Kasa-e-Ishq by Fariha Islam Readelle 50357 Kasa-e-Ishq Episode 2
Rate this Novel
Kasa-e-Ishq Episode 2
“امی آپ نے بلایا؟”اپنی ماں کے کمرے میں اجازت لے کر داخل ہوتے انہوں نے پوچھا تو پاکیزہ بیگم نے نظر اٹھا کر اپنے جوان خوبرو بیٹے کو دیکھا تھا۔۔
“ہاں بچے دراصل مارکیٹ جانا ہے تو لے چلو ہمیں اور میرپور خاص کی ٹکٹ کروا دیں تم نے ہماری۔۔”؟پاندان سائیڈ رکھتے انہوں نے سوال کیا تھا۔۔
“جی امی سجاد بھائی بول رہے تھے کہ آتے ہوئے وہ کروا دینگے۔۔ آپ ایک کام کریں تیار ہوجائیں میں بائیک نکالتا ہوں۔۔”
“چلو ٹھیک ہے ہم بس آتے ہیں باہر۔۔”اپنے پلو سے ہاتھ صاف کرتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تو وہ باہر ہی جانب بڑھے تھے۔
پاکیزہ بیگم نے افسوس سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جو خوشیوں سے ایسا روٹھا تھا کہ اب مسکرانا تک بھول گیا تھا شاہنواز کو دیکھ ان کا دل جلتا تھا کتنی خواہش تھی اسکی شادی دیکھنے کی سارے بچے اپنے اپنے گھر کے ہوگئے تھے مگر۔۔
گہرا سانس بھرتے انہوں نے الماری سے چادر نکال وہ باہر آئی تھیں۔۔
کیونکہ انہیں اپنی عزیز از جان سہیلی سے ملنے جانا تھا تو تحفے تحائف بھی تو لینے تھے ان کے لئے۔۔
وہ شاہنواز ہے ساتھ بازار آئی تھیں جہاں سے انہوں نے اپنی پسند کی شاپنگ کی تھی۔۔
“شاہنواز پتر زرا مجھے عظمی کے گھر تو لے چل۔۔”ان کی اس فرمائش پر انکےکشادہ ماتھے پر بلوں کا اضافہ تھا۔
“امی۔۔”ان کے سنجیدگی سے پکارنے پر ان کا چہرہ اترا تھا۔۔۔
“بے فکر رہو نہیں کرتی میں کوئی رشتے کی بات مجھے پتا ہے تم کبھی اپنی ماں کی یہ خواہش پوری نہیں کرو گے۔۔”
“ایک میرے شادی نا کرنے سے یہ دنیا رک نہیں جائے گی آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتا ہے نہیں کرنا چاہتا ہوں میں شادی۔۔اور خدا کے لئے میرا تماشہ بنانا بند کریں۔۔”تیز لہجے میں کہتے وہ ان کے ہاتھ سے سامان لیتے آگے بڑھے تھے۔
پاکیزہ بیگم کی آنکھوں میں نمی سی گھلی تھی کیا اتنی بڑی تھی ان کی خواہش؟
اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں کی مدد سے صاف کرتی وہ ان کے پیچھے گئی تھیں۔۔
پورے راستے ان کا منہ ایسے ہی بنا ہی رہا تھا دونوں ماں بیٹوں کے درمیان ایک نا ختم ہونے والی خاموشی کا راج تھا اور ہمیشہ یہی ہوتا تھا جب جب ان کی شادی کا ٹاپک آتا وہ یونہی بھڑک اٹھتے تھے۔۔
اور پاکیزہ بیگم ان کو تو یہی غم کھاتا تھا کہ اب تو ان کے باقی پوتا پوتی بھی بھی شادی کے لائق ہوگئے ہیں۔۔
ان کے کل چار تو بچے تھے۔۔
سجاد۔۔ فرحان انعم اور شاہنواز ان کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا جو اپنے بھائیوں سے تقریباً بھی تیرہ چودہ سال چھوٹے تھے اور بہن سے دس سال۔۔
سجاد اور حنا کا کمرہ اوپر تھا ربعیہ اور وقاص ان کے بچے تھے۔
جبکہ چھوٹے فرحان اور عدینہ کا کمرہ نیچے تھا ان کے تین بچے تھے بڑا زبیر،افسانہ اور سب کا لاڈلہ ارحم۔
واجد صاحب اور انعم کراچی کے ایک پوش علاقے میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتے تھے آنیہ اور واصف۔۔
سب بچے اپنے اپنے گھروں میں خوش تھے باقی سب کی اپنی زندگیاں تھیں وہ اپنے بچوں کے لئے جہاں خوش تھیں وہیں شاہنواز کی طرف سے انکا دل اتنا ہی روتا تھا۔
وہ دعا کرتی تھیں کہ وہ ماضی کو بھول آگے بڑھیں اپنی نئی زندگی شروع کریں کتنا کچھ کیا تھا انہوں نے کہ شاہنواز شادی کے لئے راضی ہو جائے مگر جتنا وہ زور دیتی تھیں اتنا ہی وہ بھڑک جاتے تھے۔
ناجانے کتنے رشتے آئے تھے ان کے مگر نا انہیں کرنی تھی نا انہوں نے کی۔۔۔
سب سے تھک کر اب انہوں نے بالآخر اپنی دوست کی مدد لینے کا فیصلہ کیا تھا جو ان کی ہر مشکل کا حل سمجھو اپنی جیب میں لئے گھومتی تھیں۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
“یہ کیا بول رہی ہے شمع دماغ تو ٹھکانے پر ہے تیرا؟”فون کان سے لگائے وہ جو چھالیاں کاٹنے میں مصروف تھیں شمع بیگم کی بات پر انکے ہاتھ تھمے تھے ماتھے پر بل ڈال انہوں نے سرونتا سائیڈ پر پٹخا تھا۔
“اماں غصے سے نہیں سکون سے میری بات سنیں ہماری شہوار اب کوئی بچی نہیں ہے ماشاءاللہ سے کالج جاتی ہے اور یہی مناسب عمر ہے اسکی شادی کی اور اماں سچ کہوں تو اب مجھے اس کی فرق ہوتی ہے آپ اور میں کب تک اسکے ساتھ رہیں گے؟میں یہاں ہوتی ہوں اور آپ۔۔۔”وہ لمحے کو رکی تھیں۔
“اور برا مت مانیے گا اماں مگر موت کا کوئی بھروسہ نہیں آپ کے جانے کے بعد میری بچی کیسے رہے گی اگر ابھی اپنے گھر کی ہوگی تو کم از کم اس کے پاس اسکے اپنے لوگ تو ہونگے۔۔”
“یہ بھی خوب کہی بھئی محترمہ شمع اپنی خواہش کو میرے مرنے سے کیوں ملا رہیں؟ اگر یہ دادی مر بھی گئی تو اپنی پوتی کو بے آسرا نہیں چھوڑ جاؤ گی اور ایک آخری بات میری پوتی کو گاؤں نہیں پسند۔۔”
اپنی بات کہتے انہوں نے واپس سے سرونتا اٹھایا تھا.
“آپ کیوں نہیں چاہتیں کہ وہ میرے پاس آجائے میں ماں ہوں اسکی اماں۔۔”شمع بیگم کا پارہ ہائی ہوا تھا کلثوم بی نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔
“ماں بن کر بات کرتی نا شمع تو مجھے اعتراض نا ہوتا مگر تو ایک بہو بن کر بات کر رہی ہے اپنے سسرال میں مقام بنانے کے لئے تو ایک ان پڑھ لڑکے سے اپنی بیٹی بیاہنے کو تیار ہے۔۔”ان کے آئینہ دیکھانے پر وہ ایک دم تلملائی تھیں اور سچ بھی تو یہی تھا۔۔
“اپنے سسرال میں مقام بڑھانے کو بیٹی کو سیڑھی مت بنا شمع تو سگی بیٹی جتنی عزیز ہے شروعات سے لیکر اب تک تیرے سارے فیصلوں کا احترام کیا ہے میں نے مگر اب باپ میرے مرحوم بیٹے ہی امانت کی ہے اور اسے میں کسی محفوظ ہاتھوں میں دونگی جہاں اسکی قدر ہوگی نا کہ اسے اپنی ناک اونچی کرنے کا ذریعہ بنایا جائے گا۔۔”
وہ کلثوم بی تھیں بنا کسی لاگ لپیٹ کر بات کرنے والی وہ اصولوں میں کھری عورت اپنے بیٹے کی بیوہ کو خوشیاں دلا سکتی تھیں تو اپنی پوتی کے لئے وہ اپنی جان تک وار دیتیں۔
سلیم صاحب (شہوار کے والد) کی اچانک وفات نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا اس وقت شہوار مشکل سے چار یا پانچ سال کی ہوگی۔
وہ ساری زندگی انہیں اپنے رکھتیں مگر شمع کے گھر والوں کا دباؤ تھا کہ ان کی بیٹی چھوٹی ہے ساری زندگی اکیلے نہیں گزار سکتی۔
وہ چاہتی تو خود غرضی کا مظاہرہ کرتی مگر نہیں ان کے دل میں خوف خدا تھا۔
انہوں نے اپنی بہو کو اپنے آنگن سے رخصت کیا تھا دولہے والے فلحال شہوار کو رکھنے پر راضی نہیں تھے اور ننھیال میں بھیج کر وہ ایک بار غلطی کر گئی تھیں ان کی شہوار مرجھا کر واپس آئی تھی۔
اس ننھی بچی کو انہوں نے اپنے آنچل میں چھپا لیا بڑے ہونے پر شمع ہر چھٹیوں میں اسے اپنے پاس بلاتیں ہر ممکن طریقے سے اسکی ضروریات پوری کرتیں لیکن وہ لڑکی جسے ہر آزمائش میسر ہو وہ اپنی ماں سے صرف محبت چاہتی تھی جو شاید شمع چاہ کر بھی نہیں دے پارہی تھیں۔
اور شہوار وہ شرارتی تھی اسے ٹک کر بیٹھنے کی عادت نہیں تھی دادی چچا چچی سب سے اس نے محبت ہی سمیٹی تھی اب ایسے کیسے صرف اس وجہ سے کہ اگر بیٹی بہو بن کر آئے گی تو سسرال میں عزت ہوگی ان کی ہوتی کوئی چیز تھوڑی تھی جو وہ اسے ایسے ہی دے دیتیں۔۔
“کن سوچوں میں گم ہیں نور جہاں بیگم۔۔”وہ جو اپنی سوچوں میں گم تھیں اس نے اچانک ہی ان پر آکر دھاوا بولا تھا۔
“یا اللّٰہ در۔۔”اپنے دل پر ہاتھ رکھ وہ ہول گئی تھیں۔
“ہاہاہاہا یار دادی اتو سا چڑی جیسا دل ہے۔۔”ان کی حالت پر قہقہ لگائے وہ مزید ان سے چپکی تھی۔
“ارے ہٹ کم بخت دل دہلا دیا میرا فضول تیرے لاڈ کرتی ہوں بعد میں جان میری ہی جلاتی ہے۔۔”اسکی کمر پر دھپ رسید کرتے وہ غصے سے اسے ڈانٹ رہی تھیں اور وہ سر جھکائے کان کھجاتے ان کی ڈانٹ مزے سے سن رہی تھی۔
جب تک ڈانٹ نا پڑے اسکا دن نہیں گزرتا تھا نا۔۔
“دادی نہیں ڈانٹیں اسے مگر کسی الماری یا مچان پر چڑھ جائے گی غصے میں یا کمرے میں بند ہو جائے گی۔۔”کمرے میں داخل ہوتے نجم نے انہیں یاد دلایا تھا۔۔
“ارے ہٹ اس نے ساری عادتیں اپنے باپ کی چرائی ہیں مجال ہے مجھ سے کوئی سمجھداری والی بات یا کوئی اچھی عادت سیکھی ہو ۔”کڑے تیور سے انہوں نے اسکے بتیسی نکالتے چہرے کو دیکھا تھا۔
“دانت اندر کر ورنہ توڑ دونگی۔۔”پاس پڑی چھڑی اسے دیکھاتیں وہ مصنوعی غصے سے بولی تھیں ورنہ وہ دل تھی ان کا ان کے بیٹے کا پر تو۔۔
“ارے جاؤ یار دادی غصہ تو ٹھیک سے کرلیا کرو ۔”ان کی مسکراتی نظریں دیکھ وہ پھیلی تھی۔
“وہیں کھڑی رہ۔۔”اسے بیٹھتا دیکھ انہوں نے چھڑی اسکی ٹانگ پر ماری تھی۔
“ہائے اللہ جی۔۔۔”ٹانگ پکڑ کر اسنے اوور ایکٹنگ کی انتہا کی تھی۔۔
“بیٹا تو رک ایک بار پاکیزہ آجائے پھر میں بات کرتی ہوں تیرے شہر پڑھنے کی۔۔”ان کی بات پر اسکی آنکھیں پھیلی تھیں۔
“خبردار جو مجھے آگے پڑھنے کا بولا قسم سے میں اس صوفے سے گر کر اپنی ساری ہڈیاں تڑوا لوں گی اور نجم کے موٹے پیٹ سے ٹکر مار کر اپنا سر پھوڑ لونگی۔۔”اس نے کمر پر ہاتھ رکھ انہیں دھمکی دی تھی۔
“ارے چل تیرے تو اچھے بھی جائیں گے آگے پڑھ اور کچھ بن کر دیکھا۔۔”
“کچھ بننے کے لئے پڑھنا ضروری نہیں ہے بھئی درزی، قصائی،لوہار،فروٹ والے،کپڑے والے،گوک گپے والے۔۔۔ اب بتاؤ زرا دادی کیا گول گپے بنانے کے لئے وہ آگے پڑھیں ہونگے کیا؟”اس نے آنکھیں پٹپٹاتے ان سے سوال کیا تھا۔
“اور تو اور بیوی ہی تو بننا مجھے اب اس میں کونسی ڈگری لگتی ہے؟”دوپٹے کا پلو دانتوں میں دبائے معصوم بننے کی کوشش میں وہ نجم کو چالاک بلی لگی تھی جہاں اسکا قہقہ بلند ہوا وہیں دادی کی ہوائی چپل نے اسکی کمر پر اچھے سے سیک لگائی تھی کہ وہ بلبلا اٹھی۔۔
“ہائے میرے اللہ مجھ معصوم چھوٹی سی لڑکی کی ریڈھ کی ہڈی میں چھید ہوگیا۔۔”اس کی دہائی پر کلثوم بی چھڑی سمیت اسکی طرف لپکی تھیں۔۔
“پکڑ کر دیکھاؤ تو مانو عمر ہوگئی ہے تمہاری دادی یہ امیتابھ بچن بننا چھوڑ دو۔۔۔”انہیں زبان چڑاتے وہ فوراً وہاں سے رفو چکر ہوئی تھی۔
“یہ دیکھو زرا کیسے تنگ کرتی ہے مجھے۔۔”اسکے پیچھے آتے وہ آخر میں ہانپ کر رہ گئی تھیں۔
فوزیہ نے مسکرا کر انہیں دیکھا تھا۔
“پھرتیلی ہے وہ کسی کے ہاتھ نہیں آتی۔۔”
“ہاں وڈی کوئی چھپکلی۔۔”جل کر کہتے وہ صحن میں رکھے پلنگ پر بیٹھی تھیں۔
“چھپکلی ہی ہے وہ دادی پیچھے والی چھت سے خالہ کی چھت پر گئی ہے وہ کیری لینے۔۔”نجم کی اطلاع پر انہوں نے اپنا سر پیٹا تھا۔۔
“آلینے دے اس چھپکلی کو بتاتی ہوں میں دیوار سے ہی چپکا دونگی۔۔”انہوں نے جل کر سامنے کی طرف رخ کیا تو ان کی نکںین حیرت سے کھلی تھیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ٹرین اپنے وقت پر میر پور خاص جنکشن پر آکر رکی تھی۔۔
اپنی چادر اچھے سے ٹھیک کر انہوں نے اپنا بیگ ساتھ آئے پڑوسی کے بچے کو تھمایا تھا۔
“اے محبت پتر زرا ہاتھ تو دے۔۔” گھٹنوں کے درد سے پریشان انہوں نے ساتھ آئے بچے کو کہا تھا کو اپنے کسی کام سے یہاں آیا تھا ان کے ساتھ۔
“قسم سے یہ تو بلکل ہی بدل گیا پہلے اس جگہ تانگے ہوا کرتے تھے۔”اسٹیشن کے پاس کھڑے بائیک والی چنگ چی دیکھ انہیں کچھ سال پہلے کا وقت یاد آیا تھا انہیں یہاں آئے ہوئے بھی سات آٹھ سال ہونے والے تھے۔
“بس دادی یہاں بھی اب آہستہ آہستہ کراچی جیسی سہولیات آنے لگی ہیں۔”محب وقاص کی طرح انہیں دادی ہی کہتا تھا۔
“اچھا ہے آئے بس کراچی جیسی کچھ بری چیزیں نا آئیں۔۔”اسکی مدد سے رکشے میں بیٹھتے انہوں نے دعا کی وہ بے اختیار مسکرایا تھا۔۔
رکشہ چلا تو وہ جیسے اپنے پرانے وقت کو یاد کر اداس ہوئی تھیں۔
رکشہ مطلوبہ جگہ رکا تھا۔
رکشے سے اتر انہوں نے اندر کی طرف قدم بڑھائے تھے جانتی تھیں ایسا جھٹکا ملے گا دوست کو۔۔
“کس کو دیوار سے چپکائے گی بڑھیا۔۔”شرارت سے کہتے انہوں نے دونوں بانہیں وا کی تھیں۔۔
“ہائے میری پاکی۔۔۔ میری سہیلی۔۔۔”خوشی و حیرت کے ملے جلے تاثرات لئے وہ ان کی طرف بڑھی تھی۔
“ہائے اللّٰہ بتایا کیوں نہیں کہ آج آرہی ہے.”ان کے گلے لگتے وہ نم آنکھوں سے بولی تھیں۔
“پاگل بتا دیتی تو یہ خوشی کیسے دیکھنے کو ملتی۔۔”ان کے آنسو صاف کر انہوں نے کلثوم بی کو ساتھ لگایا تھا۔
“پرانے زمانے کے ہیرو ہیروئین لگ رہے ہیں آپ دونوں۔۔”شرارت سے بھرپور آواز پر ان دونوں۔ نے ایک ساتھ اوپر دیکھا تھا۔
جہاں کیری کھاتے اس نے انہیں دیکھ آنکھ ماری تھی۔
اسے یوں دیوار پر چڑھے دیکھ جہاں کلثوم بی نے اپنا سر پکڑا تھا وہیں پاکیزہ بیگم کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔
