665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 6

“دادی۔۔”ان کے گرتے ہی وقاص نے بھاگ کر انہیں تھاما تھا۔۔

“امی۔۔ کیا ہوا امی آنکھیں کھولیں خدا کا واسطہ ہے۔۔۔”ان کا سر گود میں رکھے سجاد صاحب بوکھلائے تھے۔

“ممم۔۔۔میں پانی لاتی ہوں۔۔”افسانہ جلدی سے اندر بھاگی تھی ان کے لئے پانی لینے۔۔

“چلیں جائیں آپ سب کوئی منگنی نہیں ہورہی ہے۔۔”امی ماں کی حالت دیکھ فرحان صاحب کا بس نہیں چل رہا تھا کیا کرجائیں۔۔

“بھائی انہیں اندر لیکر چلیں۔۔”اپنی ماں کی حالت پر پیشیمان کھڑے شاہنواز سے کہتے ساتھ انہیں سہارا دے کر اٹھایا تھا اور اندر کی طرف بڑھے تھے۔

ان کے اندر جاتے ہی باہر سے آئے مہمانوں نے بھی رخصت لی تھی۔

لڑکی کی ماں پریشان سی آنکھوں میں آنسو لئے رخصت ہوئی تھی۔

صحیح کہا جاتا ہے یہ جو زبان ہے نا یہ تلوار سے بھی تیز دھار رکھتی تھی کمان سے نکلا تیر تو شاید واپس آجائے مگر زبان سے نکلے لفظ کبھی واپس نہیں آسکتے۔۔۔

وہ سیدھا دل اور دماغ پر پیوست ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں لہولہان کر دیتے ہیں کہ وہ لفظ یاد کر تاعمر وہ انسان تکلیف میں مبتلا رہتا تھا۔۔

“سوری دادی میں چپ نہیں رہ سکی۔۔”اسکی نظر کرسی پر بیٹھی کلثوم بی پر پڑی تو وہ آکر ان کے قدموں میں بیٹھی تھی۔۔

“ایسا مت بول لاڈو مجھے تجھ پر فخر ہے حق بات کے لئے لڑنا غلط نہیں ہے اور ہی تو نے کچھ غلط بولا جو کیا بلکل ٹھیک کیا ایسے لوگوں کے منہ تب ہی بند ہوتے ہیں جب انہیں آئینہ دیکھایا جاتا ہے۔۔”اس کے سر پر ہاتھ رکھتے انہوں نے اسے پرسکون کرنا چاہا تھا۔

“مگر حنا آنٹی کو تو بہت بڑا لگا ہوگا نا میری وجہ سے ان کے بیٹے کی منگنی ختم ہوگئی۔۔”اسکا دل بجھ سا گیا تھا اچانک ہی۔

“ایسا کچھ نہیں ہے بچے بلکہ اچھا ہی ہوا ابھی سے ان لوگوں کی اصلیت نظر آگئی اپنے دل پر بوجھ مت لو۔۔”باہر آتی حنا نے اسکی بات سنی تو اسکے پاس آتے انہوں نے آہستہ سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

“پاکیزہ کیسی ہے؟”

“ٹھیک ہیں آپ کو ہی بلانے آئی تھی میں امی آپ کو یاد کر رہی ہیں۔۔”

“اچھا اللّٰہ تیرا شکر میں جاتی ہوں۔۔”ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ وہ اندر کی طرف بڑھی تھیں۔

“آجاؤ بیٹا باہر مت بیٹھو۔۔”اسکا ہاتھ تھام وہ اسے اپنے ساتھ لئے اندر آئی تھیں جہاں پاکیزہ بیگم کے کمرے میں سب ان کے اردگرد جمع تھے جب کے ان کے ایک سرہانے پر شاہنواز تو دوسری طرف کلثوم بی موجود تھیں۔

“کیوں ایسے پڑی ہے پاکیزہ اتنی تو کمزور نہیں تو۔۔”ان کا ہاتھ تھما کلثوم بی نے محبت سے بولتے ان کے بال سنوارے تھے۔

“ٹوٹ گئی ہوں میں کلثوم اپنی اولاد کے آگے ہار گئی ہوں اپنی اولاد کی خوشیاں دیکھے بغیر اس دنیا سے جانے کا غم کھائے جارہا ہے مجھے۔۔”

“امی۔۔۔۔۔”ان کی بات پر پاس بیٹھے شاہنواز نے تڑپ کر انہیں پکارا تھا۔۔

“بس کردے شاہنواز اچھا ہے مر جاؤ میں ورنہ تیرا غم مجھے جیتے جی مار رہا ہے۔۔”انہیں بول وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھیں۔

شاہنواز کو اپنا آپ ایک دم بوجھ لگنے لگا تھا۔

“امی خدا کے لئے ایسا مت کہیں مجھے معاف کردیں میں بھابھی بھائی وقاص سب سے معافی مانگ لوں گا میں قصور وار ہوں نا آپ سب کا مجھے معاف کردیں مگر اپنی طبعیت خراب مت کریں۔۔”انکے ہاتھ تھامتے انہوں نے لبوں سے لگایا تھا۔۔

“معافی نہیں چاہیے تیری مجھے۔۔”ان کے کہنے پر شاہ نے سر اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا تھا۔

“اچھا آپ جو بولیں گی میں کرونگا بس خود کو یوں بیمار مت کریں۔۔”ان کی حالت سے وہ گھبرا گئے تھے۔

“شادی کرلے شاہنواز میری ایک آخری خواہش پوری کردے میرے بچے مرنے سے پہلے تیری شادی دیکھنا چاہتی ہوں دم نکلنے سے پہلے تجھے آباد دیکھنا چاہتی ہوں ۔”ان کی دل کو دہلانے والی باتوں سے وہ حد سے زیادہ پریشان ہوئے تھے مگر ان کی خواہش۔۔۔۔۔

شاہنواز نے بےبسی سے اپنے بھائیوں کو دیکھا تھا جو دونوں ہی منہ موڑ گئے تھے بہن تو تھی ہی اماں کی سائیڈ۔۔

گہرا سانس بھرتے انہوں نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا تھا جن کا چند لمحوں میں ہی چہرہ زرد ہوگیا تھا وہ آس بھری نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔

“اچھا ٹھیک ہے کرلونگا میں شادی بس اب آپ ٹھیک ہو جائیں۔۔۔”وہ ہار گئے تھے آخر۔۔

“تو سچ بول رہا ہے نا نواز۔۔۔”اس بات کو سننے کے لئے ان سب کے کان ترس گئے تھے شاہنواز کا سہارا لے کر بیٹھتے انہوں نے شاہنواز کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا۔۔

“یہ کہیں غلط تو نہیں سنا نا میں نے ؟؟”

وہ خوشی سے بے حال تھیں۔۔

“ہاں ٹھیک سنا ہے آپ نے بس اب آپ ٹھیک ہو جائیں پھر کرلونگا شادی ۔”

“کرلونگا نہیں ابھی کرنی ہے۔۔۔”

“ہیں۔۔۔۔۔؟”پاکیزہ بیگم کی بات ہے وہ بری طرح چونکے تھے وہ تو سوچ بیٹھے تھے بعد میں مکر جائیں گے یہ کیا نیا چکر شروع ہوگیا تھا۔۔

“کلثوم تو نے کہا تھا نا تجھے اپنی شہوار کے لئے اچھا رشتہ چاہیے کیا تو مجھے اپنی شہوار دے گی؟؟”

اپنا نام سن وہ جو باہر کی طرف بڑھنے کو تھی اسکے پیر تھمے تھے اس نے جھٹکے سے گردن گھما کر اپنی دادی کو دیکھا تھا۔۔

“امی۔۔۔۔”شاہنواز کو صدمہ لگا تھا ان کی بات پر جب کہ باقی سب محض تماشائی بنے کھڑے تھے۔۔

“بول کلثوم۔۔۔۔ وسیم فوزیہ تم لوگ بتاؤ منظور ہے یہ رشتہ۔۔

“اماں۔۔”وسیم صاحب نے اپنی ماں کو کندھا ہلایا تھا جو ناجانے کن سوچوں میں گم ہوگئی تھیں۔

“کلثوم تیرا مسئلہ حل ہو جائے گا اور میری خواہش پوری ہو جائے گی…”

وہ انکا ہاتھ تھامے آس سے بولی تھیں۔

کلثوم بی نے ایک نظر اٹھا کر دروازے پر استادہ اپنی پوتی کو دیکھا تھا جس کی نظریں ان پر ہی ٹکی تھیں۔۔

“مجھے منظور ہے یہ رشتہ۔۔۔”بالآخر وہ بول اٹھی تھی جواب سنتے ہی وہ ایک جھٹکے سے کمرے سے باہر نکلی تھی مگر شاہنواز کایا کے یوں پلٹنے پر بت بنے تھے وہ یہاں سے فرار چاہتے تھے مگر ان کا ہاتھ پاکیزہ بیگم کے ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں تھا۔۔

وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتی نیچے آئی تھی جب سامنے سے آنے والے شخص سے بری طرح اسکا ٹکراؤ ہوا تھا۔۔

“اہہہہ۔۔۔۔” تکلیف سے اسکی سسکی نکلی تھی۔۔

“آئی ایم سوری میں نے دیکھا نہیں تھا آپ کو۔۔”پریشان سی آواز پر شیزا نے سر اٹھا کر وقاص کو دیکھا تھا۔

“آئی ایم سوری مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ نیچے آرہی ہیں ۔”وہ شرمندہ سا سر جھکائے بولا تو شیزا کو ناجانے کیوں اسکے لئے برا لگا تھا آج جو کچھ بھی ہوا اس میں سب سے زیادہ تکلیف تو اسے ہوئی ہوگی ایک جڑتا رشتہ ٹوٹا تھا۔

“کوئی بات نہیں میرے اتنی ہی لگی۔۔”ہولے سے کہتے اس نے ایک نظر اسے دیکھا تھا جو اس سے نظر ملا کر بھی بات نہیں کر رہا تھا۔

“وقاص۔۔۔”اسے جاتے دیکھ وہ پتا نہیں کیوں اسے پکار بیٹھی تھی۔

“ہمممم۔۔؟”اپنے نام کی پکار پر اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا۔

“جو ہوا وہ ایسے ہی ہونا تھا کیونکہ آپ کے نصیب میں بہترین لکھا گیا ہے تو آج جو بھی کچھ ہوا اسے دل پر مت لیجئے گا۔۔۔۔

آپ اداس ہونگے تو آپ کے امی بابا کو بھی تکلیف ہوگی بس دل میں یہ سوچ رکھیں کہ اس میں بھی اللّٰہ پاک کی کوئی بہتری ہے پلیز اداس مت ہونا آپ۔۔”اپنی بات مکمل کر وہ رکی نہیں تھی تیزی سے اسکے سائیڈ سے نکلتے وہ وہاں سے غائب ہوئی تھی۔

وقاص نے حیرت سے اسکی پشت کو دیکھا تھا کتنی آسانی سے وہ اسکے دل کا بوجھ ختم کرگئی تھی اسکے چند لفظوں نے اس کے دل پر پڑا بوجھ ایک ہی جھٹکے میں ہٹا دیا تھا۔۔

ہولے سے مسکراتے وہ اس سمت بڑھا جہاں سے ابھی کچھ دیر پہلے وہ گئی تھی۔۔

“سنیں۔۔۔! شیزا۔۔۔۔۔؟”اسے سامنے کھڑا دیکھ وہ ایک دم سے اسکے پاس آیا تھا۔۔

“جی۔۔۔؟”اس نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔

“تھینک یو سو مچ میں آپ کی بات پر عمل کرونگا اور اداس نہیں ہونگا نا ہی کسی کو تنگ کرونگا۔۔”دانت لبوں میں دباتے وہ آہستہ سے بولا تو وہ بےساختہ مسکرائی تھی۔۔

“مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے میری بات کو سمجھا اور اس پر عمل بھی کرینگے کیونکہ آپ کو پتا ہے ہماری لائف بہت مختصر ہے ہمیں اپنے اگلے پل کا نہیں پتا اگر ہم آج اداس ہوکر سوئے اور اگلے دن خدا ناخواستہ کچھ ہوگیا تو ساری زندگی کا پچھتاوا رہتا ہے اس لئے کہتے ہیں رات سونے سے پہلے سب کو معاف کرکے اور معافی مانگ کر سونا چاہیے۔۔۔”

“جی میں بلکل سمجھ گیا ہوں۔۔”

“گڈ۔۔۔ ویسے آپ یہاں کیا کر رہے ہیں آپ تو ڈاکٹر کو لینے گئے تھے نا؟؟؟” یاد آنے پر اسنے پوچھا تو ایک دم سر چونکا تھا۔

“اوو ہاں دراصل دادی ٹھیک ہوگئیں تو میں بلانے نہیں گیا۔۔”

“اوووو۔۔۔ سہی میں چلتی ہوں اب۔۔”اسکے تاثرات عجیب سے دیکھ اس نے دماغ کے گھوڑے دوڑانے چاہے تھے مگر پھر ناکام ہوتے اسنے وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا تھا۔۔

“کیا ہے یار دادی۔۔۔”ماتھے کو مسلتا وہ ایک دم ہنسا تھا۔۔

اس منگنی کے ٹوٹنے سے اسے زرا بھی فرق نہیں پڑا تھا کیونکہ وہ اتنا تو سمجھدار تھا ہی کہ اس ساری صورتحال کو سمجھ سکے اپنے لئے بہتر اور برے کا فرق کر سکے۔۔۔

“کیا دادی ایسے کیسے تیرا رشتہ اتنے بڑے شخص کے ساتھ کر سکتی ہیں شہوار اور تو کچھ نہیں بولی کہاں تو تو اپنی پسند کے جوڑے کے لئے اتنا لڑتی ہے اور اب شادی کے معاملے میں منہ میں رہی جما لیا؟؟؟”نجم کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہورہا تھا۔

“زرا دیر اور باہر رہتا تو تیرا تو نکاح ہوچکا ہوتا دادی تو حد ہی کر رہی ہیں میں بات کرتا ہوں ان سے۔۔۔”

“تھم جا نجم پاگل ہوگیا ہے میں نے بولا کہ مجھے اعتراض ہے جو تو ولن بن رہا۔۔”اسکا کالر پکڑا اس نے ایک دم ہی اسے کھینچا تھا..

“ہیں؟؟؟ کیا مطلب تجھے کوئی اعتراض نہیں ہے شہوار؟؟”نجم کو صدمہ لگا تھا اسکی بات پر۔

“ہاں مجھے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ مجھے پتا ہے دادی نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر لیا ہے وہ مجھے ایسے کی پھینک نہیں سکتی کبھی بھی میں نے ساری زندگی ان کی بات پر بھروسہ کیا ہے ان کا کیا ہر فیصلہ مانا ہے اور مجھے پورا یقین ہے کوئی ایسی بات ضرور ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے تو میں ان سے کوئی سوال جواب نہیں کرونگی۔۔”

“لیکن میں کرونگا میں اپنی بہن کو یوں پھینکنے نہیں دونگا انہیں۔۔”

“نجم نجم۔۔۔۔ میں رو رہی ہوں؟ میں غصہ ہورہی ہوں؟ نہیں نا کیونکہ مجھے پتا ہے مجھے کیا کرنا ہے مت کرو مزید انہیں پریشان میرے اچھے بھائی ہو نا”؟اسکا ہاتھ تھامے اسنے اس چھوٹے سے بھالو کو سمجھانا چاہا تھا۔

“شہوار۔۔۔ “وہ روہانسا ہوا تھا اداس تو وہ بھی تھی مگر جس نے اسکی پرورش کی تھی نا اسکے آنکھ کے اشارے تک کو وہ سمجھتی تھی اور پھر پاکیزہ بیگم کی بے بسی وہ انہیں مزید تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔

“نجم کیا کبھی دادی نے ہماری زندگی کے لئے کوئی غلط فیصلہ لیا ہے جو وہ اب لینگی؟؟”

“نہیں۔۔”

“تو بس پھر انہوں مزید پریشان نا کرو۔۔”

اس کی بات ہے وہ سر جھٹک کر رخ موڑ گیا تو شہوار نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا تھا۔۔

“شہوار گڑیا! وسیم صاحب کی آواز پر نجم نے ایک خفا خفا سی نظر اس پر ڈالی تھی اور وہاں سے نکلتا چلا گیا اس کے جاتے ہی کمرے میں کلثوم بی فوزیہ اور وسیم صاحب داخل ہوئے تھے۔

“شہوار میں نے تیری زندگی کا فیصلہ تیری مرضی کے خلاف لے لیا اپنی دادی کو سمجھنا بیٹا۔۔”اسکے پاس بیٹھتے انہوں نے پانے کھری زدہ ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھاما تھا جو ہولے ہولے لزر رہا تھا۔۔

“مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے دادی میری ماں میرا باپ سب آپ ہو اور مجھے آپ سب پر بھروسہ ہے۔۔”دوسرے ہاتھ سے اپنے چچا کا ہاتھ تھام کر انہیں پاس بیٹھایا تھا۔

“اور اس بات کی فکر چھوڑ دیں کہ میں آپ لوگوں کو غلط سمجھو گی آپ لوگ باتیں چھپاتے ہیں مجھ سے مگر مجھے سب پتا چل جاتا ہے اگر آپ لوگوں کو لگتا ہے وہ آئیں گی اور مجھے لے جائینگی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے میں کوئی کھلونا نہیں ہوں اس لئے مجھے اس شادی سے کوئی اعتراض نہیں ہے میں انہیں مظلوم نہیں بننے دونگی..”

اسکی بات پر کلثوم بی نے آگے بڑھ کر اسے بازؤوں میں چھپایا تھا اس ممتا بھری آغوش میں آکر اس نے چپکے سے نم آنکھوں کو صاف کیا تھا۔۔

“نیچے تمہارے نکاح کی تیاری ہورہی ہے اور تم یہاں چھپے ہوئے ہو نیچے چلو سب انتظار کر رہے ہیں۔۔”انہیں پورے گھر میں ڈھونڈتے فرحان اوپر آئے تو انہیں چھت پر کھڑے پایا تھا۔

“بھائی۔۔۔”اسکے ہر انداز سے بے بسی نمایاں تھی اور ابھی بھی انکے لہجے میں موجود درد فرحان صاحب نفی میں سر ہلاتے ان کے پاس آئے تھے۔

“نکل آؤ ماضی سے شاہنواز۔۔۔ خدا کے لئے اب کوئی تماشہ مت کرنا پہلے ہی بھائی بھابھی پریشان ہیں امی کی حالت تمہارے سامنے ہے۔۔ “

“بھائی وہ بہت چھوٹی ہے مجھ سے میں کیسے اس سے نکاح کر سکتا ہوں؟؟”انہوں نے ایک نیا اعتراض اٹھایا تھا۔

“عمر کم یا زیادہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا اور ویسے بھی در شہوار کو کوئی اعتراض نہیں ہے پھر بھی اگر تمہیں تسلی کرنی ہے تو اس سے بات کرلو میں بول دیتا ہوں عدینہ کو.”ان کی آفر کر انہوں نے لمحے کو سوچا تھا اور پھر اثبات میں سر ہلایا تھا اب یہی ایک واحد حل تھا اس نکاح سے فرار کا۔

اور پھر فرحان اور عدینہ بھابھی نے مل کر ان دونوں کی ملاقات کا انتظام کیا تھا کلثوم بی سے تو وہ اجازت لے ہی چکے تھے۔۔

اسے تعجب نہیں ہوا تھا کہ وہ اس سے ملنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ جانتی تھی وہ اس نکاح کو نا کرنے کے لئے کچھ نا کچھ تو ضرور کرینگے جبھی وہ مطمئن سی بیٹھی تھی جب دروازہ ناک کرتے وہ اندر داخل ہوئے تھے۔

اس نے اپنا جھکا سر اٹھا کر انہیں دیکھا تھا جو چہرے پر بارہ بجائے ان کے سامنے کھڑے تھے۔

“بیٹھ جائیں آپ کا اپنا ہی گھر ہے۔۔”سامنے پڑے صوفے کی طرف اشارہ کرتے شہوار نے انہیں بیٹھنے کی دعوت دی تھی۔

“میں بیٹھنے نہیں آیا مجھے بات کرنی ہے۔۔۔”انہوں نے بات کا آغاز کیا تھا مگر سامنے موجود اس لڑکی کے تاثرات دیکھتے ان کی بات ان کے لبوں میں ہی دب گئی تھی۔

“افف خدا کے لئے کوئی فلمی ڈائیلاگ مت بولئے گا کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتا میں کسی کو پسند کرتا ہوں آپ انکار کردیں ورنہ میں ظلم کے پہاڑ توڑے دونگا۔۔۔ بھئی ناولز میں یہ ڈائیلاگز پڑھ پڑھ کر میرا سر دکھ گیا ہے۔۔”سر پر دوپٹہ جماتے اس نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا اور وہ۔۔۔

وہ تو اسکی زبان کی پھرتی دیکھ رہے تھے۔۔

“میں بہت بڑا ہوں تم سے آخر کیوں کرنا چاہتی ہو یہ شادی۔۔”وہ زچ آگئے تھے اب اس سب سے۔

“عمروں کے فرق سے کچھ نہیں ہوتا اور آنے والا یہ وقت آپ کو اچھے سے سمجھا دے گا میں نکاح سے انکار نہیں کرونگی کیونکہ اس نکاح سے میرے اپنوں کی خوشی جڑی ہے اگر وہ میرے لئے ہمیشہ سے اچھا کرتے آئے ہیں تو اب یہ میرا وقت ہے ان کو خوشیاں دینے کا۔۔۔ آپ خود غرض ہیں مجھے پتا ہے جائیں اور منع کردیں بھری محفل میں نکاح سے مار دیں اپنی ماں کو دیں آپ دکھ اپنے بھائیوں کو اپنی بہن کو مگر میں انکار نہیں کرونگی۔۔”اپنا فیصلہ سناتی وہ ان کی مزید سنے بغیر ان کے برابر سے نکلتی چلی گئی۔۔