہرے پر پڑھ رہی تھی۔

آج وہ اس روشن چاند سے بھی خائف تھے بلکہ وہ سب سے خائف تھے یہ چاندنی رات یہ ٹھنڈی ہوا یہ سب ماضی کی یاد دلا رہی تھی۔۔

جب وہ آنگن میں لگے جھولے پر بیٹھ انہیں دن بھر کی رواداد سناتی تھی اور وہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسکی سنتے رہتے تھے خود کو ہمیشہ سے اس سے منسوب رکھا تھا اور اب۔۔۔

انہیں نے سختی سے آنکھیں میچ کر اپنے اندر کی تلخی کو ختم کرنا چاہا تھا اندر ہی اندر کو زہر گھل رہا تھا وہ اسے ختم کرنا چاہتے تھے۔۔

“شاہ۔۔۔۔”وہ جو اپنی ہی سوچوں کے بھنور میں الجھے ہوئے تھے سجاد صاحب کی پکار پر ان تلخی بھری سوچوں سے باہر آئے تھے اور زرا سی گردن ترچھی کرکے اپنے بھائی کو دیکھا تھا۔

ان کی حالت سے وہ ناواقف نہیں تھے مگر وہ کچھ نہیں کرسکتے تھے وہ کچھ کرنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ اب سوال ان کے بھائی کی خوشیوں سے زیادہ اسکی عزت کا تھا وہ اب مزید اپنے بھائی پر کوئی بات برداشت نہیں کرسکتے تھے۔

“بھائی۔۔۔”شاہنواز نے بہت بےبسی سے انہیں پکارا تھا۔

“بھائی کی جان۔۔۔”سجاد صاحب نے آگے بڑھ کر ان کے چوڑے شانوں کو تھاما تھا۔

“میں نہیں کرسکتا بھائی۔۔”اپنے بھائی کا سہارا پاتے ہی وہ التجا کر رہے تھے سجاد صاحب کو ان کی حالت پر رحم بھی آیا مگر یہ وقت رحم کھانے کا نہیں تھا۔

“سب ٹھیک ہو جائے گا وقت کے ساتھ اور ابھی کونسا رخصتی ہورہی ہے صرف نکاح ہورہا ہے اور اب چلو سارے مہمان منتظر ہیں۔۔”

ان کی پرواہ کئے بغیر سجاد صاحب انہیں لئے باہر آئے تھے انہیں آتا دیکھ سب کی رکی ہوئی سانسیں بحال ہوئی تھیں۔

پاکیزہ بیگم نے آگے بڑھ کر اپنے لخت جگر کا ماتھا چوما تھا کتنی خواہش تھی یہ دن دیکھنے کی اور آج بالآخر وہ دن آگیا تھا۔

کلثوم بی نے آگے بڑھ کر ان کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

وہ سپاٹ چہرہ لئے سب کے درمیان بیگانے سے بیٹھے تھے جیسے نکاح ان کا نہیں کسی اور کا ہو رہا ہو۔۔

“چلو بچیوں میرے ساتھ اپنے شاہ کی دولہن کو لے کر آئیں۔”

خوش خوش سی پاکیزہ بیگم کی آواز میں آج الگ ہی کھنک تھی جسے شاہنواز نے صاف محسوس کیا تھا انہوں نے سر اٹھا کر اپنی ماں کا جھریوں زدہ چہرہ دیکھا تھا جہاں آج خوشی ہی خوشی تھی ان کے کانوں میں ایک دم ہی شہوار کے جملے گونجے تھے۔

“کیا میں واقعی خود غرض ہوں؟”انہوں نے خود سے سوال کیا تھا

وہ اپنی سوچوں کے بھنور میں گم تھے جب اچانک سے شور کی آواز پر وہ ہوش میں آئے۔

سامنے ہی انہوں نے اپنی ماں کا دمکتا چہرہ دیکھا اور ان کے ہاتھ میں وہ مہندی سے بھرا ہاتھ۔

گھونگھٹ میں چھپا چہرہ مگر ان کے دل میں کوئی احساس جاگ ہی نا سکا۔

ایک وحشت سی تھی جس نے انہیں اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔

دوسری طرف ہر بڑھتا قدم اسکے دل کی دھڑکن کو منتشر کر رہا تھا دل میں یہ بات بھی تھی کہ اسکا ہمسفر اسے پسند نہیں کرتا وہ نہیں جانتی تھی اس سفر کا اختتام اسکی ہار پر ہوگا یا وہ جیت جائے گی مگر اسنے خود سے عہد کیا تھا کہ وہ کوشش ضرور کرے گی کیونکہ نکاح کے بندھن میں اتنی طاقت تو ہوتی ہی ہے۔

اسے لے جا کر شاہنواز کے سائیڈ پر بیٹھایا گیا تھا وہ جو ہمیشہ سے نڈر و بے خوف رہی تھی آج اسکا دل جیسے باہر نکلنے کو تھا اپنی حالت دیکھ اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔

نکاح خواں آگئے تھے سجاڈ صاحب جے کہنے پر نکاح شروع کیا گیا تھا۔۔

سب خوش تھے بہت مگر دل میں کہیں ڈر بھی تھا۔۔

نکاح شروع ہوا تو سب سے پہلے شہوار کی رضامندی پوچھی گئی۔۔

کلثوم بی نے نم آنکھوں سے اپنی پوتی کو دیکھا تھا۔

اسکا اقرار سن مولوی صاحب نے اب شاہنواز کو مخاطب کیا تھا۔

“کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے.”

مولوی صاحب کے پوچھنے کے باوجود ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو ان سب کے چہروں پر تفکرات کے سائے لہرائے تھے۔

“کیا آپ یہ نکاح قبول ہے؟” مولوی صاحب نے ایک بار پھر اپنے الفاظ کو دھرایا تھا۔

“شاہنواز آپ صرف مجھ سے ہی شادی کرینگے کیونکہ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔”ماضی کی بھولی بسری یاد ایک بار پھر ان پر حاوی ہوئی تھی اس سے پہلے وہ انکار کرتے انہوں نے اپنے ہاتھ پر اپنی ماں کا کپکپاتا ہاتھ محسوس کیا تھا۔

بے بسی کے احساس سے ان کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔

“قبول ہے۔۔”

ان دو لفظوں نے وہاں موجود سب نے چہروں پر خوشیاں بکھیر دی تھیں۔

شہوار کا کب کا رکا سانس بحال ہوا تھا

ایجاب وقبول کے بعد دعا ہوئی اور مبارک سلامت کا سلسلہ شروع ہوا۔

پاکیزہ بیگم نم آنکھوں سے ان کے گلے لگی تھیں۔

“مجھے یہ خوشی دینا کا بہت شکریہ بیٹا اللہ تمہیں سدا خوش رکھے۔۔” ان کا ماتھا چومتے انہوں نے پیسے ان دونوں نے سر کر وارے تھے۔

بہت بہت مبارک ہو بھی اب کو۔۔۔ مٹھائی سب میں تقسیم کرتے حنا اور عدینہ بھابھی نے سب کو مبارکباد دی تھی۔

خوشیوں بھرے ماحول سے گھبراتے وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھے تھے اور معذرت کرتے باہر نکلتے چلے گئے۔

سب نے حیرت سے انہیں دیکھا تھا۔

خوشیوں بھرے ماحول میں ایک دم سے سناٹا چھایا تھا۔

“ارے بھئی ہماری شہوار کی شادی ہے چلو نا گانے لگاؤ۔۔۔”شیزا نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسپیکر پر گانے لگائے تھے تاکہ ماحول پر چھائی کشیدگی کم ہو۔

شہوار سے زرا سے گردن گھما کر اس راستے کو دیکھا تھا جہاں سے ابھی کچھ دیر پہلے وہ گئے تھے۔

اپنی ناقدری پر وہ کھل کر مسکرائی تھی۔۔