Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 9)

Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes

افق کی آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں اکیلی تھی ” بازوں میں اچانک اُٹھتی تکلیف سے اُس نے سسکی بھرتے اٹھنے کی کوشش کی ” سر میں درد سے ٹیس اُٹھی ۔

اُس نے ایک ہاتھ سے اپنے سر کو پکڑتے زور ڈالا ” ..

رات شاید دوا لینے کی وجہ سے اُسکی آنکھ کافی دیر سے کھلی تھی ۔۔

اٹھتی وہ خود میں ہمت مجتمع کرتی واشروم گئ ،،

اس کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا سب کچھ “

اپنا چہرہ دھونا ،،، دوبٹہ لینا ” اور باقی کام کرنا “۔۔ وہ کچھ بھی نہیں کے پا رہی تھی ” ہے بسی کے احساس سے آنکھوں کے گوشے پل میں نم ہوئے ۔۔

وہ تنگ آتی باہر آ کر بیٹھی تھی ۔۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اُسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ” ۔۔ اس نے اپنے بازو کی جانب دیکھا تو اُسکا دل مزید بھر آیا “..

بازو بری طرح جل چکی تھی ” کے دیکھ کر اُسکا اپنا دل بند ہونے والا ہو گیا ۔۔

اچانک وہ اُٹھتی دراز آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی ” خود پر نگاہ پرتے ہی اُسے احساس ہوا کے کل سے اُس نے بال نہیں بنائے ” جو اب جوڑے کی شکل میں بکھرے پڑے تھے۔

اس وقت نیچے کوئی بھی نہیں ہوگا ” یہ سوچتے وہ نیچے آنے لگی ۔۔

بال تو ویسے ہی اُسکے ہانی بیگم بناتی تھی ،، لیکن اب اُس سے اپنا چہرہ بھی صاف نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔

وہ بغیر دوبٹہ کے نیچے آئی ” سامنے بیٹھی ہانی بیگم ٹیبل پر رکھ کر سبزی بنا رہی تھی” اُسے نیچے آتا دیکھ نرمی ای گویا ہوئی

آ جاؤ میری جان ۔۔

اٹھ گئی” زیادہ تکلیف تو نہیں ہو رہی ،، اُس نے قریب آتے اپنا سر ان کے کندھے پر رکھا

ہانی بیگم نے اپنے دوپٹے سے اُسکا نم چہرہ صاف کیا ،،اُس کے لب آنسو کو ضبط کرتے کپکپانے لگے اور نہ چآہتے ہوئے بھی آنکھوں میں آنسو آنے لگے ۔۔

افق میری بچی کیا ہوا ہے ۔۔کیوں رو رہی ہو درد ہو رہا ہے ۔۔

اُس نے اثبات میں گردن ہلای ” سونیا بیگم بھی اُسے روتا دیکھ جلدی سے قریب آئی ۔۔

کیا ہوا ہے میری بیٹی کو اُس کے بال پیچھے کرتے انہوں نے محبت اور فکر مندی کی ملی جلی کیفیت سے پوچھا ۔۔

وہ سوں سوں کرتی بولی ” مجھ سے کوئی بھی کام نہی ہو رہا ۔۔نہ فیس واش ہو رہا تھا اور نہ برش ۔۔

اور حجاب بھی نہیں ہو رہا وہ کہتی رونے لگی ۔۔

میری جان میں ہوں نا اپنی بیٹی کے سارے کام میں خود کرونگی ۔۔

ہانی بیگم نے کہتے اپنے ہاتھ ٹشو سے صاف کیے اُس کی چٹیاں کھولی ،،٫ اُس کے چاکلیٹ براؤن بال آبشار کی طرح کھلتے نیچے فرش پر پھیلے

سونیا بیگم کی آنکھیں اُسکی تکلیف سے نم ہونے لگی تو وہ اٹھ کر اُس کے لیے جوس لینے چلی گئ اور آنسو خشک کرتے اُسے گلاس لا کر پکڑایا ۔۔

آدم اور رامین جو لاؤنج میں داخل ہو رہے تھے انہیں سامنے بیٹھا دیکھ ان کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔

رامین نے افق کے قریب بیٹھ گئ لیکن آدم وہی ساکت سا کھڑا تھا ” دماغ غصے کی زیادتی سے خول رہا تھا اور دل اُسکو سامنے بیٹھا دیکھ کسی نے مٹھی میں لیا تھا

صاف ظاہر ہو رہا تھا کے وہ کچھ دیر پہلے روئ ہے آنکھیں سرخ نم تھی ” اور چہرہ سوجا ہوا ۔۔

اُسکا زخم دیکھتے رامین کی آنکھیں بھیگ گئ ” بھای اُسے میری وجہ سے اتنا درد ہو رہا ہے آدم کے ساتھ لگتی وہ روتی بولی ۔۔

تو میری جان آپ جاؤ اُس کے پاس “

اُسکی ہیلپ کرو ۔۔۔۔

آدم نے پیار سے اُسے سمجھایا وہ سر ہلاتی اُس کے قریب چلی گئی

آدم آج پہلی بار اُسے بغیر حجاب کے دیکھ رہا تھا ۔۔

بلیو شرٹ جسکا ایک سلیو کاٹا گیا تھا چونکہ اُسکا زخم کہُنی تک تھا

کچھ چھینٹیں تھوڑی اوپر کی جانب بھی گری تھی اسلیے اُس بازوں کو آدھے سے زیادہ چاک گیا تھا ۔۔۔

شہد رنگ آنکھیں رونے کے باعث سرخی مائل تھی ۔۔

چاکلیٹ براؤن بال جو زمین پر گرے تھے ،، صوفے پے بیٹھی وہ اس وقت آدم بٹ کو بری طرح اپنی جانب متوجہ کرنے کا سبب بن رہی تھی

اُس کے گھنے لمبے بال آدم نے آج پہلی بار دیکھے تھے ” اچانک دل میں انہیں چھونے کی خواہش ابھری تھی ۔۔

افق نے کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرکے نظریں اٹھائ تو وہ سامنے ہی کھڑا اُسے با غور دیکھ رہا تھا ۔۔

اچانک نظروں کا زوردار تصادم ہوا تھا ان سرخ ڈورو والی نم آنکھوں میں آدم بٹ کو اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوا تھا ۔۔

افق نے پلکیں جھکا لی اور دوبارہ اُسے دیکھنے کی غلطی نہیں کی ،،، نہ وہ دیکھنا چاہتی تھی

وہ خود میں بدلتے احساسات کو جھٹکتے سب کے قریب جا کر اسلام کرتا سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔

آدم بیٹا آج جلدی آ گئے ” سونیا بیگم نے اُسے دیکھتے پوچھا ۔۔

جی امی رامین کا دل نہیں لگ رہا تھا ،،

وہ انکو جواب دیتا افق کی جانب دیکھنے لگا جو خاموشی سے بیٹھی اپنے بال بنوا رہی تھی ۔۔

افق کیسی طبیعت ہے!!!. افق کی جانب دیکھتے اُس نے استفسار کیا

جی ٹھیک ہون “

مشکل سے افق اتنا بول پای تھی ۔۔دل تو کیا اُس سے کہے جو تکلیف تم اپنے لفظوں سے دے چکے ہو اس کے بعد کیسی ہو سکتی ہوں،،

لیکن خاموش رہی ۔۔

آدم ان لڑکوں کا کیا ہوا ” ۔۔ پکڑے گئے کے نہیں !!.؟؟؟

سونیا بیگم نے آدم کی جانب دیکھتے استفسار کیا

امی ہمدان انہیں لے گیا ہے ایک ابھی تک نہیں ملا جس نے ایسڈ پھینکا تھا

لیکن بہت جلد مل جائے گا اُس نے کچھ سوچتے کہا ور اٹھ کے کمرے میں چلا گیا ۔۔

رامین افق کے قریب بیٹھ گئ” مجھے معاف کردو افی میری وجہ سے تمہیں اتنی تکلیف ہو رہی ہے ۔۔

کچھ نہیں ہوا بس تم میرے ساتھ روم میں آؤ ” مجھے ڈریس چینج کرنا ہے اور حجاب بھی کرنا ہے میری ہیلپ کر دو ۔۔

بیٹا حجاب رہنے دو ” ہاتھ اوپر کرو گی تو تکلیف ہوگی ۔۔نہیں مما میں رامین سے ہیلپ لے لونگی ایسے بہت عجیب فیل ہو رہا ہے مجھے کہتی وہ اس کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب چلی گی

ما شاء اللہ افق بہت سمجھدار ہے ،،میں آپکو کہتی تھی ہماری بچیاں بہت پیاری اور عقل مند ہیں اب دیکھ لیں افق کو ،، سونیا بیگم ہانی بیگم کی جانب دیکھتی بولی ۔

انہوں نے آسودگی سے مسکراتے سر کو جنبش دی

_____________ yumna writes 💖

آدم نے کمرے میں آتے ہمدان کو کال کی تھے ۔۔۔کیا بنا پھر منھ کھولا انہو نے “….

تحکم بھرے لہجے میں استفسار کیا “

ہمدان نے جبڑے بينچتے اسپاٹ چہرے سے ان کے بے جان ھوئے وجود پر نگاہ ڈالتے سلگتے لہجے میں کہتا وہ چلتا باہر نکلا۔۔

ہاں کوئی کراے کا بندہ تھا وہ تو بھاگ گیا یہ لوگ نہیں جانتے اُسکا پتہ ،، لیکن فون نمبر ملا ہے ۔۔

تم رات میں آؤ تب تک میں اُس کا پتہ لگواتا ہوں کہتے

کانسٹیبل کو اس لڑکے کا فون نمبر دیا تھا ۔۔رات تک مجھے یہ بندہ یہاں چاہیے ۔۔

سخت لہجے میں کہتے وہ باہر نکل گیا تھا ۔۔۔

رات کو کھانے پر آج ہنوز گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی ،، شجاع صاحب سنجیدہ سے بیٹھے کھانا کھا رہے تھے ،،باقی سب بھی خلافِ معمول آج خاموش تھے ،، آدم نے اپنے سامنے سے پلیٹ پڑتے کھسکاتے کھڑا ہوا اور بھاری گھمبیر لہجے میں بولا ،،مجھے کچھ ضروری کام ہے تھوڑا لیٹ ہو جاؤں گا ،، کہتا وہ لمبے لمبے ڈھک بڑھتا ہمدان سے ملنے نکل گیا تھا۔۔

جس لڑکے نے ایسڈ پھینکا تھا وہ پکڑا گیا تھا لیکن ہمدان اُسے تھانے نہیں لے کر گیا تھا بلکہ آدم کے کہنے پر ان کے گودام میں رکھا گیا تھا ۔۔

گھر سے نکلتے ہی وہ چہرے پر ماسک چڑھاتے گاڑی میں بیٹھا تھا ،،… راستے میں اسے ہمدان مل گیا تھا “

کیا بنا ان لڑکوں کا ” جتنا تو نے اُنھیں مارا ہے اُسکے بعد میرا مارنا نہیں بنتا تھا وہ پہلے ہی کافی زخمی ہیں ۔

یہ تو کچھ بھی نہیں ” میں انہیں وہی اذیت پہنچانا چاہتا ہوں جو انہوں نے اسے دی ہے ،،لیکن سود سمیت ۔

ایسا خشر کرونگا انکا کے روح کانپ جائے گی ان کی آج کے بعد کسی لڑکی کی جانب نگاہ ڈالتے ۔۔

آدم کا لہجہ غضبناک حد تک سنجیدہ تھا ،، اعصاب تنے ہوئے تھے۔

اُس لڑکے کے گھر والے آئے تھے تھانے ،، وہ غریب گھر سے تعلق رکھتا ہے اُسکی والدہ بہت رو رہی تھی اور اُسے چھوڑنے کی گذارش کر رہی تھی ۔۔

باپ مر چکا ہے اور ماں ملازمہ ہے “” کوئی خرچ وہ افورڈ نہیں کر سکتے ،، کالج میں داخلہ سفارش سے ملا تھا اور فیس بھی معاف کروائ ہوئی ہے ،،وہ بس یہ چاہتی ہیں کے ان کا بیٹا کچھ بن جائے ،، ہمدان نے اُسے ساری بات بتاتے ان کے خالات سے آگاہ کیا تاکہ اسکے دل میں تھوڑی نرمی پیدا ہو سکے۔۔

ہمم ایسا کرو صبح چھور دینا دونو کو ” ۔۔۔ وہ ہنکار بھرتا بولا ۔

ایک رات جھیل میں گزارنے دے ذرا ان کو احساس ہو کے کتنی بری غلطی کر چکے ہیں وہ ۔۔

وہ دونو گودام میں داخل ہوئے تھے سامنے وہ لڑکا نڈھال سا بندھا پڑا تھا ۔۔

آدم نے کرسی گھسیٹ کر اُس کے سامنے کی تھی ٫،،

صاحب مجھے معاف کر دو ۔۔میں نے یہ سب صرف پیسے کے لیے کیا ۔۔مجھے چھوڑ دو ۔۔

وہ لڑکا اپنے بندھے ہوئے ہاتھ جوڑ گیا ۔۔

آدم نے تیزاب کی چھوٹی بوتل جو وہ اپنی پاکٹ میں لایا تھا وہ نکالی ۔۔

پیسے کے لیے تو کسی کی بھی زندگی برباد کر دے گا اشتعال میں گراتے اُس نے بوتل کھولی ،، وہ لڑکا خوف سے کپکپانے لگا ،،

آدم کے چہرے پر چھائ سختی اور لہجے میں اشتعال دیکھ اُس کے پسینے چھوٹ گئے

صاحب نہیں ” وہ لڑکا خوف کے مارے پیچھے ہونے لگا تھا ۔۔ اور تھر تھر کانپنے لگا

فکر نہ کر ” تیرا چہرہ نہیں جلاؤ گا بس تجھے وھی درد دو گا جو تو نے دیا تھا جنونی انداز میں کہتے آدم نے تیزاب اُسکی بازو پر اچھالا تھا ۔۔

اُس ویران گودام میں لڑکے کی چیخیں گونج اٹھی،،،

وہ زمین پر لوٹ پوٹ ہوتا درد سے بلبلانے لگا ،، اب محسوس کر وہ تکلیف جو تو نے میری بہن کو دینے چلا تھا ،، سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتا وہ اُس کے پیٹ میں پے درپے ضربیں لگاتا بپھرے شیر کی طرح دھاڑا۔۔

بس کر یار چھوڑ اسے چل ,,

ہمدان اسے نکلوا یہاں سے صبح تک یہ جگہ صاف ہونی چاہیے ۔ آدم نے شعلہ بار نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھتے حقارت بھرے لہجے میں کہا ،،،

ہمدان نے باہر کھڑے چوکیدار کو اشارا کیا تھا اُسے گاڑی میں بیٹھتے دیکھ وہ بولا ۔۔

اب کہاں ” ۔۔۔ تیرے تھانے!!!.

دیکھ آدم وہ لڑکے پہلے ہی بہت زخمی ہیں مزید مارا تو مر جائیں گے

اُس نے آدم کے سخت تاثرات دیکھ کے کہا تھا لیکن آدم بٹ کہاں کسی کی سننے والا تھا ۔۔

دروازہ کھول ” انکو اندر بیٹھا دیکھ وہ گرایا تھا ہمدان نے آگے بڑھتے دروازہ کھولا ۔۔

آدم نے آگے بڑھتے صالح کو شرٹ سے تھام کر کھڑا کیا

بہت شوق ہے نہ تمہیں دوسروں کے چہرے جلانے کا

اب جب اپنا جلے گا تب تجھے محسوس ہو گا کے کتنی تکلیف ہوتی ہے کہتے آدم نے تیزاب کی بوتل کھول

صالح اُس کے ہاتھ میں بوتل دیکھ پیچھے ہونے لگا تھا

اپنے چہرہ پر ہاتھ رکھ کر وہ خود کو ڈھکنے لگا تھا

آدم نے وہ بوتل اُس پر ڈالی تو اُسکی دل خراش چیخیں گونج اٹھی ۔۔

کچھ سیکنڈ بعد اُس نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھا ” اپنے ہاتھ دیکھے تو وہ بلکل ٹھیک تھے ۔۔۔خود کو سہی سلامت دیکھتے

اُس نے ٹھٹھک کے آدم کی جانب دیکھا “.. میں صرف تجھے محسوس کروانا چاہتا تھا کے کتنی تکلیف محسوس ہوتی ہے جب ہم کسی کی ذات کو یوں نشانہ بنانے ہیں ۔۔

کہتا آدم باہر نکل گیا تھا ۔۔ ،، اور صبح انہیں چھوڑنے کا حکم دیتا اپنی گاڑی میں بیٹھتا تیزی سے گاڑی بھگا لے گیا ۔۔۔۔۔۔