665.2K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasa-e-Ishq Episode 3

“یا اللّٰہ نیچے آ شہوار۔۔۔” اپنی دوست کا لحاظ کرتے وہ حتی الامکان نرم لہجے میں بولی تھیں مگر وہ شہوار ہی کیا جو ان کی بات تمیز سے سن لے۔۔”

“یہ شہوار ہے اتنی بڑی ہوگئی۔۔”پاکیزہ بیگم نے حیرت سے اب دوسری چھت کی طرف جاتی اس شرارتی سی لڑکی کو دیکھا تھا۔

“ہاں اپنی شہوار ہی تو ہے۔”اپنی خفت چھپانے کو انہوں نے رخ پھیرا تھا۔

“یہ لڑکی کبھی انسانوں والی حرکت نہیں کرے گی۔۔”دل میں بولتے انہوں نے مسکرا کر اپنی دوست کو دیکھا تھا۔

“چل اندر چل پاکیزہ۔۔ اے فوزیہ خالہ کے لئے ٹھنڈا ٹھار روح افزاء کا شربت کا اور لیموں ڈالنا نا بھولنا ورنہ یہ پیتی نہیں ہے۔۔”فوزیہ کا کہتے وہ پاکیزہ بیگم کو ساتھ لئے اندر بڑھیں اور پاکیزہ بیگم اپنی دوست پر نثار ہوئی تھیں کہ انہیں ان کی پسند نا پسند آج تک یاد ہے ۔

“ویسے یہ کیا طریقہ ہے پاکیزہ تو اتنے قتق بعد آئی ہے اور بنا بتائے آئی تجھے لینے میں وسیم کو بھیج دیتی گاڑی میں۔۔”اسٹینڈ فین کا رکھ ان کی طرف کرتے وہ بولی تو پاکیزہ بیگم مسکرا دیں۔

“ارے بتا کر آتی تو جو خوشی ابھی دیکھی تیرے چہرے پر وہ کیسے دیکھتی ۔”ان کا ہاتھ تھامتے وہ محبت سے بولی تھیں۔۔

“یہ لیں خالہ شربت۔۔”ان کے آگے شربت کا گلاس رکھتے فوزیہ ان کے پاس ہی بیٹھیں تھی۔

“ارے شکریہ بیٹا ماشاء اللّٰہ بھئی سب بہت بدل گیا ہے میں تو اپنی شہوار کو دیکھ کر حیران ہوں آخری بار جب آئی تھی میں تو اتنی سی تھی چھپ کر دادی کے پلو میں بیٹھی تھی۔۔”پرانا وقت یاد کر انکی آنکھیں روشن ہوئی تھیں۔۔

“بلکل اب وہ پلو میں نہیں چھتوں اور مچانوں میں بیٹھتی ورنہ دیواروں اور الماری کے اوپر۔۔”نجم اندر آیا تو ان کی آخری بات پر اپنی زبان کی کجھلی چھپا نہیں سکا تھا۔

اس کی بات پر جہاں وہ ہنسی تھی وہیں حیرت سے اس سترہ سال کے لڑکے کو دیکھا تھا۔

“ارے فوزیہ یہ تمہارا چھوٹا ہے نا۔۔”

“جی سلام چھوٹی دادی میں وہیں ہوں جو آپ کی گود میں آنے کے لئے روتا تھا۔۔”انہوں نے سوال فوزیہ سے کیا تھا مگر جواب اس نے خود دیا تھا۔۔

فوزیہ نے اسکی چلتی زبان پر اسے گھوری سے نوازہ تھا۔

“ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔”انہوں نے اسکے جھکنے پر شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

“آپ دونوں باتیں کریں میں زرا کچن دیکھ لوں۔۔ اور تم گودوں میں کھیلے زرا آکر سامان لاکر دو۔۔ ان کو کہتے وہ اس سے مخاطب ہوئی تو وہ سر کھجاتا ان کے پیچھے ہی گیا تھا۔

“بس ایسے ہی اپنی زبان سے شرمندہ کرواتے ہیں یہ مجھے۔۔”نجم کی چلتی زبان پر وہ شرمندہ ہوئی تھیں۔

“ارے پاگل ہے کلثوم بچے تو رونق ہوتے ہیں سچ بتاؤ تو بہت اچھا لگ رہا ہے یہاں کہ کم لوگ ہونے کے باوجود اتنی رونق ہے ماشاءاللہ ایک میرا گھر اتنے لوگ ہیں مگر سب اپنے خول میں بند۔۔” شاہنواز کو یاد کر ان کے لہجے میں اداسی گھل گئی تھی۔۔

“میں جانتی ہوں تو شاہنواز کی وجہ سے پریشان ہے مگر اب ہم اس سے ضد بھی تو نہیں کرسکتے نا تو نے ہر طرح سے اسے راضی کرنے کی کوشش کی مگر نتیجہ پھر بھی کچھ نہیں آیا۔۔”

“بہت پریشان ہوں میں کلثوم بس آنکھیں موندے سے پہلے اپنے بچے کو بستا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں یوں اسے اجڑا ہوا دیکھتی ہوں نا کلیجہ تڑپ جاتا ہے دل سے بددعا نکلتی ہے اس لالچی عورت کے لئے جو اپنا گھر تو بسا گئی مگر میرے بچے کی ہنستی بارہ زندگی ویران کر گئی۔۔”

ان کے یوں رونے پر وہ پریشان ہوتی انہیں گلے لگا گئی تھیں۔۔

“پریشان نا ہو ہم سب دعا کرینگے نا تو ضرور وہ مان جائے گا۔۔”انہیں ساتھ لگائے کلثوم بی نے دلاسہ دیا تھا۔

دونوں ہی دکھی تھیں ایک نے اپنا جوان بیٹا کھویا تھا تو دوسری نے اپنے بیٹے کو بچا تو لیا تھا مگر وہ پھر اسے خوش نہیں دیکھ سکی تھیں۔

“تو میرے وقاص کی منگنی میں آنا تو سمجھانا اسے کلثوم بس ایک آخری بار شاید وہ مان جائے۔۔”ان کا ہاتھ تھامے وہ ان سے التجا کرگئی تھیں۔

“ارے ارے یہ آپ لوگ ایسے کیوں رو رہے ہیں لگتا ہے باغبان کا کوئی سین چل رہا ہے۔۔”کمرے میں آتی شہوار نے ان کی باتیں سنی تھی مگر بنا ظاہر کئے وہ ان کا موڈ ٹھیک کرنے اپنی فضول ہانکنے لگی۔

“اسلام وعلیکم چھوٹی دادی۔۔”ان کے دیکھنے پر وہ جلدی سے سلام کرتی ان کے پاس آئی تو انہوں نے اسے بازوؤں میں بھرا تھا۔۔

“گندمی رنگت سنہری آنکھیں دل کو چھوتے نقوش۔۔۔ ان کے دل نے ایک عجیب سی خواہش کی تو وہ اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے اسکا ماتھا چوم گئی تھیں۔

اتنی پیاری لگی تھی وہ انہیں زندگی سے بھرپور۔۔

“پتر زرا جو میرا بیگ باہر رکھا ہے وہ لے آ سب کے لئے تحفے لائی ہوں میں۔۔” وہ ان سے باتوں میں گم تھی جبکہ شیزا دسترخوان لگانے میں مصروف تھی تبھی انہوں نے اندر آتے نجم کو کہا تھا۔۔

“جا کلی بیٹا سامان کا ۔”ایک آنکھ ونک کرتے وہ نجم کو آگ لگا گئی تھی مگر پاکیزہ بیگم کا لحاظ کرتے وہ بدلہ بعد پر چھوڑ گیا تھا۔۔

پاکیزہ بیگم سب کے لئے کچھ نا کچھ لائی تھیں۔۔ سب کو ہی ان کے لائے تحفے بے تحاشہ پسند آئے تھے وسیم صاحب آئے تو انہیں دیکھو وہ بہت خوش ہوئے تھے ۔

“وسیم منگنی میں تم سب کو آنا ہے بیٹا میں انکار نہیں سنو گی۔۔”ان کے وارن کرنے پر وہ مسکرا کر سر ہلا گئے۔

“آپ رک جاتیں نا خالہ اتنی بھی کیا جلدی تھی جانے کی؟”ان کے کل جانے کا سن فوزیہ نے ان سے ضد کی تھی کہ وہ رک جائیں۔

“قسم سے فوزیہ دل تو میرا بھی ہے پر کیا کروں اس جمعے منگنی کی رسم ہے تو ابھی سو کام رہتے ہیں۔ میرا ملنے کا دل تھا بہت تو بس اسی بہانے آگئی میں۔ انشاء اللہ اب تم لوگ آنا۔۔”

“انشاللہ خالہ ہم ضرور آئیں گے۔ “وسیم صاحب نے کہا تو وہ مسکرا اٹھی تھیں کیونکہ ان کے پیچھے وہ تین بھوت اپنی ہی راگ لاپنے میں مصروف تھے۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

“اتر کر نیچے آ بتاتی ہوں میں تجھے۔۔”چپل

ہاتھ میں لئے وہ اس پر غصہ ہورہی تھیں جو اس وقت ان سے ڈر اوپر چڑھی بیٹھی تھی۔

“میں نہیں آنے والی نیچے پہلے اس ہتھیار کو نیچے پھینکو۔۔۔”ان کی چپل کی طرف اشارہ کرتی وہ وہیں سے چلائی تھی۔۔

“تو نیچے آ زرا میں پیروں کو ہی توڑتی ہوں جو کبھی الماری کے اوپر کبھی دیواروں تو کبھی لوگوں کی چھت پر لے کر جاتے ہیں تجھے۔۔”ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیا کر جائیں۔۔

“اللّٰہ۔۔۔۔۔!ہائے دادی مجھ یتیم کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کرتے خوف نہیں آئے گا۔؟ میری ٹوٹی ٹانگیں ساری رات خواب میں آکر ڈرائیں گی تمہیں کہ آئے ہائے ہمیں کیوں توڑا۔۔”دھائی دیتے اسنے دیوار پر دو ہاتھ مارے تھے۔۔

اس کی بات پر پیچھے کھڑے نجم اور شیزا کے دانت نکلے تھے وہیں ان کی چپل اوپر کی جانب اڑی تھی جو اس نے کسی ماہر فیلڈر کی طرح کینچ کی تھی۔۔

“جتنا مارو گی اتنا گناہ بڑھے گا کلثوم بی۔۔”منہ بسور کر وہ مزید پیچھے ہوئی تھی۔۔

“گناہ کی بچی تجھے تب گناہ نہیں یاد آتا جب لوگوں کے کام خراب کرتی ہے اب رحیم کو کیا جواب دونگی میں اگر اس کی گائے نہیں ملی جان کو آجائے گا میری۔۔۔ کون سی کجھلی ہوتی ہے ہاتھ میں۔۔”

“بس کردیں کوئی اتنی دور بھی نہیں گئی ہوگی ان کی گائے ویسے بھی سوکھی سڑی ہے اب اس گائے سے ٹرین کی رفتار کی امید رکھ رہے تو میرا کیا قصور۔۔”معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے وہ ان کے غصے کو مزید ہوا دے گئی تھی۔

“ٹرین کی بچی پہلے ہی پاکیزہ کے سامنے مجھے شرمندہ کروا کر رکھ دیا اب اس بچارے کی گائے کھول کر آئے گی تو آ نہیں تجھے اسی کے باڑے میں باندھ کر آتی ہوں۔۔”

“اووووو اب سمجھی۔۔”ان کی بات اس نے کسی دانشور کی طرح ٹھوڑی پر انگلی رکھی تھی۔

“کک کیا سمجھی۔۔۔”؟

“یہی کہ سارا غصہ ہی پاکیزہ دادی والی بات کا ہے ارے بتاؤ زرا اگر میں نے انہیں بتادیا کہ دادی آج کل بتیسی لگوانے کا سوچ رہی ہیں تو اس میں غلط کیا ہے۔۔”

“بری بات ہے شہوار۔۔۔ اماں چھوڑو اسے تیاری کرو کراچی جانے کی۔۔”ان کے بیچ مداخلت کرتے فوزیہ نے ان دونوں کی اس جنگ کو ختم کیا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

“دادی میں بھی جاؤں گی کراچی۔۔”انہیں کپڑے نکالتے دیکھ وہ لاڈ سے ان کے گلے لگی تھی۔

“کوئی ضرورت نہیں ہے رزلٹ آنے والا ہے انٹر اچھے نمبروں سے پاس کروگی تو کراچی کے بڑے کالج سے پڑھاؤ گی آگے۔۔”اسکے لاڈ کو خاطر میں نا لاتے انہوں نے اسے پرے کیا تو وہ منہ بنا گئی۔۔

“میں اور نجم تو لازمی جائیں گے چھوٹی دادی نے ہمیں لازمی آنے کو کہا ہے۔۔”ان کے کپڑے طے کرتی شیزا نے اترا کر کہا تو شہوار نے اسے لات ماری تھی۔۔

“ارے بھئی ایک کام کرو تم لوگ چلے جاؤ ہم یہی رک جاتے ہیں۔۔”فوزیہ نے چائے کی ٹرے رکھتے ان دونوں کو آنکھیں دیکھائی تھیں۔

“یار کیا ہے دادی گاؤں کی بھیجا ہے مجھے ہمیشہ اور اب کراچی جانے کی بات آئی تو مجھے آئندہ کا لارا دے رہیں مجھے نہیں پڑھنا آگے مجھے ابھی جانا ہے کراچی۔۔”وہ باضد ہوتی وہیں دھرنا دے کر بیٹھی تھی۔۔

“کوئی مس ڈرامہ زیادہ دھرنا دینے کی ضرورت نہیں ہے ابو نے بولا ہے سب جائیں گے۔۔”نجم کے اطلاع دینے پر کلثوم بی نے اسے آنکھیں دیکھائی تھیں ۔

“ہیں سچی اللّٰہ دادی مجھ معصوم کا دل دکھاتے زرا خیال نا آیا تمہیں۔”دادی کے جھوٹ پر اس نے کمر پر ہاتھ رکھ خفگی سے کہا تو انہیں زرا سا جھک کر آہستہ سے اپنی چپل اتاری تھی۔

“ہاں نا بہنا یہ تو تیری دشمن ہیں یاد نہیں گائے والی اور وہ والی بات۔۔۔ جبھی تو نہیں لے کر جارہی ہیں تجھے ۔”نجم نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔۔

“اہہہ۔۔۔ہائے اللّٰہ۔ اسکی چلتی زبان کو بریک کلثوم بی کی چپل نے لگایا تھا۔۔

“آنے سے وسیم کو تیرا علاج کرواتی ہوں میں ۔”

دوسری چپل اسکی طرف پھینکتے وہ غصے سے بولی تھیں مگر ان کی چپل پہنچنے سے پہلے ہی وہ دونوں غائب ہوئے تھے۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

“ارے شاہنواز کہاں غائب ہو بھئی گھر کا پہلا فنکشن ہے ایسی بھی کیا مصروفیات کہ اپنے بھائی سے آکر یہ تک نہیں پوچھا کہ بھائی کوئی مدد چاہئے بندے کو اب اتنا بھی دنیا سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔۔”سجاد صاحب نے انہیں سیڑھیاں اترتے دیکھا تو شکوہ کر بیٹھے تھے۔

“رہنے دیں بھئی آپ کیوں اس سے شکوہ کر رہے ہیں ویسے بھی وقاص ہمارا بچہ ہے تو ہم ہی سب کرینگے یہ کیوں کرے گا۔۔”حنا بھابھی کی چلتی زبان پر انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

“معذرت بھائی جان اگر آپ کو ایسا لگا مگر میں کچھ مصروفیات کی وجہ سے دھیان نہیں دے پایا۔۔”شاہنواز کے معذرت کرنے پر وہ ہنکار بھر کر رہ گئے۔۔

“مصروفیات تو ساری زندگی کی ہیں میاں اور جو حال تم نے اپنی زندگی کا بنایا ہوا ہے اسکے بعد تو تمہارا اللّٰہ ہی حافظ ہے۔۔”انکا یوں کسی بھی کام بھی دلچسپی نا دیکھانا حنا بھابھی کو سخت چبھا تھا۔

“اچھا بس اب زیادہ مت بولو لسٹ لاکر دو مجھے سامان کی۔۔”سجاد بھائی کے ٹوکنے پر انہوں نے ایک نظر دونوں میاں بیوی کو دیکھا اور وہاں سے فرار ہوئے تھے۔

“دیکھا آپ نے اسکا رویہ یہ تک نہیں بولا گیا کہ چلیں اب بتادیں بھائی میں اب کام کردوں گا کیا ایسے ہوتے ہیں چاچا؟ ارے فرحان نے بھی تو آکر مجھ سے پوچھا کہ بھابھی کیا کرنا ہے کیا نہیں کیا ایک وہی ہے میرے بچوں کا چاچا۔۔”

“کیوں دل جلا رہی ہو تمہیں پتا ہے اسکا پھر بھی ۔”بیوی کے شکوے پر سجاد نے انہیں پرسکون کرنا چاہا تھا۔

“کیا پتا ہے وقاص کے ابا اب تو اتنے سال ہونے کو آئے ہیں لوگ تو شادیاں ختم ہونے کے بعد بھی اپنی زندگی ہنسی خوشی گزار لیتے ہیں اور ایک یہ انسان ہے میری سمجھ سے باہر۔۔۔ بندا اپنی نا سہی اپنے گھر والوں کی ہی خوشیاں دیکھ لیتا ہے۔ “ان کا دل اور دماغ کسی طور ٹھنڈا نہیں ہورہا تھا سجاد صاحب نے ایک نظر انہیں دیکھ وہاں سے اٹھنا ہی مناسب سمجھا تھا کیونکہ اب جو یہ ریڈیو چلا تھا تو اسکا رکنا مشکل ہی تھا۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

“دے آئی آپ دعوت کلثوم خالہ کو۔۔”؟ان کے پاس بیٹھی انعم نے ان سے پوچھا جو اپنی ہی سوچوں میں گھری تھیں۔۔

“امی۔۔ !کیا ہوگیا کن سوچوں میں گم ہیں؟”ان کا ہاتھ ہلاتے انعم نے انہیں اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو وہ چونکی تھیں۔۔

“آہ۔۔اہا۔۔ہاں۔۔کیا ہوا۔۔.؟”

“کیا ہوگیا اماں کن سوچوں میں گم ہیں کچھ ہوا ہے کیا آج؟”انہیں تفشیش ہوئی تھی انہیں یوں پریشان دیکھ..

“کیا ہونا ہے بس وہی آج حنا کو میرے شاہنواز کا رویہ برا لگ گیا کہتی ہے ایسے چاچا ہوتے ہیں بھلا۔۔”اپنی بیٹی کو بتاتے ان کے لہجے میں دکھ سمٹ آیا تھا۔

“امی ہم انہیں بھی تو کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں نا وہ اپنی جگہ حق بجانب ہیں بچوں پر جان دینے والا انسان اب یوں لاپرواہ ہو جائے گا تو غصہ تو آئے گا نا۔۔”

“تو بتا میں کیا کروں گڑیا میرا کلیجہ پھٹتا ہے اسے یوں دیکھ کر لوگ کہتے تھے اسے وقت دو وقت سب سے بڑا مرحم ہے میں نے اسے وقت دیا۔۔۔ سب نے بولا اسے اکیلا چھوڑ دو میں نے اسے اکیلا چھوڑا تو وہ اکیلا ہی ہوکر رہ گیا بلکہ میرا بیٹا میرا شاہ تو اب کہیں گم ہی ہوگیا۔۔”انکا لہجہ اور آنکھیں دونوں نم ہوئی تھیں انعم نے جلدی سے اپنی ماں کو ساتھ لگایا تھا۔

“ایسے کیوں رو رہی ہیں طبعیت خراب ہو جائے گی ۔”ان کے آنسو پونچھتے وہ پریشانی سے بولی تھیں۔

“رو ہی تو سکتی ہوں میں کتنا ارمان تھا اپنے شاہ کو لیکر مگر دیکھو زرا اب وقاص کی بھی منگنی ہورہی ہے سب آئیں گے پھر سو باتیں بنیں گی۔۔”انکا ملال کسی طور کم نہیں ہورہا تھا۔

“اللّٰہ سے امید رکھیں دیکھئے گا ضرور ہمارے شاہنواز کے لئے کچھ اچھا لکھا ہوگا۔۔”

“امید ہے مجھے اللّٰہ سے تجھے پتا ہے میں کلثوم کے گئی تھی کہ اسکی پوتی کو دیکھا تو بس دل میں بس گئی وہ دل میں بہت شدت سے دعا مانگی میں نے کہ اس مہکتے پھول کو میرے آنگن کی زینت بنا دے۔۔ وہ میرے نواز کی زندگی میں خوشیاں بکھیر دے گی وہ اس پتھر کو پھر سے موم کردے گی ۔”ان کے لہجے میں چھپا درد ان سے چھپا نہیں تھا وہ خود دعا کرتی تھیں کہ ان کا بھائی ماضی سے نکل کر اپنے حال کو جیئے۔۔

“اچھا اب اداسی چھوڑیں بھابھی دیکھیں گی تو ان کا منہ بنے گا کہ بیٹے کے دکھ میں پوتے کی خوشیاں نظر انداز کر رہی ہیں۔۔

“ہمم چلو تم میں یہ سامان سمیٹ کر آتی ہوں..”انہیں بولتے وہ الماری کی جانب بڑھی تھیں۔۔۔

سامان رکھتے ان کی نظر اس باکس پر پڑی تھی جس میں موجود کنگن انہوں نے اپنی چھوٹی بہو کے لئے رکھے تھے اداسی سے اس باکس کو دیکھتے انہوں نے اندر رکھا تھا۔۔

“یا اللّٰہ میرے شاہنواز کو خوشیوں بھری زندگی سے نواز دے میرے مالک۔۔”دوپٹے کے پلو سے آنکھیں پونچھتی وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے باہر کی جانب بڑھی تھیں۔۔