665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 1

لہلہاتے سرسبز کھیتوں کے درمیان سے جاتی اس کچی پکی پگڈنڈیوں پر بھاگتے اس نے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔

سنہری آنکھوں میں چمک آئی تھی۔۔

براؤن بالوں کی بنی چوٹی کو پیچھے کرتے اسنے آنکھیں سکیڑ کر اپنی دوست کو دیکھا تھا۔

“کشف تیز بھاگ کلو قصائی آنے والا ہے۔۔۔”اپنی ساتھی کو آواز دیتے وہ بھاگتے اچانک ہی کھیتوں کی سائیڈ سے نکلتی گندم کی فصل میں گم ہوئی تھی۔۔

“شہوار۔۔۔شہوار۔۔۔ “اسکے پیچھے آتی ہانپتی کانپتی کشف نے اردگرد اسے دیکھنا چاہا تھا۔

“یا اللّٰہ اب یہ کہاں چلے گئی کلو میاں تو اسے چھوڑیں گے نہیں آج۔۔”خود سے کہتے وہ اپنی جان بچانے کو آگے بھاگی تھی۔۔

گاؤں کے کنارے اس خوبصورت ندی کے کنارے رک کر اس نے گہرے سانس بھرے تھے۔۔

“اتنے گھیرے سانس کیوں لے رہی ہے کیا کتا پیچھے لگ گیا تھا؟”

“اہہ۔۔”اچانک سے آتی آواز پر ڈر کر اسنے بے ساختہ دل پر ہاتھ رکھا تھا۔

“ہاہاہاہا یار بہت ڈرپوک ہو قسم سے۔۔”اسکی ہنسی کی آواز سن اس نے کنارے پر موجود ام کے درخت کے اوپر دیکھا تھا جہاں وہ مضبوط ٹہنی پر بیٹھی کیری سے لطف اندوز ہورہی تھی۔

“شہوار کی بچی ڈرا کر رکھ دیا ابھی ہارٹ اٹیک آجاتا تو ؟مصنوعی خفگی سے کہتے وہ پیڑ کی چھاؤں کے پاس رکھے بڑے سے پتھر پر بیٹھی تھی۔۔

“ارے چھوڑو آگیا تمہیں ہارٹ اٹیک۔۔ پہلے کبھی آیا ہے جو اب آئے گا؟ ناک سے مکھی اڑاتے اس نے چٹخارہ بھرا تھا۔

“تیری اماں کو پتا چلا نا سارے چٹخارے نکال دے گی انسان کیوں نہیں بنتی ہے تو۔۔”اس کی بات پر اسنے ایسے منہ بنایا تھا جیسے کروا بادام چبا لیا ہو۔۔

“اماں کو تو عادت ہے مجھے ہر بات پر ڈانٹنے کی ہونہہ ارے بندہ یہی سوچ لیتا ہے دو ہفتے کی مہمان ہے بیٹی تھوڑی محبت سے ہی بات کرلیں۔۔”دونوں ہاتھ کمر پر رکھ اس نے کشف کو آنکھیں دیکھائی تھیں۔

“یہ دادی اماں کی طرح کمر پر ہاتھ نا رکھ ایک ہوا کا جھونکا آئے گا اور تو زمیں بوس ہوگی۔۔”

“ارے بنو منہ اچھا نا ہو نا تو بات اچھی کرلیتے ہیں۔۔”اسے بولتے وہ چھلانگ لگا کر اچانک ہی نیچے کودی تھی۔

“ہائے اللہ شہوار۔۔۔۔۔۔ خدا کا خوف کر کچھ تو سچ میں مارے گی مجھے۔۔”خوف سے اسنے ایک بار پھر اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا۔۔

“قسم خدا کی ایسی نفسیاتی کہیں نہیں دیکھی میں نے تم نا ایک کام کرو اس دل کو کہیں پھینک کر گائے بھینس کا دل لگا لو کم از کم مضبوط تو ہوگا ورنہ اس دل کے ساتھ تو تجھے دن میں سو بار دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔۔”شرارت سے کہتے اسنے کیری اسکی جھولی میں ڈالی تھی۔۔

“کہاں چلیں؟”اسے ہاتھ اور کپڑے جھاڑ دیکھ اس نے تعجب سے پوچھا تھا۔

“گھر۔۔”اس نے لاپروائی سے کہا تو اس کی اس شان بے نیازی پر وہ عش عش کر اٹھی۔۔

“واہ ری لڑکی گھر۔۔ وہ کو کلو قصائی کا نقصان کر کے آئی ہے اسکی بھرپائی کون کرے گا تیری اماں بھری بیٹھی ہونگی۔۔”کشف نے اسے ڈرانا چاہا تھا۔

“خود ہی بھرپائی کرینگی میں تو کل جارہی اپنے گھر اہ۔۔۔۔ میرا گھر۔۔ فائنلی اس جہنم سے آزادی”دونوں ہاتھ فضا میں پھیلائے وہ گول گھومی تھی۔

“جب اتنا ناپسند ہے یہاں آنا تو آتی کیوں ہے؟”اسکے پھیلے بازو پر ہاتھ مارتے کشف نے اس سے پوچھا تھا حالانکہ جواب سے وہ ناواقف نہیں تھی۔

“یہ زمانہ یہاں کے دستور الگ ہیں میری جان یہاں وہ سب بھی کرنا پڑتا جو کرنا آپ چاہتے ہی نہیں اور یہ لوگ وہ کام آپ کو کرنے نہیں دیتے جو اصل میں آپ کرنا چاہتے ہیں۔”اسکے سر پر ہاتھ مارتے اس نے فلسفہ بگھارا تھا۔

“مجھے یہ باتیں سمجھ نہیں آتی تیری بس تو پاگل ہے فضول ہی بولتی اب چل ورنہ شام ہوجائے گی تو تیرے ساتھ میری بھی شامت آئے گی۔۔”اسکا ہاتھ پکڑتے وہ اسے لئے گھر کی طرف بڑھی تھی۔۔

“اے گاؤں کی ندی مجھے بھول نا جانا تیرے ساتھ میرا یہ جیون بنا بڑا سہانہ تیری یاد ہر پل آئے گی تو دیکھنا یہ معصوم شہوار اب دوبارہ کبھی یہاں نہیں آئے گی۔۔”تیز آواز میں بولتے وہ کشف کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گئی تھی۔۔

پچھلے کئی سالوں سے اسکا یہی حال تھا وہ کر بار ندی کو بول کر جاتی تھی اور واپس آکر سب سے پہلے اس ندی پر ہی آتی تھی۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

“یہ یہ سیکھاتے ہیں ہم تمہیں اتنا پیسہ خرچ کر رہے ہم تم پر اس لئے کہ یوں گاؤں میں میری ناک کٹواؤ؟؟”وہ سخت بپھری ہوئی تھی اس نے بیزاری سے انہیں یہاں سے وہاں ٹہلتے ہوئے دیکھا تھا۔

“تو مت کیا کریں خرچ میں نے آپ سے خرچا تو نہیں مانگا نا اماں۔۔”اسکے جواب دینے پر انہوں نے کھینچ کر چپل اسے ماری تھی مگر افسوس اتنے سالوں میں انکا نشانہ ٹھیک نا ہوسکا تھا۔۔

“کون دے گا اب اس قصائی کو پیسے کوئی بچی نہیں ہے کالج میں داخلہ ہوگیا ہے مگر مجال ہے جو زرا سی عقل آئی ہو جب بھی گاؤں آتی ہے میرے لئے کوئی نا کوئی مصیبت کھڑی کر دیتی ہے۔۔”اسکی کمر پر دھموکا جڑتے وہ اسے غصہ دلا گئی تھیں۔۔

“شوق سے نہیں آتی ہوں زبردستی بھیجا جاتا ہے تاکہ جو تھوڑا بہت ماں ہونے کا فرض ہے وہ ادا ہوسکے آپ کا اور ایک بات اماں مت کیا کرو مجھ پر خرچ مجھے تمہارے پیسے کی ضرورت نہیں ہے میرے لئے میری دادی کی محبت ہی کافی ہے اور بے فکر رہو اب جارہی ہوں نا آئندہ نہیں آؤ نگی اور اب یہ لکھ لو اور رہی اس قصائی کی بات تو ساری مرغیاں اسکی ڈربے میں بند کروا کر آرہی ہوں میں۔۔”ایک ہی سانس میں کہتے وہ غصے سے واک آؤٹ کر گئی تھی۔۔

“شہوار۔۔”اسے یوں جاتے دیکھ وہ چلائی تھیں مگر وہ بنا سنے ہی چلے گئی تھی اسکے یوں جانے پر انہوں نے سر پکڑا تھا۔۔

“کیا ضرورت تھی اسکا موڈ خراب کرنے کی کل چلی جائے گی وہ واپس ضروری تھا اسے یوں اداس کرنا؟” دروازے کے پاس کھڑے شفیع صاحب نے اندر آتے سب دیکھا اور سنا تھا اس لئے بولے بنا نہیں رہ سکے تھے ۔

“آپ کو بھی لگتا ہے میں غلط ہوں؟؟”وہ اپنے شریک حیات کو دیکھ کر پوچھ بیٹھی تھیں انکا ٹوٹا لہجہ شفیع صاحب کو افسوس میں گھیر گیا تھا۔

“شمع بات غلط صحیح کی نہیں ہے بات اسکے جذبات کی ہے وہ اب کوئی چار سال کی بچی نہیں ہے جو تم اسے یوں ڈانٹ کر مار پھٹکار کر قابو کرلو گی تم جانتی ہوں اس نے ایک مشکل وقت سہا ہے چھوٹی عمر میں باپ کو کھونا اور ایک سوتیلے باپ کو قبول کرنا آسان نہیں ہوتا۔۔”

“آپ نے اسے سگی اولاد سے بڑھ کر چاہا ہے شفیع۔۔”ان کے سوتیلا کہنے پر وہ تڑپ اٹھی تھیں۔

“وہ یہ بات سمجھتی ہے مگر شمع اسکے دل میں کیا ہے۔کیا تم نے کبھی جاننا چاہا ہر چیز پیسے سے پوری نہیں ہوتی ہے اسے تمہارا وقت اور محبت چاہیے تھی جو اسے نہیں مل سکی اور اس میں ہم دونوں کی غلطی ہے۔۔”وہ شائستگی سے انہیں غلطی بتا رہے تھے۔

“تو پھر کیا کروں میں؟اسے اسکے ددھیال سے بھی تو الگ نہیں کرسکتی تھی نا میں۔۔”

“بلکل نہیں کرسکتی تھیں کرنا بھی نہیں چاہیے اور فلحال تم کچھ بھی مت کرو اسے ٹائم دو وہ خود ہی سمجھ جائے گی اور پریشان نا ہو کل جارہی ہے وہ تو اچھے سے الوداع کرو اسے۔۔”انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے وہ ان کی ساری پریشانی ختم کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

“فوزیہ ارے اوو فوزیہ “اپنا پاندان تخت پر رکھتے انہوں نے اپنی بہو کو پکارا تھا جو اس وقت کچن میں موجود تھیں ساس کی پکار کر ہاتھ صاف کرتی وہ جلدی سے باہر آئی تھیں۔

“جی اماں کیا ہوا خیریت؟”

“ارے سلیم کہاں ہے لاڈو کو لینے گیا ہے یا نہیں؟”وہ متفکر سی ان سے پوچھ رہی تھیں جو اپنی ساس کی فکر دیکھ مسکرائی تھیں۔

“لینے چلے گئے ہیں لاڈو کو اور میں نے لاڈو کی پسند کا کھانا بھی بنادیا ہے بس آپ بے فکر رہیں۔۔”انہیں تسلی دیتے وہ واپس کچن میں آئی تھیں جہاں ان کی صاحبزادی مزے سے بیٹھ کر چپس کھا رہی تھیں۔

“شزا کتنی بار کہا ہے آلو کم کھایا کرو موٹی ہورہی ہو ویسے ہی۔۔”اسکے سامنے سے پلیٹ ہٹاتے وہ غصہ ہوئی تھیں۔

“اچھا نا ماما نہیں کھاتی خیر ایک بات تو بتائیں اس بار دادی کی محبت شہوار کے لئے کتنے گھنٹوں کی ہوگی؟”اسکے شرارت سے کہنے پر وہ خود بھی ہنس دی تھیں۔

“بری بات ہے شیزا۔۔٫”

“بری کیا بات ماما ہر سال جب بھی وہ گاؤں سے ہوکر آتی ہے پہلے آدھے گھنٹے دادی اس سے لاڈ کرتی ہیں اور پھر آدھے گھنٹے بعد وہ دادی کی ڈانٹ کا شکار ہوکر مچان پر پائی جاتی ہے۔۔”

“دادی پیار کرتی ہیں کبھی ڈانٹتی ہیں اب تم زیادہ باتیں نا بناؤ کچھ کام کرلو۔۔”

“میں نے تو سارے کام کرلئے پورے مہینے بعد میری دوست آرہی ہے ساری تیاری کر کے بیٹھی ہوں۔۔”سلپ سے چپس کی پلیٹ چھپاتے اس نے کمر کے پیچھے کی تھی۔

“اچھا میں نجم کو دیکھتی ہوں وہ گیا ہے شہوار کے پسندیدہ پیڑے لینے۔۔”اپنی ماں کو ٹوپی کرواتے وہ فوراً سے رفو چکر ہوئی تھی۔۔

“دادی۔۔۔۔دادی۔۔۔میں آگئی دادی۔۔”اسکی آواز پورے گھر میں گونج اٹھی تھی۔۔

“ارے میری لاڈو رانی آگئی۔۔”کلثوم بی جی خوشی میں ڈوبی آواز پر فوزیہ بیگم بھی بھاگ کر باہر آئی تھیں جہاں ان دادی پوتی کی محبت کا سین کا چل رہا تھا۔

“ہائے اللہ دادی کتنا یاد کیا میں نے قسم سے ہر دن ہر گھنٹہ ہر لمحہ۔۔”ان کے گال چٹاچٹ چومتی وہ انہیں خود میں بھینچ گئی تھی۔۔

“چاچی۔۔۔یار یہاں آئیں نا۔۔”دادی سے لاڈ کرتے اسکی نظر فوزیہ بیگم پر پڑی تو اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تھا جو انہوں نے فوراً تھاما تھا۔

وہ ان کے گھر کی رونق تھی اس کے جانے سے گھر بھر میں سناٹا سا ہوجاتا تھا۔

“ہم سے بھی مل لو تلوار کا وار۔۔”اسکے بال کھینچتا وہ نجم تھا اسکا چاچا زاد۔۔

“ارے میری نجمہ کیسی ہے۔۔”دادی سے الگ ہوتے وہ اسکے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولی تھی جو نجمہ نام پر اسے گھور کر رہ گیا تھا۔۔

“میری جان۔۔اسکو چھوڑ وہ جلدی سے شیزا کی جانب لپکی تھی جو بازو وا کئے اسکی منتظر تھی۔۔

“میری جان میری شزا پیزا۔۔ “اسے گلے سے لگائے اس نے شیزا کو ہلا ڈالا تھا۔

“چلو بھئی یہ ملن بعد میں کرنا شہوار منہ ہاتھ دھو لے پتر تیری چاچی نے تیرے پسند کا کھانا بنایا ہے۔”

اوکے باس۔۔”وسیم صاحب کے کہنے پر سر پر ہاتھ رکھ کہا تو وہ ہنس دیئے تبھی وہ شزا اور نجم کے ساتھ اندر بڑھی تھی۔

“اماں پاکیزہ خالہ کب آرہی ہیں آپ بتا رہی تھیں نا کہ انہیں آنا ہے؟”ان کے پاس بیٹھتے وسیم صاحب نے ان سے ان کی دوست کی بابت دریافت کیا تھا۔

“ارے بول رہی تھی آنے کا مگر کچھ طبعیت بھی ٹھیک نہیں تھی دوسرا بول رہی تھی شاہنواز کی چھٹی بھی نہیں ہے۔۔”

“اچھا اچھا۔۔”ان کی بات پر انہوں نے سر ہلایا تھا۔

“بڑی پریشان ہے شاہنواز کی طرف سے بس اللّٰہ اسکی پریشانی دور کرے۔۔آمین۔”انہوں نے صدق دل سے دعا کی تھی۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

کراچی کے ایک پررونق محلے میں وہ دو منزلہ عمارت پوری شان سے موجود تھا جس کی بناوٹ کا انداز پرانے زمانے کے گھروں جیسا تھا۔۔

دروازے پر موجود رات کی رانی کی بیل نے اس گھر کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیا تھا۔۔

اور یہ گھر تھا پاکیزہ کریم کا۔۔جن کے نرم مزاج کا پورا محلہ ہی مداح تھا ان کے بولنے کا انداز خدمت خلق میں سب سے آگے۔۔

ابھی بھی اپنی بیٹھک میں بیٹھی وہ محلے سی آئی ایک عورت کا مسئلہ سننے میں مصروف تھیں۔

سرخ و سفید رنگت پر جامنی رنگ کا سوٹ پہنے ہاتھوں میں مینے کی چوڑی ڈالے۔۔

“خالہ میں تو بہت پریشان ہوں میری بچی کا کہیں رشتہ ہی نہیں ہورہا حالانکہ اتنی لائق فائق سگھڑ بی اے پاس میری لڑکی۔۔” اسنے عورت نے اپنے تئیں اپنی بیٹی کی تعریف کے پل باندھے تھے جو کمرے کے کونے میں ڈائجسٹ پڑھتی ربعیہ اور افسانہ نے غور سے سنے تھے۔

“ربعیہ مجھے لگتا یہ بھی شاہنواز چاچو کے چکر میں ہیں۔۔”افسانہ نے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی۔

“ارے ان کو کوئی بتاؤ ان کی بیٹی کے چار بچے بھی ہوجائیں گے تب بھی چاچو کنوارے ہی رہیں گے۔۔”ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتی وہ ہنسی تھی اور ان کی ہنسی کو بریک پاکیزہ بیگم کی گھوری نے لگایا تھا۔

“جاؤ چاچو کو بلا کر لاؤ مجھے بازار جانا ہے۔۔”اس عورت کے اٹھنے پر وہ ان دونوں سے بولی تھیں جو فوراً سے فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتی اپنی جگہ سے اٹھی تھیں۔۔

“چاچو دادی بلا رہی ہیں۔۔”انکے روم کا دروازہ بجاتے ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا وہیں دوسری طرف کتاب سے نظر اٹھا کر انہیں دروازے کو دیکھا اور اپنی جگہ سے اٹھے تھے۔

سفید کرتا پاجامے میں ان کا دراز قد مزید نمایاں ہوا تھا۔ سلیقے سے جمے کالے بال بڑھی ہوئی داڑھی اور آنکھوں پر لگا وہ چکور فریم کا عینک جسے ایک طرف رکھتے انہوں نے اپنے بک شیلف میں کتاب رکھی تھی اور گھڑی پر ایک نظر ڈالی تھی۔

ان کی شخصیت کو رعب ہی الگ تھا کچھ چہرے پر بھائی سنجیدگی انہیں سب میں نمایاں کرتی تھی۔

سرخ وسفید رنگت مغرور سے نقوش وہ تیس سال کے ہوکر بھی لگتے تھے نہیں تھے۔

“آرہا ہوں جاؤ تم لوگ۔”سنجیدگی سے کہتے انہیں نے باہر کی طرف قدم بڑھائے تھے۔۔