665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 5

“اماں میری بات سنیں۔۔۔”وہ اس وقت سب کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں جب اچانک ہی وسیم صاحب نے انہیں بلایا تھا۔

اپنے بیٹے کے چہرے پر رقم پریشانی دیکھ وہ سب سے معذرت کرتیں اٹھ کر باہر آئی تھیں۔

“کیا ہوگیا ہے وسیم سب خیریت ہے؟”

“امی لالو چاچا کو فون آیا تھا شمع باجی گھر آگئی ہیں شہوار کو لینے۔۔”ان کی بات پر وہ خود بھی پریشان ہوئی تھیں۔

“وہ کیوں ایسا کر رہی ہے وسیم ہم یہاں ہے اور میں اپنی شہوار کو ایسے اس نے حوالے نہیں کرونگی۔۔”

وہ اچھے سے جانتی تھی اس جلد بازی کا مقصد اپنے سسرال میں اپنا مقام مضبوط کرنے کے لئے وہ شہوار کو سیڑھی بنا رہی تھیں کیا وہ جانتی نہیں تھیں اس خاندان کو جانتے بوجھتے وہ اپنی شہوار کو جہنم میں نہیں جھونک سکتی تھیں۔

“امی شہوار کو میں کبھی ان کے ساتھ نہیں جانے دوں گا وہ میرے بھائی کی امانت ہے میرے پاس۔۔”وسیم صاحب نے دوٹوک انداز میں انہیں اپنا فیصلہ بتایا تھا تاکہ وہ شمع کی باتوں کا اچھے سے جواب دے سکیں۔۔

“مجھے سوچنے سے وسیم کچھ فلحال اس باپ کا ذکر کسی سے نا کرنا۔۔”انہیں واپس بھیج وہ پریشان سی پاکیزہ بیگم کے کمرے میں آکر بیٹھی تھیں۔

یہ سوچ ہی پریشان کرنے والی تھی کہ شمع اسے لینے آگئی ہے تو ضرور شہوار یہ سب جان کر بھڑک جائے گی اور اگر ایسا ہوا تو جو اس کے دل میں اپنی ماں کو لے کر تھوڑی بہت محبت ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔۔

وہ انہیں سوچوں میں گم تھیں جب انکا موبائل بجا تھا۔

اپنی سوچوں میں گم انہوں نے کال یس کر کے کان سے لگائی تھی یہ جانے بغیر کے آنے والی کال ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرے گی.

“ہیلو اماں آپ لوگ ایسے کیسے کرسکتے ہیں میں نے وسیم کو کہا تھا میں آؤنگی تو وہ میری بیٹی کو یہاں سے لے گیا..”شمع کی غصیلی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی تھی۔

“شمع۔۔”انہوں نے کچھ کہنا چاہا تھا مگر وہ بیچ میں ہی ان کی بات کاٹ گئی۔۔

“کیا شمع اماں کیا شمع؟ اپنی بیٹی آپ لوگوں کو دی تھی اسکا مطلب یہ نہیں تھا کہ میں نے اسکے سارے اختیارات آپ سب کو دے دئیے میں آرہی ہوں صبح کراچی اپنی بچی کو ہمیشہ کے لئے اپنے پاس لے جانے کے لئے۔۔”

“تم ایسا کچھ نہیں کروں گی وہ میرے سلیم کی نشانی ہے شمع اسکی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ میں تمہیں یوں نہیں کرنے دے سکتی کیوں تم جانتے بوجھتے اسے جہنم میں پھینکنا چاہ رہی ہو۔”وہ چیخ اٹھی تھیں شمع کی بات کر۔

“اماں بس کردیں جہنم میں پھینکوں یا جنت میں یہ میرا فیصلہ ہے میری ساری زندگی کی خوشیاں جڑی ہیں اور رہی بات اسے جہنم میں پھینکنے کی تو ہر لڑکی چکو برداشت کرنا پڑتا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوجاتا ہے۔۔ میں آرہی ہوں کل اسے لینے پاکیزہ خالہ کا گھر مجھے ویسے بھی پتا ہے۔۔”اپنی بات کہہ کر وہ مزید کچھ کہے فون بند کرگئی تھیں۔

اسکا سر بری تھی کسی چٹان سے ٹکرایا تھا۔۔

“ہائے اللّٰہ۔۔۔”بری طرح دکھتے سر کو تھامتے اس نے سر سا نظریں اٹھا کر سامنے والے کو دیکھنا چاہا تھا مگر شاہنواز جو دیکھ اسنے بے ساختہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپایا تھا۔

“ٹھیک ہو تم؟؟”اسے یوں منہ چھپائے دیکھ انہوں نے سوال کیا مگر وہ نظر انداز کرتے جلدی سے رخ موڑ گئی اپنا یہ آدھے ادھورے میک اپ والا چہرہ انہیں دیکھا کر وہ شرمندہ تو ہر گز نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔

“منہ پر لگی ہے کیا تمہارے لڑکی؟؟”اس کو منہ چھپا کر بھاگتے دیکھ انہوں نے پھر اسے سوال کیا تھا۔۔

“جج۔۔۔جی۔ٹھیک ہوں۔۔”جواب دے کر وہ پوری اسپیڈ سے وہاں سے بھاگی تھی مگر برا ہوا قسمت کا کہ سامنے رکھے اسٹول میں اپنا پیر مار بیٹھی خفت سے اسکا برا حال ہوا تھا۔۔۔

“ہائے اللّٰہ۔۔”

“تم ٹھیک ہو۔۔؟”

“وہیں رہیں پلیز وہیں رہیں۔۔”ان کے بڑھتے قدموں کی آواز پر اس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں وہیں رکنے کا کہا تھا۔۔

اپنی چپل چھوڑتے اس نے الٹی سیدھی چپل جلدی سے پیروں میں ڈالی تھی اور پوری اسپیڈ سے گرتے پڑتے وہ واجب سے رفو چکر ہوئی تھی۔

شاہنواز سے حیرت سے اس عجیب و غریب مخلوق کو دیکھا تھا جو الٹی سیدھی چپل پہن کر ان کے سامنے سے بھاگی تھی۔۔

“یہ کون سا نمونہ ہے؟”خود سے بولتے وہ سر جھٹک کر آگے بڑھے تھے جبکہ وہ بیچاری۔۔

کمرے سے آتے اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا تھا۔۔

“اللّٰہ پوچھے شیزا جیسا شرمندہ کروایا ہے مجھے۔۔”اپنا چہرہ آئینے میں دیکھ اسکا دل جل کر خاک ہوا تھا۔

اس نے جلدی جلدی سے ہاتھ چلاتے اپنا میک اپ مکمل کیا تھا اور جیولری پہن کر ابھی وہ سینڈل پہن ہی رہی تھی جب شیزا ایک بار پھر اسکے پاس آئی تھی اور حفظ ماتقدم کے طور پر وہ ساتھ میں افسانہ اور ربعیہ کو بھی لائی تھی۔

شہوار نے گھور کر اسے دیکھا تو وہ میسنی معصومانہ چہرہ بنا کر کانوں کو ہاتھ لگا گئی.

“کیا ہے بھئی شہوار تیار ہوکر تو تم مزید حسین ہوگئی ہو ۔” اسے دیکھ ربعیہ سے رہا نہیں گیا تھا

وہ اس وقت گولڈن گھٹنوں تک آتی فراک پہنے ہوئے تھے جس کا دوپٹہ لال رنگ کا تھا کانوں میں جھمکی پہنے اس نے ہاتھوں میں لال ہی چوڑیاں پہنی تھیں۔

کھولے بالوں کو اسنے آگے سے ٹوسٹ دے کر سیٹ کیا ہوا تھا۔

“شکریہ شکریہ۔ “اپنی تعریف وصولتے وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔

“چلو اب بھائی جی رسم شروع ہونے والی ہے سب باہر ہیں۔”افسانہ کے بولنے پر وہ جلدی سے سامان سمیٹتے ان کے ساتھ ہی باہر آئی تھی۔۔

خود پر اٹھتی نظروں سے وہ ناواقف ہر گز نہیں تھی۔

“چچی دادی کہاں ہیں؟”فوزیہ کے پاس آتے اس نے پوچھا جو ناجانے کن سوچوں میں گم تھی اسکی آواز پر چونکی تھیں۔

“اندر ہیں بیٹا۔۔”

“چچی کچھ ہوا ہے؟”ان کا بجھا لہجہ دیکھ اسے کچھ عجیب سا لگا تھا۔

“نہیں کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے تم جاؤ دیکھو بچیاں بلا رہی ہیں۔۔”اسے جانے کا بول انہوں نے اپنا سارا دھیان سامنے لگایا تھا جہاں اب دولہن والے ساتھ لایا سامان لگا رہے تھے مگر جب دل کی خوش نا ہو تو کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔

انہوں نے دعا کی تھی کہ کچھ بھی ایسا نا جو ان کی زندگیوں میں تکلیف لائے۔

“کلثوم رونا بند کر مجھے بتا کیا ہوا ہے؟؟”پاکیزہ بیگم انہیں بلانے کمرے میں آئی تھیں مگر انہیں یوں روتا دیکھ وہ پریشان ہوئی تھیں۔

“کچھ نہیں ہوا بس سر میں درد ہے۔۔”آنسو صاف کرتے انہوں نے جھوٹ بولا تھا مگر سامنے ان کی بہن جیسی دوست تھے جو فوراً سے انکا جھوٹ پکڑ گئی تھیں۔

“مجھ سے بھی اب جھوٹ بولے گی تو؟ مجھے بتا ایسا کیا ہوا ہے جو تو یوں رو رہی ہے ضرور کوئی بات ہے کیونکہ میں نے نوٹ کیا ہے تو جب سے آئی ہے پریشان ہے۔۔٫”ان پر غصہ ہوتے انہوں نے ایک بار پھر اپنا سوال دھرایا تھا۔

“دیکھ کلثوم جو بھی ہے بتا مجھے ایسے تو طبعیت خراب ہو جائے گی تیری۔۔۔ میں وسیم کو بلاتی ہوں۔۔”وہ اپنی جگہ سے اٹھیں تو کلثوم بی نے فوراً سے ان کا ہاتھ تھاما تھا۔

“وسیم کو مت بلانا پاکی ورنہ وہ غصے میں ناجانے کیا کر جائے گا۔۔”وہ خوفزدہ ہوگئی تھیں آنے والے وقت کا سوچ کر۔

“اچھا نہیں بلاتی مگر تو مجھے تو بتا ہوا کیا ہے؟ بات کیا ہے آخر؟؟”

ان کے بہت اصرار کرنے کر آخر انہوں نے سب کچھ پاکیزہ بیگم کے گوش گزار کیا تھا جسے سن کر انہیں بھی جھٹکا لگا تھا۔

“یہ کیا ہوگیا ہے شمع کو؟ ایسے کیوں بچوں جیسی حرکت کر رہی ہے..؟” انہیں شاکڈ لگا تھا۔۔

“مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا وہ صبح آکر شہوار کو لے جائے گی اور میری بچی میں جانتی ہوں اسے وہ نہیں عادی ان سب کی میں کیسے روکوں گی اسے وہ ماں ہے اختیار رکھتی ہے نہیں بھیجا تو دنیا میری پوتی پر انگلی اٹھائے گی کہ ماں کو چھوڑ دیا سب کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے گا۔”

“اچھا پریشان نہیں ہو ہم سوچتے ہیں کچھ ایسے نہیں جانے دینگے شہوار کو بس اپنے آپ کو سنبھال مہمانوں کے جانے کے بعد بات کرتی ہوں سب سے ضرور کوئی نا کوئی حل ہوگا۔۔”

“حل ہے مگر۔۔”ان کی بات پر وہ جواب دیتی ایک لمحے کو چپ ہوئی تھیں۔

“کیسا حل؟؟” انہوں نے کلثوم بی کو دیکھا جو سر جھکائے آنسو صاف کر رہی تھیں۔

“شہوار کی شادی۔۔ ایک بار اسکا نکاح ہوجائے تو شمع اسکی شادی کہیں اور نہیں کر سکے گی مگر اتنی جلدی میں کیسے اپنی بچی کو کہیں بھی بیاہ دوں اسکی خوشیوں کا نہیں سوچا تھا تو اسکے باپ کو کیا منہ دیکھاؤ گی میں؟”

ان کی بات پر وہ سوچ میں پڑی تھیں دل کیا ابھی کہہ دیں کہ مجھے شہوار کو سونپ دو مگر اپنے بیٹے کو وہ اچھی طرح سے جانتی تھیں جبھی وہ کچھ کہہ ہی نہیں سکیں۔۔

“سب ٹھیک ہو جائے گا ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی بس پریشان نا ہو ابھی باہر چل ورنہ سب پریشان ہونگے۔۔”انہیں حوصلہ دیتے انہوں نے کلثوم بی کا ہاتھ تھام کر اٹھایا تھا۔

وہ سر کو جنبش دیتے چہرے پر بشاشت سجائے ان کی ہمراہی میں باہر آئی تھیں اور توقع کے عین مطابق شہوار سب سے پہلی تھی جو ان کے پاس آئی تھی۔۔

پاکیزہ بیگم نے ایک نظر اس معصوم سی پری کو دیکھا تھا دل میں اٹھی خواہش کو دبائے وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھ آگے بڑھی تھیں۔۔

“کیوں سر درد ہورہا ہے آپ کے؟ کوئی پریشانی ہے دادی؟؟”ان کا ہاتھ تھام وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گئی تو انہوں نے مسکرا کر اپنے دل کو دیکھا تھا۔

وہ جان تھیں ان کی وہ اسے اپنے بیٹے کے حصے کا پیار بھی کرتی تھیں۔

“میں ٹھیک ہو پاگل سفر کی وجہ سے تھکن ہوگئی ہے تھوڑی نیند لی ہے تو اب ٹھیک ہوں تو جا مزے کر ورنہ پھر کہے گی دادی تم نے سب خراب کردیا۔۔”ان کے یوں شکایتی انداز پر وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔

“بات تو ویسے ٹھیک ہی ہے خیر میں جارہی اگر طبعیت وغیرہ خراب ہو تو فوراً سے مجھے بلا لینا۔۔۔”انکا دوپٹہ ٹھیک کرتے وہ انہیں ہدایت دیتی وہاں سے گئی تو ان کی آنکھوں میں نمی آئی تھی

پھولوں کا تھام تھامے وہ پاگلوں کی طرح کھڑی تھی ربعیہ اپنا میک اپ ٹھیک کرنے اندر گئی تھی اور اب وہ باہر کھڑے اسکا انتظار کر رہی تھی اسے تو شیزا پر غصہ آرہا تھا کیسے ہواؤں میں اڑتی پھر رہی تھی۔۔

تبھی اسے سامنے سے شاہنواز آتے دیکھائی دئیے تھے۔۔ انہیں دیکھ اسکا دل بے ہنگم طریقے سے دھڑکا تھا۔

“بات سنیں۔۔”ان کے یوں نظر انداز کر کے پاس سے گزرنے پر اس نے بے اختیار انہیں پکارا تھا۔

اسکی پکار پر وہ حیرت سے مڑے تھے اور ایک آئی برو آچکا کر اسے دیکھا تھا جیسے کہنا چاہ رہے ہوں اتنی ہمت کے مجھے پکارا۔۔۔

ان کے چہرے کے اتنے سیریس تاثرات دیکھ اس کے ماتھے پر بل آئے تھے۔

“ایسے کیا گھور کر دیکھ رہے ہیں اور یہ آئی برو کیوں اچکائی ہوئی ؟کوئی فضول بات کی ہے کیا آپ سے صرف پکارا ہی ہے “

سڑا سا منہ بناتے انہیں دیکھ وہ تیزی سے بولی تھی

“یہ تم مجھ سے کہہ رہی ہو؟”انہوں نے حیرت سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا تھا جس کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی۔

“نہیں نہیں میں تو آپ کے بھوت سے کہہ رہی ہوں۔۔ یہاں آپ کے علاؤہ کوئی ہے کیا؟”

چھوٹی سی ناک سکیڑ اس نے کہا تو ان نے ماتھے پر بل آئے تھے.

“زیادہ ایٹیٹوڈ دکھانے کی ضرورت نہیں ہے یہ پھولوں کا تھال تھامیں کب سے لیکر کھڑی ہوئی ہوں کسی کو مجھ پر رحم ہی نہیں آرہا ہے۔۔”ان کو تو تھال تھماتے اسنے اپنے ہاتھوں کو ریلکس کیا تھا۔

شاہنواز نے حیرت سے اسے پھر اپنے ہاتھوں میں موجود اس تھال کو دیکھا تھا۔

“ایسے کیا لک دے رہے ہیں؟ جائیں آپ کے بھتیجے کی منگنی ہے کام کریں کام۔۔یہ پھول باہر رکھیں کب سے یونہی فارغ گھوم رہے ہیں۔”ناک چڑھا کر کہتے وہ بال جھٹکتی وہاں سے غائب ہوئی تھی۔

“شہوار کی بچی مجھے وہاں اکیلی چھوڑ کر خود جہاں آگئیں۔”اسکے سر کر پہنچ ربعیہ نے اسکے ہاتھ پر مارا تو اس نے منہ پھلایا تھا۔

“پانچ منٹ بول کر سو گھنٹے لگاؤ گی تو یہی ہوگا بیٹا جی۔”اترا کر کہتے اسنے اسٹیج پر دیکھا تو اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تھا۔

“یہ اسٹیج پر کیا ہورہا ہے؟”اس سے پہلے وہ کچھ بولتی ربعیہ اسے بول اسٹیج کی طرف بڑھی تھی۔۔

“پاکیزہ بیٹے کو چھوڑ پوتے کی منگنی خیریت تو ہے نا سب؟”مہمانوں کے ساتھ آئی کوئی خاتون تھیں جنہیں بہت چبھ رہی تھی یہ بات تبھی اچانک ہی سب کی موجودگی میں انہوں نے یہ سوال کیا تھا۔

“کیا فرق پڑتا ہے آنٹی پہلے پوتے کی ہو یا بیٹے کی۔”سجاد صاحب نے مسکرا کر کہا مگر اس عورت کے ماتھے پر بل آئے تھے۔

“ارے ایسے کیسے آج کل تو ہر چیز کو مذاق سمجھ کر رکھا ہوا ہے پہلے خاندان میں بڑوں کی شادیاں ہوتی تھیں پھر چھوٹوں کی یہاں تو رواج ہی بدل گیا ہے۔۔”

“خالہ کیا باتیں لیکر بیٹھ گئی ہیں آپ۔۔”دولہن کی ماں نے بیچارگی سے اپنی خالہ ساس کو دیکھا تھا جو اچانک ہی رنگ میں بھنگ ڈالنے بیٹھ گئی تھیں۔

“ارے چپ کر تو کوئی ڈھنگ ہی نہیں ارے میں نے تو سنا ہے کہ اس کے بیٹے کو لڑکی چھوڑ گئی تھی کوئی عیب ہوگا بیٹے میں جبھی تو یہ سب ہوا۔۔”وہ اپنی حد پار کر گئیں تھیں دروازے کے پاس کھڑے شاہنواز کی رنگت سرخ ہوئی تھی۔

“اچھا آپ کو بہت پتا ہے وہ لڑکی آپ کے پاس آئی تھی کیا آنٹی؟؟”سناٹے کو چیرتی اسکی آواز نے سب کو اسکی جانب متوجہ کیا تھا جو ماتھے پر بل ڈالے ان کے سامنے آکر رکی تھی۔۔

“آپ کو اس لڑکی نے آکر بتایا تھا کہ یہ مسئلہ ہے ؟؟”وہ ان سے سوال کر رہی تھی کلثوم بی نے گھبرا کر فوزیہ کو دیکھا تھا۔

“اے تو کون ہے لڑکی جو بیچ میں بول رہی ہے..” ان خاتون نے حقارت سے اسے دیکھا تھا۔

“میں جو بھی ہوں کم از کم آپ کی طرح نہیں ہوں جو خود کو سب سے اعلیٰ اور ارفع خاندانی اور نسلی سمجھتے ہیں معذرت کے ساتھ۔۔۔ مگر یقین مانئے آپ بڑی ہیں مجھ سے مگر آپ کی سوچ۔۔۔ افسوس ہے مجھے اس پر۔۔”

“چپ کروائیں اسے دادی۔۔”شیزا نے گھبرا کر کلثوم بی کا ہاتھ تھاما تھا۔

“بولنے دے اسے حق پر ہے تو روکوں گی نہیں۔”اطمینان سے کہتے وہ کرسی پر بیٹھی تھیں۔

“دیکھو زرا کیسے زبان چلا رہی ہے اس خاندان میں کر رہے ہو میری پوتی کی منگنی ارے گندے لوگ ہیں پہلا بیٹا کنوارا بیٹھا ہے ناجانے کون سا عیب ہے اس میں کہ ابھی تک شادی نہیں کی اس نے اور تجھے یہی خاندان ملا شائستہ۔۔؟” اپنی دال نا گلتے دیکھ وہ بھڑک اٹھیں تھی تو دماغ پھر اسکا بھی گھوما تھا۔

“بس کردیں زرا خیال کرلیں بولتے ہوئے منگنی ٹوٹنا شادی نا کرنا عیب بنا کر رکھ دیا ہے آپ جیسے لوگوں نے۔۔ منگنی ٹوٹ گئی تو کیا؟ اب ساری زندگی اسی چیز کو لے کر بیٹھے رہیں گے نہیں کی شادی تو نہیں کی ان کی مرضی آپ کون ہیں؟ نعوذ باللہ خدا ہیں آپ جو سب پتا ہے کہ کوئی مسئلہ ہوگا یہ ہوگا وہ ہوگا…. مسئلہ ان میں نہیں آپ کی سوچ میں بہت معذرت کے ساتھ۔ کسی پر کیچڑ نا اچھالیں اور اس عمر میں جب اللّٰہ اللّٰہ کرنا چاہیے آپ کو آپ دوسروں کی کردار کشی کر رہی ہیں؟ زرا آپ کو خیال نہیں کہ آپ کے الفاظ کیسے لوگوں کے دل چھلنی کریں گے کسی کی دل آزاری ہوگی یوں کیسے آپ بول سکتی ہیں آپ کو خدا کا خوف نہیں ہے۔۔۔” اسکا دماغ کھول اٹھا تھا ان کی باتوں پر ۔

“میرا باپ مر گیا ہے میری ماں نے دوسری شادی کی ہے تو لگا دیں اب فتویٰ کے میرے رشتے نہیں آسکتے کیونکہ میری ماں دوسری شادی کر چکی ہے دوسری شادی اس کے لئے گناہ قرار دے دیں یہی تو کرنا آتا ہے آپ لوگوں کو۔۔۔۔۔

بنا سچ جانے بنا حقیقت سے واقفیت رکھے آپ کا جو دل کرتا ہیں بولتے ہیں آپ کو اس عمر میں بھی زرا خیال نہیں کہ اس ماں پر کیا گزرے گی آپ کے لفظوں سے؟؟”

سناٹے میں اسکی آواز گونج رہی تھی۔۔ اس نے لفظوں نے سامنے والے کو شرمندہ کر کے رکھ دیا تھا..

“کب سے سن رہی ہوں شاہنواز کی شادی شاہنواز کی شادی۔۔۔ ارے ان کی زندگی انکا مسئلہ نہیں کرنی شادی تو نہیں کرنی آپ کا کھا رہے ہیں آپ کو تنگ کر رہے ہیں میں کب سے سوچ رہی ہوں شادی نا کرنے پر سب کو کیا تکلیف ہے کونسا ان کی زندگی رک رہی ہے ارے جینے دیں جو جیسے جینا چاہتا ہے اپنی ٹانگ اور ناک اتنی نا گھسائیں کہ بیچ میں اٹک کر ٹوٹ ہی جائے۔۔”حاضرین پر نظر ڈال اس نے غصے سے کرسی کو پیچھے دھکیلا تھا۔

جب سے وہ تیار ہوتی باہر آئی تھی ایک ہی بات اسکے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔۔

“دادی آپ۔۔”اس نے مڑ کر پاکیزہ کو دیکھا تھا مگر انہیں سر تھامے دیکھ وہ ایک گھبرائی تھی۔

“دادی۔۔”وہ چلاتے اس سے پہلے ان کے پاس پہنچتی وہ لہرا کر زمیں بوس ہوئی تھیں۔۔