Kasa-e-Ishq by Fariha Islam Readelle 50357 Kasa-e-Ishq Episode 14
Rate this Novel
Kasa-e-Ishq Episode 14
“امی کن سوچوں میں گم ہیں؟؟”پاس بیٹھی انعم نے پاکیزہ بیگم کو مخاطب کیا تھا جو پرسوچ انداز میں سامنے دیکھ رہی تھیں.
“ایک ہی تو سوچ چلتی ہے میرے دماغ میں آج کل انعم میں کیا سوچ رہی تھی کچھ دن شاہ اور شہوار کو کہیں گھومنے بھیج دیتے ہیں شاید اس سے ان کے درمیان سب ٹھیک ہو جائے ۔”
“اونہوں یہ مسئلے کا حل نہیں ہے امی۔۔ اکیلے میں شاہ کیسا رویہ رکھے کسے پتا ابھی ہم سب کی نظروں کے سامنے تو ہیں کم از کم اور دوسرا امی میاں بیوی کا معاملہ ہے انہیں خود حل کرنے دیں آپ کہتی ہیں نا تین تگڑا کام بگڑا۔۔ شہوار کو جتنا میں نے سمجھا ہے وہ بہت سمجھدار ہے بظاہر وہ بچوں کی طرح رہتی ہے مگر وہ رشتوں کی اہمیت کو اچھے سے سمجھتی ہے اور مجھے یقین ہیں کہ شاہ اور اسکا رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ بہت مضبوط ہوجائے گا۔۔”
“انشاء اللہ ۔۔” انعم کا ہاتھ تھامے انہوں نے دل سے کہا تھا۔
“اچھا اب آپ بتائیں عمرہ کرنے کب جارہی ہیں؟”
“یہ تو اللّٰہ کو بہتر پتا ہے ناجانے کب بلاوا آ جائے کلثوم بھی بول رہی تھی تو سوچ رہی ہوں ایک چکر لگا آؤ اس کے پاس کا شہوار کو بھی ملوا لاؤں ۔۔”
“ہاں یہی بہتر ہے وہ گئی بھی نہیں ہے ملنے جب سے شادی ہوئی ہے وقت کا بھی نہیں پتا چل رہا نا امی کہاں تو ہم شاہنواز کی شادی شادی کرتے رہتے تھے اور اب چار دن ہونے کو آئے ہیں۔۔”
“بلکل ویسے یہ حنا اور عدینہ کہاں ہیں صبح سے نظر نہیں آرہی نا میرے پاس آئی ہیں۔۔” انہیں اچانک ہی اپنی دونوں بہوؤں کا خیال آیا تھا۔
“بھابھی تو چھت پر ہیں شہوار کے ساتھ اچار ڈال رہی ہیں اور عدینہ بھابھی ارحم نے اسکول گئی ہیں۔۔”
“یہ اتنی گرمی میں چھت پر ہیں دیکھو تو زرا رنگ جل جائے گا ان کا جا دیکھ بیٹا بھابھی کے ساتھ کچھ کروا لے۔۔”
“بھئی اماں اتنے سال ہوگئے مگر یہ نہیں کہ مجھے میکے میں آرام مل جائے آپ تو کام ہی بتاتی رہتی ہیں۔”ان کے شکایتی لہجے کے وہ ہولے سے مسکرائی تھیں ۔
“یہ تمہاری ماں کا بھر ضرور ہے مگر اس گھر کو بنانے سنوارنے میں ساری محنت ان بچیوں کی ہے وہ صبح سے رات اس گھر میں لگی رہتی تو یہ تمہارا فرض ہے کہ اپنی بھابیوں کی مدد کرو مہمان ایک یا دو دن کا ہوتا ہے اور اس بات کا آپ بھی احساس ہونا چاہے کہ آپ کی موجودگی کہیں بوجھ تو نہیں بن رہی ۔۔”
“امی آپ مجھے بوجھ بول رہی ہیں ؟”انہیں ٹھیک ٹھاک جھٹکا لگا تھا ان کی بات پر ۔
“انعم۔۔۔”ان کے ری ایکشن پر وہ پریشان ہوئی تھیں۔
“کیا انعم امی میں یہاں اپنے بھائی کی شادی کی وجہ سے رکی تھی مگر یہاں تو میرا رکنا بوجھ بن گیا ہے مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ مجھے بوجھ سمجھتی ہیں ورنہ میں کب کی چلی جاتی۔۔”غصے سے کہتے وہ فوراً سے اٹھی تھیں۔
“انعم۔۔”انہوں نے پریشانی سے انہیں پکارا تھا۔
ان کا ارادہ تو بس یہ سمجھانے کا تھا کہ وہ اس بھی اپنی بھابھیوں کا ہاتھ بٹائیں تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ ان کی نند کو بھی ان کا خیال ہے مگر ۔۔
شاید وہ یہاں زیادتی کر گئی تھی یا کیا مگر اب انعم کی ناراضگی کا سوچ انہوں نے سر پکڑا تھا ۔
اتنے سالوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا نا انعم نے کبھی ان کی باتوں کا برا بنایا تھا مگر ان شاید ان کے لفظوں میں کچھ ایسا تھا جو انہیں بہت چبھ گیا تھا۔
“آپی آپ رو رہی ہیں؟؟”وہ سیڑھیاں اترتی نیچے آئی تھی مگر سامنے ہی انہیں بیٹھے دیکھ وہ ان کے پاس آئی تھی مگر ان کا آنسوؤں سے بھرا چہرہ دیکھ اسے تشویش ہوئی تھی ۔
“آپ سب ٹھیک ہے نا آپ کیوں رو رہی ہیں ؟؟”
“کچھ نہیں بیٹا ۔۔” اپنا چہرہ صاف کرتے انہوں نے جھوٹ بولا تھا مگر وہ کہاں ماننے والی تھی جبھی جلدی سے اوپر آئی تھی اور عدینہ اور حنا کو بولا تھا۔
انعم کے رونے کا سن کر وہ دونوں بھی کام چھوڑ چھاڑ ان کے پاس آئی تھیں ۔
“انعم کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہو کچھ برا لگا ہے ؟ کسی نے کچھ کہا ہے ؟” وہ دونوں پریشان سی ان سے پوچھ رہی تھیں جو انہیں کچھ بتانے کو تیار نہیں تھیں۔
“امی نے کچھ بولا ہے؟” عدینہ کے بولنے پر وہ خاموش رہی تھیں تو حنا بھابھی نے افسوس سے سر ہلایا تھا۔
“پاگل امی کی باتوں کا کون برا مانتا ہے وہ ماں ہیں انعم..”
“آپ کو پتا بھی ہے انہوں نے کیا کہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ یہ میرا گھر نہیں ہے اور اگر مجھے یہاں رکنا ہے تو آپ لوگوں کے ساتھ کام کروانا پڑے گا کیا بھابھی اتنے سالوں میں کبھی میں نے آپ لوگوں کی مدد نہیں کی یا آپ لوگوں کا ساتھ نہیں دیا آپ لوگوں کا خیال نہیں کیا۔۔”وہ ہچکیوں سے روتی سوال کر رہی تھیں ۔۔
ان کا رونا دیکھ اسکی آنکھیں بھی نم ہوئی تھیں.
“ارے بھئی۔۔۔” حنا بھابھی کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ بولیں تو کیا بولیں۔۔
“انعم بیٹا ۔۔ میں نے ایسا نہیں کہنا چاہا تھا ۔” ان کی باتیں سنتی پاکیزہ بیگم نے اپنی صفائی دینی چاہی تھی ۔
“بلکل نا آپا مجھے نہیں پتا امی نے ایسا کیوں کہا مگر ہر بات کے دو پہلو ہوتے ہیں اور اسی طرح سے سمجھنے والے بھی دو رخ پر سمجھتے ہیں ایک رخ ہوتا کہ آپ پازیٹو رخ کر سوچیں تو آپ کو پازیٹو لگے گا۔
کہ امی چاہتی تھی کہ سب کو یہ لگے کہ آپ کو کتنی فکر بھابھیوں کی اور ان کی نظر میں آپ کا مقام بڑھے اور دوسرا کو آپ نے سوچا کہ آپ کی اب جگہ نہیں۔”
“بلکل یہ تو انسان کی سوچ پر ہے نا اور ہم سے زیادہ تمہارا اس گھر پر حق ہے اور حق بڑھ بھی گیا ہے کیونکہ تم کچھ وقت کے لئے آتی ہو تو اس حساب سے اس دوران سب سے زیادہ تمہارا حق ہوتا ہے اس گھر پر۔”حنا بھابھی نے بھی شہوار کی بات سے اتفاق کیا تھا۔
“اب بھئی بس رونا چھوڑیں اچھا اچھا سوچا کریں۔”ان کے گرد بازو حائل کرتے وہ محبت سے بولی تو وہ سر ہلا گئیں ۔
“سر نہیں ہلائیں مسکرا کر دیکھائیں پھر ہم آپ کو مزیدار سے اچار کھلائیں گے۔۔”اس کے شرارتی انسان پر وہ ہولے سے ہنس دی تھیں ۔
“دل میں بات نہیں رکھا کریں آپا آپ تو اتنی اچھی ہیں فضول میں میری ساس کو ٹینشن دے دی۔۔” ان کو ٹائٹ سے ہگ کرتے وہ پاکیزہ بیگم کا ہاتھ تھام گئی تھی.
“انعم میرا وہ مطلب نہیں تھا بچے۔۔” انہوں نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا تھا مگر انعم نے انہیں گلے لگایا تھا ۔
“سوری اماں۔۔”ان کے سر پر بوسہ دیتی ان کی خود کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھیں ۔
وقت نے ایک دم سے رفتار پکڑی تھی انعم آپا کے جانے کے بعد جو تھوڑی بہت رونق تھی وہ بھی ختم ہوئی تھی۔
سب اسکول کالج آفس جاتے اور پھر شام میں الگ مصروفیات۔۔
شادی کو پندرہ دن ہوگئے تھے شاہنواز نے ڈیوٹی جوائن کرلی تھی تو وہ بس آتے کچھ دیر کام کرتے اور سو جاتے۔
اس کے پاس تو بات کرنے والا بھی نہیں تھا اب حنا اور عدینہ بھابھی کی باتیں اکثر اسے سمجھ ہی نہیں آتی تھیں ۔
ابھی بھی وہ بیزار سی شکل بنائے شاہنواز کو دیکھ رہی تھی۔
“سنیں آپ بولتے کیوں نہیں ہیں؟”سر پر دوپٹہ جمائے اس نے لیپ ٹاپ پر نظر جمائے بیٹھے اپنے نئے نویلے دولہے صاحب کو دیکھا تھا۔
“میں بولتا ہوں۔۔”اسکے سوال پر حیران ہوتے انہوں نے ایک نظر لیپ ٹاپ سے ہٹا کر اسے دیکھا تھا۔۔
“مگر میں نے تو آپ کو بولتے ہوئے دیکھا ہی نہیں ہے۔”وہ متفکر سی اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
“تو ابھی کیا میں نے دیواروں سے بات کی ہے؟”انہیں حیرت ہوئی تھی اس کی بات پر۔۔
“ارے مطلب آپ پورے دن میں گنتی کے چند جملے بولتے ہیں یوں تھک نہیں جاتی آپ کی زبان چپ رہ رہ کر؟”اس نے گال پر ہاتھ ٹکاتے ان سے سوال کیا تھا۔
اس کی بات پر گہرا سانس لیتے انہوں نے لیپ ٹاپ بند کیا تھا کیونکہ کام کرنا اب ممکن نہیں تھا۔
“جب آپ کی زبان اتنا بول کر نہیں تھکتی ہے تو میری کیوں تھکے گی؟”وہ نہایت سنجیدگی سے اس پر طنز کر گئے تھے۔۔
“کام کرنے سے چیز خراب نہیں ہوتی بلکہ رکھے رکھے اس میں زنگ لگ جاتا ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں آپ کی زبان میں بھی زنگ ہی نا لگ جائے۔۔”آنکھیں پٹپٹاتے اسنے معصوم بننے کی بھرپور ایکٹنگ کی تھی وہی اس کی بات پر انکا منہ کھلا تھا۔۔
“ایسے منہ کھول کر مت دیکھیں شادی کے دنوں میں تو آپ پھر بھی غصے میں بڑبڑ کر لیتے تھے اب تو جب سے آفس جانے لگے ہیں آپ نے بات کرنا بھی چھوڑ دی ہے۔”
“میں گھر میں بور ہو جاتی ہوں افسانہ ربعیہ کا کالج اکیڈمی بھابھی بھی گئی ہوئی میکے عدینہ بھابھی کی باتیں بہت الگ ہوتی ہیں اور امی سے بھی زیادہ بات نہیں کرسکتی۔۔ اب بتائیں میں کیا کروں؟؟”اس کے منہ بسورنے پر انہوں نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی تھی ۔
کائی رنگ کے کڑاہی والے سوچ کر ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے مہندی لگائے وہ ایک دو دن کی دولہن ہی لگ رہی تھی انکا دل ایک دم سے دھڑکا تھا۔
کہ انہوں نے گھبرا کر اپنی نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔
“یہ ہر وقت چوڑیاں اور مہندی چڑ نہیں ہوتی ۔۔؟” خود سے گھبرا کر وہ کیا بول گئے تھے انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوا تھا۔
“ہیں۔۔؟ ارے یہ تو امی نے بولا ہے کہ دولہن ہوں نا تو ہاتھ خالی نہیں رکھا کروں۔۔” اپنی جگہ سے اٹھتے وہ ان کے پاس صوفے پر آکر بیٹھی تھی ۔
“مہندی اچھی لگ رہی ہے نا؟” ان کے آگے دونوں ہاتھ پھیلاتے اس نے اشتیاق سے پوچھا تھا۔
انہوں نے نظریں اٹھا کر اسکی آنکھوں میں جھانکا تھا۔
“اسکی آنکھیں کتنی خوبصورت ہیں۔۔”اسکی کاجل بھری آنکھوں کو دیکھتے وہ دل میں بولے تھے۔
“کیا ہوا کیا گھور رہے ہیں ۔۔” ان کی نظروں سے کنفیوز ہوتے وہ اس نے جلدی سے ان کا بازو ہلایا تھا۔
“کچھ نہیں۔۔ تم کوئی حور پری تو ہو نہیں جو تمہیں گھوروں گا۔۔” سر جھٹک کر کہتے انہوں نے واپس سے لیپ ٹاپ پر دھیان لگانا چاہا تھا۔
“بھئی آپ بتائیں نا مہندی کیسی ہے ۔۔” انکا لیپ ٹاپ سائیڈ کرتے اس نے واپس سے اپنی مہندی والا ہاتھ ان کے سامنے کیا تھا۔
“اچھی ہے بہت بس اب خوش۔”
“ہونہہ جان چھڑا رہے ہیں میں بور ہورہی ہوں شاہ مجھے کہیں گھمانے ہی لے چلیں ۔۔” ایک اور فرمائش انہوں نے گہرا سانس لیا تھا۔
ڈانٹ اسے سکتے نہیں تھے کہ جتنا اسے ڈانٹتے اتنا ہی وہ فری ہو جاتی اور پھر سارے کام ان کے سنبھال رہی تھی تو ڈانٹنا بنتا بھی نہیں تھا ۔
“تم بور ہورہی ہو تو پڑھائی کرو آگے ابھی ایڈمیشن آئیں گے تو افسانہ کے ساتھ آگے لے لینا ایڈمیشن۔۔”
“اوووو بھئی معافی مجھے نہیں پڑھنا۔۔” اس نے ان کے آگے ہاتھ جوڑے تھے ۔
“شہوار..”
انہوں نے سختی سے اسکا نام پکارا تو کھلکھلا کر ہنس دی تھی ۔
“اچھا نا کرلیں نا کام میں جارہی ہوں باہر ۔۔” ان کو تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی مگر اچانک ہی اسکا ہاتھ ان کی گرفت میں آیا تھا ۔
لمحے کو اسے لگا اسکا دل دھڑکنا بھول گیا ہو۔
اس نے چونک کر انہیں دیکھا تھا۔
“چادر لے کر آؤ جب تک میں امی کو بتا دوں۔” ناجانے کیا سوچ کر انہوں نے یہ کیا تھا مگر وہ حیران تھی۔
وہ کیا حیران تو پاکیزہ بیگم بھی ہوئی تھیں مگر بولا کچھ نہیں تھا بلکہ خوشی خوشی انہیں جانے کا بولا تھا۔
وہ جلدی سے عبایا پہنتی نیچے آئی تھی جہاں وہ اسکے منتظر تھے۔
اسکے آتے ہی انہوں نے بائیک اسٹارٹ کہ تھی۔
یہ سب تو خواب سا تھا اس نے مضبوطی سے انہیں تھاما تھا ۔
انہوں نے آہستہ سے شیشے میں نظر آنے والے اسکے عکس کو دیکھا تھا۔
ان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی تھی ۔۔
