665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 15

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اسکے چہرے سے ٹکراتی اسے کھلکھلانے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔

اسکا دل کیا بانہیں وا کر کے ان ہواؤں کو خود میں سمیٹ لے۔۔

اس نے آہستہ سے شیشے میں نظر آتے ان کے وجہہ چہرے کو تکا تھا۔

چہرے پر سنجیدگی سجائے ان کا پورا دھیان روڈ کی طرف تھا۔

اور اس وقت اسے وہ دنیا کے سب سے خوبصورت انسان لگے تھے۔

اس نے آہستہ سے ان کی کمر کے گرد ہاتھ رکھا تھا اور اپنا سر ان کے کندھے پر رکھتے اس نے آنکھیں موندیں تھیں۔

اس کے اس طرح کرنے پر شاہنواز نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔

جو آنکھیں موندے ان کے کندھے پر سر رکھے بیٹھی تھی۔

“شہوار ٹھیک سے بیٹھیں گر جائیں گی۔۔” اپنا ہاتھ پیچھے لے جاتے انہوں نے اسکا ہاتھ اپنے گرد باندھا تھا۔

“مجھے اچھا لگ رہا ہے ایسے شاہ آپ کے ساتھ سفر کرنا۔۔”آہستہ سے کہتے اسنے زرا سا آنکھیں کھول کر انہیں دیکھنا چاہا تھا۔

“میں ساری زندگی آپ کے ساتھ رہنے والا ہوں شہوار ۔۔”اس کی نظروں کی تپش سے خائف ہوتے انہوں نے اسے ٹوکا تو وہ بے ساختہ ہنسی تھی اور یہ ہنسی سن انکے دل نے اسپیڈ پکڑی تھی ۔

“یعنی اب آپ مجھے ساتھ رکھنے پر تیار ہیں ؟” اس کی بات پر وہ سٹپٹائے تھے۔

“ایسا تو کچھ نہیں ہے فضول نا بولیں ورنہ یہی پھینک کر چلا جاؤ گا ۔”

“پھینک ہی نہیں سکتے آپ کیونکہ آپ امی سے ڈرتے ہیں اور اب تو امی اتنی بہادر ہوگئی ہیں کہ آپ مجھے پھینکیں گے نا وہ آپ کو پھینک دینگی۔۔” اسکی شرارتی آواز پر انہیں اس وقت کو کوسا تھا جب انہیں اس پر ترس آیا تھا کہ اس کے بھی اپنی شادی شدہ زندگی کو لے کر کچھ خواب ہونگے کچھ خواہشات ہونگی ۔

اب ہمدردی گلے پڑ رہی تھی۔

آئسکریم پارلر کے سامنے بائیک روکتے انہوں نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔

“کیا میں نے کیا کیا اب۔۔۔” ان کی نظروں کا مفہوم سمجھتی وہ منمنائی تھی ۔

” اندر اگر فضول گوئی کی نا شہوار میں آپ کو یہی چھوڑ کر چلا جاؤ گا بنا بل دئیے۔۔”

اسے دھمکی دیتے انہوں نے بائیک سائیڈ پر کھڑی کی تھی اور خود آگے بڑھے تھے ۔

“ہونہہ کھڑوس اور آتا بھی کیا ہے غصے کے علاؤہ ۔۔” منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے وہ جلدی سے ان کے ہم قدم ہوئی تھی۔

ان کے ساتھ اندر رکھتے وہ ان کی ہمراہی میں ٹیبل تک آئی تھی ۔

“کون سا فلور کھاؤ گی؟” مینو اسکے سامنے رکھتے انہوں نے اسکی پسند پوچھی تو اس نے ملامت بھری نظروں سے انہیں دیکھا تھا ۔

“کیا ؟” اس کے یوں دیکھنے پر انہوں نے آئی برو اچکائی تھی۔

“مجھے ایک ہفتے میں آپ کی پسند نا پسند کا اندازہ ہوگیا ہے مگر آپ کو نہیں ہوا نا۔۔” منہ بسورتے اس نے مینو پرے کیا تھا اب شہوار میڈم کا موڈ خراب ہوچکا تھا ۔

اس کا پھولا منہ دیکھتے شہوار نے دانت پیسے تھے مجال ہے جو یہ لڑکی کوئی بھی کام سیدھے سیدھے ہونے دے۔۔

“چلو کوئی بات نہیں ویسے بھی جو شوہر کو پسند ہوتا وہی بیویوں کی پسند بھی ہوتی ہے۔۔” ان کی بات پر اسکی آنکھیں پھیل تھیں ۔۔

“کون کہتا ہے آپ شریف ہیں آپ تو بہت چالاک ہیں شاہ۔۔” ان کی چالاکی پر وہ عش عش کر اٹھی تھی ۔

“تم سے سیکھ رہا ہوں میں یہ چالاکیاں ۔۔” اپنی جگہ سے اٹھتے انہوں نے کہا تو وہ بس جھٹک کر رہ گئی۔

ادھر ادھر دیکھتے اسکی نظر کاونٹر پر گئی تھی جہاں وہ کھڑے آرڈر کر رہے تھے ۔

وہ رف سے حلیے میں بھی سیدھا اسکے دل میں اتر رہے تھے۔

کتنے پیارے ہیں کیا ہوجائے اگر میں بھی انہیں پیاری لگنے لگ جاؤں..”خود سے کہتے اس نے مسکرا کر انہیں دیکھا تھا۔

“دادی بولتی ہیں شاہ نکاح بہت پاک رشتہ ہوتا ہے اور اگر دل میں نبھانے کی لگن ہو تو کوئی بھی رکاوٹ بڑی نہیں لگتی مجھے یقین ہے میرا خلوص اور میرے دل میں جو آپ کے لئے وہ سب مل کر آپ کا دل میری طرف موڑ دینگے۔۔” وہ خود سے کہتی ان کے آنے پر سیدھی ہو کر بیٹھی تھی ۔

“شاہ۔۔۔”آئسکریم کا بائٹ لیتے اس نے انہیں پکارا تھا

“ہمم۔۔” انہوں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہی تھی ۔

“گھر میں سب لوگ موجود ہیں سب کے لئے بھی لے کر جائینگے آئسکریم ۔۔”

اس کی بات پر اسنے انہوں نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا تھا۔

“اگر بمبر بڑھانے کے لئے لے کر جانا ہے تو فائدہ نہیں کیونکہ کچھ وقت بعد آپ سب لوگ لڑ رہے ہونگے پاگلوں کی طرح۔۔”

“اوووو اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سمجھی۔۔۔” اس نے آئسکریم چھوڑ ان کو حیرت سے دیکھا تو وہ ایک دم سے سٹپٹائے تھے ۔

“کک۔کیا۔۔۔؟ کیا۔۔۔۔؟

“آپ مجھے یہاں اس لئے لائیں ہیں تاکہ دونوں بھابھیاں باتیں بنائیں ہم میں پھڈے فساد ہوں اور ہم بلیوں کی لڑائی میں بند۔۔۔ آہاں یعنی آپ فائدہ اٹھائیں ۔۔۔۔ ” ان کے اس بدلے روپ کا پس منظر بہت اچھے سے سمجھ آگیا تھا اسے ۔

“مطلب کچھ بھی فضول؟؟” اپنی سوچ پکڑے جانے پر وہ فوراً سے مکر گئے تھے۔

“شاہ سازشی شوہر کم بنیں آپ پر سوٹ نہیں کرتا بلکل۔۔”آئسکریم کا لاسٹ بائٹ لیتے اسنے ٹشو سے فیس صاف کیا تھا ۔

“زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ چلو اٹھو ۔۔” اسکی باتوں پر ان کا منہ بنا تھا ۔۔

وہیں ان کے تاثرات دیکھ اس نے دانتوں تلے لب دباتے اپنی مسکراہٹ روکی تھی۔۔

“اچھا اب چلو۔۔”اسے مسکراتے دیکھ وہ جل کر آگے بڑھے تھے۔

جبکہ گھر والوں کے لئے آئسکریم لینے کا سوچتی وہ مجبوراً خالی ہاتھ وہاں سے نکلی تھی ۔

“یہ لوگ ابھی تک نہیں آئے بھابھی ۔۔” کھڑکی سے باہر کی جانب جھانکتے عدینہ نے حنا بھابھی سے کہا تھا۔

“آجائیں گے عدینہ تم کیوں جلے پیر کی بلی بنی گھوم رہی ہو..”

“کہاں جلے پیر کی بلی بھابھی امی کو بھی برابر کے اصول رکھنے چاہیے نا چھوٹی بہو کو اتنی آزادی یاد ہے ہم میری نئی نئی شادی ہوئی تھی کتنی پابندیاں تھیں ان کے ساتھ تو وقت گزارنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔۔”

“ہمارا زمانہ اور تھا اور اب کا زمانہ اور ہے اور ویسے بھی جن حالات میں ان کی شادی ہوئی ہے اچھا ہے دونوں زیادہ سے زیادہ وقت ایک ساتھ گزاریں۔۔”

حنا بھابھی کی بات پر ان کا منہ بنا تھا۔

“بھابھی پتا نہیں آپ کس مٹی سے بنی ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کو۔۔”

“مجھے کیوں فرق نہیں پڑے گا؟ کیا میں انسان نہیں ہوں عدینہ؟

“میں نے ایسا تو نہیں کہا میرا مطلب ہے کہ جو اصول ہم دونوں کے لئے تھے وہ شہوار کے لئے بھی ہونے چاہیے اور مجھے برا لگا ہے ہمیں تو کبھی ایسے اکیلے جانے کی اجازت نہیں ملی۔۔”

“وہ اس لئے کیونکہ اس وقت ایسے چونچلے ہی نہیں ہوتے تھے اور عدینہ کچھ بھی کہو ہم نے ایک بہترین وقت گزارا ہے ایسا سسرال بھی نصیب والوں کو ملتا ہے دیکھوں نا کتنا سکون ہے کوئی چک چک نہیں نا ہی کوئی پنچائیت اپنا سکون سے گھر میں بیٹھے ہیں ورنہ آج کل گھر بسانا کتنا مشکل ہوگیا ہے ۔۔”

حنا بھابھی کی بات ہے وہ لمحے کو چپ ہوئی تھیں ۔

بات ان کی واقعی ٹھیک تھی آج کل گھر بسانا اتنا مشکل ہوگیا ہے کہ شادی سے کی خوف آنے لگا تھا۔

“امی دادو بلا رہی ہیں آپ کو۔۔” افسانہ کی آواز پر وہ دونوں ہی نیچے آئی تھیں ۔

“بھابی آپ جائیں میں سن کر آتی ہوں امی کی بات ۔”

انہیں بولتی وہ اندر کمرے میں داخل ہوئی تو پاکیزہ بیگم آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی تھیں ان کی آمد پر انہوں نے زرا سا آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر انہیں دیکھا تھا۔

“آجاؤ عدینہ ۔۔” انہیں دیکھتی وہ سیدھی ہو کر بیٹھی تھیں ۔

ان کی خاموشی نے انہیں پریشان کیا تھا کہ کہیں کچھ دیر پہلے کہیں گئی باتیں تو نہیں سن لی انہوں نے۔۔

” جی امی۔۔” ان کے پاس بیٹھتے انہوں نے کہا تو پاکیزہ بیگم نے گہری سانس بھرا تھا ۔

“عدینہ مجھے نہیں پتا کہ یہ بات کرنا ٹھیک ہے یا نہیں مگر میں نے ایک بات کرنی تھی سے یہ خواہش تمہارے ابا حضور کی تھی لیکن میں چپ اس لئے تھی کیونکہ شاہنواز۔۔۔ ” انہوں نے بات ادھوری چھوڑ کر انہیں دیکھا تھا۔

“امی آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں کھل کر کہیں۔۔” انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ آخر کیا کہنا چاہتی ہیں۔

“بیٹا تمہارے ابا کی خواہش تھی کہ زبیر اور ربعیہ ۔۔ دیکھو کوئی زبردستی نہیں ہے تم بیٹے کی ماں ہو تمہاری خواہش کو پہلے رکھا جائے گا۔۔”

“امی ۔۔۔” یہ بات واقعی ان کے لئے جھٹکا ہی تو تھی انہوں نے کہا سوچا تھا کہ وہ ان سے اس طرح کی کوئی بات کریں گی۔۔

“ابھی اچانک سے یہ بات پہلے تو کبھی آپ نے تذکرہ نہیں کیا۔۔۔”

“ہاں کیونکہ بچے چھوٹے تھے اور ابھی بھی کوئی زور زبردستی نہیں ہے عدینہ جو تم لوگ فیصلہ کروگے وہ ہی ہوگا کیونکہ وہ تمہاری اولاد ہے۔۔

میں عمرہ کرنے جارہی ہوں تو میں چاہتی تھی کہ تم اس پورے عرصے میں اچھے سے سوچ سمجھ لو۔۔۔”

“ہممم ضرور سوچوں گی امی فلحال تو ابھی کوئی جلدی ہے بھی نہیں مجھے پہلے میری افسانہ کو ہی فارغ کرونگی میں۔۔” ان کی بات پر پاکیزہ بیگم نے سر ہلایا تھا۔

“آپ آرام کریں میں بھی جارہی ہوں۔۔”

“ٹھیک ہے جاؤ بیٹا۔۔” پاکیزہ بیگم کو شب بخیر کہتے وہ باہر آئی تھی۔

دماغ میں عجیب وغریب سے خیالات اٹھ رہے تھے جنہیں کھٹکتی وہ اپنے کمرے میں آگئی تھیں۔

وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے تو پورا گھر سناٹے کی زد میں تھا۔۔

شاہنواز کو بائیک کھڑے کرتے چھوڑ وہ خود کمرے میں آگئی تھی تاکہ ان کا کل صبح کا سامان نکال سکے۔

بھلے ابھی وہ گھر کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹا رہی تھی مگر شاہنواز کے کام اس نے اپنے زمہ لے لئے تھے۔

وہ کمرے میں آئے تو اسے وارڈروب کے سامنے کھڑے پایا تھا۔

“شاہ آپ کے پاس ایک ہی کلر کے اتنے سوٹ ہیں میری تو سمجھ ہی نہیں آرہے۔۔” ان کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ اس نے گردن موڑ کر انہیں پوچھا تھا۔

“سارے الگ ہیں شہوار اور یہ آتے ہی کام کیوں کرنے لگی وہ پہلے منہ ہاتھ تو دھو لو۔۔” واشروم کا رخ کرتے وہ اسے بولے تو وہ منہ سڑا گئی۔

یہ بندا کبھی ایک بار میں جواب نہیں دیتا تھا۔

ان کے آنے کے بعد وہ خود بھی چینج کر کے آئی تو وہ سامنے ہی بیڈ پر لیپ ٹاپ کے ساتھ براجمان تھے۔

” شاہ میں نے سنا تھا کراچی والے ساری رات جاگتے ہیں مگر یہاں تو ابھی بارہ بھی نہیں بجے اور ایسا لگ رہا آدھی رات ہوگئی ہے ۔۔”

ان کے کپڑے نکالتے اس نے دراز سے ان کا سامان نکال کر ڈریسنگ پر رکھا تھا ۔

“ہر کوئی پاگل نہیں ہوتا اللّٰہ نے رات سونے کے لئے بنائی ہے نا کہ جاگنے کے لئے ۔۔” اسے جواب دیتے وہ مسلسل اپنے کام میں مصروف تھے۔

“اسے تو رکھ دیں الجھن ہونے لگی ہے مجھے اس دیکھ دیکھ کر ایک دن اٹھا کر پھینک دونگی میں اسے..”

“کیا مصیبت ہے یار کام نہیں کروں میں؟ ابھی تو باہر سے آئے ہیں مگر تم تو تھکتی ہی نہیں ہو۔۔

غصے سے اسے کہتے وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے باہر کی جانب بڑھے تھے جبکہ احساس توہین سے اسکا چہرہ سرخ ہوا تھا ۔۔

اسے نے روتو صورت کے ایک نظر انہیں دیکھا تھا اور پھر الماری کو۔۔

“آپ لوگ کب سے عمرے پر جانے کی باتیں کر رہے ہیں مگر ابھی تک تو کچھ بھی نہیں کر رہے آپ لوگ ۔۔”

صحن کی منڈیر پر بیٹھے نجم نے تنک کر کہا تو شیزا نے ایک غصیلی نظر اس پر ڈالی تھی ۔

“تجھے کیا تکلیف ہے کبھی بھی جائیں اپنی نحوست کیوں پھیلا رہا۔

“اے تو میں پھر اپنا دیکھو نا ماموں نے بولا ہے بیس دن سے زیادہ کی ٹریننگ ہے اب ان لوگوں کا فائنل ہو تو میں ماموں کو بولوں نا۔۔”

“تو ٹریننگ پر کراچی جائے گا؟” شیزا نے حیرت سے اسے پوچھا تھا کیونکہ ماموں تو حیدرآباد میں رہتے تھے ۔

“ہاں وہیں ہوسٹل میں رہوں گا مگر ان لوگوں کے جانے کا تو کچھ سیٹ ہو ۔۔”

“افف ہوجائے گا دادی چاہ رہی تھی امی اور بابا بھی ساتھ جائیں تو ابھی امی کے ویزہ کا مسئلہ ہے وہ حل ہوتے ہی شاپنگ اسٹارٹ ۔۔”

“ہممم اور پھر ان کے آنے کے بعد ہم تیرا رشتہ دیکھیں گے بابا نے بولا ہے امی کو۔۔” نجم کی بات پر اسکی آنکھیں پھٹی تھیں ۔

“ہیں۔۔۔؟ یہ میری شادی کہاں سے آگئی بہت پیسہ آگیا ہے کیا ۔۔،؟” تنک کر کہتے اس نے غصے سے نجم کو گھورا تھا۔

“یہ تو مجھے نہیں پتا بہنا پر انشاء اللہ اگلے سال تک تم بھی اپنے سسرال اور یہاں ہوگا میرا راج۔۔۔” اس کے اترا کر کہنے پر اس نے آہستہ سے اپنی چپل اتار کر اسکا کھینچ کر نشانہ لیا تھا مگر وہ پہلے سے ہی تیار تھا جبھی فوراً سے سائیڈ ہوا تھا۔

“تجھے تو کبھی اس گھر میں اکیلے راج نہیں کرنے دونگی منحوس انسان تیری بیوی کو پکڑ کر نا مارا نا میرا نام بھی شیزا نہیں۔۔” اسکی دل جلانے والی مسکراہٹ اسے تپ چڑھا رہی تھی۔

وہ جانتا تھا کتنی چڑ ہونے لگی تھی شادی کے نام سے جب سے شہوار گئی تھی ۔

اچھی بھلی زندگی میں اس نے جانے سے اداسی آگئی تھی اور اپنا گھر چھوڑنے کا سوچ کر ہی اسے خوف آرہا تھا ۔

” دل میں کدو پھوٹ رہے ہونگے اور اوپر اوپر سے منہ بنا رہی۔۔” اسکو ایسے سوچ میں دیکھ نجم نے پھر اس چھیڑا تو اسنے گھور کر اسے دیکھا تھا

“اپنی یہ مینڈک جیسی چونچ بند کرلے نجم میں بابا کو بتا دوں گی اسکول میں تو نے کیا کیا تھا۔ “

“کک۔۔کی۔۔کیا کیا تھا فضول کچھ بھی ۔” اپنا کارنامہ یاد کر اس کے ہوش اڑے تھے اگر بابا کو پتا چلتا تو اسکی چھترول ہونی پکی تھی ۔

“فضول تو کچھ نہیں مجھے سب یاد ہے اب شکل گم کر ورنہ لگاؤ میں آواز بابا کو ۔”

“کیسی بہن ہے یار اب کوئی مذاق بھی نہیں کرسکتا۔۔” چنے کاکے جیسا منہ بناتا وہ منڈیر سے کودتا اندر بڑھ گیا تھا مگر اپنی شادی کا سوچ اسکے چہرے پر بے چینی چھائی تھی۔۔