Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes Readelle 50367 Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Kaho Tum Se Muhabat Hai (Episode 7)
Kaho Tum Se Muhabat Hai By Yumna Writes
اگلے دن وہ خاموشی سے سب کے ساتھ بیٹھی ناشتا کر رہی تھی ” ہانی بیگم اُسے خاموش دیکھ کر متفکر سی ہوئی ۔۔ اس کی سوجی آنکھیں دیکھ کے انہیں کچھ غلط ہونے کا اندیشہ ہوا ،،ان کے لہجے میں محبت اور پریشانی کا عنصر دیکھ کر اُس کی آنکھیں نم ہونے لگی ” لیکن وہ خود کو مضبوط کیے بیٹھی رہی
افق میری جان کیا بات ہے اتنی خاموش کیوں ہو ” ۔۔
آدم بٹ نے ایک طائرانہ نگاہ سب پر ڈالی جو اُس کی جانب متفکر سے دیکھ رہے تھے “
وہ نظریں جھکائے ہی بولی ” مما طبیعت کچھ ٹھیک نہی بس اس وجہ سے ۔۔۔
تو بیٹا کالج نہ جاؤ ” سونیا بیگم اُسے دیکھتی لہجہ میں محبت سموئے گویا ہوئی
نہیں مانی جان آج میرا اہم ٹیسٹ ہے ” آ کر آرام کے لونگی کہتی وہ اٹھ گئی ۔۔
افق میرا بچہ طبیعت خراب لگی تو آدم کو کہنا وہ گھر لے آئے گا تمہیں ” میرا بیٹا آج کیوں اتنا اُداس ہے ” چھورو ٹیسٹ کو آج مت جاؤ طبیعت بہتر ہوگی تو چلے جانا ،،شجاع صاحب نے نرم لہجے میں اسے دیکھا” ۔۔۔
نہیں مامو جان اب بہتر ہوں کچھ ” جلدی آ جانا بچے “
وہ سر ہلاتی باہر نکل گئی “،، ۔۔۔ آدم بھی سب کو اسلام کرتا اٹھ کھڑا ہوا ۔۔ راستے میں بّھی وہ خاموش رہی ” آدم کو اُس کی یہ خاموشی کچھ غیر معمولی لگی لیکن وہ سر جھٹکتے سامنے کی جانب متوجہ ہو گیا ” مجھے کیا جو بھی کرے ..
کالج میں رامین سارا وقت اُس سے باتیں کرتی رہی لیکن وہ بس ہوں ہاں میں جواب دے دیتی،، اس کی خاموشی سے رامین اکتاہٹ کا شکار ہوتے جنجھلاتے چیخی ” افی یار کیا ہو گیا ہے ,,, میں بور ہو رہی ہوں ،، تم کیوں اتنی خاموش ہو “… وہ اُس سے نگاہیں چرا رہی تھی” یاں ایسا کہنا بہتر ہے کے وہ خود کو بھی جھٹلا رہی تھی “
سب جھوٹ تھا جو اُس نے سنا” افق نے ایک سرسری سی نگاہ اُس کے چہرے پر ڈالی “
اور تھکے تھکے لہجے میں گویا ہوئی ” میں بہت تھکی ہوئی ہوں مینو ” اُس کی آنکھوں میں نمی دیکھ رامین خاموش ہو گئ ۔۔ زیادہ طبیعت خراب ہے تو بھای کو بولوں ؟…
رامین نے اُس کا ہاتھ تھامتے نرمی سے استفسار کیا ۔۔
نہیں بس تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے ،، رہنے دو ۔
رامین نے بھی اُسکی طبیعت کی وجہ سے دوبارہ تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔
وہ دونو اس وقت پارکنگ میں کھڑی تھی رامین اپنی دوست سے بات کر رہی تھی ،، افق بوجھل سی طبیعت لیے بے زار سی ان سے کچھ فاصلے پر بینچ پر بیٹھی آدم کا انتظار کر رہی تھی ۔۔
اس نے سرسری سی نگاہ اٹھائے سامنے دیکھا ،،جہان سے دو نقاب پوش بائک پر بیٹھے تیزی سی انّہی کی جانب آ رہے تھے ،،
لیکن اپنا وہم سمجھتے وہ کسی سوچ میں ڈوبی سامنے کی جانب دیکھ رہی تھی
اُسکی نظر دوبارہ ان دو لڑکوں پر پڑی جو چہرے کو کپڑے سے چھپائے ھوئے تھے لیکن ہوا کے باعث ایک کا کپڑا چہرے سے ہٹ گیا تھا “
وہ ان کو نہیں جانتی تھی”…
ہاتھ میں ایک بوتل پکڑے بائک پر بیٹھے وہ اُنکی جانب ہی آ رہے تھے ” اُس کے پیچھے والے لڑکے نے اُس کو پیچھے سے اشارہ کیا تھا افق نے اُسکے ہاتھ کے تعاقب میں دیکھا تو وہاں رامین کھڑی اپنی دوست سے بات کر رہی تھی ۔۔
افق کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا اُسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا ” وہ چیختی چلاتی تیزی سے اُس کے قریب بھاگی تھی لیکن اس سے پہلے ہی ،،،،”
قریب آتے اُس لڑکے نے وہ بوتل کھولی تھی اور اُس کے قریب سے گزرتے رامین کی جانب اچھالی تھی ” اس سے پہلے کے وہ وہ محلول رامین کے چہرے پر گرتا افق نے ایک پل کی تاخیر کیے بغیر رامین کو پیچھے دھکیلا تھا لیکن اس سب میں وہ ایسڈ افق کی بازو کو بری طرح جلا گیا تھا ۔۔
آخخ،،،خُھ ” اس کی دلخراش چیخیں ہوا میں گونج اٹھی
درد کی شدت سے افق کی چیخ نکل گئی ” رامین بھی روتی چیختی اُس کے قریب آئی تھی ،،سب لوگ اردگرد اکٹھے ہونا لگے تھے ۔
بچ گئی سا ۔۔۔۔۔* وہ گالی بکتا پیچھے کی جانب دیکھتا وہاں سے پل میں غائب ہوئے تھے ۔
آدم جو آج کچھ کام کی وجہ سے لیٹ ہو گیا جب نظر سامنے سٹوڈنٹس کے جھرمٹ پر پڑی تو پريشانی سے باہر نکلتا تیزی سے آگے بڑھا ۔۔۔۔
رامین کی چیخیں سن کے اُسکا دل خوف زدہ ہوا اور پاؤں شل ہو گئے ” اپنے دل کو ڈپٹتے مضبوط قدم اٹھاتے
سٹوڈنٹس کو پیچھے کرتے وہ آگے بڑھا تو رامین روتی افق کے قریب بیٹھی تھی ۔۔افق خود پر ضبط کرتے اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
آدم کی نظر ان پر پڑی تو اُسکا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو ” بھای رامین اُسے دیکھتے اونچی آواز سے رونے لگی ۔۔
اس کی نظر افق کے جلے ہوئہ بازو پر پڑی تو خیران و پریشان ہوتا اُسکے چہرے کی جانب دیکھا جو تکلیف کی شدت سے سرخ پر رہا تھا ۔۔
بنا تاخیر کیے آدم نے افق کے گرد بازو حمائل کیے اور انہیں لے کر سیدھا ہاسپٹل گیا تھا “
افق تو خاموش تھی جبکہ رامین نے رو رو کر اپنا حال بگاڑ لیا تھا ۔۔
ہاسپٹل میں وہ روم میں بیٹھی تھی
ڈاکٹر اُس کے زخم کا معائنہ کر رہی تھہ جبکہ آدم بٹ باہر کھڑا رامین کو ساتھ لگائے خاموش کروا رہا تھا ۔۔
نہ وہ خود اُس کے پاس اندر روم میں جا رہی تھی اور نہ اسے جانے دے رہی تھی ۔۔
رامین میری گڑیا کچھ نہی ہوا وہ ٹھیک ہو جائے گی
بس کرو ” رو رو کر خالات خراب کر لی ہے اپنی ۔۔وہ تحمل کا مظاہرہ کرتا پیار سے بولا تھا ۔۔
درد کی شدت کو برداشت کرتے اُس نے اپنی آنکھیں سختی سے میچ لی ” سرخ پنکھڑیوں جیسے لب لہو چھلکا رہے تھے ،، بازو بری طرح جل چکی تھی ” بروقت علاج سے چھالے نہیں بنے تھے لیکن زخم صاف کرتے وقت افق کو شدید درد کا احساس ہو رہا تھا ۔
آدم اندر جانا چاہتا تھا دیکھنا چاہتا تھا اُسے لیکن رامین ضد لگائے بیٹھی تھی کے میرے ساتھ جانا ” وہ اس وقت اندر نہیں کا رہی تھی ،،،اُسکا زخم دیکھتے اُسے شدید پشیمانی ہی رہی تھی کے اُسکی تکلیف افق نے اپنے اوپر لے لی۔۔
لیکن اندر بیٹھی افق کچھ اور ہی سمجھ رہی تھی ،،اسکا دل آدم کی جانب سے بدگمان ہونے لگا تھا ،،ي سوچ کے اس
کے دل کی کرچیاں ہوئی تھی ” کیا اتنی بری لگتی ہوں میں آدم بٹ کے ایک بار دیکھنا بھی گوارا نہی کیا کہ میں کس حال میں ہوں ۔۔
اپنے بازوں کی جلن سے زیادہ اُسے اس وقت اپنے اندر اٹھتی دل کی تکلیف زیادہ محسوس ہو رہی تھی نا چاہتے ہوئے بھی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا جسے وہ بری طرح رگڑ گئ تھی ۔۔
اچھا میری جان آؤ اندر چلیں افق اکیلی ہے “… اُسے پچکارتے ساتھ لیے وہ روم میں داخل ہوا تھا و سامنے ہی بیڈ پر بیٹھی تھی ” ۔۔ڈاکٹر اُسکے زخم کی ڈریسنگ کر رہی تھی ۔۔
آدم کو اندر آتے دیکھ ڈاکٹر اپنے فورمل انداز میں اُسے دیکھتی ہمکلام ہوئی”
آپکی پیشنٹ بہت بریو ہیں “
انہوں نے بلکل بھی تنگ نہیں کیا زخم صاف کرواتے ہوئے ورنہ اس وقت کوئی اور ہوتا تو ہمیں زبردستی کرنی پڑتی ہے بچیاں کافی خوف زدہ ہو جاتی ہیں اُس صورت حال میں ۔۔
آدم نے ایک نظر اُسکی جانب ڈالی تھی جو نظریں جھکائے فرش کو گھور رہی تھی ۔۔
رامین اُسکا زخم دیکھتی آدم کا بازو دبوچتی رونے لگی
اس میں پین کلر اور ایک آئنتمنٹ ہے۔۔۔باقاعدگی سے استعمال کریں انشا اللہ جّلد ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔۔۔
آدم نے اُن سے پیپر لیتے سر اثبات میں ہلایا وہ کچھ بولتا کے اُسکا فون بجنے لگا ۔۔
وہ ڈاکٹر سے معزرت کرتا باہر آیا ” فون پر سونیا بیگم کا نام جگمگا رہا تھا ۔۔
اُس نے کال یس کرتے کان سے لگای ٫ آدم کہاں ہو بیٹا ہم سب پریشان ہو رہے ہیں ” تمہارے بابا نے بھی اتنی کالز کی لیکن تم فون نہیں اُٹھا رہے
سب خیریت ہے نہ میری جان “؟؟؟؟ انکا لہجہ تشویش زدہ محسوس کرتے آدم نے انہیں کچھ بھی بتانا مناسب نہ سمجھا
بچیاں ٹھیک ہیں ٫.. وہ پریشانی سے استفسار کرنے لگی ۔
آ کے بتاتا ہوں سب امی ” ابھی ہم ہاسپٹل میں ہیں ۔۔
کیا ٫ کیو ؟؟.. آدم میری بچیاں ٹھیک تو ہیں نہ ۔
امی گھر ہی آ رہے ہیں ۔۔
آ کر بتاتا ہوں آپکو سب ابھی تو مجھے بھی کچھ نہیں معلوم کہتے اُس نے گہرا سانس لیتے فون بند کیا
وہ اٹھ کھڑی ہوئی تو رامین اُسکی جانب بھرتے اُسکے گلے لگتے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔
یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے نا “تم کیوں میرے سامنے آئی ،،،،کیوں میری خاطر اتنی تکلیف برداشت کی ،،رامین سوں سوں کرتی اُسے جھرکنے لگی ۔۔ افق کے لبوں پر اُس کے سوں سوں کرنے سے ایک آسودہ سی مسکراہٹ نمودرا ہوئی ،،
زیادہ تکلیف ہو رہی ہے
وہ اُس سے الگ ہوتی روتی ہوئی بولی ۔۔تو افق نے نفی میں سر ہلا دیا ۔۔
کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
وہ تکلیف کے باوجود ہلکا سا مسکرائ اُسے تسلی دینے خاطر۔۔
واپسی پر وہ لوگ اُسکی میڈیسن لیتے گھر آ گئے
گھر آتے ہی سب بے صبری سے انکا انتظار کر رہے تھے
ہانی بیگم کا رو رو کر برا حال تھا ” ان کے اندر قدم رکھتے ہے سب بھاگھتے ان کی جانب بڑھے ۔۔
افق کا جلا ہوا بازو جس پر سے سلیو کا کپڑا کاٹا گیا تھا اور جگہ جگہ خون کے دھبے دیکھ ہانی بیگم نے دل پر ہاتھ رکھا تھا “
میری بچی ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے وہ روتے ہوئے اسکو ساتھ لگا گئ ،،
کچھ نہیں ہوا مما میں ٹھیک ہوں اپنی مان کو اس قدر پریشان دیکھ کے افق نے اُنھیں حوصلا دیا لیکن ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو رواں تھے
رامین نے بھیگی نگاہو سے ماں کو دیکھا اور روتی ان کے ساتھ چپک گئی
اسکو بیٹھاتی وہ آنسو بہاتے بولی کیا ٹھیک ہو اتنا زیادہ جل گیا ” ۔۔ہوا کیسے یہ میری جان ٫.. افق کے ماتھے پر لب رکھتے اُسے ساتھ لگائے بھراے ہوئے لہجے میں کہتی وہ آدم کی جانب دیکھنے لگی
آدم تم کہاں تھے اُس وقت شجاع صاحب آدم کی جانب سخت لہجے میں دیکھتے استفسار کرنے لگے
بابا میں خود نہیں جانتا کچھ بھی ٫ کچھ ضروری کام کی وجہ سے آج میں لیٹ ہو گیا تھا جب پارکنگ میں پہنچا تو سٹوڈنٹس کا ہجوم اکٹھا ہوا تھا ۔۔
رامین کے رونے کی آواز سنتا میں انہیں پیچھے کرتا جب ان تک پہنچا تو یہ دونوں وہاں اس خالت میں تھی
آدم شرمندہ سا بولتا نظریں جھکا گیا جبکہ شجاع صاحب تندہی سے اُس کی جانب دیکھتے گویا ہوے
نہایت افسوس کے ” تمہارے وہاں موجود ہونے کے باوجود ہماری بچیاں محفوظ نہیں ” ۔۔۔ آدم نے بے یقینی سے ان کی جانب دیکھا ” اُس کے لب پھرپھرائے کچھ بولنے کو ۔
شجاع صاحب کا سخت لہجہ اور الفاظ اسے اپنے منھ پر تماچے کی مانند محسوس ہوئے ” ان کی بات سے اُسکا خلق تک کڑوا ہو گیا ” ۔۔۔ دماغ کی رگیں پھول گئ ،،اپنے جبروں کو سختی سے بینچے وہ مشکل سے سب کے درمیان کھڑا تھا ۔۔
رامین اُسکا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ خوف زدہ ہوتی جلدی سے بولی
مما یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے “
افق نے مجھے دھکا دے دیا اور خود سامنے آ گئ نہیں تو آج میرا چہرہ جل چکا ہوتا ” وہ میرا چہرہ جلانا چاہتے تھے
وہ روتی کانپتی ہوئی آواز سے آنکھیں زور سے بند کرتی بولی اور ماں کو گود میں سر رکھ گئ ۔۔
سونیا بیگم اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بولی!!
ساری بات بتاؤ مجھے میری جان” آپ جانتی تھی انہیں ،،
اُس نے دھیرے سے سر ہلا دیا ۔۔
افق تم جانتی تھی انہیں ” کون تھے وہ ” ہانی بیگم نے اُسے پیار کرتے ہوے استفسار کیا ۔۔
آدم نے رامین کو محبت سے ساتھ لگایا میری گڑیا مجھے بتاؤ کوں تھے وہ لوگ ” آپ جانتی ہو انہیں ۔۔آدم نے اُس کی جانب دیکھتے نرمی برتتے پوچھا۔۔
وہ کچھ دن پہلے “۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے ساری بات اُسکے گوش گزار کی تھی ۔۔۔
آدم نے غصے سے مٹھیاں بینچی تھی ” اُس کے وہاں ہوتے اُسکی بہن محفوظ نہیں تھی ۔۔اُسے شدید افسوس ہوا تھا اگر وہ وقت پر موجود ہوتا تو افق اتنی تکلیف سے بچ جاتی ۔۔
سب خاموشی سے سنتے ساکت سے رہ گئے ۔۔
ہانی بیگم کے بے اختیار کتنے ہی آنسو گرے تھے ” سونیا بیگم نے آگے بڑھتے افق کو سینے سے لگا لیا ” میری بہادر بچی “..
تم نہیں جانتی آج تم نے مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے جسے میں ساری زندگی نہیں اُتار سکتی ۔۔۔
یہ سوچتے اُنکی روح کانپ گئ تھی اگر ایسڈ رامین کے چہرے پر گر جاتا تو!!!!!
ہانی بیگم کو بھی اپنی بیٹی پر فخر محسوس ہوا تھا
آپ ایسے نہ کہیں ممانی ” مینو میری بہن ہے ۔۔اور اپنی بہن کو بچانا میرا فرض ہے ۔۔
میری بیٹی بہت بہادر ہے ” لیکن بچہ آپکو آدم کو بتانا چاہیے تھا تاکہ بات اس حد تک بڑھتی ہی نہ شجاع صاحب اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے محبت سے بولے ۔
مامو جان ” مینو کو بھای کو بتانے سے میں نے منع کیا تھا میں نہیں چاہتی تھی کے ہماری وجہ سے ان کا امیج خراب ہو وہ لڑکے بہت برے ہیں “
اگر وہ اپنا الزام الٹا ہم پر ہی ڈال دیتے تو ہم کیا کرتے
صرف اسلیے میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا ۔۔۔۔
آدم کی نظر بے ساختہ اس کی جانب اٹھی تھی ” وہ اس وقت پنک حجاب کیے ہوئے تھی جو گندا ہو چکا تھا ۔۔
بازو پر ٹیوب لگی ہوئی تھی ” سرخ چہرے بیگھی آنکھو کے ساتھ سب کے درمیان بیٹھی تھی ۔۔
اُسکی حالت دیکھتے آدم کا دل دُکھا تھا ۔۔۔
اُس نے اُسکی بہن کو بچایا تھا آج اُسے لگا تھا شاید وہ اُسکے بارے میں غلط سوچ رکھتا تھا ۔
اگر آج وہ نہ ہوتی تو اُسکی معصوم بہن ” آگے کی سوچ بہت بھیانک تھی ۔۔اُس نے جھرجھری لی تھی ۔
لیکن ایک بات تو تہہ تھی کے وہ جو کوئی بھی تھے آدم بٹ سے بچنے نہیں والے تھے
آج افق بٹ نے یہ بات سب کو سمجھا دی تھی کے اپنی بیٹیوں کو اتنا یقین اور مان ضرور دیں کے وہ آپ کو کچھ کہنے سے خوف زدہ نہ ہوں ” ۔۔۔۔۔
اگر اس بات کا انہیں پہلے علم ہو چکا ہوتا تو نوبت اس حد تک آتی ہی نہ ،،چونکہ ان دونوں کو اس بات کا خوف تھا کے سب ان کو ہی غلط نہ سمجھے اس خاطر وہ خاموش رہی ۔۔
میری بیٹی اتنی سمجھدار ہے ” میں تو جانتی ہی نہیں تھی ہانی بیگم اُسکے ماتھے پر لب رکھتی محبت بھرے لہجے میں بولی ۔۔
رامین اگر کل وہ لڑکے تم دیکھو تو پہچان جاؤ گی آدم نے سرخ ہوتی آنکھوں کے کناروں سے اُسے دیکھا تھا ۔۔
جی ،،وہ فقط اتنا بولی تھی ۔۔
کیا تم جانتی ہو وہ کون سے ڈیپارٹمنٹ کے تھے ۔۔
رامین نے سر ہلاتے ان کا ڈیپارٹمنٹ بتایا
فورتھ ‘۔۔۔۔
سنتے وہ بھاری قدم اٹھاتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا ۔
